Baaghi TV

Tag: بھارت

  • مسئلہ کشمیرپر سستی کس نے دکھائی اور کس کی مجرمانہ خاموشی نے کشمیر کو اس حال میں پہنچایا

    مسئلہ کشمیرپر سستی کس نے دکھائی اور کس کی مجرمانہ خاموشی نے کشمیر کو اس حال میں پہنچایا

    کشمیر ایشو اور کے فریقین کے کرداروں پر تجزیہ!!!
    محمد عبداللہ کی تحریر

    مقبوضہ جموں و کشمیر پر پر ویسے تو قیام پاکستان کے وقت ہی بھارت نے تقسیم ہند کے سبھی اصولوں کو پاؤں تلے روندتے ہوئے اپنی افواج داخل کرکے جابرانہ قبضہ کرلیا تھا اور مسلسل کشمیر میں ظلم و ستم کا بازار گرم کیا ہوا تھا لیکن جب سے نریندر مودی بھارت میں برسر اقتدار آیا ہے تب سے کشمیر کے مسلمانوں پر حالات مزید تنگ سے تنگ ہوتے چلے جا رہے ہیں. مودی نے اپنے پہلے دور حکومت میں وزارت عظمیٰ کا قلمدان سنبھالتے ہی یہ دعویٰ کیا تھا کہ وہ جموں کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ کرکے اس کو بھارت میں ضم کرے گا اور بالآخر دوسری بار وزیراعظم بننے کے بعد پانچ اگست دو ہزار انیس کو نریندر مودی نے کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کو ختم کرکے کشمیر کو بھارت کا حصہ قرار دے دیا اور اس فیصلے پر ردعمل سے بچنے کے لیے جموں و کشمیر میں تعینات بھارتی افواج میں یکلخت اضافہ کرکے جموں و کشمیر میں مکمل طور پر کرفیو نافذ کردیا. مقبوضہ وادی کے حالات سے بیرونی دنیا کی آگاہی اور مقامی لوگوں کے بیرونی دنیا سے روابط کو مکمل طور پر کنٹرول کرنے کے لیے مقبوضہ وادی میں انٹرنیٹ اور ہر طرح کے ذریعہ مواصلات کو بند کردیا گیا. کشمیری مسلمان اس سے قبل ہی بھارتی افواج کی سنگینوں تلے مظلومیت کی زندگی گزار رہے تھے مگر اس طویل ترین کرفیو اور ہر طرح کی بندش نے کشمیریوں کی زندگی اجیرن کردی، بیرون ممالک موجود کشمیریوں کے اپنے پیاروں سے روابط مکمل طور پر منقطع ہوچکے تھے اور کسی کو نہیں پتا تھا کہ ان کے عزیز و اقارب کس کیفیت میں ہیں، زندہ بھی ہیں یا بھارتی افواج کے جبر اور ریاستی دہشت گردی کی تاب نہ لاتے ہوئے اس فانی دنیا کو الوداع کہہ چکے ہیں.
    مودی نے اس انتہائی اقدام کے لیے بڑی زبردست ٹائمنگ کا انتخاب کیا ہے. ایک طرف تو پاکستان ایف اے ٹی ایف کے چنگل میں بری طرح سے پھنسا ہوا ہے تو دوسری طرف پاکستان میں سیاسی انتشار اور اکھاڑ پچھاڑ نے بھارت کو اس فیصلے کو کرنے میں خاصی مدد دی ہے. کشمیریوں کا دنیا میں واحد وکیل پاکستان تھا اور ہے لیکن اس موقع پر پاکستانی بھی سوائے آہ و فغاں کرنے کے کچھ نہ کر سکے کہ انٹرنیشنل پریشر اور ایف اے ٹی ایف کے معیار پر پورا اترنے کے چکر میں کشمیر کے نام لیواؤں کو پس دیوار زنداں دھکیل دیا گیا اور نتیجہ یہ نکلا کہ پوری حکومتی مشینری تمام تر افرادی اور مادی وسائل کے باوجود بھی کشمیر پر ایک قابل ذکر احتجاجی پروگرام تک نہ کرسکی. یہ بڑی حیران کن صورتحال تھی کہ مذہبی جماعتوں کی کال پر ہزاروں نہیں لاکھوں لوگ کشمیر کی آواز بنتے تھے مگر بہت بڑے بڑے سیاسی جلسے اور دھرنے کرنے والی جماعت پاکستان تحریک انصاف حکومتی مشینری ہونے کے باوجود بھی کشمیر پر عوام کو جمع کرنے میں ناکام رہی ہے. وزیراعظم کے حکم پر دو تین دفعہ جمعہ کے بعد آدھا گھنٹہ کھڑا رہنا بھی دشوار لگا اور بالآخر وہ بھی چھوٹ گیا. کشمیر پر بھارتی قبضے کے حوالے سے آجاکر پاکستان کے پلڑے میں وزیراعظم پاکستان کی دو چار تقاریر ہیں اور بڑا زبردست موقف ہے لیکن پتا نہیں کیا وجوہات ہیں کہ پاکستان اس موقف کو عالمی سطح پر پھیلانے سے قاصر ہے.
    مسئلہ کشمیر پر میرے خیال سے چار فریق بنتے ہیں ان میں سے دو تو ڈٹے ہوئے ہیں ان میں سے ایک انڈیا کہ اس نے انتہائی قدم تک اٹھالیا کشمیر کی آئینی خصوصی حیثیت، عالمی سطح پر متنازع حیثیت سب کو بالائے طاق رکھتے کشمیر کو بھارت کے اندر ضم کرلیا ہے اور اب اسرائیل کے نقش قدم پر چلتے ہوئے کشمیر میں آبادی کا تناسب بدلنے کی پلاننگ چل رہی ہے تاکہ کل کو دنیا کے مجبور کرنے پر اگر رائے شماری کروانی بھی پڑے تو کشمیر ہاتھ سے نہ جائے اس کے لیے بھارت کے ذرائع ابلاغ اور حتیٰ کہ فلم انڈسٹری ملکی اور عالمی رائے عامہ کو ہموار کر رہی ہے ایسی موویز بنائی جا رہی ہیں کہ جن میں دکھایا جا رہا ہے کہ ہندو پنڈتوں پر ظلم کرکے ان کو کشمیر سے نکالا گیا تھا اور وہ اب اپنے گھروں کو واپس جانا چاہ رہے ہیں اسی طرح دوسرا اور سب سے متاثر فریق اہل کشمیر ہیں جو اب تک قربانیاں دیتے چلے آرہے ہیں مگر آزادی کے سوا ان کے منہ سے کوئی لفظ نہیں نکلتا، وہ عزم و استقامت کے پہاڑ بن کر اپنی جگہ ڈٹے ہوئے ہیں، تاریخ کا طویل ترین لاک ڈاؤن اور کرفیو بھی ان کے عزم و استقلال میں لغزش پیدا نہیں کرسکا جبکہ تیسرا فریق عالمی برادری بشمول اقوام متحدہ کا فورم مسئلہ کشمیر پر مجرمانہ خاموشی کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور انسانیت کے کسی بڑے قتل عام کے منتظر ہیں ان کی مجرمانہ خاموشی انڈیا کی ہی مددگار ثابت ہورہی ہے جبکہ مسئلہ کشمیر کا چوتھا اور اہم فریق پاکستان کہ جس کی بقاء مسئلہ کشمیر کے حل میں ہے وہ دعوے تو بلند و بانگ رکھتا ہے اور بہت کچھ کرنا بھی چاہتا ہے مگر کچھ بھی کر نہیں پا رہا یا کرنا نہیں چاہ رہا. ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ بھارت کی اس ریاستی دہشت گردی پر وزیراعظم پاکستان اور بالخصوص وزیر خارجہ ایک لمحہ بھی ٹک نہ بیٹھتے اور مسلسل لابنگ کرتے عالمی فورمز کو متحرک کرتے، عالمی کانفرنسز اور پریس کانفرنسز کا انعقاد کرتے، اقوام عالم کو مسئلہ کشمیر پر قائل کرنے کے لیے ہنگامی دورے کیے جاتے مگر پتا نہیں وہ کونسی وجوہات ہیں کہ جن کی بنیاد پر پاکستان اب تک نہ تو لابنگ کرسکا، نہ عالمی رائے عامہ کو اپنے حق میں کرنے کے لیے مناسب اقدامات کرسکا یہاں تک کہ ڈھنگ کی کوئی ڈاکیومنٹری یا مووی تک بنا سکا جو عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر اور بھارتی ریاستی دہشت گردی کو اجاگر کرتی. بلاشبہ مسئلہ کشمیر پر وزیراعظم پاکستان عمران خان کی تقاریر بہت جاندار اور بہترین موقف کی حامل ہیں مگر جہاں ریاستوں کی بقاء کا مسئلہ ہو وہاں دو چار تقاریر تک محدود نہیں رہا جاتا وہاں عملی اور ہنگامی اقدامات اٹھانے پڑتے ہیں اور جراتمندانہ فیصلے لینے پڑتے ہیں وگرنہ تاریخ معاف نہیں کیا کرتی.

