Baaghi TV

Tag: بھارت

  • بھارت اور متحدہ عرب امارات کا گٹھ جوڑ وجہ کیا ہے؟؟؟؟  محمد عبداللہ

    بھارت اور متحدہ عرب امارات کا گٹھ جوڑ وجہ کیا ہے؟؟؟؟ محمد عبداللہ

    سب سے پہلی بات کہ دنیا مفادات پر چلتی ہے وہ اسلامی ممالک ہوں یا اہل کفار کے ممالک سبھی تعلقات قائم کرتے وقت اپنے اپنے قومی مفادات کو ہی مقدم رکھتے ہیں. ایسا نہیں ہے کہ ہم.نے کبھی قومی مفادات کو ملی مفادات پر ترجیح نہ دی ہو. ماضی میں بے شمار مثالیں آپ کو ملیں گی جس سے اندازہ ہوگا کہ پاکستان نے بھی بارہا قومی مفادات کی وجہ سے ملی مفادات کو ٹھیس پہنچائی، اگرچہ پاکستان کا رویہ اور عام پاکستان کے جذبات باقی اسلامی ممالک کی وجہ سے امت کے درد میں زیادہ دلگیر ہوجاتا ہے. جدید نیشن اسٹیٹس میں خارجہ پالیسی کا یہی اصول ہے کہ فقط اپنے ہی قومی مفادات کو ترجیح دو. ایسے میں ہمیں بھی سینہ فراخ کرنا پڑے گا کہ جن اسلامی ممالک کے تجارتی مفادات دوسرے ممالک سے وابستہ ہیں ان سے وہ تعلقات قائم کرسکیں. (گزشتہ بلاگ میں ہی ہم نے ذکر کیا تھا) ہم کوئی بین الاقوامی منڈی نہیں ہیں، ہم بائیس کروڑ ہیں جبکہ بھارت 1.339 بلین آبادی والا ملک ہے جو انڈسٹری اور ٹیکنالوجی میں پاکستان سے بہت آگے ہے. ایسے میں عرب یا دیگر ممالک کا پاکستان کی نسبت بھارت کے ساتھ تجارتی معاہدوں کا حجم بہت زیادہ ہوگا تو وہ خیال بھی اسی کا رکھیں گے جہاں ان کے پیسے زیادہ لگے ہونگے.
    مزید پڑھیں مسئلہ کشمیر فقط زمین کے ٹکڑے کی لڑائی یا کچھ اور؟؟؟ تحریر: محمد عبداللہ

    دوسری بات جو بہت اہم بھی ہے اور جو سمجھ میں آنے والی بھی ہے کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ سی پیک اور بالخصوص پاکستان کی عظیم بندرگاہ گوادر کے آپریشنل ہوجانے سے جہاں بھارتی اور ایرانی بندگاہوں کو خطرات لاحق ہونا شروع ہوگئے تھے وہیں یہ پشین گوئیاں شروع ہوچکی تھیں کہ گوادر کے آپریشنل ہوتے ہی دوبئی کی رونقیں اجڑ جائیں گی اور اگر ایسا ہوجاتا ہے تو متحدہ عرب امارات کی ساری شان و شوکت، رعب و دبدبہ اور شامیں ماند پڑجائیں گی. کیونکہ گوادر تجارتی مرکز بن جائے گا. کیونکہ اسی گوادر اور سے ملحقہ سی پیک سے ہی چین، وسط ایشیائی ریاستوں اور روس تک کی امیدیں وابستہ ہیں اور چین کا تو دارومدار ہی اس سی پیک پر ہے.ساری دنیا جانتی ہے کہ درآمدات و برآمدات کے حوالے سے چین اور روس دنیا میں کیا مقام رکھتے ہیں.اسی طرح وسط ایشیائی ریاستیں بھی کسی سے کم نہیں ہیں مگر کسی طرف کا رستہ نہ ہونے کی وجہ سے وہ ریاستیں ایک عرصہ سے اگنور ہوتی چلی آ رہی تھیں اب اگر ان سب کو گوادر کی شکل میں تجارتی سنٹر ملتا ہے تو باقی تجارتی مراکز کی حیثیت اس کے سامنے بہت کم ہوجائے گی، گزشتہ دنوں ایران اور بھارت کے گٹھ جوڑ کا مقصد بھی یہی تھا کہ چاہ بہار کی رونقیں جاتی نظر آرہی تھیں. کچھ ماہ قبل کی بات ہے کراچی میں آئل وغیرہ سے وابستہ پاکستانی تاجروں کی ایک مجلس میں بیٹھے تھے تو وہاں پر بات چلی تو ان سب کا کہنا تھا کہ دوبئی کی نسبت اگر گوادر سے سلسلہ شروع ہوجاتا ہے تو پھر دوبئی کی ساری دکانداری ختم ہوجاتی ہے. سی پیک اور گوادر کا وہ پلان جس کو پاکستان اور چین نے گیم چینجر پلان کہا تھا کہیں ایسا تو نہیں کہ اس گیم چینجر سے متاثر ہونے والے سبھی ممالک نے گٹھ جوڑ کرلیا ہو اور ان سب کے پیچھے شیاطین کا مائی باپ امریکہ ہو کیونکہ چین و روس کی ترقی سے زیادہ مسئلہ امریکہ کو ہی ہوسکتا ہے. امریکہ افغانستان سے نکلنے کے لیے پاکستان کا محتاج ہے اور کہیں ایسا تو نہیں کہ اس نے بندوق مودی کے کندھے پر رکھی ہو کیونکہ یہی پاکستان کا مشکل ترین وقت تھا جس میں پاکستان کو قابو کرنا آسان تھا وگرنہ پاکستان ان ممالک کی پہنچ سے بہت آگے جانکلتا.

    مزید پڑھیں کیا بھارت کشمیر کو آزاد کرکے پاکستان کی بقاء ممکن بنائے گا؟؟؟ محمد عبداللہ
    اس خدشے کو تقویت کچھ اس طرح بھی ملتی ہے کہ پاکستان کو ایک طرف ایف اے ٹی ایف اور آئی ایم ایف کے چنگل میں ڈال کر، دوسری طرف پاکستان کو کشمیر ایشو اور مشرقی بارڈر پر مسلسل الجھا کر سی پیک اور گوادر کی تکمیل میں رکاوٹیں کھڑی کی گئی ہیں جس کا نتیجہ ہے کہ ان منصوبوں پر کام ایک حساب سے عملاً رک چکا ہے اور فی الوقت جو کچھ ہو رہا ہے وہ فقط کاغذوں کی حد تک ہو رہا ہے. کیونکہ ساری دنیا کو پتا ہے کہ پاکستان کشمیر کو نہیں چھوڑ سکتا کہ کشمیر بھی پاکستان کی بقاء کا مسئلہ ہے. کڑی سے کڑی ملائیں تو مقبوضہ وادی اور لداخ پر بھارتی شکنجے کی مضبوطی سے بھی یہ بات سمجھ آتی ہے کہ بھارت ایک طرف تو پاکستان کو پانی سے محروم کرنا چاہتا ہے اور دوسری سی پیک پر اثر انداز ہونا چاہتا ہے. اس کے لیے وہ متحدہ عرب امارات کی طرف التفات اور دیگر سبھی حربے استعمال کرے گا لہذا اب پاکستان کو اپنی ترجیحات واضح کرنا ہونگی اور اپنے قدم بڑے سوچ سمجھ کر اٹھانا ہونگے کہ کوئی چھوٹی سی غلطی بھی بڑا نقصان پہنچا سکتی ہے.

    Muhammad Abdullah
  • کشمیر توجہ مانگتا ہے!!!!   بلال شوکت آزاد

    کشمیر توجہ مانگتا ہے!!!! بلال شوکت آزاد

    ویسے تو کشمیریوں کا نوحہ بہتر سالوں سے جاری ہے کہ وہاں ہندوتوا کے جھنڈے تلے مسلمانوں کا قتل عام، ظلم اور زیادتی ایک عام سی بات بن کر رہ گئی ہے۔

    ہم بہتر سالوں سے روزانہ میڈیا کے ذریعے ایسی کوئی نہ کوئی خبر ضرور سنتے رہتے تھے جس میں کسی کشمیری بزرگ کا بہیمانہ قتل، کسی کشمیری بہن کی لٹی عزت کی کہانی اور کسی نوجوان کے تباہ شدہ خوابوں کا فسانہ سننے کو مل جاتا تھا۔

    آپ سوچ رہے ہوں گے کہ میں یہ بار بار "تھا” کیوں کہہ رہا ہوں؟

    کیا آج وہاں ظلم اور زیادتی کا بازار بند ہو چکا ہے؟

    یا وہاں پر بزرگوں کا بہیمانہ قتل نہیں ہورہا؟

    یا وہاں پر ہماری کشمیری بہنوں کی عزتیں محفوظ ہوگئی ہیں؟

    اور یا پھر نوجوانوں کے خواب شرمندہ تعبیر ہو رہے ہیں؟

    کیا وجہ ہے کہ میں یہ کہنے پر مجبور ہوگیا ہوں کہ ہمیں دس سالوں سے میڈیا کے ذریعے ایسی کوئی نہ کوئی خبر بھولے بھٹکے ضرور مل جاتی تھی جس میں کشمیر میں جاری ظلم کا فسانہ ہمیں سننے پڑھنے کو مل جاتا تھا۔

