Baaghi TV

Tag: بلوچ

  • سوشل میڈیا پر فوج مخالف پروپیگنڈہ کےخلاف سینیٹ میں قراردادمنظور

    سوشل میڈیا پر فوج مخالف پروپیگنڈہ کےخلاف سینیٹ میں قراردادمنظور

    چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی زیرصدارت سینیٹ اجلاس ہوا.

    چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی نے اجلاس کے آغاز کے موقع پر کہا کہ آپ سب کو پورے پاکستان کو نئے سال کی مبارک باد، اللہ پاک پاکستان کو کامیاں دے، اللہ پاک ملک کو معاشی خوشحالی دے،

    سوشل میڈیا پر فوج مخالف پروپیگنڈہ کےخلاف سینیٹ میں قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی گئی،پیپلز پارٹی کے سینیٹر بہرہ مند تنگی نے قرار داد پیش کی۔قرارداد میں کہا گیا ہے کہ سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر مسلح افواج اور دفاعی ایجنسیوں کےخلاف منفی اور بدنیتی پر مبنی پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے،پاک فوج اور سکیورٹی فورسز کے خلاف منفی اور بدنیتی پر مبنی پروپیگنڈا کرنے والا سخت سزا کا مستحق ہے، پارلیمنٹ کا ایوان بالا فوج اور سکیورٹی فورسز کی دہشت گردی کے خلاف جنگ اور سرحدوں کی حفاظت کے لیے دی گئی قربانیوں کا ادراک کرتا ہے، دشمن ہمسائیوں کے ہوتے ہوئے مضبوط فوج اور سکیورٹی ایجنسی ناگزیر ہے، سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر پاک فوج کے خلاف بدنیتی پر مبنی پروپیگینڈا کیا جا رہا ہے، سینیٹ اس قرارداد کے ذریعے حکومت کو کہتی ہے کہ اس میں ملوث افراد کو سخت سزا دینے کے اقدامات کرے، ملوث افراد کیلئے عوامی عہدے سے 10 سال تک کی نااہل کی سزا ضروری ہے

    جو افواج پاکستان کے خلاف گندی زبان استعمال کرتا ہے ان زبانوں کو کاٹنا چاہئے،سینیٹر بہرامند تنگی
    سینیٹر بہرامند تنگی نے سینیٹ کے اندر افواج پاکستان کے خلاف گندی زبان استعمال کرنے والوں کی زبان کاٹنے کا مطالبہ کردیا۔ ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ جہاں تک مسنگ پرسن کی بات ہے، میں کولیگز کو بتانا چاہتا ہوں کہ بلوچستان میں محب وطن ہیں انکو کسی نے مسنگ نہیں، انہوں نے چیئرمین سینیٹ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ بھی بلوچستان سے ہیں ،آپکے آباؤ اجداد نے بھی سیاست کی، پاکستان کے لئے سیاست کرتے ہیں، ملک کے لئے سیاست کرتے ہیں، آپ کو تو کسی نے لاپتہ نہیں کیا، یہ جو مسنگ پرسن کا مارچ آیا بتا سکتے ہیں کہ مسنگ پرسن کون ہیں،جو افواج پاکستان کے خلاف گندی زبان استعمال کرتا ہے ان زبانوں کو کاٹنا چاہئے،ادارے ہماری،ہمارے بچوں کی حفاظت کرتے ہیں،ملک کی حفاظت کرتے ہیں، آپکی حفاظت کرتے ہیں، آج اس چیپٹر کو کلوز کرنا چاہئے کہ ٹویٹر پر یا کہیں اور کوئی اداروں پر تنقید کرے.

    سینیٹر اکرم نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ بلوچوں کا دھرنا اسلام آباد آیا ہے اسلام آباد میں پولیس کا رویہ غلط تھا ان کو گرفتار کیا گیا ۔مسنگ پرسن کا مسئلہ انسانی المیہ ہے اس سے پورا پاکستان متاثر ہے ان لوگوں کو اٹھایا جاتا ہے یہ مسنگ نہیں ہیں یہ یونیورسٹیوں کے طالب علم ہیں ،بہرمند تنگی نے کہاکہ آپ کو کیوں نہیں اٹھایا جاتا ہے؟محمد اکرم نے کہاکہ کسی کا بھائی کسی کا والد غائب ہے سینیٹ وفاق کی نمائندگی کرتی ہے اس معاملے پر بات ہونی چاہیے ۔پاکستان کے تمام سٹیک ہولڈر ڈائیلاگ کریں ۔یہ پورے بلوچستان کا مسئلہ ہے بلوچستان پاکستان کا مستقبل ہے بلوچستان میں وقتا فوقتا 5آپریشن ہوئے ہیں۔

    ادارے بضد ہیں تو پھر انتخابات میں بھر پور حصہ لیں گے، ہمیں کہا جاتا ہے اپنی خود حفاظت کریں، بتائیں ہم کیسے حفاظت کریں، عبدالغفور حیدری
    سینیٹر عبدالغفور حیدری نے کہاکہ کل مولانافضل الرحمن کے قافلے پر حملہ ہوا مگر مولانا فضل الرحمن قافلے میں نہیں تھے ہم ان حالات میں الیکشن لڑرہے ہیں. آئے روز اس طرح کے واقعات ہورہے ہیں الیکشن کے لیے امن ضروری ہے بلوچستان کے شمالی علاقہ جات جنوری فروری میں سردی کی لپیٹ میں ہیں مولانافضل الرحمن پر تین خودکش حملے ہوئے اور درجنوں کارکن شہید ہوئے ہیں ہم اہنے نظریے اور عقیدے پر قائم ہیں ۔ کوئٹہ میں جلسے سے پہلے وزیر داخلہ آئے کہ حملے کا خطرہ ہے ۔ سیکیورٹی نہیں دے سکتے تو ہاتھ کھڑے کرلیں کہ ملک دہشت گردوں حوالے ہے ۔مجھ پر بھی حملے کا خطرہ ہے مجھے جان کا خطرہ ہے بلٹ پروف گاڑی نہیں دے رہے ہیں میں خود کس طرح بلٹ پروف گاڑی لے سکتا ہوں مولانا فضل الرحمان پر حملے کی مذمت کرتے ہیں، اگر ادارے بضد ہیں تو پھر انتخابات میں بھر پور حصہ لیں گے، ہمیں کہا جاتا ہے اپنی خود حفاظت کریں، بتائیں ہم کیسے حفاظت کریں، عبدالغفور حیدری کا کہنا تھا کہ بالاچ بلوچ اور دھرنے میں بیٹھے لوگوں سے اختلاف کیا جاسکتا ہے مگر ان کے مطالبات ٹھیک ہیں۔ ہمیں اطمینان دلایا جائے کہ جو اٹھا کر غائب کئے گئے ہیں وہ کب رہاہوں گے ان کو عدالت میں پیش کیا جائے ٹرائل کیا جائے ۔

    کاغذات مسترد کرنا تائید کنندہ کو غائب کرنا الیکشن کو رکوانا ہے یہ پھر الیکشن نہیں سلیکشن ہوگا،سینیٹر مشتاق احمد
    سینیٹر مشتاق احمد نے کہاکہ ڈیتھ سکواڈ کو ختم کیا جائے لاپتہ افراد کو رہا کیا جائے بلوچستان سے آئے مظاہرین پر اسلام آباد میں تشدد کیا گیا واٹر کینن استعمال کیا گیا اسلام آباد کی انتظامیہ اور پولس کو شرم آنی چاہیے ۔ چمن میں 3ماہ سے دھرنا ہے 50ہزار لوگوں کو بے روزگار کیا گیا منظور پشتین کو جانے نہیں دیا گیا گرفتار کیا گیا منظور پشتن کو غدار کہا گیا ،بہرمند تنگی نے کہاکہ منظور پشتین غدار ہے ،مشتاق احمد نے کہاکہ مولانافضل الرحمن پر حملے کی مذمت کرتے ہیں سیکیورٹی کی آڑ میں کاغذات مسترد کرنا تائید کنندہ کو غائب کرنا الیکشن کو رکوانا ہے یہ پھر الیکشن نہیں سلیکشن ہوگا ۔