  • پکار مظلوم کشمیری بہن اور کردار محمد بن قاسم!!!  تحریر: غنی محمود قصوری

    پکار مظلوم کشمیری بہن اور کردار محمد بن قاسم!!! تحریر: غنی محمود قصوری

    ہم بفضل تعالی مسلمان ہیں اور ہمارا ایمان ایک نبی آخرالزمان جناب محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ہے اور جو ہمارے پیارے نبی نے فرما دیا وہ کبھی جھوٹ نہیں ہو سکتا میرے نبی نے بڑی محنت اور قربانیوں سے اپنے اصحاب کی جماعت بنائی اور اس کی خالص نبوی منہج پر تربیت کی اور پھر اسی جماعت اصحاب نے مسلمان تو مسلمان کفار کی بھی مدد کی جس کی بہت واضع اور مشہور مثال حجاج بن یوسف کا اپنے 17 سالہ کمانڈر بتیجھے محمد بن قاسم کو ایک ہندو عورت کی پکار پر عرب سے ہند پر یلغار کیلئے بھیجنا ہے
    میرے نبی نے اپنی فتوحات میں کفار کو عام معافیاں دیں اور پھر ان معافیوں کے عیوض بہت سے کفار مسلمان ہو گئے اور کچھ احسان فراموش معافی مانگ کر بوقت جنگ میرے نبی کے مقابلے میں پھر میدان کار زار میں مدمقابل بھی آتے رہے مگر تاریخ گواہ ہے انہوں نے ہمیشہ منہ کی کھائی میرے نبی سے زیادہ ان کفار کو کوئی نہیں جانتا اسی لئے فرمان نبوی ہے
    الکفر ملت واحدہ یعنی کفر ایک جماعت ہے ایک ملت و واحدت ہے کافر دنیا کے کسی کونے کا ہو یا پھر کسی بھی رنگ و نسل یا مذہب سے ہو وہ سب یکجان ہو کر مسلمانوں پر ظلم کرتے آئے ہیں اور کر بھی رہے ہیں جس کی تازہ ترین مثال کشمیر میں ہندوستان کا فلسطین میں اسرائیل اور افغانستان ، عراق ،شام غرضیکہ دنیا کا کوئی بھی خطہ ہو اور ظلم بھی مسلمانوں پر ہو اس میں امریکہ کا کردار سرفہرست ہے
    ایک بہت مشہور نعرہ ہے رو زمین کے تین شیطان امریکہ ،اسرائیل ہندوستان
    اگر دیکھا جائے تو اس نعرے میں رتی بھر بھی شک نہیں کہ درج بالا تینوں ممالک شیطان کے خالص پیروکار اور بے شرمی و بے حیائی میں سب سے اوپر ہیں آج امریکہ بین المذاہبی ہم آہنگی کا نعرہ لگانے والا بھی ہے اور اسی بین المذاہبی ہم آہنگی کو پاش پاش کرنے والا بھی یہی امریکہ ہی ہے آپ دیکھ لیجئے 148 روز سے مظلوم کشمیریوں پر ہندو ظالم کا ظالم جاری ہے کشمیری مسلمان سخت سردی میں بغیر ادویات و خوراک کے اپنے گھروں میں محصور ہیں تمام حریت قیادت جیلوں میں ہے
    کاروبار زندگی معطل ہے سکول و کالجز بند ہیں مذید ستم کہ لینڈ لائن و موبائل فون سروس کیساتھ انٹرنیٹ سروس بھی بند ہے مگر کیا مجال امریکہ منافق کی کہ جو منہ سے پھوٹا ہو کہ یہ ظلم ہے یہ شدت پسندی و دہشت گردی ہے مگر اس کے برعکس ظالم ہندو فوج سے برسربیکار مجاھدین کی راہ میں جب بھی رکاوٹ ڈالی اسی امریکہ نے ڈالی امریکہ کے علاوہ اسرائیل بھی انڈیا کیساتھ مل کر مظلوم کشمیریوں پر ظلم کر رہا ہے کئی بار اسرائیلی بلیک کیٹ کمانڈوز کی مقبوضہ وادی کشمیر میں موجودگی کا انکشاف ہوا اور 27 فروی کو پاکستانی ائیر فورس کے ہاتھوں تباہ ہونے والے ایک طیارے کا پائلٹ بھی اسرائیلی تھا
    یہ ظالم کافر جب بھی کسی مسلمان ملک پر ظلم کرتے ہیں سب مل کر کرتے ہیں مگر افسوس تو عالم اسلام پر ہے کہ جو حیرت انگیز طور پر مظلوم کشمیریوں کے حق میں چند بول ہی بول سکے ورنہ عملا تو کچھ بھی نہیں حالانکہ میرے پیارے نبی کریم کا ارشاد ہے کہ مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں یعنی جب جسم کے کسی حصے کو دکھ درد ہوگا تو دوسرا حصہ بھی وہ دکھ درد محسوس کرے گا مگر افسوس صد افسوس کہ ہم نے درد کو محسوس کرنا صرف بیان بازی سمجھ لیا حالانکہ میرے نبی کی سنت پر عمل کرتے ہوئے پاکستان نے عرب اسرائیل جنگ میں اپنی فضائیہ کی مدد سے اسرائیل کے اندر گھس کر اس کا خواب چکنا چور کیا پھر 80 کی دہائی میں روس کے خلاف لڑ کر روس کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے عالم اسلام کو بتایا کہ مسلمان کس طرح ایک جسم کی مانند ہیں ابھی حال ہی میں ایک بار پھر امریکہ کی افغانستان میں قبر بنا کر عالم اسلام کو بتایا کہ ایک جسم کی مانند ایسے ہوتے ہیں خالی نعروں للکاروں سے نہیں بلکہ عملا کچھ کرنا پڑتا ہے یاد رکھوں عالم اسلام کے حکمرانوں کل روز قیامت کشمیریوں کی بے بسی پر تمہاری مجرمانہ خاموشی تمہیں لے ڈوبے گی مگر بفضل تعالی پاکستان نے کل 48 میں بھی کشمیریوں کی مدد کیلئے اپنی افواج چڑھائی تھی پھر 65،71 کی جنگیں بھی انڈیا نے پاکستان سے اس لئے لڑیں کیونکہ پوری دنیا میں اللہ کے بعد کشمیریوں کا مددگار پاکستان ہی ہے پھر 1999 میں پاکستان نے کشمیری کی آزادی کیلئے ہی کارگل جنگ کی اب رواں سال 27 فروری 2019 میں بھارت کی طرف سے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کے بعد بھارت کے گھر میں گھس کر اسے مارنا بھی آزادی کشمیر کی آزادی کی طرف ایک کاوش ہی ہے
    سنو عالم اسلام کے حکمرانوں پاکستان نے نبی ذیشان کے فرمان ،مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں، پر عمل کرتے ہوئے امریکہ،اسرائیل ہندوستان کے علاوہ روس تک کو بتلا دیا کہ ہم اپنے نبی کے فرمان پر جان بھی قربان کرنے والے ہیں مگر فلسطین ،شام و افغانستان اور خصوصی طور پر اہلیان مقبوضہ کشمیر تم سے پوچھ رہے ہیں کہ ہم ایک جسم ہیں پھر تم درد محسوس کیوں نہیں کرتے ؟ اور روز قیامت تمہیں جواب دینا ہوگا اپنی چپ کا حساب دینا ہوگا ان شاءاللہ پاکستان تو عملا جان و مال پیش کر چکا اور کر بھی رہا ہے تم اپنی عیاشیوں سے نکل کر دیکھو تم نے کیا کرنا ہے اور کیا کر چکے اسلام کے نام لیوا کھوکھلے مسلمان حکمرانوں دیکھ لو آج اسرائیل و امریکہ کو پاکستان سے صرف یہی عداوت ہے اس ارض مقدس نے اپنے مسلمان بھائیوں کی مدد کی خاطر اسرائیل و امریکہ سے ٹکر لی بلکہ حال ہی میں محمد بن قاسم کی طرح خطے کے لئے بہت بڑے خطرے تامل ٹائیگرز کو ختم کرکے غیر مذہب کی بھی مدد کی
    افسوس عرب کے عیاش حکمرانوں تم محمد بن قاسم کی نسل سے ہوکر بھی ہند کے کشمیر کی مظلوم بیٹیوں کی پکار نا سن سکے ہاں مگر ابن قاسم کی سنت زندہ کرنے کیلئے پاکستان ہے ان شاءاللہ

