Baaghi TV

Tag: بھارت

  • پاکستان کی بھارت میں شطرنج اولمپیاڈ کو سیاسی رنگ دینے کی بھارتی کوششوں کی مذمت

    پاکستان کی بھارت میں شطرنج اولمپیاڈ کو سیاسی رنگ دینے کی بھارتی کوششوں کی مذمت

    لاہور:بھارت میں منعقد ہونے والے 44ویں شطرنج اولمپیاڈ کا بائیکاٹ کرنے والی پاکستانی ٹیم واہگہ کے راستے وطن واپس پہنچ گئی ، دوسری طرف پاکستان نے بھارت کے شہر چنائی میں منعقد ہونے والے 44 ویں شطرنج اولمپیاڈ کو سیاسی رنگ دینے کی بھارتی کوششوں کی شدید مذمت کی ہے۔

    اطلاعات کےمطابق پاکستانی ٹیم انٹرنیشنل چیس فیڈریشن کی دعوت پر چنائی میں منعقد ہونے والے ان مقابلوں میں شرکت کے لیے پہنچی تھی، تاہم یونٹ کی مشعل کو بھارت کے غیرقانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے علاقوں سے گزارنے پر احتجاجا پاکستان نے ایونٹ کا بائیکاٹ کر دیا

    دفتر خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ بھارت نے ٹورنامنٹ کی مشعل کو عالمی سطح پر تسلیم شدہ متنازعہ خطے مقبوضہ جموں و کشمیر سے گزار کر اس ایونٹ کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کی ہے جو افسوسناک ہے، واضح رہے کہ مشعل کو21 جولائی 2022 کو سری نگر سے گزارا گیا تھا۔

     

     

    بیان میں کہا گیا کہ پاکستان کھیلوں کو سیاسی رنگ دینے اور انہیں مذموم مقاصد کیلئے استعمال کرنے کی بھارتی کوشش کی مذمت کرتا ہے، پاکستان نے بھارتی اقدام کے خلاف بطور احتجاج 44 ویں شطرنج عالمی ٹورنامنٹ میں شرکت نہ کرنے اور اس معاملے کو بین الاقوامی شطرنج فیڈریشن کے ساتھ اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔

    پاکستان کو انٹرنیشنل چیس فیڈریشن نے 28 جولائی سے 10 اگست 2022 تک بھارتی شہر چنائی میں منعقد ہونے والے 44 ویں شطرنج اولمپیاڈ میں شرکت کے لیے مدعو کیا تھا۔

    پاکستان نے بھارت کے شہر چنائی میں منعقد ہونے والے 44 ویں شطرنج اولمپیاڈ کو سیاسی رنگ دینے کی بھارتی کوششوں کی شدید مذمت کی ہے۔

    دفتر خارجہ کے ترجمان عاصم افتخار کی جانب سے جاری بیان کے مطابق پاکستان کو انٹرنیشنل چیس فیڈریشن نے 28 جولائی سے 10 اگست تک چنائی میں 44 ویں شطرنج اولمپیاڈ میں شرکت کی دعوت دی تھی۔ پاکستانی دستہ پہلے ہی اس ایونٹ کے لیے تیاری کررہا تھا۔ یہ امر افسوسناک ہے کہ بھارت نے اس باوقار بین الاقوامی کھیلوں کے ایونٹ کو سیاسی رنگ دینے کی کو شش کرکے اس ایونٹ کی مشعل بردار ریلی کو غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر سے گزارا گیا، اس طرح علاقے کی عالمی سطح پر تسلیم شدہ متنازعہ حیثیت کو نظر انداز کرتے ہوئے بھارت نے دھوکہ دہی کا ارتکاب کیا ہے جسے بین الاقوامی برادری کسی بھی صورت میں قبول نہیں کرسکتی۔

    پاکستان نے بھارت کی طرف سے سیاست کو کھیلوں سے ملانے کی مذموم کوشش کی مذمت کی ہے، پاکستان نے احتجاج کے طور پر پاکستان نے 44 ویں شطرنج اولمپیاڈ میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس معاملے کو انٹرنیشنل چیس فیڈریشن کے ساتھ بھی اعلیٰ سطح پر اٹھائیں گے۔

    پاکستان نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی جانب سے ہونے والی انسانی حقوق کی سنگین اور منظم خلاف ورزیاں بند کرانے کے ساتھ ساتھ 5 اگست 2019 کے غیر قانونی اور یکطرفہ بھارتی اقدامات کو منسوخ اور حقیقی کشمیری رہنماوں سمیت تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کرانے کے لئے اپنا کردار ادا کرے۔

  • بھارتی حکومت مسلمانوں کی نسل کشی میں  مصروف عمل ہے— عبدالحفیظ چنیوٹی

    بھارتی حکومت مسلمانوں کی نسل کشی میں مصروف عمل ہے— عبدالحفیظ چنیوٹی

    بدقسمتی سے اس وقت بھارت میں جہاں ایک طرف ہندتوا نظریات کا پرچار زد عام ہے وہیں دوسری طرف اسلاموفوبیا کی بڑھتی ہوئی لہر بھی تشویش ناک ہے- بھارت میں مقدس گائے،حجاب، لو جہاد اور گھر واپسی کے نام پر ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت مسلمانوں کے گرد گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے-

