Baaghi TV

Tag: بھارت

  • انتہا پسند ہندوؤں کا دو مسلمان نوجوانوں پر تشدد،خنزیر کا گوشت کھلانے کی کوشش

    انتہا پسند ہندوؤں کا دو مسلمان نوجوانوں پر تشدد،خنزیر کا گوشت کھلانے کی کوشش

    نئی دہلی: بھارت میں ہندو انتہاپسند دہشتگردوں کے مسلمانوں پر مظالم جاری ہیں ،بھارت میں مسلمانوں پر سرِعام تشدد اور اُن کی تذلیل ایک معمول بن چکا ہے۔ ایسے واقعات کی ہندو نواز بھارتی حکومت مذمت کرتی ہے اور نہ ہی بلوائیوں کو عبرت ناک سزا دیتی ہے-

    باغی ٹی وی : بھارتی دارالحکومت سے متصل گروگرام میں ہندو انتہاپسندوں نے مبینہ طور پر دو مسلمان نوجوانوں کو مذہب کے نام پر بہیمانہ تشدد کا نشانہ بناڈالا۔

    گروگرام پولیس کے مطابق اتوار کے روز مبینہ طور پر دو مسلم نوجوانوں کے موبائل فون چھیننے کے بعد ان کے مذہب کو لے کر نازیبا الفاظ کہے اور تشدد کا نشانہ بنایا-

    بھارتی ڈاکٹر کا اپنے پالتو جانوروں کے بغیر یوکرین چھوڑنے سے انکار

    گروگرام پولیس نے بتایا کہ حملہ آوروں نے انہیں خنزیر کا گوشت کھلانے اور سفید پاؤڈر کھانے پر مجبور کیا، واقعہ سیکٹر 45 میں رماڈا ہوٹل کے نزدیک اس وقت پیش آیا جب رحمان اور اعظم مدرسے سے عطیہ جمع کرنے کے بعد اپنی موٹرسائیکل پر چکّر پور جارہے تھے دونوں مسلمان لڑکے بہار کے رہنے والے ہیں جن کی شناخت عبد الرحمان اور دوست محمد اعظم نام سے ہوئی ہے۔

    پولیس نے واقعہ کا مقدمہ درج کرکے سیکٹر 40 پولیس تھانہ میں ایک معاملہ درج کرلیا ہے جبکہ ایک ملزم امت کو گرفتار کرلیا ہے اور دیگر کی تلاش جاری ہے۔

    چھٹی کے دن اسکول کے بچوں کے ساتھ تصویر،مودی سوشل میڈیا پر مذاق بن گئے

    دوسری جانب انتہاء پسند ہندو حملہ آور موبائل فون اور موٹرسائیکل لے کر فرار ہوگئے ہیں۔

    قبل ازیں بھارتی ریاست کرناٹک کے ضلع گدگ میں ہندو انتہا پسند تنظیم آر ایس ایس کے غنڈوں نے دو مسلمان نوجوانوں انیس سالہ سمیر اور اکیس سالہ شمشیر کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے شدید زخمی کر دیا تھا سمیر منگل کی صبح ہبلی کے کرناٹک انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسزہسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا تھا جبکہ شمشیر کی حالت نازک تھی-

    ایک مقامی رہائشی حسین کا کہنا تھا کہ آر ایس ایس کے کارکنوں نے سمیر کے سینے پر چاقو سے وار کیا۔ اور شمشیر پر بھی مہلک ہتھیار سے حملہ کیا گیادونوں پر یہ مہلک حملہ ناراگنڈ میں بجرنگ دل کی طرف سے منعقدہ ایک اجتماع کے فوراً بعد کیا گیا جہاں مسلمانوں کے خلاف نعرے لگائے گئے۔

    فلسطین میں بھارتی سفیر اپنے دفتر میں مردہ حالت میں پائے گئے

  • یوکرین جنگ: روس کی خاموش حمایت پربورس جانسن سے بھارت کی مالی امداد روکنے کا مطالبہ

    یوکرین جنگ: روس کی خاموش حمایت پربورس جانسن سے بھارت کی مالی امداد روکنے کا مطالبہ

    لندن: برطانیہ کے رکن اسمبلی جونی مرسر نے وزیر اعظم بورس جانسن سے یوکرین جنگ میں روس کی خاموش حمایت کرنے پر بھارت کی 5 کروڑ پاؤنڈز مالی امداد روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق برطانوی رکن اسمبلی جونی مرسر نے کہا ہے کہ بھارت نے روس کے یوکرین پر حملے کے خلاف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کی گئی قراردادوں پر ووٹ دینے سے کئی بار گریز کیا ہے اس لیے بھارت کی مالی امداد کو روک دیا جائے۔


    جونی مرسر نے اپنی ٹویٹ میں وزیر اعظم بورس جانسن سے مطالبہ کیا کہ رواں برس ہم بھارت کو غیر ملکی امداد کے طور پر 5 کروڑ 53 لاکھ پاؤنڈز کی خطیر رقم دے رہے ہیں جو اب روک دینی چاہیئے۔