    لیکن ابھی گزشتہ 16/17 دن سے جاری ظلم و زیادتی، قتل و غارت بلکہ سادہ لفظوں میں کہوں تو کشمیری مسلمانوں کی نسل کشی کی ہمیں خبریں دائیں بائیں سے ضرور مل رہی ہیں لیکن ہمارے میڈیا پر وہی صورتحال غالب ہے جو اول دن سے تھی، عالمی میڈیا خبر تو دیتا ہے لیکن اپنی جانبداری کو چھپا نہیں پاتا۔

    کوئی بھی یہ نہیں بتا رہا کہ اس سال فروری سے لے کر آج کے دن تک ک سترہ ایسے مقامی کشمیری صحافی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں جو اپنی بساط کے مطابق کشمیر کے حق اور ظلم کی چکی میں پسنے والوں کی آواز دنیا بھر میں پھیلانے کا ذریعہ بنے ہوئے تھے۔

    اس وقت سوشل میڈیا پر بے شمار خبریں پڑھنے سننے کو مل جاتی ہیں کشمیر کے متعلق، جن کی حقیقت یا تو کشمیری جانتے ہیں یا اللہ بہتر جانتا ہے۔

    لیکن جو بھی خبریں پڑھنے سننے کو مل رہی ہیں وہ کوئی اتنی حوصلہ افزا اور قابل برداشت نہیں۔

    سرکاری چھتری کے نیچےبھارتی فوج، پیراملٹری فورسز اور سرکاری ایجنسیز ہی کشمیر میں میں ظلم نہیں ڈھا رہیں بلکہ آر ایس ایس کے مہاسبائی غنڈے اور انتہا پسند ہندو کھل کر کشمیریوں کا استحصال کر رہے ہیں بلکہ یہ اطلاعات بھی مل رہی ہیں کہ کہ بھارت نے آرٹیکل 370 اور 35 اے کے باضابطہ خاتمے سے پہلے صرف کشمیر سے ہندوؤں کو نکلنے کا حکم ہی نہیں دیا بلکہ اضافی فوجی دستے بھی تعینات کیے اور انتہا پسند ہندو غنڈوں کو بھی لگاتار فلائٹس کے ذریعے کشمیر پہنچایا تاکہ وہ بڑے پیمانے پر کشمیر میں کشمیری مسلمانوں کی نسل کشی میں میں حکومت بھارت کی مدد کر سکیں۔

    اس وقت موجود خبروں کے تناظر میں بتاتا چلوں کہ کوئی چار ہزار کے قریب حریت پسند سنگباز کشمیری نوجوان زبردستی اٹھا کر جیلوں میں ڈالے گئے ہیں اور بعد میں انہیں نوجوانوں کے گھروں میں بھارتی فوجی دندناتے ہوئے گئے اور ان کی بہنوں بیٹیوں کو اغوا کر کے فوجی بیرکوں میں لے گئے ہیں۔

    خبریں تو اور بھی بہت سی ہیں جنہیں سن پڑھ کر کسی بھی غیرت مند مسلمان کو غصہ آ سکتا ہے اور اگر ضمیر زندہ ہو تو وہ انسان غصے سے پھٹ بھی سکتا ہے۔

    یہ اتنی ساری کہانی یا تمہید بیان کرنے کا مقصد صرف اتنا ہے کہ "کشمیر توجہ مانگتا ہے”۔

    اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ بھائی ہم تو 72 سالوں سے مسئلہ کشمیر اور کشمیری مسلمانوں پر پر پڑھ، لکھ، سن اور بتا رہے ہیں تو اب کون سی ایسی توجہ ہے جو کشمیر مانگتا ہے اور ہمیں دینی ہوگی؟

    معذرت کے ساتھ کہنا چاہوں گا کہ ہم بہت سالوں سے بطور پاکستانی قوم کشمیر کو صرف یوم یکجہتی کشمیر، 14/15 اگست یا پھر کشمیر میں ہوئے کسی بڑے سانحے کے بعد یاد کرتے تھے اور دو دن خوب شور مچا کر خاموش ہو جاتے تھے۔

    میں یہاں کسی مخصوص گروہ، کسی مذہبی جماعت، کسی سیاسی جماعت اور کسی رائٹ لیفٹ یا سنٹر کی بات نہیں کر رہا بلکہ میرے مخاطب ساری پاکستانی قوم ہے۔

    ہم نے قائد اعظم کے انتقال کے بعد کشمیریوں کو سوائے ڈھکوسلوں، حکمت اور مصلحت کے لولی پاپس اور سیاسی بیان بازیوں کے کوئی ایسی گرانقدر خدمات پیش نہیں کیں جو کشمیریوں کا دکھ کم یا دور کر سکتیں یا مرہم بن کے ان کے دکھوں کا مداوا کر سکتیں۔ (جو انڈر دا ٹیبل کیا گیا اسے یہاں پر بیان کرنا کسی صورت بھی ممکن نہیں اور نہ ہی اسے بیان کرنا اس وقت اتنا اہمیت رکھتا ہے جب پاکستان اندرون اور بیرون معاشی مسائل کا شکار بھی ہو اور عالمی اداروں کی نظر میں یہ کسی اچھے تشخص کا حامل بھی نا ہو)۔

    ہمیں اب مسئلہ کشمیر کو باقاعدہ اپنی زندگیوں میں وہ اہمیت اور وہ جگہ دینی ہوگی جس کا وہ حقدار ہے۔

    کل لاہور میں کشمیر یوتھ الائنس اور اپیکس گروپ آف کالجز کے زیراہتمام "کشمیر توجہ مانگتا ہے” کے عنوان سے سیمینار منعقد کیا گیا جو اس رویے، اس روش اور اس ضرورت کو عوامی بنانے کی جانب پہلا قدم ہے۔

    کشمیر یوتھ الائنس اور اپیکس گروپ آف کالجز کے زیراہتمام لاہور میں "کشمیر توجہ چاہتا ہے” کے عنوان سے سیمینار کا انعقاد کیا گیا جس میں نوجوانوں کی تنظیمات کے نمائندگان اور میڈیا کے شعبے سے تعلق رکھنے والے طلبہ شریک تھے۔

    سیمینار کی صدارت رانا عدیل ممتاز کررہے تھے جبکہ مقررین میں سینئر اینکرپرسن مبشر لقمان، اینکراسامہ غازی، سینئر صحافی واستاد ڈاکٹر مجاہد منصوری، اسلامک سکالر اشتیاق گوندل، یوتھ ایکٹیوسٹس رضی طاہر، طہ منیب، عدیل احسن، مہک زہرا، عائشہ صدیقہ اور احقر بلال شوکت آزاد شامل تھے۔

    رانا عدیل ممتاز نے خطاب میں کہا کہ

    "پاکستانی نوجوان بھارت کو ہر محاذ ہر شکست دینے کیلئے آگے بڑھیں، پہلا قدم ٹیکنالوجی ہے، اس کے استعمال سے بھارت کا مکروہ چہرہ بے نقاب کریں۔”

    مبشر لقمان صاحب نے اظہار خیال کرتے ہوئے مسلم دنیا پر تنقید کی اور کہا کہ

    "کوئی اسلامی ملک حقیقی غیرت اسلامی کا مظاہرہ نہیں کررہا، مسلمان کشمیر میں مسلسل جانیں دے رہے ہیں اور ہمیں مالی مفادات عزیز ہیں جبکہ بھارت ایک جانب کشمیر میں خون کی ندیاں بہا رہا ہے اور دوسری جانب آبی جارحیت دکھا رہا ہے، کبھی بن بتائے پانی کھول دیتا ہے جو سیلاب کا سبب بنتے ہیں اور کبھی پانی روک کر خشک سالی کا سبب بنتا ہے، دنیا کو بتا دینا چاہتا ہوں پاکستان کا پانی روکیں گے تو 20 کروڑ خودکش بمبار تیار ہوجائیں گے۔”

    ڈاکٹرمجاہد منصوری نے کہا کہ

    "حیران ہوں کہ نئی دہلی میں بیٹھے 100سے زیادہ بین الاقوامی میڈیا کے نمائندگان کو کشمیرکی صورتحال دکھائی کیوں نہیں دیتی؟ میڈیا کے طلبہ سوشل میڈیا کے ذریعے دنیا کے سامنے سوال کریں کہ یہ کیسی بے حسی ہے۔”

    اسلامک سکالر اشتیاق گوندل نے کہا کہ

    "ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے، ہم مسلمان ہیں اور بحثیت مسلمان کسی خطے میں ظلم ہو ہم اس کے خلاف آواز اٹھاتے رہیں گے، کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور پاکستان کا حصہ ہے، تاریخ کو جھٹلایا نہیں جاسکتا۔”

    اینکر اسامہ غازی نے اپنی گفتگو میں کہا کہ

    "اگلے دو سال بہت اہم ہیں، کشمیر میں تحریک آزادی میں نیا جذبہ پیدا ہوگا، مودی کو بہت جلد اپنی غلط پالیسیوں کا احساس ہوگا، کشمیر بھارت کے ہاتھ سے نکل رہا ہے”۔

    سیمینار سے کشمیر یوتھ الائنس کے قائدین اور ایکٹیوسٹس رضی طاہر، رانا عدیل احسن، طہ منیب اور بلال شوکت آزاد نے بھی اظہار خیال کرتے ہوئے اہل کشمیر پر ہونے والے ظلم وستم کو روکنے کیلئے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑا۔