    موجودہ بھارت میں عوامی سطح پر مسلمانوں کے خلاف نفرت اور اشتعال انگیزی پر مبنی گفتگو کو فروغ دیا جا رہا ہے- مسلمانوں کے خلاف منفی پروپیگنڈا، غلط معلومات اور فیک نیوز کی بنیاد پر ہتھیاروں سے لیس جتھوں کو مسلمانوں پر تشدد اور قتل عام کیلئے اکسایا جاتا ہے- عام سیاسی اور مذہبی اجتماعات کے علاوہ مختلف ڈیجیٹل پلیٹ فارمز جیسا کہ وٹس ایپ، فیس بک، ٹوئٹر وغیرہ پر ویڈیوز اور میسیجز کی صورت میں نفرت انگیز مواد کی بھر مار ہے-

    نفرت انگیز تقاریر اور گفتگو کی سب سے بڑی حالیہ مثال 17 تا 19 دسمبر 2021ء کو ہونے والے ہری دوار شہر میں ہندو انتہا پسندوں کے ایک اجتماع دھرم سنسد میں ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے مسلمانوں کے قتل عام پر ابھارنے کی ہے-

    بلکہ ایک انتہا پسند ہندو خاتون رہنما نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مسلم دشمنی اور مذہبی منافرت و تعصب کا ثبوت دیتے ہوئے یہاں تک کہا کہ:

    ’’چندسو ہندو اگر مذہب کے سپاہی بن کر 20 کروڑ مسلمانوں کو ہلاک کر دیں تو وہ فاتح بن کر ابھریں گے- اس خاتون رہنما نے اپنی تقریر میں واضح کیا کہ ایسا کرنے سے ہندو مت کی اصل شکل ’’سناتن دھرم‘‘ کو تحفظ حاصل ہو گا‘‘-

    مزید تقاریر میں یہ بھی کہا گیا کہ اگر 20لاکھ مسلمانوں کا قتل عام کردیا جائے تو بقیہ مسلمان بے چوں و چرا ’ہندو راشٹر‘ تسلیم کر لیں گے- مسلسل 3 دن اس اجتماع میں کھلے عام مسلمانوں کے قتل عام کیلئے تقاریر کی جاتی رہیں لیکن کسی نے کوئی ایکشن نہیں لیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ ہندتوا سرکار کی مرضی سے ہورہا تھا-

    ان اعلانات کے بعد مسلمانوں کے خلاف تشدد اور انتہا پسندی نے مزید شدت اختیار کی جس کی سب سے خوفناک مثال جہانگیرپوری میں ہنومان جینتی کے دن پرتشدد ہجوم کو ان جگہوں سے گزرنے دیا گیا جہاں زیادہ تر مسلمان رہتے ہیں- ہاتھوں میں تلوار، دیگر تیز دھار دار ہتھیاروں، پستول لہراتے ہوئے اور مسلمانوں کو گالی دیتے ہوئے اس پرتشدد ہجوم نے نماز کے وقت مسجد کے سامنے ہنگامہ برپا کیا-

    یہ بات دنیا سے ڈھکی چھپی نہیں کہ 2014 ءکے بعد جب سے بی جے پی برسرِ اقتدار آئی ہے تب سے مسلم مخالف جذبات میں بھی شدت دیکھنے کو ملی ہے-

    2014ء کے بعد 2019ء میں دوبارہ نریندر مودی کا وزیر اعظم منتخب ہونا اور اسی طرح 2017ء کے بعد 2022ء میں بھارت کی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش میں ہندو انتہا پسند اور کٹر مسلم مخالف یوگی آدتیہ ناتھ

    (جس کو مرکز میں مودی کے متبادل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے)

    کے دوبارہ وزیر اعلیٰ بننے سے واضح ہوتا ہے بھارت مکمل طور ہندو راشٹر بننے کی جانب گامزن ہے- حالیہ 5 میں سے 4 ریاستوں اترپردیش، اتراکھنڈ، منی پور اور گوا میں بھارتیہ جنتا پارٹی اقتدار میں واپس آگئی ہے- عام طور پر یہی تاثر اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس فتح سے مسلمانوں کے حالات مزید بدتر ہونگے-

    بھارت میں ریاستی انتخابات سے قبل یہ تاثر زد عام تھا کہ اگر مخصوص قسم کا زعفرانی رنگ کا لباس پہننے والے یوگی آدتیہ ناتھ خصوصاً اتر پردیش میں دوبارہ اقتدار میں آتے ہیں تو مسلمانوں سمیت دیگر اقلیتوں کے خلاف مبینہ ظلم و تشدد کا سلسلہ تیز ہو جائے گا- اگر ان کے پچھلے پانچ سالہ مسلم مخالف اقدامات کا ذکر کریں تو ان میں گائے کے ذبیحہ پر پابندی، لو جہاد، گھر واپسی اور بین المذاہب شادیوں پر پابندی نمایاں ہے- ان کے 5 سالہ دورِ اقتدار میں مسلمانوں پر مشتعل ہجوم کے ہاتھوں تشدد اور ان کے خلاف نفرت بھری تقاریر سر عام ہوتی رہی ہیں- مغل دور کا تعمیر شدہ تاج محل اور بابری مسجد سے نفرت یوگی آدتیہ ناتھ کی مسلم مخالف جذبات کی ایک چھوٹی سی مثال ہے-

