Baaghi TV

Tag: بھارت

  • جنت نظیر۔۔۔کشمیر۔۔۔۔ایک سلگتا ہوا مسئلہ ۔۔۔!!!!! جویریہ چوہدری

    جنت نظیر۔۔۔کشمیر۔۔۔۔ایک سلگتا ہوا مسئلہ ۔۔۔!!!!! جویریہ چوہدری

    آزادی۔۔۔۔
    اس ایک لفظ کے لیے انسان کتنا پر جوش ہو جاتا ہے۔۔۔کہ وہ اپنی جان سے بے پرواہ ہو کر اس سفر کی صعوبتوں کو برداشت کرنے کا جذبہ بیدار اور بڑھا لیتا ہے۔۔۔
    وطن عزیز پاکستان کے ماہ آذادی کی آمد کے ساتھ تو اس انمول چیز۔۔۔”آزادی”کی اہمیت کا اندازہ اور بھی بخوبی ہونے لگتا ہے۔۔۔
    وہ نا قابل فراموش قربانیوں کی خونچکاں داستان۔۔۔جھنجوڑ اور تڑپا کر رکھ دیتی ہے۔۔۔
    جان سے زیادہ خرچہ آیا۔۔۔۔
    گھر اپنے تب نام لگا ہے۔۔۔۔
    کیونکہ منزل کے حصول کے لیئے پہلے ایک حوصلہ جاگنا ہوتا ہے۔۔۔پھر اس راہ پر گامزن رہنے اور بھاگنے کی صلاحیت از خود جنم لیتی ہے۔۔۔۔
    جو ناممکن کام کو ممکن میں بدل دیتی ہے۔۔۔۔پاکستان کا وجود اس کی ایک زندہ مثال ہے۔

    کشمیر کے عوام بھی ستر سال سے جذبہ آذادی سے سرشار اس راہ پر گامزن اور قربانیوں کی انمٹ داستان خون جگر سے تحریر کرتے جا رہے ہیں۔۔۔
    سفاک و جابر قابضین کی طرف سے ہر ظلم کے وار اور حربے کا سامنا کر رہے ہیں۔۔۔مگر ان کے جذبے میں دراڑ نظر نہیں آئی۔۔۔
    کشمیری قیادت کے لہجوں کی مضبوطی رگوں میں ہلچل مچا دیتی ہے۔۔۔اور بے خبر انسان بھی تڑپ اٹھتا ہے۔۔۔!!!
    کشمیریوں کے قتل عام اور نسل کُشی کی کوششیں کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔۔۔
    اور جس بے دردی سے ان کے خون کو وادی کے سبزہ زاروں پر بہایا جا رہا ہے۔۔۔اس نے عالمی ضمیر کو جھنجوڑ ضرور دیا ہے۔۔۔مگر خالصتاً انسانی بنیادوں پر اس مسئلے کا حل یو این او کی قراردادوں کی شکل میں موجود ہونے کے باوجود دنیا اس قدر بے حس کیوں ہو گئی ہے کہ ان مظلوم مسلمانوں کو مرنے کے لیئے تنہا چھوڑ دیا گیا ہے۔۔۔
    بھارت کی طرف سے اب کشمیریوں کے محاصرے اور انسانی حقوق کی پامالی کس سے پوشیدہ رہ گئی ہے۔۔۔؟؟؟
    روزانہ کی بنیاد پر درجنوں نوجوانوں کو شہید کرنے کی روایت کس کے ساتھ کھلا ظلم اور نسل کُشی ہے۔۔۔؟؟؟
    پاکستان نے ہر فورم پر کشمیر کے بارے میں اپنے موقف کو بھر پور واضح کرنے کی کوشش کی ہے۔۔۔۔
    کیونکہ جنوبی ایشیاء کے استحکام اور امن کا راستہ صرف کشمیر سے ہو کر گزرتا ہے۔۔۔
    اگر یہ خطہ پر امن نہیں ہوتا تو آگ کی چنگاریاں سلگتی رہیں گی اور اس علاقے کا امن داؤ پر لگا رہے گا۔۔۔
    یہ دنیا انسانوں کی ہے اور اکیسویں صدی کی جدید دنیا میں انسانوں کے قتل کا کوئی جواز نہیں بنتا۔۔۔بلکہ باہم بات چیت اور حقائق کی رو سے ہی مسائل کا حل نکالا جانا اربوں انسانوں کی زندگیوں کے لیئے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔۔۔
    اس اہم مسئلے نے دو ایٹمی قوتوں کو آمنے سامنے کر رکھا ہے۔۔۔اور بد قسمتی یہ ہے کہ انڈیا جیسا جمہوری ملک کبھی بات چیت پر سنجیدگی سے آمادہ ہوتا نظر نہیں آیا۔۔۔
    جنگیں کبھی مسائل کا حل نہیں ہیں۔۔۔۔اگر دنیا یہ مانتی ہے تو پھر عمل کیوں نہیں کرتی۔۔۔؟؟؟؟
    اٹھارہ سالہ افغان جنگ کا حل بھی آج مذاکرات میں ہی نہیں ڈھونڈا جا رہا۔۔۔۔؟؟؟
    لیکن لاکھوں انسانی جانوں کے ضیاع نے کس کا فائدہ کیا۔۔۔؟؟؟
    یہی وجہ ہے کہ آج بھی پاکستان جیسے ذمہ دار ملک کی طرف سے صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔۔۔اور بھارت کو مذموم مقاصد سے باز رہنے کا مخلصانہ مشورہ بھی۔۔۔۔
    اور کشمیریوں کو ان کا حق خود ارادیت دینے پر آمادہ بھی۔۔۔
    لیکن اگر وہ یہ بات اور زبان سمجھنے سے قاصر رہا۔۔۔تو پھر ہماری تاریخ کے انمٹ ابواب اسے سبق سکھانے کے لیئے کافی ہیں۔۔۔!!!
    اور کسی غلطی کی صورت میں نا قابل شکست افواج پاکستان اس کے دانت کھٹے سے کھٹے ترین کرنے کے لئیے ہمہ وقت بیدار و تیار ہیں۔۔۔
    کہ
    کافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسہ
    مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی۔۔۔
    بھارت کی آٹھ لاکھ فوج نہتے کشمیریوں کو نہ جھکا سکی توایمان،اتحاد کے ،تنظیم کے ماٹووالی دنیا کی منظم ترین اور پیشہ ورانہ مہارت کی حامل فوج کے سامنے بھلا کیسے ٹھہر سکے گی۔۔۔۔؟؟؟؟؟؟