  • "کشمیری خصوصی حیثیت کا باضابطہ خاتمہ اور پاکستانی قوم کا اضطراب” تحریر:  محمد عبداللہ

    "کشمیری خصوصی حیثیت کا باضابطہ خاتمہ اور پاکستانی قوم کا اضطراب” تحریر: محمد عبداللہ

    ہم نے پہلے بھی اس موضوع پر تفصیل سے لکھا تھا ابھی پھر بتائے دیتے ہیں کہ یہ بات حقیقت ہے کہ یہ بہت بڑا سانحہ ہے کہ کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کو آج باضابطہ طور پر ختم کردیا گیا ہے اور کشمیر کو دو یونٹس کشمیر اور لداخ میں تقسیم کردیا گیا ہے. اس پر ہمارے لوگ بہت ہی افسردہ ہیں اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ ان کا افسردہ ہونا بنتا ہے لیکن افسردگی، غم و غصے اور مایوسی میں فرق ہونا چاہیے ایسے نہیں ہے کہ کشمیر بھارت کا حصہ بن گیا ہے اور وہاں کی حریت قیادت نے یا عوام نے اس فیصلے کو تسلیم کرلیا ہے.

    "کشمیر میں بھارت کی نئی پیش رفت اور محبان کشمیر میں غم و فکر کی لہر” تحریر: محمد عبداللہ

    دیکھیں کشمیر پر بھارت کا قبضہ کوئی پچھلے 87 روز سے نہیں ہوا بلکہ ستر سال سے جاری ہے تو کیا کبھی آزادانہ ترنگا لہرا پایا بھارت کشمیر کے کسی بھی علاقے میں؟ کیا جموں و کشمیر کی عوام نے بھارت کے اس قبضے کو تسلیم کیا؟ کیا انہوں نے بھارتی مراعات اور پیکجزو آفرز کو قبول کیا ہو؟ جب ماضی میں ایسا کچھ نہیں ہوا اور کشمیری ڈٹے رہے اور سبز ہلالی پرچم کو لہراتے رہے تو یاد رکھیں کشمیر میں کل بھی سبز ہلالی لہراتا تھا اور آئندہ بھی سبز ہلالی ہی لہرائے گا ان شاءاللہ، بھارتی ترنگے کے لیے نہ کل کشمیر میں جگہ تھی نہ آج ہے اور نہ ہی آئندہ کبھی جگہ ہوگی. سر دست مسئلہ یہ ہے بھارت نے اس ساری بدمعاشی کے لیے وقت چنا ہے وہ کشمیریوں کے وکیل پاکستان کے لیے مشکل ترین وقت ہے. اندرونی خلفشار سب کے سامنے ہے کہ مسئلہ کشمیر پر جو بچی کچھی بات اور سفارتی اور عالمی سطح پر جو کوششیں ہو رہی تھیں وہ بھی گرفتاریوں، رہائیوں، دھرنوں اور نام نہاد آزادی کے مارچوں کی نظر ہوگئیں اور مسئلہ کشمیر بیک فٹ پر چلا گیا.

