Baaghi TV

Tag: بھارت

  • پاکستان کا بھارت سے میچ جیتنا مہنگا پڑگیا:برطانیہ میں مسلمانوں پر حملے:حالات بہت زیادہ خراب

    پاکستان کا بھارت سے میچ جیتنا مہنگا پڑگیا:برطانیہ میں مسلمانوں پر حملے:حالات بہت زیادہ خراب

    ایسٹر:پاکستان کا بھارت سے میچ جیتنا مہنگا پڑگیا:برطانیہ میں مسلمانوں پر حملے:حالات بہت زیادہ خراب ،اطلاعاتکے مطابق ہفتے کے روز لیسٹر میں بڑے پیمانے پر پیدا ہونے والے فسادات میں شدت آگئی ہے دوسری طرف مسلم رہنماوں نے مسلمانوں سے پرامن رہنے کی اپیل کی ہے

    کہا جارہا ہے کہ اس کشیدگی کے درمیان ہجوم کو روکنے کی پولیس نے کوشش کی جس میں بنیادی طور پر مسلم اور ہندو برادریوں کے نوجوان شامل تھے۔

    یہ 28 اگست کو ہندوستان اور پاکستان کے کرکٹ میچ کے بعد تشدد سمیت کئی واقعات میں سے تازہ ترین واقعہ ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں اس علاقے میں ایک اہم پولیس آپریشن جاری رہے گا۔

    اتوار کو کشیدگی برقرار رہی جب پولیس نے کہا کہ اس نے سڑکوں پر اپنی موجودگی بڑھا دی ہے اور نوجوانوں کو مزید تصادم میں پڑنے سے روکنے کے لیے اسنیپ چیکنگ شروع کر دی ہے۔

    ہفتے کی شام لوگوں نے سوشل میڈیا پر ایک ہجوم کی فوٹیج اور تصویریں شیئر کیں جو "جئے شری رام” (بھگوان رام کی فتح) کے نعرے لگا رہے تھے جب یہ شہر میں ایشیائی کمیونٹی کے مرکز بیلگریو روڈ سے مارچ کر رہا تھا۔

    سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ویڈیوز میں درجنوں نقاب پوش افراد کو مارچ کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے جب پولیس اہلکار انہیں لائن میں رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    انادولو ایجنسی نے رپورٹ کیا کہ بیلگراو روڈ پر جمع ہونے والے ہجوم کے درمیان کچھ لوگوں نے مسلم مخالف مظاہرین پر شیشے کی بوتلیں پھینکیں۔

  • بھارت میں  2 دلت بہنیں اجتماعی زیادتی کے بعد قتل،لاشیں درختوں سے لٹکا دیں

    بھارت میں 2 دلت بہنیں اجتماعی زیادتی کے بعد قتل،لاشیں درختوں سے لٹکا دیں

    نئی دہلی: بھارت میں 2 دلت بہنوں کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کردیا گیا۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق ریاست اترپردیش کے شہر لکھم پورکھیڑی میں 6 ملزموں نے 2 دلت بہنوں کواجتماعی زیادتی کے بعد قتل کردیا اور لاشیں درخت سے لٹکا دیں۔

    عدالت میں طلاق کےلئےآئی بیوی کو شوہرنےگلا کاٹ کرقتل کردیا

    پولیس حکام کا کہنا ہے کہ دونوں دلت بہنوں کی لاشیں گھرسےایک کلومیٹر دور کھیت میں درخت سے لٹکی ہوئی ملیں پولیس نے دلت بہنوں سے اجتماعی زیادتی اور قتل کے مجرموں کو گرفتار کرنےکےبجائےمقتول لڑکیوں پرالزام عائد کردیا کہ وہ اپنی مرضی سے مجرموں کے ساتھ گئی تھیں۔

    مقتول دلت بہنوں کی والدہ کی مسلسل فریاد پر بھی پولیس نے ایف آئی آر درج نہیں کی تاہم علاقہ مکینوں کے احتجاج پر پولیس نے رپورٹ درج کرکے 6 ملزموں کو حراست میں لینے کا دعویٰ کیا ہے۔

    قبل ازیں بھارتی ریاست کرناٹکا میں شوہر نے عدالت میں بیوی کو گلا کاٹ کر مار دیا۔اطلاعات کے مطابق ریاست کرناٹکا کے ضلع ہاسن کے شہر ہولیناراسی پور کی فیملی عدالت میں شیواکمار (Shivakumar) اور اس کی بیوی چائیترا (Chaitra) کے درمیان طلاق کا معاملہ زیر غور تھا۔

    اوکاڑہ :ضعیف بیوہ منیراں بی بی کےگھرمیں داخل ہوکر بااثرافراد کا تشدد

    عدالت نے حسب روایت شادی کو بچانے کے لیے دونوں کو ایک اور موقع دیا تھا جوڑے نے کونسلنگ سیشن کے دوران اپنے اختلافات کو بھول کر پھر سے نئی شروعات کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی شیوا کمار نے اپنی بیوی چایئترا پر اس وقت حملہ کیا جب وہ عدالت کے واش روم گئی، شیوا کمار بیوی کے پیچھے گیا اور وہاں اس نے تیز دھار آلے سے بیوی کا گلا کاٹ دیا۔

    واردات کے بعد ملزم نے فرار ہونے کی کوشش کی لیکن عدالت میں موجود افراد نے اسے پکڑ کر پولیس کےحوالے کردیا تھا جب کہ چائیترا کو شدید زخمی حالت میں اسپتال پہنچایا گیا تھاجہاں علاج کے دوران اس کی موت ہوگئی۔پولیس نے ملزم شوہر شیوکمار پر اپنی بیوی کے قتل کے الزام میں ایف آئی آر درج کرلی ہے۔

