Baaghi TV

Tag: بھارت

  • کیرالہ:غلط شناخت پر گرفتاری،پولیس کا وحشیانہ تشدد ، مسلمان بس ڈرائیور دم توڑ گیا

    کیرالہ:غلط شناخت پر گرفتاری،پولیس کا وحشیانہ تشدد ، مسلمان بس ڈرائیور دم توڑ گیا

    کیرالہ کے ضلع کولم میں 29 سالہ مسلمان نوجوان اور نجی بس ڈرائیور ‘سیاد’ پولیس کے مبینہ وحشیانہ تشدد کے باعث ہسپتال میں وینٹی لیٹر پر دورانِ علاج دم توڑ گیا۔

    کشمیر میڈیا سروس اور مقامی ذرائع کے مطابق، 29 سالہ سیاد کو ایک 13 سالہ لاپتا بچے کی شکایت پر کینڈرا پولیس نے حراست میں لیا تھا اگرچہ اگلی ہی صبح لاپتا بچہ بخیریت اپنے گھر پہنچ گیا، جس کے بعد پولیس نے سیاد کو بھی چھوڑ دیا، لیکن اس مختصر حراست کے دوران پولیس کا رویہ انتہائی سفاکانہ رہا-

    اہلِ خانہ کے مطابق، سیاد حراست سے قبل مکمل صحت مند تھا، لیکن پولیس کی بے رحمانہ مار پیٹ کے باعث وہ رہائی کے بعد اس قدر نڈھال ہو گیا کہ پانی پینے سے بھی قاصر رہا،حالت مسلسل بگڑنے اور سینے میں شدید درد کی شکایت پر جب اسےہسپتال منتقل کیا گیا تو ایکسرے رپورٹس میں اس کی پسلیاں ٹوٹی ہوئی پائیں گئیں، تشدد کے باعث پھیپھڑوں میں شدید انفیکشن پھیل گیا،جس پر اسے انتہائی تشویشناک حالت میں ترواننت پورم کے گورنمنٹ میڈیکل کالج اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ وینٹی لیٹر پر زندگی کی بازی ہار گیا۔

    شکایت کنندہ نے خود میڈیا کو دیے گئے بیان میں تصدیق کی ہے کہ اس نے پولیس موبائل میں پولیس اہلکاروں کو سیاد پر بدترین تشدد کرتے دیکھا، جہاں وہ شدید درد کے باعث چیختا چلاتا رہا،اس جابرانہ واقعے کے بعد پولیس کے خلاف عوام میں شدید اشتعال پھیلا ہوا ہے مقامی رکنِ اسمبلی این بالاگوپال نے واقعے کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے کیرالہ پولیس کے رویے اور حراست کے دوران انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر شدید سوالات اٹھائے ہیں۔

    مقتول کے لواحقین نے حکومت اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ تشدد میں ملوث تمام پولیس اہلکاروں کو فوری طور پر ملازمت سے برطرف کر کے ان کے خلاف قتل کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا جائے۔ فی الوقت ڈسٹرکٹ کرائم برانچ نے معاملہ درج کر کے واقعے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

    بھارت میں پولیس حراست کے دوران تشدد اور ہلاکتوں پر انسانی حقوق کی عالمی اور مقامی تنظیمیں مسلسل تشویش کا اظہار کرتی رہی ہیں رپورٹ کے مطابق اکثر اوقات اقلیتی اور معاشی طور پر کمزور طبقات کو بناء کسی ٹھوس ثبوت اور محض شک کی بنیاد پر حراست میں لے کر تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہےبھارتی آئین اور قانون کے مطابق کسی بھی فرد کو حراست کے دوران جسمانی تشدد کا نشانہ بنانا غیر قانونی ہے اور بھارتی سپریم کورٹ کی واضح ہدایات کے تحت حراست میں لیے گئے شخص کا طبی معائنہ کرانا لازمی ہوتا ہے، جس کی اس کیس میں صریحاً خلاف ورزی کی گئی۔

  • بھارتی بارڈر سیکیورٹی فورس  کے سیکٹر ہیڈکوارٹر میں ایک اہلکار کی فائرنگ سے 2 اہلکار ہلاک ایک شدید زخمی

    بھارتی بارڈر سیکیورٹی فورس کے سیکٹر ہیڈکوارٹر میں ایک اہلکار کی فائرنگ سے 2 اہلکار ہلاک ایک شدید زخمی

