ژوب: سابق وزیر اعظم نواز شریف نے سی پیک مغربی روٹ کے نام پر بلوچستان میں صرف تختی لگائی۔ وزیر اعلیٰ جام کمال خان کا عوامی اجتماع سے خطاب
وزیر اعظم عمران خان نے کچلاک ژوب ڈی آئی خان شاہراہ کا افتتاح کیا انشاء اللہ یہ شاہراہ جلد تعمیر ہو گی۔عوام کی ضروریات کے مطابق منصوبے بنا رہے ہیں ،
گذشتہ ادوار میں حکومتوں نے سیاسی بنیادوں پر منصوبے تشکیل دئیے جو آج تک مکمل نہ ہو سکے ، گذشتہ ادوار کے جاری منصوبوں کو مکمل کرنے کے ساتھ ساتھ نئے منصوبے بھی بنا رہے ہیں ، منصوبے عوام کے لئے بنائے جاتے ہیں مگر یہاں بنائے جانے والے منصوبے عوام کی بجائے پہاڑوں اور درختوں کے لئے بنائے گئے ہیں، بلوچستان کو ملنے والے فنڈز اگر صحیح استعمال ہوتے تو آج بلوچستان ترقی کر چکا ہوتا ، ہماری کارکردگی سے کچھ لوگوں کو پریشانی ہو رہی ہے ، پاک افغان سرحد پر باڑ لگنے کے بعد سرحد پر آباد قبائل کی زندگی بہتر بنانے کے لئے اقدامات یقینی بنائینگے ، صوبائی حکومت نے کینسر کے 1500 مریضوں کا مفت علاج و معالجہ کرایا ، گذشتہ ڈھائی سال میں 18 ہزار نوجوانوں کو سرکاری ملازمتیں فراہم کیں۔
آئندہ ایک سال تک مزید 12 ہزار افراد کو سرکاری محکموں میں بھرتی کرینگے ، ژوب کو میونسپل کاروریشن اور ڈویژن کا جلد درجہ دینگے ، وزیر اعلیٰ بلوچستان
Tag: بلوچستان
-

بلوچستان میں کونسے ترقياتی اقدامات کا آغاز، وزیر اعلیٰ بلوچستاننے بتادیا؟
-

کوئٹہ، بلوچستان میں کورونا ویکسین لگانےسے متعلق اقدامات جاری
کوئٹہ، بلوچستان میں کورونا ویکسین لگانے کا سلسلہ جاری کل سے لسبیلہ تربت اور چاغی میں بھی ویکسین لگانے کا آغاز ہوگا، ڈاکٹر اسحاق پانیزئی
کوئٹہ، اب تک 4 ہیلتھ کیئر ورکرز و ڈاکٹرز کو ویکسین لگائی جاچکی ہے، کوئٹہ میں ویکسین لگانے کیلئے 9 مراکز قائم ہیں، پروانشل کوارڈینیٹر ای پی آئی بلوچستان
کوئٹہ، کورونا ویکسین کیلئے 22 ہزار ہیلتھ کیئر پروائڈرز رجسٹرڈ ہوئے ہیں، کوئٹہ، رجسٹرڈ افراد موبائل پر پیغام موصول ہونے کے بعد مقررہ سینٹر جاکر ویکسین لگواسکیں گے، صوبائی کوآرڈینیٹر ای پی آئی
کوئٹہ، ویکسین مضر اثرات سے پاک اور کورونا سے بچاو کا تناسب 95 فیصد ہے ، ڈاکٹر اسحاق پانیزئی
کوئٹہ، کل سے لسبیلہ تربت اور چاغی میں بھی ویکسین لگانے کا آغاز ہوگا، کوئٹہ، بلوچستان بھر میں 44 ویکسین سینٹرز قائم ہوں گے، کوئٹہ، مرحلہ وار دیگر اضلاع میں ویکسین لگانے کا عمل شروع کریں گے، ڈاکٹر اسحاق پانیزئی -

نیشنل ہائی وے پرایس پی ملیر کی کاروائی،لاکھوں روپے مالیت کی چرس برآمد
ایس ایس پی ملیرنے کاروائی کی رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ شاہ لطیف سے بلوچستان سے لائی جانے والی لاکھوں روپے مالیت کی چرس برآمد کرلی گئی ہے- پولیس کو بلوچستان سے لائی جانے والی چرس کے متعلق خفیہ اطلاع موصول ہوئی۔ شاہ لطیف پولیس نے ایس پی ملیر کی سربراہی میں نیشنل ہائی وے در محمد گوٹھ کے قریب کارروائی کی۔ پولیس نے اطلاع پر ملزم شہزاد علی کو دو کلو سے زائد چرس سمیت گرفتار کیا۔ ملزم شہزاد کی نشاندہی پر منشیات کی سپلائی اور فروخت میں ملوث گروہ کے دیگر تین کارندے گرفتار۔