    بلقیس بانو عصمت دری کیس،11 ملزمان کو رہا کر دیا گیا

  • بھارت میں انتہا پسند ہندوؤں کا نمازیوں پر تشدد،ویڈیو وائرل

    بھارت میں انتہا پسند ہندوؤں کا نمازیوں پر تشدد،ویڈیو وائرل

    بھارت کے انتہا پسند ہندوؤں نے نماز پڑھنے پر مسلمانوں کو ہراساں کرنا شروع کر دیا –

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق بھارتی ریاست اترپردیش کے شہر شاہ جہاں پور میں مسلمانوں کو ہراساں کیا گیا جس کی ویڈیو بناکر سوشل میڈیا پر وائرل کی گئی انتہا پسند ہندوؤں نے اجمیر شریف جانے والے مسلمانوں کو سرعام نماز پڑھنے پر زمین پر بٹھایا اور کان پکڑوا پر معافی منگوائی ۔

    بھارت میں ای موٹرسائیکلوں کے شو روم میں آتشزدگی،8 افراد ہلاک متعدد زخمی


    ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ انتہا پسند ہندو مسلمانوں کو زمین پر بیٹھ کر کان پکڑنے کا کہتے ہیں اور پھر پوچھتے ہیں کہ آپ لوگوں نے کیا غلطی کی ہے، جس پر بھارتی مسلمان جواب دیتے ہیں کہ ہم نے سڑک پر نماز پڑھی اور اس پر ہم معافی مانگتے ہیں۔

    کم سن طالب علم کے اپنی ٹیچر کو منانے کی ویڈیو وائرل،صارفین کے دلچسپ تبصرے

    ویڈیو میں انتہاپسند ہندو کو یہ کہتے سنا جا سکتا ہے کہ اس بار معافی دے رہے ہیں لیکن آئندہ خیال رکھنا ایسی حرکت پوری یو پی میں کہیں نہ کرنا، کیوںکہ اتر پردیش میں مسجد کے سوا کسی اور جگہ نماز پڑھنے پر پابندی ہے-


    اس حوالے سے شاہ جہاں پور پولیس کا کہنا ہے کہ مغربی بنگال سے راجستھان جاتے ہوئے بس میں کچھ لوگ شاہ جہاں پور میں سڑک پر نماز پڑھتے ہوئے پائے گئے جس پر انہیں چالان جاری کر دیئے گئے ہیں اور انہیں بتایا گیا کہ اس کی اجازت نہیں ہے۔

    ملکہ الزبتھ کی طرف سے عمرے کا دعویٰ کرنے والا شخص گرفتار

  • کوہِ نور!! وہ ہیرا جو سب کو چاہیے — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    کوہِ نور!! وہ ہیرا جو سب کو چاہیے — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    کچھ دن قبل برطانیہ کی ملکہ الزبتھ کی وفات کے بعد سوشل میڈیا پر یہ مہم زور پکڑ رہی ہے کہ برطانیہ کو کوہِ نور ہیرا برصغیر کو واپس کرنا چاہئے۔

    کوہِ نور کا ہیرا دنیا کے مہنگے ترین ہیروں میں شمار ہوتا ہے۔ اسکی قیمت کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ کچھ ہیرا شناس اسے انمول کہتے ہیں۔ مگر بعض اندازوں کے مطابق اسکی قیمت تقریباً 400 ملین ڈالر تک ہو سکتی ہے۔ یعنی آئی ایم ایف کی پاکستان کو موجودہ قسط کا تقریباً آدھا حصہ۔

    کوہِ نورفارسی کا لفظ ہے جسکے معنی ہیں روشنی کا پہاڑ۔ اس ہیرے کو کب دریافت کیا گیا۔ اسکا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ اس حوالے سے کئی مفروضے قائم ہیں۔مگر غالباً اسے بارویں یا تیرویں صدی میں بھارت کی دکن کے قریب کانوں سے دریافت کیا گیا۔

    یہ ہیرا موجودہ حالت میں تقریباً 105.6 کیرٹ ہے مگر اس سے پہلے یہ 186 کیرٹ تھا۔ اسے بیسویں صدی میں تراش کر اسکی خوبصورتی میں اضافہ کیا گیا۔ اسکا وزن اس وقت تقریبا 21.2 گرام ہے۔

    یہ ہیرا مغلوں کے پاس بھی تھا کیونکہ اسکا ذکر 1526 میں بابر کی لکھی گئی سوانح حیات تزکِ بابری میں بھی ہے۔مگر بعض محقیقین کا خیال ہے کہ تزک بابری میں اس ہیرے کا ذکر نہیں کسی اور پتھر کا ذکر ہے۔ اور یہ ہیرو دراصل بابر کے بیٹے ہمایوں کو گوالیارہ کے گورنر نے پہلی پانی پت کی لڑائی کی جیت کی خوشی میں تحفتاً دیا۔

    1739 میں جب ایران سے آئے حملہ آوار نادر شاہ نے دیلی پر قبضہ کیا تو اسکے سامنے یہ ہیرا لایا گیا جس نے اسے کوہِ نور کا نام دیا۔ نادر شاہ کی وفات کے بعد اُسکے افغانستان سے آئے جرنیل احمد شاہ درانی نے دہلی پر سلطنت قائم کی اور ہیرا درانی سلطنت میں رہا۔ 1813 میں سکھوں کے درانی سلطنت کے خاتمے پر آخری درانی بادشاہ شاہ شجا کو بھارت سے بھاگنا پڑا اور یہ ہیرا بطور تحفہ راجہ رنجیت سنگھ کو دینا پڑا۔ یہ ہیرا رنجیت سنگھ سے مہاراجہ دلیپ سنگھ کو ملا۔

