Baaghi TV

Tag: بھارت

  • سنیما گھروں کے لئے آن لائن اسٹریمنگ پلیٹ فارمز، ایک نیامسئلہ

    سنیما گھروں کے لئے آن لائن اسٹریمنگ پلیٹ فارمز، ایک نیامسئلہ

    بھارت میں کو رونا وائرس کے باعث جاری لاک ڈاؤن کے دوران امیتابھ بچن اور آیوشمان کھرانہ کی نئی فلم ‘گلابو ستابو’ سنیما گھروں کے بجائے اب آن لائن اسٹریمنگ پلیٹ فارم پر ریلیز ہو رہی ہے۔ اس فلم کے ساتھ ساتھ کچھ اور فلمیں ہیں، جو اب انہیں پلیٹ فارمز پر ریلیز ہونے والی ہیں۔ ایسے میں سنیما گھروں کے سامنے آن لائن اسٹریمنگ پلیٹ فارمز نے نیامسئلہ کھڑا کر دیا ہے۔ کو رونا وائرس کے پیش نظر پورے بھارت میں 25 مارچ سے لاک ڈاؤن نافذکیا گیا تھا اور اب اس میں مسلسل چوتھی باراضافہ کرتے ہوئے اسے31 مئی تک بڑھا دیا گیا ہے.لاک ڈاؤن نافذ کرنے سے ہفتہ دس دن پہلے ہی وائرس سے تحفظ کی کوششوں کے
    تحت لوگوں کو ایک جگہ جمع ہونے سے روکنے کے لیے مختلف ریاستوں میں دفعہ 144 نافذ کر دیا گیا تھا۔ ساتھ ہی احتیاط کے تحت مختلف ریاستوں میں سنیما گھراورملٹی پلیکس بھی بند کردیےگئے تھے۔ اس طرح سنیما گھر اور ملٹی پلیکس کو بند ہوئے تقریباً تین مہینے سے کچھ زیادہ وقت گزر چکا ہے۔ لاک ڈاؤن کی وجہ سے دوسرے کاروبار کی طرح دنیا کی دوسری بڑی فلم انڈسٹری بھی بری طرح متاثر ہے۔اسی دوران انڈسٹری سے ایک خبر آئی کہ امیتابھ بچن اور آیوشمان کھرانہ کی ایکٹنگ سے سجی اور شوجیت سرکار کی ہدایت میں بنی فلم ‘گلابو ستابو’ سنیما گھروں کےبجائے اب آن لائن اسٹریمنگ پلیٹ فارم امیزان پرائم پر ریلیز ہو رہی ہے۔اس خبر نے ایک بار پھریہ سوال اٹھا دیا ہے کہ ملٹی پلیکس کی وجہ سے جس طرح سنگل اسکرین سنیما گھر لگ بھگ ختم ہو گئے، کیا نیٹ فلیکس، امیزان پرائم، ڈزنی ہاٹ اسٹار جیسے آن لائن اسٹریمنگ پلیٹ فارم آنے کی وجہ سے کچھ ویسا ہی مستقبل اس کا ہونے والا ہے؟ گزشتہ چار مئی کو ہی دی ملٹی پلیکس ایسوسی ایشن آف انڈیا(ایم اے آئی)نے اسٹوڈیو پارٹنر، پروڈیوسر، اداکاروں اور فلم انڈسٹری میں اپنی خدمات دینے والے دوسرے لوگوں سے اپیل کی تھی کہ وہ اپنی فلموں کی ریلیزکو روک کر رکھیں اور ایک بار جب سنیما گھر کھل جائیں تو وہیں ریلیز کریں۔ تنظیم کی یہ اپیل ان قیاس آرائیوں کے بعد آئی تھی، جس میں کہا جا رہا تھا کہ اکشے کمار کی فلم ‘لکشمی بامب’ سمیت کچھ فلموں کو سیدھے ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر ریلیز کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ گلابو ستابو کے ڈیجیٹل ریلیز کے اعلان پربھارت کے سب سے بڑے آئی ناکس اور پی وی آر جیسے ملٹی پلیکس چین نے بھی مایوسی کا اظہار کیا ہے۔آئی ناکس کی جانب سے کہا گیا ہے کہ سنیما اوراس کو بنانے والے ہمیشہ باہمی منافع کی خاطر کام کرتے ہیں. ایک بیان میں آئی ناکس نے کہا ہے کہ اس مشکل وقت میں ایک دوسرے کے شیئر ہولڈرز میں سے ایک کے ذریعے اس طرح کا قدم اٹھانا پریشان کن ہے۔بالخصوص اس وقت جب ایک دوسرے کے ساتھ کندھے سے کندھا ملاکر کھڑے ہونے کی ضرورت ہے۔ پی وی آر پکچرز کے سی ای او کمل گیان چندانی نے کہا ہے ہماری اپیل کے بعد بھی فلم کے پروڈیوسرزکی طرف سے فلم گلابو ستابو کو ڈیجیٹل ریلیز کئے جانے کے فیصلے سے ہمیں بے حد مایوسی ہوئی ہے۔
    یہ پہلی بارنہیں ہے کہ کوئی فلم براہ راست امیزان یا نیٹ فلکس پر ریلیز ہو رہی ہے۔ اس سے پہلے رشی کپور کی فلم ‘راجما چاول’ اور ‘مرد کو درد نہیں ہوتا’ جیسی لو بجٹ فلمیں سیدھے آن لائن پلیٹ فارم پر ریلیز ہوئی ہیں۔گلابو ستابو بڑی فلم ہے۔ کہا جارہا تھا کہ لاک ڈاؤن کے بعد اس فلم کی ریلیز سے سنیما گھروں کو نئی جان مل سکتی تھی۔ انڈین ایکسپریس سے بات چیت کرتے ہوئے فلم ایکزبٹر اکشے راٹھی نے کہا کہ گلابو ستابو کی اسٹار کاسٹ بڑے پردے پر جادو جگا دیتی۔ وہ کہتے ہیں، ‘فلم میں امیتابھ بچن اورآیوشمان کھرانہ ایک ساتھ آ رہے ہیں۔ یہ فلم باکس آفس پر 100 کروڑ روپے کی حد پار کر لیتی۔ راٹھی نے کہا یہ صحیح ہے کہ کوئی بھی فلم اس کے پروڈیوسر کے بیٹے کی طرح ہوتی ہے اور اس کو اختیار ہوتا ہے کہ وہ اس کو جہاں مرضی ریلیز کر دے، لیکن یہ ایک مثال ہے، جس کا بڑے پردے پر سنیما دکھانے کی روایت منفی اثرمرتب ہوگا۔ واضح رہے کہ اچانک لاک ڈاؤن کی وجہ سے جہاں عرفان خان کی آخری فلم ‘انگریزی میڈیم’ اور ‘باغی 3’ کا کاروبار بری طرح متاثر ہوا تھا، جس کے بعد انہیں فوراً آن لائن اسٹریمنگ پلیٹ فارمز پر ریلیز کر دیا گیا۔اس لیگ میں ‘گلابو ستابو’ اکیلی فلم نہیں ہے۔ ودیا بالن کی فلم ‘شکنتلا دیوی: ہیومن کمپیوٹر’، ساؤتھ انڈین اداکارہ جیوتیکا کی فلم ‘پونمگل وندھل’، تمل فلم ‘پینگئن’، کنڑ فلم ‘آل’ اور ‘فرینچ بریانی’، ملیالم فلم ‘سوفیم سجاتیم’ بھی امیزان پرائم پر ریلیز ہونے والی ہیں۔

