Baaghi TV

Tag: بھارتی فوج

  • ہیلی کاپٹرحادثے پر اٹھائے گئے سوال،ایم آئی 17 کے سابق پائلٹ کا بھی اہم انکشاف

    ہیلی کاپٹرحادثے پر اٹھائے گئے سوال،ایم آئی 17 کے سابق پائلٹ کا بھی اہم انکشاف

    ہیلی کاپٹرحادثے پر اٹھائے گئے سوال،ایم آئی 17 کے سابق پائلٹ کا بھی اہم انکشاف

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارتی چیف آف ڈیفنس سٹاف جنرل بپن راوت اور انکی اہلیہ سمیت 13 افراد کی گزشتہ روز تامل ناڈو میں ہیلی کاپٹر حادثے میں موت ہوئی ہے، کل جمعہ کو حادثے میں ہلاک سب افراد کی آخری رسومات دہلی میں ہوں گی ،ڈیڈ باڈیز دہلی پہنچیں گی تو بھارتی وزیراعظم مودی لاشوں کو وصول کریں گے، آخری رسومات کی تقریب میں مودی بھی شریک ہوں گے،ہیلی کاپٹر حادثہ کیسے ہوا؟ بھارت کی وی وی آئی پی شخصیت ،بھارت کی افواج کا سربراہ کا ہیلی کیسے حادثے کا شکار ہو گیا ‘اس حوالہ سے بھارت میں بھی چہ میگوئیاں جاری ہیں، واقعہ کی تحقیقات کا حکم دیا جا چکا ہے اور ہیلی کا بلیک باکس بھی تحقیقاتی ٹیم کو مل چکا ہے تا ہم تحقیقات کے بعد سب کچھ سامنے آئے گا البتہ کچھ خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے

    ہیلی حادثے کو لے کر چار سوالات اٹھائے جا رہے ہیں جنکے جواب کی تلاش ہے تا ہم ابھی تک حکومت کی جانب سے صرف تحقیقاتی کمیٹی کے قیام کا اعلان کیا گیا ہے، کمیٹی نے اپنا کام شروع کردیا ہے ،ماہرین کا کہنا ہے کہ موسم کی خرابی ہیلی کے حادثے کی وجہ سے ہو سکتی ہے، بھارتی میڈیا پر ایک ویڈیو چلائی جا رہی ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ہیلی کاپٹر دھند سے نکلتا دکھائی دیتا ہے اور پھر دھند میں ہی داخل ہو جاتا ہے، موسم کی خرابی کی وجہ سے کئی فضائی حادثات ہو چکے ہیں، ایم آئی 17 کے سابق پائلٹ امیتابھ رنجن کا کہنا تھا کہ اکثر حادثات موسم کی خرابی کی وجہ سے ہوتے ہیں اور پہاڑی علاقوں میں ایسا ہوتا ہی ہے، جہاں حادثہ پیش آیا وہاں صبح کے وقت موسم صحیح نہیں تھا

    ہیلی حادثہ کی دوسری وجہ ہیلی کاپٹر میں تکنیکی خرابی بھی ہو سکتی ہے، لیکن تکینیکی خرابی کے حوالہ سے سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر تکنیکی خرابی تھی تو اس کو اڑانے سے پہلے چیک کیوں نہیں کیا گیا؟ کیا جنرل بپن راوت کو جان بوجھ کر مارنے کی سازش کی گئی کہ اسے خراب ہیلی میں سفر کروا دیا گیا؟ ،ایم آئی 17 کو محفوظ ترین ہیلی تصور کیا جاتا ہے، بھارتی وزیراعظم مودی بھی اس ہیلی میں سفر کرتے ہیں اور یہ دو انجن والا ہیلی ہے تا کہ اگر ایک خراب ہو تو دوسرے سے لینڈنگ کی جا سکے

    ہیلی حادثہ بارے تیسرا سوال یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ ہیلی اپنے مقام سے دس کلو میٹر دور رہ گیا تھا کیا پائلٹ نے اونچائی کم کر دی تھی ؟ جس کی وجہ سے ہیلی حادثہ ہوا، تحقیقات میں اس بات کو دیکھا جائے کہ ہیلی کا جہاں حادثہ ہوا وہاں کتنی اونچائی پر پرواز پر تھا، اگر نچلی پرواز تھی تو پاور لائن سے ٹکر تونہیں لگ گئی، حادثے بارے چوتھا سوال یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ واقعہ میں کہیں پائلٹ کی کوئی غلطی تو نہیں؟ انسانی غلطی بھی ہو سکتی ہے، ہو سکتا ہے پائلٹ کچھ بھول گیا ، تا ہم ان سوالوں کے جوابات تحقیقات کے بعد ہی ملیں گے،

    دوسری جانب ہیلی حادثہ کے ایک عینی شاہد نے خبر رساں ادارے کو بتایا جب ہیلی گرا تو میں نے تین افراد کو دیکھا جن میں سے ایک زندہ تھا، زندہ فرد نے ہم سے پانی مانگا، وہ زخمی تھا، ہم نے پانی پلایا، بعد ازاں فوجی پہنچ گئے اور ہمیں وہاں سے ہٹا دیا گیا، بعد میں ہمیں پتہ چلا کہ جس شخص کو میں نے پانی پلایا وہ بھارتی چیف آف ڈیفنس سٹاف جنرل بپن راوت تھے

    بھارتی چیف آف ڈیفنس سٹاف جنرل بپن راوت اور ان کی اہلیہ کا جسد خادی دہلی چھاونی میں لایا جائے گا اور جمعہ کو آخری رسومات ادا کی جائیں گی جسد خاکی ایک فوجی طیارے کے ذریعے دہلی پہنچایا جائے گا ، ہیلی کاپٹر کا فلائٹ ریکارڈ بلیک باکس تلاش کر لیا گیا ہے، بلیک باکس کے ملنے سے تحقیقات میں آسانی ہو گی، بلیک باکس کو ڈھونڈنے کے لئے تحقیقاتی ٹیم نے علاقے میں سرچ آپریشن کیا، ٹیم کو جائے حادثہ سے تقریبا 300 میٹر سے ایک کلومیٹر کے علاقے کے درمیان سرچ آپریشن کرتے ہوئے بلیک باکس ملا،ونگ کمانڈر آر بھاردواج کی قیادت میں بھارتی فضائیہ کے افسران کی 25 رکنی خصوصی ٹیم نے بلیک باکس برآمد کیا،

    بھارتی ریاست تامل ناڈو میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہو گیا ہے ،بھارتی افواج کے سربراہ بپن راوت ہیلی کاپٹر حادثے میں ہلاک ہو گئے ہیں، بہن راوت کی اہلیہ بھی ہلاک ہو گئی ہیں، جنرل بپن راوت پہلے بھارتی چیف آف ڈیفنس اسٹاف تھے، حادثہ پر وزیر دفاع راجناتھ سنگھ سمیت تمام لیڈروں نے بھی اظہار افسوس کیا ہے ،بھارتی فضائیہ نے اس بات کی تصدیق کر دی ہے