    جب انگریزوں نے 1849 میں سکھ انگریز جنگ کے اختتام پر پنجاب ہر قبضہ کیا تو یہ ہیرا اُنکے ہاتھ لگا اور اسے ممبئی سے جہاز پر انگلیڈ بھیج دیا گیا جہاں اسے 1850 میں ملکہ برطانیہ کو پیش کیا گیا۔ یوں یہ ہیرا کئی ہاتھ بدلتے بلآخر برطانوی شاہی خاندان کے قبضے میں چلا گیا۔

    وہاں اسکو ماہر ڈچ جوہریوں نے تراش خراش سے مزید نکھارا اور موجودہ شکل میں لے آئے۔

    آج کوہ نور کو تاجِ برطانیہ کا تاج کہا جاتا ہے۔ مگر اسکی ملکیت پر بھارت اور پاکستان کے علاوہ افغانستان اور ایران بھی دعوی کرتے ہیں۔ ماضی میں اسے بھارت لانے کے لیے کئی کوششیں کی گئی۔ 1976 میں اُس وقت کے پاکستانی وزیراعظم ذولفقار علی بھٹو نے بھی اسے پاکستان کو واپس کرنے کی درخواست کی۔ آج بھارت میں اسے واپس بھارت لانے کے لیے کئی سماجی اور حکومتی شخصیات قانونی چارہ جوئی کر رہی ہیں مگر فی الحال برطانوی حکومت یا پرطاموی شاہی خاندان اسے دینے سے انکاری ہے۔

  • بھارت کو شکست دے کر پاکستان نے ورلڈ پولو چیمپیئن شپ کے لیے کوالیفائی کر لیا

    بھارت کو شکست دے کر پاکستان نے ورلڈ پولو چیمپیئن شپ کے لیے کوالیفائی کر لیا

    بھارت کو شکست دے کر پاکستان نے ورلڈ پولو چیمپیئن شپ کے لیے کوالیفائی کر لیا،پاکستان کی پولو ٹیم نے بھارت کو لگاتار دوسری مرتبہ شکست دے کر ورلڈ پولو چیمپیئن شپ کے لیے کوالیفائی کر لیا۔پاکستانی پولو ٹیم نے عالمی مقابلوں کے لیے زون ای سے کوالیفائی کیا جہاں 12ویں ورلڈ پولو چیمپئین شپ امریکی ریاست فلوریڈا کے شہر ویلنگٹن میں 26 اکتوبر سے 6 نومبر تک منعقد ہو گی۔

    پاکستان نے یہ کارنامہ مختصر عرصے میں 2 بار بھارت کو شکست دے کر انجام دیا۔

    انڈیانا پولو کلب میں ہونے والے پہلے پلے آف میچ میں پاکستان نے بھارت کو 4-5 سے شکست دی جبکہ اس کے بعد ایسٹ رینڈ پولو کلب جوہانسبرگ میں دوسرے پلے آف میچ میں بھارت کو پاکستان کے ہاتھوں 4 گولز سے شکست کا سامنا کرنا پڑا جہاں میچ کا اسکور 3-7 رہا۔

    پاکستانی پولو ٹیم کی قیادت حمزہ معاذ کر رہے ہیں جبکہ تیمور ندیم اور راجا محمد مکیال سمیع نے بھی نمایاں کھیل پیش کیا۔پاکستانی پولو ٹیم میں منیجر بریگیڈیئر ریٹائرڈ بدرالزمان اور اسسٹنٹ ٹیم منیجر لییفٹیننٹ کرنل ایاز احمد شامل ہیں۔

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو اور سوات کا دورہ کیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

    پاک فضائیہ کی خیبر پختونخوا، سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے سیلاب سے شدید متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں۔

  • پاکستان نے بھارت کو ہرا کر پولو ورلڈکپ کیلئےکوالیفائی کرلیا

    پاکستان نے بھارت کو ہرا کر پولو ورلڈکپ کیلئےکوالیفائی کرلیا

    پاکستان نے بھارت کو ہرا کر پولو ورلڈکپ کے لیے کوالیفائی کرلیا۔جنوبی افریقا کے شہر جوہانسبرگ میں ہونے والی عالمی پولو چیمپئن شپ 2022 کے کوالیفائنگ میچ میں پاکستان نے دوسرے پلے آف میں بھارت کو شکست دی۔

    پاکستان نے بھارت کو تین کے مقابلے میں سات گول سے ہرایا، پاکستان نے زون ای سے پولو ورلڈکپ کے لیےکوالیفائی کرلیا ہے۔پاکستان کی طرف سے حمزہ معاذ نے 6 جب کہ میکائل سمیع نے ایک گول کیا۔پاکستان پولو ٹیم اکتوبر میں امریکا میں ہونے والے مین راؤنڈ میں کھیلےگی۔

    دوسری طرف ایشیا کپ ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ کے فائنل میں سری لنکا پاکستان کو شکست دے کر چھٹی بار ایشین چیمپئن بن گیا۔

    سری لنکا نے پاکستان کو تیسری بار ایشیا کپ کے فائنل میں شکست دی ہے، سری لنکن ٹیم اس سےقبل 1986 اور 2014 میں بھی پاکستان کو فائنل میں ہراچکی ہے۔سری لنکا کے 171 رنز کے ہدف کے تعاقب میں پاکستانی بیٹرز مقررہ 20 اوورز میں147رنز بناسکے، محمد رضوان 49 گیندوں پر 55 رنز بناکر نمایاں رہے۔