    بھارت کی ریاست مغربی بنگال میں بارڈر سیکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کے سیکٹر ہیڈکوارٹر میں ایک اہلکار کی فائرنگ سے 2 اہلکار ہلاک جبکہ ایک شدید زخمی ہو گیا۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق یہ واقعہ ضلع مالدہ کے 17 مائل سیکٹر ہیڈکوارٹر میں پیش آیا، جہاں بی ایس ایف کی 119ویں اور 71ویں بٹالین کے ہیڈکوارٹر قائم ہیں،ابتدائی اطلاعات کے مطابق 119ویں بٹالین سے تعلق رکھنے والے اہلکار شیوم مشرا نے آرام کرنے والے 71ویں بٹالین کے اہلکاروں پر اچا نک اپنی سرکاری رائفل سے فائرنگ کر دی، جس سے کیمپ میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

    فائرنگ کے نتیجے میں 71ویں بٹالین کے 51 سالہ اجے کمار سنگھ، جو بھارتی ریاست بہار کے رہائشی تھے، اور 37 سالہ امباداس سریش درگو، جن کا تعلق مہاراشٹر سے تھا، موقع پر ہی ہلاک ہو گئے، جبکہ ان کے ساتھی وکاس ورما شدید زخمی ہو گئے۔ زخمی اہلکار کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا، جہاں ان کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے،واقعے کے فوراً بعد بی ایس ایف کے اہلکاروں نے ملزم شیوم مشرا، جو ریاست چھتیس گڑھ کا رہائشی ہے، کو حراست میں لے لیا۔

    حکام کے مطابق ابتدائی طور پر فائرنگ کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی، تاہم مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں بی ایس ایف نے اندرونی طور پر انکوائری شروع کر دی ہے، جبکہ یہ بھی معلوم کیا جا رہا ہے کہ آیا واقعہ کسی ذاتی تنازع، ذہنی دباؤ یا دیگر عوامل کا نتیجہ تھا۔

    بھارتی سیکیورٹی فورسز میں گزشتہ چند برسوں کے دوران ذہنی دباؤ، طویل ڈیوٹی اوقات، اندرونی تنازعات اور ساتھی اہلکاروں پر فائرنگ جیسے واقعات متعدد بار رپورٹ ہو چکے ہیں،دفاعی ماہرین کے مطابق ایسے واقعات فورسز میں نفسیاتی دباؤ اور فلاحی نظام سے متعلق خدشات کو ایک بار پھر اجاگر کرتے ہیں، جس کے باعث اہلکاروں کی ذہنی صحت اور پیشہ ورانہ معاونت کے نظام پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

  • سونم وانگچک کی 26 روزہ بھوک ہڑتال ختم، طلبہ کا احتجاج جاری

    سونم وانگچک کی 26 روزہ بھوک ہڑتال ختم، طلبہ کا احتجاج جاری

    سماجی کارکن سونم وانگچُک نے میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحان کے پرچے لیک ہونے کے خلاف 26 روزہ بھوک ہڑتال ختم کر دی ہے، تاہم طلبہ کی قیادت میں جاری احتجاج ختم نہیں ہوگا اور مظاہرین نے وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے پر قائم رہنے کا اعلان کیا ہے۔

    خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق احتجاجی تحریک ”کاکروچ جنتا پارٹی“ (سی جے پی) کا مؤقف ہے کہ مئی میں ہونے والے میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحان کے پرچے لیک ہونے سے تقریباً 20 لاکھ طلبہ متاثر ہوئے جبکہ اس معاملے کو کئی طلبہ کی خودکشیوں سے بھی جوڑا جا رہا ہے۔

    سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ انہوں نے دو وفاقی وزرا کی موجودگی میں اپنی بھوک ہڑتال ختم کی، متعدد ارکان پارلیمنٹ کی اپیل ، مختلف شرائط پر طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشے کے پیش نظر انہوں نے یہ فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ مذاکرات کی تفصیلات جلد ایک ویڈیو پیغام میں جاری کریں گے۔

    دوسری جانب سی جے پی کے بانی ابھیجیت دپکے نے سونم وانگچک کی قربانی اور حوصلے کو سراہتے ہوئے کہا کہ احتجاج اس وقت تک جاری رہے گا جب تک وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے مستعفی نہیں ہو جاتے انہوں نے کہا کہ سونم وانگچک کی قربانی کو رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا،وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے منگل کی شب اپنے پہلے عوامی بیان میں کہا تھا کہ حکومت امتحانات سے متعلق خدشات دور کرنے اور امتحانی نظام میں اصلاحات کے لیے پُرعزم ہے۔

