Baaghi TV

Tag: بھارت

  • تین نوجوانوں سے شادی شدہ خاتون کا چوتھے’محبوب‘ پرجنسی زیادتی کامقدمہ،عدالت نے کیا فیصلہ سنایا؟

    تین نوجوانوں سے شادی شدہ خاتون کا چوتھے’محبوب‘ پرجنسی زیادتی کامقدمہ،عدالت نے کیا فیصلہ سنایا؟

    احمد آباد: بھارت میں تین نوجوانوں سے شادی شدہ خاتون نے چوتھے ’محبوب‘ پر جنسی زیادتی کا مقدمہ کر دیا –

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق الزام تراش 30 سالہ خاتون کی اس سے قبل تھی تین مرتبہ شادی ہو چکی تھی اور اس نے کسی بھی شوہر سے طلاق نہیں لی تھی، یہ خاتون 2016 میں مذکور ہ شخص کے ساتھ تعلقات میں آئی اور انہوں نے 2017 تک ایک سات رہتے ہوئے تعلقات رکھے ، جب تعلق ٹوٹ گیا تو خاتون نے کیڑے مار دوا کھا لی جس کے باعث طبیعت بگڑنے پر ہسپتال داخل کروایا گیا ، خاتون کی جان بچ گئی اور پھر اس نے نارول پولیس سٹیشن میں فروری2018 کو مذکورہ مرد کے خلاف شادی کا وعدہ کر کے جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ درج کروایا ۔

    بھارت:جنسی زیادتی کے واقعات ہر10 منٹ بعد رپورٹ ہونے لگے:تازہ واقعہ نے حقیقت کھول دی

    ٹرائل کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ خاتون کی اس تعلقات کے آغاز سے قبل دو شادیاں ہو چکی تھیں اور اس کی تیسری شادی 2017 میں ہوئی جب یہ خاتون مذکورہ شخص کے ساتھ تعلقات میں تھی، عدالت نے یہ بات ملاحظہ کی کہ خاتون نے کسی بھی شوہر سے طلاق نہیں لی ، یہ خاتون اپنے دو شوہروں کے ساتھ قانونی چارہ جوئی میں بھی ملوث ہے ۔

    عدالت کو بتایا گیا کہ خاتون اپنے پارٹنر کی شادی سے آگاہ تھی لیکن معاملات تب خراب ہونا شروع ہو ئے جب اس کی بیوی اور سسرال والوں کو اس غیر قانونی ازدواجی تعلقات کا علم ہوا ۔

    مبینہ زیادتی کیس،یاسر شاہ پر الزام تھا یا حقیقت؟ سچ سامنے آ گیا

    تاہم بھارت کی مقامی عدالت نے محبوبہ کے ساتھ ’ لیو ان ‘ تعلقات میں رہنے والے شخص کے خلاف جنسی زیادتی کےالزامات کو مسترد کرتے ہوئے اسے بری کر دیا ہے یہ الزام لڑکی کی جانب سے تعلقات ختم ہونےکے بعد عائد کئے گئے ، یہ دونوں تقریباایک سال سےاکٹھے رہ رہے تھے-

    شہر کی سیشن عدالت نے مرد اور عورت کے درمیان جاری ایک ساتھ رہنے کے تعلقات کی نوعیت کو بھی محلوظ خاطر رکھا اور فیصلہ دیا کہ ’’ مرد کے شادی شدہ ہونے کے بھر پور علم کے باوجود تعلقات سے معلوم ہوتا ہے کہ خاتون اس عمل کی اخلاقی حیثیت سے بخوبی واقف تھی اور اس میں رضا مندی شامل تھی ۔

    عدالت نے کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ ’ دونوں کے درمیان جسمانی تعلقات باہمی رضامندی سے قائم ہوئے جسے ریپ قرار نہیں دیا جا سکتا ۔‘

  • بھارت:جنسی زیادتی کے واقعات ہر10 منٹ بعد رپورٹ ہونے لگے:تازہ واقعہ نے حقیقت کھول دی

    بھارت:جنسی زیادتی کے واقعات ہر10 منٹ بعد رپورٹ ہونے لگے:تازہ واقعہ نے حقیقت کھول دی

    بھوپال :بھارت:جنسی زیادتی کے واقعات ہر10 منٹ بعد رپورٹ ہونے لگے:تازہ واقعہ نے حقیقت کھول دی ،اطلاعات کے مطابق مدھیہ پردیش کے بھوپال کے مضافات میں نذیر آباد تھانے کے علاقے میں ایک 26 سالہ شخص کے خلاف ایک 17 سالہ لڑکی کی عصمت دری اور بلیک میل کرنے کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

