Baaghi TV

Tag: بھارت

  • بھارت میں مسلمانوں کا قتل عام تاریخ کے آئینے میں

    بھارت میں مسلمانوں کا قتل عام تاریخ کے آئینے میں

    بھارت میں مسلمانوں کا قتل عام تاریخ کے آئینے میں

    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

    بھارتی شہر جودھ پور میں ہندو مسلم فسادات، متعدد علاقوں میں کرفیو نافذ،بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق چاند رات کو مسلمانوں کی جانب سے عید کی مناسبت سے اپنا جھنڈا لگانا تھا جب کہ اسی جگہ ہندو تہوار پرشورام جینتی کے سلسلے میں ہندئووں نے بھی اپنا جھنڈا لگانے کی ضدکی، جس پر دونوں گروپوں میں جھگڑا شروع ہوگیااورعید کی نماز کے بعد مختلف علاقوں میں ہندو مسلم فسادات شروع ہوگئے۔گذشتہ ہفتے بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں ہنومان جینتی تہوار کے موقع پر انتہا پسند ہندوئوں نے مسلمانوں پر حملے کردیئے جس کے بعد پرتشدد فسادات پھوٹ پڑے۔بھارتی میڈیا کے مطابق نئی دہلی کے علاقے جہانگیر پوری میں ہنومان جینتی تہوار کا جلوس نکالا جا رہا تھا۔ جلوس کے شرکا نے معمولی تلخ کلامی کے بعد مسلمانوں کی املاک پر حملہ کردیا۔

    مقامی مسلمان رہنمائوں کا کہنا ہےکہ پولیس نے داد رسی کے بجائے الٹا مسلمانوں کو ہی گرفتار کرنا شروع کردیا اورپولیس انتہا پسندہندوئوں کو تحفظ فراہم کررہی ہے۔دہلی میونسپل کارپوریشن نے نوٹس کے بغیر جہانگیر پوری کی جامع مسجد کے دروازوں سمیت بہت سی املاک کو مسمار کر دیا۔ سپریم کورٹ نے اس کارروائی کو روکنے کے احکامات جاری کیے تھے، تاہم اس کے باوجود توڑ پھوڑ کی کارروائی جاری رہی۔کچھ روز قبل اسی علاقے میں مسلم مخالف فسادات ہوئے تھے، جس میں جھڑپوں کے دوران متعدد افراد زخمی ہوئے تھے اس واقعے کے بعد ہی حکمران جماعت بی جے پی کے رہنما نے اس علاقے میں کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے ایم سی ڈی سے کہا تھا کہ وہ فسادات میں ملوث افراد کی املاک کو تباہ کر دے۔جہانگیر پوری میں ہندوئوں کی بھی آبادی ہے، تاہم توڑ پھوڑ جامع مسجد کے علاقے میں کی گئی اور اس کی زد میں بیشتر مسلمانوں کی املاک آئیں۔

    اسی طرح ریاست کرناٹک میں سوشل میڈیا پر توہین اسلام پر مبنی پوسٹ کرنے پر مسلمان شہریوں نے شدید احتجاج کیا جس کے دبائو میں پولیس نے پوسٹ کرنے والے شخص کو گرفتار کرلیا تاہم اسے وی آئی پی پروٹوکول دیا گیا۔جس پر علاقہ مکین مشتعل ہوگئے اور تھانے کے سامنے احتجاج کیا، پولیس کی لاٹھی چارج پر احتجاج پرتشدد ہوگیا اور مظاہرین نے پولیس پر دھاوا بول دیا۔بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق بھارتی ریاستوں مدھیہ پردیش، گجرات،جھاڑکھنڈ اورمغربی بنگال میں ہندوانتہاپسندوں نے مذہبی ریلی کے دوران مسلمانوں کے گھروں اوردکانوں پرحملے کئے اورلوٹ مارکے بعد آگ لگا دی۔ اطلاعات کے مطابق بھارت کی 4ریاستوں میں مسلم کش فسادات میںکئی ہلاکتیں اوردرجنوں زخمی ہوگئے۔

    ہندوانتہاپسندوں نے پولیس اہلکاروں کے ساتھ مل کر مسلمانوں کے گھروں میں گھس کرخواتین سے بدتمیزی بھی کی اورمردوں کوتشدد کا نشانہ بنایا۔مدھیہ پردیش کے مختلف شہروں میں کرفیو نافذ کردیا گیا۔گجرات میں مسلمانوں کی املاک اورگھروں پرحملے جاری ہیں۔ہندوانتہاپسندوں کی حمایتی پولیس نے ہندوئوں کے حملے روکنے کے بجائے متعدد مسلمانوں کوگرفتارکرلیا۔ ادھر دہلی کی جواہرلعل نہرو یونیورسٹی میں مسلمان طلبا کے گوشت سے بنی ڈشز کھانے پرپابندی عائد کردی گئی۔ پابندی کے خلاف احتجاج کرنے والے 16مسلمان طلبا پولیس کے تشدد سے زخمی ہوگئے۔ متعدد مسلمان طلباء کوگرفتاربھی کرلیا گیا۔

    بھارت میں مسلمانوں پر تشدد یا برا سلوک کوئی نئی بات نہیں۔ ہر دور میں ایسے واقعات ہوتے رہے ہیں لیکن نریندرمودی کی حکومت میں مسلمانوں کے مسائل میں اضافہ ہوا ہے اورزندگی گذارنامشکل ہوگئی ،ان کی نقل و حرکت بھی محدود ہو چکی ہے۔ کیونکہ بھارت میں ایک ہندوتواکی متعصب حکومت ہے ایک ایسی حکومت جو سرکاری سطح پر ہندوئوں کے علاوہ کسی دوسرے مذہب سے تعلق رکھنے والوں کو اہمیت نہیں دیتی۔ آئے دن ہندوئوں کے علاوہ تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والوں کے ساتھ نامناسب سلوک کے واقعات پیش آتے رہتے ہیںاورمسلمان خاص نشانہ ہیں۔ جنونی ہندوئوں کی مسلمانوں کے ساتھ برے سلوک اور تشدد کی کئی ویڈیوزسوشل میڈیاکی وجہ سے دنیا کے سامنے آچکی ہیں۔