    دوسری جانب چیف آف ڈیفنس اسٹاف کے ہیلی حادثے اور ممکنہ موت پر بھارت کے اندر فوجی حلقوں میں جشن کا سماں ہے، وہ ہندوستانی فوج کے اندر ایک نفرت انگیز آدمی تھا جس نے آر ایس ایس اور مودی کے لیے اپنی طاقت کا استعمال کرتے ہوئے یہ نئی ترقی حاصل کی تھی بپن راوت کی سربراہی میں بھارت کو رافیل طیاروں میں کرپشن کا سامنا رہا بپن راوت کی سربراہی میں بھارت کو پلوامہ اور دوکلم میں ہزیمت اور اندرونی خلفشار کا سامنا رہا ہے

    بھارتی افواج کے سربراہ بپن راوت اپنی بیوی اور افسران کے ہمراہ محفوظ ترین ہیلی میں سوار تھے جس کے دو انجن ہیں، ایک انجن میں خرابی آنے کے بعد دوسرے انجن کے ساتھ محفوظ لینڈنگ کروائی جا سکتی ہے ، وی وی آئی پی شخصیات کے لئے اس ہیلی کاپٹر کا استعمال ہوتا ہے،

    واضح رہے کہ بھارتی فوج کے سربراہ جنرل بپن راوت اپنی مدت ملازمت پوری کرنے کے بعد 31 دسمبر 2019 کو ریٹائر ہوئے جنہیں مودی سرکار نے بھارت کا پہلا چیف آف ڈیفنس اسٹاف مقرر کیا تھا جنرل بپن لکشمن سنگھ راوت ہندوستانی فوج کے فور اسٹار جنرل تھے وہ بھارت کے علاقے اتراکھنڈ میں پیدا ہوئے، انڈین ملٹری اکیڈمی سے انہوں نے تعلیم حاصل کی، انکے والد بھی فوجی تھے، بھارتی حکومت نے فوج کے حوالہ سے قوانین میں ترمیم کر کے بپن روات کو عہدہ دیا تھا ،اس ضمن میں عمر کی حد بڑھا کر 62 سے 65 برس کی گئی تھی اور آرمی چیف کے عہدے سے ریٹائر ہونے کے بعد انہیں چیف آف ڈیفنس اسٹاف بنایا گیا تھا ،بپن راوت کے والد بھی لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے سے سبکدوش ہوئے تھے راوت نے 1978 میں فوج کی 11ویں گورکھا رائفلز کی 5ویں بٹالین میں کمیشن کے ساتھ اپنے فوجی کیریئر کا آغاز کیا تھا جنرل راوت مسلسل کامیابی کی سیڑھی چڑھتے رہے اور مختلف اہم ذمہ داریاں نبھاتے رہے، انہیں یکم ستمبر 2016 کو ڈپٹی چیف آف آرمی اسٹاف بنایا گیا تھا

    انڈیا کر رہا ہے پاکستان کے خلاف نئی سازش، بپن روات جھوٹ بولنے سے باز نہ آئے

    بادلوں کی وجہ سے طیارے راڈار میں نہیں آتے، بھارتی آرمی چیف کی مودی کے بیان کی تصد

    بھارتی ائیر فورس نے مقبوضہ کشمیر کے سرینگر ائیر بیس کے سینئر ترین ائر آفیسر کمانڈر کا تبادلہ کر دیا

    اپنا ہیلی کاپٹر گرانے والے بھارتی آفیسر کے ساتھ بھارت نے کیا سلوک کیا؟

    پاکستان کو دھمکیاں دینے والے بھارت کا ہیلی کاپٹر کیسے تباہ ہوا؟ جان کر ہوں حیران

    بریکنگ.بھارتی فضائیہ کا جنگی طیارہ تباہ، کیپٹن ہلاک

    بھارتی فضائیہ کا جنگی طیارہ تباہ،پائلٹ ہلاک، رواں برس کتنے طیارے تباہ ہو چکے؟

    وہی ہوا جس کا تھا انتظار،مودی کی مکاری،ڈرون کا الزام پاکستان پر عائد

    ہیلی کاپٹر حادثہ، بلیک باکس برآمد، تحقیقات کا آغاز

  • بھارتی چیف آف ڈیفنس سٹاف بپن راوت کوواقعی فوج کےاندرسے ٹارگٹ کیاگیا:ثبوت ملنے لگے

    بھارتی چیف آف ڈیفنس سٹاف بپن راوت کوواقعی فوج کےاندرسے ٹارگٹ کیاگیا:ثبوت ملنے لگے

    نئی دلی: بھارتی چیف آف ڈیفنس سٹاف بپن راوت کوواقعی فوج کےاندرسے ٹارگٹ کیاگیا:ثبوت ملنے لگے،اطلاعات کے مطابق کل بھارتی چیف آف ڈیفنس جنرل بین راوت ایک ہیلی کاپٹرحادثے میں ہلاک ہوگئے ہیں اور ان کے ساتھ ان کی اہلیہ اور دیگر13 افراد بھی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں‌ ،

    ادھر پہلے تو بھارتی میڈیا اور دیگرنظررکھنے والوں نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ بھارتی چیف آف ڈیفنس جنرل بین راوت فوج میں‌ انتہائی متنازعہ جنرل تے اور ان کے رویے سے کئی اعلیٰ جنرل بہت زیادہ پریشان تھے اور فوج کے اندر ہلاک ہونے والے جنرل کے خلاف سخت نفرت پائی جاتی تھی اور یہ بھی خدشہ ظاہر کیا تھا کہ بھارتی جرنیلوں نے ہی چیف آف ڈیفنس جنرل بین راوت کو مروا دیا ہے،

    سوشل میڈیا پر ہر گزرتے لمحہ کے ساتھ آوزیں بلند ہورہی ہیں کہ بھارتی ریاست تامل ناڈو میں آج ایک پراسرار ہیلی کاپٹر حادثے میں بھارتی چیف آف ڈیفنس سٹاف بپن راوت کی ہلاکت بھارتی فوج میں موجود اختلافات کا شاخسانہ ہوسکتا ہے ۔

    کشمیر میڈیاسروس کے مطابق بھارتی فوج کے سابق ڈی جی ایم او ریٹائرڈلیفٹیننٹ جنرل شنکر پرسادنے جو ایک دفاعی تجزیہ کار بھی ہیں، اپنے بلاگ میں بپن راوت کی ہلاکت پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھاہے کہ آج بھارت کے ایک دو ر اندیش اور صاحب بصیرت فوجی کمانڈر کی ہیلی کاپٹر حادثے میں موت نے بہت سے سوالات کو جنم دیاہے ۔

    انہوں نے کہاکہ بھارتی فضائیہ کا ہیلی کاپٹرMi-17V5ایک انتہائی قابل اعتماد ہیلی کاپٹر ہے جوطویل عرصے سے بھارت میں زیر استعمال ہے ۔ انہوں نے کہاکہ اس کی جدید ٹیکنالوجی اور بہترین حفاظتی ریکارڈ اسے انتہائی اہم شخصیات کے سفر کیلئے انتہائی موزوں بناتا ہے ۔ مزید برآں ایسے ہیلی کاپٹر کو چلانے کے لیے صرف انتہائی تجربہ کار پائلٹ اور ٹیکنیشنز کی خدمات حاصل کی جاتی ہیںاور اس ہیلی کاپٹر میں تکنیکی خرابیوںکا خدشہ نہ ہونے کے برابر ہے ۔