    ملزم اور متاثرہ ایک ہی گاؤں کے رہنے والے ہیں اور یہ معاملہ سوشل میڈیا پر 11ویں جماعت کی طالبہ لڑکی کی فحش تصاویر سامنے آنے کے بعد سامنے آیا۔

    پولیس کے مطابق متاثرہ لڑکی کے والد سے گاؤں کے ایک رہائشی نے رابطہ کیا جس نے انہیں اپنی بیٹی کی سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی فحش تصاویر کے بارے میں بتایا۔ اس کے بعد متاثرہ کے والد نے شکایت درج کرائی۔

    متاثرہ لڑکی نے الزام لگایا کہ ملزم نے اس سے دوستی اس وقت کی تھی جب وہ خاندانی مذہبی مقام پر گئے تھے۔

    "ملزم پچھلے سال 16 اپریل کو متاثرہ کے گھر میں گھس گیا اور اس کی عصمت دری کی۔ اس نے کچھ فحش تصویریں بھی کلک کیں اور متاثرہ سے جنسی خواہشات کی تلاش شروع کر دی،‘‘ نذیر آباد کے ایس ایچ او بی پی سنگھ نے کہا۔

    متاثرہ نے اپنے موبائل پر ملزم کا نمبر بلاک کر دیا اور اس سے ملنے سے انکار کر دیا اور جوابی طور پر اس کی فحش تصاویر گردش کرنے لگا۔

  • بابر، اورنگزیب اور نظام کی اولادیں  زیادہ دن زندہ نہیں رہ سکتیں: بی جے پی رہنما کی زہرافشانی

    بابر، اورنگزیب اور نظام کی اولادیں زیادہ دن زندہ نہیں رہ سکتیں: بی جے پی رہنما کی زہرافشانی

    نئی دہلی : بابر، اورنگزیب اور نظام کی اولادیں زیادہ دن زندہ نہیں رہ سکتیں: بی جے پی رہنما کی زہرافشانی ،اطلاعات کے مطابق بھارتی ریاست آسام کے وزیراعلیٰ ہمنتا بسوا شرما نے ریاست تلنگانہ میں اپنی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے کارکنان سے خطاب میں مغلوں، نظاموں اور مسلم سیاسی رہنماؤں کے خلاف خوب زہر اُگلا۔

     

    بی جے پی رہنما ہمنتا بسوا شرما کا کہنا تھا کہ جیسے کشمیر کی دفعہ 370 کا خاتمہ ہوا، جیسے رام مندر کی تعمیر کا کام شروع ہوا، اسی طرح یہاں نظام اور اویسی کا نام و نشان بھی مٹ جائے گا، اس میں اب زیادہ وقت نہیں۔ بھارتی تاریخ بتاتی ہے کہ بابر، اورنگزیب اور نظام بہت دنوں تک زندہ نہیں رہ سکتے۔

    ہمنتا بسوا شرما کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں ایک ایسے نئے بھارت کی تعمیر کرنی ہے جس میں کوئی بھی نظام کی تاریخ نہیں پڑھے گا بلکہ ہمارے اپنے رہنماؤں کی تاریخ پڑھائی جائے گی۔

     

    تلنگانہ کے دارالحکومت حیدرآباد پر تقسیم ہند سے قبل تک نظام نے برسوں حکمرانی کی تھی اور ان کا اشارہ اُنہی کی طرف تھا۔ سوشل میڈیا پر اس متنازع بیان پر کافی بحث ہوئی اور بہت سے افراد نے اسے اشعال انگیز قرار دیا۔آسام کے وزیراعلیٰ ہمنتا بسوا شرما نے بھارت کو نئی سمت دینے کے لیے وزیراعظم مودی کی تعریف اور تلنگانہ میں بے روزگاری کے مسائل پر بھی بات کی لیکن وہ اِس حقیقت سے صاف منہ موڑ گئے کہ جب سے مودی بھارت کے وزیراعظم بنے ہیں تب سے ملک میں بے روزگاری کا سنگین مسئلہ شروع ہوا اور اس وقت ملک ایک بحران سے گزر رہا ہے۔

    چند روز قبل ہی بھارت کے معروف ادارے انڈین انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ (آئی آئی ایم) کے طلبا اور اساتذہ نے وزیراعظم نریندر مودی کے نام خط لکھ کر ملک میں نفرت انگیز تقریروں اور اقلیتوں پر حملوں کے خلاف اُن کی خاموشی پر سوال اٹھائے ہیں جو اِنہیں مزید تقویت اور حوصلہ دے رہی ہے۔