    پاکستان کے عوام اپنی پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑے تھے،کھڑے ہیں۔۔۔۔اور کھڑے رہیں گے۔۔۔ ان شآ ء اللّٰہ۔

    لیکن دنیا کا بھلا اسی میں ہو گا کہ سلگتا ہوا مسئلہ کشمیر حل کرنے کے لئیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کر کے کشمیریوں کو آذادی و حق خود ارادیت دینے کا وعدہ وفا کر دیا جائے۔۔۔!!!
    اور امن و ترقی کے خواب کو بکھرنے نہ دیا جائے۔۔۔۔!!!!!!
    ستر سالوں سے بہتا لہو اب جواب مانگ رہا ہے۔۔۔حقوق کی پامالی کا۔۔۔۔انسانی جانوں کے بے دریغ قتل عام کا۔۔۔۔عورتوں اور بچوں کے پژمردہ چہروں پر لکھی حقوق کی خلاف ورزیوں کی داستان کا۔۔۔۔!!!!!
    اور بیدار ہونے کا اس سے آگے بڑھ کر کوئی وقت نہ ہو گا۔۔۔!!!

    اللّٰہ سے دعا ہے کہ دشمن کے چین قرار اُڑے رہیں۔۔۔
    اور اس کے ہر وار بیکار جائیں۔۔۔!!!
    میرے وطن۔۔۔۔چمن۔۔۔”پاکستان” اور اس کے محافظوں کا اللّٰہ حامی و ناصر ہو۔۔۔آمین۔۔۔!!!!!

  • کشمیر لہو کا دریا اور بھارتی پراپیگنڈے ۔۔۔ ام ابیہا صالح جتوئی

    کشمیر لہو کا دریا اور بھارتی پراپیگنڈے ۔۔۔ ام ابیہا صالح جتوئی

    جنت ارضی کا ٹکڑا کشمیر جو پاکستان کی شہہ رگ ہے جس پر بھارتی فوج نے غاصبانہ قبضہ جما رکھا ہے اور کشمیر میں ہونے والا ظلم اور بربریت کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے بھارت کشمیریوں پر مظالم ڈھانے کے نت نئے حربے آزما رہا ہے اور مسلسل کشمیریوں کو ظلم و تشدد کا نشانہ بنا رہا ہے۔
    کشمیری بطور مسلمان اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ ایک انسان کا قتل ساری انسانیت کا قتل ہے اسی وجہ سے کشمیری کسی کے ساتھ لڑائی جھگڑا اور خون خرابہ نہیں چاہتے بلکہ کشمیری امن کے متلاشی ہیں اور امن کے لئے ہی وہ آزادی کی تحریک چلا رہے ہیں۔
    بھارتی غاصب فوج کے کے مظالم سے رہائی چاہتے ہیں ایسا خطہ چاہتے ہیں جس میں وہ امن و امان سے اپنی زندگی بسر کریں ان کے بے گناہ پیاروں کو شہید کردیا جاتا ہے جو ان کے لئے قیامت خیز منظر ہوتا ہے۔
    بھارتی فوج کشمیریوں کا حق خودارادیت چھیننے اور آزادی کی تحریک کو دبانے کے لئے اس خوبصورت وادی کو لہو لہان کر رہا ہے کشمیر میں مظالم کی ایسی ایسی تاریخیں رقم کی گئی ہیں کہ انسانیت کانپ اٹھتی ہے جو چیخ چیخ کر بھارتی فوج کا اصل چہرہ دکھا رہی ہیں
    بھارتی فوج نے کشمیر میں لاتعداد کشمیریوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔
    لاکھوں عورتوں کی عصمت دری کی ان کو اپنی حوس اور درندگی کا نشانہ بنایا معصوم ننھے منے پھول سے بچوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے لیکن ان سے سوال کرنے والا کوئی نہیں….!!!!
    اگر بات کرنی ہو بھارتی فوج کے انسٹیٹیوشن ریپ کرائمز کی تو کنان پور اور شوپیاں کی مثالیں منہ بولتا ثبوت ہیں۔
    اگر بات کرنی ہو بھارتی فوج کی میس کلنگ کی تو یجپور ، ہندوارہ اور سوپور کی مثالیں بھارتی فوج کے مظالم کی منظر کشی کررہی ہیں۔
    کشمیریوں پر اس قدر مظالم ڈھانے کے باوجود بھارت کی نفرت کی آگ ٹھنڈی نہیں ہورہی اور کشمیریوں پر مزید مظالم ڈھانے کے لئے بھارت نے کشمیر میں دس ہزار بھارتی فوجیوں کی کمک جموں خطہ کے ضلع راجوری میں پہنچائی ہے۔
    راجوری میں حریت پسندوں کا مقامی نیٹ ورک نہ ہونے کے برابر ہے پھر اتنی بڑی تعداد میں بھارتی فوجیوں کی تعیناتی کیوں کی گئی ہے….؟؟؟؟؟
    علاوہ ازیں…
    28000 بھارتی پیرا ملٹری کے دستے زبانی حکمنامے پر کشمیر میں پہنچاۓ جارہے ہیں سکولوں میں فوجی کیمپ بناۓ گئے ہیں جس سے کشمیری خوف و ہراس کا شکار ہو رہے ہیں۔

    آج انسانی حقوق کی نام نہاد تنظیمیں کیوں خاموش ہیں…؟؟؟؟
    کیا انکو یہ مظالم نظر نہیں آرہے…؟؟؟؟
    پونچھ کے رہائشی علاقے میں جگہ جگہ فوجی بنکرز کی تعمیر کیوں کی گئی ہے…؟؟؟؟
    ساؤتھ کشمیر کے علاقے ترال میں پیرا ملٹری کی پچاس بڑی گاڑیاں کیوں پہنچائی گئی ہیں…؟؟؟؟

    اور اس کے ساتھ ساتھ پلگام امرناتھ یاترا میں کیمپ راتوں رات یہ کہہ کر خالی کروا لیا گیا ہے کہ ان پر حملہ ہونے والا ہے مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کشمیر میں آج تک غیر ریاستی باشندوں پر حملہ نہیں ہوا وہ کشمیر میں محفوظ تھے لیکن اچانک بھارتی فوج نے ان کو کشمیر چھوڑنے کا کیوں حکم دیا…؟؟؟
    آخر کون ان پر حملہ کرنا چاہتا ہے…؟؟؟
    آج سے پہلے کسی نے حملہ کیوں نہیں کیا…؟؟؟
    بھارتی فوج کی سازشوں سے بہت سے سوالات جنم لیتے ہیں جو بھارتی فوج کی ناچاکیوں کا پردہ چاک کررہے ہیں ..