    روس، یوکرین میں جان بوجھ کر شہری آبادی کو نشانہ بنا رہا ہے:امریکہ

    جونی مرسر نے مزید لکھا کہ میں غیر ملکی امداد کا بھرپور حامی ہوں تاہم اگر روسی صدر ولادیمیر پوٹن ہمارے دوستوں پر پابندیاں لگاتے ہیں تو وقت آ گیا ہے کہ بھارت کی مالی امداد بھی بند کردی جائے۔

    66 ہزاریوکرینی مرد روس سے لڑنے کیلئے بیرون ملک سے وطن واپس لوٹ آئے

    برطانوی رکن اسمبلی نے اخبار ’’دا ٹیلی گراف‘‘ کی ایک رپورٹ کا بھی حوالہ دیا جس میں امریکی صدر جوبائیڈن کے دباؤ کے باوجود بھارتی وزیر اعظم نریندرمودی کی طرف سے کی مذمت سے انکار کیا تھا۔

    یوکرین کی طرح مسلمان ممالک پر حملوں کی مذمت کیوں نہیں کی جاتی؟ بیلا حدید کا دنیا…

  • بھارت کے روس سےMiG-29َ،روسی ہیلی کاپٹراورڈیفنس سسٹم ایس 400 کے آرڈرزمنسوخ:دنیا کا نقشہ تبدیل

    بھارت کے روس سےMiG-29َ،روسی ہیلی کاپٹراورڈیفنس سسٹم ایس 400 کے آرڈرزمنسوخ:دنیا کا نقشہ تبدیل

    نئی دہلی :واشنگٹن :بھارت کے روس سےMiG-29َ،روسی ہیلی کاپٹراورڈیفنس سسٹم ایس 400 کے آرڈرزمنسوخ:دنیا کا نقشہ ہی بدل گیا یہ بحث پچھلے کئی دن سے چل رہی تھی کہ روس کے یوکرین پر حملے کے جواب میں امریکی پابندیوں کے بعد کسی بھی ملک کے لیے روس سے فوجی سازوسامان کی خریداری جاری رکھنا مشکل ہو جائے گا،اس حوالےسے معاون وزیر خارجہ برائے جنوبی اور وسطی ایشیائی امور ڈونلڈ لو نے بدھ کو سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کو بتایا کہ ” پچھلے چند” ہفتوں میں، "جو کچھ ہم نے ہندوستان سے دیکھا ہے اس میں یہ چیز ثابت ہوگئی ہےکہ بھارت نے روس سے تمام اسلحہ خریدنے کے معاہدے ختم کردیئے ہیں‌

    نئی دہلی میں رابطہ کرنے پر وزارت دفاع کے ترجمان نے ان دعووں کی تردید کرنے سے انکار کردیا ہے جس سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ واقعی معاملات کچھ اس طرف جارہے ہیں ۔ لو، جنہوں نے ہندوستان کو ایک "واقعی اہم سیکورٹی پارٹنر” کہا، وہ "روسی جارحیت” پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ووٹنگ کے چند گھنٹوں بعد سینیٹ میں بات کر رہے تھے، جہاں سے ہندوستان، چین، پاکستان، بنگلہ دیش سمیت 34 دیگر ممالک کے ساتھ۔ سری لنکا غیر حاضر رہے

    خاص طور پر یہ پوچھے جانے پر کہ کیا، بھارت کی عدم شرکت کے پیش نظر، بائیڈن انتظامیہ روس سے S-400 فضائی دفاعی نظام کی خریداری کے لیے دہلی پر CAATSA پابندیاں لگانے پر غور کر رہی ہے ،

    ان کا کہنا تھا کہ CAATSA یا Countering America’s Adversaries through Sanctions Act 2017 کا امریکی قانون ہے جو ایران، شمالی کوریا اور روس کو نشانہ بناتا ہے اور ان کے ساتھ کاروباری لین دین کرنے والے کسی بھی ملک یا ادارے کے خلاف درخواست کی جا سکتی ہے۔

    2020 میں امریکہ نے ترکی کو S-400 خریدنے پر پابندی لگا دی۔ دہلی نے 2018 میں ماسکو کے ساتھ S-400 کے لیے 5.3 بلین ڈالر کے معاہدے پر دستخط کیے، اور روس نے نومبر 2021 میں بھارت کو سسٹم کی فراہمی شروع کی۔

    دہلی کو یقین تھا کہ بائیڈن انتظامیہ S-400 سودے کے لیے ہندوستان کے ساتھ بڑھتے ہوئے اسٹریٹجک پارٹنرشپ کو دیکھتے ہوئے مستثنیٰ قرار دے گی، کواڈ ممالک کو بھی اس پر اعتراض نہیں ہوگا مگریہ توقعات درست ثابت نہ ہوئیں‌

    تاہم، یوکرین پر روس کے حملےکے بعد ماسکو کو سزا دینے کے لیے بائیڈن انتظامیہ کی نئی پابندیاں، اور تنازعہ میں ہندوستان کی غیر جانبدارانہ پوزیشن نے S-400 معاہدے کو خطرے میں ڈال دیا ہے

