Baaghi TV

Tag: بلوچستان

  • نگران کابینہ بلوچستان؛ 6 ارکان نے حلف اٹھالیا

    نگران کابینہ بلوچستان؛ 6 ارکان نے حلف اٹھالیا

    بلوچستان کی نگران کابینہ کے 6 ارکان نے حلف اٹھالیا، گورنربلوچستان عبدالولی کاکڑ نے وزرا سے حلف لیا ہے جبکہ گورنرہاؤس کوئٹہ میں نگراں وزرا کی حلف برداری کی تقریب کا انعقاد ہوا ہے جس میں نگراں وزیر اعلی علی مردان ڈومکی سمیت اعلی حکام نے بھی شرکت کی ہے۔

    بلوچستان کے صحافی مجیب احمد کے مطابق گورنر بلوچستان ولی خان نے نگراں وزرا سے حلف لیا ہے اور حلف لینے والوں میں امیر محمد جوگیزئی، جمال خان ریئسانی، سردار اعجاز جعفر، امان اللہ کنرانی، شیخ محمودالحسن مندوخیل اور آصف الرحمان شامل تھے۔

    تاہم واضح رہے کہ پہلے مرحلے میں 22 اگست کو 5 اراکین نے حلف اٹھا لیا تھا اور گورنر بلوچستان ملک عبدالولی کاکڑ کابینہ کے اراکین سے حلف لیا ہے جبکہ اس سے پہلے مرحلے میں حلف لینے والوں میں کیپٹن ریٹائرڈ زبیر جمالی، پرنس احمد علی، امجد رشید، عبدالقادر بلوچ اور جان اچکزئی شامل تھے اور وزیراعلی بلوچستان میر علی مردان خان ڈومکی نے نگراں کابینہ کو محکمے تفویض کر دیے تھے.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    چندریان تھری کا لینڈر موڈیول ڈیزائن کرنے کا دعویٰ کرنیوالا جعلی سائنسدان گرفتار
    ایشیا کپ ،پاکستان کا نیپال کے خلاف ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ
    سائفر کیس،شاہ محمود قریشی کو جوڈیشل ریمانڈ پر بھیج دیا گیا
    جبکہ نگراں صوبائی وزیر کیپٹن (ر) زبیر جمالی کو داخلہ و قبائلی امور جیل خان جات اور پی ڈی ایم اے کا قلمدان دے دیا گیا اور نگراں صوبائی وزیر امجد رشید کو خزانہ اور ریونیو جبکہ نگراں صوبائی وزیر جان اچکزئی کو محکمہ اطلاعات کا قلمدان دیا گیا علاوہ ازیں صوبائی وزیر ڈاکٹر عبدالقادر بخش بلوچ کو محمکہ تعلیم اور سیاحت کا قلمدان دیا گیا اسی طرح‌نگراں صوبائی وزیر پرنس احمد علی احمد زئی کو صنعت، کامرس، توانائی اور ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے محکموں کا قلمدان تفویض کیا گیا ہے۔

  • وزیراعظم کا وسائل کے مؤثر ترین استعمال اور کم سے کم ضیاع پر زور

    وزیراعظم کا وسائل کے مؤثر ترین استعمال اور کم سے کم ضیاع پر زور

    نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کی زیر صدارت کوئٹہ میں ترقیاتی منصوبوں سے متعلق اجلاس ہوا،

    وزیراعظم نے بلوچستان میں آمدنی و روزگار کے ذرائع بڑھانے کیلئے مؤثر حکمت عملی کے نفاذ پر زور دیا ،وزیراعظم نے اجلاس کو مستقبل میں بہتر منصوبہ بندی کے لیے بجٹ اور اخراجات میں بہتر توازن قائم کرنے کی ہدایت کی، وزیراعظم نے وسائل کے مؤثر ترین استعمال اور کم سے کم ضیاع پر زور دیا ،نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ پاکستان بالخصوص بلوچستان میں معدنیات کی کان کنی کی وسیع استعداد ہے جس کو ملکی معیشت کی ترقی کے لیے بروئے کار لایا جا سکتا ہے، بلوچستان کی معدنیات سے اسی وقت بہتر طریقے سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے جب ان علاقوں میں بہترین مواصلاتی انفراسٹرکچر موجود ہو.

    اجلاس میں چیف سیکرٹری بلوچستان نے وزیراعظم کو مجوزہ و جاری ترقیاتی منصوبوں پر بریفنگ دی ،اجلاس میں نگران وزیر اعلیٰ بلوچستان، نگران وزیر داخلہ، وزیر مواصلات، وزیر منصوبہ بندی و ترقی اور متعلقہ افسران موجود تھے.

