Baaghi TV

Tag: بلوچستان

  • امیر جماعت اسلامی سراج الحق کی اپیل پر”یوم یکجہتی بلوچستان“ احتجاجی مظاہرہ

    امیر جماعت اسلامی سراج الحق کی اپیل پر”یوم یکجہتی بلوچستان“ احتجاجی مظاہرہ

    اسلام آباد :امیر جماعت اسلامی سراج الحق کی اپیل پر”یوم یکجہتی بلوچستان“ احتجاجی مظاہرہ ا،طلاعات کے مطابق امیر جماعت اسلامی سراج الحق کی اپیل پر ملک بھر کی طر ح اسلام آباد میں بھی ”یوم یکجہتی بلوچستان“ منایا گیا اس سلسلے میں نیشنل پر یس کلب اسلم آباد کے سامنے جماعت اسلامی اسلام آباد کے زیر اہتمام احتجاجی مظاہرہ کیا گیا ، احتجاجی مظاہرے سے جماعت اسلامی پاکستان کے مر کزی نائب امیر میاں محمد اسلم ، جماعت اسلامی بلوچستان کے سیکرٹری جنرل مو لانا ہدایت الرحمن ،امیر جماعت اسلامی اسلام آباد نصر اللہ رند ھاوا، زبیر صفدر ،میاں محمد رمضان ،فیض بلوچ ،وراحسن خان دیگر رہنماءنے خطاب کیا ۔

     

     

     

    احتجاجی مظاہرے سے خطاب کر تے ہو ئے میاں محمد اسلم نے کہا حکمران گوادر میں ظلم بند کریں اور مظاہرین کو ان کاحق دیں،گوادر کے عوام ایک ماہ سے سڑک پر بیٹھے اپنا حق مانگ رہے ہیں،گوادر کی تاریخ میں پہلی بار خواتین اپنے شیرخوار بچوںکے ہمراہ سڑکوں پرآئیں، پورا گوادر مولانا ہدایت الرحمن کی ”گوادر کو حق دو تحریک“ پر ان کے ساتھ کھڑا ہے۔، انھوں نے کہابلوچ عوام محب وطن اور پرامن ہیں۔ حکمران ان کی آواز نہیں سنیں گے، تو ردعمل آئے گا، ملک میں پسماندہ اور مظلوم طبقات کی کبھی شنوائی نہیں ہوئی۔ ایک خاص طبقہ ایوانوںمیں بیٹھا اپنا مال بنا رہا ہے اور انھیں لوگوں کے مسائل سے کوئی غرض نہیں، مولانا ہدایت الرحمن کی سربراہی میں ”گوادر کو حق دو تحریک“ تب تک جاری رہے گی جب تک گوادر کے رہائشیوں کے تمام جائز مطالبات منظور نہیں ہوجاتے، انھوں نے کہا کہ جماعت اسلامی بلوچستان کا مقدمہ ہر فورم پر لڑ رہی ہے، بلوچستان کے عوام کے تمام آئینی اور قانونی جائز مطالبات کی بھرپور تائید کرتے ہیں۔

     

     

     

    مو لانا ہدایت الرحمن نے کہا۔ گوادر تحریک کے مطالبات عوامی آواز ہیں، حکومت انھیں اپنی مخالفت میں سمجھنے کی بجائے تسلیم کرے اور عوام کی مشکلات کا خاتمہ کرے۔ مقامی ماہی گیروں کے لیے روزگار کے ذرائع ناپید ہو چکے،گوادر میں بڑے ٹرالروں کے ذریعے غیر قانونی مچھلی کا شکار نہ صرف گوادر کے ماہی گیروں کے لیے مشکلات پیدا کر رہا ہے بلکہ اس سے سمندر ی حیات کے خاتمہ اور ماحول کو شدید خطرات لاحق ہیں، انھوں نے کہا گوادر تحریک سی پیک کے خلاف نہیں، کوئی پاگل ہی ہو گا جو ترقی کی مخالفت کرے گا، گوادر تحریک کو سی پیک کی مخالفت سے جوڑنے والے پروپیگنڈا کر رہے ہیں، اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ مولانا ہدایت الرحمن نے کہا کہ بلوچ عوام محب وطن ہیں، مگر ان کے ساتھ زیادتیاں نہیں ہونی چاہییں، علاقے میں جگہ جگہ چیک پوسٹوں پر لوگوں کی تذلیل نہ کی جائے، سرحدی تجارت پر پابندی ختم کی جائے۔

     

     

    نصر اللہ رند ھاوا نے کہا گوادر میں 10دسمبر کو مولانا ہدایت الرحمن کی قیادت میں تاریخی ریلی نے ریفرنڈم کر دیا کہ وفاقی، صوبائی اور ریاستی ادارے گوادر بلوچستان کے عوام کو حق دیں، مظاہرین پرامن گوادر کی ترقی کے حامی اور پاکستان کے لیے جرات مند بااعتماد عوام ہیں، حکومتیں حالات و مسائل کو الجھانے کی بجائے گوادر ساحل پر ٹرالر مافیا کے خاتمہ اور مقامی ماہی گیروں کے روزگار کو تحفظ دیا جائے، انھوں نے کہا بارڈر پر ایف سی کوسٹ گارڈز کی بجائے صوبائی سول انتظامیہ معاملات کی ذمہ داری لیں، سیکیورٹی کے نام پر غیر ضروری چیک پوسٹس ختم کی جائیں اورعوام کی تذلیل بند کی جائے، شراب خانوں کے لائسنس منسوخ اور منشیات فروشی کا خاتمہ کیا جائے، نصر اللہ رندھاوا نے کہا گوادر کے عوام کا تعلیم، صحت، پانی و روزگار کا حق تسلیم کیا جائے۔