    اقوام متحدہ سے مخاطب ہوکر ان پر عزم نوجوان مقررین نے کہا کہ

    "اقوام متحدہ دراصل اقوام شرمندہ بن چکی ہے جبکہ او آئی سی بھی محض مذمتی بیانات تک محدود ہے۔”

    سیمینار کے آخر میں کشمیر کیلئے خصوصی دعا کی گئی اور یہ عہد کیا گیا کہ کشمیر یوتھ الائنس ہر وہ دروازہ کھٹکھٹائے گی جو کشمیر کے لیے آواز بلند کرنے کا حوصلہ اور ارادہ رکھتا ہوگا اور یہ سلسلہ رکے گا نہیں بلکہ کشمیریوں کی آزادی کے لئے "کشمیر توجہ مانگتا ہے” کے نام سے ملک گیر تحریک چلانے کے لیے پرعزم ہے۔

    کل ہوئے سیمینار میں نوجوانوں کی ایک اچھی خاصی تعداد موجود تھی جو کہ ایک حوصلہ افزا بات ہے اس صورتحال میں کے کشمیر مکمل طور پر بند ہے یہاں تک کہ ایک چڑیا بھی پر نہیں مار سکتی اور اگر یہ کہا جائے کہ کشمیر ایک جیل بن چکی ہے تو غلط نہ ہوگا۔

    ہمیں کشمیر کی وہ پر شور آواز بننا ہوگا جو اقوام عالم کے کانوں کے پردے پھاڑ دے کیونکہ اب یہ حکمت اور مصلحت کی کھیلیں کھیلنے کا وقت نہیں کہ یہاں ہر سیکنڈ پر ایک کشمیری مسلمان مرد اور عورت کٹ اور لٹ رہے ہیں۔

    اور جب تک یہ ہوتا رہے گا ان کا خون اور ان کی آہ و بکا صرف بھارتی درندوں کے ہاتھ ہی نہیں ہوگی بلکہ اس کا کچھ نہ کچھ کچھ کریڈٹ ہمارے سر بھی ہوگا۔

    میں نے کل سیمینار کے شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے بھی یہی بات کہی تھی اور یہاں پر بھی یہی کہوں گا کہ

    "ہمیں تمام طرح کی گروہ بندیوں، ذاتی مفادات اور تفرقہ بازی سے نکل کر ایک متحدہ قوم بننا ہوگا تاکہ ہم سب مل کر اپنے کشمیری مسلمان بہن بھائیوں کی آواز بن سکیں، اور ان کی آزادی کی تحریک پاکستان کے گلی کوچوں سے نکال کر اقوام عالم کے گلی کوچوں تک پہنچائیں۔
    یقین مانیے ہماری باتیں، ہمارے تجزیے اور خبریں تب تک بالکل بے معنی ہیں جب تک ہمارے کشمیری مسلمان بہن بھائیوں کو وہ توجہ نہیں ملتی ہماری جانب سے اور اقوام عالم کی جانب سے جو ان کی آزادی کو یقینی بنا سکے۔
    ہم خواہ غریب ہوں یا امیر ہوں، ان پڑھ ہوں یا پڑھے لکھے ہوں خواہ کسی بھی حیثیت میں ہوں ہمیں اپنے حلقہ احباب میں "کشمیر توجہ مانگتا ہے” تحریک کو عام کرکے پوری پاکستانی قوم کو کشمیر کا دکھ سنانا اور کشمیریوں کی حق خودارادیت کے لئے لیے میدان بنانا ہو گا لہذا اب کمر کس لی جائے اور میدان میں نکلا جائے کہ باتیں بہت ہو گئیں ، اب عمل کا وقت ہے۔”

    قصہ مختصر میں اپنی بات سمیٹتا ہوں اسی جملے کے ساتھ کہ

    "بھائیو بہنو! آپ لوگ خدارا اب نظریاتی بالغ ہوجائیں اور اپنا پورا وقت مظلوم کشمیریوں کے لئے وقف کر دیں کہ "کشمیر توجہ مانگتا ہے”۔

  • بھارت کے ساتھ جنگ ناگزیر…!!!

    بھارت کے ساتھ جنگ ناگزیر…!!!

    کشمیراور کشمیریوں پر بھارتی جارحیت کے بعد بھارت نے کل رات بغیر بتائے بھارتی ڈیموں کے سپل ویز کھول دیے اور پاکستان کے خلاف آبی جارحیت شروع کر دی۔ جس سے گلگت بلتستا ن سے کے پی کے، پنجاب اور سندھ میں شدید سیلابوں کا خطرہ پیدا ہو گیاہے ۔ بھارت کی جانب سے دریائے سندھ اور ستلج میں دو بڑے آبی ریلے چھوڑ نے کے سبب پنجاب اور سندھ کی کھڑی فصلیں تباہ وبرباد ہو نے کے قریب ہیں ۔ پاکستان کے تمام دریاوں سندھ ، ستلج ، راوی ، چناب میں شدید ظغیانی ہے ۔ پاکستان کے تمام ڈیموں میں گنجائش سے زائد پانی پہلے سے ذخیرہ تھا ۔ جبکہ اب بھارت نے پاکستان سے ڈیٹا شیئر نگ بھی بند کر دی ہے ۔ جو سندھ طاس معاہدے اور باقی عالمی معاہدوں کی کھلی خلاف ورزی ہے ۔ اس بھارتی اقدام سے پاکستان کے کئے دیہات اور علاقے صفحہ ہستی سے مٹ جانے کے قریب ہیں ۔

    مزید پڑھئے: کلبھوشن کیس : پاکستان کے ہاتھوں … بھارت ہوا رسوا …

    گزشتہ رات سے ہی ایل او سی پربھارتی فوج کی جانب سے آزاد کشمیر پر شدید شیلنگ اور گولہ باری جاری ہے ۔ جس میں متعدد شہری اور فوجیوں کی شہادتوں کی خبریں مسلسل موصول ہو رہی ہیں جس کا پاک فوج منہ توڑ جواب دے رہی ہے ۔ مگر حکومتی سطح پر ہمارا احتجاج دفتر خارجہ میں بھارتی ڈپٹی کونسلرجنرل کو بلا کر جھاڑ پلانے تک ہی محدود ہے ۔ بھارت اپنی جارحیت میں اس حد تک آگے نکل چکا ہے کہ وہ پاکستانیوںاور صحافیوں کے سوشل میڈیا اکاونٹس تک کو بلاک کروا رہا ہے ۔

    گزشتہ تین دن سے بلوچستان اور افغانستان پے در پے دہشتگردی کے واقعات ہور ہے ہیں اس سب کے تانے بانے بھی بھارت سے مل رہے ہیں ۔ مگر ہم سب سلامتی کونسل اجلاس کا جشن منا رہے ہیں ۔ ہم نے سب کو سفارتی فتح اور سوشل میڈیا پر مودی کو ہٹلر بنانے پر لگایا ہوا ہے ۔اگر پچاس پچپن برس بعد ڈیڑھ گھنٹے کا بنا کسی نئی قرار داد بند کمرے کا اجلاس ہی تاریخی کامیابی ہے تو پھر تو پاکستان جیت گیا۔ہم کو ہوش کب آئے گا ؟ بھارت سکون سے جو کشمیر میں کرنا چاہ رہاہے وہ کرتا جا رہا ہے ۔ کشمیری خواتین کے عصمت دری ہو یا کشمیریوں کا ناحق قتل بھارت بڑی بے دردی سے بلاخوف وخطر ہندتوا کا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے ۔

    مزید پڑھیئے: بھارت … ذرا سوچ سمجھ کر …

    ۔ میرا سوال تمام اہل اقتدار سے ہے ۔
    ۔ بھارت ہم پر چڑھ دوڑھا ہے ۔ کیا ان حالات میں جنگ ٹالی جا سکتی ہے ؟
    ۔ کیا حکومت کو کشمیر کاز پر عوام کے جذبات کا اداراک نہیں ؟
    ۔ کب تک ہم یہ کہتے رہیں گے ۔اب بھارت نے کچھ کیا تو چھوڑیں گے نہیں۔
    ۔ افغان ڈیل اور ایف اے ٹی ایف کی وجہ سے کب تک ہم بھارتی جارحیت برداشت کریں گے ؟
    ۔ ہم کیوں کبوتر کی طرح بلی کے سامنے آنکھیں بند کیے بیٹھے ہیں ؟

    ۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ہمیشہ کے طرح اس بار پھر کشمیریوں نے اپنی بے مثال جدوجہد سے دنیا پر یہ ثابت کر دیا ہے کہ ان کا اور انڈیا کا اکٹھے گزارا نہیں۔ اس میں ہمارا کوئی کریڈیٹ نہیں ۔

    مزید پڑھیے : عثمان بزدار کے کارنامے ۔۔۔نوید شیخ

    ۔ آزادی سے اب تک پاکستان کی تمام پالیسی کا پہلا نکتہ کشمیر ہے۔
    ۔ قائد اعظم نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا ۔
    ۔ لیاقت علی خان نے کشمیر ہی کے مسئلے پر بھارت کو مکا دکھایا تھا۔
    ۔ ایوب خان کے زمانے میں بھی منصوبہ بندی ہوئی۔ آپریشن جبرالٹر کامیاب ہوا یا ناکام مگر کچھ کیا تو تھا۔
    ۔ ذوالفقار علی بھٹو نے کہا تھا کشمیر کاز کے لیے ہم ایک ہزار سال تک جنگ لڑیں گے۔
    ۔ جنرل مشرف نے کارگل کے ذریعے کشمیر کی آزادی کی کوشش کی تھی مگر کوشش تو کی تھی۔