    دوسری جانب نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کی زیر صدارت بلوچستان میں سیکیورٹی کی صورتحال سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا،وزیراعظم نے اس سلسلے میں صوبائی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کردار کو سراہا۔ نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ ملک و قوم کا تحفظ اور ملک میں عوام کے لیے محفوظ ماحول کو برقرار رکھنا ہماری اولین ترجیح ہے۔ تحفظاتی معاملات میں ریاستی ردعمل کو مضبوط بنانے کے لئے قانونی ڈھانچے کو مزید بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔

    بجلی کے بلوں میں اضافہ پرشہری سڑکوں پرنکل آئے

    بجلی کے نرخوں کے حوالے سے ہنگامی اجلاس طلب کرلیا

     عابد شیر علی پریس کانفرنس کرتے ہوئے بجلی کے بھاری بلوں پر پھٹ پڑے ،

     پاکستان چاہے تو ہم پاکستان کو سستی بجلی، گیس اور تیل دے سکتے ہیں

    حکومت نے پاک ایران، پاک روس بارٹر تجارت کی اجازت دے دی

     اپنی صنعتوں کو تالے لگا دیں گے اور چابیاں حکومت کے حوالے کردیں گے۔

  • نواب اکبر خان بگٹی کے ساتھ ایک  یادگار نشست کا احوال

    نواب اکبر خان بگٹی کے ساتھ ایک یادگار نشست کا احوال

    آغا نیاز مگسی

    ڈیرہ بگٹی بلوچستان سے تعلق رکھنے والے پاکستان کی منفرد شخصیت کے مالک ، بلوچستان کے سابق گورنر ، سابق وزیر اعلیٰ سابق وفاقی وزیر اور بگٹی قبیلے کے سربراہ نواب محمد اکبر خان بگٹی 12 جولائی 1927 میں بارکھان بلوچستان میں اپنے ننھیال کھیتران قبیلہ کے گھر میں پیدا ہوئے اور26 اگست 2006 میں ضلع کوہلو کے ایک پہاڑی غار میں ایک سانحے کا شکار ہو کر اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ ان کی یہ پراسرار موت بھی بہت سی دیگر نامور شخصیات کی طرح آج تک ایک معمہ بنی ہوئی ہے۔ مجھے ان کی نمازہ جنازہ کا منظر دیکھنے اور رپورٹنگ کرنے کا اعزاز حاصل رہا ہے جس میں اندرون بلوچستان سے شریک ہونے والا میں واحد صحافی تھا بلکہ مجھے یہ اعزاز بھی حاصل رہا ہے کہ پرنٹ میڈیا میں ان کا صحیح موقف پیش کرنے کا اعتماد حاصل کرنے کے باعث تقریباً 9 سال تک ٹیلی فون پر ان کی خبریں میں پیش کرتا رہا ۔ یہی وجہ تھی کہ کوئٹہ کے بہت سے نامور صحافی کسی موضوع یا کسی اہم مسئلے پر ان کا موقف جاننے کیلئے مجھ سے رابطہ کر کے نواب صاحب کا موقف معلوم کرتے تھے اور اسی تعلق اور اعتماد کے تناظر میں 2005 میں نصیر آباد اور جعفر آباد کے سینیئر صحافی دوستوں عبدالستار ترین ، دھنی بخش مگسی ، شیخ عبدالرزاق اور محمد وارث دیناری نے مجھے حکم دیا کہ میں نواب صاحب سے رابطہ کر کے ان سے ملاقات کیلئے وقت لے لوں ۔ میں نے نواب صاحب سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا جنہوں نے از راہ شفقت فرمایا کہ آپ جب اور جس وقت چاہیں اپنے صحافی دوستوں کو میرے پاس لے آئیں ۔ میں نے دوستوں سے رابطہ کر کے نواب صاحب کو اپنے پروگرام سے آگاہ کیا جس کے بعد انہوں نے ڈیرہ الله یار کے اپنے قبیلے کے ایک بااعتماد نوجوان دریحان بگٹی کو مجھ سے رابطہ کرنے کیلئے ہدایات جاری کر دیں ۔ ہم لوگ 12 دسمبر 2005 کو ڈیرہ الله یار سے ڈیرہ بگٹی کیلئے روانہ ہوئے ۔ راستے میں ایک پولیس تھانہ کے ایس ایچ او نے عبدالستار ترین کو زبردستی دو پہر کو کھانا کھلانے کیلئے روکا جس کی وجہ سے ہمیں کافی تاخیر ہو گئی۔ جب ہم ڈیرہ بگٹی شہر میں داخل ہوئے تو ایک دو جگہ پر ہم کسی ضرورت کے تحت گاڑی سے نیچے اترے تو لوگ ہمیں کہتے کہ آپ نواب صاحب کے مہمان ہیں ؟ ہم نے حیرت سے اثبات میں جواب دیا تو وہ بولے کہ نواب صاحب بہت دیر تک اپنی ” کچہری ” یعنی محفل میں آپ لوگوں کا انتظار کرتے رہے ۔ ہم پہلے نواب صاحب کے مہمان خانے گئے جہاں ہمارے لئے کھانے کا انتظام کیا گیا تھا ۔ کھانا کھانے کے بعد وہاں سے ہمیں ان کی خلوت گاہ پہنچا دیا گیا ۔