    انہوں نے موسمی صورتحال کو حادثے کا باعث بننے کے خدشہ کو خارج از امکان قرار دیتے ہوئے کہاکہ ہمارے ہنر مند پائلٹ ہر طرح کے موسمی حالات میں کام کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں اورMi-17V5 جدید ایویونکس سے لیس ہے ۔ انہوں نے کہاکہ کسی بھی وی وی آئی پی موومنٹ کی اجازت موسم کی صورتحال ، آپریشنل کلیئرنس، ایئر ڈیفنس کلیئرنس، سیکیورٹی کلیئرنس اور فلائٹ انفارمیشن کلیئرنس کے بعد ہی دی جاتی ہے ۔ ریٹائرڈلیفٹیننٹ جنرل شنکر پرسادنے سوال اٹھایا تو کیا یہ پائلٹ کی غلطی تھی، تکنیکی خرابی یا کوئی اور ؟

    انہوں نے کہاکہ حقیقت یہ ہے کہ جنرل راوت کی طرف سے متعارف کرائی گئی اصلاحات فوج نے بہت سے مسلح فورسز میں بہت سے حلقوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے اور ممکن ہے کہ ہم سب نے جس تباہی کا مشاہدہ کیا ہے اس میں انسانی ہاتھ ہو اوربھارت فوج میں موجود ناراض کالی بھیڑوں کاکیادھرا ہو ؟ایک ٹوئٹر ہینڈلر عادل راجہ نے بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کا بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو لکھا گیا خط شیئر کرتے ہوئے کہا ہے کہ چیف آف ڈیفنس سٹاف کی ناپسندیدہ تقرری کے بعد بھارتی اسٹیبلشمنٹ کے اندر جنگ چھڑ گئی تھی۔

    راج ناتھ سنگھ کے خط کے مطابق وادی گلوان میں چینی فوج کی طرف سے بھارتی فوجیوں کے ساتھ توہین آمیز سلوک آرمی چیف جنرل منوج نروانے اور فوج کے کمانڈر XIVکور لیفٹیننٹ جنرل ہریندر سنگھ کی طرف سے صورتحال کا غلط اندازہ لگانے کا نتیجہ تھا۔ راجناتھ سنگھ نے مزید کہا کہ اس سے نہ صرف ہندوستانی افسروں اور فوجیوں کو نقصان اٹھانا پڑا بلکہ بھارت کو بھی شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا ۔

     

    خط میں انکشاف کیا گیا ہے کہ جنرل بپن راوت نے اس معاملے میں اور ماضی میں بھی ان کی کارکردگی کی وجہ سے دونوں افسروں کو ان کے عہدوں سے ہٹانے کی سفارش کی تھی۔بھارتی فوج کے سابق ڈی جی ایم او لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈشنکر پرساد نے بھی جنرل بپن راوت کے ایک حالیہ بیان کا حوالہ دیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ بھارتی فضائیہ ایک معاون فورس ہے نہ کہ خودجنگ لڑنے والی فورس ۔بھارتی فضائیہ کے سربراہ نے کھلے عام انہیں تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاتھا کہ فضائیہ خود طاقت کا ایک سرچشمہ ہے۔اس عوامی تصادم نے تھیٹر کمانڈز کے تصور پر تینوں مسلح افواج کے درمیان گہرے اختلافات کو بے نقاب کیا۔

    بھارتی فضائیہ اور بحریہ کو ہمیشہ یہ خوف رہتا ہے کہ انہیں ماتحت فورس تک محدودکردیاجائے گا اور اس نظام کے ذریعے انہیںفوج کی کمان کے تحت لایا جائے گا۔انہوں نے مزید لکھاکہ اس ماڈل کے سب سے بڑے حامی جنرل بپن راوت تھے جنہیں دیگر مسلح افواج کی مخالفت کے باوجود ہندوستان کا پہلا چیف آف ڈیفنس سٹاف بنایا گیا تھا۔ صرف 2 ہفتے قبل راوت نے فضائیہ اور بحریہ کو تھیٹر کمانڈز کے تحت آنے کیلئے حتمی ڈیڈ لائن دی تھی۔

  • بھارتی فوج کے ہیلی کاپٹر حادثے میں بچ جانے والے واحد زخمی شخص سے تفتیش کا فیصلہ

    بھارتی فوج کے ہیلی کاپٹر حادثے میں بچ جانے والے واحد زخمی شخص سے تفتیش کا فیصلہ

    نئی دہلی :بھارتی فوج کے ہیلی کاپٹر حادثے میں بچ جانے والے واحد زخمی شخص سے تفتیش کا فیصلہ ،اطلاعات کے مطابق بھارت کی مسلح افواج کے چیف آف ڈیفنس اسٹاف (سی ڈی ایس) جنرل بپن راوت کی ہیلی کاپٹر حادثے میں ہلاکت کی تصدیق ہوگئی ہے۔

    بھارتی فضائیہ کی جانب سے جاری بیان میں تصدیق کی گئی ہے کہ چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل بپن راوت کا ملٹری ہیلی کاپٹر نئی دہلی سے ریاست تامل ناڈو کے علاقے سولور جارہا تھا کہ تامل ناڈو کی ہی حدود میں کونور کے قریب گر کر تباہ ہوگیا۔

    دوسری طرف بھارتی فوج نے اس بات کی تصدیق کردی ہےکہ ہیلی کاپٹر حادثے میں بھارتی چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل بپن راوت ہلاک ہوگئے

    حادثے کے وقت ہیلی کاپٹر میں چیف آف ڈیفنس اسٹاف، ان کی اہلیہ مدھولکا راوت اور عملے کے افراد سوار تھے۔

    بھارتی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ جنرل بپن راوت اور ان کی اہلیہ سمیت 13 افراد حادثے میں ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ صرف ایک شخص کو زخمی حالت میں ریسکیو کیا گیا ہے۔

    بھارتی فضائیہ کے مطابق زخمی ملنے والے شخص کی شناخت بھارتی فضائیہ کے گروپ کیپٹن ورون سنگھ کے نام سے ہوئی ہے جو ڈیفنس سروسز اسٹاف کالج (DSSC) کے ڈائریکٹنگ اسٹاف تھے۔

    بھارتی فضائیہ کے مطابق ورون سنگھ کا علاج ملٹری اسپتال ویلنگٹن میں جاری ہے۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق گروپ کیپٹن ورون سنگھ رواں برس 15 اگست کو 2020 میں ایک فضائی ہنگامی صورتحال کے دوران تیجاس جنگی طیارے کو بچانے پر سوریا چکرا ایوارڈ سے نوازا گیا تھا۔

  • ہیلی کاپٹر حادثہ، بلیک باکس برآمد، تحقیقات کا آغاز

    ہیلی کاپٹر حادثہ، بلیک باکس برآمد، تحقیقات کا آغاز

    ہیلی کاپٹر حادثہ، بلیک باکس برآمد، تحقیقات کا آغاز
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے لوک سبھا میں ہیلی کاپٹر کریش پر بریفنگ دی ہے راجناتھ سنگھ نے کہا کہ جنرل بپن راوت سمیت تمام لاشیں نئی دہلی لائی جائیں گیہیلی کاپٹر کے حادثے کی سہ فریقی تحقیقات کا حکم دیا ہے، تحقیقاتی ٹیم کی قیادت ایئر مارشل مانویندر سنگھ کریں گے،انکوائری ٹیم نے گزشتہ روز خود ہی ویلنگٹن پہنچ کر تحقیقات کا آغاز کیا ہیلی کاپٹر حادثے کی تینوں سروسز کو تحقیقات کا حکم دیا ہے جنرل بپن راوت کی آخری رسومات کل ادا کی جائیں گی، لوک سبھا میں افسوس کے لئے ایک منٹ کی خاموشی بھی اختیار کی گئی