    کیا یہ عیاں نہیں ہو چکا کہ کشمیر میں فلسطین طرز پر کام ہو رہا ہے ۔ وقت ہاتھ سے نکلتاجا رہا ہے اور ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں ۔ آخر ہم کب ہوش کے ناخن لیں گے ؟

    . پتہ نہیں ہم کس کی مدد کے انتظار میں ہیں ؟ ہم نے جارحانہ کے بجائے دفاعی حکمت عملی کیوں اپنائی ہوئی ہے ؟

    ۔ کیا اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل سے "لالی پاپ ” ملنے کے فوراً بعد ہمیں ملٹری آپشن پرغور نہیں کرناچاہیے تھا؟

    ۔ کیا دفاعی جنگ پاکستان کے لیے زیادہ نقصان دہ نہیں ہو گی جب یہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے گلی کوچوں میں لڑی جا ئے گی ؟

    آخر ہم کیوں جنگ نہ لڑنے پر بضد ہیں جبکہ جنگ ہم پر مسلط کر دی گئی ہے ۔

    اپنی رائے دینے کے لیے ای میل کریں
    naveedsheikh123@hotmail.com

    یوٹیوب چینل سکرائب کریں

    https://www.youtube.com/c/superteamks

    فیس بک پروفائل

    https://www.facebook.com/sheikh.naveed.9

    ٹویٹر پر فالو کریں

  • مسئلہ کشمیر اور ہم ––– حنظلہ عماد

    مسئلہ کشمیر اور ہم ––– حنظلہ عماد

    کشمیر بانی پاکستان کے الفاظ میں پاکستان کی شہ رگ، اور ہرگز کوئی جذباتی جملہ نہیں بلکہ زمینی حقائق اس کے ناقابل تردید شواھد فراہم کررہے ہیں۔ عرصہ ایک صدی سے بالترتیب ڈوگرہ اورہندو غاصبوں کے خلاف کشمیری نبرد آزما ہیں یعنی تقسیم ہندوسان اور پاکستان بننے سے بھی پہلے، 19 جون 1947 کو ہی ریاست جموں و کشمیر میں الحاق پاکستان کی قراداد پیش ہوکر منظور ہوچکی تھی، بعد ازاں دھوکے بازی سے بھارت سرکار اس پر قابض ہوئی اور پاکستان کے ساتھ تنازعہ بڑھنے پر معاملہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں لے جایا گیا جہاں ابھی تک حل طلب ہے۔ بھارت میں نریندرا مودی کی حکومت نے ریاست جموں کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت قائم رکھنے والے آرٹیکل 370 اور 35 اے کو منسوخ کردیا۔ یوں دنیا کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ گویا اب مسئلہ کشمیر حل ہوگیا اور بھارت نے کشمیر کو مستقل اپنا حصہ بنالیا ہے۔ یہ سراسر بے وقوفی تھی جس کی بھارت ہی میں موجود بہت سے صاحب عقل افراد نے بھی مخالفت کی۔ کشمیر عالمی طور پر تسلیم شدہ تنازعہ ہے اور پاکستان اس کا باقاعدہ فریق ہے اس لیے بھارت تنہا اس کا کوئی فیصلہ نہیں کرسکتا لیکن یہ بات پاکستان میں بہت سے لوگوں کو سمجھانی بہت مشکل ہے۔ یہ فیصلہ سامنے آنے پر پاکستان میں بھی بھانت بھانت کی بولیاں سامنے آنے لگیں۔ ان میں اکثریت اس ملک سے نہایت مخلص تھے۔ ماسوائے چند ایک کے جو صرف یہی راگ الاپتے رہے کہ کشمیر بیچ دیا گیا ہے۔ ہمارے بہت سے صاحب الرائے اور لکھنے والے احباب مضطرب تھے کہ بھارت نے اس قدر بڑاقدم اٹھا لیا ہے لیکن پاکستان کی طرف سے کوئی جوابی کاروائی نہیں کی جارہی ہے۔ جذبہ حب الوطنی اور کشمیریوں سے محبت ان کے خون کھولائےدیتی تھی اور وہ بار بار شکوہ کناں تھے۔ بظاہر ہماری طرف سےایک خاموشی اور رسمی مذمتوں کے سوا کچھ نا تھا۔ کردیں گے، ہوگا، کیا جائیگا، یعنی مسقبل کے صیغے کی گردان تھی جو حکومتی حلقوں کی طرف سے جاری تھی۔ لیکن ماضی میں کچھ تلخ یادوں کی بدولت ان دعووں پر یقین کرنے کو دل نہیں مانتا تھا۔ اس لیے بہت سے ہمارے احباب سوال اٹھانے پر حق بجانب تھے۔ اس پر انہیں الزامات کا بھی نشانہ بنیا گیا جو سراسر بے وقوفی تھی لیکن ایسا بھی نہیں کہ کشمیر پر پاکستان اس دفعہ روایتی مذمت ہی کررہا تھا تاہم یاد رہے کہ اگر اپنی سٹریٹجی فیس بک پر ہی عام کرنی ہے تو پھر دشمن سے تو لڑلیے ہم، البتہ اپنی افواج اور اداروں پر اعتماد ضرور ہے لیکن یہاں تو ابراھیم علیہ السلام جیسے پیغمبر بھی کہہ اٹھے تھے کہ اللہ ایمان تو ہے لیکن آنکھ سے دیکھنا چاہتا ہوں ۔ یہ حال ہمارا ہے کہ اپنے اداروں پر اعتماد ضرور ہے لیکن ہمیں کوئی ایسے آثار بھی تو نظر آئیں کہ کچھ ہورہا ہے۔ اب اگرچہ معمولی لیکن بھر بھی کچھ آثار نظر آنے لگے ہیں کہ پاکستان اس بار معاملے کو سنجیدگی سے لے کر آگے بڑھ رہا ہے۔ 50 سال بعد مسئلہ کشمیر پر سلامتی کونسل کا اجلاس ایک مثبت خبر ہے۔ اگرچہ اس اجلاس سے بہت زیادہ امیدیں وابستہ نہیں ہیں تاہم یہ اس بات کی یقین دہانی ضرور ہے کہ پاکستان عالمی دنیا میں تنہا نہیں ہے۔ لیکن ایک تلخ حقیقت اور بھی کہ مسئلہ کشمیر اس بار بھی ہم دنیا میں نمایاں نہیں کرسکے ہیں بلکہ یہ بھارت ہے جس نے اس قدر بڑا قدم اٹھایا ہے کہ دنیا بولنے پر مجبور ہے۔ پاکستان نے ابھی معمولی سنجیدگی دکھائی ہے اور بھارت سرکارکے ہرکارے نیوکلیائی حملوں کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ حقیقت میں اس وقت مودی سرکار کی اپنے ہی پاؤں پر ماری گئی کلہاڑی کی بدولت بھارت سخت مشکل میں ہے۔ بھارت مخالف عالمی رائے عامہ کی وجہ سے اضطراب میں اضافہ ہورہا ہے لیکن ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا کہ یہ جدید ریاست کا دور ہے اور یہاں میکاؤلی کا فلسفہ ہی چلتا ہے۔ ایک ارب انسانوں کی منڈی سے محض انسانی حقوق کی خاطر کچھ سخت معاملہ کرنے آج کل کا دستور نہیں ہے۔ لہذا پاکستان کو نہایت سنجیدگی اور متانت سے اپنے کارڈ کھیلنے کی ضرورت ہے۔ مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کا شاید یہ آخری موقع ہے۔ لیکن ایک گزارش میری ہم وطن دوستوں سے جو سوشل میڈیا پر لکھتے بھی ہیں کہ ایک دوسرے پر فتوے مت بانٹو اور اختلاف کرنے کا ہنر سیکھ لو، پاکستان کے کردار سے اختلاف یا سوال اٹھائے جاسکتے ہیں اوراس کی وجہ صرف کردار میں کمی ہی نہیں آپ کی معلومات کی کمی بھی ہوسکتا ہے۔ اس کی سب سے بڑی دلیل یہی ہے کہ مسئلہ کشمیر کے اصل فریق کشمیری پاکستان سے ہرگز ناراض نہیں ہے اور آج بھی سبزہلالی پرچم ہی تھام کر کھڑے ہیں۔اس لیے تکمیل پاکستان کی جنگ لڑنے والوں کے پشتیبان بنیں نا کہ آپس میں محاذ آراء ہوں ، اللہ ہمارا حامی ناصر ہو اور جلد کشمیریوں کو آزادی کی نعمت نصیب فرمائے۔ آمین