ایس ایس پی عرفان بہادرکی رپورٹ کے مطابق پولیس نے مجموعی طور پر دس کلو فائن کوالٹی چرس برآمد کی۔ گرفتار ملزمان بلوچستان سے مختلف اقسام کی منشیات لا کر کراچی میں سپلائی کرتے تھے۔ گرفتار ملزمان عادی مجرم ہیں اور منشیات کی سپلائی/فروخت کے مقدمات میں متعدد بار گرفتار چکے ہیں۔ گرفتار ملزمان کا مزید کرمنل ریکارڈ حاصل کیا جا رہا ہے۔ گرفتار ملزمان سے گروہ کے دیگر ساتھیوں کے متعلق پوچھ گچھ جاری ہے۔ ملزمان کیخلاف مقدمہ درج کر لیا گیا۔ گرفتار ملزمان کو مزید پوچھ گچھ کیلئے تفتیشی حکام کے حوالے کر دیا گیا۔ گرفتار ملزمان میں شہزاد علی، قاسم شاہ، حبیب الحمن اور طالب شاہ شامل ہیں۔ ملزمان کے نیٹ ورک کے دیگر افراد کی گرفتاری کیلئے تلاش جاری ہے۔
-

بلوچستان سے لائی جانے والی لاکھوں روپے کی چرس برامد، ایس ایس پی ملیر اور ایس ایس پی عرفان بہادر
ایس ایس پی ملیر اور ایس ایس پی عرفان بہادر کا لاکھوں روپے کی چرس برامد ہونے کے بارے میں کہنا.
ایس ایس پی ملیر: شاہ لطیف سے بلوچستان سے لائی جانے والی لاکھوں روپے مالیت کی چرس برآمد۔ پولیس کو بلوچستان سے لائی جانے والی چرس کے متعلق خفیہ اطلاع موصول ہوئی۔ شاہ لطیف پولیس نے ایس پی ملیر کی سربراہی میں نیشنل ہائی وے در محمد گوٹھ کے قریب کارروائی کی۔ پولیس نے اطلاع پر ملزم شہزاد علی کو دو کلو سے زائد چرس سمیت گرفتار کیا پولیس نے مجموعی طور پر دس کلو فائن کوالٹی چرس برآمد کی۔
گرفتار ملزمان عادی مجرم ہیں اور منشیات کی سپلائی/فروخت کے مقدمات میں متعدد بار گرفتار چکے ہیں۔گرفتار ملزمان کا مزید کرمنل ریکارڈ حاصل کیا جا رہا ہے۔گرفتار ملزمان سے گروہ کے دیگر ساتھیوں کے متعلق پوچھ گچھ جاری ہے۔ ملزمان کیخلاف مقدمہ درج کر لیا گیا۔ گرفتار ملزمان کو مزید پوچھ گچھ کیلئے تفتیشی حکام کے حوالے کر دیا گیا
ایس ایس پی عرفان بہادر: ۔ملزم شہزاد کی نشاندہی پر منشیات کی سپلائی اور فروخت میں ملوث گروہ کے دیگر تین کارندے گرفتار۔ گرفتار ملزمان بلوچستان سے مختلف اقسام کی منشیات لا کر کراچی میں سپلائی کرتے تھے۔ گرفتار ملزمان میں شہزاد علی، قاسم شاہ، حبیب الحمن اور طالب شاہ شامل ہیں۔ ملزمان کے نیٹ ورک کے دیگر افراد کی گرفتاری کیلئے تلاش جاری ہے -
چہار اطراف دشمن کی جارحیت کے مقابل ہماری دفاعی حکمت عملی از طہ منیب
چہار اطراف دشمن کی جارحیت کے مقابل ہماری دفاعی حکمت عملی از طہ منیب