  • کشمیر و بھارت میں مسلمانوں پر ظلم کی انتہا کرنے والے مودی کو لداخ میں چینی قبضے پر سانپ سونگھ گیا از طہ منیب

    تین دن قبل چائنہ نے پانچ ہزار فوج کے ساتھ پانچ اطراف شمالی سکم، گولان ، ناکولا پاس سے بھارت پر چڑھائی کی اور تقریباً پانچ کلو میٹر تک لداخ اندر گھسنے کے بعد قبضہ کرتے ہوئے اسی خیمے گاڑ دئیے ، پچاس کے قریب بھارتی فوجی گرفتار کیے ھو بعد ازاں انڈین آفیشلز کے رونے دھونے پر چھوڑ دئیے گئے، چینی فوج نے گولیاں بارود پھونکنے کی بجائے کنگ فو ، کراٹے، مارشل آرٹس کا مظاہرہ کرتے ہوئے ، مکوں ، گھونسوں ، ٹھڈوں ، دھکوں اور ڈنڈوں سے پیچھے دکھیلا جبکہ گالیوں ، ڈانٹ ڈپٹ کی بھی وارفئر اس بار دیکھنے میں آئی جب چینی فوج میں موجود ایک فوجی نے ارناب گوسوامی کے انداز میں بھارتی افسر کو سمجھایا جو منتوں ترلوں سے سمجھانے آیا تھا کہ کچھ صبر لیں ہمارے بڑے آ رہے ہیں وہ مل بیٹھ کر بات کر لیں گے وغیرہ وغیرہ ، اسی طرح ایک جگہ ہند کی بہادر آرمی آنگلش و چینی زبان میں ایک بینر اٹھائے کھڑی تھی کہ جس جگہ آپ کھڑے ہیں یہ معاہدہے کے مطابق یہ جگہ ہماری ہے تو آپ پلیز گو بیک۔ چائنہ نے ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے ٹھیک اگلے دن اپنے شہریوں کو بھارت چھوڑنے کا اعلان کر دیا۔