    امریکی ترجمان کا کہنا تھا کہ "میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ بائیڈن انتظامیہ CAATSA قانون کی پیروی کرے گی اور اس قانون کو مکمل طور پر نافذ کرے گی اور جب ہم ان میں سے کسی کے ساتھ آگے بڑھیں گے تو کانگریس سے مشورہ کریں گے۔ کیا، بدقسمتی سے، میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ صدر یا (سیکرٹری آف اسٹیٹ) روس پر یا پابندیوں کے معاملے پر، یا اس فیصلے پر روس کا یوکرین پر حملہ برداشت کرے گا

    لو نے کہا کہ بائیڈن انتظامیہ نے ابھی تک CAATSA کے تحت ہندوستان پر پابندیاں لگانے کا فیصلہ کرنا ہے۔لیکن امریکہ کو یقین ہے کہ بھارت روس سے دوستی کی بجائے امریکہ سے وفا کو ترجیح دے گا

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ "بھارت اس وقت ہمارا واقعی ایک اہم سیکورٹی پارٹنر ہے۔ اور یہ کہ ہم اس شراکت داری کو آگے بڑھانے کی قدر کرتے ہیں اور میں امید کرتا ہوں کہ روس کو جس شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے اس کا ایک حصہ یہ ہے کہ ہندوستان کو اب روس سے دور ہونا پڑے گا اور ہندوستان آگے بڑھنا چاہتا ہے

    ایک سوال کے جواب میں لو کا کہنا تھا کہ بھارت کے حوالے سے ایک ابہام بھی تھا اور خطے کی اسٹریٹیجک صورتحال بھی کچھ ایسی تھی کہ بھارت کی ضروریات کے پیش نظر کچھ آزادیاں‌ تھیں لیکن اب ماضی کو بھول کرنئے معاہدوں کی ضرورت ہے

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ "سیکرٹری اسٹیٹ ٹونی بلنکن اس جنگ کے فرنٹ لائنز پر رہے ہیں۔ صدر، محکمہ خارجہ کے دیگر اعلیٰ حکام گزشتہ مہینوں کے دوران یوکرین پر اپنے ہندوستانی ہم منصبوں کے ساتھ انتہائی سنجیدہ اعلیٰ سطحی بات چیت کر رہے ہیں،‘‘ لو نے کہا، ہندوستان کی طرف سے تمام ریاستوں سے اقوام متحدہ کی پابندی کی اپیل کو نوٹ کرتے ہوئے چارٹر، خودمختاری اور دیگر ریاستوں کی علاقائی سالمیت کا احترام، اور "چھوٹے اقدامات” کے اشارے کے طور پر یوکرین کو انسانی بنیادوں پر سامان بھیجنا امریکہ کی پالیسیوں کو تائید ملنے کے برابر تھی

    انہوں نے کہا کہ کھرکیو کی بمباری میں ہندوستانی طالب علم کی ہلاکت نے ہندوستان میں رائے عامہ کو روس کے خلاف بھی موڑنا شروع کردیا تھا۔

    ان کا کہنا تھا کہ یوکرین میں روس کی بمباری کے نتیجے میں‌ ہلاک ہونے والے ہندوستانی طالبعلم کے معاملے پر بھارت اور روس کے درمیان کافی سردمہری دکھائی جارہی ہے جس کا واضح مطلب یہی کہ اب بھارت روس کے ساتھ اپنے تعلقات کو استوار کرنے کی بجائے امریکہ کی طرف ہاتھ بڑھائے گا جس کا واضح مطلب خطے میں‌ اب بھارت اور روس کے درمیان اب تعلقات وہ نہیں‌جو ماضی میں ہوا کرتے تھے

    اس موقع پر یہ بھی یاد رہے کہ ان سارے حالات کی تبدیلی اس وقت سامنے آئی جب وزیراعظم پاکستان عمران خان نے اپنے دورہ روس کے درمیان روس پر واضح کیا تھا کہ اب اسے اپنے ماضی کے وہ وطیرے بدلنے ہوں‌ گے اور اگر روس پاکستان کے ساتھ تعلقات اچھے چاہتا ہے تو پھرپاکستان کے مخالفین کی حمایت سے بھی دور رہے ، اس ملاقات کے بعد حالات اچاک بدل گئے ، جس کے نتیجے میں‌آج بھارت اپنی کئی دہائیوں پر روس سے دوستی کو خیرآباد کہہ دیا تھا

  • جویوکرین سےنکلنا چاہتا ہےپہلےایمبیسی کےواش روم صاف کرے:یوکرین میں بھارتی سفارتخانےکاطلبا سےرویہ

    جویوکرین سےنکلنا چاہتا ہےپہلےایمبیسی کےواش روم صاف کرے:یوکرین میں بھارتی سفارتخانےکاطلبا سےرویہ

    وبھارتی ایمبیسی نے یوکرائن سے نکلنے والے اپنے طالب علم کو پیشکش کی کہ جو یہاں سے پہلے نکلنا چاہتا ہے انہیں ایمبیسی کے واش روم صاف کرنے ہونگے، بھارتی طلباء کو واش روم صاف کرنے کے بدلے یوکرائن سے بھارت لایا گیا.