آج سے ڈیڑھ سال قبل ملک کی ایک بڑی دعوتی، فلاحی ، دفاعی جماعت کی قیادت و اثاثے بھارتی و بین الاقوامی دباؤ پر بند کر دئیے گئے ، ملکی ناقص معاشی صورتحال کی وجہ سے تحویل میں لیے گئے جماعت کے اداروں کا بوجھ اٹھانا حکومت کیلئے مسئلہ بن چکا ہے ، لاکھوں غرباء مساکین بے آسرا ہو گئے محض اس بات پر کہ شاید عالمی قوتیں اور بھارت خوش ہو جائے ، شاید ہمارے وجود کو تسلیم کر لیا جائے، شاید ہم اچھے ہمسائے بن جائیں ، شاید معاشی پابندیاں کم ہو جائیں،شاید ایف اے ٹی ایف کوئی رعایت کر دے مگر مہینوں گزرنے کے بعد بھی۔۔۔۔۔
5 اگست سے کشمیر میں مسلسل لاک ڈاؤن اور سینکڑوں جوانوں کی شہادت ، ایل او سی پر مسلسل فائرنگ اور آزاد کشمیر کے شہریوں کی شہادتیں، بلوچستان میں آرمی پر حملے اور فوجی جوانوں کی شہادتیں، چند دن قبل کراچی کی طرف بھارتی فضائیہ کی اڑانیں، بھارتی قیادت کی مسلسل پاکستان پر حملے کی دھمکیاں۔۔۔۔۔۔
اور دشمن کی چہار اطراف جارحیت کے مقابل ماشاءاللہ دفاعی حکمت عملی میں پہلے جماعت کے سربراہ اور اب باقیماندہ قیادت کو سزائیں و جرمانے۔
اللہ ہمارے فیصلہ سازوں پر رحم کرے اور درست فیصلے کرنے کی توفیق دے۔ آمین
-

بلوچستان کی جیلیں کرونا وائرس کا گڑھ بن گئیں ، تحریر شفیق الرحمان
کورونا وائرس اور قیدی ، تحریر شفیق الرحمان
کورونا وائرس کے بڑھتے خطرات کے سبب دنیا بھر کی انسانی حقوق کی تنظیمیں حکومتوں کو اس خطرے کا ادراک کروانے کے لیے بھرپور زور ڈال رہی ہیں کہ جیل کے معمولات اس نوعیت کے ہوتے ہیں کہ جہاں ممکن ہی نہیں ہے کہ کورونا وائرس کو پھیلنے سے روکنا ممکن ہو تبھی ہم دیکھتے ہیں کہ امریکہ برطانیہ یورپ چین اور ایران سمیت اکثر ممالک میں جیل میں وائرس پھیلنے کی اطلاعات کنفرم ہوچکی ہیں اور حکومتیں مجبور ہوئیں کہ اس غیر معمولی صورتحال سے نمٹنے کے لیے غیرمعمولی اقدامات اٹھائے جائیں۔ بڑی تعداد میں قیدیوں کی رہائی کے اعلانات سامنے آ ئے ہیں اس سارے منظرنامے کا اثر اگر ہم پاکستان میں دیکھیں تو بلوچستان صوبے کے علاؤہ باقی صوبوں میں کچھ سنجیدگی تو دکھائی دیتی ہے لیکن بلوچستان کا معاملہ حیران کن حد تک خطرناک دکھائی دیتا ہے۔ بہ ظاہر اسکا سبب ایک محکمے کے کرپٹ افسران ہیں جو کرپشن کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے ، اس موقع پر بھی اس آگ سے کھیل رہے ہیں جو خود انہیں بھی جلا سکتی ہے۔ دنیا بھر میں غور و فکر ہورہی ہے قانونی پیچیدگیوں کو دور کرنے کی تاکہ قیدیوں کو حتی الامکان ریلیف مل سکے لیکن بلوچستان میں جیل محکمے کی جانب سے پچھلے چند ماہ میں لاتعداد ایسے اقدامات اٹھائے گئے ہیں جنکا مقصد اس ریلیف کو بھی ختم کرنا ہے جو پہلے سے حاصل تھے اسکی مثال بالکل ایسے ہی ہے جیسے کبھی کبھار حکومت ایک روپے پٹرول کی قیمت بڑھا کر بعد میں پچیس پیسے کم کرنے کا ڈھنڈورا پیٹتی ہے۔ بلوچستان میں قیدیوں کو امتحانات پاس کرنے پر معافیاں دی جاتی ہیں لیکن حال ہی میں آئی جی جیل خانہ جات کے نئے حکمنامے کے مطابق براہوی ادیب کا امتحان ختم کردیا گیا ، جو قیدی امتحانات دے چکے تھے انکی معافی منسوخ ہوگئی ۔ جبکہ اسکے علاوہ قیدیوں کے امتحانات کے رزلٹ کارڈ سال سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود آئی جی آفس میں پڑے ہیں اور آئی جی صرف انہی کے رزلٹ کارڈ پر سائن کررہا ہے معافی کے لیے جو رشوت دیں یا پھر جن کے پاس وزراء کی سفارش ہو۔ اس مسئلے کے سبب کویٹہ جیل میں قیدیوں نے احتجاج کیا جسکو میڈیا میں غلط تاثر دے کر انکے خلاف ظالمانہ آ پریشن کیا گیا ، انکا ضرورت کا سارا لوٹ لیا گیا ۔ کئی دہائیوں سے جیل میں یہ روٹین رہی تھی کہ قیدی اپنے خرچے پر اپنا کھانا تیار کرتے تھے جسکی وجہ جیل کی مضر صحت اور ناقص غذا تھی جو کسی طور بھی کھانے کے قابل نہ تھی۔ آپریشن میں قیدیوں کی کھانا پکانے کی سہولت ختم کردی گئی اور انہیں پابند کیا گیا کہ وہ وہی مضر صحت جیل کا ہی کھانا کھائیں۔ جبکہ جیل کے بااثر اور امیر قیدی پانچ سو اور ہزار روپے کے عوض گوشت وغیرہ منگوالیتے ہیں یہ رقم بطور لانے کی فیس ہوتی ہے علاؤہ گوشت کی قیمت کے۔ کیا اس طریقہ کار پر ایک عام آدمی جیل میں کھانے پینے کا خرچ اٹھا سکتا ہے؟ کرونا وائرس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ ان افراد کے اس وائرس میں مبتلا ہونے کے چانسز زیادہ ہوتے ہیں جو جسمانی طور ہر کمزور ہوں۔ اب جیل انتظامیہ قیدیوں کی خوراک کے معاملے میں ایسی غیر انسانی پابندی لگا کر کیا قیدیوں کو جسمانی طور پر کمزور اور بیمار بنانا چاہتی ہے تاکہ وائرس پھیل سکے ؟
یہ بھی وضاحت کرتے چلیں کہ جیل محکمے کے پاس قیدیوں کی سزا میں ردوبدل کرنے کے چور راستے بہت سے ہیں ، جن قیدیوں کو جرمانہ بھی ادا کرنا ہوتا ہے انکو جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں جو سزا کاٹنی ہوتی ہے وہ بھی کٹوانے کے بعد قیدیوں کو بتاتے ہیں کہ اب آپکی سزا پوری ہوچکی ہے اب آپ جرمانہ جمع کرواؤ ۔ وہ جو جرمانہ جمع کرواتا ہے وہ جیل محکمہ کے کرپٹ افسران کی جیب میں جاتا ہے اور کاغذات میں ظاہر کیا جاتا ہے کہ قیدی نے جرمانہ جمع نہ کیا بلکہ مزید قید کاٹی۔ اس مد میں کئی دہائیوں سے حکومت پاکستان کو اربوں روپوں کا نقصان پہنچایا جاچکا ہے۔کورونا وائرس کے حوالے سے بھی جیل محکمہ نے نہ صرف غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا بلکہ بعض معاملات میں تو یوں دکھائی دیتا ہے کہ انکی بھرپور کوشش ہے کہ جیل میں وائرس پھیل جائے ۔
بلوچستان کی جیلوں میں قیدیوں کی تعداد جیلوں کی capacity سے زیادہ نہیں ہے لیکن محکمہ کامجرمانہ کردار ہے کہ بیرکوں میں مصنوعی overcrowding کی گئی ہے۔
