سی آئی اے کے سابق سربراہ جان برینن نے کہا ہے کہ ٹرمپ کے ہاتھ سے جتنی صورت حال باہر نکلتی جائے گی ، وہ اور زیادہ دھمکیوں پر اتر آئے گا۔
ایران کے خلاف ٹرمپ کے تند و تیز موقف پر ردعمل دیتے ہوئے امریکی سی آئی اے کے سابق سربراہ جان برینن نے کہا ہے کہ ایران کے غیر مشروط طور پر تسلیم ہونے کا منصوبہ بنیادی طور پر بے معنی بات ہے اس کا مطلب ہے کہ ٹرمپ سمجھ گیا ہے کہ میدانی صورت حال بہت زیادہ خراب اور پیچیدہ ہوچکی ہے اور اس کے کنٹرول سے باہر نکلتی جارہی ہے۔
امریکا نے جزیرہ قشم میں صاف پانی کے پلانٹ پر حملہ کرکے ایک نیا اور سنگین جرم کیا ہے، ایران
امریکی سی آئی اے کے سابق سربراہ نے کہا کہ ٹرمپ جیسے جیسے یہ محسوس کرے گا کہ علاقے میں رونما ہونے والی تبدیلیاں اس کی توقع کے مطابق آگے نہیں بڑھ رہی تو اس کا لب و لہجہ تند و تیز اور لفظوں کی ادائیگی بے ربط ہو جائے گی، حقیقت یہ ہے کہ مجھے نہیں معلوم امریکہ ایران میں اپنی من پسند حکو مت کیسے لائے گا ، جبکہ یہ ایسے میں ہے کہ ایران کے عوام اپنے نظام کے ساتھ مضبوطی سے جڑے ہوئے ہیں اور اپنی ارضی سالمیت کے تحفظ کے لیے بھر پور استقامت کا مظاہرہ کر رہے ہیں، اگر امریکی فوج ایران کی سرزمین میں داخل ہوئی تو امریکہ کو منہ کی کھانی پڑے گی اور اسی دلدل میں پھنس جائے گا جس سے نکلنا ممکن نہ ہوگا۔
کویت میں ہلاک ہونے والے 6 امریکی فوجیوں کی لاشیں امریکا پہنچا دی گئیں