    نریندرا مودی کی مرکزی حکومت کے مسلم مخالف سینکڑوں واقعات میڈیا میں رپورٹ ہو چکے ہیں- جن میں نمایاں مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد غیر قانونی اور غیر انسانی کرفیو کا نفاذ اور شہریت ترمیمی قانون کے تحت 30 لاکھ مسلمانوں کی بے دخلی کی راہیں ہموار کرنا شامل ہیں-

    یہ حقیقت ہے کہ آج نفرت اور انتہا پسندانہ سوچ کی وجہ سے بھارتی معاشرہ تقسیم ہوچکا ہے- سخت گیر ہندو آئے روز عوامی جلسوں میں مسلمانوں کا سیاسی، سماجی، معاشرتی اور معاشی سطح پر بائیکاٹ کا اعلان کر رہے ہیں-سوشل میڈیا پر موجود ویڈیوز میں واضح طور پر سنا جا سکتا ہے کہ ایک مجمع عام سے عہد لیا جا رہا ہے کہ :

    ’’ہم آج سے عہد کرتے ہیں کہ ہم مسلمانوں کی دکانوں سے کسی قسم کا کپڑا، جوتا اور دیگر سامان نہیں خریدیں گے اور نہ ہی انہیں کسی قسم کا سامان فروخت کریں گے‘‘-

    بھارت میں سوچی سمجھی سازش کے تحت ایک بیانیہ ’’ہندو خطرے میں ہیں‘‘ کو فروغ دے کر مسلمانوں سمیت دیگر اقلیتوں کے گرد گھیرا تنگ ہو چکا ہے- اس بیانیے پر کئی سوالات اٹھتے ہیں جن میں ایک سوال یہ قابل غور ہے کہ 15 فیصد والی اقلیت سے اکثریت کو کیا خطرات لاحق ہو سکتے ہیں؟ اسی بیانیہ کو فروغ دے کر بھارت میں اسلاموفوبیا کے واقعات تیزی سے بڑھ رہے ہیں- حالیہ دنوں میں بھارت کی 9 ریاستوں میں مسلم مخالف تشدد کے واقعات میں تیزی آئی ہے-یہ ریاستیں مدھیہ پردیش، گجرات، نئی دہلی، گوا، راجستھان، جھارکھنڈ، کرناٹک، مغربی بنگال، مہاراشٹر اور بہار ہیں- حال ہی میں ریاست کرناٹک کے سکولوں میں حجاب پہننے کو ایک سنگین مسئلے کے طور پر سامنے لایا گیا ہے-سکولوں میں حجاب کے مد مقابل ہندو طلبہ نے گلے میں کیسرانی رومال ڈالے ہوئے تھے-

    ان واقعات کا مقصد مذہبی منافرت کو فروغ دینا تھا جو اسلاموفوبیا کا منہ بولتا ثبوت ہے-اس کے علاوہ بی بی سی کی ایک ویڈیو رپورٹ میں واضح دیکھا جا سکتا ہے کہ پولیس مسلمانوں کی حفاظت کی بجائے انتہا پسندوں کا ساتھ دیتے ہوئے حملے کر رہی ہے-

    بھارت میں مسلمانوں کے مذہبی مقامات اور شعائر کی سرِ عام بے حرمتی کی جاتی ہے-اس کے علاوہ بھارت میں مسلمانوں کو کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا ذمہ دار ٹھہرانا بھی اسلاموفوبیا کے مکروہ رجحان کی عکاسی کرتا ہے-بھارت میں بڑھتا ہوا اسلاموفوبیا اور نفرت انگیزی مسلمانوں کی نسل کشی کی مترادف ہے- پاکستان نے ہمیشہ اس بڑھتی ہوئی مذہبی منافرت اور اشتعال انگیزی کے خلاف اپنی آواز بلند کی ہے- حالیہ اسلام آباد اعلامیہ میں او آئی سی نے بھی بھارت کے ان اسلامو فوبک اقدامات کی بھر پور مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ:

    ’’ہم بھارت میں مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک اور عدم برداشت کی منظم اور وسیع پالیسی کی مذمت کرتے ہیں جس کی وجہ سے وہ سیاسی، معاشی اور سماجی پسماندگی کا شکار ہوئے ہیں- ہم حجاب کو نشانہ بنانے والے امتیازی قوانین اور پالیسیوں سے ظاہر ہونے والے ہندوستان میں مسلم تشخص پر سب سے زیادہ نقصان دہ حملوں سے بہت پریشان ہیں-ہم ہندوستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ایسے امتیازی قوانین کو فوری طور پر منسوخ کرے، ہندوستانی مسلمانوں کے حقوق کو یقینی بنائے اور ان کی مذہبی آزادیوں کا تحفظ کرے‘‘-

    حالیہ کچھ دنوں میں سیکولر بھارت میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کی ایک نئی لہر دیکھنے کو ملی ہے- مسلمانوں کے مذہبی مقامات اور آثارِ قدیمہ کو گرانے کے بعد ان کے کاروباروں کو ختم کرنے کے ساتھ ساتھ تجاوزات کے نام پر بلڈوزر سیاست کے ذریعے گھروں کو مسمار کیا جا رہا ہے-

    یہ بات عیاں ہے کہ متنازع شہریت کے ان قوانین سے نہ صرف مسلمانوں میں خوف بڑھا ہے بلکہ اس کے عملی اقدامات بھی سامنے آئے ہیں- مثلاً سرکاری حکام کا شہریت ثابت کرنے کے لئے مسلمانوں کو تنگ کرنا، غیر قانونی گرفتاریاں، پر تشدد واقعات میں اضافہ اور گھروں کو مسمار کرنا شامل ہے-