    رائٹرز کے مطابق یہ احتجاج نریندر مودی کے 2014 سے اقتدار میں آنے کے بعد ان کی حکومت کو درپیش نوجوانوں کی جانب سے سب سے بڑا چیلنج قرار دیا جا رہا ہے اپوزیشن جماعتوں نے بھی طلبہ کے مطالبات کی حمایت کی ہے اور اسی معاملے پر پارلیمنٹ کے جاری مون سون اجلاس میں ہنگامہ آرائی کی۔

    سونم وانگچک کی بھوک ہڑتال ختم ہونے کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی نے انہیں ڈاکٹروں کی ہدایات پر عمل کرنے اور بھوک ہڑتال کے دوران کم ہونے والا وزن دوبارہ بحال کرنے کا مشورہ دیا۔

    احتجاج کرنے والوں نے جمعہ کو ملک بھر میں مظاہروں کی اپیل بھی کی ہے ان کا کہنا ہے کہ پیر کے روز پارلیمنٹ مارچ کے دوران پولیس نے مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال کیا تھا۔ دوسری جانب حکومت نے مظاہرین پر زور دیا ہے کہ وہ مذاکرات میں شامل ہوں۔

    جمعرات تک ہزاروں افراد نئی دہلی کے جنتر منتر پر جمع تھے، جہاں سخت سکیورٹی کے درمیان حکومت مخالف نعرے لگائے گئے اور بینرز اٹھائے گئے۔ احتجاج کے باعث دہلی کے مرکزی علاقوں میں میٹرو اسٹیشن بند رہے، موبائل انٹرنیٹ سروس معطل کی گئی اور کاروباری سرگرمیاں بھی متاثر ہوئیں۔ مقامی میڈیا کے مطابق رانچی، پونے، ترواننت پورم اور کولکتہ سمیت دیگر شہروں میں بھی احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔

  • بھارت میں احتجاج:معروف کھلاڑی بھی طلبہ کے حق میں سامنے آ گئے

    بھارت میں احتجاج:معروف کھلاڑی بھی طلبہ کے حق میں سامنے آ گئے

    بھارت میں جاری طلبہ احتجاج کے دوران معروف کھلاڑی بھی طلبہ کے حق میں سامنے آ گئے ہیں۔

    کرکٹ لیجنڈ سچن ٹنڈولکر، اولمپک گولڈ میڈلسٹ ابھینو بندرا، یوراج سنگھ، شیکھر دھون، محمد کیف، میرابائی چانو، ونیش پھوگاٹ اور منو بھاکر نے شفاف، منصفانہ اور میرٹ پر مبنی نظامِ تعلیم کا مطالبہ کرتے ہوئے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مؤثر اصلاحات کی اپیل کی ہے۔

    سچن ٹنڈولکر نے اپنے مرحوم والد جو پیشے کے اعتبار سے پروفیسر تھے کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ ’ناکامی قابلِ قبول ہے لیکن دھوکہ دہی نہیں، کبھی بھی شارٹ کٹ اختیار نہ کریں، بطور معاشرہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ایسی اقدار کو فروغ دیں جہاں محنت کو نتائج پر ترجیح دی جائے،اگر معاشرہ محنت کے بجا ئے صرف نتائج کو اہمیت دے گا تو لوگ میرٹ کے بجائے شارٹ کٹس تلاش کریں گے-

    سچن نے کہا کہ آج اگر طلبہ کو یہ احساس ہو رہا ہے کہ ان کی محنت کا صلہ نہیں ملا تو یہ قابلِ فہم ہے ہمیں مل کر ایسا نظام بنانا ہوگا جہاں انہیں دوبارہ ایسا محسوس نہ ہو،بھارت کے نوجوان خوابوں اور توانائی سے بھرپور ہیں اور والدین، اساتذہ، تعلیمی اداروں، منتظمین اور پورے معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ ایسا ماحول قائم کیا جائے جہاں محنت کا صلہ ملے، دیانت داری کی حوصلہ افزائی ہو اور میرٹ کامیاب ہو۔