    حقیقت میں یہ سب بھارتی فوج کا اپنا رچایا کھیل اور پراپیگنڈا ہے بھارت کشمیر پر حملہ کرنا چاہتا ہے اسی لئے امرناتھ یاتراؤں کو ریاست سے نکلنے کا حکم دیا۔

    بھارت نے ایل او سی کے پاس بھی بہت بھاری تعداد میں فوج اور اسلحہ اکٹھا کرلیا ہے مقبوضہ کشمیر اور آزاد کشمیر دونوں طرف مسلمان ہیں اور کسی قسم کے حملے اور اسکی جوابی کارروائی میں مسلمان ہی مارے جائیں گے جو کہ بھارت کا اصل مقصد ہے اور جب جب دنیا میں بے گناہ مسلمان مارا جاتا ہے تو پوری دنیا نیند کی گولیاں کھا کر سو جاتی یا پھر کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرلیتی ہے اور انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی چپ سادھ لیتی ہیں …
    یہ بہت بڑا المیہ ہے کہ انسانی حقوق کی تنظیموں کے نزدیک مسلمان کی جان کی کوئی اہمیت نہیں ہے جو کہ جانوروں کے حقوق کے لئے چیخ اٹھتی ہے لیکن مسلمانوں کی خاطر سکتے میں آجاتی ہے..!!!

    افسوس صد افسوس….!!!!!

    *ذرا آپ ہی اپنی اداؤں پہ غور کریں*
    *ہم عرض کریں گے تو شکایت ہوگی*

    کشمیری عوام کی آزادی کی تحریک میں پختگی اور للکار سے بھارتی فوج بوکھلاہٹ کا شکار ہے جس کے نتیجے میں وہ اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئی ہے کشمیری عوام آزادی کی خاطر بہت سی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکی ہے اب بھارتی فوج کی اضافی تعیناتی ان کے ولولوں کو کم نہیں کرسکتی بھارت کشمیر میں اپنی ہی موت کا سامان اکٹھا کررہا ہے جو اس کے لئے بہت نقصان دہ ہوگا۔
    بطور پاکستانی ہم سب اپنی پاک فوج اور کشمیر کے ساتھ ہیں یہ ظلم کا اندھیرا چھٹ جاۓ گا اور روشن سویرا ضرور ہوگا جو کشمیر کی آزادی کی نوید سناۓ گا۔ ان شاءاللہ عزوجل

  • کیا ملا ہمیں؟؟؟ عشاء نعیم

    کیا ملا ہمیں؟؟؟ عشاء نعیم

    کشمیر میں بھارت نے عرصہ دراز سے ظلم و ستم کا بازار گرم کیا ہوا ہے ۔جو آہستہ آہستہ مزید تیز سے تیز تر ہوتا گیا ۔
    حال ہی میں بھارت نے پہلے اٹھائیس ہزار ‘پھر دس ہزار مزید فوج کو بھیج کر اور کشمیر میں انٹر نیٹ سروس بند کر کے گویا کشمیریوں کو قید کر کے ستم ڈھانے کی ٹھان لی ہے۔ کلسٹر بموں کا استعمال بھی کر رہا ہے ۔دوسری طرف بھارت نے مزید جرات دکھاتے ہوئے اپنے آئین سے آرٹیکل 37 نکال کی کشمیر کی آزادانہ ریاست کی حیثیت ختم کردی پے ۔بھارت اس وقت خوشی کے شادیانے بجا رہا ہے ۔
    یہ ہے بھارت کا سفر کشمیر پہ قبضہ کرنے کے لیے ۔
    دوسری طرف پاکستان کے سفر کا جائزہ لیتے ہیں ۔شروع میں سرکاری طور پہ کشمیر اپنا حصہ مانا گیا آدھا کشمیر آزاد بھی کروایا گیا ۔پھر پاکستان سے بھی فریڈم فائٹر جاتے رہے ۔
    لیکن پھر وطن غداروں بزدلوں کے ہاتھ آ گیا اور واپسی کا سفر شروع ہو گیا ۔
    پہلے پاکستان سے جانے والوں کو دراندازی کرنے والے مان کر ان کو جانے سے روکا گیا ۔
    کشمیر کے حل کے لیے الیکشن کو تسلیم کیا گیا ۔
    پھر پاکستان میں کشمیریوں کے لئے آواز اٹھانے کی آزادی تھی آہستہ آہستہ اسے دبانا شروع کیا اور پھر اس آواز کو ہی پابند کردیا گیا جس کے پیچھے اور آوازیں آتی تھیں ۔
    حافظ سعید جو کشمیریوں کے حق میں اٹھنے والی ایک مضبوط آواز اور جدوجہد تھی ان کی جماعت کو بین اور ان کو گرفتار کرلیا گیا ۔
    اس طرح محبان وطن کو پابند سلاسل کر دیا گیا ۔
    بہت سے ایسے فیصلے تسلیم کر لیے گئے جو کشمیر کے لیے انتہائی نقصان دہ تھے ۔
    یہی وجہ ہے کہ آج بھارت انتہا پہ جا چکا ہے اور پاکستان ابھی بھی شش و پنج میں دکھائی دیتا ہے ۔
    کیا اب پاکستان کشمیر کے لیے صرف قرارد ہی پاس کرے گا یا کوئی عملی قدم بھی اٹھائے گا ؟
    سمجھ نہیں آتا یہ ایٹم بم تو کفار کو ڈرانے کے لیے بنایا تھا مگر انھیں تو یہ ریلیکس رکھے ہوئے ہیں اور ہمیں ہی اس سے ڈرایا جاتا ہے کہ یہ اتنا آسان نہیں ‘ دو ملکوں میں ایٹمی جنگ ہو سکتی ہے وغیرہ ۔
    ارے ہونے دو ایٹمی جنگ ۔
    کیا یہ بم اپنی حفاظت کے لیے نہیں؟
    کیا کشمیر پاکستان کی شہہ رگ نہیں؟
    کیا اس طرح پاکستان کے دیگر حصوں کو بھی جو مرضی اپنا حصہ بنا لے ہم یوں ہی ایٹمی جنگ سے ڈرتے رہیں گے ؟(اللہ نہ کرے)
    کیا ہمارے پاس ایٹم بم نہیں؟
    کیا بھارت کی آبادی اور علاقے بھی ویسے ہی متاثر نہ ہوں گے جیسے ہم ہوں گے ؟
    جب وہ ہندو ہو کر نہیں ڈرتے جو سیدھے جہنم جا ئیں گے تو ہم مسلمان ہو کر کیوں ڈرتے ہیں جو سیدھا جنت جائیں گے ان شا اللہ
    کشمیر ہمارے لیے ایک ضد نہیں ہے بلکہ کشمیر کے بغیر پاکستان ادھورا ہے ۔
    پاکستان کے دریا کشمیر سے نکلتے ہیں ۔
    بھارت پاکستان کو خشک سالی سے مارنے کے لئے یہ سب کر رہا ہے۔
    جب بھارت بے خوف ہے تو ہمیں کس بات کا ڈر ہے ۔
    مارو یا مار دو
    کشمیر ہمارا ہے ۔
    گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے شیر کی ایک دن کی زندگی اچھی ہے ۔
    پوری قوم بھارت کے ساتھ لڑنےاور شہادت کے لئے بھی تیار ہے ۔ہم کشمیر کسی صورت بھارت کو نہیں دے سکتے ۔
    ہمیں کسی چیز سے ڈرا کر بےوقوف نہ بنایا جائے ۔ہمیں کشمیر کی آزادی چاہیے ہمیں آزاد کشمیر دلایا جائے ۔

