Baaghi TV

Tag: بلوچستان

  • بلوچستان کی پہلی خاتون پولیس آفیسر کا اعزاز

    بلوچستان کی پہلی خاتون پولیس آفیسر کا اعزاز

    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    بلوچستان کی پہلی خاتون آفیسرز کا اعزاز بہت سی باصلاحیت خواتین کو حاصل ہے جن میں بلوچستان کی پہلی خاتون ڈپٹی کمشنر کا منفرد اور قابل فخر اعزاز محترمہ عائشہ زہری ، بلوچستان کی پہلی خاتون میڈیکل سپرنٹنڈنٹ و پہلی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر D H O کا منفرد اعزاز ڈاکٹر رخسانہ مگسی صاحبہ کو حاصل ہے جبکہ بلوچستان کی پہلی خاتون پولیس آفیسر کا اعزاز محترمہ پری گل ترین کو حاصل ہے وہ بلوچستان کی پہلی پی ایس پی کرنے والی خاتون پولیس آفیسر ہیں انہیں 2021 میں کوئٹہ میں بحیثیت ASP تعینات کیا گیا جس سے انہیں بلوچستان کی پہلی خاتون پولیس آفیسر کا منفرد اعزاز حاصل ہوا ہے جبکہ سب انسپکٹر محترمہ صوبیہ خانم کو 2022 میں کوئٹہ کینٹ پولیس تھانہ کی S H O مقرر کیا گیا جس سے انہیں بلوچستان کی پہلی خاتون S H O کا منفرد اعزاز حاصل ہو گیا اور یہ دونوں خواتین پولیس افسران بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر چکی ہیں ۔

    سی ٹی ڈی کی کاروائی،سات مبینہ دہشتگرد گرفتار
    ہیلی کاپٹر حادثے پر بہت دکھ ہوا،اللہ تعالی شہدا کے درجات بلند کرے، نواز شریف
    اگلے 10 دن اہم،بازی پلٹ گئی،نواز شریف،مریم پر ریڈ لائن ختم، بڑی تیاریاں شروع
    اوپن مارکیٹ؛ ڈالر 331 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا

    حال ہی میں خیبر پختون خواہ سے تعلق رکھنے والی پی ایس پی آفیسر محترمہ فریال فرید صاحبہ کو بلوچستان میں پہلی خاتون S S P کا منفرد اعزا حاصل ہوا ہے جن کی تقرری بطور ایس ایس پی جعفر آباد میں ہوئی ہے ان کی گفتگو اور عزم سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ وہ یہاں بحیثیت خاتون ایس ایس پی شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کریں گی ۔ بلوچستان میں مختلف شعبوں میں بہت سی دیگر خواتین افسران بھی اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں ۔ انشاء الله ان کے بارے میں بھی معلومات فراہم کرنے کی کوشش کی جائے گی ۔

  • نئی مردم شماری میں بلوچستان کی آبادی کم،سپریم کورٹ میں درخواست

    نئی مردم شماری میں بلوچستان کی آبادی کم،سپریم کورٹ میں درخواست

    سپریم کورٹ: نئی مردم شماری میں بلوچستان کی آبادی کم ہونے کا معاملہ،بلوچستان ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی گئی

    درخواست ایڈوکیٹ کامران مرتضی کے بیٹے حسن کامران نے دائر کی، سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان ہائیکورٹ کا 29 اگست کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے،نئی مردم شماری میں بلوچستان کی آبادی میں 70 لاکھ افراد کم کر دیئے گئے،مردم شماری کے حتمی مرحلے تک بلوچستان کی آبادی 21 اعشاریہ سات ملین تھی،ادارہ شماریات نے مردم شماری کے نتائج میں بلوچستان کی آبادی 14 اعشاریہ نواسی ملین بتائی،ادارہ شماریات کے آفیشل اکاؤنٹس سے متضاد بیانات جاری کیے گئے،

    سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ بلوچستان ہائیکورٹ نے حقائق کے برعکس فیصلہ دیا،مشترکہ مفادات کونسل کیخلاف سپریم کورٹ بار کی درخواست سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے،ہائیکورٹ نے سپریم کورٹ بار کی درخواست زیر التوا ہونے کی بنیاد پر ہماری درخواست خارج کی،سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی درخواست ہماری درخواست سے بالکل الگ ہے،درخواست میں وفاق،ادارہ شماریات،نادرا اور مشترکہ مفادات کونسل سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے

    شہباز شریف نے الیکشن نئی مردم شماری کے بعد کرانے کا اعلان کر دیا

    الیکشن مہم میں سرکاری مشینری کا بے دریغ استعمال کیا گیا،علی زیدی

    سپریم کورٹ نے ایم کیو ایم کی سندھ میں بلدیاتی انتخابات روکنے کی استدعا مسترد کردی