    بھارتی چیف آف ڈیفنس سٹاف جنرل بپن راوت اور ان کی اہلیہ کا جسد خادی دہلی چھاونی میں لایا جائے گا اور جمعہ کو آخری رسومات ادا کی جائیں گی جسد خاکی ایک فوجی طیارے کے ذریعے دہلی پہنچایا جائے گا ، ہیلی کاپٹر کا فلائٹ ریکارڈ بلیک باکس تلاش کر لیا گیا ہے، بلیک باکس کے ملنے سے تحقیقات میں آسانی ہو گی، بلیک باکس کو ڈھونڈنے کے لئے تحقیقاتی ٹیم نے علاقے میں سرچ آپریشن کیا، ٹیم کو جائے حادثہ سے تقریبا 300 میٹر سے ایک کلومیٹر کے علاقے کے درمیان سرچ آپریشن کرتے ہوئے بلیک باکس ملا،ونگ کمانڈر آر بھاردواج کی قیادت میں بھارتی فضائیہ کے افسران کی 25 رکنی خصوصی ٹیم نے بلیک باکس برآمد کیا،

    قبل ازیں پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سمیت پاکستان کے عسکری حکام نے بھارتی چیف آف ڈیفنس سٹاف کی موت پر اظہار افسوس کیا ہے ،ڈی جی آئی ایس پی آر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل ندیم رضا نے تامل ناڈو میں بھارتی فوجی ہیلی کاپٹر حادثے میں جنرل بپن راوت اور ان کی اہلیہ کی ہلاکت پر اظہار افسوس کیا ہے

    بھارتی ریاست تامل ناڈو میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہو گیا ہے ،بھارتی افواج کے سربراہ بپن راوت ہیلی کاپٹر حادثے میں ہلاک ہو گئے ہیں، بہن راوت کی اہلیہ بھی ہلاک ہو گئی ہیں، جنرل بپن راوت پہلے بھارتی چیف آف ڈیفنس اسٹاف تھے، حادثہ پر وزیر دفاع راجناتھ سنگھ سمیت تمام لیڈروں نے بھی اظہار افسوس کیا ہے ،بھارتی فضائیہ نے اس بات کی تصدیق کر دی ہے دوسری جانب وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ سی ڈی ایس بپن راوت کی رہائش گاہ دہلی میں پہنچ گئے ہیں، بھارتی آرمی چیف بھی بپن راوت کے گھر پہنچ چکے ہیں،

    بپن راوت کو زخمی ہسپتال میں ہسپتال منتقل کیا گیا تھا انکو آئی سی یو میں رکھا گیا، بھارتی فوج کے ڈاکٹروں نے انہیں بچانے کی کوشش کی تا ہم انکی موت ہو گئی ،ہندوستانی فوج کے لیفٹیننٹ جنرل ایچ ایس پناگ (ر) نے بھی بھارتی چیف آف ڈیفنس بپن راوت کی موت کی تصدیق کی ہے، سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے انہوں نے موت کی تصدیق کی، انکی ٹویٹ پر صارفین نے تبصرے بھی کئے ہیں

    ہیلی کاپٹرحادثے میں 14 افراد ہلاک ہو گئے ہیں،ہلاک افراد کی شناخت ڈی این اے ٹیسٹ سے کی جائے گی، بھارتی چیف آف ڈیفنس اسٹاف بپن راوت بھی ہیلی کاپٹر میں سوار تھے ،بپن راوت کی بیوی بھی ہیلی کاپٹر میں سوار تھیں ، ہیلی کاپٹر جہاں تباہ ہوا امدادی ٹیمیں پہنچ گئی تھیں اور ریسکیو آپریشن شروع کر دیا تھا بھارتی میڈیا کے مطابق جنرل بپن راوت کا عملہ اور گھر کے کچھ افراد بھی سوار تھے، رپورٹ کے مطابق تباہ ہونے والے ہیلی کاپٹر میں بھارتی چیف آف ڈیفنس بپن راوت ، انکی اہلیہ، دفاعی معاون، سیکورٹی کمانڈوز اور بھارتی فضائیہ کے پائلٹ سمیت 14 افراد سوار تھے

    مقامی لوگوں نے 80 فیصد جھلسنے والی چار لاشیں مقامی اسپتال منتقل کیں بعد ازاں دیگر لاشین منتقل کی گئیں ،13 افراد کی موت کی تصدیق ہو گئی ہے تا ہم انکی شناخت ابھی تک سامنے نہیں لائی گئی، بھارتی ریاست تامل ناڈو میں حادثے کے شکار ہیلی کاپٹر میں جنرل بپن راوت کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔ مگر ابھی اس کے اعلان سے گریز کیا جارہا ہے۔ بھارتی میڈیا بھی حکومت کے سرکاری بیان کا انتظار کررہا ہے۔اب تک 14 سوار میں سے 11 کی ہلاکت کا اعلان کیا جاچکا ہے، مگر ان کے نام نہیں بتائے جارہے۔حادثے کی جو ویڈیو سامنے آئی اس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ہیلی کو آگ لگی ہوئی ہے، حادثے کی تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے ،اطلاعات کے مطابق بھارتی چیف آف ڈیفنس بپن راوت ایک لیکچر سیریز میں حصہ لینے کے لئے جا رہے تھے کہ انکا ہیلی ایم آئی 17 حادثے کا شکار ہو گیا،مقامی فوجی افسران جائے وقوعہ پر پہنچ گئے

    بھارتی چیف آف ڈیفنس بپن راوت کا ہیلی کاپٹر تباہ ہونے پر بھارتی وزیراعظم مودی نے ہنگامی اجلاس طلب کیا تھا، اجلاس میں بھارتی وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے بھارتی وزیراعظم کو ہیلی حادثہ بارے بریفنگ دی، بھارتی وزیر دفاع اعلیٰ حکام کے ہمراہ جائے وقوعہ کا بھی دورہ کریں گے جہاں ہیلی تباہ ہوا ہے ،بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے وزیر اعظم نریندر مودی کو اس نا خوشگوار واقعے کے بارے میں آگاہ کیا ہے۔ بھارتی وزیر دفاع جلد ہی سی ڈی ایس کے ہیلی کاپٹر حادثے پر پارلیمنٹ کو بریفنگ دیں گے۔