  • پاک فضائیہ کا شہیدپاکستان ،فخربلوچستان فلائٹ لیفٹیننٹ صمدعلی چنگیزی کو خراج عقیدت

    پاک فضائیہ کا شہیدپاکستان ،فخربلوچستان فلائٹ لیفٹیننٹ صمدعلی چنگیزی کو خراج عقیدت

    اسلام آباد:پاک فضائیہ کا شہیدپاکستان ،فخربلوچستان فلائٹ لیفٹیننٹ صمدعلی چنگیزی کو خراج عقیدت،اطلاعات کے مطابق صوبہ بلوچستان نے بھی ایسے بہادر اور جری سپوت پیدا کیے ہیں کہ جن کی شجاعت اور قربانیوں کی داستانیں آج بھی لہو گرما دیتی ہیں، ایسے ہی عظیم سپوتوں میں کوئٹہ کے ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے فلائٹ لیفٹیننٹ صمد علی چنگیزی(شہید)کا نام بھی شامل ہے۔

    ترجمان پاک فضائیہ کے مطابق پاک فضائیہ نے شہید فلائٹ لیفٹیننٹ صمد علی چنگیزی کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے ان کےجنگی کارناموں پرمختصردورانیےکی دستاویزی فلم جاری کی ہے۔

    ڈاکیومنٹری میں فضائی کارناموں اور دشمن کو لگائی گئی ضرب کو اجاگر کیا گیا ہے، شہید فلائٹ لیفٹیننٹ صمدعلی چنگیزی نےدشمن کا غرورخاک میں ملایا تھا اور شہادت کے بلند مرتبےپر فائزہوئے تھے۔

     

    فلائٹ لیفٹیننٹ صمد علی چنگیزی یکم مارچ 1942ء کو کوئٹہ میں پیدا ہوئے، انہوں نے 29 جنوری 1964 ء کو پاک فضائیہ میں شمولیت اختیار کی اور 30جنوری1966کو بطور فائٹر پائلٹ کمیشن حاصل کیا۔1971ء کی جنگ کے دوران آپ جدید اسٹار فائٹر سے لیس پاک فضائیہ کے نمبر9 اسکواڈرن میں تعینات تھے۔

    جیسے ہی1 197ء جنگ شروع ہوئی تو فلائٹ لیفٹیننٹ صمدجنوبی زون میں ہونے والے آپریشنز میں حصّہ لینے کے لیے نمبر9اسکواڈرن کی فلائٹ کے ساتھ ماڑی پور(مسرور) میں فرائض سر انجام دینے کے لیے پہنچے۔

    انہوں نے رضا کارانہ طور پر سکواڈرن کو تفویض کیے گئے زیادہ تر مشنز خود سر انجام دیے اور اپنی شہادت تک کل 11مشنز میں حصّہ لیا۔12دسمبر1971ء کو اپنے فلائٹ کمانڈر اسکواڈرن لیڈر رشید احمد بھٹی کے ساتھ حیدرآباد(سندھ)کے نزدیک ایک مشن میں شرکت کی۔

  • برہنہ ویڈیوز کا سلسلہ ختم کیوں نہیں ہو رہا، تحریر:نوید شیخ

    برہنہ ویڈیوز کا سلسلہ ختم کیوں نہیں ہو رہا، تحریر:نوید شیخ

    کپیٹن صفدر نے کہا ہے کہ اتنی گندی ویڈیوز ریلیز ہونے والی ہیں کہ دیکھنے کے بعد عرق گلاب سے آنکھیں دھونی پڑنی ہیں۔ اب یہ ویڈیوز تو پتہ نہیں کب منظر عام پر آنی ہیں ۔ مگر اس وقت پورے پاکستان میں برہنہ ویڈیوز اور لیک ویڈیوز ہونے کا ایک ایسا رواج چل پڑا ہے کہ ہمارا پورا کا پورا معاشرہ ننگا ہو کر رہ گیا ۔ معاشی اور سیاسی طور پر تو ہم پہلے ہی زوال کا شکار ہیں ۔ پر ساتھ اب ہمارے ملک کا اخلاقی طور پر بھی جنازہ نکل رہا ہے ۔ کبھی فیصل آباد میں کاغذ چننے والیوں کی برہنہ ویڈیوز سامنے آتی ہیں تو کبھی تھیڑاداکاروں کی ویڈیوز تو کبھی ایسے ایسے جنسی اسکینڈل نکل کر سامنے آرہے ہیں کہ مجھے تو ٹی وی اور اخبار اٹھاتے ہوئے اب ڈر لگنے لگا ہے ۔