     

    وزیراعظم کے دفتر کو بھیجے گئے اس خط پر 183 افراد نے دستخط کیے جن میں طلبا کے ساتھ ساتھ آئی آئی ایم بنگلور کے 13 اور آئی آئی ایم احمد آباد کے تین فیکلٹی ارکان بھی شامل ہیں۔

    خط میں مزید تحریر تھا کہ ملک میں ایک خوف کا ماحول ہے۔ بھارت میں گرجا گھروں سمیت بہت سی عبادت گاہوں پر حملے ہوتے رہتے ہیں اور ہمارے مسلمان بھائیوں اور بہنوں کے خلاف تو ہتھیار اٹھانے کی بات بھی کی جا رہی ہے۔ یہ سب کسی قانونی کارروائی کے ڈر کے بغیر کیا جا رہا ہے۔

     

    2014ء میں اقتدار میں آنے کے بعد سے بھارتیہ جنتا پارٹی پر الزام عائد کیا جاتا رہا ہے کہ وہ ملک میں مسلم اور دیگر اقلیتوں پر مظالم کی حوصلہ افزائی کرتی رہی ہے۔

    گزشتہ ماہ ہی ہری دوار میں انتہاپسند ہندوؤں کے ایک مذہبی اجلاس کے موقع پر متعدد ہندو مذہبی رہنماؤں نے عام ہندوؤں سے مسلمانوں کے خلاف ہتھیار اٹھانے اور ان کے قتل عام اور نسل کشی کے لیے کہا تھا۔

    اس واقعے کی کئی وڈیوز بھی وائرل ہوچکی ہیں اور تمام مقررین واضح طور پر پہچانے جا سکتے ہیں تاہم ابھی تک ان کے خلاف پولیس نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ مسلمانوں نے اس معاملے پر سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔

  • بھارت نے امریکا سے خنزیر کا گوشت درآمد کرنے کی اجازت دے دی

    بھارت نے امریکا سے خنزیر کا گوشت درآمد کرنے کی اجازت دے دی

    واشنگٹن: بھارت نے پہلی بار امریکا سے خنزیر کے گوشت اور اس سے بننے والی مصنوعات درآمد کرنے کی اجازت دے دی-

    باغی ٹی وی :"روئٹرز” کے مطابق امریکا نے بھارت کے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے جس میں خنزیر کے گوشت اور اس سے بنی مصنوعات پر عائد پابندی ہٹا دی گئی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق امریکا کے زراعت کے سیکرٹری ٹام ویلسیک اور امریکی تجارتی نمائندے کیتھرین تائی نے اپنے بیان میں کہا کہ بھارت کا امریکا سے خنزیر کے گوشت کو اپنی مارکیٹ تک رسائی حاصل دینے کا فیصلہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات میں مثبت پیشرفت ہے۔

    ولسیک نے کہا کہ واشنگٹن اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کام کر رہا ہے کہ امریکی خنزیر کا گوشت صنعت جلد از جلد ہندوستان کو مصنوعات کی ترسیل شروع کر سکے انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ ہندوستان میں امریکی خنزیر کے گوشت کے لیے مارکیٹ تک رسائی حاصل کرنے کے لیے دو دہائیوں کے اختتام کو نشان زد کرتا ہے۔

    2020 میں، ریاستہائے متحدہ دنیا کا تیسرا سب سے بڑا خنزیر کا گوشت تیار کرنے والا اور دوسرا سب سے بڑا برآمد کنندہ تھا، جس کی عالمی سطح پر سور اور خنزیر کے گوشت کی مصنوعات کی فروخت کی مالیت 7.7 بلین ڈالر تھی۔ مالی سال 2021 میں، امریکہ نے ہندوستان کو 1.6 بلین ڈالر سے زیادہ کی زرعی مصنوعات برآمد کیں۔

    بھارتی جیلوں میں نظربند کشمیری سیاسی رہنمائوں کی زندگیوں کو شدید خطرہ:تازہ واقعہ میں کشمیری جانبحق

    گزشتہ برس نومبر میں بھارتی دارالحکومت میں منعقد ہونے والی ’’ٹریڈ پالیسی فورم‘‘ میں امریکی نمائندے کیتھرین تائی نے امریکا سے خنزیر کے گوشت کی بھارتی منڈی تک رسائی کی اہمیت پر زور دیا تھا۔