    5 اگست 2019ء کو ظالم بھارتی سرکار نے عالمی قوانین، دو طرفہ معاہدوں اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے برعکس غیر قانونی اقدامات کرتے ہوئے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کے ساتھ کشمیریوں پر غیر انسانی سلوک کرتے ہوئے شدید لاک ڈاؤن لگا کر انہیں کھلی جیل میں بند کر دیا-اس کے علاوہ بھارت کی طرف سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کے لئے 30 سے 40 لاکھ غیر کشمیریوں کو وادی کا ڈومیسائل جاری کردیا گیا – اس دوران کرونا وائرس کی عالمی وبا کی مشکلات میں بھی بھارت نے کشمیریوں کو جیلوں میں بند کرنے، انٹرنیٹ بند کرنا، جعلی اِنکاونٹر، عورتوں اور بچوں پر ظلم و تشدد ختم نہ ہونے والا سلسلہ شروع کر رکھا ہوا ہے- 10 لاکھ بھارتی فوج کی موجودگی میں کشمیریوں پریہ غیر انسانی محاصرہ 1000 دنوں سے تجاوز کر چکا ہے-

    کشمیر میڈیا سروس کی رپورٹ کے مطابق سال 2021ء میں قابض بھارتی فوج نے 210 کشمیریوں کو شہید کیا جن میں 65 افراد کو جعلی ان کاؤنٹر میں شہید کیا گیا- اس دوران 44 معصوم بچے یتیم اور 16 خواتین بیوہ ہوئیں اور بھارتی فوج نے 67 عمارتوں کو مسمار بھی کیا- اس عرصے میں بھارتی فوج نے 2716 کشمیریوں کو گرفتار اور 487 افراد کو زخمی کیا- رپورٹ کے مطابق بھارتی فوج نے صرف دسمبر 2021ء میں 31 افراد کو شہید کیا-

    کچھ عرصہ قبل کشمیری حریت لیڈر سید علی گیلانی کی وفات پر بھارت نے غیر انسانی رویہ اختیار کیا جس کی وجہ سے ان کی تدفین سخت سیکورٹی حصار میں کی گئی اور اہل خانہ کو جنازے میں بھی شامل نہیں ہونے دیا گیا- ماہِ رمضان المبارک میں بھی بھارتی فوج کے کشمیریوں پر مظالم جاری رہے حتیٰ کہ عید الفطر کے موقع پر مسلمانوں کے اجتماعات پر پابندی عائد کردی گئی-

    بی جے پی اور آر ایس ایس کے اقتدار میں آئے روز مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں پر بڑھتے ہوئے مظالم کو لکھنے کیلئے الفاظ کم پڑ جائیں، اس تحریر میں اس بات کا جائزہ پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ کس طرح بھارت میں مختلف غیر انسانی اقدامات سے 220 ملین مسلم آبادی کا نسلی صفایا اور قتلِ عام کیا جارہا ہے-یہ عمل صرف مسلمانوں تک محدود نہیں ہے بلکہ ہندو راشٹر کے قیام کےلئے دیگر اقلیتیں بھی ہندتوا سوچ اور مذموم عزائم کے نشانے پر ہیں جس سے یہ نتیجہ نکالا جاسکتا ہے کہ بھارت تاریخ میں انسانیت کے سب سے بڑے دشمن کے طور پر یادرکھا جائے گا-

    پوری دنیا خاص کر بھارت میں اسلاموفوبیا خوفناک شکل اختیار کرچکا ہے جس کی ہر قیمت پر روک تھام کیلئے عالمی برادری کو اپنا غیر جانبدارانہ کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے- ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ خصوصاً اقوام متحدہ اور انصاف کے عالمی اداروں نے اگر بھارت میں مسلمانوں پر ظلم و تشدد کے تیزی سے بڑھتے ہوئے واقعات سے مزید غفلت برتی اور بھارت کے ظالمانہ اقدامات کا ایکشن نہ لیا تو اس ظلم کے نتائج پوری انسانیت کو بھگتنا پڑیں گے-

  • بھارت: ملاوٹ شدہ شراب پینے سےہلاک ہونے والوں کی تعداد 40 تک پہنچ گئی

    بھارت: ملاوٹ شدہ شراب پینے سےہلاک ہونے والوں کی تعداد 40 تک پہنچ گئی

    گجرات:بھارت میں ملاوٹ شدہ شراب پینے سے 40افراد ہلاک اور ایک درجن سے زائد اسپتال پہنچ گئے۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق بھارتی ریاست گجرات کے شہر احمد آباد میں ملاوٹ شدہ شراب پینے سے 40 افراد ہلاک جبکہ دیگر ایک درجن سے زائد بیمار ہو کر اسپتال پہنچ گئے۔

    ایک سینئر حکومتی عہدے دار کا کہنا ہے کہ ہلاکتیں گجرات کے اضلاع میں ہوئیں جہاں شراب کی تیاری اور خرید و فروخت پر پابندی عائد ہے، فوری طور پر یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ شراب میں کون سا کیمیکل استعمال کیا گیا تھا۔

    بھارتی میڈیا کے مطاق پولیس نے متعدد مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا ہے جو غیر قانونی طور پر اس مضر صحت شراب کی فروخت میں ملوث تھے۔

    اس سے قب بھارتی ریاست پنجاب میں بھی 2020ء میں ناقص شراب پینے سے 120 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