    بھارت کے مستقبل یعنی انکے طلباء کی بھارت کی نظر میں اتنی اوقات ہے کہ کہ باہر ملکوں میں جنگ کےدوران ان سے اپنے گند واش روم دھلوائے گئے بدلے میں انہیں بھارت لایا گیا تو خود سوچیں قوم پرستوں اور پاکستان کے غداروں کے ساتھ بھارت کیا کرے گا.

    یاد رہے کہ یوکرین پر روسی حملے کے بعد وہاں پھنسے بھارتی طالبعلموں کی حفاظت کرنے میں بھارت ناکام ہو گیا، لیکن اس مشکل وقت میں انسانیت کی اعلی مثال قائم کرتے ہوئے، پاکستان نے بھارتی طالبعلموں کے لیے اپنے دروازے کھول دیئے۔

     

    اس وقت یوکرین میں جنگی حالات میں پھنسے پاکستانیوں کو نکالنے کے ساتھ ساتھ پاکستان بھارتیوں کی بھی مدد کر رہا ہے، جبکہ ان کا اپنا عملہ غائب ہے، جس کی تصدیق بھارتی خود کر رہے ہیں۔

    سوشل میڈیا پر بھارتی طالبعلم کی جانب سے ایک ویڈیو شئیر کی گئی ہے، جس میں بھارتی طالبعلموں کو پاکستانی سفارت خانے میں آرام سے بیٹھے کھانا کھاتے دیکھا جا سکتا ہے۔

    پاکستانی سفارت خانے نے ان بھارتی طلبہ کو ایک ایسے وقت میں پناہ دی جب انہیں خارکیو سے لیویو جانے کے لیے بھارتی سفارت خانے نے مدد کرنے سے انکار کردیا تھا۔

    بھارت کے معروف صحافی اور پروفیسر اشوک سوین نے بھی ویڈیو شیئر کی، جس پر انہوں نے لکھا کہ رومانیہ کی سرحد پر بھارتی سفارتخانے کا عملہ موجود نہیں تھا، لیکن پاکستانی سفارتخانہ بھارتیوں کی مدد کے لیے موجود تھا۔

  • چین کو یوکرین میں جاری تنازعہ سے فائدہ اٹھانے نہیں دیں گے:کواڈ اتحاد کا پیغام

    چین کو یوکرین میں جاری تنازعہ سے فائدہ اٹھانے نہیں دیں گے:کواڈ اتحاد کا پیغام

    نئی دہلی :چین کو یوکرین میں جاری تنازعہ سے فائدہ اٹھانے نہیں دیں گے:کواڈ اتحاد کا پیغام،اطلاعات کے مطابق کواڈ اتحاد کے سربراہوں نے تائیوان کے حوالے سے ایک ہنگامی اجلاس کا انعقاد کیا ہے۔ اجلاس میں رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یوکرین میں جو کچھ ہو رہا ہے اس طرز پر انڈوپیسیفیک خطے میں کوئی کارروائی ہونے کی اجازت نہیں دیں گے۔

    تفصیلات کے مطابق جمعرات کے روز ہونے والی ورچوئل میٹنگ میں امریکی صدر جو بائیڈن، جاپانی وزیر اعظم فومیو کیشیدا، آسٹریلوی وزیر اعظم اسکاٹ موریسن اور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے حصہ لیا۔اس وقت جب کہ دنیا اور بالخصوص مغرب کی نگاہیں روس اور یوکرین میں جاری جنگ پر مرکوز ہیں، تائیوان کے حوالے سے چین کے رویے پر تشویش کواڈ اتحادی ممالک کی مزید بڑھ گئی ہے۔

    اس ضمن میں جاپانی وزیر اعظم کیشیدا نے روس یوکرین تنازعہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہم اس بات پر متفق تھے کہ اس طرح کی کسی طاقت کا استعمال کرکے انڈوپیسیفیک میں صورت حال کو یکطرفہ طورپر تبدیل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ہم اس بات پر بھی متفق تھے کہ روس کے یوکرین پر حملے کے بعد پیدا شدہ حالات کے مدِنظر ایک آزاد اور کھلے انڈوپیسیفیک خطے کو حقیقت میں تبدیل کرنے کے لیے کام کرنا اور بھی زیادہ اہم ہوگیا ہے۔

    آسٹریلوی وزیر اعظم موریسن نے میٹنگ کے بعد اپنےجاری کردہ بیان میں کہا یوکرین میں جو کچھ ہو رہا ہے انڈوپیسیفیک خطے میں ہم ویسا ہونے کی اجازت نہیں دیں گے۔ ہم ایک آزاد اور کھلا خطہ برقرار رکھنے کے لیے پرعز م ہیں،جہاں چھوٹی طاقتوں کو بڑی طاقتوں سے ڈرنے کی ضرورت نہ ہو

    مزید براں، امریکی صدر جو بائیڈن نے ٹوئٹ کر کے کہا کہ اس میٹنگ میں کواڈ رہنماؤں نے انڈوپیسیفیک سمیت پوری دنیا میں خود مختاری اور علاقائی سالمیت کے تئیں اپنے عہد کا اعادہ کیا۔