  • 14 اگست تحریک آزادی سے تحریک کشمیر تک —  محمد عبداللہ اکبر

    14 اگست تحریک آزادی سے تحریک کشمیر تک — محمد عبداللہ اکبر

    چودہ اگست نام سنتے ہی دل دماغ تھم جاتے ہیں اور ذہن چند دہائیاں قبل کے زمانے میں غوطے کھانے لگتا ہے۔
    نسلِ نو سے تعلق ہونے کی بنا پر کچھ جدت کی لہروں سے تھپیڑے کھا کے اس وقت بڑے ٹھنڈے جذبے سینے میں سموئے بیٹھا ہوں اس لیے شائد وہ والا خلوص، وہ جذبے، وہ ہمت کی داستانیں اور وہ جرات کے علمبرداروں کی ترجمانی میرا قلم اس شدت کے ساتھ نہ کر سکے۔
    ہاں بزرگوں سے وہ جذبے ان کی زبانی ضرور سن چکا ہوں۔ مجھے یاد ہے اپنا کچھ سال پرانا چودہ اگست جب چند الڑ سے جوان جو میرے ہی ہم عمر تھے بابا جی کے سامنے سے اپنے چہروں کو ہلال اور ستاروں سے مزین کئے ہوئے سائلنسر اتارے سیٹیاں بجاتے ہوئے گزرے۔
    میری نظریں گزرنے والے ان جوانوں کا تعاقب کرنے میں محو تھیں کہ اپنے پہلو سے انا للہ وانا الیہ راجعون کی آواز سنی۔ ایک لمحے کے لیے مڑ کے بابا جی کی طرف دیکھا تو یہ الفاظ انہی بابا جی کے تھے جنہوں نے تحریک آزادئ پاکستان میں اپنے جگر گوشوں کو آنکھوں کے سامنے ہندوں کے نیزوں پہ لٹکتے اور اپنی بیٹیوں کی دراؤں کو ان کی برچھوں کے ساتھ لہراتے  دیکھا۔
    میں بزرگوں کے اس جملے کا پس منظر بہت اچھے طریقے سے سمجھ گیا تھا پر پھر بھی سوال کر لیا کہ بابا جی آپ شائد کچھ کہنا چاہتے ہیں۔ کہنے لگے بیٹا میں کچھ نہیں کہنا چاہتا لیکن بابا جی کی داڑھی کو تر کرنے والے آنسو مجھے بابا جی کے جذبات اور نکلنے والے الفاظ بہت اچھے انداز سے سمجھا چکے تھے کے بابا جی کیا کہنا چاہتے ہیں۔
    خیر بابا جی نے کہا بیٹا جب قوموں کی نوجوان نسل کو انکی مقصدیت اور نظریے سے دور کر دیا جائے تو ایسے واقعات کا اپنی آنکھوں کے سامنے ہونا کچھ بعید نہیں۔ کہتے پاکستان بنانے میں ہمارا کوئی کمال نہیں، یہ اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے اگر اللہ نے اس نعمت کو ہماری جھولی میں کچھ لے کے اور آپکی جھولی میں بنا کچھ لئے ڈال دیا ہے تو اس کے تقاضے آج کی نسل کے لیے اتنے ہی بڑے ہیں۔
    ان تقاضوں کو پورا کرنا ہے تو بس مقصدیت پاکستان اور نظریہ پاکستان کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔
    تب ہی میں نے ان کے پاس کشمیر میں بننے والی حالیہ چند دنوں کی صورت حال کا تذکرہ کیا تو کہنے لگے کہ بیٹا کشمیری بڑے خالص جذبوں کے ساتھ کھڑے ہیں باقی جو اللہ کو جو منظور ہو گا وہی ہونا ہے۔

    یہ بات تو اٹل ہے کہ ظلم جب حد سے بڑھتا یے تو مٹ جاتا ہے۔ کشمیر میں چلنے والی حالیہ ظلم کی لہر اگرچہ بہت بڑی ہے پر آگے سے کشمیریوں کے جذبے بھی اتنے ہی بڑے ہیں یہی وجہ ہے کہ جنرل راوت نے اپنے ایک انٹرویو میں یہ اعتراف کیا کہ سنگ باز لوگوں سے نمٹنا بندوق سے زیادہ مشکل ہے۔ اور اس نے یہ بات بھی کہی کہ ’’کاش سنگ بازوں کے ہاتھ میں بندوق ہوتی، کاش وہ ہم پر پتھر نہیں گولیاں چلاتے، پھر مجھے مزہ آتا پھر میں وہی کرتا جو میں چاہتا ہوں۔‘‘ اس جملے کو سلیس کرنا ہو تو مطلب یہ ہے کہ ’’کاش سب سنگ باز جنگ باز ہوتے، تو کھیل کا مزہ آجاتا۔‘‘

    یہ گویا کشمیر انتضاضہ کی اخلاقی فتح  ہے جس کافخریہ اعلان خود ایک جنرل کررہا ہے جو ایک ارب پچیس کروڑ آبادی والے ملک کا سپہ سالار  ہے۔
    یہ بات روزِ روشن کی طرح پوری دنیا پر عیاں ہے کہ کشمیر میں بھارتی فوج کی کثیر تعداد موجود ہے۔ جب 313 کے عزائم بلند اود جواں ہوں تو شکست ایک ہزار کی تعداد والے لشکر کے نصیب میں ہی ہوتی ہے۔

    لیکن ظاہر سی بات ہے کہ نہایت غیر متناسب جنگ میں طاقت ور فریق ہی غالب رہتا ہے۔
    لیکن وہ ظلم کر کے نہ ظاہری طور پہ تحریک آزادی کو دبا سکے ہیں اور نہ ہی باطنی طور پر۔ 
    کشمیریوں پر ظلم کے پہاڑ توڑنے کے باوجود بھارت سرکار ان کی تحریک آزادی کو دبانے کے قابل نہیں ہو سکے۔
    انڈیا کا کشمیر میں پچس ہزار نئی فوجی کمک داخل کرنا بھی انڈیا کی کشمیر میں ہار کی ایک بہت بڑی دلیل ہے۔
    اس وقت پاکستان کی عوام سیاسی و عسکری قوت کشمیر کے لیے اپنے عزائم واضح کر چکے ہیں کہ کشمیر ہمارا اٹوٹ انگ ہے۔ اور اس شہ رگ کو پاکستان کسی بھی قیمت پر ضائع کرنے کے موڈ میں نہیں یے اور اسی طرح پاکستان کی کشمیر والے معاملے پہ سفارتی سطح پر کی جانے والی کوششیں بھی قابل ستائش ہیں۔
    کشمیری بھی حالیہ کرفیو اور آرٹیکلز کو ختم کرنے کے باجود کسی قسم کی ڈھیل اور ڈیل کے موڈ میں نہیں۔
    چند گھنٹوں کے لیے ختم کئے جانے والے کرفیو میں کشمیری واضح پیغام دے چکے ہیں کہ

    ایک ہی نعرہ ہے، آزادی کا نعرہ ہے
    ایک ہی مقصد ہے، آزادی مقصد ہے
    آؤ ستم گرو ہُنر آزماتے ہیں
    تم تیر آزماؤ ‛ہم جگر آزماتے ہیں

  • بھارت میں ریڈ الرٹ :  آئی جی آئی ہوائی اڈے کو بم سے اڑانے کی دھمکی

    بھارت میں ریڈ الرٹ : آئی جی آئی ہوائی اڈے کو بم سے اڑانے کی دھمکی

    نئی دہلی : بھارت اپنے یوم آزادی جسے پاکستانی آئندہ سے یوم سیاہ کے طور پر منایا کریں گےاس یوم آزادی سے محض تین دن قبل اندرا گاندھی بین الاقوامی ہوائی اڈے (آئی جی آئی) کو بم سے اڑا دینے کی دھمکی نے پیر کی شب خفیہ ایجنسیوں اور پولس کے ہوش اڑا دیے۔ کئی گھنٹوں کی مشقت کے بعد پولس نے اطلاع دینے والے شخص کو شکنجے میں لے لیا۔ پولس کے ذریعہ پکڑے جانے پر مشتبہ افراد نے اس بات سے ہی انکار کر دیا کہ اس نے ہوئی اڈے کو بم سے اڑا دینے جیسی کوئی اطلاع دہلی پولس کنٹرول روم کو دی۔

    دوسری طرف رات گئے اس واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے آئی جی آئی ہوائی اڈے کے پولس ڈپٹی کمشنر سنجے بھاٹیا نے آئی این ایس خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ ”رات تقریباً ساڑھے آٹھ بجے ہوائی اڈے کے ٹرمینل-2 پر بم رکھے ہونے کی خبر دہلی پولس کنٹرول روم کو ملی تھی۔ خبر دینے والے نے بتایا تھا کہ اندرا گاندھی بین الاقوامی ہوائی اڈے کے ٹرمینل-2 پر بم رکھ دیا گیا ہے۔ اگر بم کو پھٹنے سے روک سکتے ہو تو روک کر دکھاو۔