    2019 کے آخرمیں بھی بھارت کی شمالی ریاست آسام کے 2 اضلاع میں مضر صحت شراب پینے سے 84 افراد ہلاک ہوگئے تھے جبکہ 200 سے زائد افراد کو تشویشناک حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا۔ ہلاکتیں آسام کی ریاست کے اضلاع، گولگھات اور جورہت میں ہوئیں۔ آسام ہوم کمشنر کے مطابق جمعرات کو متاثرہ افراد نے مضر صحت شراب کو میتھیل الکوحل میں شامل کیا تھا، یہ کیمیکل عصابی نظام کو متاثر کرتا ہے، جس کے پینے کے بعد ان کی حالت تشویشناک ہوگئی۔

  • بی جے پی رہنما قحبہ خانے چلانے کے الزام میں گرفتار

    بی جے پی رہنما قحبہ خانے چلانے کے الزام میں گرفتار

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارت کی حکمران جماعت بی جے پی کے رہنما کو قحبہ خانے چلانے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے

    بی جے پی کے رہنما برنارڈ این مراک کو پولیس نے اترپردیش سے گرفتار کیا ہے،میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ بی جے رہنما رہنما میگھالیہ میں اپنے فارم ہاؤس میں فحاشی کا اڈہ چلا رہے تھے، برنارڈ این مراک بی جے پی کی ریاستی یونٹ کے نائب صدر ہیں، پولیس نے ہفتے کے روز انکے فارم ہاؤس پر چھاپہ مارا تھا جہاں سے لڑکیاں اور لڑکے برہنہ حالت میں ملے تھے وہیں شراب کی بھی بھاری مقدار برآمد ہوئی تھی، واقعہ کے بعد بی جے پی رہنما فرار ہو گئے تھے تا ہم پولیس نے انکے وارنٹ جاری کئے اور گرفتار کر لیا،

    پولیس کے مطابق برنارڈ این مراک کے فارم ہاؤس سے 73 افراد کو گرفتار کیا گیا تھا،ان میں کئی کمسن بھی تھے، فارم ہاؤس پر چلنے والے اڈے میں کمسن لڑکوں اور لڑکیوں کے ساتھ زیادتی کی جاتی تھی، پولیس حکام کے مطابق برنارڈ این مراک کو ہاپوڑ سے گرفتار کیا گیا ہے۔ ملزم کو تحقیقات کے لئے بلایا گیا تھا اور تعاون کے لئے کہا گیا تھا لیکن ملزم نے تعاون نہیں کیا اور روپوش ہو گیا تھا جس کے بعد ملزم کو گرفتار کیا گیا ہے،

    بی جے پی کے رہنما کے فارم ہاؤس پر قحبہ خانہ چلنے پر کانگریس نے بی جے پی پر کڑی تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ مودی دیکھیں انکے پارٹی لیڈر کیا کام کر رہے ہیں مودی سرکار سے عوام کو کسی بھلائی کی توقع نہیں رکھنی چاہئے،کانگریس نے مطالبہ کیا کہ بے جی پی کے تمام رہنماؤں کے فارم ہاؤسز کو چیک کیا جائے، ہر کہیں سے غیر قانونی دھندے نظر آئیں گے

    طالب علم سے زیادتی کر کے ویڈیو بنانیوالے ملزم گرفتار

    ملازمت کے نام پر لڑکیوں کی بنائی گئیں نازیبا ویڈیوز،ایک اور شرمناک سیکنڈل سامنے آ گیا

    200 سے زائد نازیبا ویڈیو کیس میں اہم پیشرفت

    نازیبا ویڈیو سیکنڈل،پولیس لڑکیوں کو بازیاب کروانے میں تاحال ناکام

  • بھارت میں جعلی شراب پینے سے 21 افراد  ہلاک درجنوں کی حالت غیر

    بھارت میں جعلی شراب پینے سے 21 افراد ہلاک درجنوں کی حالت غیر

    بھارتی ریاست گجرات میں جعلی شراب پینے سے 50 سے زائد افراد کی حالت غیر ہونے پر اسپتال لے جایا گیا جہاں 21 افراد کی ہلاک ہو گئے-

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق ریاست گجرات کے علاقے احمد آباد میں 50 سے زائد افراد کومقامی ہسپتال میں نیم بے ہوشی کی حالت میں لایا گیا تھا۔

    اسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ 21 افراد کو مردہ حالت میں لایا گیا تھا جب کہ 30 افراد اب بھی زیر علاج ہیں جن میں سے 7 کی حالت نازک ہے جس کے باعث ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

    ہلاک ہونے والے زیادہ تر افراد دیہاڑی دار مزدور تھے اہل خانہ کا کہنا تھا کہ ان سب کی یہ حالت شراب پینے کے بعد ہوئی ہے پولیس نے مقدمہ درج کر کے اس دکاندار کی تلاش شروع کردی ہے جہاں سے شراب خریدی گئی تھی۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ جن اضلاع میں شراب پینے سے اموات ہوئی ہیں وہاں شراب بنانے، بیچنے اور خریدنے پر پابندی عائد ہے۔ چند مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے مزید تحقیقات شروع کر دی ہیں-

    واضح رہے کہ بھارت میں زہریلی شراب پینے سے ہلاکتوں کے واقعات عام ہیں اور گزشتہ برس ریاست پنجاب میں ایک تقریب میں شراب پینے سے 102 افراد ہلاک ہوگئے تھےجبکپ ملک کے مغربی صوبے بنگال میں بھی 2011 میں جعلی شراب کی وجہ سے 170 اموات واقع ہو گئی تھیں۔