    ہ سازش کے تحت بلدیاتی انتخابات میں تاخیرکی جارہی ہے،

    ونین کونسلز کی تعداد کا تعین صوبائی حکومت کا اختیار ہے

  • بلوچستان کی پہلی خاتون ایس ایس پی نے چارج سنبھال لیا

    بلوچستان کی پہلی خاتون ایس ایس پی نے چارج سنبھال لیا

    بلوچستان کی پہلی خاتون ایس ایس پی بننے کا اعزاز حاصل کرنے والی فریال فرید نے ایس ایس پی جعفرآباد کا چارج لے کر کام شروع کردیا جبکہ جعفرآباد اپنے آفس پہنچنے پر پولیس دستے نے انہیں سلامی اور پھول پیش کرکے خوش آمدید کہا، ایس ایس پی جعفرآباد فریال فرید نے آفس پہنچتے ہی ضلع بھر کے پولیس افسران اور اہلکاروں کی میٹنگ طلب کی۔

    خیال رہےکہ جعفرآباد سندھ اوربلوچستان کا سرحدی علاقہ ہے جہاں قومی شاہراہ کے مسائل سمیت امن وامان کوبرقرار رکھنا ہمیشہ سے ایک چیلنج رہاہے جبکہ ہری پور سے تعلق رکھنے والی فریال فرید کے شوہر ڈاکٹر سمیع ملک بھی بلوچستان میں ہی ضلع نصیر آبادکے ایس ایس پی تعینات ہیں ۔

    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    سی ٹی ڈی کی کاروائی،سات مبینہ دہشتگرد گرفتار
    ہیلی کاپٹر حادثے پر بہت دکھ ہوا،اللہ تعالی شہدا کے درجات بلند کرے، نواز شریف
    اگلے 10 دن اہم،بازی پلٹ گئی،نواز شریف،مریم پر ریڈ لائن ختم، بڑی تیاریاں شروع
    اوپن مارکیٹ؛ ڈالر 331 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا

    جبکہ سوشل میڈیا پر بھی ایس ایس پی کو کافی سراہا جارہا ہے اور صارفین کا کہنا تھا کہ خواتین کو آگے آنا چاہئے اور اسی طرح ملک و قوم کی خدمت کرکے نام روشن کرنا چاہئے، ایک ایکس صارف نے کہا کہ ایسی بہادر خواتین پر ہمیں فخر ہے وہ اپنے ملک و قوم کی ہر فیلڈ میں خدمات سرانجام دے رہی ہیں لہذا حکومت اور عوام کو چاہئے انہیں دات دینی چاہئے اور ان کو حوصلہ افزائی کرنی چاہئے.

  • ملک اور اپنی آنیوالی نسلوں پر رحم کھاتے ہوئے اسے تجربہ گاہ نہ بنایا جائے،سردار اختر مینگل

    ملک اور اپنی آنیوالی نسلوں پر رحم کھاتے ہوئے اسے تجربہ گاہ نہ بنایا جائے،سردار اختر مینگل

    بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) کے سربراہ اور سابق وزیر اعلیٰ سردار اختر مینگل نے صوبے کی تمام سیاسی جماعتوں کو لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے جمہوری انداز میں تحریک چلانے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ ملک اور اپنی آنے والی نسلوں پر رحم کھاتے ہوئے اسے تجربہ گاہ نہ بنایا جائے-

    باغی ٹی وی: سردار اختر مینگل نے سردار عطاء اللہ مینگل کی دوسری برسی کی مناسبت سے کوئٹہ کے ریلوے ہاکی گراؤنڈ میں منعقدہ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سردار عطا اللہ مینگل نے قید وبند کی صعوبتیں برداشت کیں، اُس دور کی سیاست اور آج کی سیاست میں زمین و آسمان کا فرق ہے، ماضی کے سیاست دان جیل جانے کو اپنے کے لئے فخر محسوس کرتے تھے بلوچستان میں بسنے والی تمام اقوام کی ذمہ داری ہے کہ قربانیاں دینے والے اکابرین کی طرح قربانی کا جذبہ پیدا کریں، ان اکابرین نے نہ اپنی جان کی فکر کی نہ اپنی اولاد کی فکر کی، بلکہ صرف بلوچستان کی ناموس کی فکر کی۔

    ایشیا کپ 2023: شاہین شاہ کی عمدہ بولنگ پر شعیب اختر کا دلچسپ تبصرہ

    سردار اختر مینگل کا کہنا تھا کہ ہمیں اپنے اکابرین کے عزائم و افکار کی پیروی کرنی ہوگی ہمارے لوگوں کو عدالتوں میں بھی انصاف نہیں ملتا ہے ایمان مزاری اور علی وزیر کا گناہ کیا تھا، وہ ایک کیس میں رہا ہوتے ہیں دوسرے کیس میں پکڑے جاتے ہیں،اس ملک اور اپنی آنے والی نسلوں پر رحم کھاتے ہوئے اسے تجربہ گاہ نہ بنایا جائے-

    واپڈا ملازمین کیلئے خصوصی واپڈا الاؤنس کا نوٹیفکیشن جاری

    سردار اختر مینگل نے مزید کہا کہ ملکی معیشت کی یہ حالت ہے کہ امداد اپنی جگہ کوئی بھیک دینے کے لئے بھی تیار نہیں، غلط پالیسیوں کی وجہ سے ملک کو دنیا میں تنہا کردیا ہے کہتے ہیں آپ لاپتہ افراد کی بات کیوں کرتے ہیں، آپ بتائیں کس کی بات کریں؟ آپ کسی کے لخت جگر کو نہ اٹھائیں کسی کی آنگن کو نہ اُجاڑیں، ہم بات نہیں کریں گے۔