    اس سے قبل 58 کے مجموعی اسکور پر آدھی ٹیم کے پویلین لوٹنے کے بعد بھانوکا راجاپکسا کی شاندار بیٹنگ کی بدولت سری لنکا نے مقررہ 20 اوورز میں 6 وکٹوں پر170 رنز بنائے۔راجاپکسا 45 گیندوں پر 71 رنز بناکر ناٹ آؤٹ رہے۔

    دبئی انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے گئے میچ میں پاکستان کے کپتان بابر اعظم نے ٹاس جیت کر سری لنکا کو بیٹنگ کی دعوت دی۔پاکستان ٹیم میں 2 تبدیلیاں کی گئیں، حسن علی اور عثمان قادر کی جگہ نسیم شاہ اور شاداب خان کو ٹیم میں شامل کیا گیا۔ایشیا کپ کے فائنل میں سری لنکا کی اننگز کا آغاز بالکل اچھا نہ رہا ،پہلے ہی اوور میں 2 کے مجموعی اسکور پر اوپنر کوشل نسیم شاہ کی شاندارگیند پر بولڈ ہوگئے۔

    سری لنکا کو دوسرا نقصان پاتھم نسانکا کی صورت میں اٹھانا پڑا، وہ 8 رنز بناکر حارث رؤف کی گیند پر کیچ آؤٹ ہوگئے۔سری لنکن ٹیم کی تیسری وکٹ چھٹے اوور میں 36 کے مجموعی اسکور پر گری، گھناتھیلاکا حارث رؤف کی تیز گیند کا سامنا نہ کرسکے اور ایک رنز بناکر بولڈ ہوگئے جبکہ افتخار احمد نے سیٹ بیٹر دھننجایا ڈی سلوا کو 28 رنز پویلین بھیجا۔

    سری لنکا کو پانچواں نقصان کپتان داسن شانکا کی صورت میں اٹھانا پڑا ، وہ 2 رنز بناکر شاداب کی گیند پر بولڈ ہوگئے۔58 رنز پر 5 وکٹیں گرنے کے بعد بھانوکا راجاپکسا اور ہسارنگا کے درمیان شاندار 58 رنز کی شراکت داری قائم ہوئی لیکن پھر ہسارنگا 21 گیندوں پر 36 رنز بناکر آؤٹ ہوگئے۔

    اختتامی اوورز میں راجا پکسا جارحانہ اننگز کھیلتے ہوئے 45 گیندوں پر 71 رنز بناکر ناقابل شکست رہے،اس کے علاوہ کرونارتنے نے 14 رنز بنائے۔پاکستان کی جانب سے حارث رؤف نے 3 ، نسیم، شاداب اور افتخار نے ایک، ایک وکٹ حاصل کی۔

    سری لنکا کے 171 رنز کے ہدف کے تعاقب میں پاکستان ٹیم کا آغاز اچھا نہ رہا، کپتان بابر اعظم ایک بار پھر بڑی اننگز کھیلنے میں ناکام رہے، وہ صرف 8 رنز بناکر آؤٹ ہوگئے جبکہ نئے آنے والے بیٹر فخر زمان پہلی گیند پر صفر پر پویلین لوٹے۔

    22 رنز پر 2 وکٹیں گرنے کے بعد افتخار احمد اور محمد رضوان کے درمیان 71 رنز کی شراکت داری قائم ہوئی لیکن پھر افتخار 31 گیندوں پر 32 رنز بناکر آؤٹ ہوگئے۔

    پاکستان کی چوتھی وکٹ 102 رنز پر گری، محمد نواز 6 رنز بناکر ٹیم کا ساتھ چھوڑ گئے، اس کے بعد میڈل آرڈر ریت کی دیوار ثابت ہوا، خوشدل شاہ 2، محمد آصف صفر اور شاداب خان 8 رنز بناکر آؤٹ ہوگئے۔محمد رضوان نے 49 گیندوں پر55 رنز بنائے پر وہ بھی پاکستان کو کامیابی نہ دلواسکے اور پوری ٹیم 20 اوورز میں 147 رنز پر ڈھیر ہوگئی۔

    سری لنکا کی جانب سے مدوشان نے 4 اور ہسارنگا نے 3 وکٹیں حاصل کیں۔یوں پاکستان کو 23 رنز سے شکست دے کر سری لنکا نے ایشیا کپ کا ٹائٹل اپنے نام کرلیا۔سری لنکا کے بھانوکا راجاپکسا کو مین آف دی میچ کا ایوارڈ دیا گیا جبکہ پلیئر آف دی سیریز کا ایوارڈ ونندو ہسارنگا کے نام رہا۔

  • کوہ نور :  تاج برطانیہ، پاکستان، افغانستان اور بھارت —  ارشد خان صافی

    کوہ نور : تاج برطانیہ، پاکستان، افغانستان اور بھارت — ارشد خان صافی

    ملکہ برطانیہ کے وفات کے تناظر میں کئی تاریخی واقعات و نوادرات کے علاوہ کوہ نور ہیرے کا تذکرہ بھی پھر سے ہونے لگا جو کہ اب شاہی قانون کے تحت بادشاہ بننے والے شہزادہ چارلس کی بیگم کامیلا پارکر کو منتقل ہوجائیگا! کچھ دوستوں کی گزارش پر اس تاریخی نادر پتھر اور شاہی زیور پر مختلف ممالک کی دعویداری کے قانونی پس منظر پرکچھ گزارشات حسب ذیل ہیں:

    مرغی کے چھوٹے انڈے کے سائز کا ہیرا کوہ نور عام تاثر کے برعکس نا تو دنیا کا سب سے بڑا ہیرا ہے اور نا ہی یہ مغلوں کے جواہرات کے خزانے کا سب سے شاندار ہیرا تھا لیکن قرون وسطیٰ سے لیکر آج تک کئی عظیم شاہی خاندانوں کے تاج و تخت کی زینت بننے اور عالمی محلاتی سیاست میں اسکے کردار کی وجہ سے یہ آج دنیا کے بیش قیمت بلکہ انمول نوادرات میں سرفہرست ہے-