    نئی ​​دہلی میں ایک بحال شدہ یو ایس انڈیا تجارتی پالیسی فورم میں، ہندوستان اور امریکہ نے کچھ زرعی مصنوعات کی تجارت کو بڑھانے پر اتفاق کیا، جس میں امریکی چیری، الفالفا اور ڈسٹلر خشک اناج کے ساتھ ساتھ ہندوستانی آم، انگور، جھینگا اور پانی کی بھینسیں کا گوشت شامل ہیں۔

    بھارت اور امریکا کے درمیان تجارتی معاہدوں کے باعث امریکا نے ایک ارب 60 لاکھ ڈالر کی صرف زرعی مصنوعات بھارت برآمد کی تھیں اور اب خنزیر کے گوشت کی کی بھی اربوں ڈالر کی برآمدات متوقع ہیں-

    بھارتی جیلوں میں نظربند کشمیری سیاسی رہنمائوں کی زندگیوں کو شدید خطرہ:تازہ واقعہ میں کشمیری جانبحق

  • بھارت:پولیس کی موجودگی میں ہندو بلوائیوں کامسلمان    نوجوانوں پرحملہ:عمران خان کی مودی کووارننگ

    بھارت:پولیس کی موجودگی میں ہندو بلوائیوں کامسلمان نوجوانوں پرحملہ:عمران خان کی مودی کووارننگ

    نئی دلی :بھارت :پولیس کی موجودگی میں ہندتوا بلوائیوں کا مسلمان نوجوانوں پر حملہ ،اطلاعات کے مطابق بھارتی ریاست کرناٹکا کے ضلع کولار میں پولیس کی موجودگی میں لاٹھیوں اور سلاخوں سے مسلح ہندوتوا بلوائیوں کے حملے میں چھ مسلمان شدید زخمی ہو گئے ہیں۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق پولیس نے کولار اسٹیشن میں واقعے کے سلسلے میں تین مقدمات درج کیے ہیںجن میں سے دو ہندوئوں اور ایک مسلمانوں کے خلاف درج کیاگیا ہے ۔زخمی ہونے والے پانچ مسلمان ایک سرکاری ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔

    یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب تین خواتین اور دو مردوں پر مشتمل ایک مسلمان خاندان صوفی بزرگ حضرت خواجہ عثمان شا ولی کی درگاہ پر حاضری کے بعد واپس جارہے تھے کہ جب تراہلی گائوں کے قریب ہندو توا بلوائیوں نے ان سے بدتمیزی کی اور مسلمانوں کے خلاف توہین آمیز کلمات ادا کئے ۔

    واقعے کے بعد پولیس نے مسلمانوں کے ایک گروپ کے ہمراہ حملہ آوروں کی شناخت کے لیے جائے وقوعہ کا دورہ کیا۔ لیکن جیسے ہی وہ جائے وقوعہ پر پہنچے توحملہ آور جنگل میں فرار ہو گئے ۔جنگل میں ان کا تعاقب کرنے پر لاٹھیوں اور سلاخیوں سے لیس مرد و خواتین کے ایک بڑے گروپ نے انہیں گھیرے میں لیکر حملہ کر دیا جس سے چھ مسلمان افراد زخمی ہو گئے ۔

    ادھر کل وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ دسمبر میں ہندوتوا شدت پسندوں کے ایک اجتماع میں اقلیتوں خصوصاً 20 کروڑ مسلمانوں کے قتل عام کیلئے اپیل کی گئی تھی۔

    سماجی رابطے کی سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ اقلیتوں کے قتل عام کے لیے کی گئی اپیل پر مودی سرکار کی خاموشی سوالات کو جنم دیتی ہے۔

     

     

    عمران خان کا کہنا تھا کہ مودی سرکار کے یہ شدت پسندانہ عزائم ہمارے علاقائی امن کیلئے حقیقی خطرہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ بھارت میں ہندوتوا جتھے پوری ڈھٹائی اور آزادی سے مذہبی اقلیتوں پر حملہ آور ہیں۔

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وقت کی نزاکت کا تقاضا ہے کہ عالمی برادری اس کا نوٹس لے اور کارروائی کرے۔