    بھارت میں مسلمانوں کے خلاف فرقہ وارانہ فسادات کی تاریخ بہت پرانی ہے ،17ویں صدی سے لے کر آج تک لاکھوں فسادات ہوچکے ہیں 18مئی 2001کو شائع شدہ مضمون کے مطابق اگر کرائم ریکارڈ کے اعدادو شما ر کو سچ مانا جائے تو 1947سے لیکر اب تک بھارت میں 20لاکھ سے زائد فسادات تھانوں میں درج ہوئے ،ان میں اتر پردیش میں 4لاکھ 25ہزار،بہار میں 3لاکھ75ہزار، ہریانہ میں 1لاکھ 50ہزار ،پنجاب میں 2لاکھ،مہاراشٹر میں 3لاکھ50ہزار ،راجستھان میں 1لاکھ25 ہزار مقدمات درج ہیں ۔ 1947میں بٹوارے کے فوراََ بعد نوا کھالی سے شروع ہونے والے فسادات ،خانپور،علی گڑھ،مرادآباد،حیدرآباد،بہارشریف،بھاگلپور، جمشیدپور وغیرہ سے ہوتے ہوئے گجرات پہنچ کر اپنی انتہا کو پہنچ گئے ،جس میں مسلمانوں کی نسل کشی کی گئی اور مسلمانوں کے خلاف ظلم کی تمام حدیں پارکر دی گئیں۔

    عزیزبرنی کی لکھی کتاب بھارت میں مسلمانوں کا قتل عام کے مطابق بھارت میں فسادات کی شروعات 1713 میں شروع ہو چکی تھی،1713میں گائے ذبح کرنے پر ہندو دہشت گردوں نے پہلا فساد برپا کیا ،20-1719میں کشمیر میں ایک مسلمان اور ہندو کی آپسی لڑائی فسادات کا باعث بنی،اسی طرح کئی چھوٹے بڑے نسلی فسادات ہوئے ۔1782میں سلہٹ ،آسام میں محرم کے موقع پرہندوؤں کو مسلمانوں کے اکثریتی علاقوں میں مذہبی جلسے کرنے سے روکنے پر فسادات بھڑکائے گئے جس میں مسلمانوں کا قتل ِعام کیا گیا-

    1809 میں بنارس میں اورنگزیب کے ہاتھوں بنائی گئی مسجد پر ہندوؤں کے قبضہ کرنے کی کوشش پر فسادات بھڑک اٹھے، 1840 میں مرادآباد میں فسادات ہوئے ،1851میں ممبئی میں پیغمبر اسلام حضرت محمدۖ کے خلاف ایک گجراتی اخبار میں شائع مضمون فسادات کی وجہ بنا، 1857میں بجنو ر اور مرادآبادمیں فسادات ہوئے ۔1871میں بریلی میں محرم اور رام نومی کے ایک دن ہونے سے فسادات ہوئے-

    1874میںممبئی میںآر۔ایچ جلمئے کی ایک کتاب”گریٹ پروفیٹ آف دی ورلڈ”کے خلاف فساد بھڑکا یہ کتاب انگریزی میں تھی اس میں حضرت محمد ۖ کی شان میں گستاخی کی گئی تھی ۔1890میں علی گڑھ میں ایک مسجد میں سور کا گوشت اور ہندو ؤں کے ایک کنویں میں گائے کا گوشت ڈالنے پر فساد بھڑکایا گیا ۔1892میں بھاش پٹم ،اگست 1893میںممبئی۔ستمبر 1893میں قلابہ اور 1893میں گئو رکشا کے نام پر اتر پردیش کے بلیا میں فسادات ہوئے ۔1894میں مدراس،ناسک کے یلالہ، 1895میں پوربندراورچھلیا میں بھی فسادات ہوئے ،1907میں مورگھٹ میں بنگال کی تقسیم پر، 1912میں ایودھیہ میں بقر عید پر گائے کی قربانی کرنے سے روکنے پر، 1913میں نیلور میں ایک مسجد شہیدکرنے پر، 1916میں پٹنہ میں بقر عید پرہندوؤں کا قربانی روکنے پر، 1921میں گیا اور شاہ آباد میںبھی مسلمانوں کو انتہا پسند ہندوؤں کی طرف سے قربانی سےروکنے پرفسادات بھڑکے،1921میں مالےگاؤں میںانڈین کونسل ایکٹ1919کےسوال پرفسادات ہوئےاسی طرح بنگلور میں تحریک عدم تعاون کے دوران فسادات ہوئے ،24-1923 میں امرتسر،لاہور،سہارنپور، الٰہ آباد،کلکتہ اور دوسرے شہروں میں راجہ رام موہن رائے کی شدھی تحریک فسادات کاسبب بنی ۔