    تخت برطانیہ کے تصرف میں یہ ہیرا 1849 میں دوسرے اینگلو-سکھ جنگ کے برطانوی فتح کیساتھ اختتام پر برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی کے گورنر جنرل لارڈ ڈلہوزی اور رنجیت سنگھ کے 11 سالہ پوتے اور جانشین دلیپ سنگھ کے درمیان معاہدہ لاہور کے تحت آیا جس کےساتھ تخت لاہور پر مسلمانوں کے ایک ہزار سالہ اقتدار کے دوران 39 سالہ سکھ راج کا بھی خاتمہ ہوگیا تھا-

    لارڈ ڈلہوزی نے پنجاب کو برٹش انڈیا میں شامل کرکے کوہ نور ہیرے کے ساتھ دلیپ سنگھ کو بھی ملکہ وکٹوریہ کے پاس برطانیہ بھیج دیا تھا جہاں پر بعد میں وہ عیسائی مذہب اختیار کرکے برطانوی اشرافیہ کا حصہ بن گیا- دلچسپ بات یہ ہے کہ اس "معاہدے” کو میری ناقص معلومات میں کبھی برطانوی حکومت نے کوہ نور پر تاج برطانیہ کی ملکیت کے واحد قانونی جواز کے طور پر پیش نہیں کیا- اسکی وجہ ظاہر ہے یہی ہےکہ برطانیہ کے اپنے کامن لاء کیمطابق بھی ایک نابالغ لڑکے کے ساتھ جبر کی حالت میں کے گئے معاہدے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے-

    اسکے برعکس ہیرے پر ہر دعوے کے جواب میں برطانیہ کے سرکار کا عمومی سادہ سا جواب یہ ہوتا ہے کہ ہیرے کے تاریخی طور پر کئی دعویداروں کی موجودگی میں اسکی ملکیت کے معاملے کو حل کرنا ممکن نہیں جن میں کئی افراد کے علاوہ بھارت، پاکستان اور افغانستان کی ریاستیں بھی شامل ہیں لہٰذا یہ تاج برطانیہ کے پاس ہی بہتر ہے-

    کوہاٹ (خیبر پختونخوا) میں شاہی پسمنظر کی بدولت انگریز دور میں جاگیر رکھنے والے احمد شاہ ابدالی کے خاندان کے پرنس سلطان سدوزئی کے خاندان کے ایک فرد نے درانی سلطنت کے ایک جانشین کی حیثیت سے 1993 میں آنجہانی ملکہ الزبتھ کو ایک خط لکھ کر کوہ نور کو انکے خاندانی وراثت کے طور پر پاکستان واپس کرنے کی درخواست کی تھی-

    جواب میں 18 اکتوبر 1993 کو لکھے گیے ایک خط میں بکنگھم پلس کے رائل کولکشنز کے ایدمنسٹریٹر ڈنیل ہنٹ نے ملکہ کی توسط سے خط کیلئے شکریہ اور ابدالی کے خاندان کیلئے احترام کے جذبات کے ساتھ انتہائی مہذب انداز میں اسی بنیاد پر ان کی درخواست رد کردی تھی کہ بوجوہ اس ہیرے کے بیشمار دعویدار ہیں-

    کوہ نور پر متعدد قانونی دعویداروں کا تاریخی پس منظر کچھ یوں ہے کہ یہ ہیرا کچھ روایات اور مستند تاریخ کیمطابق قرون وسطیٰ (چودھویں صدی عیسوی سے پہلے) میں جنوب مشرقی بھارت کے ساحلی ریاست اندرا پردیش میں کرشنا دریا کے کنارے کلور کے کانوں میں نکالا گیا تھا- مغل سلطنت کے بانی ظہیرالدّین بابر کی سولہویں صدی میں لکھی سوانح حیات تزک بابری کے مطابق مغلوں سے پہلے دہلی کے سب سے طاقتور مسلمان حکمران علاالدّین خلجی نے چودھوی صدی کےاوائل میں جنوبی ہند میں اپنے فتوحات کے دوران اس ہیرے کو دکن کی مقامی کاکٹیا حکمرانوں سے چھینا تھا-

    سلطان علاالدّین خلجی اصلی نام علی گرشاسپ تھا اور وہ موجودہ افغانستان کے زابل صوبے میں قلات خلجی کے ترکمن سردار شمس الدین مسعود کا بیٹا تھا- خلجی سلطنت کے بعد کوہ نور تغلق، سیدوں اور لودھی پٹھانوں سے ہوتے ہوۓ مغل شہشاہوں کے ہاتھ آیا اور مغلوں کے عروج کے دور میں تاج محل کے معمار شاہجہان نے اسے کئی دوسرے جواہرات کے ساتھ اپنے مشہور تخت طاؤس کا حصہ بنایا! سو سال بعد مغلوں کے زوال کے دورکے نااہل ترین عیاش حکمران محمد شاہ رنگیلاکے رہے سہے سلطنت پر 1739 میں جب ایران کے آتش مزاج پادشاہ نادر شاہ افشار نے حملہ کیا تو دہلی کے لوٹ مار کے ساتھ تخت طاؤس اور کوہ نور بھی ایران لے گیا- ملتان میں پیدا ہونے والے جوان سال پشتون احمد شاہ ابدالی جنہوں نے بعد میں کندھار اور لاہور کو اپنے مراکز بنا کرموجودہ افغانستان اور پاکستان پر مشتمل درانی سلطنت بنائی اس وقت نادر شاہ کے پسندیدہ کمانڈر کے طور پر ایرانی فوج کے افسر تھے-