  • کیا بھارت کشمیر کو آزاد کرکے پاکستان کی بقاء ممکن بنائے گا؟؟؟  محمد عبداللہ

    کیا بھارت کشمیر کو آزاد کرکے پاکستان کی بقاء ممکن بنائے گا؟؟؟ محمد عبداللہ

    بانی پاکستان محمد علی جناح نے کشمیر کو شہ رگ پاکستان کہا تھا یہ کوئی جذباتی بات یا سیاسی بیان نہیں تھا بلکہ اس زیرک انسان کی نگاہ بھانپ چکی تھی کشمیر پاکستان کے لیے کیا حیثیت رکھتا ہے. آپ اگر نقشہ وغیرہ پڑھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں تو آپ دیکھیں گے کہ پاکستان میں آنے والے سبھی دریاؤں کا منبع کشمیر ہی ہے.سوائے ان دو دریا ؤں ستلج(بیاس+بیاس) اور راوی کے جو بھارتی علاقے سے پاکستان میں داخل ہوتے ہیں لیکن سندھ طاس معاہدے کی وجہ سے ان کے پانی پر بھارت کا حق ہے اور بھارت مختلف مقامات پر ان دریاؤں پر ڈیم بنا چکا ہے. اسی لیے سوائے سیلابی کیفیت کے آپ کو وہ دونوں دریا پاکستان میں خشک دکھائی دیتے ہیں.
    جنگ مسئلے کا حل ہے یا نہیں؟؟؟ محمد عبداللہ
    جبکہ چناب جو ہماچل سے نکل کر جموں و کشمیر سے ہوتا ہوں سیالکوٹ میں مرالہ کے مقام پر دریائے توی سے مل کر پاکستان میں پانی لاتا ہے جو پاکستان کے بیشتر حصے کی زرعی ضروریات کو پورا کرتا ہے. ہیڈ مرالہ کے مقام سے اس سے دو نہریں نکلتی ہیں اپر اور لوئر چناب جن میں سے ایک آگے جاکر بمبانوالہ میں دو حصوں میں تقسیم ہوجاتی ہے ان میں سے ایک جس کو بی آربی کہا جاتا ہے وہ لاہور کو بھی پانی پہنچاتی ہے اور راوی کے نیچے سے گزرت ہوئے آگے دیپالپور نہر میں شامل ہوجاتی ہے. راوی اور ستلج دونوں کے خشک ہوجانے کی وجہ سے اس سارے مشرقی پنجاب کے علاقے کو پانی چناب سے نکلنے والی اس نہر سے ہی بہم پہنچایا جاتا ہے.
    ریاست پاکستان کا بیانیہ …. محمد عبداللہ
    اسی طرح دریائے جہلم پیر پنجال کے ویری ناگ چشمے سے نکل کر سری نگر ڈل جھیل سے ہوتا ہوا چکوٹھی کے مقام پر مظفر آباد آزاد کشمیر میں داخل ہوتا ہے جہاں مظفرآباد میں اس میں دریائے نیلم شامل ہوتا ہے، وادی کاغان میں دریائے کنہار ان میں شامل ہوتا ہے جبکہ آزاد کشمیر کے علاقے میرپور، منگلا سے کچھ پیچھے دریائے پونچھ بھی ان کے ساتھ مل جاتا ہے اور یہ منگلا میں مقام پر ڈیم میں گرتے ہیں منگلہ ڈیم پاکستان کی بجلی کی بہت بڑی ضرورت کو پورا کرتا ہے وہاں ڈیم سے دریائے جہلم پنجاب کے علاقے جہلم سے گزر کر آگے بڑھتا ہے اور تریموں کے مقام پر دریائے پنجاب سے مل جاتا ہے اور دونوں دریا آگے بڑھتے ہوئے پنجند کی طرف بڑھتے ہیں.
    سوشل میڈیا پر بھارت کا راج پاکستانی بے یارو مددگار — محمد عبداللہ
    آپ نقشے پر مزید اوپر کی طرف جائیں تو آپ کو دریائے سندھ نظر آتا ہے جو تبت کے علاقے مانسرور سے نکل کر لداخ سے گزرتا ہوا گلگت بلتستان سے پاکستان میں داخل ہوتا ہے اور کے پی کے سے ہوتا ہوا تربیلا کے مقام پر ڈیم میں داخل ہوتا ہے تربیلا ڈیم پاکستان کی بجلی کی ضروریات پوری کرنے میں نمایاں کردار ادا کرتا ہے اسی دریا سے نکلنے والی تھل کینال نے جنوبی پنجاب کے بنجر صحرائی علاقے کو سرسبز اور شاداب بنا دیا ہے . یہاں سے دریائے سندھ آگے پنجاب کے مختلف علاقوں کو سیراب کرتا ہوا آگے بڑھتا ہے اور کوٹ مٹھن کے قریب پنجنند کے مقام پر دریائے چناب و جہلم اور دریائے ستلج و راوی دریائے سندھ میں گرتے ہیں اور یہاں سے آگے یہ دریا سندھ کے مختلف علاقوں سے گزرتا ہوا زرعی اور پینے کے پانی کی ضروریات کو پورا کرتا ہوا ٹھٹھہ کے مقام پر بحیرہ عرب میں گرتا ہے.
    کیا اس لیے تقدیر نے چنوائے تھے تنکے ….. محمد عبداللہ
    دریاؤں کی اس ساری بحث کا ماحاصل یہ ہے کہ سندھ طاس معاہدے کی بدولت بھارت آپ کے دریاؤں بیاس، ستلج، راوی کے پانی کو پہلے ہی ہڑپ کرچکا ہے صرف کشمیر سے آنے والے دریا باقی تھے جو پاکستان میں پانی لا رہے تھے لیکن کشمیر کے مکمل طور بھارت میں چلے جانے کے بعد آپ مکمل طور پر بھارت کے مختاج اور زیر اثر ہوجائیں گے کیونکہ پانی ہی زندگی ہے آپ کا زرعی ملک ہے جس کی ستر فیصد معیشت کا انحصار زراعت پر ہے تو آپ کی زمینیں بنجر ہوجائیں گی اور آپ کی بوند بوند کو ترسیں گے لیکن آپ کو پینے کے لیے بھی پانی نہیں ملے گا. (ہم نے کچھ عرصہ سندھ کیں گزارا ہے ہم جانتے ہیں ٹیل میں رہنے والے لوگ پانی کے لیے کتنا ترستے ہیں اور بعض اوقات پینے کے پانی کی بھی قلت ہوجاتی ہے.)
    بلوچستان بھی پاکستان ہے… محمد عبداللہ
    اگرچہ بھارت نے ان دریاؤں پر جن کے پانی پر پاکستان کا حق ہے ان پر بھی مقبوضہ کشمیر کیں چونسٹھ کے قریب چھوٹے بڑے ڈیم تعمیر کرلیے ہوئے اور مزید یہ کہ ٹنلز کے ذریعے ان دریاؤں کا پانی چوری کرکے دور دراز راجستھان میں لے جاکر ا کو سیراب کر رہا ہے. کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم ہونے کے بعد اس سارے پانی اور دریاؤں پر مکمل طور پر بھارت کا کنٹرول ہوگا اور وہ جب چاہے جیسے چاہے اس کو استعمال کرے گا. جب ضرورت ہوگی تو پانی روک لیا جائے گا اور جب بارشوں اور سیلاب کا سیزن ہوگا تو بھارت پاکستان میں ضرورت سے زیادہ پانی بھیج کر آپ کو تباہ و برباد کرے گا جس کا وہ ماضی میں تجربہ بھی کرچکا ہے جس کو دنیا بھر کے ماہرین واٹر بم کا نام دے رہے ہیں.
    بھارت کو کتے نے نہیں کاٹا کہ وہ آپ کو محض ٹرینیں اور بسیں روک دینے سے کشمیر دے کر کشمیر آزاد کردے اور آپ کو آزادی سے زندگی گزارنے کا موقع دے دے. جو لوگ اس خوش فہمی میں ہیں کہ فقط سیاسی اور سفارتی حربوں سے کشمیر مل جائے گا تو وہ لوگ بہت بڑی بھول میں ہیں اک کشمیر کی وجہ سے بھارت پاکستان کو مکمل طور کنٹرول کرسکتا ہے جبکہ اسی کشمیر کی ہی وجہ سے بھارت امریکہ کے ساتھ مل کر نہ صرف چین کو ڈسٹرب کرسکتے ہیں کہ بلکہ گیمر چینجر پلان سی پیک کی گیم بھی الٹائی جاسکتی ہے.یہ وہ مرحلہ ہوگا جس پر پاکستان کے لیے سارے راستے مسدود ہوجائیں گے.
    اس لیے پاکستان کو چاہیے کہ وہ کشمیر کے مسئلہ پر سنجیدہ ہوجائے. جلد یا بدیر آپ کو کشمیر کی صورت میں پاکستان کی بقاء کے لیے بھارت سے دو دو ہاتھ کرنا پڑیں گے، کوئی فیصلہ کن قدم اٹھانا پڑے گا وہ آپ آج اٹھاتے ہیں یا سب کچھ گنوا کر اٹھاتے ہیں فیصلہ
    آپ کے ہاتھ میں ہے.