    1923میں ممبئی، 1932میںالور،1933 میں کلکتہ ،1935میں ہزاری باغ میں محرم کا جلوس اور رام نوی ایک ساتھ ہونے کے باعث فسادات پھوٹ پڑے اور ساتھ میں چمپارن اور سکندرآباد میں بھی مسلمانوں کو بے دردی سے تہ و تیغ کیا گیا ،1937میں گئو کشی کے مسئلے پر فسادات بھڑکائے گئے ،1939میں اترپردیش اور کلکتہ میں ہولی کے موقع پر مسجد کے سامنے میوزک بجانے سے روکنے پر مسلمانوں کو تختہ مشق بنا یا گیا ،اسی طرح اسی سال خانپور میں ایک جلوس پر حملے کے سبب جھگڑا ہوا جس سے فسادات بھڑکا دیے گئے ۔1941میں کلکتہ میں محرم کے موقع پر مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلی گئی ۔1950میں کالی کٹ ،دہلی ،پیلی بھیت،علی گڑھ اور ممبئی میں آر ۔ایس۔ایس کے دہشت گردوں کے ذریعے مسلمانوں کو بھارت چھوڑنے پر مجبور کرنے پر فسادات ہوئے ۔1953میں ہندومہاسبھا کے ایک جلوس پر پتھر پھینکنے کا بہا نہ بنا کر مسلمانوں پر مظالم ڈھانے کیلئے فسادات برپا کئے گئے،اسی سال احمدآباد،ناسک اور پونے میں گن پتی اور محرم ایک ساتھ ہونے پر فساد بھڑکا یا گیا-

    1956 میں اتر پردیش کے کئی شہروں میں بھارتیہ بدیہ بھون کے ذریعے حضرت محمدۖ کے متعلق توہین آمیز مواد شائع کرنے پر فسادات ہوئے ، اسی طرح کوئی سال ایسا نہیں گیا جس میں مسلمانوں کے خلاف چھوٹے چھوٹے بہانوں سے فسادات نہ بھڑکائے گئے ہوں۔1962میں مالدہ میںحضرت محمد ۖ کی شبیہ مبارک شائع کرنے پر فساد برپا ہوا ،1963میں ندیا،کلکتہ میں حضرت بل سے موئے مبارک چوری ہونے پر فسادات ہوئے ،1966میں رانچی میں اردو کے خلاف نکالا گیا جلوس فسادات کا سبب بنا ۔1974میں شیوسینا کے ذریعے ہندوؤں میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کی مہم جوگیشوری میں فسادات ہوئے 1975میں جوگیشوری میں شیوسینا کے دہشتگردوں کے مسلمانوں پر حملے فسادات کا باعث بنے ۔

    1987میں میرٹھ،ہاشم پور ملیانہ،پھرشیلاپوجن اور رام جنم بھومی تنازع نے زور پکڑنے کے بعد بھارت میں نہ ختم ہونے والے فسادات کا سلسلہ شروع ہوا جو آج تک تھم نہ سکا۔1990میں لال کرشن اڈوانی کی رتھ یاترا نے پورے بھارت میں مسلمانوں کے خلاف نفرت اور ظلم و تشددکو نقطہ عروج پر پہنچا دیا جو 6دسمبر 1992کو بابری مسجد کی شہادت کے بعد بھارت بھر میں مسلمانوں کی املاک تباہ کی گئیں ان کی دکانیں اور جائیدادیں زبردستی چھین لی گئیں اور مسلمانوں کا سنگینوں اور تلواروں کے ذریعے قتل عام کیا گیا ، جس میں شیو سینا، آر ایس ایس اور بجرنگ دل و دیگر ہندو دہشتگرد تنظیموں کو سرکاری آشیرباد اور پولیس کا تحفظ حاصل تھا۔

    مودی کی دہشت گردغنڈہ تنظیم آر ایس ایس بھارت میں ہندو شدت پسندی کو منظم اور انتہائی خطرناک انداز میں مسلمانوں کیخلاف نفرت اورتشدد کوابھار رہی ہے ۔بھارت میں مسلمانوں کیخلاف ایک سازش کے تحت ہندوانتہاپسندوں کے مفروضوں پرمبنی محبت جہاد(love jehad)،، کرونا جہاد اور سول سروسز جہاد ، ریڑھی جہاد، لینڈ جہادتوکبھی گئورکشاکے نام پرمسلمانوں پرمظالم کے پہاڑ ڈھائے جارہے ہیں،تاریخ گواہ ہے کہ بھارت میں پولیس نے کبھی بھی مسلمانوں کوتحفظ نہیں دیا،ہمیشہ ہی آر ایس ایس اور دیگر ہندوانتہاپسند دہشت گردتنظیموں کی آلہ کاربن کر مسلمانوں پر ظلم وجبر کے علاوہ سیدھی گولیاں مار کر انہیں قتل کرتی رہی ہے ،جنہیں کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔

    بھارت میں محض شک کی بنیاد پرمسلمانوں کو ہراساں کیا جاتا ہے ،بھارت میں ہندو انتہاپسندوں اور آر ایس ایس کے غنڈوں نے اسلام اورمسلمانوں کے خلاف زہر افشانی توکب سے شروع کی ہوئی ہے لیکن اب یہ نفرت اپنی آخری حدوں کو چھو رہی ہے،حکومت کی جانب سے اس نفرت کو عام کیا جارہا ہے،انفرادی کے بجائے اجتماعی طور پر مسلمانوں کی مخالفت میں قوانین بنوائے جارہے ہیں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف نفرت اب ا دارہ جاتی حیثیت اختیار کرچکی ہے اور نازی مودی نے مسلمانوں کیخلاف ایسی فضا پیدا کردی ہے کہ جہاں ان کی زندگیاں دائوپرلگ چکی ہیں ۔

  • ستر سالہ معذور خاتون کے ساتھ کیا گیا گھناؤنا کام،ملزم گرفتار

    ستر سالہ معذور خاتون کے ساتھ کیا گیا گھناؤنا کام،ملزم گرفتار

    ستر سالہ معذور خاتون کے ساتھ کیا گیا گھناؤنا کام،ملزم گرفتار

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں خواتین کے ساتھ زیادتی کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے

    بھارت میں خواتین کا گھروں سے نکلنا محال ہو چکا ہے، آئے روز خواتین کے ساتھ زیادتی کے واقعات بڑھ رہے ہیں، مودی سرکار خواتین کی عزت کے تحفظ کے لئے کچھ بھی نہیں کر رہی، ابھی حال ہی میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے ، بھارتی ریاست اترپردیش میں ایک ستر سالہ خاتون کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ہے