    دوسری جانب میڈیا رپورٹس کے مطابق ذرائع بتا رہے ہیں کہ اس بات کے ناقابل تردید ثبوت ہیں کہ بھارتی چیف آف ڈیفنس بپن راوت کے ہیلی کاپٹر کو تامل باغیوں نے نشانہ بنایا ہے، یہ بات صحیح بھی ہوئی تو بھارتی فوج اسکو کبھی تسلیم نہیں کرے گی ،حادثہ کے حوالہ سے بھارتی وزیر دفاع راجناتھ سنگھ پارلیمنٹ میں بیان دیں گے، ذرائع کے مطابق بالاکوٹ حملے کی ناکامی کے بعد بھارتی حکومت بپن راوت سے خوش نہیں تھی جس میں پاکستان کی جانب سے 2 بھارتی جیٹ طیارے اور ایک ہیلی کاپٹر مار گرایا گیا تھا۔

    دوسری جانب چیف آف ڈیفنس اسٹاف کے ہیلی حادثے اور ممکنہ موت پر بھارت کے اندر فوجی حلقوں میں جشن کا سماں ہے، وہ ہندوستانی فوج کے اندر ایک نفرت انگیز آدمی تھا جس نے آر ایس ایس اور مودی کے لیے اپنی طاقت کا استعمال کرتے ہوئے یہ نئی ترقی حاصل کی تھی بپن راوت کی سربراہی میں بھارت کو رافیل طیاروں میں کرپشن کا سامنا رہا بپن راوت کی سربراہی میں بھارت کو پلوامہ اور دوکلم میں ہزیمت اور اندرونی خلفشار کا سامنا رہا ہے

    بھارتی افواج کے سربراہ بپن راوت اپنی بیوی اور افسران کے ہمراہ محفوظ ترین ہیلی میں سوار تھے جس کے دو انجن ہیں، ایک انجن میں خرابی آنے کے بعد دوسرے انجن کے ساتھ محفوظ لینڈنگ کروائی جا سکتی ہے ، وی وی آئی پی شخصیات کے لئے اس ہیلی کاپٹر کا استعمال ہوتا ہے،

    واضح رہے کہ بھارتی فوج کے سربراہ جنرل بپن راوت اپنی مدت ملازمت پوری کرنے کے بعد 31 دسمبر 2019 کو ریٹائر ہوئے جنہیں مودی سرکار نے بھارت کا پہلا چیف آف ڈیفنس اسٹاف مقرر کیا تھا جنرل بپن لکشمن سنگھ راوت ہندوستانی فوج کے فور اسٹار جنرل تھے وہ بھارت کے علاقے اتراکھنڈ میں پیدا ہوئے، انڈین ملٹری اکیڈمی سے انہوں نے تعلیم حاصل کی، انکے والد بھی فوجی تھے، بھارتی حکومت نے فوج کے حوالہ سے قوانین میں ترمیم کر کے بپن روات کو عہدہ دیا تھا ،اس ضمن میں عمر کی حد بڑھا کر 62 سے 65 برس کی گئی تھی اور آرمی چیف کے عہدے سے ریٹائر ہونے کے بعد انہیں چیف آف ڈیفنس اسٹاف بنایا گیا تھا ،بپن راوت کے والد بھی لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے سے سبکدوش ہوئے تھے راوت نے 1978 میں فوج کی 11ویں گورکھا رائفلز کی 5ویں بٹالین میں کمیشن کے ساتھ اپنے فوجی کیریئر کا آغاز کیا تھا جنرل راوت مسلسل کامیابی کی سیڑھی چڑھتے رہے اور مختلف اہم ذمہ داریاں نبھاتے رہے، انہیں یکم ستمبر 2016 کو ڈپٹی چیف آف آرمی اسٹاف بنایا گیا تھا

    انڈیا کر رہا ہے پاکستان کے خلاف نئی سازش، بپن روات جھوٹ بولنے سے باز نہ آئے

    بادلوں کی وجہ سے طیارے راڈار میں نہیں آتے، بھارتی آرمی چیف کی مودی کے بیان کی تصد

    بھارتی ائیر فورس نے مقبوضہ کشمیر کے سرینگر ائیر بیس کے سینئر ترین ائر آفیسر کمانڈر کا تبادلہ کر دیا

    اپنا ہیلی کاپٹر گرانے والے بھارتی آفیسر کے ساتھ بھارت نے کیا سلوک کیا؟

    پاکستان کو دھمکیاں دینے والے بھارت کا ہیلی کاپٹر کیسے تباہ ہوا؟ جان کر ہوں حیران

    بریکنگ.بھارتی فضائیہ کا جنگی طیارہ تباہ، کیپٹن ہلاک

    بھارتی فضائیہ کا جنگی طیارہ تباہ،پائلٹ ہلاک، رواں برس کتنے طیارے تباہ ہو چکے؟

    وہی ہوا جس کا تھا انتظار،مودی کی مکاری،ڈرون کا الزام پاکستان پر عائد

  • ناگالینڈ، بھارتی فوجی اہلکاروں پر مقدمہ درج،شہریوں کا بھارتی فوجی کیمپ پر حملہ

    ناگالینڈ، بھارتی فوجی اہلکاروں پر مقدمہ درج،شہریوں کا بھارتی فوجی کیمپ پر حملہ

    ناگالینڈ، بھارتی فوجی اہلکاروں پر مقدمہ درج،شہریوں کا بھارتی فوجی کیمپ پر حملہ

    ناگالینڈ واقعے پر بھارتی فوجی اہلکاروں کے خلاف اقدام قتل کا مقدمہ درج کر لیا گیا

    بھارتی فوج کے 21 پیرا اسپیشل فورسز کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا،بھارتی فوج کی خصوصی یونٹ نےکارروائی پر پولیس کو مطلع کیا اور نہ ہی رہنمائی لی،ایف آئی آر میں کہا گیاکہ بھارتی سیکیورٹی فورسز کا ارادہ شہریوں کو قتل اور زخمی کرنا تھا

    اس حوالہ سے بھارتی وزیرداخلہ امت شاہ پارلیمنٹ میں بیان بھی دیں گےلوک سبھا میں سہ پہر3بجےاورراجیہ سبھا میں 4بجے امت شاہ ناگا لینڈ واقعہ بارے پارلیمنٹ میں بریفنگ دیں گے بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی فوج کی فائرنگ سے مرنیوالوں کا تعلق کونیاک قبیلے سے تھے،ماہ دسمبر ناگا سمیت تمام قبائل کے لئے تہوار کا مہینہ ہے،

    ناگا لینڈ میں بھارتی فوج نے 13 کان کنوں کو فائرنگ کرکے ہلاک کر دیا، بدلے میں گاؤں والوں نے بھارتی فوج کی گاڑیوں اور کیمپوں کو آگ لگا دی،بھارتی میڈیا کے مطابق ناگا لینڈ میں کان کن ایک ٹرک پر سوار ہو کر اپنے مطالبات کے لئے احتجاج کرنے جا رہے تھے اس دوران بھارتی فوج نے انہیں گولیاں مار کر ہلاک کر دیا، بھارتی فوج کی جانب سے کہا گیا کہ ٹرک کو رکنے کا اشارہ کیا گیا لیکن ٹرک نہ رکا اسکے بعد فائرنگ کی گئی واقعہ کے بعد ناگالینڈ کے ضلع مون میں حالات مزید کشیدہ ہوگئے اور جگہ جگہ نفری تعینات کردی گئی اور علاقے میں تاحال کرفیو کا سماں ہے اتوار کی شام کو مون ضلع میں ایک ہزار سے زیادہ شہری سڑکوں پر نکل آئے اور علاقے میں آسام رائفلز کے 27 کیمپ میں توڑ پھوڑ کی بھارتی فوج کی چند املاک کو نذر آتش کر دیا