    "علی گڑھ یونی ورسٹی کا اسکالر اور مجاہدین کا کمانڈر” تحریر: محمد عبداللہ

    دوسرا بہت بڑا ایشو ان حالات میں پاکستان کی بدخال معیشت ہے اتنے تنگ معاشی اور سیاسی ابتری کے حالات میں آپ کوئی بڑا قدم نہیں اٹھا سکتے. تیسری بات کہ امریکہ کی اس خطے میں موجودگی سے بھارت نے فائدہ اٹھایا کہ جب تک امریکہ یہاں ہے اسی ٹائم کے اندر اندر یہ فیصلہ لے لو وگرنہ امریکہ کے جانے کے بعد تو بھارت کو دہلی کے لالے پڑے ہونگے، تیسری اور سب سے اہم چیز جو پاکستان کا سب سے اہم ہتھیار تھا وہ ایف اے ٹی ایف کی جکڑ بندیوں کی وجہ سے مکمل طور پر بند ہے کوئی سلسلہ ایسا نہیں جو پاکستان شروع کرسکتا ہو. پاکستان کے لیے یہ نہایت کٹھن دن ہیں اور بھارت نے انہی دنوں کا انتخاب کرکے کشمیر پر اپنے قبضے کو مستحکم کرکے اپنے اندر ضم کرنا چاہا ہے لیکن یہ اتنا آسان نہیں ہوگا یہ کشمیر نہ نگلا جائے گا اور نہ اگلا جائے بھارت اور بالآخر یہ ممبئی سے شملہ تک پھیلا بھارت ٹکڑوں اور حصوں میں بٹے گا. منی پورہ کی آزادی کی اعلان ہوچکا، خالصتان موومٹ تیزی سے جاری ہے اور کرتارپور کوریڈور اس میں نہایت اہم سنگ میل ہے.

    مقبوضہ کشمیر میں مسلسل کرفیو سے بیرون ممالک کشمیریوں کی زندگی کیسے اجیرن ہوگئی ہے!!! تحریر: محمد عبداللہ

    ہمارے اینڈ سے ہونا چاہیے کہ مایوس نہ ہوں اور ڈٹے رہیں مسلسل آواز بلند کرتے رہیں اور جو قوتیں اور گماشتے کشمیر ایشو سے دنیا کی توجہ ہٹانا چاہتے ہیں ان کو کامیاب نہ ہونے دیں. جب کشمیر کی حریت قیادت پاکستان کی مجبوریوں کو سمجھتی ہے اور پاکستان پر اعتماد کرتی ہے تو پاکستان کا جذباتی نوجوان کیوں نہیں سمجھتا. ہاں یہ بات حقیقت ہے کہ یہ ایمانی اور عقیدے کی کمزوریاں ہی ہیں جو ہم زمینی حقائق کی بات کرکے دلاسے دیتے اور دلاتے ہیں اگر دل ایمان سے بھرپور ہوں تو ابابیلیں بھی ہاتھیوں کو شکست دیتی ہیں اللہ کی مدد سے.
    ہمارے اداروں کو بھی یہ بات سمجھنی چاہیے کہ اتنے نازک اور سنجیدہ حالات میں جب غیر سنجیدگی اور لاپرواہی دکھائی جاتی ہے شمشیر و سناں پر طاؤس و رباب کو ترجیح دی جاتی ہے تو قوم کا غصہ فطری ہے.

    <img src=”https://login.baaghitv.com/wp-content/uploads/2019/10/IMG_20191031_133721-271×300.jpg” alt=”محمد عبداللہ” width=”271″ height=”300″ class=”size-medium wp-image-112485″ /> محمد عبداللہ

  • "کشمیر میں بھارت کی نئی پیش رفت اور محبان کشمیر میں غم و فکر کی لہر” تحریر: محمد عبداللہ

    "کشمیر میں بھارت کی نئی پیش رفت اور محبان کشمیر میں غم و فکر کی لہر” تحریر: محمد عبداللہ

    گزشتہ روز سے کشمیر کے حوالے سے آنے والی اطلاعات کو لے کر کچھ لوگ بہت پریشان ہیں کہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو باضابطہ طور پر ختم کرکے کشمیر کو تقسیم کیا جا رہا ہے کشمیر اور لداخ کے مابین تو اس کی وجہ سے یہ ہوجائے گا وہ ہوجائے گا. دیکھیں پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ کام اسی دن ہوگیا تھا جس دن بھارت کی فاشسٹ اور متشدد حکومت نے اپنے آئین کی دھجیاں اڑاتے ہوئے کشمیر کی خصوصی حیثیت کو منسوخ کیا تھا اور کرفیو عائد کیا تھا. لیکن تقریباً تین ماہ کے اس کرفیو میں جب وادی میں مواصلات و رابطے کے سبھی ذریعے بند تھے اور یہاں تک کہ انٹرنیٹ سروس تک معطل تھی تو کیا بھارت وادی میں اپنے مقاصد کی تکمیل میں کامیاب ہوگیا تو اس کا جواب سو فیصد نفی میں آتا ہے. اگرچہ کشمیر کی بزرگ حریت قیادت مقید ہے لیکن تحریک آزادی کشمیر کی کمانڈ جن سرپھرے نوجوانوں کے ہاتھ میں ہے ان کا اپنا مضبوط نظام ہے وہ سبھی مواصلاتی ذرائع کی بندش کے باوجود جہاں چاہتے ہیں جمع ہوتے ہیں کرفیو توڑتے ہیں بھارت سرکار کی ظالمانہ بندشوں کو چیلنج کرتے ہیں اور نکل جاتے ہیں اسی طرح تحریک آزادی کے وہ بیٹے جو بھارتی مسلح افواج سے برسر پیکار ہیں وہ بھی خاموش نہیں ہیں اگر ہم تک اطلاعات نہیں پہنچ رہیں تو یہ اور بات ہے. باقی رہی بات کشمیر کو تقسیم کرنے اور وہاں ہندو پنڈتوں کو جائدادیں دے کر آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی تو یہ بات خوش آئند نہیں ہے لیکن جب ہم افغانستان والے ایشو سے مماثلت کرتے ہیں تو دیکھتے ہیں سترہ اٹھارہ سالوں میں امریکہ ناٹو اور خود افغانی افواج کی مدد کے باوجود بھی آج اس کیفیت میں ہے کہ امارات اسلامی جب چاہتی ہے کابل کو لرزا کر رکھ دیتی ہے ماسوائے کابل کے تو بات ہی الگ ہے تو یہ صاف بات ہے وہ افغانستان ہو یا کشمیر جب بات میدانوں اور جوانوں کی آتی ہے تو پھر مدد بھی آسمانوں سے آتی ہے. اس سے سارے معاملے میں جس پر بہت زیادہ افسوس کا اظہار کیا جا رہا ہے اور وہ کچھ ٹھیک بھی ہے وہ ہے پاکستان کا کردار کہ وہ کیا ہے. جذباتیت سے ہٹ کر اگر ہم حقائق پر بات کریں تو عرض ہے کہ پاکستان جو اہل کشمیر کا سب سے بڑا وکیل تھا وہ فقط تقاریر اور سفارت کاری تک محدود ہے (یہی بات کشمیر کا درد رکھنے والوں کے لیے دکھ کا باعث ہے). کشمیر کے لیے اٹھنے والی آوازوں اور بڑھنے والے قدموں کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے. لیکن اس سارے معاملے میں اہل نظر لوگوں کے ہاں باعث تشویش ہے وہ یہ ہے کہ پاکستان اس وقت مکمل طور پر بے بس ہے، پاکستان کے پاس اہل کشمیر کی نصرت و مدد کا سوائے سفارتی اور اخلاقی مدد کے کوئی آپشن نہیں بچا ہے. عالمی حالات اور پاکستان پر ایف اے ٹی ایف کی صورت جکڑ بندیاں سب کے سامنے ہیں. رہی سہی کسر پاکستان کے ناعاقبت اندیش سیاست دانوں نے پوری کردی ہے. جب پاکستان اقوام عالم میں کشمیر کا مسئلہ اچھی طرح سے اٹھا رہا تھا اور دنیا کا بڑا حصہ کشمیر کی طرف متوجہ ہو رہا تھا اور دنیا کے کونے کونے سے کشمیر کے حق میں بھارت کے ظالمانہ اقدام کے خلاف آوازیں اٹھنا شروع ہوگئیں تھیں تو پاکستان میں مفاداتی سیاست کے گماشتوں نے حکومت اور میڈیا کی مکمل توجہ اپنی طرف مبذول کروا لی اور کشمیر ایشو ہمیشہ کی طرح پس پشت ڈال دینے میں کامیاب ہوگئے ہیں. تقریباً پچھلے ایک ماہ سے دھرنوں، عدالتی ریلیف، این آر او، بیماریوں کے ڈراموں نے مسئلہ کشمیر کو ذرائع ابلاغ اور سرکاری زبانوں سے مکمل طور بلیک آؤٹ کردیا ہے. جب بحثیت قوم ہی ہم مفادات کے پجاری ہیں تو پھر اہل کشمیر کے دکھ درد پر افسوس سے کیا حاصل…