    بھارتی میڈیا کے مطابق واقعہ مرزا پور ضلع کی حدود میں پیش آیا جہاں ایک گاؤں میں ملزمان نے ایک ستر اسالہ خاتون کو اغوا کیا جو ذہنی طور پر معذور تھی، اغوا کرنے کے بعد اسے زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور بعد ازاں خاتون کو ملزمان بیہوشی کی حالت میں کھیتوں میں چھوڑ کر بھاگ گئے

    خاتون کے گھر میں نہ ہونے پر اسکے گھر والوں نے کافی تلاش کیا نہ ملنے پر پولیس کو اطلاع دی اور لاپتہ ہونے کی رپورٹ درج کروائی، پولیس نے کاروائی شروع کی تو انہیں کھیتوں سے بیہوشی کی حالت میں خون سے لت پت خاتون ملی جس کو فوری طبی امداد کے لئے ہسپتال منتقل کیا گیا ،ایڈیشنل پولیس سپرنٹنڈنٹ سنجیو واجپئی کا کہنا ہے کہ گاؤں والوں نے ملزم کے کپڑوں پر خون کے دھبے دیکھے تو اسے فوراً پکڑ لیا جب اس سے سختی کے ساتھ پوچھا گیا تو اس نے اپنا جرم قبول کر لیا باقی ملزمان کی تلاش جاری ہے جلد انہیں بھی گرفتار کر لیا جائے گا،

    قبل ازیں بھارتی ریاست اڈیشہ کے ضلع کٹیک میں واقع چوپاڈا نامی گاوں میں دلت برادری کی ایک 10 سالہ نابالغ لڑکی کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ہے، متاثرہ لڑکی کو بسنت سوین عرف بابو نے اس وقت آبروریزی کا نشانہ بنایا جب اسکے والدین گھر پر نہیں تھے بابو نے گھر کے احاطے میں داخل ہو کر لڑکی سے پانی مانگا اور جب وہ گھر کے اندر پانی لینے گئی تو وہ بھی کمرے میں جا پہنچا اور اسکے ساتھ زبردستی گھناؤنا کام کیا، متاثرہ لڑکی کے والدین نے بابو کے خلاف مقدمہ درج کروایا ہے

    کرونا میں مرد کو ہمبستری سے روکنا گناہ یا ثواب

    لاک ڈاؤن ختم کیا جائے، شوہر کے دن رات ہمبستری سے تنگ خاتون کا مطالبہ

    جسمانی تعلقات سے بھی کیا پھیل سکتا ہے کرونا وائرس؟

    بیوی طلاق لینے عدالت پہنچ گئی، کہا شادی کو تین سال ہو گئے، شوہر نہیں کرتا یہ "کام”

    50 ہزار میں بچہ فروخت کرنے والی ماں گرفتار

    ایم بی اے کی طالبہ کو ہراساں کرنا ساتھی طالب علم کو مہنگا پڑ گیا

    اچھی نوکری کا جھانسہ دے کر غیر ملکی لڑکی سے کیا گیا گھناؤنا کام

  • بھارت میں کورونا سے47 لاکھ افراد ہلاک ہوئے، عالمی ادارہ صحت

    بھارت میں کورونا سے47 لاکھ افراد ہلاک ہوئے، عالمی ادارہ صحت

    نئی دہلی :بھارت میں کورونا سے47 لاکھ افراد ہلاک ہوئے،اطلاعات کے مطابق عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کورونا وائرس سے ہونے والی اموات کے نئے اعدادو شمار جاری کردیے۔

    عالمی ادارہ صحت کی ایک نئی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں کورونا وائرس کے نتیجے میں اندراج کردہ اموات سے 3 گنا زیادہ افراد ہلاک ہوئے۔

    اقوام متحدہ کے ادارے نے جمعرات کو کہا کہ 2021 کے آخر تک کورونا سے ایک کروڑ 49 لاکھ سے زائد اموات ہوئیں جبکہ جنوری 2020 سے دسمبر 2021 کے آخر تک اس عرصے میں کورونا سے ڈبلیو ایچ او کو رپورٹ کی جانے والی اموات کی سرکاری تعداد تقریباً 54 لاکھ تھی۔

    عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ یہ تعداد سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہے کیونکہ کچھ ممالک میں اموات کا صحیح طریقے سے اندراج نہیں کیا گیا۔ڈبلیو ایچ او کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اب تک جن اموات کو شمار نہیں کیا گیا ان میں سے تقریباً نصف بھارت میں تھیں۔

    عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ وبائی امراض کے نتیجے میں بھارت میں 47 لاکھ افراد کی موت ہوئی۔رپورٹ کے مطابق اموات کے اصل اعداد و شمار بھارتی حکومت کے بتائے ہوئے اعداد و شمار سے دس گنا زائد ہے۔

    دوسری جانب بھارتی حکومت نے کورونا سے اموات پر دیے گئے ڈبلیو ایچ او کے اعداد و شمار مسترد کردیے۔بھارت کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کووڈ 19 سے اموات پونے پانچ لاکھ ہوئی ہیں۔

  • بھارت:ہندو انتہا پسندوں نےعید گاہ سے مسلم جھںڈا اور لاؤڈ اسپیکر اتار دیا، کرفیو نافذ،مسلمانوں نے نماز عید گھروں پر ادا کی

    بھارت:ہندو انتہا پسندوں نےعید گاہ سے مسلم جھںڈا اور لاؤڈ اسپیکر اتار دیا، کرفیو نافذ،مسلمانوں نے نماز عید گھروں پر ادا کی