    دوسری جانب ناگالینڈ کی ایک تنظیم نے آج چھ دسمبر کو ضلع بھر میں ہڑتال کا اعلان کیا، اور کہا کہ آج سب کچھ بند رہے گا،بھارتی فوج نے ہمارے لوگوں کو مارا، 13 لوگوں کی موت کے بعد تہوار میں شرکت نہیں ہو گی

    اواقعہ کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے بھارت کے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا ہے کہ اس پورے معاملے کی تحقیقات خصوصی تحقیقاتی ٹیم کرے گی کوہیما میں پی آر او (دفاع) سمیت کمار شرما نے جاری ایک بیان میں کہا کہ بدقسمتی سے جانی نقصان کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات کی جا رہی ہیں اور قانونی طور پر مناسب کارروائی کی جائے گی

    راہ چلتی طالبات کو ہراساں اور آوازیں کسنے والا اوباش گرفتار

  • کشمیری صحافیوں کے خلاف خطرناک سازشیں عروج پر:  بھارتی فوج اورپولیس صحافیوں کومار رہی ہے:اقوام متحدہ

    کشمیری صحافیوں کے خلاف خطرناک سازشیں عروج پر: بھارتی فوج اورپولیس صحافیوں کومار رہی ہے:اقوام متحدہ

    جنیوا:کشمیری صحافیوں کے خلاف خطرناک سازشیں جاری،بھارتی فوج اورپولیس آوازکودبا اور صحافیوں کومار رہی ہے :اطلاعات کے مطابق انسانی حقوق کے بارے میں اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ میری لالر Mary Lawlorنے کشمیری صحافیوں کو ڈرانے دھمکانے کی متعدد کارروائیوں کے بارے میں بھارت کیساتھ اپنی مراسلت عام کر دی ہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق یہ مراسلت بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے 2 صحافیوں قاضی شبلی اور آکاش حسن اور بھارتی ریاست بہار سے تعلق رکھنے والے صحافی اور انسانی حقوق کے کارکن چندر بھوشن تیواری کو ہراساں کرنے کے بارے میں تھی۔میری لالر نے یہ مراسلہ رواں برس یکم اکتوبر کو بھارتی حکومت کو بھیجا تھا۔

    مراسلے میں کشمیری صحافی قاضی شبلی کے گھر پر چھاپوں پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ قاضی شبلی ضلع اسلام آباد میں ایک نیوز ویب سائٹ کشمیریت کے ایڈیٹر ہیں۔ رواں برس6 اگست کو پولیس نے قاضی شبلی کے گھر کی تلاشی لی جب کہ وہ وہاں نہیں تھے۔ پولس زبردستی تالہ توڑ کر شبلی کے گھر میں داخل ہوئی اور کھڑکیوں کے شیشوں، ایک حفاظتی کیمرہ اور دیگر کئی اشیاءکی توڑپھوڑ کی۔

    میری لالر نے اپنے مراسلے میں کہاکہ چھ اگست کو ہی پولیس نے شبلی کے ایک رشتہ دار اور دادی کے گھروں کی بھی تلاشی لی۔ تلاشی کی ان کارروائیوں سے چند گھنٹے قبل” کشمیریت “نے 2017 کا ایک مضمون سوشل میڈیا پر دوبارہ پوسٹ کیا تھا،جس میں ایک کشمیری نوجوان کے بارے میں بتایا گیا تھا جسے بھارتی فورسز نے قتل کر دیا تھا۔ مراسلے میں مقبوضہ جموںوکشمیر کے ایک فری لائنسس صحافی آکاش حسن کا بھی ذکر کیا گیا جو مقبوضہ علاقے میں بڑھتی ہوئی بھارتی فوجی موجودگی اور وہاں کے شہریوں پر فوجیوں کی کڑی نگرانی کے بارے میں حالیہ برسوں کے دوران رپورٹنگ کرتے رہے ہیں۔ رواں برس17 جولائی کوجب وہ رات 9 بجے کے قریب گھر جا رہے تھے تو ضلع پولیس نے اسلام آباد میں انکی گاڑی روک دی اور ایک پولیس افسر نے انہیں مبینہ طور پرگریبان سے پکڑا اور انکے چہرے اور جسم پر ڈنڈے برسائے۔مراسلے میں کہا گیا کہ حسن نے بعد ازاں حملے کی تفصیلات اور اپنے زخمی ہونے کی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کیں۔ واقعہ کے کچھ دیر بعد ضلع اسلام آباد کی پولیس کے ایک سپرنٹنڈنٹ نے حسن سے رابطہ کیا اور انہیں بتایا کہ واقعہ کی تحقیقات کی جائیں گی۔ تاہم آکاش حسن کو ابھی تک کسی بھی تحقیقات کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ملی ہے ۔

    مراسلے میں کہا گیا کہ یہ چھاپے جموں وکشمیر میں صحافیوں کو ہراساں کیے جانے کی ایک واضح مثال ہیں۔مراسلے میں بھارتی ریاست بہار کے صحافی چندر بھوشن تیواری کا بھی ذکر کیا گیا جو مبینہ پولیس بدعنوانی کو بے نقاب کر تے رہے ہیں۔چندر بھوشن تیواری ریاست بہار کے کیمور ضلع میں روزنامہ ہندی اخبار گیان شیکھا ٹائمز کے لیے کام کرتے ہیں۔ وہ اخبار کے لیے وسیع تر مسائل بشمول انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے رپورٹنگ کرتے ہیں۔ بھارتی پولیس نے انہیں بھی بے رحمی سے مارا پیٹا۔

    اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ نے کہا کہ ہمیں خدشہ ہے کہ شکایات کی تحقیقات اور پیروی کی کمی اس بات کی علامت ہو سکتی ہے کہ بھارتی پولیس فورسز میں بدعنوانی افسروں تک ہی محدود نہیں رہی ہے جن کے بارے میںاطلاعات ہیںکہ وہ رشوت لیتے ہیں۔ ۔انہوں نے کہا کہ ہمیں اس بات پر گہری تشویش ہے کہ صحافیوں کے خلاف بلاجواز حملے بھارت میں انسانی حقوق کے مسائل پر اظہار رائے کی آزادی اور مسائل کے بارے میں رپورٹنگ کو روکنے کی کوشش ہو سکتے ہیں ۔

  • بھارتی فوج کی طرف سے کشمیریوں کو معذور بنانے پیلٹ گنز اوروحشیانہ تشدد جاری

    بھارتی فوج کی طرف سے کشمیریوں کو معذور بنانے پیلٹ گنز اوروحشیانہ تشدد جاری

    سرینگر: بھارتی فوج کی طرف سے کشمیریوں کو معذور بنانے پیلٹ گنز اوروحشیانہ تشددکا استعمال کررہا ہے،اطلاعات کے مطابق غیر قانونی طورپر بھار ت کے زیر قبضہ جموںوکشمیر میں بھارتی فوجیوں کے وحشیانہ ہتھکنڈوں کی وجہ سے ہزاروں کشمیری عمر بھر کیلئے معذور ہو چکے ہیں جبکہ مقبوضہ علاقے میں پر امن مظاہرین پرمہلک پیلٹ گنزکی فائرنگ سے 200سے زائد افراد بصارت سے محروم ہو چکے ہیں۔