  • "علماء کی گرفتاریاں، مسئلہ جماعة الدعوة نہیں اسلام اور کشمیر ہیں” تحریر: محمد عبداللہ

    "علماء کی گرفتاریاں، مسئلہ جماعة الدعوة نہیں اسلام اور کشمیر ہیں” تحریر: محمد عبداللہ

    حالیہ دنوں میں جماعةالدعوة سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد کو زیر حراست لیا گیا ہے جن پر الزام ہے کہ یہ افراد دہشت گردوں کی مالی معاونت کرتے رہے. اسی الزام میں جماعة الدعوة کے امیر اور یونیورسٹی آف انجییئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے سابق پروفیسر حافظ محمدسعید اور انکے برادر نسبتی اور جماعة الدعوة کے نائب امیر عبدالرحمن مکی کو بھی پچھلے کچھ عرصہ سے زیر حراست رکھا ہوا ہے. ان گرفتاریوں پر پاکستان کے محب وطن اور کشمیر سے جذباتی تعلق رکھنے والے حلقوں میں شدید اضطراب پایا جاتا ہے اور بالخصوص حالیہ گرفتاریوں میں ایک بزرگ عالم دین حافظ عبدالسلام بن محمد بھٹوی کی گرفتاری پر پاکستان کے مذہبی اور علمی حلقے بھی شدید مضطرب اور سراپا احتجاج ہیں کہ 74سالہ ایک ایسے عالم دین جو مفسر قران ہیں، جو بے پایاں علمی خدمات سرانجام دے چکے، جو پچھلے تقریباً 55 سال سے تدریس کا فریضہ سرانجام دے رہے ہیں اور پاکستان میں ہزاروں علماء ان کے شاگرد ہیں ان کو اس پیرانہ سالی میں دہشت گردی کی مالی معاونت میں گرفتار کرنا کیا معنی رکھتا ہے.

    کیا اس لیے تقدیر نے چنوائے تھے تنکے ….. محمد عبداللہ
    پاکستان کی عوام اس وقت شش و پنج کا شکار ہے کہ سابقہ حکمرانوں اور موجودہ حکمرانوں میں کیا فرق ہے کہ یہ بھی اسی روش پر چل نکلے ہیں جس پر ماضی میں پاکستان کے حکمران چلتے رہے کہ غیروں کے کہنے پر سر تسلیم خم کرتے ہوئے اپنے ہی لوگوں کو اور بالخصوص ان لوگوں کو پس دیوار زندان دھکیل دینا جو خالصتاً پاکستان کے نام پر جی اٹھتے ہیں اور پاکستان ہی پر مر مٹتے ہیں جن کی صبح و شام پاکستان کی مالا جپتے ہوئے ہوتی ہے جو ہر مشکل و آفت میں پاکستان کا سہارا بنے، جو ہر مصیبت اور تنگی میں دست و بازو بنے اور جو پاکستان کے خلاف ہونے والی ہر سازش کے سامنے آہنی دیوار بنے انہی لوگوں پر عرصہ حیات تنگ کرکے حکومت پاکستان کن کو خوش کرنا چاہتی ہے اور کونسے مقاصد پورا کرنا چاہتی ہے. ایسی مذہبی اور جہادی جماعتیں جن پر پاکستان کے اندر کوئی ایف آئی آر تک درج نہیں ہے اور جو کبھی پاکستان کے لیے اندرونی طور پر مسائل پیدا کرنے کا باعث نہیں بنیں بلکہ ہمیشہ مسائل کو حل کرنے میں ممدو معاون ثابت ہوئی ہیں ان پر پابندیاں اور گرفتاریاں نہایت پریشان کن ہیں.

    ریاست پاکستان کا بیانیہ …. محمد عبداللہ
    ماضی میں بھی پاکستان کے حکمرانوں کا یہی طرز عمل رہا اور ان کی طرف سے دیئے گئے غیر ذمہ دارانہ بیانات اور خارجہ سطح پر برتی گئی مجرمانہ پہلو تہی نے پاکستان کو مسائل کے کنوؤں میں گرایا اور آج پاکستان بین الاقوامی سطح پر جن شدید مسائل سے دوچار ہے وہ انہی کے اعمال کا شاخسانہ ہے جس کی سزاء اس محب وطن اور علماء کے طبقے کو سب سے زیادہ بھگتنی پڑ رہی ہے لیکن تحریک انصاف کی حکومت بنی تو امید کی اک کرن نظر آئی کہ اب پاکستان کشکول نہیں پکڑے گا جس کی وجہ سے ہم بین الاقوامی سطح پر عزت اور جرات کے ساتھ کوئی قدم اٹھاسکیں گے اور کشمیر کی مسئلہ جو پچھلے ستر سال سے الجھا ہوا ہے اس پر عمران خان کی توجہ اور سنجیدگی دیکھ کر بھی امید بندھی تھی کہ یہ نیا بھی اب پار لگے گی لیکن ماضی کے حکمرانوں کی غلطیوں اور بھارت کے مضبوط پراپیگنڈے نے پاکستان کے ہاتھ کچھ اس طرح سے جکڑے ہیں کہ یہ چاہ کر بھی اپنی مرضی کے مطابق فیصلے کرنے سے قاصر ہیں اور انکی مجبوری ہے کہ یہ عالمی سامراج کے سامنے سر تسلیم خم کرکے ان کے کیے گئے فیصلوں آمین کہیتے رہیں.