    ۔ جو کل کوئٹہ سے اسٹوری سامنے آئی ہے ۔ اس نے تو اوسان خطا کر دیے ہیں ۔ سب کچھ بتانے سے پہلے میں واضح کر دوں کہ میری نظر میں ان تمام چیزوں کی سب سے بڑی ذمہ داری ریاست اور حکومت پاکستان کی ہے ۔ کیونکہ جس ملک میں نظام عدل کا وجود نہ ہو ۔ جس ملک کی حکومت بیرون ملک پلٹ نکمے کھلاڑیوں پر مشتمل ہو ۔ وہاں پھر ایسے درندے ۔ ایسے جرائم پیشہ لوگ دلیر ہوجاتے ہیں ۔ کیونکہ ان کو پتہ ہوتا ہے کہ جب مرضی اس قانون کے جالے کو پھاڑ کر ہم نکل جائیں گے ۔ اس لیے جو کرنا ہے کر گزرو۔۔۔ اور یہ جو کچھ بھی اس وقت پاکستان میں ہو رہا ہے ۔ اسکی سب سے بڑی ذمہ داری حکومت وقت پر پڑتی ہے ۔ یہ جو کوئٹہ میں اسٹوری سامنے آئی ہے یہ اتنی خوفناک ہے کہ دل دہل جاتا ہے ۔ یہ میری زندگی کی مشکل ترین اسٹوری ہے ۔ جس کو آپ تک پہنچتے ہوئے ۔ روح کانپ اٹھی ہے ۔ ہوا کچھ یوں کہ کوئٹہ میں ملزمان لڑکیوں کو نوکری کا جھانسہ دے کر بلاتے ۔ پھر جھانسہ دے کر نشہ آور مواد پلایا جاتا اور اس کے بعد نازیبا ویڈیوز بنا کر بلیک میل کیا جاتا تھا ۔ ان ویڈیوز میں نظر آنے والے مناظر نہایت دردناک ہیں، ان میں لڑکیوں کو برہنہ کرکے ان کے گلے میں رسی ڈال کر ان کو گھسیٹا جاتا ہے، تھپڑوں سے مار جاتا ہے، بال نوچے جاتے ہیں، پاؤں انکے منہ پہ مارے جاتے ہیں غرض جس قدر درندگی ہوسکتی ہے ان ویڈیوز میں موجود ہے اس لیے ہدایت خلجی کا ڈارک ویب سے بھی تعلق نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

    ۔ یہ 200 سے زائد بچیاں ہیں جن کو نوکری اور روزگار کا جھانسہ دے کر نشے کا عادی بنا کر انہیں تشدد اور جنسی زیادتی کا نشانہ بنا کر برہنہ ویڈیوز بنانے اور بلیک میل کرنے والے گروہ کا سرغنہ، بدنامِ زمانہ ڈرگ ڈیلر حبیب اللہ کا بیٹا سابقہِ کونسلر ہدایت خلجی نامی درندے نے یہ گھناؤنا کھیل بلوچستان یونیورسٹی کی طالبات سے شروع کیا۔ اس سارے گندے کھیل میں اسے بااثر سیاسی افراد کی پشت پناہی حاصل رہی جن کے پاس لڑکیوں کو بھیجا جاتا تھا اس لیے بھی اس کے خلاف کبھی کوئی خاص کاروائی نہیں ہوئی۔ اب مختلف کیسز اور متاثرہ خواتین کی شکایات سامنے آنے کے بعد ہدایت خلجی اور اسکے بھائی کو بظاہر گرفتار کرلیا گیا ہے ان کے قبضے سے سینکڑوں لڑکیوں کی نازیبا ویڈیوز برآمد کرکے لیپ ٹاپ، متعدد موبائلز اور دیگر ڈیوائسز قبضے میں لے لی گئی ہیں۔ تاہم سیاسی دباؤ کی وجہ سے پولیس کاروائی کرنے کی پوزیشن میں نہیں اس لیے کوئی خاص ایکشن نظر نہیں آ رہا۔ ہدایت خلجی کے اثرورسوخ کا اندازہ ایک خاتون کے اس بیان سے بھی لگایا جاسکتا ہے جس میں ایک متاثرہ خاتون کا کہنا ہے کہ جب وہ قائد آباد کوئٹہ کے SHO شیخ قاضی کے پاس ملزم ہدایت خلجی کے خلاف مقدمہ درج کرنے گئی تو شیخ قاضی ایس ایچ او نے بھی متاثرہ لڑکی کو اپنے پاس رکھا اور ذیادتی کا نشانہ بنایا اور بعد میں پریشر ڈالنے کے لیے مجھے، میری بہن اور میرے بھائی کو اٹھا کر لے گئے، میرے بہن، بھائی کا ابھی تک علم نہیں کہ وہ کہاں، کس حال میں ہیں۔

    ۔ ہدایت خلجی سے جو ویڈیوز برآمد ہوئی ہیں ان میں 6 ہزارہ، 221 پشتون، 63 بلوچ اور 22 اردو بولنے والی لڑکیاں شامل ہیں۔ اس وقت ملزمان ہدایت اللہ اور خلیل 14 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں ہیں مقدمے میں زیرحراست ملزمان سمیت 3 افراد نامزد کئے گئے ہیں پولیس کے مطابق ملزمان سے تحقیقات جاری ہیں ۔ ملزمان سے برآمد کئے گئے موبائل فون، لیپ ٹاپ، ویڈیو، کو پنجاب فرانزک لیبارٹری بھجوا دیا گیا ہے۔ ویڈیو کی تحقیقات کے لئے ایس ایس پی آپریشنز کی سربراہی میں ایک کمیٹی بھی بنائی گئی ہے۔ جو تحقیقات کر رہی ہے۔ کیس میں نامز د ملزم شائی کی گرفتاری کیلئے چھاپے جاری ہیں ۔ پھر ملزمان کی جانب سے اغوا کی گئی 2 لڑکیاں افغانستان میں ہیں ۔ لڑکیوں کی واپسی کے لیے وفاقی سطح پر افغان حکومت سے رابطہ کیا جا رہا ہے۔