    آج کی اطلاعات کے مطابق چائنہ نے مزید اپنے مزید پانچ ہزار فوجی بڑھا کر کل دس ہزار تعداد کر دی ہے جنہوں نے پیش قدمی کرتے ہوئے لداخ کی ایک پوری وادی ملکیت کا دعویٰ کر دیا ہے ، اسی طرح سیٹلائیٹ تصاویر کے مطابق لداخ کے قریب چینی سائڈ پر موجود ائر بیس پر چائنہ بڑی تعداد میں تعمیرات کر رہا ہے جس چائنہ کے لداخ سے متعلق مستقبل کی پلاننگ واضح ہوتی ہے۔

    کشمیر کی متنازعہ حیثیت کا خاتمہ ، بلوچستان میں دہشتگردی ، گلگت بلتستان میں فنڈنگ امریکی ایماء پر بھارت کی پاکستان و چین کے مشترکہ پراجیکٹ سی پیک کے خلاف بڑی سازش کو منطقی انجام تک پہنچانے یا کسی حد تک بھارت کو لداخ میں محدود کرنے کی چینی پلاننگ ہو سکتی ہے۔

    چائنہ سے مار کھانے، منتیں ترلے، درخواستیں اور جواب کے بجائے بینر اور احتجاج کرنے والی یہ فوج وہی ہے جس کے سربراہ مودی ڈھاکہ میں کھڑا ہوکر اعتراف کرتا ہے کہ ہم نے رت بہایا تو تمہیں پاکستان سے آزادی ملی،یہ وہی فوج ہے نے کشمیر میں میں ستر سالوں سے جاری ظلم و ستم میں شدت پیدا کی، آرٹیکل 370 کو ختم کرکے نو ماہ تک بدترین لاک ڈاؤن رکھا ، یہ وہی مودی کا بھارت ہے جس نے کشمیر کی امتیازی حیثیت کو ختم کرنے کے بعد بابری مسجد کا یکطرفہ فیصلہ کروا کر رام مندر کی تعمیر کا فیصلہ کروایا ، یہ وہی امت شاہ کا انڈیا ہے جس نے سیٹیزن شپ امینڈمنٹ ایکٹ لگا کر سینہ ٹھونک کر کہا ہم نے جو کہا کیا ، اور ہر بار کشمیر میں عسکریت پسندی کی ہوئی کسی کاروائی پر چون انچ کا سینہ پھلا کر پاکستان کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے دعویدار مودی کو چائنہ کی لداخ میں پیشقدمی اور بھارتی ذلت پر سانپ سونگھ گیا ہے، دہلی خاموش ہے، کسی قسم کی سرجیکل اسٹرائک ، گھس کر مارنے کی بھڑک تاحال سامنے نہیں آسکی۔ تاہم بھارتی متشدد دفاعی تجزیہ جنرل ر بخشی نے احتجاجاً اپنی ایک سائڈ کی مونچھیں کٹوا لی ہیں۔ دیکھتے ہیں کہ بھارت کے جنونی عوام، چیختے چنگھاڑتے اینکرز اور بھڑکیں مارتے وزرا کیا پالیسی اپناتے ہیں۔