    امریکہ کی جنگ میں شامل ہونا پاکستان کی غلطی، کیا نئے پاکستان کا بیانیہ بھی نیا ہوگا؟؟؟ تحریر: محمد عبداللہ
    یہ سارے معاملات اور مسائل اس وجہ سے ہیں کہ بھارت یہ سمجھتا ہے کہ اگر ان لوگوں کی آوازیں بند نہ کی گئیں اور ان کے قدم نہ روکے گئے تو بات کشمیر کی آزادی تک نہیں رکے گی مسئلہ بہت آگے تک جائے گا اور بھارت کے کئی ٹکڑوں پر منتج ہوگا یہی وجہ ہے کہ اس کے مسلسل کیے گئے پراپیگنڈے آج رنگ لا رہے ہیں ایک طرف تو اس نے ساری کشمیری قیادت کو پابند سلاسل کیا ہوا ہے اور دوسری طرف پاکستان میں بھی کشمیر کے نام لیواؤں پر پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں، اور عالمی سامراج بھارت کی ہاں میں ہاں ملاکر پاکستان کے ہاتھ مزید باندھتا چلا جا رہا ہے. عالمی سامراج اور بڑی طاقتیں بھی اسلام سے خوفزدہ ہیں اور وہ بھی بخوبی سمجھتے ہیں کہ اگر اس خطے میں ان کا ضدی بچہ بھارت کمزور پڑگیا اور پاکستان کے قدم مضبوط ہوگئے تو پورا خطہ اسلامائز ہوکر ان کے لیے شدید خطرات کا باعث بنے گا یہی وجہ ہے کہ وہ بھی بھارت کے ہمرکاب ہوکر ایف اے ٹی ایف اور دیگر پابندیوں کی صورت پاکستان پر مسلط ہیں اور ہمارے لیے مسلسل مسائل پیدا کررہے ہیں اور پاکستان اپنے شدید ابتر معاشی، سیاسی، بین الاقوامی حالات کے پیش نظر مضبوط فیصلے لینے سے قاصر ہے.

    مصنف کے بارے میں جانیے اور ان کے مزید مضامین پڑھیے

    Muhammad Abdullah
    Muhammad Abdullah
  • مقبوضہ کشمیر میں مسلسل کرفیو سے بیرون ممالک کشمیریوں کی زندگی کیسے اجیرن ہوگئی ہے!!! تحریر: محمد عبداللہ

    مقبوضہ کشمیر میں مسلسل کرفیو سے بیرون ممالک کشمیریوں کی زندگی کیسے اجیرن ہوگئی ہے!!! تحریر: محمد عبداللہ

    مقبوضہ کشمیر میں جہاں کرفیو کے باون دنوں سے وادی کے لوگوں کی زندگی اجیرن ہوئی ہے، غذائی اشیاء کی شدید قلت ہے، شیر خوار بچوں کے لیے دودھ بھی میسر نہیں ہے، مواصلات کے سبھی ذرائع پر سخت قسم کی پابندیاں عائد ہیں جس کی وجہ سے بھارتی مسلح افواج کی بربریت اور کرفیو میں جاں بلب کشمیریوں کے نقصانات کا تخمینہ لگانا ناممکن سا ہوا پڑا ہے وہیں ایک بڑا مسئلہ اور نقصان ان کشمیری طلباء کا ہے جو وادی سے باہر مختلف ممالک میں زیر تعلیم ہیں.

    مزید پڑھیں کیا سوشل میڈیا پوسٹس اور ٹویٹر ٹرینڈز سے کشمیر آزاد ہوجائے گا؟؟؟ تحریر: محمد عبداللہ

    پچھلے تقریباً دو ماہ سے ان میں سے کسی کا بھی اپنے گھر والوں سے کسی قسم کا رابطہ نہیں ہے. ان کے پاس بجٹ پہلے ہی محدود ہوتا ہے وہ ختم ہوچکا ہے اور وہ فاقوں پر مجبور ہیں لیکن اس سے بڑا مسئلہ شدید قسم کی ذہنی اذیت ہے کہ کوئی اندازہ اور علم نہیں ہے کہ ان کے گھر والے کس کیفیت میں ہیں، زندہ بھی ہیں یا نہیں اور حالیہ آنے والے زلزلہ کے بعد تو دکھ کی یہ کیفیت مزید بڑھ گئی کہ اپنے والدین و بہن بھائیوں کی خیریت دریافت کرنا چاہتے ہیں مگر مواصلات، میڈیا، سوشل میڈیا غرض کے سبھی ذرائع کے بلیک آؤٹ کی وجہ سے وہ اس عمل سے قاصر ہیں.

    مزید پڑھیں مسئلہ کشمیر فقط زمین کے ٹکڑے کی لڑائی یا کچھ اور؟ ؟؟ محمد عبداللہ

    کشمیری خواتین کی سب سے بڑی جماعت دختران ملت کی سربراہ آسیہ اندرانی کے بیٹے احمد بن قاسم کا کہنا تھا "زلزلے کے بعد آپ اپنے گھر والوں کی خیریت دریافت کرنے کے لیے بے ساختہ فون اٹھاتے ہیں اور نمبر ڈائل کرتے ہیں مگر آپ بھول جاتے ہیں کہ کشمیر میں کرفیو ہے اور ہر قسم کی مواصلات پر پابندی ہے” اسی طرح آسیہ اندرابی ہی کے بھانجے اور کشمیر یوتھ الائنس کے صدر ڈاکٹر مجاہد گیلانی کا کہنا تھا "کہ پہلے تو ہماری خالہ کی خیریت دریافت ہوجاتی تھی مگر اب کرفیو اور مواصلات پر پابندی کی بدولت ہم کچھ بھی جاننے سے قاصر ہیں”. پاکستان کی مختلف یونیورسٹیز میں پڑھنے والے بے شمار کشمیری طلباء نے اپنی یہی کیفیت بتائی کہ وہ اپنے گھر والوں کی خیریت دریافت کرنے کو بے تاب ہیں مگر کوئی ذریعہ نہیں ہے. ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے گھر والوں نے اخراجات کے لیے کرفیو سے قبل جو رقم بھجوائی تھی وہ ختم ہوچکی ہے اور اب ہم فاقوں پر مجبور ہیں. ہزاروں کشمیری طلباء دنیا کے مختلف ممالک میں زیر تعلیم ہیں اور ہزاروں ایسے ہیں جو بسلسلہ روزگار بیرون ملک مقیم ہیں ان سب کی کیفیت یہی ہے کہ وہ اپنے گھر والوں سے رابطہ نہ ہونے کے باعث شدید قسم کی ذہنی اور قلبی اذیت کا شکار ہیں. کچھ دن قبل پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے سعودیہ میں مقیم ایک کشمیری نوجوان نے فریاد کی تھی کہ میرا اپنے گھر والوں سے کوئی رابطہ نہیں ہے اور میں ان کے بارے میں شدید پریشانی کا شکار ہوں. یہ ایک مثال تھی مگر کتنے ہی ہزاروں کشمیری طلباء اور مزدور جو بیرون ملک مقیم ہیں ایسے بھی ہیں جو اس ڈر سے میڈیا یا سوشل میڈیا پر آکر اپنی پریشانی اور کیفیت بیان نہیں کررہے کہ کہیں ان کے اس عمل کی وجہ سے ان کے گھر والوں پر کوئی آفت نہ آن پڑے. بھارت کی جانب سے باون دنوں کا مسلسل کرفیو اور ذرائع مواصلات پر پابندی وہ شدید قسم کی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے جس کا شکار بےچارے کشمیری ہو رہے ہیں ایسے میں انسانی حقوق کی تنظیموں اور اقوام متحدہ کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے اور بھارت پر زور دینا چاہیے کہ وہ کشمیر میں کرفیو کو ختم کرے اور ذرائع مواصلات پر عائد پابندیاں ہٹائے تاکہ بیرون ملک مقیم کشمیری اپنے پیاروں سے رابطہ کرکے ان کی خیریت دریافت کرسکیں.