  • مسئلہ کشمیر اور مہندر سنگھ دھونی ۔۔۔ محمد فہد شیروانی

    مسئلہ کشمیر اور مہندر سنگھ دھونی ۔۔۔ محمد فہد شیروانی

    ہاتھ میں موجود کرکٹ کے بلے کو گن سے تبدیل کرنے والے مہندر سنگھ دھونی نے جولائی 2019 میں انڈین آرمی کو بطور لیفٹیننٹ کرنل جوائن کیا۔ مہندر سنگھ دھونی کی بطور آرمی آفیسر پہلی ڈیوٹی کشمیر میں لگائی گئی۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ جب سے دھونی نے کشمیر میں انڈین آرمی کو جوائن کیا ہے تب سے خطہ کشمیر میں انڈین آرمی کی جارحانہ کاروائیاں روز بروز بڑھتی جا رہی ہیں۔
    مہندر سنگھ دھونی کے علاوہ انڈیا نے کشمیر کی وادی میں 28 ہزار مزید انڈین فوجی تعینات کر دئیے ہیں۔انڈیا نے ائر فورس کو الرٹ کردیا ہے۔ انڈین نیوی کی نقل و حرکت سمندروں میں بڑھا دی گئی ہے۔کشمیر میں لوکل پولیس سے انتظام لے کر انڈین آرمی کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ ہوٹلز، ریسٹورنٹس سمیت دیگر ایسی جگہوں پرانڈین فوج آکر بیٹھ گئی ہے۔ انڈین آرمی کو چار ماہ کا راشن جمع کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ کشمیر میں لوگوں نے خوراک سٹاک کرنی شروع کر دی ہے۔ان کے نیتجے میں آنے والے دنوں میں کشمیر میں خوفناک خونریزی کے امکانات ہیں جس کے اثرات سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔۔انڈین آرمی نے کشمیر میں جاری ظالمانہ کاروائیوں میں بے پناہ اضافہ کردیا ہے۔ حال میں انڈیا کی بزدل فوج نے نہتے کشمیری شہریوں پر خوفناک کلسٹر بموں سے حملہ کیا ہے جس سے شدید جانی اور مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ انڈین فوج نے کشمیر میں موجود تمام غیرملکی سیاحوں کو وہاں سے نکل جانے کا حکم بھی دے دیا ہے جس کے باعث جنت نظیر وادی کشمیر میں موجود سیاح تیزی سے اپنے ممالک واپسی کا رخ کر رہے ہیں۔ ساتھ ساتھ انڈین فوج نے کشمیر میں غیر معینہ مدت کے لئے کرفیو بھی نافذ کردیا ہے جس سے خطے میں اور بالخصوص کشمیری شہریوں میں تشویش کی شدید لہر دوڑ گئی ہے
    مہندر سنگھ دھونی کی کشمیر میں تعیناتی کئی سوالوں کو جنم دے رہی ہے۔ ان کو تعینات کرنے کے بعد انڈین آرمی کی بزدلانہ کاروائیوں میں کیا گیا اضافہ کہیں کوئی پیغام تو نہیں ہے؟ ان کاروائیوں سے انڈیا کے مجرمانہ عزائم کھل کر سامنے آرہے ہیں۔ مہندر سنگھ دھونی کی کشمیر جیسے متنازعہ علاقے میں تعیناتی کہیں اپنے کھلاڑیوں میں تشدد اور شدت پسندی کو اجاگر کرنا تو نہیں ہے؟ مہندر سنگھ دھونی نے اپنی تعیناتی کی بعد کشمیر یوں پر ڈھائے جانے مظالم کے بارے میں اب تک کوئی بیان نہیں دیا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ مہندر سنگھ دھونی مظلوم و معصوم نہتے کشمیریوں پر کی جانے والی ان بزدلانہ ظالمانہ کاروائیوں میں اپنی آرمی کے ساتھ ہے۔
    عالمی سطح پر دنیا اس وقت جن خطرات کا سامنا کر رہی ہے ان میں سب سے بڑا خطرہ امن کو ہے اور بلاشبہ کشمیر کا امن اس وقت سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ تقسیم ہند کے وقت برطانوی سامراج کی جانب سے پیدا کئے گئے اس مسئلے پر انڈیا اور پاکستان کے مابین تین جنگیں ہو چکی ہیں اور موجودہ حالات کے پیش نظر اس وقت پھر جنگ کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔ ایٹمی اور جوہری طاقت رکھنے والی دونوں قوتوں میں اگر خدانخواستہ جنگ ہوگئی تو یہ نہ صرف خطے بلکہ دنیا بھر کے امن کے لئے نقصان دہ ثابت ہوگی۔ جنگی جنون میں مبتلا انڈیا حالات کی نزاکت کو نہ سمجھتے ہوئے نہ صرف کشمیر میں فوج اور مظالم بڑھا رہا ہے بلکہ کھلے عام پاکستان کی سرحدوں کی خلاف ورزی کا مرتکب بھی ہورہا ہے۔ بارڈر لائن ہر بھارت کی اشتعال انگیز فائرنگ اور بمباری سے اب تک نہ صرف درجنوں پاکستانی شہری شہید ہو چکے ہیں بلکہ ہزاروں انڈین فوجی بھی جہنم کی راہ دیکھ چکے ہیں۔
    ایک کروڑ کی آبادی اور 84 ہزار مربع میل پر مشتمل کشمیر پاکستان کے لئے شہ رگ کی حیثیت رکھتا ہے۔ پاکستان کی سرزمین پر بہنے والے تمام دریا کشمیر کی وادی سے ہی نکل کر پاکستان میں داخل ہوتے ہیں۔ کشمیر کے مسلمان پاکستان کے ساتھ الحاق کرنا چاہتے ہیں جس کا مطالبہ کشمیری عوام اور لیڈران بارہا کر چکے ہیں۔ جبکہ انڈیا اپنی اذلی بے حسی اور ڈھٹائی سے کشمیریوں کے حق خودارادیت کو نہ صرف تسلیم کرنے سے انکاری ہے بلکہ یہ مطالبہ کرنے والے کشمیری رہنماؤں کو وقتا فوقتا پابندی اور ظلم کا نشانہ بناتا رہتا ہے۔
    پاکستان کے نام میں موجود "ک” کا حرف کشمیر سے منسوب کیا گیا تھا۔ مذہبی و خونی رشتوں، تجارتی تعلق، آبی و جغرافیائی حیثیت کی بناء پر ہر لحاظ سے کشمیر پاکستان کا حصہ بنتا ہے۔ بدقسمتی سے ریڈ کلف ایوارڈ کے وقت انگریزوں اور ہندوؤں کے باہم گٹھ جوڑ نے کشمیر کو پاکستان سے ملحق کرنے کے بجائے ایک سازش کے تحت اسے متنازعہ بنادیا۔ اقوام متحدہ کی بارہا کوششوں کے باوجود انڈیا کشمیر کا مسئلہ حل کرنے سے ہمیشہ پیچھے ہٹ جاتا ہے۔ امریکہ کے موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس وقت کشمیر کا مسئلہ حل کرنے کے لئے کسی حد تک سیریس دکھائی دے رہے ہیں۔ پاکستان نے امریکی صدر کے مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کی آفر کو نہ صرف قبول کیا ہے بلکہ سراہا بھی ہے جبکہ انڈیا اس سے پیچھے ہٹتا دکھائی دے رہا ہے۔
    کشمیر میں اپنی تعیناتی پر خوش مہندر سنگھ دھونی کشمیریوں کے لئے دکھ اور تکلیف کا باعث بن چکے ہیں کیونکہ ان کی آمد کے بعد سے کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے ۔ انڈیا کے سابق کرکٹ کپتان سے امن اور محبت کے پیام و پیغام کی جو توقع کی جارہی تھی وہ اس کے بالکل برعکس ثابت ہوئے ہیں۔