سینٹرل جیل مچھ میں بھی اسوقت چار بارکیں جو قدرے صاف ستھری تھیں وہاں سے قیدیوں کو نکال کر پہلے سے فل دوسری بارکوں میں ٹھونس دیا گیا حالانکہ یہ بارکیں ٹوٹی پھوٹی ہیں جگہ تنگ ہے باتھ روم ٹوٹے اور گندے ہیں ۔ ان اقدامات سے بہ ظاہر یہی لگتا ہے کہ جیل حکام نے کورونا وائرس کو قطعاً سنجیدگی سے نہیں لیا۔ تاحال کوئی بھی اہلکار ماسک نہیں لگاتا ۔باوجود بارکیں خالی ہونے کے، قیدیوں کو چند بارکوں میں ٹھونس کر رکھنے کی ایک بنیادی وجہ یہ بھی ہے کہ جیل حکام قیدیوں کی زندگی اتنی مشکل بنانا چاہتے ہیں کہ وہ پھر چھوٹی چھوٹی سہولت کے لیے منہ مانگی رشوت دینے کو تیار ہوجائیں۔
امتحانات کی معافیاں جو کئی دہائیوں سے لگ رہی تھی اسے روکنے اور اسکے علاوہ بھی ممکنہ حکومتی اقدامات کے سبب ملنے والے ریلیف کو عملی طور پر ختم کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ جیل حکام کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ جیل میں قیدیوں کی تعداد زیادہ سے زیادہ ہو، کیونکہ جتنے زیادہ قیدی ہونگے اتنا ہی انہیں فنڈ زیادہ ملے گا اور خوردبرد کے مواقع بھی زیادہ ہوں گے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ متعلقہ ادارے نیب ، اور اعلی عدلیہ مذکورہ بالا معاملات کا نوٹس لے اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کروائے تاکہ جیلیں جنکا بنیادی مقصد قیدیوں کی اصلاح ہے عملی طور پر اصلاحی مراکز بن بھی سکیں ۔ ورنہ موجودہ حالات میں تو ایک قیدی یا تو ذہنی مریض بنے گا یا وہ منشیات کی لت میں مبتلا ہو جائے گا یا خدانخواستہ کوئی مجرم بن کر نکلے گا کیونکہ عمر قید کی سزا میں اسکا وقت ایسا گزرا ہوگا جس میں ایک ایک دن ذلت آمیز رویوں سے سامنا ہوا ہوگا ۔
دوسری طرف سنٹرل جیل ژوب
سے کچھ قیدیوں کو دور سنٹرل جیل مچھ بھیج دیا گیا جسمیں پشین۔ خانوزئی ۔ مسلم باغ ۔ قلعہ سیف اللہ ۔ لورالائی ۔سنجاوی ۔دوکی ۔ بارکھان ۔کولوں ۔رکنی اور ژوب کے قیدی شامل تھے قیدیوں کے اپنوں نے بتایا کہ سیکورٹی کی بنیاد پر ان قیدیوں کو 800 سو کلو میٹر دور سنٹرل جیل مچھ منتقل کیا گیا لیکن ایک آفیسر نے نام نا ظاہر کرنے پر بتایا کہ دراصل آئی جی جیلخانہ جات سپرنٹنڈنٹ سنٹرل جیل ژوب سے ماہانہ 50000 روپے مانگ رہا تھا جبکہ سپرنٹنڈنٹ نے کہا کہ قیدی کم ہے اتنی رقم میں نہیں دے سکتا
اسلئے قیدیوں کو مچھ شفٹ کیا گیا جبکہ اس وقت سنٹرل جیل ژوب کی تعداد 25/30 ہے اور جگہ 300 سو قیدیوں کی ہے
کورونا یا دیگر بیماری کیوجہ سے جاگیردار ۔امیر ۔ منسٹر کیلئے میڈیا بات کرسکتی ہے لیکن غریب کیلئے نہیں یہود نصاریٰ میں بھی یہی تھا کہ کسی شہزادے کیلئے سزا میں ترمیم کرتے اور غریب کو سزا دیتے تو آج وہ یہودی اور ہم مسلمان کیسے ؟

-

محب وطن بلوچ کی ہلالی پرچم سے وفا … عبدالحمید صادق
جب محبت اپنے عروج کو پہنچتی ہے تو پھر اس کی راہ میں بڑی سے بڑی رکاوٹ بھی زیر ہو جایا کرتی ہے….. ایسا ہی کچھ معاملہ بلوچوں کے دلوں کی دھڑکن، محب وطن بلوچ رہنما جناب سراج رئیسانی شہید کا تھا، وہ وطن کی محبت میں مارے مارے پھرتے تھے، ان کا جینا مرنا پاکستان کے لیے تھا.