    ہم جیسے ہی ان کی آرام گاہ میں داخل ہوئے انہوں نے از راہ مذاق کہا کہ میں تو اس انتظار میں تھا کہ بی بی سی ریڈیو سے کب خبر چلتی ہے کہ نواب اکبر بگٹی سے ملاقات کیلئے ڈیرہ بگٹی جانے والے نصیر آباد اور جعفر آباد کے صحافی اغوا کر لیے گئے ہیں ۔ ان سے ملاقات میں ، میں نے اپنے صحافی دوستوں کا ان کے شہر اور صحافتی ادارے کے ساتھ وابستگی کے حوالے سے تعارف کرایا جس کے بعد انہوں نے بلوچی رسم کے مطابق ہم سے بلوچی ” حال” لینا چاہا چناں چہ میں نے انہیں ” حال ” دیا اور ان سے ” حال” لیا جس کے بعد ان سے باقاعدہ انٹرویو / گفتگو کا سلسلہ شروع ہوا ۔ میرے دوستوں نے ان سے حالات حاضرہ کے مطابق سیاسی سوالات کئے جبکہ میں نے ان سے ذاتی نوعیت کے غیر سیاسی سوالات کئے جن میں ان کے رومان، مذہبی و فکری رجحان ، پسندیدہ شخصیات ، سیر وسیاحت اور خود کو ڈیرہ بگٹی تک محدود رکھنے کے متعلق سوالات شامل تھے جن کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ انہوں نے جوانی میں عشق بھی کیا، دنیا کے کئی ممالک کا مطالعاتی دورہ بھی کیا ۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ کئی سال سے ڈیرہ بگٹی سے باہر نہ جانے کی وجہ یہ ہے کہ عالمی طاقتوں کی نظریں ڈیرہ بگٹی پر مرکوز ہیں اس لئے میں ڈیرہ بگٹی سے باہر نہیں نکلتا جبکہ 18 سال سے گوشت نہ کھانے کی وجہ یہ بتائی کہ وہ مذہبی لحاظ سے بدھ مت کے بانی گوتم بدھ کی شخصیت سے متاثر ہیں اس لئے ان کی تقلید کرتے ہوئے انہوں نے گوشت کھانا ہمیشہ کیلئے ترک کر دیا ہے۔ انہوں نے اپنی پسندیدہ شخصیات میں رابندر ناتھ ٹیگور اور ہٹلر کا نام لیا۔ دسمبر کی یخ بستہ رات میں ان کے ساتھ ہونے والی ہماری نشست رات 9 بجے سے صبح 3 بجے تک یعنی 6 گھنٹوں پر محیط تھی ۔ اس گفتگو کے دوران ایک بار ہمارے ایک دوست نے ان سے یہ سوال کیا کہ نواب صاحب آپ کبھی حج یا عمرہ کی سعادت حاصل کرنے کیلئے سعودیہ بھی گئے یا نہیں تو اس کے جواب میں خلاف توقع نواب صاحب نے ہمارے صحافی دوست سے تلخ لہجے میں سوال کیا کہ ابھی جو مگسی صاحب (میری جانب اشارہ) نے میرے بیرونی ممالک کے دوروں کی فہرست میں جن ممالک کے نام لکھے ہیں تو کیا ان میں سعودی عرب کا نام شامل ہے ؟ اس غیر متوقع سوال اور جواب سے محفل کا ماحول یکسر تبدیل ہو گیا لیکن تقریباً نصف گھنٹے سکوت اور خاموشی کے بعد پھر سے محفل خوشگوار ہو گئی۔ اس طویل اور یادگار نشست کا اختام خود نواب اکبر خان بگٹی نے یہ کہہ کر ، کر دیا کہ اب آپ لوگوں پر نیند کا غلبہ طاری ہو رہا ہے اس لئے جا کر آرام کریں اس طرح ان کے ساتھ ہونے والی یادگار نشست اختتام پذیر ہو گئی جس کی یادیں ابھی تک ہمارے ذہنوں میں محفوظ ہیں ۔