  • نہ جرمِ ضعیفی اور کرو ۔۔۔ قرأة العين عینیہ شاہین

    نہ جرمِ ضعیفی اور کرو ۔۔۔ قرأة العين عینیہ شاہین

    کشمیر کرہ ارض کا وہ خطہ جو جنت ارضی کہلاتا ہے جو پاکستان کی شہہ رگ ہے۔ شہہ رگ کے بغیر انسان نہیں تو کشمیر کے بغیر پاکستان کا وجود خطرے میں پڑسکتا ہے۔ کشمیری قوم ستر سالوں سے پاکستان کے دفاع کی جنگ لڑ رہی ہے۔ کلمہ طیبہ اور دوقومی نظریہ کی بنیاد پر بننے والے ملک کی شہہ رگ میں بسنے والوں کی تیسری نسل اس جنگ کا سامنا کر رہی ہے۔ انڈیا کے مظالم ساری دنیا پر عیاں ہیں۔ پاکستان کے پرچم کو جائے نماز اور کفن بنانے والی قوم پہ عرصہ حیات تنگ کر دیا گیا ہے۔ پاکستان سے اٹھنے والی کشمیریوں کی آواز پابند سلاسل کر دی گئی اور ادھر کشمیر میں تمام حریت قیادت پس زنداں۔۔۔۔
    اور اس وقت کشمیر میں انڈین فورسز کے مزید دستوں کی تعیناتی، تعلیمی اداروں میں چھٹیوں میں اضافہ کرنا، ایمرجنسی ہسپتالوں کا قیام، کلسٹر بموں کا استعمال، سیاحوں کو فورا کشمیر سے روانہ کرنا اور باقی سب اچانک اقدامات حالات کے کسی اور ہی رخ پہ مڑنے کا عندیہ دے رہے ہیں۔
    بزرگ کشمیری راہنما سید علی گیلانی کا یہ کہنا کہ اگر ہم مارے جائیں تو تمہیں روز قیامت جوابدہ ہونا پڑے گا۔ حریت راہنما یسین ملک کی جیل میں تشویشناک حالت۔۔۔۔ لائن آف کنٹرول پہ انڈین آرمی کی نقل و حرکت۔۔۔۔ یہ سب آخر کیا ہے؟؟
    شہہ رگ میں بسنے والوں کی نسل کشی کےمنصوبے اور ادھر وطن کے اندر سازشیں عروج پہ ہیں۔ کہیں سیاسی چپقلش اور کہیں مذہبی فرقہ واریت کو ہوا دینے کی چالیں، کہیں "جمہوریت کے بھیس میں آمریت ہے” کا راگ الاپ کر اپنے دفاعی اداروں کے خلاف عوام کو بھڑکانے کی چالیں، کہیں حکومت اور عوام کو آمنے سامنے کر کے مہنگائی کا راگ اپنے مذموم مقاصد کے لیے الاپ کر خانہ جنگی کی چالیں، ملکی سالمیت کو خطرے میں ڈالنے کےلیے دفاعی اداروں پہ حملے، فورسز کے جوانوں کی شہادتیں، اور یہ سب ایسے نازک حالات میں جب ملک کے اندر نیشنل ایکشن پلان کے تحت سچے محب الوطن پس زنداں، خادمین انسانیت فلاح و بہبود تک بین اور ملک قدرتی آفات کے گھیرے میں، ایک طرف مون سون بارشیں بے تحاشہ اور دوسری طرف سیلابی خطرات۔۔۔۔
    اے ملت پاکستان!!!!
    یاد رکھنا
    ہاتھ پہ ہاتھ دھرے منتظرفردا رہنے والی قوموں پہ کوئی سیف اللہ، کوئی ابن قاسم، کوئی غزنوی ، کوئی موسی بن نصیر، کوئی طارق بن زیاد نہیں اترا کرتا۔۔۔۔ تاریخ اٹھا کر دیکھ لیجیے قرطبہ و غرناطہ کی تباہی کی داستانیں پڑھیے۔۔۔۔
    اپنے حصے کی جنگ خود لڑنی پڑتی ہے ان حالات میں ہر شخص کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