  • صحافی کی بے دردی سے پٹائی، دو پولیس اہلکار معطل

    صحافی کی بے دردی سے پٹائی، دو پولیس اہلکار معطل

    بھارتی پنجاب حکومت نے موہالی سے شائع ہونے والے ایک مقامی اخبار کے صحافی کی بے رحمی سے پٹائی کرنے والے دونوں پولیس اسسٹنٹ سب انسپکٹر کو معطل کر دیا ہے. مقامی پنجابی اخبار کے صحافی میجر سنگھ پنجابی ایک مقامی گرودوارے میں دو گروپوں کی ایک مفاہمتی میٹنگ کی کوریج کے لئے گئے. جب کہ اسی دوران موہالی پولیس اسٹیشن فیز 1 کے دو اسسٹنٹ سب انسپکٹروں (اے ایس آئی) نے ان کی پٹائی کر دی جس سے وہ شدید زخمی ہو گئے۔ میجر سنگھ پنجابی کی تصویریں اور ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد صحافیوں کی کئی تنظیموں نے سخت احتجاج کیا جس کے بعد ملزم پولیس اہلکاروں کو معطل کر دیا گیا۔ میجر سنگھ اس وقت موہالی کے سول ہاسپٹل میں زیرعلاج ہیں۔ میجر سنگھ نے کہا کہ 22 مئی کی دوپہر کو وہ گرودوارے میں دو گروپوں کے درمیان ایک میٹنگ کو کور کرنے گئے تھے جب وہ وہاں پہنچے تواے ایس آئی اوم پرکاش اور امرناتھ کو دیکھا، جو ایک شخص جسپال سنگھ کو پکڑ کرکمرے سے باہر لا رہے تھے. انہوں نےاپنے موبائل فون سے اسے ریکارڈ کرنا شروع کر دیا اور جسپال سے بات کرنے کی کوشش کی۔ پولیس نے انہیں ویڈیو بناتے سے روکا لیکن انہوں نے پولیس کو بتایا کہ وہ صحافی ہیں اور کوریج کے لئے آئے ہیں اس کے باوجود دونوں پولیس اہلکارزبردستی انہیں ایک نجی گاڑی میں بٹھاکرموہالی کے فیز 1 پولیس اسٹیشن لے گئے۔ انہیں جس گاڑی میں بٹھایا گیا اس کا نمبر پلیٹ ہریانہ کا تھا۔ انہوں نے بتایاکہ گاڑی سے اترنے سے پہلے ہی اے ایس آئی اوم پرکاش نے ڈنڈے سے ان کی پٹائی شروع کر دی۔ دونوں انہیں گھسیٹ کر لاک اپ میں لے گئے، جہاں نہ صرف انہیں پیٹا کیا گیا بلکہ بے عزت بھی کیا گیا۔ ان کی پگڑی بھی کھول دی جب کہ وہ باربار پولیس والوں کو کہتے رہے کہ ان کی پگڑی کو ہاتھ نہ لگائیں لیکن انہوں نے ایک نہ سنی. اس کے ساتھ ساتھ ان کی جیب میں موجود کنگا بھی پھینک دیا.انہوں نے کہا کہ ان کے بائیں پیر، دونوں بازو اور پیٹھ میں شدید چوٹیں آئیں. موہالی کے ڈپٹی کمشنر گریش دیالن کا کہنا ہے کہ انہوں نے موہالی کے ایس ڈی ایم جگدیپ سہگل کو معاملے کی آزادانہ تحقیقات کر کے تین دنوں میں رپورٹ پیش کرنے کو کہا ہے۔اس دوران چنڈی گڑھ پریس کلب اور چنڈی گڑھ جرنلسٹ ایسوسی ایشن کے صدربلوندر سنگھ اور ڈوسرے نے پنجابی پر حملے کی مذمت کی اور قصور واروں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا.

  • طیارے کےالمناک حادثہ پربھارتی ہندووں کا انتہائی شرمناک رویہ

    طیارے کےالمناک حادثہ پربھارتی ہندووں کا انتہائی شرمناک رویہ

    پاکستان پر دہشت گردی کا الزام لگانے والےدنیا کےسب سے بڑے دہشت گرد ریندر مودی کے ملک بھارت کے عوام کی ذہنیت بھی مودی کی طرح دہشت گردانہ ہو چکی ہے.

    کشمیر میں ہونے والے ظلم و بربریت کی طرف دھیان نہ کرنے والے بھارتی گھٹیا ذہنیت کی مالک عوام نے پاکستان میں ہونے والے المناک طیارے کے حادثہ پر انتہائی شرمناک رویہ اختیار کیا ہے سوشل میڈیا پرجتنے گھٹیا کمنٹس بھارتی عوام نے دئے دنیا بھر میں اس کی مثال نہیں ملتی. اگر آج ہٹلر زندہ ہوتا تو اس کا سر بھی شرم سے جھک جاتا. دنیا کے کسی بھی مذہب میں انسانیت پر کسی بھی طرح کے سانحہ گزرنے پردکھ اور افسوس کا اظہار کیا جاتا ہے لیکن بھارتی مودی کے ہندوتوا کا پرچار کرنے والے عوام کو شرم نہیں آئی.