  • ہم جنس پرست خواتین ڈاکٹرز نے آپس میں منگنی کر لی

    ہم جنس پرست خواتین ڈاکٹرز نے آپس میں منگنی کر لی

    ہم جنس پرست خواتین ڈاکٹرز نے آپس میں منگنی کر لی

    منگنی بھارت میں ہوئی، بھارتی ریاست مہاراشٹر کے شہر ناگ پور میں ایک دوسرے کو چاہنے والی ہم جنس پرست خواتین ڈاکٹر نے آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ منگنی کی ہے، منگنی کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکی ہے، دو خواتین ڈاکٹر پرومتا مکھر جی اور ڈاکٹر سربھی مترا نے آپس میں منگنی کی ہے ،دونوں خواتین ڈاکٹرز کی آپس میں ملاقات ایک کانفرنس میں ہوئی تھی، کلکتہ میں ہونیوالی کانفرنس میں ملاقات کے بعد دوستی ہوئی اور پھر دوستی بڑھتی چلی گئی، دونوں خؤاتین ڈاکٹر نے ایک دوسرے کو پسند کرنا شروع کر دیا اور ہم جنس پرستی کا سلسلہ چل نکلا

    بھارتی میڈیا کے مطابق ہم جنس پرست ڈاکٹر پرومیتا کا کہنا ہے کہ جب انہوں نے سربھی مترا سے پوچھا کہ اگر سب کے سامنے انہیں پرپوز کروں تو کیا ری ایکشن ہو گا انکار کریں گی یا ہاں تو سربھی مترا نے کہا کہ وہ انکار نہیں کریں گی، دونوں خواتین ڈاکٹر نے آپس میں رضا مندی کے بعد منگنی کی ہے اسے کمٹمنٹ سرمنی کا نام دیا گیا ہے

    بھارت میں ہم جنس پرستوں کی منگنی یا شادی کا پہلا واقعہ نہیں ہے بلکہ اس سے قبل بھی کئی واقعات رونما ہو چکے ہیں، گزشتہ برس ماہ دسمبر میں ھارت میں ہم جنس پرست جوڑے نے 8 سال کی ملاقاتوں کے بعد بالآخر شادی کرلی جس میں اُن کے اہل خانہ اور دوستوں نے بھی شرکت کی۔ تقریب میں پنجاب اور بنگال کی شادی کی روایتی رسومات بھی ادا کی گئیں ہم جنس پرست جوڑے نے ایک دوسرے کو انگوٹھیاں بھی پہنائیں اور دونوں کا ایک شاندار ولیمہ بھی ہوا جب کہ اس سے قبل منہدی، ہلدی اور سنگیت کی تقریب بھی رکھی گئی تھی۔ بھارتی میڈیا کے مطابق ہم جنس پرست جوڑے کی پہلی ملاقات ایک ڈیٹنگ ایپ پر 8 سال قبل ہوئی تھی اور تب سے وہ ایک دوسرے سے مل رہے ہیں ان کے اس مضبوط تعلق کی بنیاد پر اہل خانہ نے دونوں کے درمیان اس رشتے کو قبول کرنے کا فیصلہ کیا۔

    کراچی ڈیفنس فیز VII میں ہم جنس پرستوں کا پرچم،قوم کےلیے لمحہ فکریہ،

     بھارت میں ہم جنس پرست خواتین کو عدالت نے سیکورٹی فراہم کرنے کی ہدایت

    بیس ہزار کے عوض خاتون نے ایک ماہ کی بیٹی کو فروخت کیا تو اس کے ساتھ کیا ہوا؟

    بھارتی پولیس اہلکاروں کی غیر ملکی خاتون سے 5 ماہ تک زیادتی

    ایک ہزار سے زائد خواتین، ایک سال میں چار چار بار حاملہ، خبر نے تہلکہ مچا دیا

    ایک برس میں 10 ہزار سے زائد کسانوں نے کس ملک میں خودکشی کی؟

    فرار ہونیوالے ملزمان میں سے کتنے ابھی تک گرفتار نہ ہو سکے؟

    طالب علم سے زیادتی کر کے ویڈیو بنانیوالے ملزم گرفتار

    ملازمت کے نام پر لڑکیوں کی بنائی گئیں نازیبا ویڈیوز،ایک اور شرمناک سیکنڈل سامنے آ گیا

    200 سے زائد نازیبا ویڈیو کیس میں اہم پیشرفت

    نازیبا ویڈیو سیکنڈل،پولیس لڑکیوں کو بازیاب کروانے میں تاحال ناکام

  • پی آئی اے طیارہ،غبارہ بھارت نے تحویل میں لے لیا

    پی آئی اے طیارہ،غبارہ بھارت نے تحویل میں لے لیا

    پی آئی اے طیارہ،غبارہ بھارت نے تحویل میں لے لیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں غبارے نے ایک بار پھر حکام کی دوڑیں لگوا دیں