    کندھ کوٹ :دیوار گرنے سے 2 بچے جاں بحق، 6 افراد زخمی

  • پہاڑوں پر پانی آتا ہے تو وہیں ذخیرہ کرنے کا انتظام ہونا چاہیے،قائمہ کمیٹی

    پہاڑوں پر پانی آتا ہے تو وہیں ذخیرہ کرنے کا انتظام ہونا چاہیے،قائمہ کمیٹی

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر سید محمد صابر شاہ کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔

    قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹر سرفراز احمد بگٹی کی جانب سے سینیٹ اجلاس میں اٹھائے گئے عوامی اہمیت کے معاملہ برائے صوبہ بلوچستان میں کچی کنال کی بحالی کے علاوہ،واپڈا ملازمین کی اپ گریڈیشن کے ٹائم سکیل کا معاملہ،کمیٹی کے گزشتہ اجلاس میں واپڈا کے حوالے سے دی گئی رپورٹ پر عملدرآمد، ڈسٹرکٹ حیدرآباد سندھ میں 15.19 ایکڑ زمین حاصل کرنے کے معاملات،نیلم جہلم منصوبے کے ٹنل میں پڑنے والے کریک،جنرل منیجر تربیلا کی جانب سے 2021 سے اب تک کی جانے والی تربیلا دیم منصوبے میں تقرریوں کے معاملات کی تفصیلات، ضلع ہرنائی بلوچستان کے علاقوں میں سیلابی بچاؤسے متعلقہ کاموں کے معاملات ،گڈوالیاں ڈیم کی لیکج کے حوالے سے انکوائری رپورٹ کے معاملات کے علاوہ مہمند ڈیم میں سیلاب کی وجہ سے پڑنے والے کریکس اور دیگر نقصانات اور ان کی اب تک کی مرمت کے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔

    قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں 31 مارچ2023 کو سینیٹر سرفراز احمد بگٹی کی جانب سے اٹھائے گئے عوامی اہمیت کے معاملہ برائے صوبہ بلوچستان میں کچی کنال کی بحالی کے معاملے کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ سینیٹر تاج حیدر نے کہا کہ یہ انتہائی اہمیت کا معاملہ ہے جس کا تعلق تین صوبوں سے ہے۔ کچی کنال سے ملحقہ علاقوں میں بارشوں کی وجہ سے سیلاب آتے ہیں اگر موثر حکمت عملی اختیار کی جائے تو اس پانی کو بہتر استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔ سیکرٹری آبی وسائل نے کمیٹی کو بتایا کہ کوہ سلیمان کے پہاڑوں سے بہت زیادہ پانی آتا ہے۔ صوبائی محکمہ پنجاب ایری گیشن نے کوہ سلیمان کے علاقے میں کام کرنا ہے۔ بہتر ہے کہ ان کی موجودگی میں معاملے کا جائزہ لیا جائے۔ قائمہ کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں محکمہ پنجاب ایری گیشن کو بریفنگ کے لئے طلب کرلیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ کوہ سلیمان میں مسلسل بارشیں ہونا شروع ہو گئی ہیں بڑے سیلابی ریلے آتے ہیں۔ سینیٹر تاج حیدر نے کہا کہ جب پہاڑوں پر پانی آتا ہے تو وہیں ذخیرہ کرنے کا انتظام ہونا چاہیے۔ کچی کنال بار بار ٹوٹ جاتی ہے۔ سائفن بنائے جائیں، دریاؤں کے قریب بند بنائیں جائیں اور مسئلے کا مستقل حل نکالا جائے۔ سیکرٹری آبی وسائل نے کہا کہ کچی کنال بے شمار جگہوں پر سیلابی ریلے کی زد میں آجاتی ہے اس کا بند اوپر اٹھایا ہوا ہے۔ پانی کچی کنال کو ہٹ کرتا ہے۔جو اسٹرکچر ابھی بنا ہوا ہے وہ اس سیلابی پانی کو کنڑول نہیں کر سکتا،13 نالوں کا پانی آتا ہے اور ریلہ ایک لاکھ کیوسک تک ہو جاتا ہے۔ ایک جامع پلان کی ضرورت ہے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ صوبائی حکومت پنجاب اور بلوچستان حکومت کو درخواست دی ہے کہ ایک جامع پلان دیں۔

    واپڈا ملازمین کی اپ گریڈیشن کے ٹائم سکیل کے معاملے کا بھی تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ وزارت خزانہ کی جانب سے جو پالیسی دی گئی ہے اس سے بہتر واپڈا کی ٹائم اسکیل اپ گریڈیشن کی اپنی پالیسی ہے جس پر 2001 سے عمل کیا جارہا ہے۔ نئی پالیسی سے ملازمین کا نقصان ہوگا۔