    نادر شاہ کے اچانک قتل کے بعد دشمنوں سے خوفزدہ انکے نواسے نے اپنی حمایت کے عوض کوہ نور احمد شاہ ابدالی کو دے دیا اور اس طرح بعد میں یہ دبنگ احمد شاہ بابا کے عیاش کابلی نواسے اور درانی سلطنت کے سب سے نااہل کابلی حکمران شاہ شجاع کو وراثت میں مل گیا-

    1813 میں شاہ شجاع نے رنجیت سنگھ اور خطے میں قدم جماتے انگریزوں کے ساتھ ایک ڈیل کے تحت کابل اور کندھار کی حکمرانی کو انکے حریف برکزئی امیروں کے قبضے سے واپس چھڑانے میں مدد اور پنجاب میں پناہ کے بدلے نا صرف کوہ نور رنجیت سنگھ کے حوالے کیا بلکہ رنجیت سنگھ کو پشاور پر قبضہ کرنے میں سہولتکاری کا وعدہ بھی کیا- آخر کار کوہ نور انگریزوں کے ہاتھوں رنجیت سنگھ کے سلطنت کے خاتمے کے ساتھ اپنے موجودہ مقام پر پہنچا جسکا خلاصہ میں شروع میں کر چکا ہوں!

    مندرہ بالا تاریخ کے تناظر میں بھارت کی حکومت نے پہلی دفعہ 1976 میں باضابطہ طور پر برطانیہ سے کوہ نور کی واپسی کا مطالبہ کیا اور اسی سال پاکستان کے وزیراعظم زوالفقارعلی بھٹو نے بھی "تاریخی بنیاد” پر یہ مطالبہ پاکستان کیلئے کیا- اس وقت کے برطانوی وزیر اعظم جم کلنگھن نے دونوں ملکوں کا مطالبہ "قانونی وجوہات” کا جواز بنا کر مسترد کردیا! اس کے بھارت میں طویل عرصے تک اس معاملے پربھارتی سپریم کورٹ میں ایک پٹیشن پر شنوائی ہوتی رہی اور پارلیمنٹ میں اس پرقراردادیں منظور ہوتی رہیں جبکہ پاکستان میں اس سلسلے میں قابل ذکر کیس بیرسٹر جاوید جعفری کا لاہور ہائی کورٹ میں داخل 2016 کا پٹیشن تھا جو انکے مطابق انکی طرف سے برطانوی حکومت کو 700 سے زیادہ خطوط کا کوئی مثبت جواب نا ملنے پر کورٹ نے قابل سماعت قرار دیا تھا-

    انہی دنوں میں بھارتی سپریم کورٹ میں اس نوعیت کا کیس اختتامی مراحل میں تھا- پاکستان کیلئے کوہ نور کے دعویداروں کا موقف یہ تھا کہ ہیرے کے آخری قانونی دعویدار احمد شاہی خاندان ہو یا رنجیت سنگھ، چونکہ شاہ شجاع بھی تخت لاہور کا اپنی مرضی سے اتحادی بن گیا تھا اسلئے دونوں صورتوں میں یہ "تخت لاہور” سے معاہدہ لاہور کے جبری سمجھوتے کے تحت ایک غیر ملکی غاصب کمپنی نے زبردستی بٹورا ہے اسلئے اسے واپس لاہور بھیج دیا جاۓ- برطانوی حکومت کا نیا موقف بھی قانونی جواز سے زیادہ متضاد دعووں کی وجہ سےعملی پیچیدگیوں کی بنیاد پر تھا جسکا اظہار برٹش رائل کولکشنز کے ایڈمنسٹریٹر ڈنیل ہنٹ نے خیبرپختونخوا پاکستان کے پرنس طیفور جان کو ان کے احمد شاہ ابدالی کے خاندان کے ایک مستند وارث کی حیثیت سے کوہ نور پر اسکے دعوی کے سرکاری جواب میں 1993 میں کیا تھا-

    پاک و ہند کے روایتی متضاد دعووں کے درمیان سب سے دلچسپ اور سیدھا سادہ دعوا افغانستان پر 11/9 سے پہلے حکمران ملا عمر کے طالبان امارت سے آیا! اکتوبر 2000 میں طالبان کے امارت اسلامی کے خارجہ امور کے ترجمان فیض احمد فیض نے کسی قانونی اور تاریخی باریکیوں میں پڑے بغیر براہراست ملکہ الزبتھ سے مطالبہ کیا کہ "کوہ نور افغانستان کا قانونی اثاثہ” ہے جسکو "اور کئی قیمتی چیزوں کی طرح انگریزوں نے نوآبادیاتی دور میں چوری کیا ہے” جو کہ طالبان اب واپس لاکر اپنے ملک کی تعمیر نو میں استعمال کرنا چاہتے ہیں اسلئے کوہ نور کو جلد از جلد واپس کیا جاۓ تاکہ اسکو کابل میوزم میں رکھا جاسکے”- اسکیلئے علاوہ طالبان نے رنجیت سنگھ کو "ایک بڑا غدار” قرار دیا جس نے کوہ نور چوری کیا تھا اسے کسی نے دیا نہیں تھا-