    شفاف الیکشن کرانا نگران حکومت کا کام ہے اگر یہ نہیں کرسکتے تو گھر چلے جائیں،سینیٹر ہمایوں مہمند
    سینیٹر ہمایوں مہمند نے کہاکہ مبارک باد سے ملک ٹھیک نہیں ہوتا ہے ۔تحریک انصاف کے رہنماؤں، ان کے تائید کنندہ کو گرفتار کیا جارہاہے صاف شفاف الیکشن کرانا نگران حکومت کا کام ہے اگر یہ نہیں کرسکتے تو گھر چلے جائیں ۔اس طریقہ سے ملک میں استحکام نہیں آتا ہے ۔نگران حکومت بہت زیادہ ظلم کررہی ہے ان کو ان کا حساب کتاب دینا ہوگا۔ اس طرح کی مداخلت بڑھتی جارہی ہے. ساری سیاسی جماعتوں کو مذمت سے آگے جاکر کچھ کرنا پڑے گا ۔

    محمد طاہر بزنجو نے کہا کہ بلوچستان میں لاپتہ افراد حقیقت ہیں یہ کو ئی قصہ اور کہانی نہیں ہیں اگر اس مسئلے کو حل نہ کیاتو یہ معاملہ قومی اور بین الاقوامی سطح پر مسئلہ بنا رہے گا انصاف دو گے تو بلوچستان میں امن و شانتی آئے گی ورنہ بدامنی اور دھرنے چلتے رہیں گے۔

    غلطیاں کرنی ہیں تو نئی کریں پرانی غلطیاں نہ کریں،الیکشن صاف و شفاف ہونا چاہئے،مشاہد حسین سید
    سینیٹر مشاہد حسین سید نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں 25 ہزار معصوم شہریوں اور بچوں کو شہید کردیا گیا،اسرائیل اس وقت فلسطین پر ظلم و بربریت کے پہاڑ توڑ رہا ہے ،اسرائیلی جارحیت کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، بلوچستان کے مظاہرین اس وقت اسلام آباد میں بیٹھے ہیں،اگر اٹھائے گئے افراد میں سے کوئی شخص قصور وارہے تو اسے سزا دیں ،2018 میں جس طرح الیکشن کے عمل کو سبوتاژ کیا گیا وہ اس بار نہیں ہوناچاہئے،غلطیاں کرنی ہیں تو نئی غلطیاں کریں پرانی غلطیاں نہ کریں،الیکشن صاف و شفاف ہونا چاہئے.

    فوجداری قوانین ترمیمی بل 2023 سینیٹ میں پیش کر دیا گیا،بل متعلقہ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا،سروس ٹربیونلز ترمیمی بل 2023 سینیٹ میں پیش کر دیا گیا،بل سینیٹر شہادت اعوان نے پیش کیا ،بل متعلقہ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا،پاکستان انکوائری کمشنز ترمیمی بل 2023 سینیٹ میں پیش کر دیا گیا،بل متعلقہ کمیٹی کے سپردکر دیا گیا،اسلام کیپیٹل ٹریٹری آبی کناروں کی حفاظت اقدامات بک 2023سینیٹ میں پیش کر دیا گیا،بل متعلقہ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا،ہائیر ایجوکیشن کمیشن ترمیمی بل 2023 سینیٹ میں پیش کر دیا گیا،بل متعلقہ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا

    تمام امیدواران کو الیکشن کا برابر موقع ملنا چاہئے

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

     این اے 15سے نوازشریف کے کاغذات نامزدگی منظور

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    انتخابات سے متعلق سروے کرنے پر ٹی وی چینلز کیخلاف کارروائی کا حکم

    تحریک انصاف کے وکیل شعیب شاہین چیف جسٹس پاکستان کے سامنے پیش

    ٹکٹوں کی تقسیم،ن لیگ مشکل میں،امیدوار آزاد لڑیں گے الیکشن

    الیکشن کمیشن کا فواد حسن فواد کو عہدے پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

  • بلوچ لانگ مارچ،آدھے گھنٹے میں آئی جی اسلام آباد عدالت طلب

    بلوچ لانگ مارچ،آدھے گھنٹے میں آئی جی اسلام آباد عدالت طلب

    اسلام آباد ہائیکورٹ ،بلوچ مسنگ پرسنز کے لئے لانگ مارچ نکالنے والے مظاہرین کی گرفتاری کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے آدھے گھنٹے میں آئی جی اسلام آباد کو طلب کر لیا ، پولیس کی جانب سے جونئیر افسر پیش ہونے پر عدالت نے اظہار برہمی کیا،وکیل درخواست گزار نے عدالت میں کہا کہ ایس ایس پی نے ہمیں کہا ہمیں وزیراعظم کی ہدایت ہے انکو واپس بلوچستان بھیجیں پولیس نے زبردستی تمام خواتین کو بسوں میں سوار کروا دیااس دوران آئی جی اسلام آباد تھانے پہنچے اور انہوں نے بھی کہا کسی طرح انکو یہاں سے بھیجیں، کچھ اسلام آباد میں زیرِ تعلیم طلبہ کو بھی زبردستی بسوں میں بٹھا دیا گیا، بعد ازاں اسلام آباد کی طالبات کو رہا کر دیا گیا، سارا معاملہ دیکھ کر ڈرائیورز نے بسیں چلانے سے انکار کر دیا، اس دوران آئی جی اسلام آباد تھانے پہنچے اور کہا کہ کسی طرح ان کو یہاں سے بھیجیں، اس کے بعد پولیس نے تھانے کے دروازے بند کر دیے، صبح 5 بجے پولیس نے بیان دیا کہ انہیں بحفاظت ان کے مقام پر پہنچا دیا ہے،

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ پولیس کی طرف سے کون پیش ہوا ہے؟پولیس انسپکٹر اسلام آباد ہائی کورٹ کے سامنے پیش ہوئے تو عدالت کی جانب سے پوچھا گیا کہ پھر اب آئی جی کو بلوائیں یا سیکریٹری داخلہ کو بلوائیں؟اسلام آباد ہائی کورٹ نے پولیس کو ہدایت کی کہ تمام لوگ کہاں ہیں؟ عدالت کو آگاہ کیا جائے اور آدھے گھنٹے میں عدالت کو رپورٹ جمع کروائیں، اسلام آباد ہائی کورٹ نے سماعت میں آدھے گھنٹے کا وقفہ کر دیا۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ: بلوچ مظاہرین کی گرفتاریوں اور احتجاج کا حق دینے سے روکنے کے خلاف درخواست پر دوبارہ سماعت ہوئی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نےدرخواست پر سماعت کی،آئی جی اسلام آباد عدالت کے سامنے پیش ہو گئے،درخواست گزار کی جانب سے وکیل عطا اللہ کنڈی ، ایمان مزاری ، زینب جنجوعہ عدالت کے سامنے پیش ہوئے،ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد ایاز شوکت عدالت کے سامنے پیش ہوئے ،آئی جی اسلام آباد نے عدالت میں کہا کہ عدالت کو بتایا گیا کہ ہماری حراست میں کوئی خواتین نہیں ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ صبح بتایا گیا کچھ خواتین کو زبردستی واپس بھیجا جا رہا تھا ، آئی جی اسلام آباد نے کہا کہ جو واپس جانا چاہتے تھے ان کے لئے بس کا ارینج کیا گیا تھا ،آئی ٹین میں یہ خواتین بچے موجود ہیں ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ کیوں بچے آئی ٹین میں ہیں ؟ وہ جہاں بھی جانا چاہیں وہ جا سکتے ہیں ، وہ پرامن احتجاج کرنا چاہیں تو کر سکتے ہیں ،عدالت نے آئی جی اسلام آباد کو ہدایت کی کہ مناسب یہی ہے آپ پٹیشنرز ان کے وکلا کو مطمئن کریں ، جتنے آپ کی حراست میں تھے جتنے آپ نے رہا کئے سب کی رپورٹ دیں ،