    کمیٹی کے گزشتہ اجلاس میں واپڈا کے حوالے سے دی گئی رپورٹ پر عملدرآمد کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ جو ہدایات دی گئی تھیں ان پر عملدرآمد کر لیا گیا ہے۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر سید محمد صابر شاہ نے کہا کہ گزشتہ کمیٹی اجلاس مورخہ18جولائی2023 کو کمیٹی کے ایجنڈا آئٹم 6 پر کہا تھا کہ تربیلا ڈیم T-iv اورT-v پاور ونگ کے ملازمین کو 30 فیصد الاؤنس مل رہا تھا جبکہ واٹرو نگ کے ملازمین اس الاؤنس سے محروم تھے۔کمیٹی نے ہدایت کی تھی کہ اس تضاد کو ختم کیا جائے اور برابر ی کی بنیاد پر الاؤنسز دیئے جائیں کیونکہ دونوں ونگ کے ملازمین ایک جگہ پر کام کر رہے ہیں۔جس پر وزارت آبی وسائل اور واپڈا حکام نے کہا تھا کہ ہم اس تضاد کو ختم کر یں گے اور سب ملازمین کو برابر الاؤنس دیئے جائیں گے۔ جبکہ آج کے ہونے والے کمیٹی اجلاس میں ان ہدایات پر عملدرآمد طلب کیا گیا تھا۔ جس پر وزارت آبی وسائل اور واپڈا حکام نے بتایا کہ کمیٹی کی ہدایات پر من وعن عملدرآمد کر لیا گیا ہے۔جس پر چیئرمین کمیٹی نے ان کا شکریہ ادا کیا۔ تربیلا ڈیم کام کرنے والے ہزاروں ملازمین میں کمیٹی کی ہدایت پر عملدرآمد کرنے پر خوشی کی لہر دوڑ گئی اور تربیلا ڈیم ملازمین نے چیئرمین واراکین کمیٹی کا شکریہ ادا کیا۔

    ڈسٹرکٹ حیدرآباد سندھ میں 15.19 ایکڑ زمین حاصل کرنے کے معاملات کے حوالے سے کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ پیسے عدالت میں جمع کر ا دیئے گئے ہیں۔ عدالت نے فیصلہ کرنا ہے کہ کس کو دینے ہیں کس کو نہیں یہ معاملہ عدالت میں ہے۔
    نیلم جہلم منصوبے کے ٹنل میں پڑنے والے کریک کے حوالے چیئرمین کمیٹی سینیٹر سید صابر شاہ نے کہا کہ اتنا بڑا منصوبہ تھا کس طرح اس جگہ کی نشاندہی نہیں کی جا سکی تھی۔ کیا مزید بھی ایسے نقصانا ت ہو سکتے ہیں۔ جب منصوبہ شروع کیا گیا تھا تو اس پر موثر کام کیوں نہیں کیا گیا۔جس پر کمیٹی کو بتایا گیا کہ نیلم جہلم ٹنل کا یہ نقصان سیلاب کی وجہ سے نہیں بلکہ جعفرافیائی مسئلے سے ہوا تھا۔ ٹنل کی 42 میٹر کی جگہ پر نقصان ہوا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ کسی بھی منصوبے کو اگر 100 سالہ معیاد کے مطابق بنایا جائے تو خرچ زیادہ ہوتا ہے مگر معیار بہتر ہوتا ہے۔ مگر پاکستان میں 30 سالہ معیاد کے مطابق کم خرچ سے عملدرآمد کیا جاتا ہے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ نیلم جہلم منصوبے میں مرمت کے بعد منصوبے کی پیدا وار میں بہتر ی آئی ہے اور تقریبا سالانہ 50 ارب کی سالانہ آمدن ہو گی۔

    جنرل منیجر تربیلا کی جانب سے 2021 سے اب تک کی جانے والی تربیلا ڈیم منصوبے میں تقرریوں کے معاملات کی تفصیلات سے جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ تمام بھرتیاں میرٹ پر کی گئی ہیں جس پر چیئرمین کمیٹی سینیٹر سید صابر شاہ نے کہا کہ آئندہ اجلاس میں مکمل تفصیلات بشمول میرٹ لسٹ میٹرک کے نمبر، ڈومیسائل، تعلیمی قابلیت و دیگر معلومات فراہم کی جائیں۔

    ضلع ہرنائی بلوچستان کے علاقوں میں سیلابی ریلوں سے بچاؤسے متعلقہ کاموں کے معاملات کے حوالے سے کمیٹی کو بتایا گیا کہ صوبائی حکومت کو پی سی ون تیار کرنے کا کہہ دیا ہے جسے ہی فراہم کر دیا جائے گا کمیٹی کو آگاہ کر دیں۔گڈوالیاں ڈیم کی لیکج کے حوالے سے انکوائری رپورٹ کے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ قائمہ کمیٹی کی ہدایت کے مطابق عمل کیا جارہا ہے۔ تین گیج اسٹیشن قائم کر کے ڈیٹا اکھٹا کیا جارہا ہے۔ قائمہ کمیٹی نے انکوائری کمیٹی بنانے کی بھی ہدایت کی تھی وہ بھی تشکیل دے دی گئی ہے۔ ایک ماہ کا ٹائم دیا تھا انہوں نے جامع رپورٹ کے لئے مزید دو ماہ کا وقت مانگا ہے۔ جس پر چیئرمین کمیٹی سینیٹر سید محمد صابر شاہ نے کہا کہ انکوائری میں ان لوگوں کو شامل نہ کریں جو ڈیزائنگ میں شامل تھے۔ غیر متعلقہ لوگ شامل کیے جائیں۔ جس پر قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ 30 سال کی سروس والے گریڈ 19 کے آفسر کو انکوائری کمیٹی کا ہیڈ بنایا گیا ہے۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ڈیم میں جو پانی آتا ہے وہ غائب ہو جاتا ہے لیکج کی نشاندہی کریں اورا س مسئلے کی رپورٹ بھی انکوائری کمیٹی کو فراہم کی جائے۔