    بھارت میں سالانہ 5 بلین لیٹر الکحل استعمال کیا جاتا اور اس ضرورت کے صرف 40 فیصد کو قانونی شکل میں پیدا کیا جاتا ہے۔ ملک کے صوبوں بہار، گجرات، میزرام اور ناگالینڈ میں الکحل کے استعمال اور فروخت کو ممنوع قرار دے دیا گیا تھا۔

  • ریلوے پلیٹ فارم پر خاتون کے ساتھ کیا گیا گھناؤنا کام،ملزمان گرفتار

    ریلوے پلیٹ فارم پر خاتون کے ساتھ کیا گیا گھناؤنا کام،ملزمان گرفتار

    ریلوے پلیٹ فارم پر خاتون کے ساتھ کیا گیا گھناؤنا کام،ملزمان گرفتار

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں خواتین غیر محفوظ ہو چکی ہیں، خواتین کے ساتھ زیادتی کے بڑھتے واقعات نے خواتین کو گھروں میں رہنے پر مجبور کر دیا ہے

    دہلی کے ریلوے سٹیشن میں واقعہ پیش آیا ہے جہاں پلیٹ فارم پر خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی کی گئی، زیادتی ریلوے کے ملازمین نے کی، خاتون نے پولیس کو درخواست دی تو پولیس نے مقدمہ درج کرتے ہوئے ریلوے کے چار ملازمین کو حراست میں لے لیا ہے، خاتون کے مطابق دو ملزمان نے زبردستی زیادتی کی اور دیگر دو ملزمان موقع پر موجود تھے، دو ملزمان نے باہر کھڑے ہو کر نگرانی کی تا کہ کوئی اس طرف نہ آئے، ملزمان نے دوران زیادتی ویڈیو بھی بنائی

    پولیس کے مطابق ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے، واقعہ ریلوے کے پلیٹ فارم نمبر آٹھ نو پر پیش آیا، زیادتی کرنیوالے ملزمان ریلوے کے الیکٹرک ڈیپارٹمنٹ کے ملازمین ہیں، پولیس کا کہنا ہے کہ خاتون فرید آباد کی رہائشی ہے ،خاتون کو ریلوے ملازمین نے نوکری کے بہانے بلایا اور اجتماعی زیادتی کی گئی، خاتون کو کہا گیا تھا کہ اسے ریلوے میں نوکری دلوائی جائے گی،

    واٹس ایپ کے ذریعے فحش پیغام بھیجنے والا ملزم ہوا گرفتار، کئے ہوش اڑا دینے والے انکشاف

    شادی سے انکار، لڑکی نے کی خودکشی تو لڑکے نے بھی کیا ایسا کام کہ سب ہوئے پریشان

    بھارت میں ہزاروں بچیوں کو زیادتی کا نشانہ بناکر قتل کردیاگیا۔ بھارت میں بچیوں، لڑکیوں اور خواتین سے زیادتی وبا کی شکل اختیار کرگئی۔ ایک ارب بیس کروڑ کی آبادی کے بھارت میں کشمیری ہوں، دلت یا کوئی اور کسی ماں، بہن اور بیٹی کی عزت محفوظ نہیں ہے.

    بھارت میں آنے والے سیاحوں اور دیگر غیرملکی خواتین سے زیادتی اور قتل کے واقعات بھی پیش آ چکے ہیں جس کے بعد بھارت کو سیاحوں کے لئے غیر محفوظ ملک قرار دیا گیا ہے.،

    ایک رپورٹ کے مطابق 17 برس پہلے کے مقابلے میں بھارت میں زیادتی کی شرح دگنی ہوگئی ہے۔ 2001 سے 2017 تک بھارت میں چار لاکھ، پندرہ ہزار سات سو چھاسی لڑکیوں اور خواتین سے زیادتی کی گئی۔ زیادتی کے واقعات میں ایک سو تین فیصد کا اضافہ ہوا۔

    شوہرکے موبائل میں بیوی نے دیکھی لڑکی کی تصویر،پھر اٹھایا کونسا قدم؟

    خاتون پولیس اہلکار کے کپڑے بدلنے کی خفیہ ویڈیو بنانے پر 3 کیمرہ مینوں کے خلاف کاروائی

    جنسی طور پر ہراساں کرنے پر طالبہ نے دس سال بعد ٹیچر کو گرفتار کروا دیا

    غیر ملکی خاتون کے سامنے 21 سالہ نوجوان نے پینٹ اتاری اور……خاتون نے کیا قدم اٹھایا؟

    بیوی طلاق لینے عدالت پہنچ گئی، کہا شادی کو تین سال ہو گئے، شوہر نہیں کرتا یہ "کام”

    تعلیمی ادارے میں ہوا شرمناک کام،68 طالبات کے اتروا دیئے گئے کپڑے

    فحاشی کے اڈے پر چھاپہ، پولیس کو ملیں صرف خواتین ،پولیس نے کیا کام سرانجام دیا؟

    بھارت بھر میں 6 منٹ کے اندر کوئی نہ کوئی خاتون بدسلوکی، ہراسانی اور تشدد کا شکار بنتی ہے جب کہ ہر پانچ منٹ کسی نہ کسی خاتون کو شوہر، سسر یا دیگر اہل خانہ نشانہ بناتے ہیں، اسی طرح ہر ڈھائی دن بعد بھارت میں کسی نہ کسی خاتون پر تیزاب سے حملہ کردیا جاتا ہے جب کہ ہر 2 گھنٹے بعد کسی نہ کسی خاتون کا ریپ یاگینگ ریپ کیے جانے کی ناکام کوشش کی جاتی ہے۔