    اولمپک گولڈ میڈلسٹ ابھینو بندرا نےبھی اسی مؤقف کی حمایت کرتےہوئےکہا کہ تعلیم کو سیاست سے بالاتر ہونا چاہیےمیں نے خود کو کبھی سیاسی شخصیت نہیں سمجھا لیکن میرا یقین ہے کہ کچھ معاملات ہم سب کے ہیں، چاہے ہمارے نظریات کچھ بھی ہوں، تعلیم انہی میں سے ایک ہے، کسی قوم کی اصل طاقت صرف اس کی معیشت یا کامیابیوں میں نہیں بلکہ اس بات میں ہوتی ہے کہ وہ اپنے نوجوانوں کو کتنے بہتر مواقع فراہم کرتی ہے ایسا نظامِ تعلیم جو اعتماد پیدا کرے، میرٹ کو فروغ دے اور تجسس کی حوصلہ افزائی کرے کسی بھی قوم کی سب سے بڑی طاقت ہوتا ہے، ہمیں مل کر اپنے تعلیمی نظام کو مز ید مضبوط بنانا چاہیے تاکہ یہ آنے والی نسلوں کے لیے امید، مواقع اور جدت کا ذریعہ بن سکے۔

    اولمپک سلور میڈلسٹ میرابائی چانو نے بھی مظاہرین کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں بہت سی اچھی چیزیں بھی ہو رہی ہیں لیکن کچھ افسوسناک واقعات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ جب ہم ایسے واقعات دیکھتے یا سنتے ہیں تو دکھ ہوتا ہے اور سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے میں نے دہلی میں طلبہ کے احتجاج کے بارے میں سنا ہے میرا خیال ہے کہ وہ درست کام کر رہے ہیں۔

    سابق بھارتی آل راؤنڈر یوراج سنگھ نے اپنے پیغام میں کہا ہر بچے، ہر طالب علم، ہر عورت اور ہر مرد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ پُرامن ماحول میں تعلیم حاصل کرے، محفوظ رہے اور اپنے خواب پورے کرے آپ کی فلاح و بہبود ہی روشن بھارت کی بنیاد ہے۔ بات چیت کے ذریعے ہم بھارت کے مستقبل کے لیے قابلِ قبول حل تلاش کر سکتے ہیں۔

    سابق اوپنر شکھر دھون نے بھی طلبہ کے جذبات کو سمجھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ان کے خوابوں کو سمجھنا ضروری ہے، لیکن مشکل وقت میں صبر اور ملک کے اداروں اور حکومت پر اعتماد برقرار رکھنا بھی اتنا ہی اہم ہے۔ میرا یقین ہے کہ ہر مسئلے کا حل صبر سے نکلتا ہے۔

    سابق کرکٹر محمد کیف نے کہا کہ ایک باپ ہونے کے ناطے مجھے یہ دیکھ کر تکلیف ہوتی ہے کہ تعلیم کے نظام میں خامیوں کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ پر پولیس طاقت استعمال کر رہی ہے۔ دہلی کی سڑکوں پر طلبہ پر لاٹھیاں برسنا بند ہونا چاہیے۔ مجھے امید ہے کہ اس مسئلے کا جلد حل نکلے گا۔

    ریسلر ونیش پھوگاٹ نے احتجاجی مقام پر تشدد کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جنتر منتر کی تصاویر نے انہیں شدید صدمہ پہنچایا۔ انہوں نے کہا جب ملک کے طلبہ اپنے مستقبل، اپنے حقوق اور اپنے خوابوں کے لیے سڑکوں پر نکلے تو انہیں عزت کے بجائے خوف اور تشدد کا سامنا کرنا پڑاانہوں نے مظاہرین پر زور دیا کہ وہ ہر حال میں پرامن رہیں اور کہا آپ کی سب سے بڑی طاقت آپ کا صبر، نظم و ضبط اور پُرامن جدوجہد ہے۔ پیچھے مت ہٹیں، تاریخ ایک بار پھر کروٹ لے رہی ہے۔

    اولمپک شوٹر منو بھاکرنے کہا کہ یہ معاملہ سیاست سے بالاتر ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف سیاست کا معاملہ نہیں بلکہ ہمارے ملک کے مستقبل کا سوال ہے میں خود ایک طالبہ رہی ہوں اور ہم سب کبھی نہ کبھی طالب علم رہے ہیں۔ ہر بچے کو تعلیم، تحفظ اور زندگی میں مساوی مواقع ملنے چاہییں۔ یہ کوئی رعایت نہیں بلکہ بنیادی حقوق ہیں۔ جن طلبہ اور بچوں نے اپنی جانیں گنوائیں، وہی اس ملک کا مستقبل تھے۔ ان کے خواب، ان کی صلاحیتیں اور ان کا مستقبل محفوظ ہونا چاہیے تھا۔

  • سلمان خان کی  طلبہ سے احتجاج ختم کرنے اور سونم وانگچک سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل

    سلمان خان کی طلبہ سے احتجاج ختم کرنے اور سونم وانگچک سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل

    بالی ووڈ سُپراسٹار سلمان خان نے طلبہ سے احتجاج ختم کرنے اور سونم وانگچک سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل کر دی۔

    سلمان خان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ طلبہ کی تعلیم اور سلامتی اولین ترجیح ہونی چاہیے، اس لیے انہیں اپنی یا اپنے والدین کی پریشانی کا باعث نہیں بننا چاہیے،انہیں یقین ہے کہ بھارتی وزیراعظم کی جانب سے یقین دہانی کے بعد امتحانی پرچہ لیک کے ذمہ دار عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی، لہٰذا طلبہ اپنے والدین اور گھروں کو واپس چلے جائیں۔

    سلمان خان نے سماجی کارکن سونم وانگچک کو مخاطب کرتے ہوئے لکھاکہ سونم، اب کافی ہو گیا دوست، بھوک ہڑتال مزید نہ بڑھائیں اگر ضرورت پڑی تو بعد میں بھی جدوجہد جاری رکھی جا سکتی ہے اب کچھ کھا لیں، اگر چاہیں تو میں اپنے گھر سے کھانا بھی بھیج دیتا ہوں۔

    واضح رہے کہ سلمان خان نے اس سے قبل بھی طلبہ کے احتجاج کی حمایت کی تھی، تاہم اب انہوں نے حکومت کی یقین دہانی کے بعد احتجاج ختم کرنے اور سونم وانگچک سے اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل کی ہے،یہ اپیل ایک روز بعد سامنے آئی جب سلمان خان نے مبینہ NEET-UG 2026 پرچہ لیک کے خلاف طلبہ کے احتجاج کی حمایت کرتے ہوئے اسے تعلیمی نظام کا سنگین مسئلہ قرار دیا تھا۔

    دہلی کے جنتر منتر پر گزشتہ کئی ہفتوں سے ہزاروں طلبہ، والدین اور سماجی کارکن احتجاج کر رہے ہیں، مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ مبینہ امتحانی پرچہ لیک کی شفاف تحقیقات کی جائیں، ذمہ داروں کو سخت سزا دی جائے، متاثرہ طلبہ کو انصاف فراہم کیا جائے اور امتحانی نظام میں جامع اصلاحات متعارف کرائی جا ئیں،اسی مطالبے کے حق میں سماجی کارکن سونم وانگچک نے طویل بھوک ہڑتال بھی کی، جسکے دوران ان کی صحت بگڑنے پر انہیں اسپتال منتقل کیا گیا۔

    طلبہ تحریک نے حالیہ دنوں میں ملک بھر میں توجہ حاصل کی ہے، جبکہ حکومت کی جانب سے پرچہ لیک میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کی یقین دہانی کے بعد احتجاج کے مستقبل پر نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔

  • امتحانی پرچے لیک ہونے کا معاملہ:مودی کا فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان

    امتحانی پرچے لیک ہونے کا معاملہ:مودی کا فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان

    بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے نوجوانوں کے شدید احتجاج کے بعد امتحانی پرچے لیک کرنے میں ملوث افراد کو سزا دینے کے لیے فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان کردیا۔

    مودی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کی فلاح اور ان کا مستقبل سب سے زیادہ اہم ہے،ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ پرچے لیک کرنے میں ملوث افراد کو فوری اور سخت سزا یقینی بنانے کے لیے فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کی جائیں گی، جو لوگ ہمارے نوجوانوں کے مستقبل کو نقصان پہنچانے کی کوشش کریں گے، انہیں بخشا نہیں جائے گا۔

    دوسری جانب نوجوانوں کی جماعت کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے ترجمان نے بھارتی وزیراعظم مودی کے ڈیڑھ ماہ بعد نوٹس لینے کو ناکافی قرار دیتے ہوئے وزیر تعلیم کے مستعفی ہونے تک دھرنا جاری رکھنے کا اعلان کیا۔

    ترجمان سی جےپی اشوتوش رانکا کا کہنا ہے کہ یہ اچھی بات ہے کہ ڈیڑھ ماہ تک جاری رہنے والے احتجاج کے بعد آخرکار وزیر اعظم نے اس معاملے کا نوٹس لیا ہے لیکن اصل سوال یہ ہے کہ آخر پیپر لیک ہو ہی کیوں رہے ہیں؟ پیپر لیک اس لیے ہورہے ہیں کہ اوپر سے نیچے تک وزیرتعلیم سمیت نااہل لوگ بیٹھے ہیں جو پیسہ بنارہےہیں، نظام چلانے والے لوگ نااہل ہیں، ہم یہاں سے اس وقت تک نہیں جائیں گے جب تک وزیر تعلیم دھر میندر پرد ھا ن استعفیٰ نہیں دے دیتے-