    بھارتی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق وزیر اعظم مودی نے اس بات پر زور دیا کہ کواڈ انڈوپیسیفیک خطے میں امن، استحکام اور ترقی کے اپنے اصل ہدف پر توجہ مرکوز رکھے۔

    یاد رہے، کواڈ ملکوں میں بھارت واحد ملک ہے جس نے یوکرین پر روس کے حملے کی مذمت نہیں کی ہے بلکہ اقو ام متحدہ میں روس کے خلاف پیش کردہ قرارداد پرووٹنگ کے دوران غیر حاضر رہا۔

    ادھرجاپان نے یوکرین کوبُلٹ پروف جیکٹس اوردیگر ضرورت کا سامان فراہم کرنے کا فیصلہ کرلیا۔یوکرین کی مدد کا فیصلہ جاپان کی قومی سلامتی کونسل کے اجلاس میں کیا گیا۔ جاپانی وزارت دفاع کے مطابق یوکرین کو فراہم کی جانے والی اشیامیں ہیلمٹ، سخت سرد موسم کا لباس، خیمے، کیمرے، حفظان صحت کی مصنوعات، ہنگامی غذائی اشیا اورجنریٹر شامل ہیں۔

    خیال رہے کہ جاپان پہلی بار اپنی بُلٹ پروف جیکٹس کسی ملک کو فراہم کرے گا۔حکومتی ترجمان کے مطابق جاپان یوکرین کو اسلحہ فراہم نہیں کرے گا اور نہ ہی ایسا کوئی منصوبہ ہے۔

  • پاکستانی ہائی کمیشن کے اہلکاروں کی بھارت میں قید پاکستانی بچے سے ملاقات

    پاکستانی ہائی کمیشن کے اہلکاروں کی بھارت میں قید پاکستانی بچے سے ملاقات

    بھارت میں تعینات پاکستانی ہائی کمیشن کے اہلکاروں نے امرتسر میں 14 سالہ پاکستانی بچے سے ملاقات کی ہے ۔

    باغی ٹی وی :ذرائع کے مطابق اصمد علی نامی بچہ آزادکشمیر کا رہائشی ہے جو گزشتہ برس اپنے کبوتروں کو پکڑنے کی کوشش میں لائن آف کنٹرول عبور کرگیا تھا اصمد علی کو 28 نومبر کو غلطی سے لائن آف کنٹرول عبورکرنے پر بھارتی فوج نے گرفتارکرکے مقبوضہ جموں و کشمیر پولیس کے حوالے کر دیا جس نے بچے کو غیرقانونی طور پر مقبوضہ کشمیر میں داخل ہونے کی ایف آئی آر درج کی تھی۔ اس قانون میں زیادہ سے زیادہ دو سال قید کی سزا دی گئی ہے۔

    اس کے بعد اصمد کو پونچھ میں جووینائل جسٹس بورڈ کے سامنے پیش کیا گیا، اور اب وہ مقبوضہ جموں کے رنبیر سنگھ پورہ میں نابالغ مجرموں کے سنٹر میں ہے ارباب علی کے مطابق اصمد، اسٹارز اسکول میں آٹھویں جماعت کا طالب علم ہے۔

    اصمد علی گزشتہ چارماہ سے مقبوضہ جموں وکشمیر کے نابالغ بچوں کے ایک سنٹر میں ہے اس کےماموں ارباب علی نے پاکستانی اور بھارتی حکام سے اس کی رہائی کی درخواست کی تھی جس پر بھارتی وزارت داخلہ نے اصمد علی کو قونصلر تک رسائی دی ہے۔

    اصمد علی کے ماموں ارباب علی کے مطابق اصمد کو پالتو کبوتروں کا شوق ہے، اس دن اس نے انہیں اڑنے کے لیے آزاد کیا اور وہ ایل او سی کی سمت اڑ گئے، وہ صرف ایک چھوٹا بچہ ہے ان کا پیچھا کیا اور اسے احساس نہیں ہوا کہ وہ لائن آف کنٹرول کو پار کر رہا ہے پورا خاندان بہت پریشان ہے اپنی والدہ کی وفات کے بعد اصمد کی پرورش اس کے نانا محمد اسلم اور نانی خدیجہ نے کی ہے وہ ہر وقت روتے رہتے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق پاکستانی بچے اصمد علی کی رہائی کے لیے سرگرم بھارت میں انسانی حقوق کے سرگرم کارکن راہول کپور نے کہا کہ انہیں جنوری کے آخر میں اس بچے سے متعلق معلوم ہوا تھا جس کے بعد انہوں نے اس کی رہائی کے لیے جدوجہد شروع کی تھی ۔

    راہول کپور نے کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ ان کی جدوجہد رنگ لائی ہے اور آج اس پاکستانی بچے کو قونصلر رسائی مل گئی ہے،یہ پہلی کامیابی ہے امید ہے یہ بچہ بہت جلد واپس اپنے ملک چلا جائے گا۔