    مصنف کے بارے مزید جانیے

    Muhammad Abdullah
    Muhammad Abdullah
  • امریکہ کی جنگ میں شامل ہونا پاکستان کی غلطی، کیا نئے پاکستان کا بیانیہ بھی نیا ہوگا؟؟؟ تحریر:  محمد عبداللہ

    امریکہ کی جنگ میں شامل ہونا پاکستان کی غلطی، کیا نئے پاکستان کا بیانیہ بھی نیا ہوگا؟؟؟ تحریر: محمد عبداللہ

    ہم نے کچھ عرصہ قبل عمران خان کے دورہ امریکہ اور ٹرمپ سے ملاقات کے دوران بیان کی گئی باتوں پر بھی لکھا تھا ریاست پاکستان اپنا بیانیہ تبدیل کرچکی ہے. ماضی میں جو کچھ بھی ہوا اور جس کی بنیاد پر پاکستان کو عالمی سطح پر تنہائی کا سامنا کرنا پڑا پاکستان اس کا واضح انکار کرے گا کہ ماضی میں ہم نے غلط کیا ہے. جیسا کہ آج وزیراعظم پاکستان عمران خان نے نیویارک میں کونسل فار فارن ریلیشنز میں بات چیت کرتے ہوئے واضح طور پر کہا کہ امریکہ کی جنگ میں کودنا پاکستان کی غلطی تھی وہ ہماری جنگ نہیں تھی، آئی ایس آئی نے مجاہدین، طالبان و دیگر کو ٹرین کیا جن کو نائن الیون کے بعد امریکہ نے دہشت گرد کہنا شروع کردیا تھا. ہم نے اس جنگ کے نتیجے میں ستر ہزار جانوں کی قربانی دی ہے، اس جنگ کیں ہمیں 200 ملین ڈالر کا نقصان ہوا ہے عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ خطے میں غربت ہے جبکہ مودی آگ سے کھیل رہا ہے ہم بارہا ان کو کہہ رہے ہیں کہ آؤ امن کی طرف خطے سے غربت کے خاتمے کے لیے کام کرو. لیکن بھارت کی طرف سے ہمارے خلاف اقدامات ہو رہے ہیں جیسا کہ پلوامہ کا واقعہ پیش آیا تو بغیر کسی تحقیق کے پاکستان پر الزام لگا دیا اسی طرح بھارت نے پاکستان کو ایف اے ٹی ایف میں دھکیلا، خان کا مزید کہنا تھا کہ میں جنگ مخالف ہوں کیونکہ جنگ مسائل کا حل نہیں ہوتی.

    مزید پڑھیں ریاست پاکستان کا بیانیہ …. محمد عبداللہ

    یہ بیانیہ اگرچہ پاکستان کے بہت سارے لوگوں کو قابل قبول نہیں ہوگا. اس پر بڑی باتیں اور بڑے تجزیئے ہونگے، الزامات کی بوچھاڑ ہوگی لیکن یاد رکھیے کہ پاکستان کے مسائل صرف معاشی، اقتصادی بدحالی اور سیاسی عدم استحکام ہی نہیں ہیں بلکہ پاکستان کے بہت بڑے بڑے مسائل میں سے پاکستان کا عالمی سطح پر سفارتی تنہائی، ایف اے ٹی ایف میں پکڑ (جس کی وجہ سے ملکوں اور قوموں کے ساتھ تجارت اور تعلقات میں مسائل کا پیدا ہونا)، مسئلہ کشمیر، افغان امن پراسس، دہشت گردی وغیرہ وغیرہ. ان سب مسائل سے بیک وقت نمٹنے کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان اپنا رویہ تبدیل کرے، اپنے اوپر لگے ہوئے سارے الزامات دھوئے، ماضی میں وقوع پذیر ہونے والے واقعات اور ان پر پاکستان کے ردعمل کے حوالے سے ٹھوس موقف اختیار کیا جائے اور اسی کا پرچار دنیا میں ہو اور یہ وہی کام ہے جو عمران خان اس وقت کر رہا ہے. یہ فقط عمران خان یا جی ایچ کیو یا دیگر سیاسی گروہوں کا بیانیہ نہیں ہے بلکہ یہ ریاست پاکستان کا بیانیہ ہے اور موجودہ سنگین حالات میں یہی بیانیہ کارگر ہوگا. اس کے ساتھ ساتھ ایک کام کا ہونا بہت ضروری ہے اور بڑی خوشی ہے کہ یہ کام ہو بھی رہا ہے وہ ہے کہ پاکستان کے دشمنوں اور ان کی سازشوں کو اقوام عالم کے سامنے بالکل کھول کے رکھ دینا اور انکو کاؤنٹر کرنا.

    مصنف کے بارے میں مزید جانیے

    Muhammad Abdullah
    Muhammad Abdullah
  • بھارتی ہندو اسلام اور مسلمان دشمنی میں اندھے ہوگئے،مسلمان سمجھ کر ہندو لڑکے کو قتل  کردیا

    بھارتی ہندو اسلام اور مسلمان دشمنی میں اندھے ہوگئے،مسلمان سمجھ کر ہندو لڑکے کو قتل کردیا

    دہلی: انڈین ہندو اسلام اور مسلمانوں کے دشمنی میں اندھے ہوگئے ، اطلاعات کے مطابق بھارت کے شہر دہلی میں ساحل نامی ہندو لڑکے کو مسلمان سمجھ کر قتل کردیا گیا۔

    ذرائع کے مطابق دہلی کے علاقے جعفرآباد میں ایک واقعہ پیش آیا جس میں کچھ ہندو انتہا پسندوں نے 23 سالہ ساحل نامی ہندو لڑکے کو مسلمان سمجھ کر شدید تشدد کا نشانہ بنایا جس کے بعد نوجوان زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہوگیا۔

    دوسری طرف مقتول کے والدین کا کہنا ہے کہ ہمارے بیٹے کو صرف اِس وجہ سے قتل کیا گیا ہے کیونکہ وہ پنڈتوں والی گلی سے گُزر رہا تھا اور ساحل نام ہونے کی وجہ سے ہمارے بیٹے کو مسلمان سمجھ کر قتل کردیا۔ بھارتی پولیس کے مطابق یہ واقعہ مذہبی اور فرقہ وارانہ نہیں تھا، واقعے میں ملوث ہندووں ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا ہے