  • بھارت میں مودی حکومت کیخلاف احتجاج، بالی ووڈ کے کئی نامور فنکار بھی شریک

    بھارت میں مودی حکومت کیخلاف احتجاج، بالی ووڈ کے کئی نامور فنکار بھی شریک

    تعلیمی اصلاحات کے مطالبے پر جاری کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے احتجاج میں بالی ووڈ کے کئی نامور فنکار بھی شریک ہو رہے ہیں۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق آج احتجاج کا 49واں روز ہے جس میں بالی ووڈ کے کئی مشہور فنکاروں جیسے عمران خان، ہما قریشی، ساقب سلیم اور گلوکار میکا سنگھ نے شرکت کر کے طلبہ کی حمایت کا اظہار کیا،عامر خان کے بھانجے اور اداکار عمران خان بھی ممبئی میں ہونے والے احتجاج کے دوران طلبہ کے ہمراہ مارچ میں شریک ہوئے،انہوں نے کہا کہ وہ ان طلبہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے آئے ہیں جن کی محنت کو نظر انداز کیا گیا ہےاور یہ ملک کے مستقبل کی لڑائی ہے-

    اداکارہ ہما قریشی اپنے بھائی ساقب سلیم کے ہمراہ نئی دہلی کے جنتر منتر میں ہونے والے احتجاج میں شریک ہوئیں اور طلبہ کے ساتھ مارچ کیا،جبکہ اسٹینڈ اپ کامیڈین ابیش میتھیو اور رونق راجانی بھی ممبئی احتجاج میں شریک ہوئے، جنہیں پولیس نے حراست میں لیا، تاہم بعد ازاں دونوں کو رہا کر دیا گیا۔

    گلوکار نے بھی پولیس کارروائی پر تنقید کرتے ہوئے اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا کہ ہر شہری کو پرامن احتجاج کا جمہوری حق حاصل ہے اور طلبہ پر طاقت کا استعمال، خصوصاً خواتین کے ساتھ غلط سلوک، ناقابل قبول ہے۔

    قبل ازیں ایکس پر جاری بیان میں سلمان خان نے طلبہ کے احتجاج کے دوران پیش آنے والے پرتشدد واقعات پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک نہایت پُرامن تحریک تھی اور یہ دیکھ کر دل بہت دکھا کہ یہ پرتشدد رخ اختیار کر گئی, جن طلبہ اور ان کے اہلِ خانہ کو اس دوران تکلیف یا نقصان پہنچا، میری دلی ہمدردیاں ان کے ساتھ ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ پرچہ لیک ہونا ایک نہایت سنگین مسئلہ ہے اور یہ خوش آئند بات ہے کہ ملک بھر کے طلبہ بہتر تعلیمی نظام کے مطالبے کے لیے متحد ہوئے جبکہ والدین نے بھی ان کا بھرپور ساتھ دیا,طلبہ نے اپنے مستقبل اور معیاری تعلیم کے لیے جس عزم، خلوص اور محنت کا مظاہرہ کیا ہے وہ قابلِ ستائش ہےیہ احتجاج مکمل طور پر پرامن تھا اور طلبہ نے انتہائی ذمہ داری کے ساتھ اپنے مطالبات پیش کیے جو ان کی بہادری اور تعلیم سے وابستگی کا ثبو ت ہے۔

    واضح رہے کہ سی جے پی کی قیادت میں جاری احتجاج تعلیمی اصلاحات کے مطالبات کے سلسلے میں جاری ہے، جبکہ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد اس معاملے پر ملک بھر میں بحث شدت اختیار کر گئی ہے۔

  • جمہوریت کا امتحان نوجوانوں کے احتجاج اور اختلافِ رائے برداشت کرنے کا کڑا وقت،تجزیہ  : شہزاد قریشی

    جمہوریت کا امتحان نوجوانوں کے احتجاج اور اختلافِ رائے برداشت کرنے کا کڑا وقت،تجزیہ : شہزاد قریشی

    جمہوریت کا امتحان نوجوانوں کے احتجاج اور اختلافِ رائے برداشت کرنے کا کڑا وقت

    طاقت کا استعمال بمقابلہ جمہوری اقدار بھارت کے دعوے جمہوریت پر بڑھتے ہوئے عالمی سوالات