    کچھ نہی ہوگا اندھیروں کو برا کہنے سے
    اپنے حصے کا دیا خود ہی جلانا ہو گا
    اس ففتھ جنریشن وار کا جو کہ سکستھ جنریشن میں داخل ہو چکی ہے بھرپور توڑ ہمیں مل کر کرنا ہوگا۔

    ہم کیا سمجھتے ہیں یہ آگ ایل او سی کے اس پار ہی رہے گی ۔ادھر نہیں آئے گی۔ بلی کو دیکھ کر اگر کبوتر آنکھیں موند بھی لے تو بھی کیا خطرہ تو بہرحال ہےاور سر پہ ہے۔
    یہ جنگ ایل او سی کے پار کی جنگ نہیں ہے۔ کشمیر کی موجودہ صورتحال ستر سالہ تاریخ میں پہلی دفعہ اک نئے دور میں داخل ہو چکی ہے۔ انڈیا کے یہ اقدامات ان حالات میں جب امریکہ میں پاکستان کی کامیاب سفارتکاری کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دوسری دفعہ ثالثی کی پیشکش کر چکا ہے پاکستان امریکہ اور طالبان کے مذاکرات میں کامیابی کےلیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ سی پیک کی کامیابی سے پاکستان دنیا کو ایک نئی راہ پہ چلانے والا ہے لانگ ٹرم معاشی منصوبہ بندی سے دنیا کو لیڈ کرنے جارہا ہے
    تو یہ کشمیر کی صورتحال صرف وہیں تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ کسی اور ہی بات کا عندیہ ہے۔
    بھارت بوکھلاہٹ کا شکار ہو چکا ہے اور اپنی بزدلانہ حرکتوں سے انتہائی اقدامات کی طرف بڑھ رہا ہے مگر یہ نہیں جانتا کہ
    جو دریا جھوم کے اٹھے ہیں تنکوں سے نہ ٹالے جائیں گے

    ان حالات کو ہرگز نظرانداز نہیں کیا جاسکتا گورنمنٹ اور سکیورٹی اداروں کےساتھ ساتھ ہر شہری کو بھی اپنے طور پہ مکمل تیار رہنا ہوگا۔ پاکستان الحمد اللہ ہارپ ٹیکنالوجی جیسی جدید صلاحیتوں کا حامل ہے اس ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے بارشوں کو کنٹرول کیا جانا چاہیے اور جن علاقوں میں پانی کی کمی ہے وہاں استعمال کیا جانا چاہیے تاکہ سیلاب جیسی صورتحال سے ایمرجنسی بچا جاسکے۔ عوام الناس کو کسی بھی سیاسی یا مذہبی تعصب سے باہر آکر یکجان ہوکر ملکی سالمیت کےلئیے ڈٹ جانا چاہیے مہنگائی اور ٹیکسز کا راگ الاپنے والی موم بتی مافیا کو اس وطن کا حق ادا کر کے دشمن کو منہ توڑ جواب دینا چاہیے۔
    ثمرین اختر اصباح کس بہترین انداز میں نوائے امروز لکھتی ہیں اور اس ملت کو اس کی ذمہ داری ادا کرنے پہ ابھارتی ہیں۔ آئیے آپ بھی جس طرح بھی ممکن ہو سکے اپنی آواز کو اٹھائیے اس ملت کو یکجان کرنے میں اس وطن کے پاسبان بننے میں۔۔۔۔۔۔
    اک جسم کی مانند ہے امت یک قلب سبھی یکجان سبھی