    جودھ پور: بھارتی ریاست راجستھان میں ہندو جماعت نے عید گاہ سے مسلم تنظیم کا پرچم اتار کر اپنا جھنڈا لگا دیا اور لاؤڈ اسپیکر بھی اتار کر لے گئے۔

    باغی ٹی وی :عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق راجستھان کے شہر جودھ پور میں گزشتہ روز ہونے والے ہند و مسلم فسادات میں عید کے روز مزید اضافہ ہوگیا جودھپور کے علاقے جلوری گیٹ پر آج عید کے موقع پر زبردست ہنگامہ آرائی دیکھی گئی ،جس کے بعد پورے ضلع اور شہر میں انٹرنیٹ سروسز معطل اور پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے۔

    مقبوضہ کشمیرمیں ایک اور بھارتی فوجی نے خودکشی کر لی

    فسادات کا آغاز مسلم اکثریتی علاقے سے ان کی جماعت کا پرچم اتار ہندو جماعت کا جھنڈا لگانے پر ہوا تھا تاہم آج عید کی نماز کے موقع پر شرپسندوں نے عید گاہ پر ہندو جھنڈا لگا دیا اور لاؤڈ اسپیکر بھی ساتھ لے گئے۔

    بھرتی میڈیا کے مطابق ہندو انتہا پسندوں نے علاقے میں واقع عید گاہ میں مسلمانوں کو نماز عید ادا کرنے سے روکنے کی کوشش کی اور مسلمانوں کی طرف سے عید کے موقع پر لگائی گئی جھنڈیوں اور بینروں کو اتار دیا اس مذموم حرکت پر نمازیوں میں اشتعال پھیل گیا اور نماز کے بعد ایک بڑا احتجاجی مظاہرہ بھی کیا گیا –

    علاقے میں مسلمانوں اور ہندو شرپسندوں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں اور پتھراؤ کیاگیا جس سے متعدد گاڑیوں کے شیشے ٹوٹ گئے اور چار پولیس اہلکار زخمی ہوگئے مظاہرین نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے مقامی رکن قومی اسمبلی کے گھر پر کھڑی بائیک کو آگ لگادی۔

    جلوری گیٹ سے عیدگاہ روڈ تک پولیس نے مظاہرین پر لاٹھی چارج کیا اورآنسو گیس استعمال کی جھڑپوں کے بعد ضلع اور شہر میں انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی گئی ہیں بھارتی میڈیا کے مطابق اس دوران پولیس نے میڈیاکے نمائندوں پر تشدد بھی کیا جس کے خلاف صحافیوں نے سڑک پر دھرنادیا۔

    پولیس نے الزام عائد کیا کہ مظاہرین کی جانب سے پتھراؤ کیا گیا تھا۔ 10 سے زائد افراد کو حراست میں بھی لیا گیا ہے۔

    دوسری جانب بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے ضلع کھرگون میں آج عید الفطر کے موقع پر مکمل کرفیو نافذ ہے اور لوگوں نے گھروں ہی میں نماز عیدادا کی –

    حریت کانفرنس کے چیئرمین مسرت عالم بٹ کی عید کے موقع پر اپیل

    میڈیا رپورٹس کے مطابق کھرگون میں گزشتہ ماہ منائے گئے ہندوؤں کے مذہبی تہوار رام نومی پر فرقہ وارانہ تشدد کے بعد کرفیو نافذ کر دیاگیا تھا آج عید الفطر کے موقع پر ضلعی انتظامیہ نے دوبارہ مکمل کرفیو نافذ کردیا ہے اور حساس علاقوں میں ڈرون اور سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے نگرانی کی جا رہی ہے۔

    رپورٹس کے مطابق علاقے کے مسلمانوں نے عید گاہوں کی بجائے گھرو ں میں ہی نماز عید ادا کی ہندو برادری آج علاقے میں اپنا مذہبی تہوارپرشورام جینتی منارہی ہے شہر میں پولیس نے جگہ جگہ چوکیاں قائم کر دی ہیں اور اس کے علاوہ پولیس کا مارچ پاسٹ بھی کیا جا رہا ہے۔ شہر میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے 13سو فوجیوں پر مشتمل خصوصی فورس کو بھی طلب کیا گیا ۔

    واضح رہے کہ گزشتہ ماہ کھرگون میں رام نومی کے موقع پر ہونے والے تشدد میں مسلمانوں کے کم از کم دس گھروں کو آگ لگا دی گئی اور 2 درجن سے زائد افراد زخمی ہوئے جن میں زیادہ تر مسلمان تھے-

    ریاست کے دونوں اطراف آج کشمیری یوم سیاہ منائیں گے،وزیر اعظم آزاد کشمیر

  • مسافر طیارہ تباہ ہونے سے بال بال بچ گیا،12 مسافر زخمی

    مسافر طیارہ تباہ ہونے سے بال بال بچ گیا،12 مسافر زخمی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مسافر طیارہ تباہ ہونے سے بال بال بچ گیا، واقعہ میں 12 مسافر زخمی ہو گئے ہیں

    واقعہ بھارت میں پیش آیا ہے جہاں مسافر طیارے کو تباہ ہونے سے بچا لیا گیا تا ہم طیارے میں سوار مسافروں میں سے 12 کو چوٹیں آئی ہیں جن کو طبی امداد کے لئے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے ،بھارت کی نجی ایئر لائن اسپائس جیٹ کے طیارے کو ممبئی سے درگاپورہوائی اڈے پر اترتے وقت موسم کی شدید خرابی کا سامنا کرنا پڑا لیکن وہ کسی بڑے حادثے سے بچ گیا