    نوٹ : 2018 سے میں نے بلوچستان ہائی کورٹ کے ایک فیصلے کے تناظر میں صحافت کے شعبے سے قطع تعلق کر لیا ہے جس کے بعد میرا کسی بھی صحافتی ادارے سے تعلق نہیں ہے ۔ (آغا نیاز مگسی )

  • ۔ہمارا کام انتخابات کے لیے پرامن ماحول فراہم کرنا ہے،وزیراعلی بلوچستان

    ۔ہمارا کام انتخابات کے لیے پرامن ماحول فراہم کرنا ہے،وزیراعلی بلوچستان

    نگران وزیراعلئ بلوچستان میر علی مردان خان ڈومکی کی زیر صدارت اہم اجلاس ہوا

    اجلاس کو محکمہ داخلہ و قبائلی امور کے محکمانہ امور پر بریفنگ دی گئی،اجلاس کو محکمہ داخلہ بلوچستان کے دائرہ کار ، تفویض اختیارات سے متعلق آگاہی فراہم کی گئی، محکمہ داخلہ نے دیگر اداروں سے کوارڈینیشن اور ممحکمہ کے ماتحت اداروں کے افعال پر بھی بریفنگ دی، اجلاس کو پولیس فورس اور پولیس کے زیر انتظام سپیشل یونٹس کی کارکردگی پر بریفنگ دی گئی لیویز فورس اور سول ڈیفنس سمیت محکمہ داخلہ کے زیر انتظام کل افرادی قوت ، استعداد کار اورکیے جانے والے اقدامات سے متعلق بھی بریفنگ دی گئی

    تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے

    حکومت نے چیف جسٹس سمیت بینچ کے 3 ممبران پر اعتراض کردیا

    سات سال سے معاملہ سپریم کورٹ میں پڑا رہا کیا صرف ایک خاندان کیخلاف کیس چلوانا تھا 

    ہم دہشتگردی کیخلاف لڑائی کسی خیرات پر نہیں لڑ رہے،نگران وزیراعظم

    اجلاس میں نگران صوبائی وزیر داخلہ کیپٹن ریٹائرڈ زبیر جمالی ، چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ صالح محمد ناصر، آئی جی پولیس بلوچستان عبدالخالق شیخ، ڈائریکٹر جنرل لیویز نصیب اللہ کاکڑ ، آئی جی خانہ جات شجاع الدین کاسی اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی، نگران وزیراعلئ بلوچستان میر علی مردان خان ڈومکی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نگران صوبائی حکومت کا کام صاف و شفاف انتخابات کے لئے پر امن ماحول فراہم کرنا ہے ۔ضروری ہے کہ محکمہ داخلہ بہتر انداز سے اپنے امور کی انجام دہی یقینی بنائے ۔ایسے عملی اقدامات کئے جائیں جو امن و امان اور شفاف ماحول میں انتخابات کے انعقادکی بنیاد فراہم کریں ۔ہمارا کام انتخابات کے لیے پرامن ماحول فراہم کرنا ہے ۔میسر افرادی قوت کو بہترین اور منظم انداز میں استعمال میں لاکر پرامن انتخابات کا انعقاد یقینی بنایا جائے گا

  • نگران  وزیراعظم  کی تعیناتی پر تحفظات کا اظہار،اختر مینگل نے نواز شریف کو خط لکھ دیا

    نگران وزیراعظم کی تعیناتی پر تحفظات کا اظہار،اختر مینگل نے نواز شریف کو خط لکھ دیا

    بلوچستان عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما سردار اختر مینگل نے نگران وزیراعظم کی تعیناتی پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کو خط لکھ دیا۔

    باغی ٹی وی: گزشتہ روز وزیراعظم شہباز شریف اور اپوزیشن لیڈر راجا ریاض کے درمیان نگراں وزیراعظم کی تقرری کے لیے ہونے والی مشاورت میں بلوچستان عوامی پارٹی کے رہنما انوار الحق کاکڑ کے نام پر اتفاق ہوا جس کے بعد صدر مملکت نے بھی ان کی تقرری کی سمری پر دستخط کر دیئے، انوار الحق کاکڑ کی بطور نگراں وزیراعظم تعیناتی پر جہاں ن لیگ، پیپلز پارٹی، پی ٹی آئی، جماعت اسلامی کی جانب خیر مقدم کیا گیا وہیں کچھ حلقوں کی جانب سے اس پر تحفظات کا بھی اظہار کیا گیا ہے۔