  • منکی پاکس وبا بھارت بھی پہنچ گئی،پہلا کیس رپورٹ

    منکی پاکس وبا بھارت بھی پہنچ گئی،پہلا کیس رپورٹ

    منکی پاکس وبا بھارت بھی پہنچ گئی۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق بھارت میں پہلا منکی پاکس کیس رپورٹ ہو گیا۔نئی دہلی کے 31 سالہ رہائشی منکی پاکس سے متاثر ہوئے متاثرہ شخص کی غیر ملکی ٹریول ہسٹری بھی نہیں ہے۔منکی پاکس سے متاثرہ شخص کو اسپتال داخل کرلیا گیاہے۔

    اس سے قبل 74 ممالک میں منکی پاکس کے 16 ہزار سے زیادہ کیس رپورٹ ہو چکے ہیں۔ دوسری جانب عالمی ادارہ صحت نے منکی پاکس کو عالمی ایمرجنسی بھی قرار دے دیا ہے۔

    ڈبلیو ایچ او کے مطابق منکی پاکس کی وبا ایک ’’غیرمعمولی واقعہ‘‘ ہے اور یہ مزید ممالک میں پھیل سکتی ہے۔اس سے نمٹنے کے لیے مربوط عالمی ردعمل کی ضرورت ہے۔

    امریکا کے سنٹرفار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن کے مطابق مئی سے اب تک 74 ممالک میں منکی پاکس کے 16 ہزار سے زیادہ کیس رپورٹ ہو چکے ہیں۔البتہ اب تک صرف براعظم افریقا میں منکی پاکس سے اموات کی اطلاع ملی ہیں جہاں اس وائرس کی زیادہ خطرناک قسم پھیل رہی ہے۔

    ڈبلیوایچ او کے منکی پاکس کے سرکردہ ماہر ڈاکٹر روزمنڈ لیوس کا کہنا تھاکہ افریقا کے علاوہ دوسرے ممالک میں منکی پاکس کے تمام متاثرہ کیسوں میں سے 99 فی صد مرد تھے اور ان میں 98 فی صد ہم جنس پرست مرد شامل تھے۔

    واضح رہے کہ افریقا میں منکی پاکس بنیادی طور پر چوہوں جیسے متاثرہ جنگلی جانوروں سے لوگوں میں پھیلتا ہے۔اس نے ماضی میں کبھی وبائی شکل اختیار نہیں کی اور نہ یہ کسی متاثرہ ملک سے سرحدپارپھیلی ہے تاہم یورپ، شمالی امریکااور دیگر جگہوں پرمنکی پاکس کا وائرس ان لوگوں میں بھی پھیل رہا ہے جن کا جانوروں سے کوئی تعلق نہیں یا جنھوں نے حال ہی میں افریقا کا سفر بھی نہیں کیا ہے۔

  • بھارتی، بھارت سے اکتانے لگے،4 لاکھ باشندوں نے شہریت چھوڑ دی

    بھارتی، بھارت سے اکتانے لگے،4 لاکھ باشندوں نے شہریت چھوڑ دی

    بھارتی شہری، بھارت سے ناخوش، دوسرے ملکوں کی شہریت حاصل کرنے کے لیے بھارتی شہریت کو خیر آباد کہنے لگے-

    انڈین ایکسپریس کے مطابق بھارتی حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق 48 بھارتی باشندوں نے پاکستانی شہریت کے لیے اپنی شہریت ترک کر دی جبکہ 1400 افراد اپنی بھارتی شہریت ترک کر کے چین چلے گئے ہیں۔

    بھارتی وزارت داخلہ نے پارلیمان کو بتایا کہ گزشتہ 3 برسوں کے دوران تقریبا 3 لاکھ 92 ہزار سے زائد بھارتی شہری اپنی مقامی شہریت ترک کر کے بیرون ملک جا بسے ہیں-

    اعداد و شمار کے مطابق بھارتیوں نے سب سے زیادہ امریکی شہریت حاصل کی، جو بھارتی تارکین وطن کا سب سے پسندیدہ ملک ہےگزشتہ برس مجموعی طور پر ایک لاکھ 63 ہزار لوگوں نے بھارتی شہریت ترک کی، ان میں سے 78 ہزار امریکی شہری بن گئے۔

    جبکہ آسٹریلین شہریت 23,533 افراد نے، کینیڈین شہریت 21,597 باشندوں نے اور برطانوی شہریت 14,637 بھارتی باشندوں نے حاصل کی۔

    حکومت کا کہنا ہے کہ 2019 میں ایک لاکھ 44 ہزار سے زیادہ افراد نے بھارتی شہریت ترک کی ، تاہم 2020 میں اس رجحان میں کچھ کمی آئی لیکن گزشتہ برس اس رجحان میں اب تک کا سب سے زیادہ اضافہ دیکھا گیا۔

    بی ایس پی کے رکن پارلیمنٹ حاجی فضل الرحمان کے ایک سوال کے جواب میں، مرکزی وزیر داخلہ نتیانند رائے نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ وزارت خارجہ کے مطابق ہندوستانی شہریوں نے "ان کی ذاتی وجوہات کی بناء پر” اپنی شہریت ترک کی-