    موسم کی خرابی کی وجہ سے طیارہ بوئنگ بی 737 بے قابو ہو گیا تھا جس کی وجہ سے طیارے میں سوار مسافروں میں خوف و ہراس پھیل گیا، اسی دوران مسافروں میں سے 12 مسافر زخمی ہوئے، اسپائس جیٹ کے ایک ترجمان نے میڈیا کو بتایا ہے کہ یکم مئی کو اسپائس جیٹ کا بوئنگ بی 737 طیارہ ممبئی سے درگاپور کے لیے فلائٹ ایس جی 945 ہوائی اڈے پر اترتے وقت بے قابو ہوگیا تھا طیارہ کے درگاپور میں اترنے پر فوری طبی امداد فراہم کی گئی اسپائس جیٹ کو اس افسوسناک واقعے پر افسوس ہے اور وہ زخمیوں کو ہر ممکن طبی امداد فراہم کر رہا ہے

    واضح رہے کہ ماہ مارچ میں بھارت کا ایک اسپائس جیٹ طیارہ دہلی کے اندرا گاندھی بین الاقوامی ہوائی اڈے پر بجلی کے پول سے ٹکرا گیا تھا محکمہ کی طرف سے یہ کئی بارہدایت کی گئی تھی جیٹ میں بہت زیادہ فنی خرابیاں پائی جارہی ہیں اور اب یہ طیارے اڑانے کے قابل نہیں رہے.لٰہذا اس کمپنی کے اس ماڈل کے طیاروں کو اپڈیشن سے پہلے نہ اڑایا جائے

    کاش. پی آئی اے والے یہ کام کر لیتے تو PK8303 کا حادثہ نہ ہوتا، سنیے مبشر لقمان کی زبانی اہم انکشافات

    ماشاء اللہ، پی آئی اے کے پائلٹ ماضی میں کیا کیا گل کھلاتے رہے ؟سنئے مبشر لقمان کی زبانی

    سول ایوی ایشن نے گونگلوؤں سے مٹی جھاڑ دی،پائلٹ کوذمہ دار ٹھہرانے کا لیٹر کیوں جاری کیا گیا؟ سنئے مبشر لقمان کی زبانی

    طیارہ حادثہ،ابتدائی رپورٹ اسمبلی میں پیش، تحقیقاتی کمیٹی میں توسیع کا فیصلہ،پائلٹس کی ڈگریاں بھی ہوں گی چیک

    طیارہ حادثہ، تحقیقات کے لئے جے آئی ٹی تشکیل

    لاشوں کی شناخت ،طیارہ حادثہ میں مرنیوالے کے لواحقین پھٹ پڑے،بڑا مطالبہ کر دیا

    کراچی طیارہ حادثہ،طیارہ ساز کمپنی ایئر بس نے ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ جاری کر دی

  • عید الضحیٰ سے قبل الیکشن دیکھ رہا ہوں: شیخ رشید

    عید الضحیٰ سے قبل الیکشن دیکھ رہا ہوں: شیخ رشید

    اسلام آباد:عید الضحیٰ سے قبل الیکشن دیکھ رہا ہوں،اطلاعات کے مطابق شیخ رشید نے کہا ہے کہ عید الضحیٰ سے قبل الیکشن دیکھ رہا ہوں۔سابق وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہماری خواہش ہے کہ حالات بہتر ہو جائیں، ہماری پاکستان کے کسی ادارے سے لڑائی نہیں۔

    انہوں نے کہا کہ یہ ہمیں سلیکٹڈ کہتے تھے ہم انہیں امپورٹڈ کہتے ہیں، مسجد نبویﷺ میں جو کچھ ہوا وہ نہیں ہونا چاہیے تھا، ان لوگوں کی شکلوں سے ہی لوگ نفرت کرتے ہیں، عمران خان پر مشکل وقت ہے ساتھ چھوڑنا غداری ہوگی۔

    شیخ رشید نے کہا ہے کہ مداخلت سازش سے زیادہ خطرناک ہے، حمزہ شہباز آپ میرے بچوں کی طرح ہیں، آپ ٹریپ ہوگئے ہیں، پنجاب میں منحرف ارکان نااہل ہوجائیں گے تو پھر یہ کیا کریں گے۔

    سابق وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ پاک فوج نے اس ملک کی سالمیت کیلئے قربانیاں دی ہیں، چینی 12 اور گھی کی قیمتوں میں 15روپے اضافہ ہوگیا، میں تو پہلے سے ہی کہتا تھا ن میں سے ش نکلے گی سب میرا مذاق بناتے تھے۔انہوں نے کہا کہ بتائیں ن لیگ ملک میں کہاں نظر آرہی ہے، یہ حکومت امپورٹڈ کے ساتھ سلیکٹڈ بھی ہے، مئی سیاست کے لیے اہم مہینہ ثابت ہوگا، ملک کی سیاسی صورتحال کو شدید خطرات ہیں۔

    شیخ رشید نے کہا کہ باپ اور بیٹے پر فرد جرم کی تاریخ لگی ہوئی تھی، آپ دنیا کے کسی بھی ملک جائیں آپ کو انڈے اور ٹماٹر پڑیں گے۔

  • بھارت نے سپر سونک براہموس بحری جہاز شکن کروز میزائل کا بھی تجربہ کر لیا

    بھارت نے سپر سونک براہموس بحری جہاز شکن کروز میزائل کا بھی تجربہ کر لیا

    نئی دہلی: بھارت کا سپر سونک براہموس بحری جہاز شکن کروز میزائل کا تجربہ ،اطلاعات کے مطابق بھارت نے سپر سونک براہموس بحری جہاز شکن کروز میزائل کا تجربہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    اندامان اور نیکو بار جزائر کے فوجی ہیڈ کوارٹر کی جانب سے جاری ایک اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ بھارتی بحری بیڑے اور اے این سی نے 27 اپریل کو براہموس کروز میزائل کا کامیاب تجربہ کرتے ہوئے ایک بار پھر ثبوت پیش کیا ہے کہ وہ جنگ کے لیے تیار ہے۔