    خط میں کہا گیا ہے کہ اہم فیصلوں میں اتحادیوں کو اعتماد میں نہ لینے سے بد اعتمادی بڑھے گی ، نگران وزیراعظم کے لیے ایسے شخص کی نامزدگی کی گئی جس سے ہمارے لیے سیاست کے دروازے بند کر دیئے گئے، آپ کے اس طرح کے فیصلوں نے ہمارے درمیان مزید دوریاں پیدا کر دیں میرا یہ خط 22 جولائی 2022 کےمیسج کا تسلسل ہے، جن مسائل کا ذکرمیں نے پہلےکیا تھا کاش اُن میں کمی آتی، آج بھی وہی بلوچستان ، وہی جبری گمشدگیاں ہیں، سیاسی حل کے بجائے بندوق سے مسئلہ حل کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔

    لال حویلی کے باہر تجاوزات کے خلاف آپریشن،شیخ رشید آگ بگولہ ہو گئے

    انہوں نے خط میں لکھا کہ اس کا الزام کسی پر ڈالنے کے بجائے ہم اپنی شومئی قسمت کو ہی ٹھہرائیں تو بہتر ہوگا،وہی بلوچستان، وہی جبری گمشدگیاں، سیاسی حل کے بجائے بندوق سے مسلے کے حل کی کوشش کی جارہی ہے، سیاست دانوں کے بجائے اسٹیبلشمنٹ سے آس لگائی جارہی ہے یا اُن کی مشاورت سے مسئلے کا حل تلاش کیا جارہا ہے۔

    خط میں مزید کہا گیا ہے کہ ہمیں جنرل ایوب سے جنرل مشرف تک کے مظالم اچھی طرح یاد ہیں لیکن آپ کی جماعت مشرف اور باجوہ کی سازشوں اور غیر آئینی اقدامات کو اتنی جلدی فراموش کر گئی، اختر مینگل نے مردم شماری پر بھی تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ مردم شماری میں بلوچستان کی آبادی جو تقریباً 2 کروڑ 24 لاکھ بنتی تھی اسے 73 لاکھ کم کر دیا گیا۔

    انہوں نے لکھا کہ انسانی حقوق کے برخلاف قانون سازیاں شاید ہم سے زیادہ مستقبل میں آپ حضرات کے ہی خلاف استعمال کیں جائیں گی کیونکہ ہم بلوچستان کے باسیوں کو روزِ اول سےانسان سمجھا ہی نہیں گیاسی پیک سے اہل بلوچستان کو کیا حاصل ہو، آپ سے بہتر اور کون جان سکتا ہے، کتنے موٹروے، بجلی اور شمسی توانائی کےمنصوبے، میٹرو ٹرینوں اور بسوں سے لے کر صحت اور تعلیم کی سہولتوں سے لے کر پینے کے پانی کے جو منصوبے اور سہولتیں مہیا کی گئی ہیں وہ دنیا کی ترقی کی تاریخ میں اپنی مثال آپ ہیں۔

    اوورسیز پاکستانی نے سمندر کی تہہ میں پاکستانی پرچم لہرا دیا

    انہوں نے لکھا کہ موجودہ دور میں گوادریونیورسٹی کےقیام بمقام لاہورکا بھی اعلان کیاگیاجو میں سمجھتا ہوں بلوچستان میں تعلیمی پسماندگی کو دور کرنے میں ایک اہم کردار ادا کرے گا، گوادر ائیرپورٹ کا نام بجائے کسی بلوچستان کی سیاسی یا سماجی شخصیت کے کسی ایسے شخص کے نام کردیا جس کے نام سے شاید ہی بلوچستان کے لوگ واقف ہوں گے،کسی بھی اہم فیصلوں میں اتحادیوں کو اعتماد میں لیے بغیر فیصلے کرنا بداعتمادی ہی کو دوام بخشے گی، بڑے اور چھوٹے صوبوں کے درمیان نفرتوں کی مٹی سے بنائے گئے اُن میناروں کی اونچائی اور مضبوطی میں کمی کے بجائے اضافہ ہی ہوسکتا ہے۔