    غبارے پر پی آئی اے لکھا ہوا تھا ،شہریوں نے اطلاع دی تو کھلبلی مچ گئی، ایک شہری کا کہنا تھا کہ گھر سے لکڑی اکٹھی کرنے کے لئے آ رہے تھے تو پی آئی اے دیکھا غور کیا تو ایک غبارہ تھا جو درخت پر لٹکا ہوا تھا، پاکستان کی جانب سے ایسا کیا جا رہاہے، ہمارے گاؤں میں پہلے بھی ایسا ہوا ہے کہ غبارہ آیا جس پر پی آئی اے لکھا ہوا تھا، پہلے سبز رنگ کے غبارے ملتے تھے اب سرخ رنگ کے غبارے آ رہے ہیں جن پر پی آئی اے لکھا ہوا ہے ، سیکورٹی ادارے موقع پر پہنچے اور غبارے کو تحول میں لے کر تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے

    قبل ازیں گزشتہ برس بھارتی بارڈر سیکیورٹی فورسز نے ایک اور پاکستانی جاسوس کبوتر پکڑنے کا مضحکہ خیز دعوی کیا تھا بھارت نے دعوی کیا کہ کبوتر17 اپریل کو پاکستانی علاقے واہگہ کے قریب سے اڑتا ہوا بھارتی علاقے رورانوالہ میں چلا گیا اور یہ پاکستانی کبوتر پولیس کانسٹیبل کے کندھے پر بیٹھ گیا۔رپورٹس کے مطابق کبوتر کا معائنہ کیا تو اس کی ٹانگ پر کاغذ بندھا ہوا تھا، کبوترکی ٹانگ کے ساتھ سفید کاغذ پر پاکستانی موبائل نمبر لکھا ہے۔ پاکستانی موبائل نمبر جلو موڑ کے قریب موٹر ورکشاپ کے مالک کا نکلا ہے، جبکہ موٹر ورکشاپ کے مالک نے کبوتر لاپتہ ہونے کی تصدیق بھی کی ہے۔

    اس سے قبل ٹڈل دل کے حوالہ سے بھی بھارت نے پاکستان پر الزام لگایا تھا کہ ٹڈی دل پاکستان نے بھیجی ہیں ،ر بھارتی ٹی وی نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ پہلے پاکستان نے کبوتر بھیجا جاسوسی کرنے اس کے بعد کروڑوں کی ٹڈی کی فوج نے بھارت پر حملہ کر دیا بھارت کے کئی علاقوں میں تباہی مچا دی نا اسلحہ نا بارود پھر بھی حملہ ہوا جس سے کسانوں کو نقصان ہوا، مودی سرکار ٹڈیوں کو پکڑے اور ان پر تحقیق کرے کہ پاکستان نے ٹڈیوں کو بھارت کیوں بھیجا؟

    سوشل میڈیا پر اس بھارتی الزام کا خوب مذاق اڑایا جا رہا ہے، ایک صارف کا کہنا تھا کہ بھارت اپنے ہاں ہونے والے ہر حادثے کا الزام پاکستان پر ہی ڈالتا ہے قدرتی آفات بھی ان کو لگتا ہے کہ پاکستان کی وجہ سے آتے ہیں مگر پاکستان کا کسان خود ٹڈی دل کے حملوں سے پریشان ہے

    دنیا دیکھتی رہ گئی،پاکستان نے ٹڈی دل کو مرغیوں کی خوراک بنا دیا

     پاکستانی کبوتر کی گرفتاری، بین الاقوامی سطح پر بھارت کا مذاق بن گئی

    کرونا لاک ڈاؤن، شادی کی خواہش رہی ادھوری، پولیس نے دولہا کو جیل پہنچا دیا

    کرونا لاک ڈاؤن، گھر میں فاقے، ماں نے 5 بچوں کو تالاب میں پھینک دیا،سب کی ہوئی موت

    دس برس تک سگی بیٹی سے مسلسل جنسی زیادتی کرنیوالے سفاک باپ کو عدالت نے سنائی سزا

    شادی شدہ خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے بعد ملزمان نے ویڈیو وائرل کر دی

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے، ویڈیو وائرل

    نوجوان جوڑے پر تشدد کرنیوالے ملزم عثمان مرزا کے بارے میں اہم انکشافات

    لڑکی کو برہنہ کرنیوالے ملزم عثمان مرزا کو پولیس نے عدالت پیش کر دیا

    کیا فائدہ قانون کا، مفتی کو نامرد کیا گیا نہ عثمان مرزا کو،ٹویٹر پر صارفین کی رائے

    لڑکی کو برہنہ کرنے کی ویڈیو، وزیراعظم عمران خان کا نوٹس، بڑا حکم دے دیا

    عثمان مرزا کی جانب سے لڑکی اور لڑکے پر تشدد کے بعد نوجوان جوڑے نے ایسا کام کیا کہ پولیس بھی دیکھتی رہ گئی