اپنے ہر پروگرام اور سفر میں سبز ہلالی پرچم کو اپنے ساتھ رکھتے تھے….. یوں محسوس ہوتا تھا کہ جیسے اس پرچم کے بغیر ان کی زندگی نامکمل ہے…… اور واقعتاً یہ بات حقیقت ثابت ہوئی.
انہوں نے پاکستان کی محبت میں ڈیڑھ کلو میٹر لمبا جھنڈا بنوایا اور ان کی یہ خواہش تھی کہ یہ جھنڈا بلوچستان کے بلند و بالا پہاڑوں پر اس انداز سے لہرایا جائے کہ دور سے آنے والے لوگوں نظر آئے اور وطن دشمنوں کو للکارے.
بلوچستان کہ جہاں اس قدر وطن دشمن تنظیمیں موجود ہوں، وہاں پاکستان کا جھنڈا اتنی دلیری سے لہرانا کوئی عام بات نہیں کیونکہ ایک وقت تھا کہ وہاں پاکستان کا نام لینے والوں کو گولی مار دی جاتی تھی.
افسوس کہ انڈین فنڈڈ بی ایل اے نے سراج رئیسانی کو شہید کر دیا لیکن یہ جھنڈا اس کے بعد ان کے بہادر بیٹے جمال رئیسانی نے اس پہاڑی پر لگا کر اپنے والد کی خواہش پورا کر دیا ایسا بہادر بلوچوں اور افواج پاکستان کی قربانیوں کی وجہ سے آج دشمن کی اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری تباہ ہو گئی۔
وہ بلوچستان کہ جہاں لوگ عدالتوں میں کھڑے ہو کر پاکستان مخالف نعرے لگاتے تھے آج وہی نادانی میں بھٹک جانے والے بلوچ جوق در جوق ریاست پاکستان کو تسلیم کر کے پہاڑوں سے اتر کر ، ہتھیار پھینک کر پاکستان کا جھنڈا لہرا رہے ہیں۔
ان کے بیٹے جمال کا کہنا ہے کہ بابا کی یہ خواہش تھی کہ وطن کی محبت میں جان قربان کر جاؤں اور وہی ہوا کہ بابا جان کو پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگانے اور سبز ہلالی پرچم لہرانے کی پاداش میں شہید کیا گیا اور ہمیں اس بات پر فخر ہے.
آج وہی بلوچستان ہے کہ جس میں دشمن کی مسلسل سازشوں کی وجہ سے پاکستان کا نام لینا بھی مشکل تھا آج وہاں محب وطن بلوچوں اور افواج پاکستان کی کوششوں اور قربانیوں کی وجہ سے ہر شخص وطن پر جاں نچھاور کرنے کو تیار ہے.
اللہ تعالٰی دشمن کی سازشوں کو ناکام کرے اور جناب رئیسانی کی اس عظیم قربانی کو قبول فرمائے. آمین
ہم تو مٹ جائیں گے اے ارض وطن لیکن
تم کو زندہ رہنا ہے قیامت کی سحر ہونے تک
-

کوئٹہ اینٹی اسمگلنگ کا افسر سمگلروں کے ہتھے چڑھ گیا
کوئٹہ: گزشتہ روزسریاب کے علاقے میں سمگلروں کے وحشیاناتشددکے باعث بری طرح زخمی ہونے والے کسٹمزاینٹی اسمگلنگ ونگ کے ڈپٹی کنٹرولرڈاکٹرعبدالقدوس شیخ علاج کی غیرتسلی بخش صورتحال اور اپنے محکمہ کی اندرونی چپقلش اور عدم توجہ کے باعث وینٹیلیٹر پرآگیے ہیں جب کہ ڈاکٹرقدوس شیخ کل تک بری طرح زخمی ہونے کے باوجود بھی ہوش میں تھے اور بات چیت کررہے تھے لیکن ڈاکٹروں کے مشورے کے باوجود ان کے محکمے نے ان کو کراچی منتقل نہیں کیاباخبرزرایع کے مطابق سندھ سے آے ہوے ڈاکٹرقدوس شیخ سے سمگلروں سمیت ان کے اپنے محکمے کےبہت سارے افرادبھی سخت نالاں تھے کہ ان کوبہت سارے اختیارات کیوں تفویض کیے گیے ہیں ان کے ایمانداری سے کام کرنے کی پاداش میں ان پرگزشتہ روز قاتلانہ حملاکرکے ان کوشدید ذخمی کیاگیا جس کے نتیجے میں آج قدوس شیخ ہسپتال میں لاوارثوں کی طرح زندگی وموت کی کشکمش مبتلاپڑے ہوے ہیں ڈاکٹرقدوس کے ورثہ نے وزیراعلی بلوچستان سے اپیل کی ہے کہ وہ انسانی ہمدردکی بناپر اس معاملے کانوٹس لیکر ڈاکڑعبدلقدوس کی زندگی بچانے کے لیے اقدامات کریں.