    کشمیر میڈیا سروس کی طرف سے جاری کی گئی ایک تجزیاتی رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارتی فوجی کشمیریوں کو اپا ہج بنانے کیلئے انتہائی ظالمانہ ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیں جن میں پر امن مظاہروںاور سوگواران پرگولیوں ،پیلٹ گنز ، پا وا اور آنسو گیس کا بے دریغ استعمال شامل ہے۔ اسکے علاوہ وحشیانہ ظلم و تشدد، بجلی کے جھٹکے، ٹانگوں کے پٹھوں کو لکڑی کے رولر سے کچلنا ، گرم چیزوں سے جلانا اور تفتیشی مراکز میں الٹا لٹکانا بھی شامل ہیں جبکہ محکوم کشمیریوں کے خلاف کھلونانما بموں اور بارودی سرنگوں کا بھی استعمال کیا جارہا ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارتی فورسز کی طرف سے نہتے کشمیریوں کے خلاف مہلک پیلٹ گنز کے وحشیانہ استعمال سے مقبوضہ علاقے میں معذور ہونے والے افراد کی تعداد میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے اور اس وقت تین ہزار سے زائد کشمیری اپنی ایک یا دونوں آنکھوں کی بصارت کھونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔ رپورٹ میں عالمی برادری پر زور دیا گیا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں نہتے شہریوں کو ایک منظم طریقے سے معذوربنانے کے بھارتی حکومت کے غیر انسانی اقدام کا فوری نوٹس لے۔

  • بھارتی جیلوں میں قید کشمیری رہنما قاسم فکتو کی جان کولاحق خطرات:ڈاکٹرمجاہد گیلانی پریس کانفرنس کریں گے

    بھارتی جیلوں میں قید کشمیری رہنما قاسم فکتو کی جان کولاحق خطرات:ڈاکٹرمجاہد گیلانی پریس کانفرنس کریں گے

    اسلام آباد :29 سال سے بھارتی جیلوں میں قید کشمیری رہنما قاسم فکتو کی جان کولاحق خطرات:ڈاکٹرمجاہد گیلانی آج اہم پریس کانفرنس کریں گے،اطلاعات کے مطابق آج کا دن اسلام آباد میں کشمیری قیادت کوبھارت کی طرف سے لاحق خطرات سے آگاہی اورعالمی دنیا کو نوٹس لینے کے حوالے سے اہم قراردیا جارہا ہے ،

    ادھر ذرائع کے مطابق آج اسی سلسلے میں ڈاکٹر مجاہد گیلانی آپا آسیہ اندرابی کے بھانجے صدر کشمیر یوتھ الائنس گزشتہ 29 سال سے بھارتی جیلوں میں قید کشمیری رہنما قاسم فکتو کی جان کو لاحق خطرات کے حوالے سے نیشنل پریس کلب آئی ایس بی میں اہم پریس کانفرنس کریں گے۔

    اس حوالے سے معلوم ہوا ہےکہ میڈیا کو پیغام جاری کردیا گیا ہے کہ وہ آج اس اہم پریس کانفرنس کی کوریج کرے اورعالمی برادری تک کشمیریوں کی آواز کو پہنچانے کا سبب بنے اس لیے تمام میڈیا کو آج کی اہم پریس کانفرنس سے متعلق آگاہ کردیا گیا ہے

     

    ڈاکٹر قاسم فکتو
    حریت رہنما ڈاکٹر محمد قاسم فکتو 1967میں پیدا ہوئے، آپ کا حقیقی نام عاشق حسین فکتو تھا، تاہم اپنے قلمی نام قاسم فکتو سے ہی مقبول ہوئے اور جانے جاتے ہیں، آپ ابھی 17برس کے ہی ہوئے تھے کہ آپ نے مقبوضہ جموں کشمیر میں مزاحمتی تحریکوں میں عملی شرکت شروع کردی، آپ نے نوجوانی میں ہی اس حقیقت کو تسلیم کرلیا تھا کہ مقبوضہ جموں کشمیر سے بھارتی فوج کے انخلاء، حق خودارادیت اور آزادی کے بغیر مسلمانان کشمیر یہاں چین سے زندگی بسر نہیں کرسکتے،1987میں ہی آپ مزاحمتی تحریک کے سرگرم کارکن، فریڈم فائٹر اور نوجوان سکالر کے طور پر ابھرے،

    1990میں آپ کا سیدہ آسیہ اندرابی کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئے، آسیہ اندرابی بھی اس وقت خواتین میں اپنے جذبہ حریت کی وجہ سے یکساں مقبول تھیں، بدقسمتی سے سید ہ آسیہ اندرابی کے ساتھ آپ کا ازدواجی سفر محض تین سال تک رہا اس کے بعد روحیں تو ایک رہیں مگر جسم جدا ہوگئے، ڈاکٹر محمد قاسم فکتو کو قابض انتظامیہ کے کالے قانون کے تحت آزادی کیلئے جدوجہد کی پاداش میں فروری1993میں پابند سلاسل کردیا گیا۔ اس دوران آپ کے دو بیٹوں کی ولادت ہوئی جن کے نام محمد اور احمد رکھے گئے۔ آپ سے آزادی کی جستجو، پاکستان سے محبت اور حصول تعلیم کا جذبہ جیل کی سلاخیں بھی نہ چھین سکیں، آپ نے جیل کے اندر سے ہی ڈاکٹریٹ مکمل کی اور جوانی کے ایام سے ہی شعبہ تصنیف کے ساتھ بھی منسلک ہوگئے، آپ نہ صرف مسلمانان کشمیر کے سیاسی رہنما کے طور پر سامنے آئے بلکہ ایک مذہبی سکالر بھی بنے،

    قید کے بعد آپ کو محض 1999میں ایک بار جیل سے ضمانت پر رہائی ملی جو چھ ماہ سے زیادہ عرصہ تک نہ چل سکی اور آپ کے عظیم ارادوں کو دیکھتے ہوئے قابض انتظامیہ نے انہیں پھر پابند سلاسل کردیا، ڈاکٹر محمد قاسم فکتو کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے 29 سال ہونے کو ہیں، اس عرصے کے دوران انہوں نے19کتابیں تصنیف کیں جن میں سے ایک کتاب مقبوضہ جموں کشمیر کی تحریک اور بھارتی سازشوں کو بے نقاب کرتی ہے جسے ”بانگ“ کا عنوان دیا گیا۔ بھارت کے مذموم ہتھکنڈے آپ کے جذبہ آزادی کی آگ کو بجھا نہ سکے تو کٹھ پتلی عدالتوں نے آپ کے مخصوص کیس میں آپ کو ”تاحیات قید“ کی سزا سنادی جس کی نظیر دنیا میں کہیں نہیں ملتی۔دوران قید قابض انتظامیہ اور انسانیت دشمن فورسز کا آپ پر ہرجبر جاری ہے، ہر حربہ آزمایا جارہا ہے۔ حال ہی میں یہ اطلاع سامنے آئی ہے کہ آپ کو جس بلاک میں رکھا گیا ہے وہاں سے دوسرے قیدیوں کو نکال لیا گیا ہے اور آپ کو تنہا کردیا گیا ہے، و