  • لاک ڈاون کے دوران ریسٹورنٹ کا کھانا کھانے کے شوقین نقاب پوش چوروں کی کارروائی

    لاک ڈاون کے دوران ریسٹورنٹ کا کھانا کھانے کے شوقین نقاب پوش چوروں کی کارروائی

    بھارتی ریاست گجرات کے شہر جونا گڑھ میں لاک ڈاون کے دوران ریسٹورنٹ کا کھانا کھانے کے شوقین پانچ نقاب پوش افراد آدھی رات کو ایک ریسٹورنٹ میں گھس گئے اوروہاں کے باورچی خانے میں جا پہنچے. ان نقاب پوشوں نے باورچی خانے میں چاول اورآلو پکوڑہ کڑی خود ہی بناکراطمینان سے کھائی اور بغیر کوئی دوسری چیز کو ہاتھ لگائے وہاں سے واپس چلے گئے. اگلے روزمالکان نےواقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج دیکھی جو کہ ریسٹورنٹ میں لگے سیکیورٹی کیمروں میں قید ہوگئی جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ پانچوں افراد چاول اور آلوپکوڑہ کڑی پکا رہے ہیں . مالکان نے نامعلوم نقاب پوش کھانے کے شوقینوں کے خلاف کسی قسم کی کارروائی کرنے سے انکار کر دیاہے.

  • فون نہ اٹھانے پر بیوی کا ہاتھ کاٹ دیا

    فون نہ اٹھانے پر بیوی کا ہاتھ کاٹ دیا

    بھارتی ریاست چھتیس گَڑھ کے ضلع رائے پورمیں 25 سالہ کورونا کے مریض للت کوروانے صرف اس وجہ سے اپنی بیوی کا ہاتھ کاٹ دیا کہ وہ دوسرے شہر جیش پورکے قرنطینہ سنٹر سے اپنی بیوی کو فون کر رہا تھا لیکن وہ دوسرے فون پر مصروف ہونے کی وجہ سے اپنے شوہر کا فون نہ اٹھا سکی. للت کوروااپنا فون نہ اٹھانے پر طیش میں آگیا اور قرنطینہ سے چوری چوری فرار ہو گیااور رائے پور سے جیش پور اپنے گھر پہنچا اور شک کی بنیا د پرآری کے ساتھ اپنی بیوی پیار بائی کا ہاتھ کاٹ کر اسے اور اپنے 2 سال کے بیٹے کو چھوڑ کرفرارہوگیا۔ للت کے فرار ہونے کے بعد اس کی بیوی کو اسپتال پہنچایا گیا مگر اس کے ہاتھ کو نہیں جوڑا جا سکا۔ دوسری جانب مقامی پولیس نے ملزم للت کوروا کو گرفتار کر لیا ہے. پولیس کے مطابق للت نے بیان دیا کہ وہ جب بھی اپنی بیوی کو فون کرتا تھا اس کا نمبر کسی دوسرے نمبر پر مصروف ہوتا تھا.اسے شک تھا کہ اس کا کسی دوسرے شخص کے ساتھ افیئر چل رہا ہے.

  • سمندری طوفان امفان نے بھارت اور بنگلا دیش میں تباہی مچا دی، 84 افراد ہلاک

    سمندری طوفان امفان نے بھارت اور بنگلا دیش میں تباہی مچا دی، 84 افراد ہلاک

    خلیج بنگال میں موجود سمندری طوفان امفان نے بھارت اور بنگلا دیش میں تباہی مچادی اور طوفان سے اب تک 84 افراد ہلاک جب کہ درجنوں زخمی ہو گئے۔ طاقتور سمندری طوفان امفان گزشتہ روز بھارتی ریاست مغربی بنگال کے ساحل سے ٹکرایا تھا اور طوفان سے بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ریکارڈ ہوا ہے۔

    مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بنرجی نے طوفان سے ریاست میں 72 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ وزیراعلیٰ ممتا بنرجی کا کہنا ہے کہ طوفان کے باعث مغربی بنگال میں ہزاروں مکانات کی چھتیں اڑ گئی ہیں اور درخت اکھڑ گئے ہیں۔ مغربی بنگال کے نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہو گیا ہے جس کی نکاسی کے لیے امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ طوفان کے باعث کلکتہ ائیرپورٹ بھی شدید متاثر ہوا ہے اور ہوائی اڈے کا ایک حصہ پانی میں ڈوب گیا ہے جب کہ کئی جہازوں کو نقصان بھی پہنچا ہے۔ سمندری طوفان امفان نے بنگلادیش کے 3 ساحلی اضلاع کو بھی متاثر کیا جہاں 4 افراد ہلاک اور کئی زخمی ہو گئے۔ طوفان کے باعث بنگلادیش کی ساحلی علاقوں میں تیز ہواؤں کے ساتھ شدید بارشیں ہو رہی ہیں. بنگلادیش کے ساحلی اضلاع ستکھیرا، سندربن، کورگرام اور جمال پور متاثر ہوئے، دو افراد پٹوا خالی میں کشتی ڈوبنے سے ہلاک ہوئے، پیروج پور کے علاقے متھبیریا میں دیوار گرنے سے ایک شخص جاں بحق ہوا جب کہ ستیریا کے علاقےکمل نگر میں درخت گرنے سے خاتون ہلاک ہوئی۔