-

بلوچستان بھی پاکستان ہے… محمد عبداللہ
اللہ کی عظیم نعمتوں اور معدنیات سے مالا مال مگر حکمرانوں کی عدم توجہی کا شکار ہمارا بلوچستان پاکستان کا ہی صوبہ ہے. دوران سفر میں نے کراچی سے کوئٹہ اور کوئٹہ سے فورٹ منرو تک بلوچستان کے بیسیوں شہر دیکھے، سنگلاخ چٹانیں، خشک پہاڑ، میلوں تلک پھیلی سطح مرتفع، کہیں کہیں فروٹس کے باغات اور درختوں کے جھنڈ، بکریوں کے ریوڑ اور خوبصورت بچے دیکھنے والوں کو اپنے سحر میں مبتلا کردیتے ہیں.

لیکن یہ سحر بہت جلد ٹوٹ جاتا ہے کہ جب بیسیوں میل تک آپ کو پانی میسر نہ آئے، جب وہاں سے نکلنے والی بیش قیمت گیس تو لاہور، پشاور تک مل جائے ،اس کی رائلٹی سرداروں کی جیب میں چلی جائے اور سوئی کا باسی پنجاب ، سندھ اور کے پی کے میں جاتی گیس کے پائپ کے اطراف سے لکڑیاں اور گھاس پھونس اکٹھی کرکے اپنی پیٹھ پر لادے گھر جائے اور اس سے چولہا جلائے، جب سفر کرتے ہوئے سینکڑوں کلومیٹرز تک آپ کو موبائل سگنلز نہ ملیں.عورت اور اسلامی معاشرہ… محمد عبداللہ
ہم گرائمرز، ایچی سن، کیڈٹس کالجز اور اسکول کے رسیا لوگوں کا بلوچستان کی خوبصورتی کا سحر اس وقت دھڑام سے گرتا ہے جب بلوچستان کے بیشتر علاقوں میں خیمہ اور ٹاٹ اسکول بھی میسر نہ ہوں. جہاں معمولی بیماریوں سے لے کر سنگین بیماریوں تک کے علاج پر اس لیے نہ توجہ دی جائے کہ بوڑھی ماں اور باپ کی دو چار سال مزید عمر کے لیے کون سینکڑوں کلومیٹر کا سفر کرکے کوئٹہ اور کراچی جائے. مجھے کوئٹہ سمیت پورے بلوچستان میں ایک بھی شہر پنجاب کے شہروں کے ہم پلہ نظر نہ آئے نہ سہولیات کے اعتبار سے اور نہ بلند و بالا بلڈنگز کے اعتبار سے. ہاں سرداروں کے وسیع و عریض محل، نت نئی گاڑیوں، جدید اسلحہ سے لیس محافظوں کی فوج ظفر موج آپ کو بتائے گی کہ بلوچستان کے مسائل کے پیچھے کیا عوامل کارفرماء ہیں.
کیا اس لیے تقدیر نے چنوائے تھے تنکے ….. محمد عبداللہ
میں نے بلوچستان کا بڑا مہذب نقشہ آپ کے سامنے رکھا ہے کہ مجھے الفاظ نہیں میسر کہ بلوچستان کی محرومیوں کی جو صورتحال جو آنکھوں نے دیکھی اس کو بیان کروں.