    مہمند ڈیم میں سیلاب کی وجہ سے پڑنے والے کریکس اور دیگر نقصانات اور ان کی اب تک کی مرمت کے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ بہت بڑے سیلابی ریلے کی وجہ سے یہ مسئلہ آیا تھا اس وقت دریا پر ادارہ کام نہیں کر رہا تھا ٹنل پر کام کر رہے تھے۔ عارضی بند بنایا گیا تھا تین لاکھ کیوسک کا ریلہ آیا تھا۔ پوری ڈائی تباہ نہیں ہو ئی تھی بلکہ اس میں تھوڑا سا نقصان ہوا تھا۔

    بھارتی آبی جارحیت،پاکستان کا پانی روکنے کے منصوبہ کی دی مودی سرکار نے منظوری

    دیامر بھاشا ڈیم منصوبے سے دشمن کو تکلیف ہو رہی ہے،فیصل واوڈا

    ڈیم مخالف ٹرینڈ ، بھارتی عزائم کا ٹرینڈ ہے ، بھارتی پراپیگنڈہ چند شرپسند عناصرپھیلا رہے ہیں‌، جویریہ صدیقی

    ڈیموں کے مخالفین پاکستان کے دشمن ہیں: سابق چیئرمین واپڈا انجینئر شمس الملک

    ڈیم مخالف مہم بے نقاب ، ہم نے مقامی لوگوں کو ڈیم کے خلاف بھڑکایا، بھارتی جنرل کا اعتراف

  • بلوچستان کے نوجوان نگران وزیر نے گھر کے دروازے عوام کیلئے کھول دیئے

    بلوچستان کے نوجوان نگران وزیر نے گھر کے دروازے عوام کیلئے کھول دیئے

    بلوچستان کے نگران صوبائی وزیر نوابزادہ جمال خان رئیسانی نے کہا ہے کہ صوبے میں اب حقیقی تبدیلی کا وقت آچکا ہے جبکہ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے ایک بیان میں نگران صوبائی وزیر جمال رئیسانی کا کہنا تھا کہ نگران حکومت میں مجھے اسپورٹس اور یوتھ افیئرز کی وزارتیں دی گئی ہیں، ان وزارتوں کو خوش قسمتی نہیں بلکہ ذمےداری سمجھتا ہوں۔


    جمال رئیسانی کا مزید کہنا تھا کہ وزارت کا سہرا میرے شہید والد اور بلوچستان کے تمام شہدا کے سر جاتا ہے، جو زمہ داریاں دی گئی ہیں اُنہیں فرض سمجھ کر پورا کروں گا اور اپنے اختیارات کے مطابق بلوچستان کے عوام کی بھرپور خدمت کروں گا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    چندریان تھری کا لینڈر موڈیول ڈیزائن کرنے کا دعویٰ کرنیوالا جعلی سائنسدان گرفتار
    ایشیا کپ ،پاکستان کا نیپال کے خلاف ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ
    سائفر کیس،شاہ محمود قریشی کو جوڈیشل ریمانڈ پر بھیج دیا گیا
    انہوں نے یہ بھی کہا کہ میرے گھر اور آفس کے دروازے عوام کیلئے ہر وقت کھلے ہیں، پاکستان زندہ باد۔ تاہم خیال رہے کہ یہ نوجوان شہید شہید نوابزادہ میر سراج رئیسانی کے صاحبزادے ہیں‌اور انہوں باپ کی شہادت کے وقت کہا تھا کہ نمیرے والد اور بھائی کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائے گی ملک اور صوبے کے لئے مزید قربانیوں کی ضرورت پڑی توہم دریغ نہیں کرینگے ہم نے ہمیشہ لہو سے ملک کی حفاظت کی ہے اور کر تے رہیں گے بلوچستان کو محفوظ بنانے اور روزگار دینے کے لئے سب کو اپنا کردار ادا کرنا چا ہئے.

  • نگران کابینہ بلوچستان؛ 6 ارکان نے حلف اٹھالیا

    نگران کابینہ بلوچستان؛ 6 ارکان نے حلف اٹھالیا

    بلوچستان کی نگران کابینہ کے 6 ارکان نے حلف اٹھالیا، گورنربلوچستان عبدالولی کاکڑ نے وزرا سے حلف لیا ہے جبکہ گورنرہاؤس کوئٹہ میں نگراں وزرا کی حلف برداری کی تقریب کا انعقاد ہوا ہے جس میں نگراں وزیر اعلی علی مردان ڈومکی سمیت اعلی حکام نے بھی شرکت کی ہے۔

    بلوچستان کے صحافی مجیب احمد کے مطابق گورنر بلوچستان ولی خان نے نگراں وزرا سے حلف لیا ہے اور حلف لینے والوں میں امیر محمد جوگیزئی، جمال خان ریئسانی، سردار اعجاز جعفر، امان اللہ کنرانی، شیخ محمودالحسن مندوخیل اور آصف الرحمان شامل تھے۔