    صحافی حامد میر نے عدالت میں کہا کہ کل عدالت کو بتایا گیا کہ تمام خواتین کو رہا کر دیا گیا ، تین وفاقی وزرا، آئی جی نے پریس کانفرنس کی کہ تمام خواتین کو رہا کر دیا گیا ،مجھے بتایا گیا کہ کسی بھی خاتون کو رہا نہیں کیا گیا ، میں بھی ویمن پولیس اسٹیشن چلا گیا ، خواتین بچیوں کو گھسیٹ کر لا رہے تھے میرا موبائل چھین لیا گیا ، وہاں موجود پولیس والوں نے مجھ سے بھی بدتمیزی کی ، پھر ڈرائیور نے کہہ دیا میں بس نہیں چلاؤں گا ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے آئی جی اسلام آباد سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ نہیں ہونا چاہیے تھا یہ طریقہ نہیں ہے ،احتجاج میں یہ ہوتا ہے لیکن ان کے ساتھ اس طرح کرنا مارنا پیٹنا مناسب نہیں، حامد میر سینئر صحافی ہیں ان کے ساتھ ایسا رویہ ، آخر ہم کس زمانے میں رہ رہے ہیں ،

    عدالت نے آئی جی اسلام آباد کو ہدایت کی کہ تحریری طور پر بتائیں کہ کس کس خاتون کو گرفتار کیا گیا ،ویمن پولیس اسٹیشن میں کتنی خواتین تھیں وہ رپورٹ دیں ،

    بلوچ لانگ مارچ،300 افراد گرفتار،مذاکراتی کمیٹی قائم،آئی جی سے رپورٹ طلب

    ایک ماہ میں بلوچ طلباء کی ہراسگی روکنے سے متعلق کمیشن رپورٹ پیش کرے ،عدالت

     دو ہفتوں میں بلوچ طلبا کو ہراساں کرنے سے روکنے کیلئے کئے گئے اقدامات کی رپورٹ طلب

    کسی کی اتنی ہمت کیسے ہوگئی کہ وہ پولیس کی وردیوں میں آکر بندہ اٹھا لے،اسلام آباد ہائیکورٹ

    کیا آپ شہریوں کو لاپتہ کرنے والوں کی سہولت کاری کر رہے ہیں؟ قاضی فائز عیسیٰ برہم

    لوگوں کو لاپتہ کرنے کے لئے وفاقی حکومت کی کوئی پالیسی تھی؟ عدالت کا استفسار

    لاپتہ افراد کیس،وفاق اور وزارت دفاع نے تحریری جواب کے لیے مہلت مانگ لی

    عدالت امید کرتی تھی کہ ان کیسز کے بعد وفاقی حکومت ہِل جائے گی،اسلام آباد ہائیکورٹ

  • بلوچ لانگ مارچ،300 افراد گرفتار،مذاکراتی کمیٹی قائم،آئی جی سے رپورٹ طلب

    بلوچ لانگ مارچ،300 افراد گرفتار،مذاکراتی کمیٹی قائم،آئی جی سے رپورٹ طلب

    بلوچ لانگ مارچ کے حوالے سے اسلام آباد پولیس نے سپشل رپورٹ جاری کر دی

    رپورٹ میں کہا گیا کہ 20 دسمبر 5 بجے معلوم ہوا کہ چیئرپرسن بلوچ یکجہتی کمیٹی ڈاکٹر مہارنگ بلوچ کی قیادت میں کچھ مظاہرین پشاور ٹول پلازہ پر جمع ہیں ،مظاہرین 08 گاڑیوں پر 12 بچوں اور 45 خواتین سمیت تقریباً 250 مظاہرین تھے، ایس ایس پی اور ایس پی صدر نے ان کے ساتھ مذاکرات کیے،مظاہرین کو H-9 سیکٹر میں اپنا احتجاج ریکارڈ کرانے کے لیے جگہ کی پیشکش کی،مظاہرین نے اس پیشکش کو قبول کرنے سے انکار کر دیا،دوسرے آپشن کے طور پر F-9 پارک میں رہنے کی پیشکش بھی کی گئی،مظاہرین زبردستی اسلام آباد کے دائرہ اختیار میں داخل ہوئے،مظاہرین نے 26 نمبر چونگی پر سڑکیں بلاک کرنا شروع کر دیں،اسی دوران تقریباً 250 مظاہرین، جن میں سے کچھ لاٹھیوں سے لیس تھے، نیشنل پریس کلب کے سامنے جمع ہوئے اور دونوں طرف کی سڑکیں بند کر دیں،پولیس نے مظاہرین کو آگاہ کیا کہ ریڈ زون میں احتجاج پر پابندی عائد ہے،

    پریس کلب کے باہر مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ کیا اور الزام پولیس پر عائد کیا،پولیس نے مجموعی طور پر 300 افراد کو گرفتار کیا گیا جن میں 5 خواتین شامل ہیں،مظاہرین نے قانون کو ہاتھ میں اور ریاست اور پولیس کے خلاف نعرے بازی کی،

    جو لوگ بلوچستان سے آئے ان کی طرف سے کوئی شرانگیزی نہیں کی گئی لیکن کچھ مقامی افراد نے صورتحال خراب کرنے کی کوشش کی، فواد حسن فواد
    حکومت کی جانب سے بنائی گئی مذاکراتی کمیٹی نے مذاکرات کے بعد پریس کانفرنس کی ہے، نگران وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی کا کہنا تھا کہ کل مظاہرین اسلام آباد کی حدود میں داخل ہوئے، وزیر اعظم نے مزاکرات کے لیے کمیٹی تشکیل دی، ہم نے مزاکرات کیے بچوں اور عورتوں سے بھی ملے،

    فواد حسن فواد کا کہنا تھا کہ جب مظاہرین اسلام آباد پہنچے تو انتظامیہ نے ان سے رابطہ کیا، پولیس نے مظاہرین کو دو جگہوں کی آفر کی،پریس کلب کے باہر کئی خواتین تئیس دنوں سے بیٹھی ہیں، پریس کلب کے باہر بیٹھی خواتین کو انتظامیہ نے کچھ نہیں کہا،مظاہرین اور پولیس کے درمیان کلیش ہوا، مجبورا پولیس کو مظاہرین کو گرفتار کرنا پڑا،بڑے نقصان سے بچنے کیلئے ریاست کو مجبور کچھ اقدامات کرنے پڑتے ہیں،صرف وہ لوگ تحویل میں ہیں جن کی شناخت نہیں ہوئی،کچھ مقامی افراد نے صورتحال خراب کرنے کی کوشش کی ، چہرہ ڈھانپ کر کچھ لوگوں نے پتھراو کیا جس کے بعد صورتحال خراب ہوئی ، جو لوگ بلوچستان سے آئے تھے ان میں سے کسی نے شرانگیزی نہیں کی ،احتجاج روکنا مقصد نہیں تھا ، احتجاج تو 23دن سے جاری ہے ،جولوگ بلوچستان سے آ رہے تھے ان میں سے کسی نے کوئی تشدد نہیں کیا ،کچھ لوگوں کی شناخت اور تحقیقات کا عمل جاری ہے،وزارتی کمیٹی نے قابل شناخت تمام افراد رہا کردئیے ۔

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد،بلوچ مظاہرین کے لیے سیشن عدالت سے بڑی خبر،بلوچ ہیومن ایکٹویسٹ مہارنگ بلوچ سمیت 33 بلوچ مظاہرین کو عدالت پیش کردیا گیا،جوڈیشل مجسٹریٹ نے تمام 33 بلوچ مظاہرین کو رہا کرنے کا حکم دے دیا،بلوچ مظاہرین کو جوڈیشل مجسٹریٹ شبیر بھٹی کی عدالت میں پیش کیا گیا،پانچ ہزار کے ضمانتی مچلکوں اور ایک لوکل شورٹی کے عوض ضمانت منظور کر لی گئی.