    انہوں نے مزید لکھا کہ اپنے مفادات کے تحفظ اور اپنی مستقبل میں آنے والی حکومت کی راہ ہموار کرنے کے لیے قانون بنائے اور توڑے بھی جاتے ہیں لیکن اُس کے برعکس اہلِ بلوچستان کو اپنے پیاروں کے لیے آوز اٹھانا اور آنسو بہانا بھی خلافِ قانون ہے آپ کے گزشتہ 2 دورِ حکومت میں بھی یہ سب کچھ ہوتا رہا اور ہم پچھلی بار کی طرح اس بار بھی یہ تصور اور خیال کر بیٹھے کہ شاید اُن تلخ تجربات کے بعد آپ کی جماعت کو اب احساس ہوگیا ہوگا لیکن آپ کی جماعت نے ہمیں پہلے بھی غلط ثابت کیا اور اب بھی،کاش کہ ہمیں مطالعہ پاکستان کی نصاب کی کتابوں میں گزشتہ 76 سالہ تاریخ پڑاھائی جاتی تو شاید ہم تاریخ سے سبق حاصل کرتے لیکن اب تو ہم اور آپ تاریخ کے سامنے صرف اور صرف جواب دے ہیں اور جواب دے رہے ہیں۔

    قومی پرچم کو نذر آتش کرکےالزام پارٹی پرعائد کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی …

  • بلوچستان اسمبلی بھی تحلیل کردی گئی

    بلوچستان اسمبلی بھی تحلیل کردی گئی

    کوئٹہ: بلوچستان اسمبلی بھی تحلیل کردی گئی-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی اور سندھ اسمبلی کے بعد بلوچستان اسمبلی بھی تحلیل کردی گئی،گورنر بلوچستان ملک عبدالولی خان کاکڑ نے وزیر اعلی بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو کی جانب سے بھیجی گئی اسمبلی تحلیل کرنے کی سمری پر دستخط کر دیئے-

    بلوچستان اسمبلی تحلیل ہونے کے بعد تمام کابینہ اور اراکین اسمبلی مشیر فارغ ہو گئے جبکہ اسمبلی کی آئینی مدت آج رات 12 بجے پوری ہورہی ہے،نئے نگراں سیٹ اپ تک میر عبدالقدوس بزنجو وزیراعلیٰ بلوچستان کے منصب پر رہیں گے جبکہ وہ اپوزیشن لیڈر ملک سکندر خان سے نگراں وزیراعلیٰ بلوچستان کے لیے اسلام آباد سے آنے کے بعد مشاورت بھی کریں گے۔

    2045 تک طبعی موت ختم، بوڑھے جوان ہو سکیں گے،جینیاتی انجینئرز کا دعویٰ

    میڈیا ذرائع کے مطابق نگران وزیر اعلیٰ کے لیے چار ناموں پر مشاورت جاری ہے، نگران وزیر اعلیٰ کے لیے جمعیت علما اسلام کی جانب سے سابق رکن قومی اسمبلی عثمان بادینی اور بی این پی کی جانب سے رکن صوبائی حمل کلمتی اور پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے علی حسن زہری کے نام دیئےگئے ہیں جب کہ سابق بیوروکریٹ شبیر مینگل کا نام بھی زیر غور ہے نگران وزیر اعلیٰ کا نام فائنل ہونے کے بعد 14 رکنی صوبائی نگران کابینہ تشکیل دیئے جانے کا امکان ہے۔

    شہبازشریف نے وزیراعظم ہاؤس خالی کردیا

  • بلوچستان کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے

    بلوچستان کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے

    کوئٹہ: بلوچستان کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے

    باغی ٹی وی : کوئٹہ کے نواحی ضلع ژوب کے گردو نواح میں آج زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے گئے، لوگ کلمے کا ورد کرتے ہوئے گھروں سے باہر نکل آئے زلزلہ پیما مرکزنے ریکٹرسکیل پرزلزلے کی شدت 3 جبکہ گہرائی 30 کلو میٹر ریکارڈ کی ہے۔

    زلزلے کی شدت کم ہونے کی وجہ سے کسی جانی و مالی نقصان کی اطلاع اب تک موصول نہیں ہوئی ہے۔

    سعودی عرب کے سفارتخانے کا تہران میں سات سال بعد دوبارہ کام کا آغاز

    قبل ازیں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، لاہور اور پشاور سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے لاہور، پشاور، اسلام آباد، بنوں، ڈی آئی خان، سوات، دیامر، چلاس میں زلزلے جھٹکے محسوس کیے گئےاس کے علاوہ نوشہرہ، مانسہرہ، لوئر دیر، میانوالی اور مالاکنڈ میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے تھے-

    زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی شدت 5.8 ریکارڈ کی گئی، زلزلے کا مرکز ہندوکش ریجن اور گہرائی 196 کلو میٹر تھی دوسری جانب بھارتی دارالحکومت نیو دہلی میں بھی زلزلے ک جھٹکے محسوس کیے گئے۔

    جنوبی کوریا:سمندری طوفان خانون سے تباہی،پروازیں منسوخ

  • بلوچستان اسمبلی الوداعی اجلاس: صوبے کی آبادی کم ظاہر کرنے پر مذمتی قرارداد پیش

    بلوچستان اسمبلی الوداعی اجلاس: صوبے کی آبادی کم ظاہر کرنے پر مذمتی قرارداد پیش

    کوئٹہ: بلوچستان اسمبلی کے الوداعی اجلاس میں مردم شماری میں صوبے کی آبادی کم ظاہر کرنے پر مذمتی قرارداد پیش کردی گئی۔

    باغی ٹی وی : اسپیکر جان جمالی کی صدارت میں بلوچستان اسمبلی کا الوداعی اجلاس جاری ہے، اجلاس میں ہزارہ ایکسپریس حادثے اور دہشت گردی میں جاں بحق ہونے والے افراد کے درجات کی بلندی اور مغفرت کی دعا کی گئی،الوداعی اجلاس میں بلوچستان کی آبادی مردم شماری میں کم ظاہر کرنے پرمذمتی قرارداد بھی پیش کی گئی، قرارداد اسد بلوچ نے پیش کی، جس میں کہا گیا ہے کہ ایوان مشترکہ مفادات کونسل کا فیصلہ مسترد کرتا ہے۔

    رکن صوبائی اسمبلی اسد بلوچ کا کہنا تھا کہ بلوچستان کی آبادی کو 2 کروڑ سے زائد برقرار رکھا جائے دوسری جانب نصراللہ زہری نے اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ مجھے بتائے بغیر ہی قرارداد میں میرا نام ڈال دیا گیا، قرارداد ٹھیک کر کے دوبارہ ایوان میں پیش کی جائے۔ نصراللہ زیری نے احتجاجاً ایوان سے واک آؤٹ کردیا-

    کیچ میں ریموٹ کنٹرول بم دھماکا،چیئرمین یونین کونسل بالگتر سمیت 7 افراد جاں بحق

    واضح رہے کہ شترکہ مفادات کونسل نے ڈیجیٹل مردم شماری کی متفقہ طور پر دی گئی منظوری کے مطابق ملکی آبادی 24 کروڑ 10 لاکھ ہوگئی ہےبریفنگ میں اجلاس کو بتایا گیا کہ نئی ڈیجیٹل مردم شماری کے تحت آبادی کی سالانہ گروتھ 2.55 فیصد ہے، سب سے زیادہ گروتھ بلوچستان میں ہے جبکہ سب سے کم گروتھ خیبرپختونخوا میں رجسٹر ہوئی۔

    وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق پنجاب 12 کروڑ سے زائد آبادی کے ساتھ سب سے بڑا صوبہ ہے، جبکہ سندھ میں 5 کروڑ سے زائد، کے پی 3 کروڑ سے زائد اور بلوچستان 2 کروڑ سے زائد آبادی والے صوبے بن گئے-

    بلوچستان میں بارشوں کے باعث 332 مکانات تباہ،پنجاب میں 7 اگست تک بارشیں متوقع

  • کیچ میں ریموٹ کنٹرول بم دھماکا،چیئرمین یونین کونسل بالگتر سمیت 7 افراد جاں بحق

    کیچ میں ریموٹ کنٹرول بم دھماکا،چیئرمین یونین کونسل بالگتر سمیت 7 افراد جاں بحق

    بلوچستان کے علاقے میں کیچ میں ریموٹ کنٹرول بم دھماکا ہوا ہے جس کے نتیجے میں چیئرمین یونین کونسل بالگتر سمیت 7 افراد جاں بحق ہو گئے۔

    باغی ٹی وی: لیویز حکام کے مطابق دہشتگردوں نے بالگتر کے علاقے نلی میں گاڑی کو نشانہ بنایا ہے،چیئرمین یونین کونسل بالگترمحمد اسحاق سمیت 7 افراد جاں بحق ہو گئے جو ایک تقریب میں شرکت کیلئے جارہے تھے کہ بارودی سرنگ سے ان کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا،دھماکے کی اطلاع ملتے ہی امدادی ٹیمیں جائے وقوعہ کی جانب روانہ ہوگئیں۔