    ۔ ان نازیبا ویڈیو کیس کے حوالہ سے ڈی آئی جی کوئٹہ کا کہنا ہے کہ کیس کی تحقیقات جاری ہیں، بہت انکشافات سامنے آئی ہیں۔ ملزمان ویڈیوز کب سے بنا رہے تھے اس کی بھی تحقیقات جاری ہیں ،ملزم ہدایت کے خلاف دو مقدمے درج ہیں، ملزم نے کسی بھی لڑکی کو بلیک میل کیا ہو تو وہ ہم سے رابطہ کرے ، نام صیغہ راز میں رکھا جائے گا، ہم چاہتے ہیں ملزمان کے خلاف زیادہ سے زیادہ ثبوت ملیں اور کیس مضبوط ہو تا کہ ملزمان کو کڑی سے کڑی سزا مل سکے۔۔ مجھے نہیں پتہ کب تک اس ملک میں صرف قانون ہی بنتے رہیں گے، کب یہ اندھا، گونگا، بہرہ نظام انصاف جاگے گا۔ کب تک لوگ خود قانون ہاتھ میں لیں گے۔ کب تک ایسے درندے ہمارے معاشرے میں دندناتے پھریں گے۔ کب تک ہماری مائیں،بہنیں اور بیٹیاں مجبوری کے ہاتھ تنگ آ کر ان درندوں کے ہاتھ استعمال ہوتی رہیں گی۔ ایسے درندوں کو لٹکا دینا چاہیے انکے سیاسی یاروں کو جو خدمت کے نام پہ ووٹ لیکر فرعون بن جاتے ہیں عزتوں سے کھیلتے ہیں، مجرموں، زانیوں، قاتلوں اور منشیات فروشوں کی پشت پناہی کرتے۔ ان گندے کرداروں کا نام بھی سامنے آنا چاہیئے ۔ تاکہ عوام جان سکیں کہ کیسے گندے لوگ حکمران بنے بیٹھے ہیں ۔ میرا حکومت سے بھی سوال ہے کہ جب آپ اپنے سیاسی معاملات کے ایجنسیز کو استعمال کرسکتے ہیں تو ایسے گھناونے کرداروں کا قلع قمع کرنے کے لیے ان ایجنسیوں کو استعمال کیوں نہیں کرتے ۔ کیا عوام کا دکھ درد آپ کو دیکھائی نہیں دیتا ۔ یادرکھیں ایک سب نے مر جانا ہے ۔ اور اس وقت نہ کوئی رتبہ ، عہدہ ، پیسہ اور زمین کام نہ آئے گی ۔ ایسا اسکینڈل اور اسٹوری کسی اور ملک میں آئی ہوتی تو ابھی تک اس ملک کے تمام ادارے ، حکومتیں ، عوام جت جاتے کہ ان درندے صفت کرداروں کا قلع قمع کیا جائے ۔ پر یہ پاکستان ہی ہے جہاں وزیر اعظم سے لے کر وزیر اطلاعات تک روز دسیوں پر بار ٹی وی پر آتے ہیں ۔ ان کو اپوزیشن کی بینڈ بجانا یاد رہتا ہے یہ عوام کے دکھ دیکھائی نہیں دیتے ۔ میری شکایت اعلی عدالتوں سے بھی ہے جن کے کسی جج کا نام آجائے تو
    suo motoلے لیا جاتا ہے ۔ مگر یہاں دو سو سے زائد بچیوں کی زندگی زندہ درگوں کردی گئی ۔ مگر ہماری حکومت ، ہماری عدالت ، ہمارے ادارے سب خاموش ہیں ۔

  • بلوچستان حکومت کے ساتھ مذاکرات ناکام:ینگ ڈاکٹرزکا ریڈ زون میں دھرنا دینے اعلان

    بلوچستان حکومت کے ساتھ مذاکرات ناکام:ینگ ڈاکٹرزکا ریڈ زون میں دھرنا دینے اعلان

    ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان نے کوئٹہ کے ریڈ زون میں دھرنا دینے اعلان کردیا۔

    باغی ٹی وی : ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان کے رہنما ڈاکٹر حنیف لونی نے سول اسپتال کوئٹہ میں پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ وزیر اعلیٰ عبدالقدوس بزنجو سے آج مذاکرت نتیجہ خیز نہ ہونے کی صورت میں کل سے ایمرجنسی سروسز سے دستبردار ہونے اور کوئٹہ کے ریڈ زون میں دھرنا دیں گے-

    کوئٹہ: ینگ ڈاکٹرز کا اوپی ڈیز ، ان ڈور سروسزاور آپریشن تھیٹرز کا بائیکاٹ جاری،مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا

    ڈاکٹر حنیف لونی نے کہا کہ ہمارے تین بڑے مطالبات ہیں جن میں محکمہ صحت کی پالیسی، سروس اسٹرکچر اور اسپتالوں میں طبی سہولیات کی فراہمی شامل ہےحکومت اور وزیراعلیٰ مذاکرت میں سنجیدہ نہیں ہیں، ہمارے گرفتار ڈاکٹرز دس روز سے جیل میں ہیں مگر ہم نے عوام کی مشکلات کومدنظر رکھتے ہوئے انتہائی قدم نہیں اٹھایا ہے۔

    ڈاکٹر حنیف لونی نے کہا کہ آج مذاکرت نتیجہ خیز نہ ہوئے تو کل ایمرجنسی سروسز سے دستبردار ہو کرریڈ زون میں دھرنا دیں گے اور ینگ ڈاکٹرز صرف بلوچستان ہی میں نہیں بلکہ ملک گیر سطح پر ایمرجنسی سے دستبردار ہوں گے۔

    ینگ ڈاکٹرز ہڑتال پر کیوں؟ عدالت نے بڑا حکم دے دیا

    واضح رہے کہ ینگ ڈاکٹرز نے 22 نومبر کو اپنے مطالبات کے حق میں کوئٹہ کے ریڈ زون میں دھرنا دیاتھا جس سے نہ صرف کوئٹہ شہر میں ٹریفک کا نظام درہم برہم ہوا تھا بلکہ تعلیمی اداروں کو جانے والے طلبہ وطالبات بھی کئی دنوں تک مشکلات سے دوچار رہے تھے۔

    جس پر کوئٹہ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے 30 نومبر کو دھرنے میں شامل19 افرادگرفتار کیے تھے جن میں 15 ڈاکٹرز اور چار پیرامیڈیکس سٹاف ممبرز شامل ہیں- گرفتار افراد کو عدالت نے چھ دسمبرتک قید کی سزا سنائی تھی اور پولیس نے انہیں جیل منتقل کردیا تھا۔