    اعداد و شمار کے مطابق سنگاپور (7,046) اور سویڈن (3,754) جیسے ممالک کو منتخب کرنے کے علاوہ، بہت سے لوگوں نے بحرین (170)، انگولا (2)، ایران (21) اور عراق (1) کی شہریت بھی ترک کردی ہے۔ ایک شخص نے 2021 میں برکینا فاسو کی شہریت لی۔

  • بھارت میں بندروں نے بچے کو چھت سے نیچے پھینک دیا

    بھارت میں بندروں نے بچے کو چھت سے نیچے پھینک دیا

    اترپردیش: بھارت میں بندروں نے حملہ کر کے چار ماہ کے بچے کو چھت سے نیچے پھینک دیا-

    باغی ٹی وی : بھارتی خبر رساں ایجنسی "این ڈی ٹی وی” کے مطابق بریلی کے دیہی علاقے میں بندروں کے ایک غول نے تین منزلہ رہائشی عمارت کی چھت پر دھاوا بول دیا، جہاں بھارتی جوڑا اپنے ننھے بچے کے ساتھ چھت پر چہل قدمی کر رہے تھے۔

    اتنی تعداد میں بندروں کو دیکھ کر جوڑے نے انہیں بھگانے کی کوشش کی، لیکن ناکام ہو گئے 25 سالہ والد نردیش کے ہاتھوں میں اس کا نومولود بیٹا تھا، اس کا کہنا ہے کہ اپنے بچے کیلئے خطرہ محسوس کرنے پر وہ سیڑھیوں کی طرف بھاگا لیکن بچہ ہاتھ سے چھوٹ گیا۔

    نجومی خاتون بابا وانگا کی 2022 میں کی گئی پیشگوئیوں میں 2 پوری ہو گئیں

    والد کا کہنا تھا کہ اس سے پہلے کے وہ اٹھاتا ایک بندر نے تیزی سے بچے کو اٹھا کر چھت سے نیچے پھینک دیا، اور وہ اسی وقت دم توڑ گیا۔

    بریلی کے چیف کنزرویٹر آف فاریسٹ للت ورما کا کہنا ہے کہ واقعے کی اطلاع ملتے ہی محکمہ جنگلات کی ایک ٹیم کو تحقیقات کے لیے روانہ کر دیا گیا ہے۔

    امریکی ریاست انڈیانا میں فائرنگ،4 افراد ہلاک 2 زخمی

  • بھارت کا اگلا صدر کون ہو گا؟ ووٹنگ جاری

    بھارت کا اگلا صدر کون ہو گا؟ ووٹنگ جاری

    بھارت کے 15واں صدر کا انتخاب کرنے کے لیے پارلیمینٹ ہاوس اور مختلف ریاستوں کی قانون ساز اسمبلیوں میں ووٹنگ کا عمل شروع ہوگیا ہے۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی اور امیت شاہ نے پارلیمنٹ ہاؤس کمپلیکس میں اور یوگی آدتیہ ناتھ نے لکھنؤ اسمبلی میں ووٹ ڈالا۔ دوسری جانب بہار کےسیتامڑھی سے ایم ایل اے متھیلیش کمار اپنا ووٹ ڈالنے اسٹریچرپرپہنچےجبکہ بھارت کے سابق وزیراعظم من موہن سنگھ نے بھی اپنا ووٹ کاسٹ کردیا ہے-

    ووٹوں کی گنتی اور اعلان 21 جولائی کو ہوگا، جبکہ نومنتخب صدر 25 جولائی کو حلف لیں گے صدارتی انتخاب میں تقریباً 4 ہزار سے زائد کونسل ممبران اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے وزیراعظم نریندر مودی نے کہا کہ آج ملک میں صدارتی انتخاب کے لیے ووٹنگ جاری ہے۔ ایوان کے اس اجلاس میں ہم نئے صدر اور نائب صدر کی رہنمائی حاصل کریں گے۔

    بی جے پی کی زیرقیادت این ڈی اے کی صدر جمہوریہ امید وار دروپدی مرمو اور اپوزیشن کے یشونت سنہا کے درمیان مقابلہ ہے، دروپدی مرمو کو 50 فیصد سے زیادہ ووٹوں کی ضرورت ہے، رام ناتھ کوند کی بطور صدر 24 جولائی کو مدت پوری ہورہی ہے۔

    بی جے پی نے 21 جون کو دوروپی مرمو کو اپنا امیدوار نامزد کیا تھا، تب این ڈی اے کے کھاتے میں 5,63,825 یا 52 فیصد ووٹ تھے۔ سنہا کے 24 اپوزیشن پارٹیوں کے ساتھ ہونے کی وجہ سے 4,80,748 یعنی 44 فیصد ووٹوں پر غور کیا جا رہا ہے۔ گزشتہ 27 دنوں میں، مرمو کو فیصلہ کن برتری حاصل ہوئی کیونکہ کئی غیر این ڈی اے پارٹیاں حمایت میں آئیں۔ اگر تمام 10,86,431 ووٹ ڈالے جائیں تو مرمو کو 6.67 لاکھ (61 فیصد) سے زیادہ ووٹ ملیں گے۔ سنہا کے ووٹ کم ہو کر 4.19 لاکھ رہ گئے۔ جیت کے لیے 5,40,065 ووٹ درکار ہیں۔