    تاہم واضح رہے کہ پہلے مرحلے میں 22 اگست کو 5 اراکین نے حلف اٹھا لیا تھا اور گورنر بلوچستان ملک عبدالولی کاکڑ کابینہ کے اراکین سے حلف لیا ہے جبکہ اس سے پہلے مرحلے میں حلف لینے والوں میں کیپٹن ریٹائرڈ زبیر جمالی، پرنس احمد علی، امجد رشید، عبدالقادر بلوچ اور جان اچکزئی شامل تھے اور وزیراعلی بلوچستان میر علی مردان خان ڈومکی نے نگراں کابینہ کو محکمے تفویض کر دیے تھے.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    چندریان تھری کا لینڈر موڈیول ڈیزائن کرنے کا دعویٰ کرنیوالا جعلی سائنسدان گرفتار
    ایشیا کپ ،پاکستان کا نیپال کے خلاف ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ
    سائفر کیس،شاہ محمود قریشی کو جوڈیشل ریمانڈ پر بھیج دیا گیا
    جبکہ نگراں صوبائی وزیر کیپٹن (ر) زبیر جمالی کو داخلہ و قبائلی امور جیل خان جات اور پی ڈی ایم اے کا قلمدان دے دیا گیا اور نگراں صوبائی وزیر امجد رشید کو خزانہ اور ریونیو جبکہ نگراں صوبائی وزیر جان اچکزئی کو محکمہ اطلاعات کا قلمدان دیا گیا علاوہ ازیں صوبائی وزیر ڈاکٹر عبدالقادر بخش بلوچ کو محمکہ تعلیم اور سیاحت کا قلمدان دیا گیا اسی طرح‌نگراں صوبائی وزیر پرنس احمد علی احمد زئی کو صنعت، کامرس، توانائی اور ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے محکموں کا قلمدان تفویض کیا گیا ہے۔

  • وزیراعظم کا وسائل کے مؤثر ترین استعمال اور کم سے کم ضیاع پر زور

    وزیراعظم کا وسائل کے مؤثر ترین استعمال اور کم سے کم ضیاع پر زور

    نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کی زیر صدارت کوئٹہ میں ترقیاتی منصوبوں سے متعلق اجلاس ہوا،

    وزیراعظم نے بلوچستان میں آمدنی و روزگار کے ذرائع بڑھانے کیلئے مؤثر حکمت عملی کے نفاذ پر زور دیا ،وزیراعظم نے اجلاس کو مستقبل میں بہتر منصوبہ بندی کے لیے بجٹ اور اخراجات میں بہتر توازن قائم کرنے کی ہدایت کی، وزیراعظم نے وسائل کے مؤثر ترین استعمال اور کم سے کم ضیاع پر زور دیا ،نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ پاکستان بالخصوص بلوچستان میں معدنیات کی کان کنی کی وسیع استعداد ہے جس کو ملکی معیشت کی ترقی کے لیے بروئے کار لایا جا سکتا ہے، بلوچستان کی معدنیات سے اسی وقت بہتر طریقے سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے جب ان علاقوں میں بہترین مواصلاتی انفراسٹرکچر موجود ہو.

    اجلاس میں چیف سیکرٹری بلوچستان نے وزیراعظم کو مجوزہ و جاری ترقیاتی منصوبوں پر بریفنگ دی ،اجلاس میں نگران وزیر اعلیٰ بلوچستان، نگران وزیر داخلہ، وزیر مواصلات، وزیر منصوبہ بندی و ترقی اور متعلقہ افسران موجود تھے.

    دوسری جانب نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کی زیر صدارت بلوچستان میں سیکیورٹی کی صورتحال سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا،وزیراعظم نے اس سلسلے میں صوبائی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کردار کو سراہا۔ نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ ملک و قوم کا تحفظ اور ملک میں عوام کے لیے محفوظ ماحول کو برقرار رکھنا ہماری اولین ترجیح ہے۔ تحفظاتی معاملات میں ریاستی ردعمل کو مضبوط بنانے کے لئے قانونی ڈھانچے کو مزید بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔

    بجلی کے بلوں میں اضافہ پرشہری سڑکوں پرنکل آئے

    بجلی کے نرخوں کے حوالے سے ہنگامی اجلاس طلب کرلیا

     عابد شیر علی پریس کانفرنس کرتے ہوئے بجلی کے بھاری بلوں پر پھٹ پڑے ،

     پاکستان چاہے تو ہم پاکستان کو سستی بجلی، گیس اور تیل دے سکتے ہیں

    حکومت نے پاک ایران، پاک روس بارٹر تجارت کی اجازت دے دی

     اپنی صنعتوں کو تالے لگا دیں گے اور چابیاں حکومت کے حوالے کردیں گے۔

  • نواب اکبر خان بگٹی کے ساتھ ایک  یادگار نشست کا احوال

    نواب اکبر خان بگٹی کے ساتھ ایک یادگار نشست کا احوال

    آغا نیاز مگسی

    ڈیرہ بگٹی بلوچستان سے تعلق رکھنے والے پاکستان کی منفرد شخصیت کے مالک ، بلوچستان کے سابق گورنر ، سابق وزیر اعلیٰ سابق وفاقی وزیر اور بگٹی قبیلے کے سربراہ نواب محمد اکبر خان بگٹی 12 جولائی 1927 میں بارکھان بلوچستان میں اپنے ننھیال کھیتران قبیلہ کے گھر میں پیدا ہوئے اور26 اگست 2006 میں ضلع کوہلو کے ایک پہاڑی غار میں ایک سانحے کا شکار ہو کر اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ ان کی یہ پراسرار موت بھی بہت سی دیگر نامور شخصیات کی طرح آج تک ایک معمہ بنی ہوئی ہے۔ مجھے ان کی نمازہ جنازہ کا منظر دیکھنے اور رپورٹنگ کرنے کا اعزاز حاصل رہا ہے جس میں اندرون بلوچستان سے شریک ہونے والا میں واحد صحافی تھا بلکہ مجھے یہ اعزاز بھی حاصل رہا ہے کہ پرنٹ میڈیا میں ان کا صحیح موقف پیش کرنے کا اعتماد حاصل کرنے کے باعث تقریباً 9 سال تک ٹیلی فون پر ان کی خبریں میں پیش کرتا رہا ۔ یہی وجہ تھی کہ کوئٹہ کے بہت سے نامور صحافی کسی موضوع یا کسی اہم مسئلے پر ان کا موقف جاننے کیلئے مجھ سے رابطہ کر کے نواب صاحب کا موقف معلوم کرتے تھے اور اسی تعلق اور اعتماد کے تناظر میں 2005 میں نصیر آباد اور جعفر آباد کے سینیئر صحافی دوستوں عبدالستار ترین ، دھنی بخش مگسی ، شیخ عبدالرزاق اور محمد وارث دیناری نے مجھے حکم دیا کہ میں نواب صاحب سے رابطہ کر کے ان سے ملاقات کیلئے وقت لے لوں ۔ میں نے نواب صاحب سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا جنہوں نے از راہ شفقت فرمایا کہ آپ جب اور جس وقت چاہیں اپنے صحافی دوستوں کو میرے پاس لے آئیں ۔ میں نے دوستوں سے رابطہ کر کے نواب صاحب کو اپنے پروگرام سے آگاہ کیا جس کے بعد انہوں نے ڈیرہ الله یار کے اپنے قبیلے کے ایک بااعتماد نوجوان دریحان بگٹی کو مجھ سے رابطہ کرنے کیلئے ہدایات جاری کر دیں ۔ ہم لوگ 12 دسمبر 2005 کو ڈیرہ الله یار سے ڈیرہ بگٹی کیلئے روانہ ہوئے ۔ راستے میں ایک پولیس تھانہ کے ایس ایچ او نے عبدالستار ترین کو زبردستی دو پہر کو کھانا کھلانے کیلئے روکا جس کی وجہ سے ہمیں کافی تاخیر ہو گئی۔ جب ہم ڈیرہ بگٹی شہر میں داخل ہوئے تو ایک دو جگہ پر ہم کسی ضرورت کے تحت گاڑی سے نیچے اترے تو لوگ ہمیں کہتے کہ آپ نواب صاحب کے مہمان ہیں ؟ ہم نے حیرت سے اثبات میں جواب دیا تو وہ بولے کہ نواب صاحب بہت دیر تک اپنی ” کچہری ” یعنی محفل میں آپ لوگوں کا انتظار کرتے رہے ۔ ہم پہلے نواب صاحب کے مہمان خانے گئے جہاں ہمارے لئے کھانے کا انتظام کیا گیا تھا ۔ کھانا کھانے کے بعد وہاں سے ہمیں ان کی خلوت گاہ پہنچا دیا گیا ۔