    بھارتی فوجی ہیڈ کوارٹر نے براہموس میزائل کے سمندر میں اپنے ہدف کو نشانہ بنانے کے مناظر بھی شیئر کیے ہیں۔

    براہموس میزائل جس کا نام ہندوستان کے دریا برہم پترا اور روس کے دریائے ماسکو کے نام پر رکھا گیا ہے، دونوں ممالک نے مشترکا طور پر تیار کیا ہے۔

    اِس سے قبل بھارتی فوج نے 24 مارچ کو اعلان کیا تھا کہ اس نے جوہری صلاحیت کے حامل زمین سے زمین پر مار کرنے والے سپر سونک براہموس کروز میزائل کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔

    براہموس سپر سونک کروز میزائل آبدوز، بحری جہاز، ہوائی جہاز اور زمین سے بھی داغے جا سکتے ہیں۔

    بھارت میں شدید گرمی اور اُس پر بجلی کے بحران نے عوام کا جینا دوبھر کر دیا ہے۔ درجہ حرارت میں اضافے اور لوڈ شیڈنگ کے ریکارڈ ٹوٹ رہے ہیں۔ ملک کے بعض شہروں میں 18 گھنٹے تک کی لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے۔

    بھارت میں گزشتہ چھ برسوں میں بجلی کا یہ سب سے سنگین بحران ہے جبکہ بجلی کی مانگ گزشتہ چار دہائیوں میں بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ حکومت کو اسکول و کالج بند کرنے پڑے ہیں جبکہ متعدد مسافر ٹرینیں بھی منسوخ کرنی پڑی ہیں۔

    اس ہفتے جنوبی ایشیا میں گرمی عروج پر رہی۔ مارچ کا مہینہ بھی تاریخ کا سب سے گرم مہینہ ثابت ہوا تھا۔ گزشتہ کئی دنوں سے دارالحکومت دہلی کا درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے اوپر ہے۔

    محکمہ موسمیات نے آنے والے دنوں میں دہلی میں درجہ حرارت 44 ڈگری اور شمال مغربی بھارت کے بعض علاقوں میں 47 ڈگری تک پہنچ جانے کا خدشہ ظاہر کیا ہے حالآنکہ ابھی مئی اور جون کی شدت سے بھرپور گرمی باقی ہے۔

    محکمہ موسمیات نے بڑھتی ہوئی گرمی کے پیش نظر شمالی بھارت کی کئی ریاستوں میں ریڈ الرٹ سے پہلے عملی اقدام کے لیے اورنج الرٹ جاری کر دیا ہے۔

    تیزی سے بڑھتی گرمی کی وجہ سے بڑی تعداد میں لوگوں کے بیمار پڑنے کا خطرہ ہے جس کے لیے ہسپتالوں میں خصوصی انتظامات کیے جارہے ہیں۔ خیال رہے کہ بھارت میں ہر سال لو لگنے سے ہزاروں افراد کی موت ہو جاتی ہے۔

    دوسری جانب آل انڈیا پاور انجینئرز فیڈریشن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ملک کے تقریباً تمام بجلی گھروں کو کوئلے کی قلت کا سامنا ہے جس کی وجہ سے آنے والے دنوں میں بجلی کے ایک بڑے بحران کا خطرہ ہے۔

    حکومت نے بجلی گھروں کو کوئلے کی تیز رفتار ترسیل کے لیے بعض مسافر ٹرینیں منسوخ کر دی ہیں۔ واضح رہے کہ بھارت میں تقریباً 70 فیصد بجلی کی پیداوار تھرمل پاور اسٹیشن سے ہوتی ہے جہاں کوئلے کا استعمال کیا جاتا ہے۔

  • بھارت: بورس جانسن کو بلڈوزر کی سواری بھاری پڑ گئی:اپنے ہی ناراض ہوگئے

    بھارت: بورس جانسن کو بلڈوزر کی سواری بھاری پڑ گئی:اپنے ہی ناراض ہوگئے

    لندن: بھارت: بورس جانسن کو بلڈوزر کی سواری بھاری پڑ گئی:انسانی حقوق کی تنظیموں کا سخت ردعمل ،اطلاعات کے مطابق برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن کو بھارت میں جے سی بی بلڈوزر کی سواری بھاری پڑ گئی۔

    تفصیلات کے مطابق ایک طرف جہاں بھارت میں مسلمانوں کے خلاف بلڈوزر کی کارروائی سرخیوں میں ہے وہاں برطانیہ میں بھی بلڈوزر کے چرچے ہونے لگے ہیں۔

     

    گزشتہ دنوں جب برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے بھارت کے دورے کے دوران جے سی بی کی سواری کی تو ان کی تصویریں اخبارات کی زینت بنیں، جس پر برطانیہ میں اپوزیشن پارٹی نے اس عمل کے لیے وزیر اعظم بورس جانسن سے استعفے کا مطالبہ کر دیا ہے۔

     

    بورس جانسن کو برطانیہ میں 2 خواتین ممبران پارلیمنٹ نے ایسے دنوں میں گجرات میں ایک جے سی بی فیکٹری کے دورے پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے، جب فرقہ وارانہ جھڑپوں کے نتیجے میں مسلمانوں کے گھروں اور دکانوں کو بلڈوزر کے ذریعے مسمار کرایا گیا۔

     

     

    لیبر پارٹی کی ایم پیز نادیہ وہٹوم اور زارا سلطانہ نے سوال کیا کہ کیا برطانوی وزیر اعظم نے وزیر اعظم مودی کے ساتھ گھروں اور دکانوں کی مسماری کا معاملہ اٹھایا؟