    کوئٹہ سرکاری اسپتالوں میں ہڑتال: اب کوئی ڈاکٹر بائیکاٹ کرے گا تو اس کی نوکری چلی جائے گی عدالت

  • گلگت بلتستان میں برف باری کی وجہ سے رابطہ سڑکیں بند

    گلگت بلتستان میں برف باری کی وجہ سے رابطہ سڑکیں بند

    گلگت بلتستان میں وقفے وقفے سے برف باری کی وجہ سے رابطہ سڑکیں بند ہوگئیں –

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق گلگت بلتستان میں برف باری کی وجہ سے مقامی آبادی گھروں تک محصور ہوگئی ہے جبکہ بلوچستان کی وادی زیارت میں بھی برف باری کے بعد سردی میں اضافہ ہوگیا ہے زیارت سے ملحقہ علاقوں کے لیے رابطہ سڑکوں پر برف جم جانے سے سیاحتی مقامات پر ٹریفک متاثر ہوئی ہے۔

    رپورٹس کے مطابق شہری اور سیاح سڑکوں سے برف ہٹانے میں مصروف ہیں جبکہ متعلقہ عملہ غائب ہے۔

    سکول اور کالج میں طلبہ کو منشیات فروخت کرنے والے گروہ کا سرغنہ گرفتار

    محکمہ موسمیات کے مطابق کم سے کم درجہ حرارت زیارت میں منفی 10، قلات منفی 5 اور گوپس میں منفی 4 ریکارڈ کیا گیا اسی طرح کوئٹہ، استور اور اسکردو میں منفی 3، ہنزہ میں منفی 2، راولاکوٹ میں منفی1 اور لیہہ میں منفی 10 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا

    دوسری جانب پشاور،گھریلو اور کمرشل صارفین لکڑی جلانے پر مجبور،شہریو ں کومشکلات کاسامنا ہے پشاور، حیات آباد ،کوہاٹ روڈ،ورسک روڈ کےعلاقے میں گیس کا پریشر کم ہے جبکہ پشاور میں گیس کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ جاری پشاور،گلبہار اور رنگ روڈ کےعلاقے میں 12 گھنٹے سے گیس غائب ہے-

    ضمنی انتخاب: پنجاب میں الیکشن مشکل نہیں ہے، ہماری اپنی کمزوریاں ہیں ،آصف علی زرداری

    ادھر کراچی مین سوئی سدرن گیس کمپنی کو مطلوبہ مقدارمیں مشکلات کاسامنا ہے بلدیہ24کی مارکیٹ،سعیدآباد،جہان آباد،لیاری میں گیس پریشرمیں کمی کی وجہ سے گھریلو صارفین پریشانی کا شکار ہیں کراچی، سرجانی ٹاون، لانڈھی،کورنگی اوربلدیہ میں گیس پریشرکاسامنا ہے اورنگی ٹاون نمبر10اور11،نیوکراچی،نارتھ کراچی میں گیس پریشرکامسئلہ ہے،شیرشاہ،اردوبازار،سائٹ ایریا اوربنارس میں گیس پریشرمیں کمی کی شکایات کی جا رہی ہیں-

    ایس ایس جی سی ترجمان کے مطابق گیس لیکج کےباعث پریشرمطلوبہ مقدارمیں متعلقہ علاقوں تک نہیں پہنچتا،کراچی ،لائنیں مرمتی کام اورچوری کےباعث ٹوٹ چکی ہیں،پرانےعلاقوں میں لائنیں بوسیدہ اورلیکج کاشکار ہے-

    کوئٹہ: پولیس وین پردستی بم حملہ ،رحیم یار خان میں 4 خواتین کا بیہمانہ قتل،

  • صوبائی حکومت نے “گوادر کو حق دو تحریک” کے تمام مطالبات تسلیم کرلئے، ضیاء اللّٰہ لانگو

    صوبائی حکومت نے “گوادر کو حق دو تحریک” کے تمام مطالبات تسلیم کرلئے، ضیاء اللّٰہ لانگو

    کوئٹہ :صوبائی حکومت نے “گوادر کو حق دو تحریک” کے تمام مطالبات تسلیم ،اطلاعات کے مطابق صوبائی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ “گوادر کو حق دو تحریک” کے تمام مطالبات تسلیم کرلئے،

    مشیر داخلہ بلوچستان ضیاء اللّٰہ لانگو کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت نے “گوادر کو حق دو تحریک” کے تمام مطالبات تسلیم کرلئے ہیں۔ مولانا گوادر کے لوگوں پر رحم کرکے 20 دنوں سے جاری دھرنا ختم کریں۔

    مشیر داخلہ کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت نے سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مذاکرات کے چار راؤنڈ مکمل کرلئے ہیں۔

    ضیاء اللہ لانگو نے کہا ٹرالر کے خلاف کارروائی جاری ہے مافیا سے نمٹنے کے لئے وقت لگتا ہے، ڈی جی فشریز ٹرالر کے خلاف آپریشن کررہے ہیں۔ پاکستان نیوی اور ایم ایس اے کو بھی آپریشن کے متعلق کہا گیا ہے۔

    میر ضیاء اللہ لانگو نے ڈپٹی کمشنر آفس میں کمشنر مکران عرفان شاہ غرشین، ڈپٹی کمشنر گوادر کیپٹن جمیل احمد بلوچ، ڈی آئی جی مکران، جاوید جسکانی، ایس ایس پی طارق مستوئی اور ڈی جی فشریز کے ہمراہ پریس کانفرنس میں کہا کہ بارڈر وفاقی ایشو ہے، اس پر کام ہورہا ہے۔ اشیائے خورد و نوش پر تجارت آسانی سے جاری ہیں، بارڈر پر آسانی سے ٹریڈ کیا جارہا ہے۔