    گرفتار بلوچ خواتین کا کہنا ہے کہ ہم کسی صورت بھی وزیر اعظم کے کہنے پر کوئٹہ واپس نہیں جائینگے،ہم پریس کلب جائیں گے .

    دوسری جانب نیشنل پارٹی کے صدر اور بلوچستان کے سابق وزیراعلٰی ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کا نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ سے ٹیلوفونک رابطہ ہوا ہے، انہوں نے بلوچ لانگ مارچ کے شرکاء کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج میں شریک خواتین اور بچوں پر رات گئے تشدد اور گرفتاری پرتشویش سے آگاہ کیا.

    دوسری جانب بلوچ یکجہتی کمیٹی نے اسلام آباد میں لانگ مارچ کے شرکاء کی گرفتاری کے خلاف کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف اضلاع میں احتجاجی مظاہروں کا اعلان کر دیا،کوہلو اور بارکھان میں سینکڑوں افراد کا احتجاج، بلوچستان پنجاب شاہراہ بند کر دی گئی، کوئٹہ میں بلوچستان یونیورسٹی کے باہر دھرنا شروع ہو گیا،

    دوسری جانب بلوچ لانگ مارچ پر تشدد کیخلاف عدالت نے آئی جی و ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کو طلب کر لیا تھا، بلوچ لاپتہ افراد کے لواحقین کی درخواست پر اسلام آباد ہائیکورٹ کےچیف جسٹس عامر فاروق نےسماعت کے دوران آئی جی و ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کو طلب کر لیا گیا۔پٹیشنرز کی جانب سے ایمان مزاری ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئیں اور کہا کہ پر امن بلوچ مظاہرین کل اسلام آباد پہنچے جن پر لاٹھی چارج اور فورس کا استعمال کیا گیا، پر امن مظاہرین کو حراست میں بھی لیا گیا جو غیر قانونی ہے، مظاہرین میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے،دوبارہ سماعت ہوئی،تو آئی جی اسلام آباد عدالت پیش ہو گئے،سماعت کے دوران چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ پاکستانی شہری ہیں اور احتجاج تو ان کا آئینی حق ہے، کسی نے کوئی دہشت گردی تو نہیں کی،آئی جی اسلام آباد اکبر ناصر خان نے عدالت میں کہا کہ مظاہرین کے پاس ڈنڈے تھے اور انہوں نے پتھر مارے جس سے کچھ لوگ زخمی ہوئے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے آئی جی اسلام آبادسے سوال کیا کہ پٹیشن میں 86 لوگوں کے نام ہیں ان کا کیا اسٹیٹس ہے؟ آئی جی نے عدالت میں کہا کہ لسٹ میں جو نام لکھے گئے ہیں ان کی کوئی تفصیل موجود نہیں، ترنول کی ایف آئی آر میں تمام لوگ رہا ہو چکے ہیں،عدالت نے استفسار کیا کہ لوگوں کو مجسٹریٹ کے سامنے پیش بھی کیا ہے یا نہیں؟ تھانہ کوہسار کی ایف آئی آر کب ہوئی ہے؟ جس کے جواب میں آئی جی اسلام آباد نے کہا کہ مجسٹریٹ کے سامنے ہم نے پیش کر دیا ہے،لاء افسر نے عدالت میں کہا کہ کچھ کو ڈسچارج، کچھ کو جوڈیشل اور کچھ کو شناخت پریڈ کیلئے رکھا ہے،عدالت نے آئی جی کو ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ دیکھیے گا آپ کا کوئی آفیسر کوئی رکاوٹ نہ ڈالے، آئی جی اسلام آباد نے عدالت میں کہا کہ ہمارے ملک کے بچے ہیں ہم خیال رکھیں گے،عدالت نے آئی جی اسلام آباد سے کل تک مزید رپورٹ طلب کرلی اور حکم دیا کہ آئی جی کل تک بتائیں کتنے افراد جوڈیشل ہوئے، کتنے گرفتار ہیں اور کتنے رہا ہوئے؟

    دوسری جانب اسلام آباد پولیس نے بلوچ یکجہتی مارچ کے شرکا کے خلاف کارِ سرکار میں مداخلت، دکانیں اور سڑکیں بلاک کرنے اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دینے کے الزامات کے تحت تھانہ کوہسار اور تھانہ ترنول میں مقدمات درج کر لیے ہیں۔

    بلوچ یکجہتی کمیٹی پر لاٹھی چارج اور گرفتاریوں کیخلاف بی این پی نے گورنر بلوچستان کو فوری اسلام آباد پہنچنے کی ہدایت کردی، گرفتار مظاہرین کی رہائی، انکے مطالبات کے حل کیلئے صدر، نگراں وزیراعظم اور دیگر سے ملاقات کریں گے، مسئلہ حل نہ ہوا تو گورنر استعفے دیں گے-

    علاوہ ازیں نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے بلوچ مظاہرین سے مزاکرات کے لے کمیٹی بنا دی،کمیٹی تین وفاقی وزرا پر مشتمل ہے ۔کمیٹی فواد حسن فواد۔ مرتضیٰ سولنگی اورجمال شاہ شاملِ ہیں۔کمیٹی مظاہرین سے ابھی مزاکرات کے لیے روانہ ہو گئی ہے۔

    ایک ماہ میں بلوچ طلباء کی ہراسگی روکنے سے متعلق کمیشن رپورٹ پیش کرے ،عدالت

     دو ہفتوں میں بلوچ طلبا کو ہراساں کرنے سے روکنے کیلئے کئے گئے اقدامات کی رپورٹ طلب

    کسی کی اتنی ہمت کیسے ہوگئی کہ وہ پولیس کی وردیوں میں آکر بندہ اٹھا لے،اسلام آباد ہائیکورٹ

    کیا آپ شہریوں کو لاپتہ کرنے والوں کی سہولت کاری کر رہے ہیں؟ قاضی فائز عیسیٰ برہم

    لوگوں کو لاپتہ کرنے کے لئے وفاقی حکومت کی کوئی پالیسی تھی؟ عدالت کا استفسار

    لاپتہ افراد کیس،وفاق اور وزارت دفاع نے تحریری جواب کے لیے مہلت مانگ لی

    عدالت امید کرتی تھی کہ ان کیسز کے بعد وفاقی حکومت ہِل جائے گی،اسلام آباد ہائیکورٹ