    خیال رہے کہ جے سی بی برطانیہ کے جے سی بیمفورڈ ایکسکیویٹر کی مکمل ملکیت والی کمپنی ہے۔ جانسن کے جے سی بی کی سواری کرنے پر سوال اس لیے اٹھایا جا رہا ہے کیوں کہ اس کمپنی کے بلڈوزر کا استعمال جہانگیر پورا میں مسلمانوں کے گھروں کو مسمار کرنے کے لیے کیا گیا تھا، حالاں کہ سپریم کورٹ نے اس کارروائی کو فوراً روکنے کا حکم صادر کر دیا تھا۔

    واضح رہے کہ بی جے پی کی زیر قیادت حکومتوں اور شہری اداروں کا اصرار تھا کہ یہ مسماری تجاوزات کو ہٹانے کے لیے کی گئی تھی، تاہم اپوزیشن اور کارکنوں کا کہنا ہے کہ حکومت تجاوزات ہٹانے کی آڑ میں مسلمانوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔

  • بھارتی انتہا پسند ہندو مسلمانوں کے بعد اب سکھوں کےجانی دشمن، پُرتشدد جھڑپیں

    بھارتی انتہا پسند ہندو مسلمانوں کے بعد اب سکھوں کےجانی دشمن، پُرتشدد جھڑپیں

    بھارتی ریاست پنجاب کے شہر پٹیالہ میں دوگروہوں میں جھڑپوں کے بعد انتہا پسند ہندوؤں نے ہڑتال کی کال دیتے ہوئے خالصتان کے حامیوں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔ شہر میں زبردست کشیدگی کی وجہ سے انٹرنیٹ اور موبائل فون سروس بند کر دی گئی ہے۔

    پولیس نے حالات پر قابو پانے کے لیے ہوائی فائرنگ کی جبکہ تناؤ کے سبب جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب شہر میں کرفیو نافذ کر دیا گیا تھا۔

    واضح رہے کہ بھارتی ریاست پنجاب میں علیحدگی پسند تحریک خالصتان کے حامی 29 اپریل کو علامتی طور پر یومِ خالصتان مناتے ہیں۔ ہندو گروہوں نے اس کی مخالفت میں گزشتہ روز پٹیالہ میں ’’خالصتان مردہ باد‘‘ کے نام سے ایک ریلی کا اہتمام کیا تھا۔

    ہندو ریلی کی قیادت انتہا پسند جماعت شیو سینا کے ایک مقامی رہنما کر رہے تھے۔ جب یہ ریلی کالی ماتا مندر کے پاس پہنچی تو وہاں بڑی تعداد میں سکھ آ گئے اور دونوں گروہوں میں جھڑپ شروع ہو گئی جس میں متعدد افراد زخمی بھی ہوئے۔

    ریاست پنجاب کی حکومت نے پولیس کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے تین اعلیٰ افسران کا تبادلہ کر دیا ہے جبکہ پولیس نے اب تک متعدد افراد کے خلاف مقدمات درج کیے ہیں۔

    بھارتی صوبے پنجاب کو سکھوں کے لیے ایک علیحدہ ریاست خالصتان بنانے کی مہم کافی پرانی ہے جس سے وابستہ بیشتر رہنما امریکا، کینیڈا اور برطانیہ جیسے ممالک میں رہ کر اپنی مہم چلاتے ہیں۔ خالصتان تحریک کی حامی ایک معروف تنظیم سکھ فار جسٹس (ایس جے) ہے۔

    گزشتہ برس اکتوبر میں سکھ فار جسٹس تنظیم نے مجوزہ خالصتان ریاست کے لیے ایک آن لائن ریفرنڈم کا اعلان بھی کیا تھا جس میں 18 برس سے زائد عمر کے تمام سکھوں سے حصہ لینے کی اپیل کی گئی تھی۔

    بھارت میں 2014ء سے اقتدار پر براجمان انتہا پسند جماعت بی جے پی کے وزیراعظم نریندر مودی کے دور میں مسلم، سکھ اور عیسائی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی زندگیاں مشکل کر دی گئی ہیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کو ہندوستان میں ہندوؤں کے علاوہ کسی اور کا وجود گوارہ نہیں۔

  • ایمبولینس کا بھاری کرایہ:باپ بیٹے کی میت بائیک پر لیجانے پر مجبور

    ایمبولینس کا بھاری کرایہ:باپ بیٹے کی میت بائیک پر لیجانے پر مجبور

    بھارتی ریاست آندھرا پردیش کے ضلع ترپاٹی میں ایمبولینس ڈرائیور زکی جانب سے 10 ہزار روپے کرائے کے مطالبے پر ایک باپ بیٹے کی میت کو بائیک پر لے جانے پر مجبور ہوگیا۔

    دردناک واقعہ بھارت کے ایک سرکاری اسپتال میں پیش آیا جہاں اسپتال کے باہر کھڑے باپ کو 10 سالہ بیٹے کی میت اسٹریچر سے اٹھاتے اور بائیک پر لے جاتے دیکھا گیا جس کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔

    بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق ڈویژنل آفیسر کا بتانا ہے کہ 10سالہ بچے کو شدید گردے اور جگر کی خرابی کے باعث اسپتال لایا گیا تھا اور وہ پیر کی شب انتقال کرگیا۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسپتال میں موجود ایمبولینسز نے والد سے بچے کی میت گاؤں منتقل کرنے کے لیے 10 ہزار کرایہ طلب کیا جس کے بعد بچے کے والد نے پرائیویٹ ایمبولینس کو بچے کی میت اپنے آبائی گاؤں منتقل کرنے کے لیے بلایا تاہم اسپتال میں موجود ایمبولینس انجمن نے والد کو ایسا کرنے کی اجازت نہیں دی۔

    میڈیا رپورٹ کے مطابق اسپتال اور انجمن انتظامیہ کے خلاف کارروائی کا آغاز کردیا گیا ہے۔