    نوجوان جوڑے پر تشدد کیس، پانچویں ملزم کو کس بنیاد پر گرفتار کیا؟ عدالت کا تفتیشی سے سوال

    ویڈیو کس نے وائرل کی تھی؟ عدالت کے استفسار پر سرکاری وکیل نے کیا دیا جواب

    نوجوان جوڑے کو برہنہ کرنے کا کیس،ملزم عثمان مرزا کو عدالت نے کہاں بھجوا دیا؟

  • کشمیریوں کواپنے ہی پانیوں سے بننے والی بجلی سے محروم کردیا گیا

    کشمیریوں کواپنے ہی پانیوں سے بننے والی بجلی سے محروم کردیا گیا

    سرینگر:غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا(مارکسسٹ) نے کہا ہے کہ بجلی کے بریک ڈاون، سڑکوں کی بندش، راشن کی قلت اور عوام کو درپیش دیگر مشکلات سے حکام کے بلند و بانگ دعوے بے نقاب ہو گئے ہیں۔کشمیریوں کواپنے ہی پانیوں سے بننے والی بجلی سے محروم کردیا گیا ہے

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق سی پی آئی(ایم )کے رہنما محمد یوسف تاریگامی نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ اگرچہ شدید برفباری خطے کے لیے کوئی نئی بات نہیں لیکن جو بلند وبانگ دعوے کیے گئے تھے، وہ ایک مذاق ثابت ہو رہے ہیں۔انہوں نے بڑے پیمانے پر بجلی کے بریک ڈاون کا حوالہ دیتے ہوئے جس نے پوری وادی کو مکمل تاریکی میں ڈبو دیاہے، کہا کہ حکام بجلی کی سپلائی بحال کرنے میں ناکام رہے۔

    انہوں نے حیرت کا اظہار کیا کہ چند انچ برف پڑنے سے پوری انتظامیہ ٹھپ ہوکررہ جاتی ہے جس سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں قدرتی آفات سے نمٹنے کی تیاریوں کو مضبوط کرنے کی اشد ضرورت کی عکاسی ہوتی ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہارکیاکہ ابھی تک کئی سڑکوں سے برف نہیں ہٹایاگیا ہے اور وادی کے دیہی علاقوں میں سڑکوں پر ابھی تک ٹریفک بحال نہیں ہوسکی ہے جس کی وجہ سے عوام کوشدید مشکلات کا سامنا ہے۔

    دریں اثناوادی چناب کے کشتواڑ، رامبن اور ڈوڈہ اضلاع میں بھی بارش اور شدید برف باری ہوئی جس کے نتیجے میں سردی کی لہر نے پورے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے جبکہ زیادہ تر علاقوں میں بجلی معطل ہے۔

    اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ کشتواڑ شہر اور اس کے ملحقہ علاقوں میں گزشتہ رات کے دوران شدید برف باری ہوئی جبکہ ضلع کے علاقوںبھجواہ، چھاترو، پڈر، ناگسنی، گندوہ، بھدرواہ، مرمت، ڈیسا اور ضلع ڈوڈہ کے کئی علاقوں میں بھی بھاری سے درمیانی درجے کی برف باری ہوئی ہے۔اسی طرح ضلع رامبن کے بہت سے علاقوں میں بھی شدید برف باری ہوئی اور سڑک کی پھسلن اور بڑے پیمانے پر مٹی کے تودے گرنے کے باعث حکام نے جموں سرینگر ہائی وے کو ٹریفک کے لئے بند کردیا ہے۔

  • بی جے پی نے بھارت میں نفرت کی کئی فیکٹریاں قائم کررکھی ہیں: راہول گاندھی

    بی جے پی نے بھارت میں نفرت کی کئی فیکٹریاں قائم کررکھی ہیں: راہول گاندھی

    نئی دہلی:بھارت میں کانگریس کے رہنما راہول گاندھی نے کہا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے نفرت کی کئی فیکٹریاں قائم کررکھی ہیں اور ’Tek Fog‘ ایپ ان میں سے ایک ہے۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق راہول گاندھی نے ہندی میں ایک ٹویٹ میں کہا کہ ایک مخصوص مذہب کی خواتین کو نشانہ بنانے والے”بلی بائی“ ایپ کیس کے ملزمان کی عمرکی دیکھتے ہوئے پورا ملک حیران ہے کہ اتنی نفرت کہاں سے آرہی ہے۔ ”بلی بائی ایپ کیس کے ملزم کی کم عمری کو دیکھ کر پورا ملک پوچھ رہا ہے کہ اتنی نفرت کہاں سے آتی ہے۔