    اضح رہے کہ آپ جیل کے جس بلاک میں قید ہیں وہیں پر شہید اشرف صحرائی قید تھے جنہیں بھارت نے کووڈ کا بہانہ بناکر قتل کردیا۔ اب جیل کے اس بلاک میں ڈاکٹر محمد قاسم فکتو کو بھی تنہا کرنے کے پیچھے بھارت کے مذموم مقاصد یا چال نظر آتی ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی ادارے، انسانی حقوق کی تنظیمیں، دفتر خارجہ پاکستان اور ریاست پاکستان اس حوالے سے بھرپور آواز اٹھائیں، تاکہ اس عظیم حریت رہنما کی زندگی کو بھارتی درندوں سے محفوظ کیا جاسکے۔ انسانی حقوق کے علمبردار 29سال سے جیل کی سلاخوں کے پیچھے زندگی گزارنے والے ایشیا کے سب سے طویل مدت تک رہنے والے قیدی کی رہائی کیلئے عملی اقدامات کریں۔

     

     

  • بھارت دفعہ 370کے خاتمے کے بعد اب کشمیریوں سے انکی زمینیں بھی چھین رہا ہے:عمرعبداللہ

    بھارت دفعہ 370کے خاتمے کے بعد اب کشمیریوں سے انکی زمینیں بھی چھین رہا ہے:عمرعبداللہ

    سری نگر : بھارت دفعہ 370کے خاتمے کے بعد اب کشمیریوں سے انکی زمینیں بھی چھین رہا ہے،اطلاعات کے مطابق بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں‌ بھارتیوں کوکشمیریوں‌ کی زمینیں‌ چھین کردی جارہی ہیں ، اس حوالے سے نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ دفعہ 370کے خاتمے کے بعد اب لوگوں سے انکی زمینیں چھینی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس 370اور 35اے کی دفعات کی بحالی کی لڑائی میں کبھی بھی پیچھے نہیں ہٹے گی ۔

    کشمیر میڈیاسروس کے مطابق عمر عبداللہ نے بھدرواہ میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر یوں سے انکی زمینیں چھیننے کا مقصد کیا ہے ۔ انہوں نے کہا یہ زمینیں تو برسہا برس سے یہاں کے لوگوں کے تصرف میں ہیں تو آج یہ ان سے کیوں چھینی جا رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ جموںوکشمیر کو ہند مسلم سکھ اتحاد ورثے میں ملا ہے جبکہ یہاں کچھ سیاسی جماعتیں ایسی ہیں جو ہمیشہ اسی تاک میں رہتی ہیں کہ کسی طرح لوگوں میں جھگڑے پیدا کیے جائیں تاہم ہمیں ان کی سازشوں کو ناکام بنانا ہے اور اپنے بھائی چارے کو قائم و دائم رکھنا ہے۔

    انہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اب کہا جا رہا ہے کہ جب کشمیر میں حالات مکمل طور پر ٹھیک ہو جائیں گے تب ریاست کا درجہ واپس دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی بتائے کہ گزشتہ اڑھائی برس میں یہاں کون سا امن قائم ہوا جبکہ الٹا امن کے ماحول کو بگاڑ دیا گیا۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ جموں وکشمیر کو یونین ٹیری ٹری میں تبدیل کر کے یہاں کون سی بہتری آئی ہے ، کہاں امن قائم ہوا، کس کو روزگار ملا، کہاں سرمایہ کاری ہوئی ، کس جگہ پر نئی یونیورسٹی یا کالج بنا اور کون سا نیا منصوبہ شروع ہوا۔ انہوںنے کہا کہ بھارتی حکومت کے اس سب جھوٹ اور فریب کا جواب کون دے گا۔

    دیں اثنا انڈین نیشنل کانگریس کی مقبوضہ علاقے کی شاخ کے رہنما غلام نبی آزاد نے جموں خطے کے ضلع راجوری میں پارٹی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ دفعہ 370کی منسوخی کے بعدجموںوکشمیر 30برس پیچھے چلا گیا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ جموں وکشمیر کو خراب اور بہت ہی غریب کر دیا گیا ہے۔ غلام نبی آزاد نے کہا کہ جموںوکشمیر کو بھارت میں ضم کرنے سے پہلے جموں خطے میں تیرہ ہزار کے لگ بھگ صنعتی کارخانے تھے جن میں سے اب ساڑھے سات ہزار کارخانے بند ہو گئے ہیںجبکہ وادی کشمیر میں تما م کارخانے بند پڑے ہیں۔

     

     

  • بھارتی فوج میں‌ خودکُشی میں شدید اضافہ:کیسے کمی لائے جائے؟ کمیٹی قائم

    بھارتی فوج میں‌ خودکُشی میں شدید اضافہ:کیسے کمی لائے جائے؟ کمیٹی قائم

     

    نئی دہلی:بھارتی فوج میں‌ خودکُشی میں شدید اضافہ:کیسے کمی لائے جائے؟ کمیٹی قائم,اطلاعات کے مطابق بھارتی فوج میں خودکشی کا رجحان بہت بڑھ گیا ہے اور ہر روز کسی فوجی جوان اور افسرکی خودکشی کی خبر آرہی ہے ، ادھر اسی حوالے سے بھارت نے فورسز میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے رجحان کو روکنے کے لیے وزارت داخلہ کے سینئر افسروں مشتمل ایک ٹاسک فورس قائم کر لی ہے۔

     

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ٹاسک فورس کی سربراہی بھارتی سی آر پی ایف کے ڈائریکٹر جنرل کلدیپ سنگھ کر رہے ہیں جب کہ بی ایس ایف، آئی ٹی بی پی، سی آئی ایس ایف، ایس ایس بی اور آسام رائفلز کے خصوصی یا ایڈیشنل ڈی جی فورس کے رکن کے طور پر کام کریں گے۔ٹاسک فورس انفرادی سطح پر متعلقہ خطرے کے عوامل اور حفاظتی عوامل کی نشاندہی کرنے کے لیے ایک منصوبہ تیار کرے گی۔

     

     

     

    بھارتی حکومت کی طرف سے اگست تک اپ ڈیٹ کیے گئے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ گزشتہ چھ برسوں میں بھارتی سینٹرل آرمڈ پولیس فورسز (سی اے پی ایف) یا مرکزی نیم فوجی دستوں کے 680 اہلکاروں نے خودکشی کی۔وزارت داخلہ کی طرف سے ٹاسک فورس سے کہا گیا ہے کہ وہ خطرے والے عوامل کی نشاندہی کرے جیسے فورسز اہلکار کی طرف سے ماضی میں خودکشی کی کوشش، شخصیت کی خاصیت کے طور پر جذباتیت، ذہنی بیماری، شراب یا منشیات کا استعمال، جارحانہ رجحانات، شدید جذباتی بحران، شدید جسمانی بیماری یا دائمی جسمانی بیماری۔

     

     

    بھارتی وزارت داخلہ کے ایک سینئر افسر نے کہا کہ ٹاسک فورس فورسز میں خودکشیوں کے مسئلے کو جامع طریقے سے حل کرنے کی کوشش کر ے گی