    سمندری طوفان امفان کے باعث بنگلادیش کے ساحلی علاقوں سے ایک لاکھ 35 افرادکو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔

  • بھارت نے کوئی حرکت کی تو انجام بہت برا ہو گی، پاکستان کی وارننگ

    پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھارت کو للکارتے ہوئے وارننگ دی ہے کہ اگر بھارت نے کوئی حماقت کی تواسے فوری طور پر مناسب جواب ملے گا۔ ملتان میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال دنیا کے سامنے ہے اور کسی سے ڈھکی چھپی نہیں.انہوں نے کہا کہ کورونا کےبعد پوری دنیا کو اس کی توقع تھی کہ بھارت کشمیر میں نرمی کرےگالیکن بد قسمتی سےایسا نہیں ہوابلکہ بھارت نے پاکستان کو بھی آنکھیں دکھانا شروع کردیں. انہوں نے کہا کہ خطے میں بھارت ایڈ ونچر کرنا چاہتا ہے جب کہ حکومت پاکستان کی خواہش ہے کہ امن کیلئے سازگار ماحول قائم کیا جائے. وزیر خارجہ نے کہا کہ اسرائیل میں چینی سفیر کی ہلاکت پر ابھی کوئی قیاس آرائی نہیں کروں گا. انہوں نے مزید کہا کہ ہم ہزاروں کی تعداد میں بیرون ملک پھنسے پاکستانیوں کو وطن واپس لائے ہیں جب کہ بیرون ملک موجود ایک لاکھ 10 ہزار افراد واپس آنا چاہتے ہیں، باہر سے آنے والوں کو قرنطینہ کرنا ایک بڑا مسئلہ ہے ان کی وطن واپسی سے قبل ہم قرنطینہ کی گنجائش بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

  • عید کے بعد غزوہِ ہند سے متعلق خبر پر افغان طالبان کا آفیشل بیان آ گیا

    عید کے بعد غزوہِ ہند سے متعلق خبر پر افغان طالبان کا آفیشل بیان آ گیا

    باغی ٹی وی کے مطابق افغان طالبان نے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بھارت کے ساتھ جنگ والی خبر پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیک اکاؤنٹ‌سے خبر نشر کی گئ ہے . ہم اس بیان کی تردی کرتے ہوئے ہیں.واضح‌رہے کہ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی مبینہ ایک تویٹ کہاگیا تھا کہ مسلمان کی کافر سے دوستی ناممکن ہے۔

    یاد رہے کہ گزشتہ روز افغان طالبان سے منسوب عید کے بعد غزوہ ہند کے اعلان کا فیک پوسٹر سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا تھا . جسے ملک کے معروف صحافیوں ، عسکری تجزیہ نگاروں اور الیکٹرانک میڈیا سے شئر کی گیا. افغان طالبان کے ترجمان زبیج اللہ مجاہد نے اس پوسٹر کی تردید کرتے ہو کہا کہ ہے جس ٹویٹڑ اکاونٹ سے یہ پوسٹر شئر کیا گیا ہے وہ فیک اکاؤنٹ ہے تمام میڈیا کے ادارے نوٹ کر لیں

    کل طالبان سے منسوب ایک فیک پوسٹر میں یہ طالبان سے متعلق یہ بیان دیا گیا کہ جب تک مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوتا اس وقت تک امارات اسلامیہ کی ہندوستان سے دوستی ممکن نہیں ہے۔ فتح کابل کے بعد ، امارات اسلامیہ نے کشمیر کے ساتھ ساتھ ہندوستان کے کو بھی فتح کرنا ہے ان شاء اللّٰہ۔ اس کے بعد ہندوستان کے دو انتخاب ہیں ، یا تو مکمل ہتھیار ڈالنا اور اسلام قبول کرنا یا غزوہِ ہند کا سامنا کریں۔

    افغان طالبان نے عیدالفطرکے بعد ہندوستان میں جہاد شروع کرنے کا اعلان کردیا

    جان اچکزئی کی ٹویٹ

    زید حامد کی ٹویٹ
    https://twitter.com/ZaidZamanHamid/status/1261864387515744257?s=20