    حکومت برطانیہ نے ظاہر ہے طالبان کی حکومت کو غیر قانونی قرار دیتے ہوۓ اس مطالبے پر غور کرنے سے انکار کردیا لیکن ساتھ میں ریاست افغانستان کے دعوے کو مکمل مسترد نا کرکے ایک اور ممکنہ دعویدار کے ہونے کی بحث کھول دی- برطانیہ کا ان متضاد اور متعدد دعووں کو اپنے حق میں استعمال کرنے کی پالیسی اور ہیرے کی واپسی کے معدوم امکانات کے پیش نظر بھارت میں نریندرا مودی جیسے قوم پرست حکومت نے بھی 2016 میں سپریم کورٹ میں اپنے جواب میں کوہ نور پر برطانوی ملکیت کو اس تاریخی طور پرغلط جواز کے تحت تسلیم کردیا کہ کوہ نور کو رنجیت سنگھ نے خود برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی کی حمایت حاصل کرنے کیلئے ایک معاہدے کے تحت برطانیہ کے حوالے کیا تھا گو کہ اسکا "عوامی” سطح پر بھارت کا موقف اب بھی اسکے برعکس ہے اور تقریبا اسی سے ملتا جلتا مبہم سا موقف پاکستانی حکومت نے بھی لاہور ہائی کورٹ میں اختیار کیا- اس طرح جائز یا ناجائز کوہ نور اتنے دعویداروں کی موجودگی میں تاج برطانیہ کے پاس رہا اور شائد ہمیشہ رہیگا!

  • بھارتی ٹیم پاکستان سے شکست پر حیلے بہانے گھڑنے لگی،شکست کا ملبہ پاکستانی ٹیم پر ڈالنے کی کوشش

    بھارتی ٹیم پاکستان سے شکست پر حیلے بہانے گھڑنے لگی،شکست کا ملبہ پاکستانی ٹیم پر ڈالنے کی کوشش

    بھارتی ٹیم ایشیا کپ میں پاکستان سے شکست پرحیلے بہانے گھڑنے لگی پاکستان کرکٹ ٹیم پر میچ میں خلل پیدا کرنے کا الزام لگا دیا۔

    باغی ٹی وی: ذرائع کے مطابق ایشیا کپ میں پاکستان سے ہارنے کا دکھ بھارتی ٹیم کو نہیں بھول رہا اتوار کو کھیلے جانے والے میچ میں پاکستان کے ہاتھوں تاریخی شکست کے بعد ریفری کے پاس شکایت لیے پہنچ گئی-

    پاک افغان میچ کے بعد ہنگامہ آرائی کے معاملے پر آئی سی سی کو خط لکھیں گے،رمیز راجہ

    بھارتی ٹیم نے اپنی شکست اور خراب کارکردگی کا ملبہ جیتی ہوئی ٹیم پر ڈال دیا۔بھارتی ٹیم نے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستان کرکٹ ٹیم نے میچ میں خلل پیدا کیا،کہا کہ بیٹنگ کے دوران پاکستان ٹیم نے جان بوجھ کر تاخیر کی۔پاکستان کی جانب سے تاخیر کے باعث ہم میچ ہارے۔

    بھارتی ٹیم کا کہنا ہے کہ محمد رضوان سمیت پاکستانی کھلاڑی جان بوجھ کر میچ روکتے رہےمیچ رکنے سے ہمارا فوکس اور مومینٹم بدلنے کی کوشش کی گئی پاکستان ٹیم کےبیٹرزنے جان بوجھ کر گلوز منگوائے اور بیٹ تبدیل کئے۔ ہمارے بولرز کو انتظار کروایا میچ رکنے سے ہمارا فوکس اور مومینٹم بدلنے کی کوشش کی گئی۔

    میچ ریفری نے بھارتی ٹیم کی شکایت کو بے بنیاد قرار دے کر تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ میچ ریفری نےجواب دیا کہ پاکستان ٹیم نے کوئی تاخیر نہیں کی، بریک کے دوران گلوز اور بیٹ تبدیل کئے گئے۔

    ایشیا کپ :میچ کے دوران افغان بالر فرید احمد آپے سے باہر، آصف علی نے بھی بلا اٹھالیا

    واضح رہے کہ ایشیا کپ سپر فور کے میچ میں پاکستان نے بھارت کو شکست دی تھی، میچ میں کیپنگ کے دوران محمد رضوان گھٹنے کی تکلیف کا شکار ہوئے تاہم محمد رضوان نے تکلیف کے باوجود بیٹنگ کی جبکہ اس دوران فزیواور باہر سے کھلاڑی محمد رضوان کے پاس آتے رہے۔

    افغان بولرکی بدتمیزی پر شعیب اختر شدید برہم

  • سری لنکا سےشکست ہوئی توبھارتی ٹیم ایشیا کپ سے باہر ہوگی:انضمام الحق

    سری لنکا سےشکست ہوئی توبھارتی ٹیم ایشیا کپ سے باہر ہوگی:انضمام الحق

    لاہور:قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان انضمام الحق نے کہا ہے کہ دفاعی چمپیئن بھارتی ٹیم شدید دباؤ کا شکار ہے اور سری لنکا سے شکست کی صورت میں ایشیا کپ 2022 سے باہر ہو جائے گی۔

    سابق کپتان انضمام الحق کا کہنا تھا کہ گزشتہ معدد مقابلوں میں بھارتی کرکٹ ٹیم کے کپتان روہت شرما دباؤ کا شکار نظر آ رہے ہیں اور کپتان کی باڈی لینگویج ٹیم کے دیگر کھلاڑیوں پر اثرانداز ہوتی ہے۔

    انضمام الحق نے کہا کہ سری لنکا سے میچ کے حوالے سے بھارتی ٹیم کافی دباؤ کا شکار ہے کیونکہ اگر وہ سری لنکا سے کامیاب نہیں ہوتے تو ٹورنامنٹ سے باہر ہو جائیں گے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ بھارتی ٹیم ایک یونٹ کے طور پر بہت اچھا کھیل رہی تھی اور کوئی بڑا اسٹار نہ ہونے کے باوجود بھی شان دار کارکردگی دکھا رہی تھی۔سابق کپتان نے کہا کہ میچ میں پورا دباؤ بھارت پر ہوگا اور یہ ممکن ہے کہ بھارت ایشیا کپ سے باہر ہو جائے۔