    انہوں نے بتایا کہ اصمد علی کی امرتسر میں پاکستانی سفارتخانے کے اہل کاروں سے ملاقات کے بعد واپس نابالغ بچوں کے سنٹر بھیج دیا گیا ہے۔

    بھارت نےکشمیری صحافی کودہشت گردی کے الزام میں گرفتارکرلیا

    واضح رہے کہ پاکستان بھارت کی قید میں پاکستانی خاتون اور ان کی 4 سالہ بیٹی کی رہائی کے کیس کی پیروی کر رہا ہے سمیرا جو کہ اپنے والدین کے ساتھ قطر میں رہتی تھی، نے ایک بھارتی مسلمان محمد شہاب سے شادی کی تھی، جو انہیں بغیر ویزے کے انڈیا لے جانے میں کامیاب رہا تھا سال 2017 میں سمیرا کو بھارتی پولیس نے غیر قانونی طور پر ملک میں داخل ہونے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔

    گزشتہ ماہ دفتر خارجہ نے کہا تھا کہ پاکستان، بھارت کے ساتھ تقریباً 5 سال سے بھارتی جیل میں قید پاکستانی خاتون سمیرا کے کیس کی بھرپور طریقے سے پیروی کر رہا ہے دفتر خارجہ کو 17 فروری کو وزارت داخلہ سے ان کی شہریت کی تصدیق موصول ہوئی تھی اور اسی دن نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کے ذریعے بھارت کی وزارت خارجہ کو تحریری طور پر آگاہ کردیا گیا تھا عاصم افتخار نے امید ظاہر کی تھی کہ وہ اپنی بیٹی ثنا فاطمہ کے ساتھ جلد ہی پاکستان واپس آئیں گی۔

    کشمیر یوتھ الائنس کا مقبول بٹ شہید کو خراج عقیدت

  • نیٹ فلیکس اور ایپل کے بعد مائیکروسافٹ کا روس میں اپنی سروس بند کرنے کا اعلان

    نیٹ فلیکس اور ایپل کے بعد مائیکروسافٹ کا روس میں اپنی سروس بند کرنے کا اعلان

    ماسکو : نیٹ فلیکس اور ایپل کے بعد مائیکروسافٹ کا روس میں اپنی سروس بند کرنے کا اعلان ،اطلاعات کے مطابق مائیکروسافٹ کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ وہ روس میں اپنی تمام پراڈکٹس کی سیل اور سروس بند کررہے ہیں۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق مائیکروسافٹ کی جانب سے آج جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ روس کے یوکرین پر غیرقانونی، بلااشتعال اورغیرمنصفانہ حملے کی شدید مذمت کرتے ہیں اور احتجاجاً روس میں اپنی تمام پراڈکٹس کی نئی سیل اور سروس بند کررہے ہیں۔

    خیال رہے مائیکروسافٹ سے قبل ٹیکنالوجی کی سب سے بڑی کمپنی ’ایپل‘ ، ’نائیکی‘ ، ’ڈیل‘، کی جانب سے بھی روس پر سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔

    دوسری جانب مائیکروسافٹ نے روسی میڈیا ’آر ٹی‘ کی موبائل ایپلیکیشن کو ونڈوز ایپ اسٹور سے نکال دیا ہے اور روسی میڈیا کو اشتہارات دینے پر بھی پابندی عائد کردی ہے۔اس سے قبل یوکرین پر حملوں کے بعد سوشل میڈیا کی تقریباً تمام کیمپنیز فیس بک ، ٹوئٹر کے علاوہ دنیا کے سب سے بڑے سرچ انجن گوگل کی جانب سے روس پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’فیس بک‘ نے نہ صرف روسی میڈیا کی مونیٹائزیشن ختم کردی بلکہ ان کے اشتہارات بھی بند کردیئے ہیں جب کہ فیس بک نے روس کی متعدد سرکاری نشریاتی اداروں کے مواد پر بھی جزوی پابندی عائد کردی ہے۔

    گوگل، یوٹیوب اور ٹوئٹر کی جانب سے بھی روس کے سرکاری میڈیا چینل ‘آر ٹی’ سمیت دیگر تمام ٹی وی چینلز پر ویڈیوز کے ذریعے اشتہارات کے ذریعے پیسے کمانے پر پابندی عائد کردی ہے۔

    یوکرین کے ساتھ جنگ کے اثرات اب روس کی معیشت پر بھی اثرانداز ہورہے ہیں۔ مغرب کی اقتصادی پابندیوں کے بعد دنیا کی بہت سی کمپنیوں نے روس میں اپنی خدمات اور آپریشن روک دیے ہیں۔

    سبسکرپشن بیسڈ اسٹریمنگ سروسز فراہم کرنے والی امریکی کمپنی نیٹ فلکس نے بھی روس میں اپنے تمام جاری اور مستقبل کے منصوبوں پر کام روک دیا ہے۔غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق کمپنی نے روس میں مستقبل کے تمام منصوبوں کو عارضی طور پر روک دیا ہے۔