    Muhammad Abdullah

  • کشمیر پر عملی قدم اٹھانے کا وقت آگیا… حنظلہ طیب

    کشمیر پر عملی قدم اٹھانے کا وقت آگیا… حنظلہ طیب

    کشمیر میں تو چلو مان لیا کہ لوگوں سے بولنے کا حق چھینا جا چکا ہے مگر یہاں پاکستان کے عوام کی خاموشی سمجھ سے بالاتر ہے۔ حقیقی معنوں میں مشرقی پاکستان ٹوٹنے کے بعد اب تک کا سب سے بڑا سانحہ رونما ہو چکا ہے لیکن بے خبر ہے۔ اور جب تک قوم کو خبر ہو گی قیامت سر سے گزر چکی ہو گی۔ پاکستان کے لوگ اس بات سے بھی واقف نہیں کہ مقبوضہ کشمیر کے ساتھ اصل میں ظلم کیا ہوا ہے اور کشمیر کے معاملے پر پاکستان کو کتنی بڑی شکست ہو چکی ہے۔ عملی طور پر مقبوضہ کشمیر اس وقت پاکستان کے ہاتھوں سے نکل چکا ہے البتہ عوام بے خبر ہیں یا انہیں جان بوجھ کے بے خبر رکھا جا رہا۔
    مقبوضہ کشمیر کے غیر قانونی اشتراک کے معاملے میں ہماری حکومت کی جانب سے روایتی مذمت اور قراردادیں ہی پیش کی جا رہی ہیں۔ پاکستانی عوام کو بہلانے کےلیے یہ بھی کہا جارہا ہے کہ پاکستان بھارت کے اس غیر قانونی اشتراک کو مسترد کرتا ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستان کے مسترد کرنے سے واقعی اب مقبوضہ کشمیر کو کوئی مدد مل سکتی ہے؟ اس کا جواب افسوس ناک طور پر "نہیں ” ہے۔
    بھارت آرٹیکل پینتیس اے اور آرٹیکل تین سو ستر ختم کر چکا ہے۔ بھارتی آئین کی یہ دو شقیں دراصل مقبوضہ کشمیر کے عوام کےلیے دو ایسی حفاظتی دیواریں تھیں جن کے گرنے کے بعد کشمیری بالکل فلسطین کے عوام کی طرح اپنی زمینوں سے بے دخل ہو جائیں گے۔ بھارتی آئین کی ان دونوں شقوں کے خاتمے کے نتیجے میں جو تبدیلیاں مقبوضہ کشمیر میں آئیں گی کچھ اس طرح ہیں۔
    1 کشمیر کا انفرادی آئین ختم ہو چکا ہے۔
    2 وہاں ہندو آبادکاری جو پہلے ممکن نہیں تھی اب ممکن ہو جائے گی۔
    3 وہاں کی زمینیں جو غیر کشمیری لوگ نہیں خرید سکتے تھے اب خرید سکیں گے۔
    4. وہاں پہ ہندو سرمایہ کاری جو پہلے ممکن نہیں تھی اب ہو سکتی ہے۔ یعنی ہندو کشمیری زمینیں خرید کر وہاں آباد ہوں گے اور رفتہ رفتہ ہندو تعداد میں کشمیریوں سے زیادہ ہو جائیں گے۔
    5 مقبوضہ کشمیر کی خصوصی اہمیت ختم ہو چکی ہے۔
    6مقبوضہ کشمیر براہِ راست دلی کی ماتحتی میں چلا گیا ہے۔
    7. پہلے وہاں بھارت کا کوئی قانون آئینی طور پر نہیں چل سکتا تھا اب سارے چلیں گے۔
    8 مقبوضہ کشمیر کی انفرادی ثقافت ختم ہو جائے گی۔
    9 لداخ الگ ہو جائے گا۔
    10 مقبوضہ کشمیر کی اسمبلی ختم ہو جائے گی۔
    11 مقبوضہ کشمیر کا اپنا کوئی صدر اور وزیرِ اعظم نہیں ہو گا بلکہ ایک لیفٹینٹ گورنر بھارتی پارلیمنٹ کی نگرانی میں پورا مقبوضہ کشمیر کنٹرول کرے گا
    12 کشمیر کا الگ پرچم نہیں ہو گا بلکہ وہاں پہ ترنگا لہرائے گا۔
    13 کشمیر میں مالیاتی ایمرجنسی نافذ نہیں ہو سکتی تھی صدرِ ہندوستان کے حکم کے باوجود بھی۔ اب ہو گی۔
    یعنی یہ سارے اقدامات وہ ہیں جن کے بعد مقبوضہ کشمیر سے وہاں کے عوام کا کنٹرول اور عمل داری مکمل طور پر ختم ہو جائے گی۔ جب یہودیوں نے فلسطین کے چھوٹے سے علاقے پہ قبضہ کر کے اسرائیل کی بنیاد رکھی تھی تو انہوں نے بھی یہی کیا تھا۔ آج پورے فلسطین کو یہودی آباد کاروں کےزریعے اسرائیل میں تبدیل کیا جا چکا ہے۔ اور فلسطینیوں کو اردن اور دیگر علاقوں میں ملک بدر کر دیا گیا ہے۔ بھارت اب بہت بڑی تعداد میں وہاں پہ ہندؤں کو آباد کرے گا۔ اور پھر ایک وقت میں ہندؤں کی تعداد مقبوضہ کشمیر میں اتنی زیادہ ہو جائے گی کہ وہاں پہ کشمیری مسلمان کم اور بھارتی ہندو زیادہ ہو جائیں گے۔ وہاں کی مسلمان آبادی کو برما کے مسلمانوں کی طرح شدید ظلم و تشدد کا نشانہ بنا کر انہیں مقبوضہ کشمیر چھوڑنے پہ مجبور کر دیا جائے گا۔ اور اس طرح لاکھوں کشمیریوں کو آزاد کشمیر دھکیل کر مقبوضہ کشمیر سے ان کا نام و نشان مٹا دیا جائے گا۔ پاکستانی حکومت اس سارے وقت میں مذمت پہ مذمت کر رہی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ بھارت کو ان مذمتوں سے کوئی نقصان نہیں ہو رہا اور نا ہی کشمیریوں کو کوئی فائدہ ہو رہا ہے۔ عملی معنوں میں کشمیر پاکستان کے ہاتھ سے نکل چکا ہے۔
    اس واقعہ سے قبل حکومت اور تمام متعلقہ حکام نے جس بے حسی اور غفلت کا مظاہرہ کیا ہے اس پہ جتنا افسوس کیا جائے وہ کم ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ بھارت جب اس سارے عمل کی منصوبہ بندی کر رہا تھا اقوامِ متحدہ میں جا کر شور مچا دیا جاتا۔ اب بھی تو اقوامِ متحدہ میں جا کر شور مچا رہے ہیں تو پہلے یہ کام کیوں نہیں کیا گیا؟ اس سستی اور لاپرواہی کی وجہ سے آج کشمیر جا چکا ہے ، اگر اس سستی اور غفلت کا ازالہ نہ ہوا تو یہ قوم اور کشمیر کے لاکھوں عوام زمہ داروں کو تاقیامت معاف نہیں کریں گے۔اب مذمت اور قراردادوں کا نہیں بلکہ عملی قدم اٹھانے کا وقت ہے۔ قوم آپ کے عملی قدم کی منتظر ہے۔

    Hanzla Tayyab
  • مقبوضہ کشمیر  کتنے سال بعد پاکستان کو ملے گا؟؟؟  سنگین علی زادہ