    تجزیہ شہزاد قریشی

    بھارت خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت قرار دیتا ہے، لیکن جمہوریت کا اصل امتحان صرف انتخابات نہیں بلکہ اختلافِ رائے کو برداشت کرنا، نوجوانوں کی آواز سننا اور اپوزیشن کے حقوق کا تحفظ کرنا ہوتا ہے۔ حالیہ دنوں میں بھارت میں نوجوانوں کے احتجاج اور اپوزیشن رہنماؤں کے ساتھ پیش آنے والے واقعات نے اس دعوے پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

    رپورٹس کے مطابق امتحانی نظام میں بے ضابطگیوں اور نوجوانوں کے مستقبل سے متعلق خدشات پر شروع ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، جبکہ متعدد اپوزیشن رہنماؤں کو بھی حراست میں لیا گیا اور ان کے خلاف سخت کارروائیاں دیکھنے میں آئیں۔
    جمہوریت کی روح یہ ہے کہ حکومت تنقید کو دشمنی نہ سمجھے بلکہ اسے اصلاح کا موقع سمجھے۔ جب نوجوان سڑکوں پر آ کر اپنے مستقبل کے بارے میں سوال اٹھائیں تو ان کے مطالبات کو سننا ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے، نہ کہ صرف طاقت کے ذریعے جواب دینا۔ اسی طرح اپوزیشن کا کردار کسی بھی جمہوری نظام میں حکومت کا احتساب کرنا ہوتا ہے۔ اگر اپوزیشن کی آواز کو دبایا جائے یا احتجاج کے حق کو محدود کیا جائے تو جمہوری عمل کمزور ہوتا ہے۔
    بھارت کی طاقت ہمیشہ اس کی جمہوری روایات، اظہارِ رائے کی آزادی اور سیاسی تنوع سمجھی جاتی رہی ہے۔ لیکن جب نوجوانوں کے احتجاج کو سختی سے کچلا جائے اور اپوزیشن رہنماؤں کے ساتھ تصادم کی تصاویر دنیا بھر میں نشر ہوں تو عالمی سطح پر یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ کیا بھارت اپنے ہی جمہوری اصولوں پر پوری طرح قائم ہے؟-

    حقیقت یہ ہے کہ جمہوریت کی عظمت طاقت کے استعمال میں نہیں بلکہ اختلاف کو برداشت کرنے میں ہوتی ہے۔ جو ریاست اپنے نوجوانوں کی آواز سننے اور سیاسی مخالفین کو اظہار کا حق دینے میں کامیاب ہو، وہی حقیقی معنوں میں ایک مضبوط جمہوری ریاست کہلا سکتی ہے۔ بھارت کے لیے بھی یہی لمحۂ فکریہ ہے کہ وہ اپنے دعوۂ جمہوریت کو صرف الفاظ تک محدود رکھنا چاہتا ہے یا عملی طور پر بھی اسے ثابت کرنا چاہتا ہے۔

  • بھارت میں مودی حکومت کیخلاف احتجاج، سلمان خان بھی طلبہ کے حق میں بول پڑے

    بھارت میں مودی حکومت کیخلاف احتجاج، سلمان خان بھی طلبہ کے حق میں بول پڑے

    بالی ووڈ اداکار سلمان خان کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی قیادت میں ہونے والے طلبا کے احتجاج کی حمایت میں سامنے آگئے۔

    ایکس پر جاری بیان میں بھارتی اداکار نے طلبہ کے احتجاج کے دوران پیش آنے والے پرتشدد واقعات پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک نہایت پُرامن تحریک تھی اور یہ دیکھ کر دل بہت دکھا کہ یہ پرتشدد رخ اختیار کر گئی, جن طلبہ اور ان کے اہلِ خانہ کو اس دوران تکلیف یا نقصان پہنچا، میری دلی ہمدردیاں ان کے ساتھ ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ پرچہ لیک ہونا ایک نہایت سنگین مسئلہ ہے اور یہ خوش آئند بات ہے کہ ملک بھر کے طلبہ بہتر تعلیمی نظام کے مطالبے کے لیے متحد ہوئے جبکہ والدین نے بھی ان کا بھرپور ساتھ دیا,طلبہ نے اپنے مستقبل اور معیاری تعلیم کے لیے جس عزم، خلوص اور محنت کا مظاہرہ کیا ہے وہ قابلِ ستائش ہےیہ احتجاج مکمل طور پر پرامن تھا اور طلبہ نے انتہائی ذمہ داری کے ساتھ اپنے مطالبات پیش کیے جو ان کی بہادری اور تعلیم سے وابستگی کا ثبو ت ہے۔

    انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ معاملہ صرف طلبہ اور تعلیمی نظام کے درمیان ہے اس لیے اسے سیاسی رنگ نہیں دیا جانا چاہیے اس تحریک کا اصل کر یڈٹ صرف طلبہ کو ملنا چاہیے جبکہ حکومت کو بھی ان کے مطالبات سن کر تعلیمی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کرنے چاہییں تعلیم کو ہی اگلا رجحان، اگلا فیشن اور سب سے بڑی ترجیح بننا چاہیے اور ہر گزرتے سال کے ساتھ اس کی اہمیت اور مقبولیت میں اضافہ ہونا چاہیے یہاں تک کہ دنیا بھر سے طلبہ تعلیم حاصل کرنے کے لیے بھارت آئیں اور بھارت ایک عالمی تعلیمی مرکز بن جائے۔

  • طلبہ پر پولیس تشدد:کانگریس کا بھارتی وزیراعظم کے گھر کےسامنےمظاہرہ ،مودی سے استعفے کا مطالبہ

    طلبہ پر پولیس تشدد:کانگریس کا بھارتی وزیراعظم کے گھر کےسامنےمظاہرہ ،مودی سے استعفے کا مطالبہ

    طلبہ پر پولیس تشدد کیخلاف بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس نے بھارتی وزیراعظم کے گھر کےسامنےمظاہرہ کیا۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق صدرکانگریس ملکارجن کھڑگے بھی مظاہرہ میں شریک ہیں، کانگریس رہنما بھارتی وزیراعظم مودی، وزیرتعلیم دھرمیندرا پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں کانگریس رہنما اور بھارت کے اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی نے کاکروچ جنتا پارٹی کے نہتے کارکنوں اور طالبعلموں پر پولیس کے بہیمانہ تشدد کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہندو انتہا پسند جماعت آر ایس ایس نے بھارت کے تعلیمی نظام پر قبضہ کر رکھا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ نئی دہلی میں جو بچے اور بچیاں ہزاروں کی تعداد میں جمع ہوئے وہ اپنے بہتر مستقبل اور تعلیم کے حوالے سے جائز مطالبات کر رہے تھے کیونکہ بھارت کا تعلیمی نظام بالکل بوسیدہ ہو چکا ہے اور آر ایس ایس نے بھارت کے تعلیمی نظام پر قبضہ جما لیا ہے پولیس کی جانب سے اپنے جائز مطالبا ت کے لیے جمع طالبعلموں پر شیلنگ کرنا اور لاٹھی چارج کرنا انتہائی شرمناک ہے اور یہ ایک غیر جمہوری عمل ہے۔

    دوسری جانب دہلی ہائیکورٹ نے گزشتہ روز احتجاجی مارچ کے دوران طلبہ پرپولیس تشدد کے خلاف دائر درخواست پرفوری سماعت سے انکار کردیا عدالت نے درخواست پرباقاعدہ سماعت بدھ کو مقرر کردی، عدالت نے ریمارکس دیے کہ عدالت کو اس معاملے میں نہ گھسیٹا جائے۔

    واضح‌ رہے کہ گزشتہ روز بھارتی پولیس اور سول کپڑوں میں موجود افراد نے نئی دہلی میں اپنے حقوق کے لیے جنتر منتر پر جمع ہزاروں کی تعداد میں نوجوان لڑ کے اور لڑکیوں پر بدترین تشدد کیا جس کی ویڈیوز اور تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں جبکہ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے اس عمل کی شدید الفاظ میں مذمت کی جا رہی ہے۔

    یہ تحریک مئی 2026 میں سوشل میڈیا پر شروع ہوئی تھی اور دیکھتے ہی دیکھتے لاکھوں افراد کی حمایت حاصل کر چکی ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کو درپیش بڑے عوامی چیلنجز میں سے ایک بن گئی ہے احتجاج کی بنیادی وجہ حالیہ امتحانی اسکینڈلز ہیں، جنہوں نے بھار ت کے تعلیمی نظام پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ گزشتہ ماہ تقریباً 22 لاکھ میڈیکل امیدواروں کو امتحانی پرچہ لیک ہونے کے بعد دوبارہ امتحان د ینا پڑا، جبکہ تقریباً 20 لاکھ ہائی اسکول طلبہ کے آن لائن مارکنگ سسٹم پر بھی تنازع سامنے آیا۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت میں روزگار کے محدود مواقع اور بار بار سامنے آنے والے امتحانی تنازعات نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی بے چینی کی اہم وجوہات بن رہے ہیں۔