  • بھارت اور متحدہ عرب امارات کا گٹھ جوڑ وجہ کیا ہے؟؟؟؟  محمد عبداللہ

    بھارت اور متحدہ عرب امارات کا گٹھ جوڑ وجہ کیا ہے؟؟؟؟ محمد عبداللہ

    سب سے پہلی بات کہ دنیا مفادات پر چلتی ہے وہ اسلامی ممالک ہوں یا اہل کفار کے ممالک سبھی تعلقات قائم کرتے وقت اپنے اپنے قومی مفادات کو ہی مقدم رکھتے ہیں. ایسا نہیں ہے کہ ہم.نے کبھی قومی مفادات کو ملی مفادات پر ترجیح نہ دی ہو. ماضی میں بے شمار مثالیں آپ کو ملیں گی جس سے اندازہ ہوگا کہ پاکستان نے بھی بارہا قومی مفادات کی وجہ سے ملی مفادات کو ٹھیس پہنچائی، اگرچہ پاکستان کا رویہ اور عام پاکستان کے جذبات باقی اسلامی ممالک کی وجہ سے امت کے درد میں زیادہ دلگیر ہوجاتا ہے. جدید نیشن اسٹیٹس میں خارجہ پالیسی کا یہی اصول ہے کہ فقط اپنے ہی قومی مفادات کو ترجیح دو. ایسے میں ہمیں بھی سینہ فراخ کرنا پڑے گا کہ جن اسلامی ممالک کے تجارتی مفادات دوسرے ممالک سے وابستہ ہیں ان سے وہ تعلقات قائم کرسکیں. (گزشتہ بلاگ میں ہی ہم نے ذکر کیا تھا) ہم کوئی بین الاقوامی منڈی نہیں ہیں، ہم بائیس کروڑ ہیں جبکہ بھارت 1.339 بلین آبادی والا ملک ہے جو انڈسٹری اور ٹیکنالوجی میں پاکستان سے بہت آگے ہے. ایسے میں عرب یا دیگر ممالک کا پاکستان کی نسبت بھارت کے ساتھ تجارتی معاہدوں کا حجم بہت زیادہ ہوگا تو وہ خیال بھی اسی کا رکھیں گے جہاں ان کے پیسے زیادہ لگے ہونگے.
    مزید پڑھیں مسئلہ کشمیر فقط زمین کے ٹکڑے کی لڑائی یا کچھ اور؟؟؟ تحریر: محمد عبداللہ

    دوسری بات جو بہت اہم بھی ہے اور جو سمجھ میں آنے والی بھی ہے کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ سی پیک اور بالخصوص پاکستان کی عظیم بندرگاہ گوادر کے آپریشنل ہوجانے سے جہاں بھارتی اور ایرانی بندگاہوں کو خطرات لاحق ہونا شروع ہوگئے تھے وہیں یہ پشین گوئیاں شروع ہوچکی تھیں کہ گوادر کے آپریشنل ہوتے ہی دوبئی کی رونقیں اجڑ جائیں گی اور اگر ایسا ہوجاتا ہے تو متحدہ عرب امارات کی ساری شان و شوکت، رعب و دبدبہ اور شامیں ماند پڑجائیں گی. کیونکہ گوادر تجارتی مرکز بن جائے گا. کیونکہ اسی گوادر اور سے ملحقہ سی پیک سے ہی چین، وسط ایشیائی ریاستوں اور روس تک کی امیدیں وابستہ ہیں اور چین کا تو دارومدار ہی اس سی پیک پر ہے.ساری دنیا جانتی ہے کہ درآمدات و برآمدات کے حوالے سے چین اور روس دنیا میں کیا مقام رکھتے ہیں.اسی طرح وسط ایشیائی ریاستیں بھی کسی سے کم نہیں ہیں مگر کسی طرف کا رستہ نہ ہونے کی وجہ سے وہ ریاستیں ایک عرصہ سے اگنور ہوتی چلی آ رہی تھیں اب اگر ان سب کو گوادر کی شکل میں تجارتی سنٹر ملتا ہے تو باقی تجارتی مراکز کی حیثیت اس کے سامنے بہت کم ہوجائے گی، گزشتہ دنوں ایران اور بھارت کے گٹھ جوڑ کا مقصد بھی یہی تھا کہ چاہ بہار کی رونقیں جاتی نظر آرہی تھیں. کچھ ماہ قبل کی بات ہے کراچی میں آئل وغیرہ سے وابستہ پاکستانی تاجروں کی ایک مجلس میں بیٹھے تھے تو وہاں پر بات چلی تو ان سب کا کہنا تھا کہ دوبئی کی نسبت اگر گوادر سے سلسلہ شروع ہوجاتا ہے تو پھر دوبئی کی ساری دکانداری ختم ہوجاتی ہے. سی پیک اور گوادر کا وہ پلان جس کو پاکستان اور چین نے گیم چینجر پلان کہا تھا کہیں ایسا تو نہیں کہ اس گیم چینجر سے متاثر ہونے والے سبھی ممالک نے گٹھ جوڑ کرلیا ہو اور ان سب کے پیچھے شیاطین کا مائی باپ امریکہ ہو کیونکہ چین و روس کی ترقی سے زیادہ مسئلہ امریکہ کو ہی ہوسکتا ہے. امریکہ افغانستان سے نکلنے کے لیے پاکستان کا محتاج ہے اور کہیں ایسا تو نہیں کہ اس نے بندوق مودی کے کندھے پر رکھی ہو کیونکہ یہی پاکستان کا مشکل ترین وقت تھا جس میں پاکستان کو قابو کرنا آسان تھا وگرنہ پاکستان ان ممالک کی پہنچ سے بہت آگے جانکلتا.

    مزید پڑھیں کیا بھارت کشمیر کو آزاد کرکے پاکستان کی بقاء ممکن بنائے گا؟؟؟ محمد عبداللہ
    اس خدشے کو تقویت کچھ اس طرح بھی ملتی ہے کہ پاکستان کو ایک طرف ایف اے ٹی ایف اور آئی ایم ایف کے چنگل میں ڈال کر، دوسری طرف پاکستان کو کشمیر ایشو اور مشرقی بارڈر پر مسلسل الجھا کر سی پیک اور گوادر کی تکمیل میں رکاوٹیں کھڑی کی گئی ہیں جس کا نتیجہ ہے کہ ان منصوبوں پر کام ایک حساب سے عملاً رک چکا ہے اور فی الوقت جو کچھ ہو رہا ہے وہ فقط کاغذوں کی حد تک ہو رہا ہے. کیونکہ ساری دنیا کو پتا ہے کہ پاکستان کشمیر کو نہیں چھوڑ سکتا کہ کشمیر بھی پاکستان کی بقاء کا مسئلہ ہے. کڑی سے کڑی ملائیں تو مقبوضہ وادی اور لداخ پر بھارتی شکنجے کی مضبوطی سے بھی یہ بات سمجھ آتی ہے کہ بھارت ایک طرف تو پاکستان کو پانی سے محروم کرنا چاہتا ہے اور دوسری سی پیک پر اثر انداز ہونا چاہتا ہے. اس کے لیے وہ متحدہ عرب امارات کی طرف التفات اور دیگر سبھی حربے استعمال کرے گا لہذا اب پاکستان کو اپنی ترجیحات واضح کرنا ہونگی اور اپنے قدم بڑے سوچ سمجھ کر اٹھانا ہونگے کہ کوئی چھوٹی سی غلطی بھی بڑا نقصان پہنچا سکتی ہے.

    Muhammad Abdullah