    مقبوضہ کشمیر کتنے سال بعد پاکستان کو ملے گا؟؟؟ سنگین علی زادہ

    ۔
    بھارتی ھائی کمشنر آج بھارت چلا گیا اور عام طور پر دو ممالک نے جب جنگ کرنی ہو تو اپنے اپنے سفیر واپس بلا لیتے ہیں۔ لیکن پاک بھارت کے درمیان ابھی جنگ نہیں ہو گی بلکہ بھارتی ہائی کمشنر چھ ماہ بعد پاکستان واپس آ جائے گا۔ اس لیے کہ ریاست اپنی معیشت بہتر کرنے پہ توجہ ” فوکس "کر رہی ہے اور جنگوں سے معیشت تباہ ہوتی ہے اگر آپ کمزور ملک ہوں ۔ معاشی طور پر پاکستان وہاں کھڑا ہے کہ کھانستے ہوئے بھی احتیاط سے کام لینا پڑتا ہے۔ کرپشن حکمران کرتے رہے اور سزا کشمیریوں کو ملی ۔ بھارت نے انتہائی سوچ سمجھ کر اور پاکستانی کی معاشی کیفیت کو سامنے رکھ کر یہ حرکت کی۔ ہماری معیشت واقعی اس قابل نہیں ہے کہ کسی طویل جنگ کا بوجھ سہار سکے۔
    پاکستان سے ایمان کی حد تک محبت کرنے والے کسی ماہرِ معیشت سے پوچھ لیجئے وہ یہی کہے گا کہ پاکستان کے معاشی ڈھانچے کا انجر پنجر اتنا ڈھیلا ہے کہ اگر اس پہ تیس روزہ جنگ کا بوجھ ڈال دیا جائے تو پینتیسویں روز اس کی ہڈیاں چٹخ جائیں گی۔ خود چین بھی پاک بھارت جنگ نہیں چاہتا اس لیے کہ چین کو کشمیر سے زیادہ اپنی سرمایہ کاری پیاری ہے۔ چین تاجرانہ زہنیت کا حامل ملک ہے۔ جہاں ایک روپیہ لگائے وہاں سے دس روپے آمدن کی توقع رکھتا ہے اور ایک جنگ زدہ ملک چین کو ایسی آمدن نہیں دے سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ اب تک چین نیوٹرل ہے اور جو بیان جاری کیا ہے اس میں بھی پاکستان اور بھارت کو امن اور گفتگو کے زریعے اپنا مسئلہ حل کرنے پہ زور دیا۔ ایسی دوستی جو ہمالیہ سے بلند، سمندر سے گہری اور شہد سے میٹھی ہو وہ اگر امن پہ اصرار کرے تو پاکستان کیا کرے گا؟ جنگ تو ہر گز نہیں۔
    زیادہ ملامت کا مستحق ہمارا میڈیا ہے جس نے چین کے بیان کو تروڑ مروڑ کے پیش کیا۔ چین نے لداخ پہ بھارت کے فیصلے کو ناقابلِ قبول کہا ہمارے میڈیا نے اسے کشمیر سے جوڑ دیا۔ یہ وقت گزاری کے حربے ہیں تا کہ عوام کو ٹھنڈا کیا جا سکے۔ جیسے جیسے وقت گزرتا ہےپرانے زخم بھر جاتے ہیں۔ لہٰذا وقت گزارا جا رہا ہے اس اچھل کود کے زریعے تا کہ عوام ٹھنڈے ہو جائیں ۔ وقت گزاری کےلیے امریکہ، اقوامِ متحدہ، او آئی سی سے بیانات جاری کروائے جا رہے ہیں، وہی بیانات جو پچھلے ستر سال سے سن کے ہم خوش ہو تے رہے۔ وقت گزاری کے حربے کا اندازہ اس سے لگا لیں کہ اب تک حکومت نے عوام کو کشمیر پہ اعتماد میں نہیں لیا۔ وزیرِ اعظم یا کسی بھی زمہ دارحکومتی نمائندے نے عوام سے کوئی وعدہ نہیں کیا کہ کشمیر کو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں والی حیثیت پہ دوبارہ لائیں گے۔ کیا حکومت نے عوام کو کوئی لائحہ عمل دیا ہے کہ کشمیر واپس لینے کےلیے اگر سفارتی کوشش ناکام ہوئی تو ہم جنگ کریں گے؟
    کچھ لوگ کہتے ہیں کشمیر میں مجاہدین بھیج دیں تو آزاد ہو سکتا ہے۔ ہم مجاہدین بھیج دیتے ہیں ،پھر؟؟ ہمارے بھیجے گئے مجاہدین وادی میں کتنے ہندو فوجی قتل کر لیں گے؟ پانچ ہزار؟ دس ہزار؟ بیس ہزار؟ پچاس ہزار؟ یعنی کتنے؟ میں واضح کر دوں کہ انیس سالہ طویل جنگ میں ٹی ٹی پی نے ہمارے دس ہزار جوان شہید کیے یعنی گوریلا جنگ کا یہی محاصل ہوتا ہے۔ افغان طالبان کو انیس سال لگے گوریلا جنگ میں امریکہ کو ملک سے باہر نکالنے کےلیے۔ آپ ایف اے ٹی ایف کو سامنے رکھ کےسوچیں کیا پاکستان انیس سال تک کشمیر میں مجاہد بھیج سکتا ہے؟ وہ بھی اس صورت میں جب چین پاکستان اور بھارت کے درمیان امن دیکھنا چاہتا ہو اور ایف اے ٹی ایف کی تلور سر پہ لٹک رہی ہو ؟کشمیر کی واپسی کےلیے اب بیس سے تیس سال انتظار کریں۔ خوش قسمتی سے اگر کوئی اچھی حکومت آ گئی جو پاکستان کی معیشت کو مضبوط کرے، عالمی سطح پر پاکستان کی اتنی عزت بڑھا دے کہ ہماری رائے کی اہمیت ہو، اور ہم معاشی طور پر ہم اتنے مضبوط ہوں کہ عالمی پابندیوں کی ہمیں کوئی فکر باقی نہ رہے تو کشمیر بیس سے تیس برس بعد ہمیں واپس مل جائے گا۔
    بالاکوٹ پہ بھارتی حملے کے بعد آپ نے فورا جواب دیا تھا اس لیے کہ زندگی اور موت کا مسئلہ تھا۔ اگر بھارت کو جواب نہ دیا جاتا تو بھارت ہر چھ ماہ بعد کشمیر میں حملہ کروا کے پاکستان پہ حملے کرتا۔ جہاں بقاء کا مسئلہ ہو وہاں ہم ایٹم بم بھی استعمال کر سکتے ہیں اور کریں گے بھی۔ اور یہ سب جانتے ہیں کہ اب کشمیر ہماری بقا یا زندگی موت کا مسئلہ نہیں ہے۔ اگر بقا کا مسئلہ ہوتا تو پاکستانی وزیرِ اعظم اسمبلی میں سوالات کے جواب میں چار دفعہ یہ نا کہتے کہ "تو اور کیا بھارت پہ حملہ کر دوں” ۔میں یاد کروانا چاہتا ہوں کہ فضل الرحمان نے ایک دفعہ یہ جملہ بولا تھا بس اور پاکستانی قوم نے اس کی مت مار دی تھی۔ یہ جملہ ہماری اسمبلی میں چار دفعہ بولا گیا ہے اب۔ اس لیے مان لیں کہ کشمیر اب پاکستان کےلیے زندگی موت کا مسئلہ نہیں ہے۔ اگر کشمیر ہماری بقاء کا مسئلہ ہوتا تو اتنے آرام سے بھارت کشمیر میں ہندو بستیاں بسانے کے منصوبے پہ عمل نا کر پاتا۔

  • آرٹیکل 370 اور مسئلہ جموں و کشمیر ۔۔۔ تحریر: حافظ معظم

    جنگی جنون میں مبتلا مودی حکومت نے خطے کے امن کو ایک بار پھر داؤ پر لگا دیا ہے، بھارتی حکومت نے صدارتی آرڈیننس کے مقبوضہ کشمیر کی الگ خصوصی حیثیت کا حامل آرٹیکل 370 اور 35 اے ختم کرتے ہوئے ریاست جموں و کشمیر کو 2 حصوں میں تقسیم کر دیا ہے، اس قانون کے تحت مقبوضہ کشمیر اور لداخ آج سے بھارتی یونین کا حصہ تصور کیا جائے گا، آرٹیکل 370 اور 35 اے کی منسوخی سے مقبوضہ جموں و کشمیر کی آبادیاتی، جغرافیائی اور مذہبی صورتحال یکسر تبدیل ہوجائے گی، مقبوضہ کشمیر کی مسلم اکثریتی حیثیت ختم ہوجائے گی اور وہاں غیر مسلموں اور غیر کشمیریوں کو بسایا جائے گا. دراصل بھارتی حکومت مقبوضہ کشمیر میں اسرائیلی طرز کے ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے، آرٹیکل 370 ختم ہونے سے فلسطینیوں کی طرح کشمیری بھی بے گھر ہوجائیں گے، کیونکہ کروڑوں کی تعداد میں غیر مسلم کشمیر میں آ کر آباد ہوجائیں گے، غیر مسلم آبادکار کشمیریوں کی زمینوں، وسائل اور روزگار پر قابض ہوجائیں گے اور یوں مسلم اکثریتی تناسب اقلیتی تناسب میں تبدیل ہو کر رہ جائے گا.

    آرٹیکل 35 اے کی رو سے

    کوئی شخص صرف اسی صورت میں جموں کشمیر کا شہری مانا جا سکتا تھا اگر وہ یہاں پیدا ہوا ہوتا

    کسی بھی دوسری ریاست کا شہری جموں و کشمیر میں کوئی جائیداد نہیں خرید سکتا تھا
    کسی بھی دوسری ریاست کا شہری جموں و کشمیر میں مستقل شہریت حاصل نہیں کر سکتا تھا
    کسی بھی دوسری ریاست کا شہری جموں و کشمیر میں ملازمت کا حقدار تسلیم نہیں کیا جاتا تھا
    دراصل آرٹیکل 35 اے جموں و کشمیر کے عوام کی مستقل شہریت کی ضمانت تھا، بھارت نے اسے منسوخ کر کے جموں و کشمیر کی خصوصی ریاست کے درجے کو ختم کر دیا ہے، آرٹیکل 370 کی وجہ سے صرف تین ہی معاملات بھارت کی مرکزی حکومت کے کنٹرول میں آتے تھے.
    جن میں
    سیکیورٹی
    خارجہ امور
    کرنسی شامل ہیں،

    آرٹیکل 370 کے تحت ان اختیارات کے علاوہ باقی تمام اختیارات جموں و کشمیر حکومت کے کنٹرول میں تھے. اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق جموں و کشمیر ایک متنازعہ علاقہ ہے بھارت آرٹیکل 370 کی منسوخی کے زریعے کشمیریوں کے جداگانہ تشخص کو ختم کر کے اس متنازعہ علاقے میں غیر کشمیریوں کو لا کر بسانا چاہتا ہے تاکہ وہ جموں و کشمیر میں مسلم آبادی کا تناسب تبدیل کر سکے.
    جہاں ایک طرف آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد بھارت اس علاقے میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے جا رہا ہے وہیں دوسری طرف اقوام متحدہ کی جموں و کشمیر کے حوالے سے قراردادیں اپنی رہی سہی اہمیت بھی گنوا چکی ہیں جن کے مطابق جموں کشمیر کو ایک متنازعہ علاقہ قرار دیا گیا تھا اور بھارت نے یو این میں وعدہ کیا تھا کہ وہ کشمیریوں کو حق خودارادیت دے گا لیکن افسوس یہ قراردادیں صرف فائلوں کی حد تک ہی محدود رہیں.
    قائد اعظم کے فرمان کے مطابق "کشمیر پاکستان کی شاہ رگ ہے” آج بھارت عالمی قوانین کی دھجیاں بکھیرتا ہوا جموں و کشمیر پر اپنے غاصبانہ قبضے کو قانونی حیثیت دینے جا رہا ہے ایسے وقت میں حکومت پاکستان کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ کشمیر کاز کو بچانے کے لیے ہر ممکن حربہ استعمال کرے، امریکہ سمیت عالمی دنیا سے کسی اچھے کی امید رکھنا احمقانہ سوچ ہو گی، ہمیں کشمیر کاز کو بچانے کے لیے جو بھی کرنا ہو گا خود کرنا ہو گا، کشمیری گزشتہ 7 دہائیوں سے پاکستان کی بقاء کی جنگ لڑ رہے، وہ اپنا سب کچھ پاکستان پر قربان کر چکے ہیں آج ہمارا بھی فرض بنتا ہے کہ ہم زبانی دعووں کی بجائے عملی اقدام اٹھائیں اور مسئلہ کشمیر کو کشمیریوں کی امنگوں کے عین مطابق حل کروانے کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کریں.