    ہم جیسے ہی ان کی آرام گاہ میں داخل ہوئے انہوں نے از راہ مذاق کہا کہ میں تو اس انتظار میں تھا کہ بی بی سی ریڈیو سے کب خبر چلتی ہے کہ نواب اکبر بگٹی سے ملاقات کیلئے ڈیرہ بگٹی جانے والے نصیر آباد اور جعفر آباد کے صحافی اغوا کر لیے گئے ہیں ۔ ان سے ملاقات میں ، میں نے اپنے صحافی دوستوں کا ان کے شہر اور صحافتی ادارے کے ساتھ وابستگی کے حوالے سے تعارف کرایا جس کے بعد انہوں نے بلوچی رسم کے مطابق ہم سے بلوچی ” حال” لینا چاہا چناں چہ میں نے انہیں ” حال ” دیا اور ان سے ” حال” لیا جس کے بعد ان سے باقاعدہ انٹرویو / گفتگو کا سلسلہ شروع ہوا ۔ میرے دوستوں نے ان سے حالات حاضرہ کے مطابق سیاسی سوالات کئے جبکہ میں نے ان سے ذاتی نوعیت کے غیر سیاسی سوالات کئے جن میں ان کے رومان، مذہبی و فکری رجحان ، پسندیدہ شخصیات ، سیر وسیاحت اور خود کو ڈیرہ بگٹی تک محدود رکھنے کے متعلق سوالات شامل تھے جن کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ انہوں نے جوانی میں عشق بھی کیا، دنیا کے کئی ممالک کا مطالعاتی دورہ بھی کیا ۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ کئی سال سے ڈیرہ بگٹی سے باہر نہ جانے کی وجہ یہ ہے کہ عالمی طاقتوں کی نظریں ڈیرہ بگٹی پر مرکوز ہیں اس لئے میں ڈیرہ بگٹی سے باہر نہیں نکلتا جبکہ 18 سال سے گوشت نہ کھانے کی وجہ یہ بتائی کہ وہ مذہبی لحاظ سے بدھ مت کے بانی گوتم بدھ کی شخصیت سے متاثر ہیں اس لئے ان کی تقلید کرتے ہوئے انہوں نے گوشت کھانا ہمیشہ کیلئے ترک کر دیا ہے۔ انہوں نے اپنی پسندیدہ شخصیات میں رابندر ناتھ ٹیگور اور ہٹلر کا نام لیا۔ دسمبر کی یخ بستہ رات میں ان کے ساتھ ہونے والی ہماری نشست رات 9 بجے سے صبح 3 بجے تک یعنی 6 گھنٹوں پر محیط تھی ۔ اس گفتگو کے دوران ایک بار ہمارے ایک دوست نے ان سے یہ سوال کیا کہ نواب صاحب آپ کبھی حج یا عمرہ کی سعادت حاصل کرنے کیلئے سعودیہ بھی گئے یا نہیں تو اس کے جواب میں خلاف توقع نواب صاحب نے ہمارے صحافی دوست سے تلخ لہجے میں سوال کیا کہ ابھی جو مگسی صاحب (میری جانب اشارہ) نے میرے بیرونی ممالک کے دوروں کی فہرست میں جن ممالک کے نام لکھے ہیں تو کیا ان میں سعودی عرب کا نام شامل ہے ؟ اس غیر متوقع سوال اور جواب سے محفل کا ماحول یکسر تبدیل ہو گیا لیکن تقریباً نصف گھنٹے سکوت اور خاموشی کے بعد پھر سے محفل خوشگوار ہو گئی۔ اس طویل اور یادگار نشست کا اختام خود نواب اکبر خان بگٹی نے یہ کہہ کر ، کر دیا کہ اب آپ لوگوں پر نیند کا غلبہ طاری ہو رہا ہے اس لئے جا کر آرام کریں اس طرح ان کے ساتھ ہونے والی یادگار نشست اختتام پذیر ہو گئی جس کی یادیں ابھی تک ہمارے ذہنوں میں محفوظ ہیں ۔

    نوٹ : 2018 سے میں نے بلوچستان ہائی کورٹ کے ایک فیصلے کے تناظر میں صحافت کے شعبے سے قطع تعلق کر لیا ہے جس کے بعد میرا کسی بھی صحافتی ادارے سے تعلق نہیں ہے ۔ (آغا نیاز مگسی )

  • ۔ہمارا کام انتخابات کے لیے پرامن ماحول فراہم کرنا ہے،وزیراعلی بلوچستان

    ۔ہمارا کام انتخابات کے لیے پرامن ماحول فراہم کرنا ہے،وزیراعلی بلوچستان

    نگران وزیراعلئ بلوچستان میر علی مردان خان ڈومکی کی زیر صدارت اہم اجلاس ہوا

    اجلاس کو محکمہ داخلہ و قبائلی امور کے محکمانہ امور پر بریفنگ دی گئی،اجلاس کو محکمہ داخلہ بلوچستان کے دائرہ کار ، تفویض اختیارات سے متعلق آگاہی فراہم کی گئی، محکمہ داخلہ نے دیگر اداروں سے کوارڈینیشن اور ممحکمہ کے ماتحت اداروں کے افعال پر بھی بریفنگ دی، اجلاس کو پولیس فورس اور پولیس کے زیر انتظام سپیشل یونٹس کی کارکردگی پر بریفنگ دی گئی لیویز فورس اور سول ڈیفنس سمیت محکمہ داخلہ کے زیر انتظام کل افرادی قوت ، استعداد کار اورکیے جانے والے اقدامات سے متعلق بھی بریفنگ دی گئی

    تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے

    حکومت نے چیف جسٹس سمیت بینچ کے 3 ممبران پر اعتراض کردیا

    سات سال سے معاملہ سپریم کورٹ میں پڑا رہا کیا صرف ایک خاندان کیخلاف کیس چلوانا تھا 

    ہم دہشتگردی کیخلاف لڑائی کسی خیرات پر نہیں لڑ رہے،نگران وزیراعظم

    اجلاس میں نگران صوبائی وزیر داخلہ کیپٹن ریٹائرڈ زبیر جمالی ، چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ صالح محمد ناصر، آئی جی پولیس بلوچستان عبدالخالق شیخ، ڈائریکٹر جنرل لیویز نصیب اللہ کاکڑ ، آئی جی خانہ جات شجاع الدین کاسی اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی، نگران وزیراعلئ بلوچستان میر علی مردان خان ڈومکی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نگران صوبائی حکومت کا کام صاف و شفاف انتخابات کے لئے پر امن ماحول فراہم کرنا ہے ۔ضروری ہے کہ محکمہ داخلہ بہتر انداز سے اپنے امور کی انجام دہی یقینی بنائے ۔ایسے عملی اقدامات کئے جائیں جو امن و امان اور شفاف ماحول میں انتخابات کے انعقادکی بنیاد فراہم کریں ۔ہمارا کام انتخابات کے لیے پرامن ماحول فراہم کرنا ہے ۔میسر افرادی قوت کو بہترین اور منظم انداز میں استعمال میں لاکر پرامن انتخابات کا انعقاد یقینی بنایا جائے گا