    واضح رہے کہ چند دن پہلے کوئٹہ میں فائرنگ سے سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب اسلم رئیسانی کے بیٹے سمیت 3 افراد جاں بحق اور 3 زخمی ہو گئے تھے پولیس کے مطابق نواب اسلم رئیسانی کے بھتیجے اور بلوچستان فوڈ اتھارٹی کے ڈپٹی ڈائریکٹر ہارون رئیسانی اور ان کے محافظ کو تلخ کلامی کے بعد گولی مار کر جاں بحق کر دیا گیا تھا جبکہ فائرنگ سے بس ٹرمینل کے مالک کا بیٹا برہمداغ لہڑی بھی جاں بحق ہوا۔

    بجلی کی فی یونٹ قیمت 59 روپے تک کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

    ایس پی سریاب ضیا مندوخیل کے مطابق ہارون رئیسانی نے سریاب روڈ پر واقع بس ٹرمینل کے ساتھ واقع دکانوں پر چھاپہ مارا اور ایک دکان سے ممنوعہ اشیا برآمد ہونے پر جرمانہ کر دیا۔ جس پر بس ٹرمینل کے مالک کا بیٹا برہمداغ لہڑی نے کارسرکار میں مداخلت کی اور تلخ کلامی کے بعد دونوں جانب سے فائرنگ کر دی گئی۔

    انہوں نے کہا کہ ہارون رئیسانی کے ساتھ ایک سرکاری محافظ بھی تھا۔ دونوں کو سرکاری ڈیوٹی کے دوران نشانہ بنایا گیا جبکہ فائرنگ سے 3 افراد زخمی بھی ہوئے جنہیں فوری طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

    الیکشن کمیشن کی عمران خان کو پارٹی عہدے سے ہٹانے کی خبروں کی تردید

  • دریائے سندھ کی نایاب ڈولفن کو نامعلوم دیہاتیوں نے گولی مار دی

    دریائے سندھ کی نایاب ڈولفن کو نامعلوم دیہاتیوں نے گولی مار دی

    بلوچستان : 20 ماہ کی انڈس ریور ڈولفن کو نامعلوم دیہاتیوں نے گولی مار کر ہلاک کر دیا۔

    انڈس ریور ڈولفن کو اوستہ محمد میں مقامی لوگوں نے گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ اسے بچانے کی تمام تر کوششیں ناکام ہو گئیں ، عالمی ادارہ جنگلی حیات نے ڈولفن کو گولیاں مارنے والوں کے خلاف کاروائی کا فیصلہ کیا ہے، دریائے سندھ کی ڈولفن بعض اوقات کیرتھر کینال اور پیٹ فیڈر کینال میں داخل ہوتی ہے۔

    محکمہ جنگلی حیات کی جانب سے کہا گیا ہے کہ گیننگ ریگولیٹر بلوچستان میں مردہ انڈس ڈولفن ملی ہے ڈولفن سکھر سے بذریعہ دریائے سندھ راستہ بھٹک کر گیننگ ریگولیٹرمیں آگئی تھی ماری جانے والی انڈس ڈولفن کی عمر 16 سے20 سال کے درمیان ہے، ڈولفن کو گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا ہے ریگولیٹر بلوچستان کی حدود سے نہری پانی کیر تھر کینال لے جاتا ہے تا ہم واقعے کے بارے میں مزید تفتیش کی جا رہی ہے عالمی ادارہ جنگلی حیات کے مطابق مجرموں کے خلاف کاروائی کی جائے گی

    سوشل میڈیا چیٹ سے روکنے پر بیوی نے کیا خلع کا دعویٰ دائر، شوہر نے بھی لگایا گھناؤنا الزام

    سابق اہلیہ کی غیراخلاقی تصاویر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے والے ملزم پر کب ہو گی فردجرم عائد؟

    ‏سوشل میڈیا پرغلط خبریں پھیلانا اورانکو بلاتصدیق فارورڈ کرنا جرم ہے، آصف اقبال سائبر ونگ ایف آئی اے

    سوشل میڈیا پر جعلی آئی ڈیز کے ذریعے لڑکی بن کر لوگوں کو پھنسانے والا گرفتار

    قصور کے بعد تلہ گنگ میں جنسی سیکنڈل. امام مسجد کی مدرسہ پڑھنے والی بچیوں کی ساتھ زیادتی

    بیوی کمرے میں سوئی ،صحن میں سوئے شوہر پر گولیاں چل گئیں