    جب درد میں ہو اک حصہ تو بن جاتے ہیں درمان سبھی

    پر اب وہ اخوت کی باتیں ہیں مجھ کو لگیں انجان سبھی

    کیوں کوئی کسی کا غم بانٹے، ہیں اپنی جگہ شادان سبھی

    ممکن ہے کل یہ سب قصے تجھ پر دہرائے جائیں گے

    یہ چھریاں ، نیزے یہ بھالے، تجھ پر برسائے جائیں گے

    تُو آج نہ جن کے پاس گیا کل تیرے پاس نہ آئیں گے

    مت آنسو دیکھ کے یہ سمجھو تری آنکھ میں یہ نہ آئیں گے

    آ متحد ہوکے سب مسلم کچھ کام کریں کچھ کار کریں

    آ تھام کے تیغِ نبوی ہم پھر اس مرحب پہ وار کریں

    آ دہرائیں آباء کا عمل ، آؤ تو سہی اک بار کریں

    آ پھول بچائیں امت کے، آ کفر پہ ہم یلغار کریں

    آ تھام کے پھر سب تیر و تفنگ سب چلتے ہیں اس اور جہاں

    ناموس ہماری تن تنہا سولی پہ لٹکتی ہے بے جاں

    جلتے ہوئے جسموں کی تم کو رلاتی نہیں کیا آہ و فغاں

    ہم مسلم ہیں اور مسلم کو جچتی ہی نہیں خاموش زباں

    پھر یاد دلاؤ دشمن کو اس قوم میں غیرت باقی ہے

    جس دین کا موضوع انساں ہے اس دیں کی محبت باقی ہے

    خالد کی حمیت باقی ہے ، حیدر کی وہ جرأت باقی ہے

    ہاں بتلاؤ کہ تیرے لیے مومن کی عدالت باقی ہے

    سب باقی ہے ، تم باقی ہو ، گر اٹھ کے بڑھو، گر عمل کرو

    ہاں عمل کرو ، ہے وقت عمل ، مرنا ہے اٹل، کچھ کرکے مرو

    ہے وقت نشانے بازی کا ترکش کو نئے تیروں سے بھرو

    جو ہاتھ اٹھے مسلم پہ یہاں اس ہاتھ کو جڑ سے قلم کرو

    نہ جرمِ ضعیفی اور کرو ، جرات تو کرو ،رہے آں باقی

    جو آں باقی، تو جاں باقی ، گر جاں ہے تو یہ جہاں باقی

    اللہ کرے اس بہن کا ہو زور قلم اور زیادہ اور کاش اس ملت کے دل میں اتر جائے یہ بات۔۔۔۔

  • بانی پاکستان،کشمیر، اور بھارت کی بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ۔۔۔ عبدالحفيظ چنیوٹی

    بانی پاکستان،کشمیر، اور بھارت کی بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ۔۔۔ عبدالحفيظ چنیوٹی

    3جون1947ء کے تقسیم ہند کے فارمولے کے تحت ریاستوں کی آزادی اور الحاق کے بارے میں جو اصول طے ہوئے تھے، ان سے یہ بات مترشح ہوتی ہے کہ کشمیرکو پاکستان کا حصہ بننا تھا، لیکن جب کشمیریوں کو حق خود ارادیت کا موقع نہیں دیا گیا تو کشمیریوں نے اولاً 19 جولائی 1947ء کو الحاق پاکستان کی قرار داد منظور کی۔ بعد میں 24 اکتوبر 1947ء کو سردار محمد ابراہیم خان کی قیادت میں حکومت کا قیام عمل میں لایا گیا ۔

    قائداعظمؒ کی ہمشیرہ محترمہ فاطمہ جناحؒ نے اپنی کتاب ’’مائی برادر‘‘ میں بھی قائداعظمؒ کی کشمیر سے وابستگی اور تشویش کے بارے میں جو اشارہ دیا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ قائد اعظمؒ کشمیر کے بارے میں کس حد تک فکر مند تھے۔

    آپ لکھتی ہیں کہ قائداعظمؒ کے آخری ایام میں ان پر جب غنودگی اور نیم بے ہوشی کا دورہ پڑتا تھا تو آپ فرماتے تھے کہ کشمیر کو حق ملنا چاہئے۔ انہوں نے آئین اور مہاجرین کے الفاظ استعمال کئے۔

    قائداعظم محمد علی جناحؒ نے 1926ء میں کشمیر کا دورہ کیا اور وہاں کشمیری زعما سے ملاقاتیں بھی کیں۔ اس وقت اگرچہ کشمیر میں تحریک حریت کے خدوخال زیادہ نمایاں نہیں تھے، لیکن کشمیری مسلمانوں کی حالت دِگرگوں تھی اور انہیں ہندؤوں کے مقابلے میں دوسرے تیسرے درجے کا شہری سمجھا جاتا تھا۔

    قائدا عظم ؒ دوسری بار 1929ء، تیسری بار 1936ء اور چوتھی بار1944ء میں کشمیر گئے،جہاں آپ نے نیشنل کانفرنس اور مسلم کانفرنس کے اجلاسوں سے خطاب بھی کیا اور کم و بیش ڈیڑھ ماہ کے لگ بھگ کشمیر میں قیام کیا۔
    بھارت مقبوضہ کشمیر کو3حصوں میں تقسیم کرنے کے منصوبوں پر غور کر رہا ہے۔

    بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی قانونی ماہرین کا دعویٰ ہے کہ بھارت کے آئین میں ایسی شقیں موجود ہیں جس کے تحت پاکستانی سرحد کے ساتھ واقع کسی بھی ریاست کی سرحدیں تبدیل کی جا سکتی ہیں تاہم پاکستانی قانونی ماہرین کے مطابق ایسی کوئی بھی اقدام بین الاقوامی قانون اور حتیٰ کے بھارتی آئین کی بھی خلاف ورزی ہوگی۔

    بھارتی رپورٹس کے مطابق مقبوضہ کشمیر کو تقسیم کرنے اورنئی سرحدیں بنانے میں سب سے بڑی رکاوٹ بھارتی آئین کا آرٹیکل 370ہے۔ آرٹیکل35-A کے برعکس آرٹیکل 370آئین کا باضابطہ حصہ ہے اور ریاست کو خودمختارانہ حیثیت دیتا ہے۔ آرٹیکل35-A کو آئین میں صدارتی حکم نامے کے ذریعے شامل کیا گیا تھا۔

    یہ آرٹیکل ریاستی اسمبلی کو ریاست کے مستقل رہائشیوں کا تعین کرنے کی اجازت دیتا ہے اور مستقل رہائشیوں کو خصوصی حقوق اور مراعات دیتا ہے۔ بھارتی ماہرین کے مطابق یہ دونوں قوانین ابتدا میں عارضی طور پر بنائے گئے تھے۔ ان کے باضابطہ ہونے کی بنیاد مقبوضہ کشمیر کی آئین ساز اسمبلی ہے جس نے ریاست کا آئین تشکیل دیا اور آرٹیکل 370 کو منسوخ کرنے کی سفارش کئے بغیر اس نے خود کو تحلیل کر دیا۔

    بھارتی رپورٹس کے مطابق آرٹیکل 370 میں آرٹیکل 368(1)کے ذریعے ترمیم کی جا سکتی ہے جس کیلئے لوک سبھا میں ایک تحریک پیش کرنے کی ضرورت ہے جس میں آرٹیکل 368(1) کے ذریعے آرٹیکل 370منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا جائے جو پارلیمنٹ کو آئین میں ترمیم کا طریقہ کار طے کرنے کا اختیار دیتا ہے۔