  • بلوچ یکجہتی کمیٹی دہشتگرد کے حق میں احتجاج کر رہی ، جان اچکزئی

    بلوچ یکجہتی کمیٹی دہشتگرد کے حق میں احتجاج کر رہی ، جان اچکزئی

    بلوچستان کے نگران وزیر اطلاعات جان اچکزئی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی و دیگر تنظیمیں ایک تخریب کار کے حق میں جھوٹی کہانی کے ساتھ احتجاج کر رہے ہیں تا کہ انہیں بے گناہ قرار دیا جائے

    جان اچکزئی کا کہنا تھا کہ افغانستان سے آنیوالے دہشت گرد پاکستان میں دہشتگردی کر رہے ہیں،چند ماہ میں پاکستان اور بھارت میں انتخابات ہونے جا رہے ہیں، آرمی چیف نے اندرونی و بیرونی چیلنجز کا ڈٹ کر مقابلہ کیا، آرمی چیف نے پاکستان میں دشمن قوتوں کے عزائم کو ناکام بنایا، پاکستان انویسٹمنٹ حب بننے جا رہا ہے، تاجر برادری کو مصنوعات کی برآمد میں سہولیات فراہم کی جائیں گی،پاکستان کے کویت کے ساتھ معاشی تعلقات بحال ہوگئے ہیں، بلوچ یکجہتی کمیٹی نے اپنے آپ کو بے نقاب کیا ہے،ہم مل کر نوجوانوں کے مستقبل کو روشن بنائیں گے، ہدہشت گردوں کے ہمدردوں اور سہولت کاروں کو بے نقاب کرنا ضروری ہے

    جان اچکزئی کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت جی سی سی ممالک جس میں‌یو اے ای بھی شامل ہے، انکے ساتھ سائن ہو چکے ہیں، آرمی چیف کا دورہ امریکا بہت اہم ہے، بلوچستان میں بلوچ یکجہتی کمیٹی اور انسانی حقوق کے نام نہاد کارکن کیسے جاگ اٹھے؟ وہ ایک دہشت گرد کے حق میں جھوٹی کہانیوں کے ساتھ احتجاج کر رہے ہیں، جب کالعدم تنظیموں نے شہریوں کو قتل کیا،اغوا کیا تب یہ نام نہاد انسانی حقوق کے کارکن نہ بولے بلکہ ہمیشہ خاموشی اختیار کی،جب تعمیری مقام تبا ہ ہوتے ہیں، سکول اساتذہ قتل ہوتے ہیں تو یہ خاموش ہوتے ہیں؟ غریب کان کن جنہیں کالعدم تنظیم کے لوگ اغوار کرتے ہیں ان پر یہ کیوں نہیں بولتے؟ یہ دہشت گردوں کے ہمدرد ہیں،

    حکومت بچوں کو سگریٹ نوشی سے بچانے کیلئے ٹھوس اقدامات کرے، شارق خان

    تمباکو جیسی مصنوعات صحت کی خرابی اور پیداواری نقصان کا سبب بنتی ہیں

    ” ہیلتھ لیوی کے نفاذ میں تاخیر کیوں” تحریر: افشین

     اگر کھلے مقام پر کوئی سگریٹ پی رہا ہو تو اسکو "گھوریں”

    تمباکو سے پاک پاکستان…اک امید

    تمباکو سے پاک پاکستان، آئیے،سگریٹ نوشی ترک کریں

    تمباکو نشہ نہیں موت کی گولی، بس میں ہوتا تو پابندی لگا دیتا، مرتضیٰ سولنگی

  • بلوچ لبریشن آرمی (عبدالمجید بریگیڈ) کا اہم سرغنہ صدام ساتھی سمیت جہنم واصل

    بلوچ لبریشن آرمی (عبدالمجید بریگیڈ) کا اہم سرغنہ صدام ساتھی سمیت جہنم واصل

    سیکیورٹی فورسز کا بی ایل اے کے دہشتگردوں کیخلاف آپریشن،بلوچ لبریشن آرمی (عبدالمجید بریگیڈ) کا اہم سرغنہ صدام حسین مسلم ساتھی سمیت جہنم واصل ہو گیا

    ہلاک دہشتگرد صدام حسین مسلم، گرو اور جبار جیسے ناموں سے بھی جانا جاتا تھا، آپریشن کے دوران دہشتگرد صدام حسین کا ایک اور ساتھی دہشتگرد مقصود بھی مارا گیا،انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن میں مارا جانے والا بلوچ لبریشن آرمی کا دہشتگرد صدام حسین 2008 میں بلوچ لبریشن فرنٹ کاحصہ بنا،دہشتگرد صدام حسین نے ہلکے اور بھاری ہتھیاروں کے استعمال اور بارودی سرنگیں نصب کرنے کی تربیت بلوچستان کے علاقے مشکے میں قائم بلوچ لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) کے دہشتگرد ٹریننگ کیمپ میں حاصل کی

    2014 میں دہشتگرد صدام حسین بلوچ لبریشن آرمی میں شامل ہو گیا جسے 2017ء میں ضلع کیچ میں خفیہ تربیتی کیمپ کا کمانڈر اور 2021ء میں اسے مقامی کمانڈر بنا دیا گیا،2016ء سے اب تک دہشتگرد صدام حسین جنوبی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں 93 دہشتگردی کی وارداتوں بشمول گرنیڈ حملے، بارودی سرنگوں کے حملے اور ٹارگٹ کلنگ میں ملوث رہا ،ان حملوں میں 131 معصوم لوگوں کی جانیں گئیں جبکہ 177 لوگ زخمی بھی ہوئے،ستمبر 2023 ء میں دہشتگرد صدام حسین ہیڈکوارٹر ایف سی بلوچستان پر بھی حملے میں ملوث رہا

    دہشتگرد صدام بلوچستان کے ضلع کیچ میں ہونے والی دہشتگردانہ کارروائیوں اور ضلع میں نوجوانوں کو دہشتگرد گروپوں میں شامل کرنے کے حوالے سے اہم کردار تھا.دہشتگرد صدام حسین کیخلاف گوادر اور تربت میں متعدد ایف آئی آرز درج ہیں،دہشتگرد صدام حسین بلوچستان کے ضلع کیچ میں متعدد دہشتگرد سیل بھی چلا رہا تھا،دہشتگرد صدام صوبے کے معصوم نوجوان کو نام نہاد آزادی بلوچستان کے ایجنڈے کے تحت ورغلا کر دہشتگردانہ کارروائیوں کا حصہ بناتا تھا،

    بلوچ لبریشن آرمی (عبدالمجید بریگیڈ) کے دہشتگرد صدام حسین کی ہلاکت اس دہشتگرد تنظیم کیلئے بہت بڑا دھچکا ہے،بلوچ لبریشن آرمی اور ان کی آقا بھارتی خفیہ ایجنسی ”را“ بی ایل اے کی نچلے درجے کی بزدلانہ دہشتگردی کی کارروائیوں کو سوشل میڈیا پر پروپیگنڈے کی صورت میں بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں،دہشتگرد صدام حسین کی ہلاکت سے علاقے میں دہشتگردانہ کارروائیوں میں نمایاں کمی آئے گی

  • تربت میں کمرے میں سوئے چھ مزدور قتل

    تربت میں کمرے میں سوئے چھ مزدور قتل

    تربت میں افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے، نامعلوم افراد کی فائرنگ سے چھ مزدوروں کی موت ہو گئی ہے جبکہ دو افراد زخمی ہو گئے ہیں، مرنے والوں کا تعلق پنجاب سے بتایا جا رہا ہے،

    تعمیراتی کمپنی میں کام کرنے والے مزدور اپنے کمرے میں سو رہے تھے، اسی دوران نامعلوم موٹرسائیکل سواروں نے ان پر فائرنگ کی اور فرار ہو گئے، فائرنگ کے نیتجے میں چھ افراد کی موت ہو گئی ہے، اطلاع پر پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی، لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لئے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے،

    پولیس کاکہنا ہے کہ جاں بحق ہونیوالے مزدوروں کاتعلق پنجاب سے ہے،جاں بحق افراد کے نام رضوان، شہباز، وسیم، شفیق احمد، محمد نعیم اور سکندر ہیں جبکہ غلام مصطفیٰ اور توحید زخمی ہیں، مقتولین 6 میں سے 4 افراد ایک ہی خاندان کے تھے، مقتولین میں 2 سگے بھائی، ایک کزن اور ماموں شامل ہیں.