    ضیاء اللہ لانگو نے مزید کہا کہ غیر ضروری چیک پوسٹوں کا خاتمہ کیا جاچکا ہے۔ گوادر یونیوسٹی کا قیام عمل میں لایا جاچکا ہے۔

    مشیر داخلہ کہتے ہیں کہ پانچ ہزار پولیس اہلکاروں کو بجھوانے کا فیصلہ گوادر کے امن و امان کو برقرار رکھنے کے پیش نظر کیا گیا ہے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت دھرنے کو طاقت کے زریعے ختم کرانے کے حق میں شروع سے نہیں ہے، پولیس کی نفری دھرنے کے شرکاء اور سرکاری املاک کی حفاظت کے لئے بجھوائی گئی ہے تاکہ دھرنے کو ہائی جیک نہ کیا جائے۔

    ان کا مزی کہنا تھا کہ گوادر کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت نے سیکیورٹی بڑھانے کا پلان کیا ہے، تاکہ پُرامن دھرنے کو شرپسند خراب کرنے کی کوشش نہ کریں۔

    مشیر داخلہ نے کہا کہ دھرنے سے متعلق گوادر کے عوام خود فیصلہ کریں، حکومت چاہتی ہے معاملہ ٹیبل پر حل ہو۔ مولانا سے ملاقات کرکے آیا ہوں کہ مطالبات تسیلم کرنے کے بعد دھرنے سے متعلق نظر ثانی کریں۔

  • مسنگ پرسنز: قومی کمیشن برائے لاپتہ افراد نے اب تک 6047 مقدمات نمٹادئیے

    مسنگ پرسنز: قومی کمیشن برائے لاپتہ افراد نے اب تک 6047 مقدمات نمٹادئیے

    اسلام آباد ،لاپتہ افراد کیلئے قائم قومی کمیشن نے نومبر 2021میں مختلف مقدمات نمٹانے سے متعلق پیشرفت رپورٹ جاری کر دی ہے ، رپورٹ کے مطابق کمیشن کو ملک بھر سے مارچ 2011سے 30نومبر 2021تک مبینہ طور پر لاپتہ افراد کے 8279کیسزموصول ہوئے ہیں ، ان کیسز میں سے کمیشن نے 6047کیسز نمٹا دیئے ہیں جن میں نومبر 2021کے دوران نمٹائے گئے 123کیسز بھی شامل ہیں ۔

    چیئرمین کمیشن جسٹس(ر)جاوید اقبال کی صدارت میں لاہور میں سماعتیں کی گئیں جس کے نتیجے میں پنجاب سے متعلق 7کیسز نمٹائے گئے ، کمیشن کے ہیڈ آفس اسلام آباد اور سب آفس کراچی میں معمول کے مطابق سماعتیں کی گئیں۔ کمیشن نے لاپتہ افراد کی باضابطہ جامع فہرست کے علاوہ سینیٹر ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی کی جانب سے صوبہ بلوچستان سے متعلق لاپتہ افراد کی ایک پرانی فہرست جمع کروائی گئی ،

    ذرائع کے مطبق تفصیلی جانچ پڑتال کے بعد یہ معلوم ہوا کہ اکثر کیسز میں لاپتہ افراد سے متعلق معلومات /دستاویزات ناکافی ہیں جو کہ لاپتہ فرد کی تلاش کے لئے بہت ضروری ہیں تاہم کمیشن نے ان مقدمات کے تناظر میں متعلقہ فریقوں سے رپورٹس طلب کر لی ہیں جس میں ان کا نام، والدین، لاپتہ ہونے والے علاقے ،تحصیل سے متعلق معلومات طلب کی گئیں ۔اس تناظر میں ڈپٹی کمشنر ضلع کیچ ، آواران اور پنجگور نے اپنا جواب بھیجا اور بعض لاپتہ افراد کی اپنے گھروں کو واپسی کی تصدیق سے متعلق کمیشن کو سرٹیفکیٹ بھیجے ۔

    ادھر ذرائع کے مطابق 748لاپتہ افراد کے اپنے گھروں کو واپس آنے کی اطلاعات ہیں ۔ بلوچستان کے دیگر اضلاع سے تعلق رکھنے والے لاپتہ افراد کا معاملہ بھی کمیشن نے وزارت داخلہ بلوچستان اور دیگر متعلقہ فریقوں کے ساتھ ا ٹھایا ہے ۔ابتدائی نوٹس کے بعد یہ دیکھا گیا ہے کہ لاپتہ افراد کی تلاش میں تیزی کے لئے کمیشن کے ایک رکن کی ریجنل آفس کوئٹہ میں موجودگی ضروری ہے، اس تناظر میں کوئٹہ میں کمیشن کا ریجنل آفس قائم کر دیا گیا ہے جس نے 15نومبر 2021سے کمیشن کے سینئر ممبر اور ریجنل آفس کے انجارچ جسٹس فضل الرحمن کی سر براہی میں کام شروع کر دیا ہے حالانکہ ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں بھی ان کی خدمات کی اشد ضرورت ہے ۔بیان میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ نومبر 2021کے 15دنوں کے دوران 60سے زائد لاپتہ افراد کو تلاش کیا گیا ہے ۔

    کمیشن کی طرف سے جاری حقائق کے مطابق بلوچستان کے بی ایریا سے تعلق رکھنے والے 808لاپتہ افراد کو تلاش کیا گیا ہے جو کہ اپنے گھر وں میں واپس پہنچ گئے ہیں باقی رہ جانے والے لاپتہ افراد کی تلاش کے لئے کوششیں جاری ہیں ۔ کمیشن کے چیئرمین جسٹس(ر)جاوید اقبال کی انتھک کوششوں اور شاندار قیادت میں 6047کیسز کو نمٹانا ممکن ہوا ہے ۔گھروں کو واپس لوٹنے والے لاپتہ افراد کے اہل خانہ نے چیئرمین کمیشن جسٹس جاوید اقبال کا دلی شکریہ ادا کیا ہے ،