    زید حامد کی ایک اور ٹویٹ
    https://twitter.com/ZaidZamanHamid/status/1261854126432018433?s=20

  • مقبوضہ کشمیر میں بھارتی آبادکاری تحریر عدنان عادل

    ایسے وقت میں جب ساری دنیا کورونا وبا سے مقابلہ میں مصروف ہے ‘ بھارتی ریاست نے اپنی روایتی مکاری سے کام لیتے ہوئے مقبوضہ جمو ں کشمیر ریاست کو ہڑپ کرنے کی طرف ایک اور بڑا قدم اُٹھایا ہے۔ چند روز پہلے بھارتی حکومت نے ایک نیا ڈومیسائل قانون جاری کیا جس کے تحت مقبوضہ ریاست میں بھارت کے دیگر باشندوں کو بڑے پیمانے پر آباد کیا جاسکے گاجیسے اسرائیل نے فلسطینی علاقوں میں دنیا بھر کے یہودیوں کو آباد کیا ہے۔مقصد یہ ہے کہ جموں کشمیر ریاست میں زمینی حقائق تبدیل کردیے جائیں‘ اُسکے کشمیری تشخص ‘اُسکی مخصوص تہذیب کو تحلیل کردیا جائے اوراس خطّہ میں مسلمانوں کی غالب اکثریت کو بتدریج اقلیت بنا دیا جائے۔ آٹھ ماہ پہلے پانچ اگست کو بھارت نے مقبوضہ جموں کشمیرریاست کو اپنے ملک کے آئین میں آرٹیکل 370 کے تحت دی گئی خصوصی حیثیت ختم کردی تھی اور کشمیری عوام کے ردّعمل سے بچنے کی خاطر کشمیر وادی کا لاک ڈاؤن کردیا تھا جو اب تک جاری ہے۔

    کشمیریوں کے ٹیلی فون ‘ انٹرنیٹ کے استعمال پر بھی پابندی ہے تاکہ کشمیری باہر کی دنیا سے رابطہ نہ کرسکیں ‘ اپنی حالت ِزار کے بارے میں دنیا کو آگاہ نہ کرسکیں۔آزاد ذرائع کے مطابق مقبوضہ کشمیر میںپانچ لاکھ سے زیادہ بھارتی فوج‘ ایک لاکھ پولیس اور تیس ہزار خصوصی پولیس تعینات ہے تاکہ کشمیری عوام بھارتی اقدامات کے خلاف احتجاج نہ کرسکیں۔مقبوضہ جموں کشمیر کی خصوصی حیثیت کے تحت ریاست کو اپنا جھنڈا رکھنے‘ اپنے قوانین نافذ کرنے کی اجازت تھی۔ کشمیر سے تعلق نہ رکھنے والے بھارتی یہاں کا ڈومیسائل حاصل نہیں کرسکتے تھے ‘ نہ ریاست میں زمین‘ جائیداد خرید سکتے تھے۔خصوصی آئینی حیثیت ختم ہونے کے بعد جموں کشمیر کے یہ تمام حقوق اُن سے چھین لیے گئے جن کے وعدہ پر شیخ عبداللہ ایسے کشمیری رہنماؤں نے بھارت کے ساتھ ملنا قبول کیا تھا ۔ اب کشمیریوں کے حقوق کو مزید پامال کرنیکی غرض سے بھارتی حکومت نے ڈومیسائل کا جو نیا قانون نافذ کیا ہے اسے جموںو کشمیر ری آرگنائزیشن آرڈر 2020 کا نام دیا گیا ہے۔ اسکے مطابق ہر وہ بھارتی شخص جو پندرہ سال مقبوضہ کشمیر میں رہ چکا ہو، اسے کشمیر کا مستقل رہائشی تسلیم کیا جائے گا‘ ہر وہ شخص جو سات سال تک مقبوضہ کشمیر کے کسی تعلیمی ادارہ میں تعلیم حاصل کرتا رہا ہو یا اس نے میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کا امتحان یہاں کے بورڈ سے پاس کیا ہو وہ بھی کشمیری ڈومیسائل حاصل کرسکے گا۔ اِس قانون کے مطابق بھارت کی مرکزی حکومت کے ملازمین جو اس علاقہ میں دس سال تک تعینات رہے ہوں وہ جموں کشمیر کا ڈومیسائل لینے کے اہل ہوں گے۔ اس قانون کے نافذ ہونے سے بھارت کے تمام شہریوں کو جموں کشمیر میں سرکاری ملازمت کرنے کا حق دیدیا گیا ہے جو پہلے صرف ریاست کے مستقل باشندوں کو حاصل تھا۔ صرف درجہ چہارم کی ملازمتوں پرمستقل باشندوں کا خصوصی حق رہنے دیا گیا ہے۔نئے قانون کے تحت وہ ہندو اور سکھ جو قیام پاکستان کے بعدہجرت کرکے جموں کشمیر ریاست میں جا کر آباد ہوگئے تھے انہیں بھی مقبوضہ ریاست کا ڈومیسائل مل جائے گا۔بھارت کے مسلمانوں کی غالب اکثریت غریب ہے ‘ وہ تو کشمیر میں جاکر زمین‘ جائیداد نہیں خرید سکتے۔صرف دولت مند ہندو جموںکشمیر میں زمین خریدیں گے ۔ مقبوضہ کشمیر پر پالیسی بنانے میں بھارت کا اُستاد اسرائیل ہے ۔ کشمیر پر اپنا غیرقانونی قبضہ جاری رکھنے کی خاطر بھارت ہر وہ کام کررہا ہے جو اسرائیل فلسطینیوں کو اُن کے بنیادی حقوق سے محروم کرنے کے لیے ستّر برسوں سے کرتا آرہا ہے۔ اس نے نیا قانو ن بھی اُن اسرائیلی قوانین کی طرز پر بنایا ہے۔نئے قانون کے تحت مقبوضہ کشمیر سے ہجرت کرکے آزاد کشمیریا پاکستان آجانے والے مہاجر بھی اپنی کشمیری شہریت سے محروم ہوجائیں گے جیسے لاکھوں فلسطینی مہاجر ۔ اسرائیل نے فلسطینی علاقوں میں غیرقانونی یہودی بستیاں آباد کرکے جو غاصبانہ قبضہ کیا ہے وہی کام بھارت مقبوضہ کشمیر میں شروع کرنے جارہا ہے۔ ان اقدامات کے بعد کشمیر کے باشندے اپنی شناخت‘ تعلیم کے مواقع‘زمین کی ملکیت کے حقوق کے بارے میں ایک نئی تشویش اور اضطراب میں مبتلا ہوگئے ہیں۔