    کسی بلوچ نے پنجابی نہیں بلکہ دہشت گردوں نے پاکستانی شہید کئے ،نگران وزیر داخلہ
    نگران وزیر داخلہ سرفراز احمد بگٹی نے تربت میں چھ مزدوروں کے اندوہناک قتل کی شدید مذمت کی اور کہا کہ کسی بلوچ نے پنجابی نہیں بلکہ دہشت گردوں نے پاکستانی شہید کئے ہیں، لواحقین سے اظہار تعزیت و ہمدردی، شہدا کی بلندی درجات کیلئے دعا کرتا ہوں،

    نگران وزیر اعلی بلوچستان نے تربت میں بے گناہ مزردوں کے قتل کانوٹس لے لیتے ہوئے انتطامیہ سے رپورٹ طلب کرلی نگران وزیر اعلی کاکہنا تھا کہ یہ واقعہ قابل مذمت ہے، بے گناہ مزردوں کے قتل پر دلی دکھ ہوا، واقعہ کی تمام پہلوں سے تحقیقات کرکے فوری رپورٹ پیش کی جائے انہوں نے ہدایت کی کہ واقعہ میں ملوث عناصر کی گرفتاری کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں

    نگران وزیر اطلاعات بلوچستان جان اچکزئی کا کہنا تھا کہ تربت میں بے گناہ پاکستانیوں کے ساتھ افسوسناک واقعہ کی پرزور مذمت کرتے ہیں .ریاست کے اقدامات سے پریشان ہوکر دشمن قوتیں انتشار بد امنی کے مذموم عزائم پر اتر آئی ہیں .پاکستان دشمن قوتیں بلوچستان میں نفرت کی آگ پھیلانے میں ہمیشہ ناکام رہی ہیں .بلوچستان میں بسنے والے بلوچ پشتون یا پنجابی سمیت تمام شہری پاکستانی ہیں اور ان کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے.دہشتگرد قاتلوں کو پیچھا کیا جائے گا خواہ وہ پہاڑوں یا زیر زمین کہیں بھی چھپے ہونگے اور انہیں نشان عبرت بنایا جائے گا .ہمارے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ہمیشہ دشمن کی سرکوبی کی ہے.ہم شہدا کے لواحقین کے غم میں برابر کے شریک ہیں اور انہیں یقین دلاتے ہیں کہ خون ناحق کا بدلہ لیا جائے گا،

    اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے تربت میں مزدوروں پر فائرنگ کی مذمت کی ہے اسپیکر نے فائرنگ سے جان بحق ہونے والے افراد کے درجات کی بلندی اور سوگوار خاندانوں کو اس ناقابل تلافی نقصان کو برداشت کرنے کے لیے صبر جمیل عطاء فرمانے کی دعا کی ہے،

    نیشنل پارٹی نے تربت میں مزدوروں کے قتل کی شدید الفاظ میں مزمت کرتے ہوئے اسے انسانیت دشمن اقدام قرار دیا۔ بیان میں عام اور بے قصور نہتے مزدوروں کو بے دردی سے قتل کرنے کے عمل کوافسوسناک اقدام قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ریاست ایسےگھناؤنے جرائم کے درپردہ حقائق کو بے نقاب کرکےمجرموں کو فوری گرفتار کرکے قرار واقع سزا دینے کے لیئے اقدامات کرے۔ مزدور اور نہتے افراد کے قتل کی جس قدر مزمت کی جائے کم ہے انسانی حقوق اور دیگر انصاف پسند تنظیموں کو انسانیت دشمن اقدامات کے خلاف اپنی آواز بلند کرنا چاہیے تاکہ عام لوگوں کو انصاف مل سکے۔ حکومت زخمی افراد کے علاج کو یقینی بنائے اور متاثرہ خاندانوں کی مدد کریں.

    ایک ہزار سے زائد خواتین، ایک سال میں چار چار بار حاملہ، خبر نے تہلکہ مچا دیا

    ایک برس میں 10 ہزار سے زائد کسانوں نے کس ملک میں خودکشی کی؟

    فرار ہونیوالے ملزمان میں سے کتنے ابھی تک گرفتار نہ ہو سکے؟

    طالب علم سے زیادتی کر کے ویڈیو بنانیوالے ملزم گرفتار

    ملازمت کے نام پر لڑکیوں کی بنائی گئیں نازیبا ویڈیوز،ایک اور شرمناک سیکنڈل سامنے آ گیا

    200 سے زائد نازیبا ویڈیو کیس میں اہم پیشرفت

    شادی کے جھانسے میں آ کر تعلق قائم کر لیا، اب بلیک میل کیا جا رہا،سٹیج اداکارہ

    کراچی دھماکہ،باغی ٹی وی بیورو آفس کے شیشے ٹوٹ گئے

    تربت واقعہ، ایس پی معطل، لاشوں کوخصوصی ہیلی کاپٹرکے ذریعے کوئٹہ منتقل کیا جا رہا
    حکومت بلوچستان نے تربت واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ علاقے کے ایس پی کو معطل کر دیا ہے جبکہ واقعہ میں شہید ہونے والے مزدوروں کی لاشوں اور علاقے میں موجود ان کے لواحقین کو وزیر اعلیٰ بلوچستان کے خصوصی ہیلی کاپٹر اور طیارے کے ذریعے کوئٹہ منتقل کیا جاررہا ہے ، سرکاری اعلامیہ میں بتایا گیا ہے کہ نگران وزیر اعلیٰ بلوچستان میر علی مردان خان ڈومکی نے اس واقعہ کا سختی سے نوٹس لیا ہے اور ہفتہ کی علی الصبح سے ہی نگران وزیر اعلیٰ بلوچستان تربت کی ڈویژنل اور ضلعی انتظامیہ سے رابطے میں ہیں نگران وزیر اعلیٰ کی ہدایت پر حکومت بلوچستان کا ہیلی کاپٹر اور طیارہ میتوں ان کے لواحقین اور زخمیوں کو کوئٹہ منتقل کرنے کے لئے تربت پہنچ چکے ہیں جہاں سے انہیں آج صوبائی دارالحکومت کوئٹہ منتقل کیا جائے گا اور کل علی الصبح انہیں ملتان بھیجوایا جائے گا اس ضمن میں حکومت بلوچستان حکومت پنجاب ، کمشنر ملتان ڈویژن عامر خٹک ،ضلعی انتظامیہ ملتان سے رابطے میں ہے زخمی مزدوروں کو بہتر سے بہتر علاج معالجے کی سہولیات فراہم کی جائیں گی اور جاں بحق مزدوروں کی میتوں کو سرکاری سطح پر وزیر اعلیٰ بلوچستان کے خصوصی ہیلی کاپٹر میں منتقل کیا جائے گا جس کے لئے تمام تر انتظامات مکمل کرلئے گئے ہیں حکومت بلوچستان کی جانب سے اس افسوسناک واقعہ کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم جاری کر دیا گیا ہے ہنگامی اقدامات کے تحت تمام تر منتقلی کے امور کو سنجیدگی سے دیکھا جاررہا ہے اور انتظامی سطح پر پوری توجہ سے معاملات کا باریک بینی سے جائزہ لیا جاررہا ہے ، حکومت بلوچستان دکھ کی اس گھڑی میں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہے اور انتظامی سطح پر میتوں کی منتقلی کے بنیادی امور سمیت زخمی مزدوروں کے علاجِ معالجے کے اقدامات میں تمام تر دستیاب وسائل بروئے کار لائے جاررہے ہیں حکومت بلوچستان کے اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ اس واقعہ کے زریعے پاکستان میں بسنے والی برادر اقوام کے مابین نفرتیں پیدا کرنے کی سازش کی گئی ہے جو کسی طور پر کامیاب نہیں ہوگی ، واقعہ میں ملوث عناصر سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا اور واقعہ کے محرکات تک پہنچ کر ملوث عناصر کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا

  • ناراض بلوچ بھائی اسلحے کے بل پر مسئلہ حل کرنا چاہیں گے تو بھول جائیں، ترجمان بلوچستان حکومت

    ناراض بلوچ بھائی اسلحے کے بل پر مسئلہ حل کرنا چاہیں گے تو بھول جائیں، ترجمان بلوچستان حکومت

    کوئٹہ :ترجمان بلوچستان حکومت فرح عظیم شاہ کا کہنا ہے کہ ناراض بلوچ بھائی اسلحے کے زور پر کوئی مسئلہ حل کرنا چاہیں گے تو بھول جائیں۔

    کوئٹہ میں پریس کانفرنس کے دوران ترجمان بلوچستان حکومت کا کہنا تھا کہ ناراض بلوچ بھائی اسلحے کے زور پر کوئی مسئلہ حل کرنا چاہیں گے تو بھول جائیں، افغانستان کی مثال آپ کے سامنے ہے، بات چیت کے ذریعے ہی ہر مسئلے کا حل نکالا جاسکتا ہے۔

    فرح عظیم شاہ کا کہنا تھا کہ ہم یہاں تک کہ وزیر اعلیٰ ، وزیراعظم اور صدر مملکت بھی اپنے عہدوں پر فائز ہیں تو صرف اور صرف عوام کی ترقی اور تحفظ کے لئے ہیں، زیارت میں کرنل لئیق اور ان کے کزن کو بے دردی سے قتل کیا گیا، اس کے بعد کچھ لوگوں کا دھرنا شروع ہوا، ان کا کہنا تھا کہ وہاں آپریشن کی آڑ میں جبری لاپتہ افراد کو قتل کیا گیا ہے۔

    ترجمان بلوچستان حکومت نے کہا کہ مبینہ لاپتہ شخص ظہیر انجینیئر کتنے سال بعد واپس آتا ہے اور وہ بتاتا ہے کہ وہ ایران کی جیل میں قید تھا اور یہاں ماما قدیر جیسے لوگ ریاست اور اس کے ان اداروں پر الزام تراشی کررہے ہیں، جن کی وجہ سے ہم رات سکون کی نیند سوتے ہیں۔

    فرح عظیم شاہ کا کہنا تھا کہ انجنیئر ظہیر تو واپس آگئے، بہت بے دردی سے کرنل لئیق اور ان کے کزن کو قتل کیا جاتا ہے، واقعے کے بعد سیکیورٹی ادارے علاقے کو گھیرے میں لیتے ہیں، اس میں ایک اہلکار شہید بھی ہوگیا، ہم لاپتہ افراد کی تو بات کرتے ہیں لیکن ہم ان شہدا کی بات کب کریں گے؟ ، کیا ان کے گھر والے یا ماں باپ نہیں۔

    ترجمان بلوچستان حکومت نے کہا کہ چند لوگ بیرونی سازشوں کا آلہ کار بنے ہوئے ہیں، یہ ہمارے اپنے لوگ ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ وہ ان سازشوں کو سمجھیں، سازشوں کا آلہ کار بننے سے ان کی اپنی سرزمین کا نقصان ہورہا ہے۔

  • کچھ ناراض بلوچ ملک کے دشمن بنے ہوئے: ضیاء لانگو

    کچھ ناراض بلوچ ملک کے دشمن بنے ہوئے: ضیاء لانگو

    کوئٹہ : کچھ ناراض بلوچ ملک کے دشمن بنے ہوئے:اطلاعات کے مطابق ضیاء لانگو نے کہا ہے کہ ناراض بلوچوں سے مزکرات کی ہے کچھ ایسے لوگ ہے جو ملک کے دشمن بنے ہوئے۔

    صوبائی مشیر داخلہ میر ضیاء لانگو نے بلوچستان اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کل جو مسجد نبوی میں واقعہ پیش آیا اس کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہے، سعودی حکومت سے مطالبہ کرتے ہے کے پاکستان کے شہریوں کو تحفظ دے جب وہ وہاں آتے ہے۔

    ضیاء لانگو نے کہا کہ ناراض بلوچوں سے مزکرات کی ہے کچھ ایسے لوگ ہے جو ملک کے دشمن بنے ہوئے، حکومت کی جانب سے ان سے مزکرات کرنے کے لئے کمیٹی بھی بنائی گئی تھی۔

    انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس وقت دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے، جس خاتون نے دھماکہ کیا تھا اس کو ہم دہشت گرد سمجھتے ہے۔

    صوبائی مشیر داخلہ ضیاء لانگو کا مزید کہنا تھا کہ دہشت گرد عناصر کی جانب سے خواتین کو برائن واش کرنا افسوس کی بات ہے، اس طرح کے واقعات کے شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہے۔

    یاد رہے کہ دو دن قبل کراچی یونیورسٹی میں اساتذہ کو لے جانے والی گاڑی کے قریب مبینہ خود کش دھماکے میں تین چینی اساتذہ سمیت چار افراد ہلاک اور چار زخمی ہو گئے ہیں۔

    پولیس کے مطابق دھماکہ اس وقت ہوا جب ایک گاڑی اساتذہ کو لے کر کراچی یونیورسٹی کے کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ آ رہی تھی۔ کراچی پولیس کے سربراہ غلام نبی میمن نے دھماکے میں چار افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی تھی ۔

    کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ کراچی یونیورسٹی میں چین کے شہر چنگڈو میں قائم سیچوان نارمل یونیورسٹی کےا شتراک سے 2013 میں قائم کیا گیا تھا۔ اس انسٹی ٹیوٹ میں چینی زبان کے مختلف کورسز کرائے جاتے ہیں۔عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ دھماکے کے فوری بعد گاڑی میں آگ لگ گئی تھی۔

    مقامی میڈیا کے مطابق اساتذہ کی گاڑی کے قریب سے گزرنے والا ایک موٹر سائیکل سوار بھی دھماکے کی زد میں آیا۔

    کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے دھماکے کی ذمے داری قبول کی ہے۔ تنظیم نے ایک بیان میں کہا ہے کہ خود کش دھماکہ تنظیم کی شیری بلوچ نامی خاتون حملہ آور نے کیا ہے۔

    بعد ازاں دھماکے کی سی سی ٹی وی کیمرے کی ایک ویڈیو بھی سامنے آئی جس میں نظر آ رہا ہے کہ اساتذہ کی گاڑی کے قریب دھماکے کے وقت ایک خاتون موجود ہیں۔ البتہ ابھی پولیس نے اس کی تصدیق نہیں کی۔

    کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ کے قریب دھماکے کے مقام کا دورہ کرنے کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو میں کراچی پولیس کے سربراہ غلام نبی میمن نے بتایا کہ کراچی یونیورسٹی کے اساتذہ کی گاڑی کے قریب دھماکہ ہوا ہے۔

  • جامعہ کراچی: خودکش حملہ آور خاتون کون تھی؟ اہم انکشافات سامنے آگئے

    جامعہ کراچی: خودکش حملہ آور خاتون کون تھی؟ اہم انکشافات سامنے آگئے

    کراچی :جامعہ کراچی: خودکش حملہ آور خاتون کون تھی؟ اہم انکشافات سامنے آگئے، اطلاعات میں اس حوالےسے جامعہ کراچی میں خودکش دھماکا کرنے والی خاتون کی تفصیلات سامنے آگئیں۔

    تفتیشی حکام کے مطابق خاتون کی شناخت شیری بلوچ کے نام سےکرلی گئی ہے جو دوسرے صوبے سے زولوجی میں ایم ایس کرچکی ہے۔

    تفتیشی ذرائع کا کہنا ہے کہ حملہ آور زولوجی ڈیپارٹمنٹ سے ایم فل کر رہی تھی خاتون حملہ آور کا شوہر بھی ڈاکٹر ہے خاتون حملہ آور 6 ماہ سےکراچی میں رہائش پذیرتھی۔

    دوسری جانب جامعہ کراچی خودکش بم دھماکےسےمتعلق رپورٹ پولیس چیف کوارسال کر دی گئی ہے۔ خودکش دھماکےسےمتعلق رپورٹ ڈی آئی جی ایسٹ کی جانب سےبھیجی گئی۔

    رپورٹ کے مطابق وین کو دوپہر01:55 پر انسٹیٹیوٹ جامعہ کراچی میں نشانہ بنایا گیا دھماکےمیں 3چینی شہری اورپاکستانی ڈرائیورخالدنوازجان سےگئے جب کہ ایک غیرملکی، 2رینجرز اہلکاروں سمیت5 افراد زخمی بھی ہوئے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عینی شاہدین اور تکنیکی شواہد سے واقعہ خودکش دھماکامعلوم ہوتاہے۔

    ادھر انچارج سی ٹی ڈی راجہ عمر خطاب کا کہنا ہے کہ جامعہ کراچی کی وین میں ہونے والا دھماکا خودکش تھا جو ایک خاتون نے کیا۔

    انچارج سی ٹی ڈی راجہ عمر خطاب کا کہنا ہے کہ جامعہ کراچی میں دھماکا دیکی کے بعد کیا گیا، بارودی مواد لوکل نہیں لگ رہا، اسکول بیگ کی طرح کوئی ڈیوائس بنائی گئی تھی جسے خودکش بمبار نے اپنی بیک پر لگایا ہوا تھا۔

    کراچی پولیس کے سربراہ ایڈیشنل آئی جی غلام نبی میمن کا کہنا ہے کہ دھماکے میں 5 افراد جاں بحق اور چار افراد زخمی ہوئے ہیں۔

    غلام نبی میمن نے کہا کہ دھماکے میں زخمی ہونے والے افراد کو فوری طور پر طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔ انہوں ںے بتایا کہ زخمیوں میں ایک غیر ملکی اور ایک رینجرز اہلکار شامل ہے۔

    بی ڈی ایس حکام کا کہنا ہے کہ دھماکے میں تین سے چار کلو بارودی مواد استعمال کیا گیا، بھاری مقدار میں اسٹیل بال بیرنگ کا استعمال کیا گیا۔

    بی ڈی ایس حکام کے مطابق ایک میٹر کے فاصلے سے خودکش حملہ کیا گیا، جسم کے اور برقع کے ٹکڑے حاصل کرلیے گئے ہیں۔

    واضح رہے کہ جامعہ کراچی میں کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ کے قریب وین میں دھماکے سے تین چینی باشندوں سمیت پانچ افراد ہلاک ہوئے، ہلاک ہونے والوں میں 2 چینی اساتذہ شامل ہیں

  • محب وطن بلوچ کی ہلالی پرچم سے وفا … عبدالحمید صادق

    محب وطن بلوچ کی ہلالی پرچم سے وفا … عبدالحمید صادق

    جب محبت اپنے عروج کو پہنچتی ہے تو پھر اس کی راہ میں بڑی سے بڑی رکاوٹ بھی زیر ہو جایا کرتی ہے….. ایسا ہی کچھ معاملہ بلوچوں کے دلوں کی دھڑکن، محب وطن بلوچ رہنما جناب سراج رئیسانی شہید کا تھا، وہ وطن کی محبت میں مارے مارے پھرتے تھے، ان کا جینا مرنا پاکستان کے لیے تھا.
    اپنے ہر پروگرام اور سفر میں سبز ہلالی پرچم کو اپنے ساتھ رکھتے تھے….. یوں محسوس ہوتا تھا کہ جیسے اس پرچم کے بغیر ان کی زندگی نامکمل ہے…… اور واقعتاً یہ بات حقیقت ثابت ہوئی.
    انہوں نے پاکستان کی محبت میں ڈیڑھ کلو میٹر لمبا جھنڈا بنوایا اور ان کی یہ خواہش تھی کہ یہ جھنڈا بلوچستان کے بلند و بالا پہاڑوں پر اس انداز سے لہرایا جائے کہ دور سے آنے والے لوگوں نظر آئے اور وطن دشمنوں کو للکارے.
    بلوچستان کہ جہاں اس قدر وطن دشمن تنظیمیں موجود ہوں، وہاں پاکستان کا جھنڈا اتنی دلیری سے لہرانا کوئی عام بات نہیں کیونکہ ایک وقت تھا کہ وہاں پاکستان کا نام لینے والوں کو گولی مار دی جاتی تھی.
    افسوس کہ انڈین فنڈڈ بی ایل اے نے سراج رئیسانی کو شہید کر دیا لیکن یہ جھنڈا اس کے بعد ان کے بہادر بیٹے جمال رئیسانی نے اس پہاڑی پر لگا کر اپنے والد کی خواہش پورا کر دیا ایسا بہادر بلوچوں اور افواج پاکستان کی قربانیوں کی وجہ سے آج دشمن کی اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری تباہ ہو گئی۔
    وہ بلوچستان کہ جہاں لوگ عدالتوں میں کھڑے ہو کر پاکستان مخالف نعرے لگاتے تھے آج وہی نادانی میں بھٹک جانے والے بلوچ جوق در جوق ریاست پاکستان کو تسلیم کر کے پہاڑوں سے اتر کر ، ہتھیار پھینک کر پاکستان کا جھنڈا لہرا رہے ہیں۔
    ان کے بیٹے جمال کا کہنا ہے کہ بابا کی یہ خواہش تھی کہ وطن کی محبت میں جان قربان کر جاؤں اور وہی ہوا کہ بابا جان کو پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگانے اور سبز ہلالی پرچم لہرانے کی پاداش میں شہید کیا گیا اور ہمیں اس بات پر فخر ہے.
    آج وہی بلوچستان ہے کہ جس میں دشمن کی مسلسل سازشوں کی وجہ سے پاکستان کا نام لینا بھی مشکل تھا آج وہاں محب وطن بلوچوں اور افواج پاکستان کی کوششوں اور قربانیوں کی وجہ سے ہر شخص وطن پر جاں نچھاور کرنے کو تیار ہے.
    اللہ تعالٰی دشمن کی سازشوں کو ناکام کرے اور جناب رئیسانی کی اس عظیم قربانی کو قبول فرمائے. آمین
    ہم تو مٹ جائیں گے اے ارض وطن لیکن
    تم کو زندہ رہنا ہے قیامت کی سحر ہونے تک