    اس بابت نیٹ فلکس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اس وقت روسی زبان میں چار سیریز پروڈکشن اور پوسٹ پروڈکشن میں تھی تاہم روس یوکرین جنگ کے تناظر میں ان منصوبوں کو وقتی طور پر معطل کردیا گیا ہے۔

  • ایک طرف روس کا گھیراو تو دوسری طرف چین پردباو:امریکہ کا بھارت کوجدید اسلحہ دینے کا فیصلہ

    ایک طرف روس کا گھیراو تو دوسری طرف چین پردباو:امریکہ کا بھارت کوجدید اسلحہ دینے کا فیصلہ

    واشنگٹن :ایک طرف روس کا گھیراو تو دوسری طرف چین پردباو:امریکہ کا بھارت کوجدید اسلحہ دینے کا فیصلہ ،اطلاعات کے مطابق امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کے ایک سینیئر اہلکار کا کہنا ہے کہ چین سے مقابلے کے لیے امریکہ بھارت کی دفاعی صلاحیتوں کو تیزی سے بڑھا رہا ہے۔ چین ہر موڑ پر بھارت کو بھی اسی طرح اکسا رہا ہے، جس طرح وہ امریکہ کے ساتھ کرتا ہے۔ اسی لیے واشنگٹن بھارت کی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے لیے پر عزم ہے۔

    تفصیلات کے مطابق امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کے ایک سینیئر اہلکار کا کہنا ہے کہ چین ہر موڑ پر بھارت کو اسی انداز سے اکسا رہا ہے جس طرح اس کا سلوک امریکہ کے ساتھ ہے۔ اسی لیے واشنگٹن بھارت کی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط تر کرنے کے مقصد سے اپنی پیش رفت کو تیز کرنے کے لیے پر عزم ہے۔

    جنوبی ایشیا اور وسطی بھارت سے متعلق معاون سیکرٹری آف اسٹیٹ ڈونلڈ لو سینیٹ کی ایک ذیلی کمیٹی کے ارکان کو خطے کی صورت حال کے بارے میں کہنا تھا کہ ہم اپنی دفاعی شراکت داری میں پیش رفت کو تیز تر کرنے اور چینی اشتعال انگیزیوں کو روکنے کے لیے بھارت کی صلاحیت کو مضبوط بنانے کے لیے پر عزم ہیں۔ اس سلسلے میں مضبوط بحری تعاون، بہتر معلومات اور انٹیلیجنس شیئرنگ کے ساتھ ہی خلائی اور سائبر اسپیس جیسے ابھرتے ہوئے میدانوں میں بھی ہم نے بھارت کے ساتھ تعاون کو بڑھا دیا ہے۔”

    کواڈ امریکہ، بھارت، آسٹریلیا اور جاپان پر مشتمل ایک چار رکنی گروپ ہے جو خطے میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ پر قابو پانے اور آزاد نیز کھلے ہند بحرالکاہل کے مشترکہ وژن کو آگے بڑھانے کے لیے تشکیل دیا گیا ہے۔

    میلبورن میں کواڈ کے وزراء خارجہ کی ہونے والی حالیہ میٹنگ کا حوالہ دیتے ہوئے، لو نے کہا کہ جس انداز سے کواڈ کے تمام شراکت داروں نے آزاد ہند بحرالکاہل کی حمایت کرنے کا عزم کیا ہے وہ کافی حوصلہ بخش بات ہے۔

  • متنازع ڈیمز: بھارت کا پھر پاکستانی اعتراضات ماننے سے انکار

    متنازع ڈیمز: بھارت کا پھر پاکستانی اعتراضات ماننے سے انکار

    اسلام آباد:متنازع ڈیمز: بھارت کا پھر پاکستانی اعتراضات ماننے سے انکار ،اطلاعات کے مطابق پاکستان کے حوالے سے بھارتی ہٹ دھرمی میں‌ کوئی کمی نہیں آئی ہے اور صورت حال مزید خرات ہوتی نظر آرہی ہے ، ادھر اس حوالے سے معلوم ہوا ہےکہ متنازع ڈیمز کے حوالے سے بھارت نے پھر پاکستانی اعتراضات ماننے سے انکار کر دیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق پاک بھارت آبی تنازعات پر اسلام آباد میں یکم مارچ کو شروع ہونے والے سہ روزہ مذاکرات میں بھارت کی جانب سے ‘نہ مانوں’ کی رٹ برقرار ہے۔

    مذاکرات میں پاکستان نے دریائے سندھ، چناب، پونچھ پر 10 بھارتی ڈیمز کے ڈیزائن پر اعتراض کیا، ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارت نے متنازع ڈیمز پر پاکستان کے اعتراضات ماننے سے انکار کر دیا ہے۔

    پاکستان نے اعتراض اٹھایا کہ بھارت 2019 سے دریاؤں میں پانی کے بہاؤ کا ڈیٹا شیئر نہیں کر رہا ہے، تاہم بھارت نے پاکستان کے ساتھ پانی کے بہاؤ کا ڈیٹا شیئر کرنے سے بھی انکار کرتے ہوئے مؤقف پیش کیا کہ سندھ طاس معاہدے میں پانی کا ڈیٹا شیئر کرنے کی شق موجود نہیں ہے۔مذاکرات کے دوران پاکستان کا مؤقف تھا کہ بھارت کی وجہ سے پاکستان کو سیلابی صورت حال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