    کشمیری رہنماؤں اور دانشوروں نے ڈومیسائل قانون کی سخت مذ مت کی ہے لیکن طاقت کے نشہ میں بدمست بھارتی ریاست پر اسکا کوئی اثر نہیں۔ بھارت کی پالیسی ہے کہ طویل عرصہ تک طاقت کے زور پر کشمیر کی مزاحمت کو دبائے رکھو تاکہ کشمیری بالآخر تھک ہار کر بیٹھ جائیں ۔ بھارت کاخیال ہے کہ دنیا بھر کے ممالک کورونا کی وبا سے نپٹنے میں لگے ہوئے ہیں‘ ایسے موقع پر عالمی برادری کشمیر کے معاملہ پر زیادہ توجہ نہیں دے گی ۔ یوں بھی جب بھارت نے کشمیر کا خصوصی آئینی درجہ ختم کیا تھا تو عالمی برادری نے اس کے خلاف کوئی مؤثر آواز نہیں اٹھائی تھی۔ حتی کہ پاکستان‘ ترکی اور ملائشیا کے سواتمام مسلمان ملکوں نے بھی خاموشی اختیار کرلی تھی۔ایران نے بھی صرف لاک ڈاؤن کی سختی پر تنقیدکی تھی‘ خصوصی حیثیت ختم کرنے پر نہیں۔ اب بھی بین الاقوامی برادری سے کشمیریوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کسی مؤثر امداد کی توقع نہیں رکھی جاسکتی۔دنیا کوبھارت سے وابستہ اپنے معاشی مفادات زیادہ عزیز ہیں۔ ہلکی پھلکی بیان بازی بھی ہوجائے تو غنیمت ہے‘ اسکے لیے بھی پاکستان کو ایک زوردار سفارتی مہم چلانا پڑے گی۔ کشمیری اپنی آزادی اورحقوق کے تحفظ کی جنگ میںاس وقت تنہا ہیں۔پاکستان کو ان کی ہر ممکن مد دکے لیے آگے بڑھناچاہیے کیونکہ بھارتی جارحیت کا یہ سلسلہ رُکے گا نہیں۔ اس بات کا امکان موجود ہے کہ اگلے مرحلہ میں بھارت طاقت کے زور پرمقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کو آزاد کشمیر کے طرف ہجرت کرنے پر مجبور کرسکتا ہے جس سے ایک نیا بحران جنم لے گا۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے تازہ اقدامات خود پاکستان کی بقا اور سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔

    عدنان عادل