    انہوں نے اپنے ٹویٹ میں کہاکہ دراصل بی جے پی نے نفرت کی کئی فیکٹریاں قائم کررکھی ہیں اور ٹیک فوگ ان میں سے ایک ہے۔انہوں نے ایک رپورٹ کو ٹیگ کیا جس میں کہا گیا تھا کہ ٹیک فوگ بی جے پی کی معاون ایپ ہے جس نے سائبر آرمی کو نفرت پھیلانے اور سوشل میڈیا پرٹرینڈز کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے کی طاقت دی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ کانگریس پہلے ہی اس ایپ کے حوالے سے حکومت سے جواب طلب کر چکی ہے اور بھارتی سپریم کورٹ سے مداخلت کا مطالبہ کرچکی ہے۔ ’بلّی بائی‘ کیس میں سیکڑوں مسلم خواتین کی تصاویر کو ’نیلامی‘ کے لیے ’بلّی بائی‘ نامی ایپ پر اپ لوڈ کیا گیا تھا۔

  • بھارت:فوج کی زیرنگرانی انتخابات کا فیصلہ:آغازپنجاب سے:ہزاروں فوجی تعینات

    بھارت:فوج کی زیرنگرانی انتخابات کا فیصلہ:آغازپنجاب سے:ہزاروں فوجی تعینات

    چنڈی گڑھ :بھارت:فوج کی زیرنگرانی انتخابات کا فیصلہ:آغازپنجاب سے:ہزاروں فوجی تعینات ،اطلاعات کے مطابق بھارتی پنجاب کے چیف الیکٹورل آفیسر ایس کرونا راجو نے کہا ہے کہ پنجاب کو الاٹ کی گئی 75 اضافی کمپنیوں میں سے 50 کل (پیرکو) ریاست پہنچ جائیں گی۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ایس کرونا راجو نے ڈپٹی کمشنروں،ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسروں،پولیس کمشنروں اورا یس ایس پیز کے ساتھ ایک میٹنگ کی اور الیکشن کمیشن کے احکامات پرمکمل عمل درآمد کو یقینی بنانے کی ہدایات جاری کیں۔کرونا راجو نے الیکشن کمیشن کے تمام قواعد وضواب چیف سکریٹری اور دیگر سینئر حکام کے نوٹس میں بھی لائے۔

    انہوں نے کہا کہ ایک ایپ cVIGILشروع کی گئی ہے اور اس پر درج شکایات کا ازالہ 100 منٹ کے اندر کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے لیے مناسب تعداد میں سکیورٹی فورسز تعینات کی جائیں گی۔ سی ای او نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی ہدایات کے مطابق 15 جنوری تک ریلیاں نہیں نکالی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ کسی خلاف ورزی کو برداشت نہیں کیا جائے ۔

    ادھر اطلاعات ہیں‌ کہ الیکشن کمیشن نے اتر پردیش، پنجاب، اتراکھنڈ، گوا اور منی پور کے انتخابی شیڈول کا ہفتہ کے روز اعلان کیا جس کے مطابق ان تمام ریاستوں میں انتخابی پروگرام سات مرحلوں میں مکمل کیے جائیں گے۔

    اتر پردیش میں سات مراحل میں، منی پور میں دو مرحلوں اور اتراکھنڈ، پنجاب اور گوا میں ایک مرحلے میں ووٹنگ ہوگی۔ پہلے مرحلے میں 10 فروری کو ووٹنگ ہوگی اور تمام ریاستوں میں ووٹوں کی گنتی 10 مارچ کو ہوگی۔

    پانچ ریاستوں میں کل 690 اسمبلی سیٹوں کے لیے ووٹ ڈالے جائیں گے۔ انتخابی نوٹیفکیشن فوری طور پر جاری کر دیا گیا ہے اور اس کے ساتھ ہی انتخابی ضابطہ اخلاق بھی نافذ ہو گیا ہے۔ انتخابات کے دوران کووڈ کے رہنما خطوط پر سختی سے عمل کیا جائے گا۔اتر پردیش کی 403 سیٹوں، پنجاب کی 117، اتراکھنڈ کی 70، منی پور کی 60 اور گوا کی 40 سیٹوں کے لیے ووٹنگ ہوگی ، جس کے لیے ان ریاستوں میں بھارتی فوج کی سینکڑوں کمپنیاں تعیناتی کےلیے تیار ہیں