     

     

    اسی طرح لاپتہ افراد کمیشن اقوام متحدہ کے لاپتہ افراد سے متعلق ورکنگ گروپ کے ہر اجلاس کے بعد اس کی رپورٹس پر جواب دیتا ہے ، کمیشن کو وزارت خارجہ کے ذریعے اس ورکنگ گروپ کے 20سے 29ستمبر 2021کو ہونے والے 125ویں اجلاس کی رپورٹ موصول ہو گئی ہے ۔ ورکنگ گروپ کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ لاپتہ افراد قومی کمیشن کی جانب سے بھیجی گئی رپورٹس کی بنیاد پر پاکستان کے خلاف 13کیسز کو فہرست سے خارج کر دیا گیا ہے جبکہ 15لاپتہ افراد جو کہ افغانی ہیں اور 1985سے 1990کے دوران لاپتہ ہوئے تھے یہ کیسز لاپتہ افراد قومی کمیشن ، وزارت داخلہ کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹس اور وزارت خارجہ اور جنیوا میں پاکستان کے مستقل مشن کی کوششوں سے افغانستان کی جانب منتقل کر دیئے گئے ہیں۔

     

  • بلوچستان یونیورسٹی سے چھی خبر آگئی : طلبہ کی بازیابی کیلئے جاری دھرنا ملتوی

    بلوچستان یونیورسٹی سے چھی خبر آگئی : طلبہ کی بازیابی کیلئے جاری دھرنا ملتوی

    کوئٹہ :بلوچستان یونیورسٹی سے چھی خبر آگئی : طلبہ کی بازیابی کیلئے جاری دھرنا ملتوی ،اطلاعات کے مطابق بلوچستان یونیورسٹی کے طلبہ نے لاپتہ دو طالب علموں کی بازیابی کے لیے جاری دھرنا صوبائی حکومت کی یقین دہائی پر 15 دن کے لیے مؤخر کرنے کا اعلان کردیا۔

    احتجاج کرنے والے طلبہ نے بتایا کہ اس دوران یونیورسٹی بدستور بند رہے گی۔

    بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن(بی ایس او) کے رہنما زبیر بلوچ کا کہنا ہے کہ اگر لاپتہ طلبہ کو 15 دنوں میں بازیاب نہیں کروایا گیا تو احتجاج دوبارہ شروع ہوگا۔انہوں نے لاپتہ طلبہ کی بازیابی کی امید ظاہر کی کہ حکومت ان کی رہائی کے لیے کردار ادا کرے گی۔

    بلوچستان کے وزیر مواصلات اور حکومتی مذکراتی کمیٹی کے سربراہ عبدالرحمٰن کھیتران نے کوئٹہ بلوچستان یونیورسٹی کے طلبہ کے ہمراہ پریس کانفرنس میں مذکورہ پیش رفت کی تصدیق کی۔

    انہوں نے یقین دلایا کہ طلبہ کے مطالبات پورے کیے جائیں گے لیکن طلبہ کی بازیابی تک یونیورسٹی بند رہے گی تاہم مطالبات جلد پورے کر کے یونیورسٹی کھول دی جائے گی۔

    انہوں نے کہا کہ بلوچستان یونیورسٹی کے 2 طالب علموں کے لاپتہ ہونے کے بعد کا احتجاج شروع ہوا اورمذاکراتی کمیٹی نے طلبہ تنظیموں سے ملاقاتیں کی اور طلبہ نے بھی بھرپور تعاون کیا۔

    صوبائی وزیر نے کہا کہ بلوچستان کے طلبہ باصلاحیت ہیں، صوبے میں پہلے ہی اتنی پسماندگی ہے، اس لیے ہم چاہتے ہیں کہ تعلیم کے دروازے بند نہ ہوں۔

    پریس کانفرنس کے دوران طلبہ کا کہنا تھا کہ حکومتی یقین دہانی کے بعد 15 روز کے لیے دھرنا مؤخر کر رہے ہیں، اگر 15 روز تک طلبہ بازیاب نہ ہوئے تو دوبارہ دھرنا دیں گے۔

    انہوں نے کہا کہ امید ہے کہ حکومت ہمارے ساتھیوں کی بازیابی میں سنجیدگی سے کردار ادا کرے گی اور اس وقت ہم اپنا احتجاج ختم نہیں بلکہ ملتوی کر رہے ہیں۔

  • سینیٹرسرفراز بگٹی پارٹی عہدے سے مستعفی

    سینیٹرسرفراز بگٹی پارٹی عہدے سے مستعفی

    کوئٹہ:سینیٹر سرفراز بگٹی نے پارٹی کے ڈویژنل آرگنائزر کے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کردیا ہے۔

    بلوچستان عوامی پارٹی کے ڈویژنل آرگنائزر سرفراز بگٹی نے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ استعفی اپنی نجی مصروفیات کی وجہ سے دے رہا ہوں جبکہ پارٹی کو جس بناء پر بنایا گیا تھا وہ مقصد پورا نہیں ہوا۔

    انہوں نے مزید کہا کہ پارٹی کی مجموعی کارکردگی سے بھی مایوس ہوں، چیئرمین سینیٹ کو تبدیل کرنے کا دعویٰ کرنے والے اس بار بھی اپنا شوق پورا کر لیں،وزیراعلی عبدالقدوس بزنجو خوش قسمت ہیں انہیں دوسری بار وزارت اعلیٰ کا منصب ملا جبکہ قدوس بزنجو باصلاحیت ہیں اورامید ہے وہ اچھی کارکردگی دکھائیں گے۔