تعلیم و صحت وغیرہ بنیادی انسانی حقوق ہیں مگر بلوچستان کے زیادہ تر لوگوں کو یہ انسانی حقوق میسر نہیں ہیں. ہاں میسر ہے تو وہ دھماکے ہیں، سازشیں ہیں، کلبھوشنز ہیں، براہمداغ و ماما قدیر ہیں، سرمچار ہیں، فراری ہیں اور ان سب کی وجہ سے فوجی آپریشنز میسر ہیں.
جب صادق سنجرانی، قاسم سوری، جام کمال، طلال و سرفراز بگٹی اور اختر مینگل جیسے لوگ جو پاکستان کے اعلیٰ ترین عہدوں اور پارلیمنٹ کی کرسیوں پر براجمان ہیں وہ بلوچستان کے جائز حقوق کی آئینی اور قانونی جنگ نہیں لڑیں گے اور بلوچستان کی دگردوں صورتحال پر توجہ نہیں دیں گے تو پھر براہمداغ بگٹی وغیرہ جیسے راتب اغیار پر دم ہلانے والے محرومیوں کے ستائے بلوچوں کو استعمال کریں گے، پھر کلبھوشن دہشت گردی کے نیٹ ورک قائم کریں گے. پھر محمود اچکزئی جیسے لوگ این ڈی ایس کے آلہ کار بنیں گے.
پاکستان کے دیگر صوبوں اور ہر طرح کی سہولیات سے لیس شہروں میں بیٹھ کر یہ بات کرنا تو بہت آسان ہے کہ بلوچستان کی بات نہ کرنا، وہاں کے حقوق پر آواز نہ اٹھانا کہیں دشمن تمہارے ان مطالبات کو غلط استعمال نہ کرلے تو جناب والا پھر پنجاب اور کے پی کے اور سندھ کے مسائل اور جرائم پر بات کرنے اور سوشل میڈیا پر آواز اٹھانے کو بھی تو دشمن غلط مقصد اور بدنامی کے لیے استعمال کر سکتا ہے لیکن ہم وہ متواتر کیے چلے جاتے ہیں.
ہمیں اور نہ ہی بلوچستان کے لوگوں کو اپنی افواج اور دیگر سکیورٹی کے اداروں سے کوئی گلہ یا شکوہ ہے کیونکہ یہ ادارے تو ان کو سازشوں سے بچاتے ہیں، حفاظت کرتے ہیں اور آفات اور مسائل میں حتیٰ المقدور بلوچستان کے غریب باسیوں کی مدد بھی کرتے ہیں.
ہمیں شکوہ ہے تو سب سے پہلے بلوچستان کے سرداروں سے ہے، پاکستان کے ستر سال کے حکمرانوں سے ہے، موجودہ پارلیمنٹ میں بیٹھے لوگوں پر ہے جو بلوچستان کے مسائل و معاملات کو پاکستان کا مسئلہ نہیں سمجھتے.
اگر آپ واقعی بلوچستان میں امن لانا چاہتے ہیں اور دشمن کی سازشوں کو پنپنے کا موقع نہیں دینا چاہتے، کلبھوشنوں اور براہمداغ جیسوں کے نیٹورکس قائم نہیں ہونے دینا چاہتے تو بلوچستان میں تعلیم و صحت اور روزگار پر ترجیحی بنیادوں پر کام کیجیئے کہ بلوچستان بھی پاکستان ہے.
Muhammad Abdullah -

گوادر حملہ، ایک سیکورٹی اہلکار شہید، آپریشن کلیرنس جاری
گوادر میں پرل کانٹینینٹل ہوٹل کی عمارت پر حملہ، ایک سیکورٹی اہلکار شہید، مہمانوں کو بحفاظت نکال لیا گیا. ڈی جی آئی ایس پی آر کے کے پرسنل ٹویٹر اکاؤنٹ کے مطابق آپریشن ابھی جاری ہے، تاہم تمام مہمانوں کو بحفاظت نکال لیا گیا تھا، حملہ آوروں نے ہوٹل کے مین گیٹ پر سیکیورٹی اہلکاروں پر حملہ کر کے انٹری کی تھی جس میں ایک اہلکار کی شہادت ہو گئی. مزید انکا کہنا تھا اطلاعات کیلئے آفیشل سورسز کا انتظار کریں، سوشل میڈیا پر من گھڑت خبریں پھیلانے والے کی معلومات پر یقین نا کریں، ان میں سے کوئی بھی وہاں موجود نہیں ہے. درست معلومات کی رسائی کیلئے انتظار کریں.