    واضح رہے کہ یکم مارچ کو 10 رکنی بھارتی آبی ماہرین کا وفد واہگہ کے راستے لاہور پہنچا تھا، جس کی قیادت پی کے سکسینا کر رہے ہیں، جب کہ پاکستان کی جانب سے نمائندگی کمشنر انڈس واٹر کمیشن مہر علی شاہ کر رہے ہیں۔

    پاکستان کی جانب سے بھارتی آبی منصوبوں پر اعتراضات کے بعد یہ پہلا اجلاس ہے، مذاکرات شروع ہونے سے قبل مہر علی شاہ کا کہنا تھا کہ دریاے چناب پر بھارت کے کیروہائیڈرو پاور پراجیکٹ ڈیزائن پر پاکستان کو اعتراض ہے، مقبوضہ کشمیر میں دریاے پونچھ پر مانڈی پروجیکٹ پر بھی ہمیں اعتراض ہے۔

    انھوں نے کہا دریاے سندھ پر 24 میگا واٹ کے نیموں چلنگ، دریاے سندھ پر ٹربوک شیوک منصوبے، 25 میگا واٹ کے ہنڈر رمان کے ڈیزائن، دریاے سندھ پر سانکو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کے ڈیزائن، 19 میگا واٹ کے مینگڑم سانگرا کے ڈیزائن پر بھی پاکستان کو اعتراض ہے۔

    خیال رہے کہ بھارتی وفد اجلاس کے بعد کل 4 مارچ کو بھارت روانہ ہو جائے گا، پاکستانی مؤقف کے مطابق بھارت کو سندھ طاس معاہدے کے تحت ہی منصوبے بنانے کی اجازت ہے۔

  • :3مارچ پاکستان میں بھارت کی دہشتگردکارروائیوں کی تلخ یاد دہانی کا دن:مگربھارت پھرباز نہ آیا

    :3مارچ پاکستان میں بھارت کی دہشتگردکارروائیوں کی تلخ یاد دہانی کا دن:مگربھارت پھرباز نہ آیا

    اسلام آباد ::3مارچ پاکستان میں بھارت کی دہشتگردکارروائیوں کی تلخ یاد دہانی کا دن ہے ،تاریخ شاہد ہے کہ 03 مارچ 2009لاہور میں سری لنکن کرکٹ ٹیم پر دہشت گردوں جنہیں بھارتی خفیہ ایجنسی را کی مالی سرپرستی میں حاصل تھی کے جان لیوا حملے اور 2016میں پاکستان میں دہشتگردی کے ماسٹر مائنڈ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی گرفتاری کی تلخ یاد دہانی کادن ہے ۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ دونوں واقعات میں براہ راست بھارت ملوث ہے جن کا مقصد پاکستان کو عالمی سطح پر بدنام کرنا تھا۔

    سری لنکن کرکٹ ٹیم پر بھارتی ایجنٹوں نے 3مارچ 2009کو لاہور میں دہشت گرد حملہ کیاتھا جس کامقصد عالمی سطح پر پاکستان کو کھیلوں کے مقابلوں کے انعقاد کیلئے پاکستان کو خطرناک ملک ثابت کرنا تھا ۔بعد ازاں 3مارچ 2016کو بھارتی جاسوس اور خفیہ ایجنسی را کے دہشت گردکمانڈر کلبھوشن یادیو جو بھارتی بحریہ کا حاضر سروس افسر ہے کو بلوچستان کے علاقے ماشکیل سے ایرانی پاسپورٹ پر پاکستان جاتے ہوئے گرفتار کیا گیا تھا، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ بھارت لاہور میں سری لنکن ٹیم پر حملے سمیت پاکستان میں دہشت گردی کی مذموم کارروائیوں میں ملوث ہے ۔

    کلبھوشن نے پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں بھارت کے ملوث ہونے کے بارے میں چونکا دینے والے انکشافات کئے ہیں۔ بھارتی جاسوس نے یہ بھی اعتراف کیا کہ وہ صفورا بس حملہ کے ماسٹر مائنڈ سے بھی رابطہ میں تھا، جس میں مسلح افراد نے 45 اسماعیلی فرقے کے لوگوں کو گولی مار کرقتل کیا تھا۔ گرفتار بھارتی جاسوس کے اعترافی بیان سے ثابت ہو گیا ہے کہ بھارت پڑوسی مسلم ملک پاکستان میں دہشت گردی کی سرپرستی کر رہا ہے۔

    بھارت کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے دہشت گردوں کو پاکستان کے خلاف اپنے مذموم عزائم کے لیے پراکسی کے طور پر استعمال کررہا ہے اور پاکستان نے ایک ڈوزئیر کے ذریعے عالمی برادری کو پاکستان میں بھارت کی کی دہشت گردانہ کارروائیوں سے آگاہ بھی کیا ہے۔