    یاد رہے کہ پارٹی میں اختلافات کی وجہ سے جام کمال کے خلاف اپنے ہی ساتھیوں‌نے بغاوت کردی اور پھرمیر عبدالقدوس بزنجوکو وزیراعلیٰ کے منصب پربٹھا دیا گیا جس کے بعد سے لیکر اب تک سیاسی حالات ابھی تک خراب ہیں‌

    موجودہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجوکون ہیں ان کا مختصر سا تعارف کچھ یوں ہے

    بلوچستان کے سب سے پسماندہ ضلع آواران سے تعلق رکھنے والے عبدالقدوس بزنجو بلوچستان عوامی پارٹی کے سینئر رہنما ہیں۔ اس سے پہلے وہ مسلم لیگ ق کا حصہ تھے۔ 2002 سے 2008 تک وہ جام کمال کے والد جام یوسف کی کابینہ میں صوبائی وزیر رہے۔ 2013 کے انتخابات میں آواران سے صرف 544 ووٹ لے کر دوسری بار رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے۔

    عبدالقدوس بزنجو2013 سے 2015 تک بلوچستان اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر اور پھر جان محمد جمالی کے استعفے کے بعد 2017 کے آخر تک سپیکر رہے۔ جنوری 2018 میں اپنی ہی اتحادی جماعت ن لیگ کی حکومت گرا کر وزیراعلیٰ بلوچستان بنے اور چھ ماہ تک اس منصب پر فائز رہے۔ اسی دوران بلوچستان عوامی پارٹی(باپ) کے نام سے نئی جماعت کی بنیاد رکھی گئی۔

    کوئٹہ کے سینئر و تجزیہ کار صحافی عرفان سعید کا کہنا ہے کہ عبدالقدوس بزنجو اور جام کمال کے درمیان باپ پارٹی کی تشکیل کے وقت سے ہی اختلافات تھے۔ عبدالقدوس بزنجو پارٹی کی سربراہی اور وزارت اعلیٰ کے امیدوار تھے مگر دونوں عہدے جام کمال خان کو ملے۔ اس کے بعد سے ہی دونوں کے درمیان سیاسی رسہ کشی چلی آرہی ہے

     

  • پاکستان کی خوشحالی اور ترقی بلوچستان سے جڑی ہے،آرمی چیف

    پاکستان کی خوشحالی اور ترقی بلوچستان سے جڑی ہے،آرمی چیف

    پاکستان کی خوشحالی اور ترقی بلوچستان سے جڑی ہے،آرمی چیف

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ ہم اپنی سرحدوں کی حفاظت اور اندرونی سلامتی کو یقینی بنائیں گے، ملک کو درپیش اندرونی و بیرونی چیلنجز سے نمٹنے کلئے جامع قومی ردعمل کی ضرورت ہے۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق آٹھویں قومی ورکشاپ بلوچستان کے شرکاء سے جی ایچ کیو میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ملاقات کی یہ ورکشاپ یکم نومبر سے شروع ہوئی اور 27 نومبر تک جاری رہے گی جبکہ ورکشاپ میں معاشرے کے مختلف شعبوں اور طبقات سے وابستہ لوگوں نے شرکت کی ۔ قومی ورکشاپ میں بلوچستان کے شرکاء سے گفتگو میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ قربانیوں سے حاصل ہونے والے امن کی ہرقیمت پرحفاظت کی جائے گی بلوچستان کے عوام کی سیکیورٹی فورسز کی حمایت سے صوبے میں استحکام اور سماجی واقتصادی ترقی کے منصوبوں پر پیش رفت ہوئی ہے

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کی خوشحالی اور ترقی بلوچستان سے جڑی ہے دشمن قوتوں کے پاکستان کا امن اور استحکام متاثر کرنے کے مذموم عزائم کو ہم آہنگی اور جامع حکمت عملی کے ذریعے ناکام بنادیں گے۔ پاکستان کو درپیش اندرونی اوربیرونی چیلنجزایک جامع قومی ردعمل کا تقاضا کرتے ہیں مغربی زون کے مؤثر انتظام کی وجہ سے پاکستان افغانستان کے اندر بحرانی صورتحال کے درمیان محفوظ رہنے میں کامیاب رہا ،آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ قومی ترقی کیلئے ہم اپنی سرحد اور داخلی سلامتی کو یقینی بناتے رہیں گے قومی ورکشاپ بلوچستان کے شرکاء نے ملاقات اوربات چیت پرآرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا شکریہ ادا کیا

    ٹرین حادثہ معمولی نہیں تھا بلکہ…وفاقی وزیر ریلوے کے تہلکہ خیز انکشافات

    سانحہ گھوٹکی ، دوماہ گزر گئے، زخمیوں کوانشورنس کی رقم نہ مل سکی ،

    پاکستان ریلوے نے بھارت سے پکڑے جانے والے وارٹرافی انجن کا حلیہ ہی بگاڑ دیا

    گھبرانے کی کوئی بات نہیں، فوج تعینات اور موبائل سروس بند کرنے کا شیخ رشید نے کیا اعلان

    پاکستان کے خلاف وار فیئر قائم کرنے کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ،شیخ رشید نے کیا بے نقاب

    شہبازشریف کے خاندان میں وراثت کی لڑائی ہے، دم درود کرائیں، شیخ رشید

    جب تک مساجد مدارس آباد ہیں، پاکستان کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا، شیخ رشید

    ہمیں پتہ گڈ کون اور بیڈ کون،ملک کے دشمنوں سے کونے کونے میں نمٹیں گے ،شیخ رشید