    قبل ازیں 4 ستمبر کو سری لنکا نے افغانستان کی ٹیم کو 4 وکٹوں سے شکست دی تھی جبکہ سپر فور مرحلے کے پہلے میچ میں بھارت کو روایتی حریف پاکستان سے شکست ہوئی تھی۔دبئی میں آج رات بھارت کے روہت شرما کے خلاف ایک اور جیت سری لنکا کو ٹائٹل کے قریب لے جائے گی۔

    بھارت 2018 میں جیتے ہوئے اپنے ایشیا کپ ٹائٹل کا دفاع کررہا ہے جہاں گزشتہ ٹورنامنٹ تک ایشیا کپ 50 اوور کے فارمیٹ میں ہوتا تھا جبکہ بھارت نے آخری مرتبہ کوئی آئی سی سی ٹائٹل 2013 میں جیتا تھا جب وہ چیمپئنز ٹرافی اپنے نام کرنے میں کامیاب ہوا تھا۔

    رواں سال ایشیا کپ اس لیے بھی خاص اہمیت کا حامل ہے کہ آسٹریلیا میں ٹی20 ورلڈ کپ اکتوبر اور نومبر میں ہوگا۔

    پاک فوج کی ٹیمیں ریلیف آپریشن میں انتظامیہ کی بھرپورمدد کر رہی ہیں،وزیراعلیٰ

    وزیراعظم فلڈ ریلیف اکاؤنٹ 2022 میں عطیات جمع کرانے کی تفصیلات

    باغی ٹی وی بلوچستان کے سیلاب متاثرین کی آواز بن گیا ہے.

  • ہم ہار نہ جائیں سے, ہم جیتیں گے!!! — سیدرا صدف

    ہم ہار نہ جائیں سے, ہم جیتیں گے!!! — سیدرا صدف

    ہم ہار نہ جائیں سے, ہم جیتیں گے” کی سوچ نے پاکستان کے موجودہ کھلاڑیوں میں لڑنے کا جذبہ پیدا کیا ہے۔۔۔بھارتیوں کی اصل پریشانی یہ ہے کہ وہ پاکستان ٹیم کدھر ہے جو بڑے ناموں کے باوجود گھبراہٹ سے آدھا میچ پہلے ہی ہاری ہوتی تھی۔۔۔۔

    اگر آپ صرف 2012 سے 2020 تک پاک بھارت بڑے مقابلوں کی بات کریں تو 98 فیصد میچز میں آدھا مقابلہ وہیں ہارا محسوس ہوتا تھا جب پاکستانی کپتان ٹاس کے لیے آتے تھے۔۔ہم ہار نہ جائیں کا خوف نظر آتا تھا۔۔۔۔

    ٹیم منیجمنٹ اور کپتان کو ٹیم میں لڑنے کا جذبہ لانے کا کریڈٹ جاتا ہے۔۔۔ میچ کے نتیجے سے زیادہ یہ اہم ہوتا ہے کہ ٹیم لڑے۔۔۔ ثقلین مشتاق, بابر, ٹیم کے سنیئر کھلاڑی رضوان,شاداب میچ سے پہلے اور میچ کے دوران پریشر اچھا ہینڈل کرتے ہیں اور ٹیم کا مورال بھی اٹھائے رکھتے ہیں۔۔۔

    ایشیا کپ کے پاک بھارت دونوں میچز میں اگر کپتانوں کی بات کریں تو روہت شرما کے مقابلے میں برابر اعظم نے جونیئر ہونے کے باوجود پریشر کو زیادہ بہتر ہینڈل کیا۔۔۔دوسرے میچ میں جب بھارتی بلے بازوں نے چڑھائی کی بابر پریشان نظر آئے لیکن خوف زدہ یا حواس باختہ نہیں ہوئے۔۔۔۔مس فیلڈنگ پر بھی مجموعی طور پر برداشت دیکھائی۔۔

    مشکل آنے پر پریشانی فطرتی ہے۔۔لیکن اس پریشانی کا سامنا کرنا اور نکلنا دلیری ہے۔۔۔بابر نے مڈل اوورز میں بالرز سے بخوبی کام لیا اور بالرز نے بھی کپتان کی بھرپور لاج رکھ کر بھارتی مڈل آرڈر کو چلتا کیا۔۔۔

    جب ٹیم ہارتی ہے تو تنقید کا مرکز زیادہ تر کپتان رہتا ہے اس لیے جیت پر کپتان کو درست فیصلوں کا کریڈٹ بھی کھل کر دینا چاہیے۔۔۔۔

    نواز کا بیٹنگ آرڈر پروموٹ کرنے پر بابر کی بہت تعریف ہوئی ہے۔۔۔بھارت کے خلاف گروپ میچ ہارنے کے باوجود پاکستانی سپوٹرز نے بابر اور ٹیم کو بیک کیا اور کھلاڑیوں نے بھی اس محبت کا جواب میچ جیت کر دیا۔۔اب جب بابراعظم ٹی ٹوئینٹی فارمیٹ میں وقتی خراب فارم سے دوچار ہیں پاکستانی سپوٹرز ان کے لیے دعاگو ہیں۔۔۔۔ہماری ڈیمانڈ اپنی ٹیم سے یہ ہی ہے کہ لڑو مقابلہ کرو نتائج اللہ کے ہاتھ میں ہیں۔۔۔