احمد آباد: بھارتیوں نے اپنے وزیراعظم کے نام سے منسوب مودی اسٹیڈیم کو اپنی ٹیم کے لیے منحوس قرار دے دیا۔
بھارت میں توہم پرستی عام بات ہے آج احمد آباد میں ہونے والے ٹی 20 ورلڈ کپ کے فائنل سے قبل بھی بھارتی شہری اسی توہم پرستی کا شکار ہو گئے ہیں،بھارتی شہریوں نے اپنے وزیراعظم نریندر مودی کے نام سے منسوب ’’مودی اسٹیڈیم‘‘ کو اپنی ٹیم کے لیے پنوتی (منحوس) قرار دینا شروع کر دیا ہے۔
بھارتی شائقین کی سوچ بھی کھلاڑیوں جیسی ہی ہے آسٹریلیا سے 2023 کے ون ڈے ورلڈ کپ کے فائنل میں شکست کے بعد سے مودی اسٹیڈیم کو بھارتی ٹیم کے لیے منحوس سمجھتے ہیں،بھارتی شائقین کی اکثریت یہ مانتی ہےکہ مودی اسٹیڈیم ان کے لیے پنوتی ہے، ایسا کوئی جادو، ٹونا یا ٹوٹکا کر رکھا ہے کہ اس میدان میں پہنچتے ہی ہماری ٹیم کے ہاتھ پاؤں پھول جاتے ہیں۔
ٹرمپ نے پرائمری سکول پر بمباری میں 175 افراد کی شہادت کا الزام ایران پر عائد کر دیا
دوسری جانب تین سال قبل ورلڈ کپ فائنل سے قبل جس طرح آسٹریلوی کپتان پیٹ کمنز نے پچ کا معائنہ کیا تھا، اب ٹی 20 ورلڈ کپ کے فائنل سے قبل کیوی کپتان مچل سینٹنر کی اے آئی سے بنی تصویر بھی وائرل ہو رہی ہے جس نے بھارتی شائقین کو وہم میں مبتلا کر دیا ہے۔
نریندر مودی اسٹیڈیم کے مقام پر پہلے 1983ء سے سردار پٹیل اسٹیڈیم قائم تھا جس کا نام بھارت کے پہلے وزیر داخلہ اور نائب وزیر اعظم سردار ولبھ بھائی پٹیل کے نام پر تھا۔ اس میدان میں بھارتی کرکٹر کپل دیو نے 1983ء میں ویسٹ انڈیز کے خلاف 9وکٹیں حاصل کیں ،پھر اسی میدان میں کپل دیو نے 1995ء میں اپنی 432ویں وکٹ حاصل کرتے ہوئے نیوزی لینڈ کے سر رچرڈ ہارڈلی کا ریکارڈ توڑتے ہوئے دنیا کے سب سے زیادہ وکٹ لینے والے بولر بننے کا اعزاز حاصل کیا اسی میدان میں بھارتی بلے باز سنیل گواسکر نے 1987ء میں پاکستان کے خلاف کھیلتے ہوئے اپنے ٹیسٹ کرکٹ میں اپنے 10ہزار رنز مکمل کئے۔
ایران کے خلاف ٹرمپ کی دھمکیوں میں اضافے کی وجہ کیا؟سابق سی آئی اے افسر نےبتادیا
2006ء سے 2015ء تک سردار پٹیل اسٹیڈیم نے چیمپینز ٹرافی کے میچز کی میزبانی بھی کی۔ تاہم 2016ء میں اس اسٹیڈیم کو مکمل طور پر منہدم کیا گیا اور ازسرنو تعمیر کیا گیا جس پر 800کروڑ بھارتی روپے خرچ کئے گئے۔ اسٹیڈیم کی تعمیر فروری 2020ء میں مکمل کی گئی، سردار پٹیل اسٹیڈیم میں 54ہزار تماشا ئیوں کی گنجائش تھی مگر اب نریندر مودی اسٹیڈیم میں ایک لاکھ34 ہزار تماشائیوں کی گنجائش ہے اور یہ دنیا کا سب سے بڑا کرکٹ اسٹیڈیم بھی ہے۔
اس سے قبل یہ اعزاز آسٹریلیا کے مشہور زمانہ میلبورن کرکٹ اسٹیڈیم (ایم سی جی) کے پاس تھا جس میں ایک لاکھ کے قریب تماشائی میچ دیکھ سکتے تھے نریندر مودی اسٹیڈیم میں چار ڈریسنگ رومز، 11سینٹر پیچزاور 2 پریکٹس گراؤنڈز بھی ہیں اس گراؤنڈ میں آئی پی ایل کے فائنلز کے میچز اور 2022ء آئی پی ایل فائنل کے علاوہ بہت سی سیاسی تقاریب کا انعقاد بھی کیا جاچکا ہے، جس میں ڈونلڈٹرمپ کے اعزاز 2020ء میں تقریب سرفہرست ہے۔
امریکا نے جزیرہ قشم میں صاف پانی کے پلانٹ پر حملہ کرکے ایک نیا اور سنگین جرم کیا ہے، ایران