    پا رلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کویہ ترمیم منظور کرنا ہوگی اور اس کے بعد بھارت کی آدھی ریاستوں کو اس کی توثیق کرنا ہوگی اور یہ عمل مکمل ہونے میں کافی وقت لگے گا۔ آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد بھارتی پارلیمنٹ کو مقبوضہ کشمیر کی سرحدوں کے ازسر نو تعین کا اختیار حاصل ہو جائیگا۔اس کے بعد پارلیمنٹ آرٹیکل 3کے تحت اختیارات استعمال کرتے ہوئے ریاست کو مختلف حصوں میں تقسیم یا اس کی سرحدوں کا دوبارہ تعین کر سکتی ہے تاہم آرٹیکل 370کی موجودگی میں یہ اقدام غیرقانونی ہو گا۔

    بھارت کی نیوز ایجنسی ’’آئی اے این ایس‘‘ کے مطابق لوک سبھا کے سابق سیکرٹری جنرل سبھاش کیشپ نے دعویٰ کیا کہ آرٹیکل 370آئین کی خصوصی نہیں عارضی شق ہے اور مختلف عارضی، عبوری اور خصوصی شقوں میں عارضی شق سب سے کمزور ہوتی ہے اور فیصلہ صرف یہ کرنا ہوتا ہے کہ اس شق کو کب اور کیسے ختم کرنا ہے۔

    بین الاقوامی قانون کے ممتاز پاکستانی ماہر احمر بلال صوفی نے کہا کہ بھارت کی طرف سے ایسی کوئی بھی کوشش جو مقبوضہ کشمیر کی موجودہ آئینی حیثیت کو تبدیل کرے بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی ہو گی۔ایسا کوئی بھی اقدام چوتھے جنیوا کنونشن کی بھی خلاف ورزی ہو گی، حکومت پاکستان کو یہ معاملہ اقوام متحدہ سمیت عالمی برادری کے سامنے بھرپور طریقے سے اٹھانا چاہئے۔

    بین الاقوامی قانون کے ایک اور ماہر بیرسٹر تیمور ملک نے کہا کہ آرٹیکل 370 اور آرٹیکل 35-Aمقبوضہ کشمیر کے شہریوں کو بنیادی تحفظ فراہم کرتے ہیں اور متنازعہ علاقے کے طور پر مقبوضہ وادی کی حالت جوں کی توں رکھنے پر زور دیتے ہیں۔ یہ آرٹیکل ختم کرنے سے بھارت کی عالمی برادری سے کئے گئے وعدوں کی خلاف ورزی ہو گی اور اس کا آزاد کشمیر کی حیثیت پر بھی پڑیگا۔ پاکستان کو فوری طور پر اقوام متحدہ اور دیگر عالمی فورمز سے رجوع کرنا چاہئے تاکہ بھارت کو اس اقدام سے باز رکھنے کے لئے عالمی دباؤ ڈالا جا سکے۔اس سلسلے میں سلامتی کونسل سے قرارداد منظور کرانے کی کوشش کرنی چاہئے۔

    پاکستان کو یہ اقدام بھارتی جارحیت تصور کرنا چاہئے کیونکہ مقبوضہ کشمیر کی متنازعہ حیثیت پاکستان کی خارجہ اور سکیورٹی پالیسی کا اہم حصہ ہے اور مقبوضہ کشمیر کو بھارت کا حصہ بنانا اس علاقے کو ضم کرنے کے مترادف ہے جس پر پاکستان دعویٰ رکھتا ہے۔ بیرسٹر اسد رحیم خان نے کہا کہ بھارت کا یہ اقدام اقوام متحدہ کی متعدد قراردادوں کی خلاف ورزی اور یہ امن کوششوں کیلئے تباہ کن ہوگا۔

    بھارت شملہ معاہدے میں اس امر پر اتفاق کر چکا ہے کہ دونوں ممالک کشمیر کی حیثیت میں یکطرفہ طور پر کوئی تبدیلی نہیں لائیں گے۔ مقبوضہ وادی میں ہندوؤں کی آبادکاری اور مسلم رہائشیوں پر مظالم کے ذریعے مودی کا ہندوتوا منصوبہ نہ صرف وادی کو تباہ کر دے گا بلکہ کئی دہائیوں میں طے پانے والے قانونی اتفاق رائے کا بھی خاتمہ کردیگا۔
    پاکستان کو اس حساس ایشو میں اپنا بھرپور کردار ادا کرتے ہوئے مظلوم کشمیری عوام کا بھرپور ساتھ دینا اور مدد کرنی چاہئے۔

  • ہم کیا ہیں اور کیا کر سکتے ہیں دنیا جانتی ہے….سلیم اللہ صفدر

    ہم کیا ہیں اور کیا کر سکتے ہیں دنیا جانتی ہے….سلیم اللہ صفدر

    ہم کیا ہیں اور کیا کر سکتے ہیں دنیا جانتی ہے…

    لیکن جب معاہدے کیے ہوں تو معاہدوں کی پاسداری بھی ضروری ہے

    اور دشمن کو بھی یہ موقع دینا ضروری ہے کہ وہ اپنا چہرہ بے نقاب کر سکے کہ وہ کسی معاہدے کو ماننے اور سننے والا نہیں

    جب دشمن کا چہرہ مکمل طور پر دنیا کے سامنے آ جائے گا تو ہم وہ کرنے کا حق رکھتے ہوں گے جو نہ کرنے پر آج احتجاجی آوازیں آٹھ رہی ہیں

    اور اگر ہم نے وہ سب پہلے کر لیا… تو نہ تو دشمن کا اتنا نقصان ہو گا اور نہ ہی ہمیں کوئی فائدہ ملے گا.

    قوموں کے درمیان رہنا ہے تو بین الاقوامی قوانین کو ساتھ لیکر چلنا پڑتا ہے. اپنا آپ بچانا پڑتا ہے… دشمن کو سامنے لانا پڑتا ہے ورنہ اچھی بھلی جیتی جنگ کے ہارنے کا خدشہ رہتا ہے.

    جن لوگوں نے کشمیر کے حق میں اٹھنے والی آوازوں کو خموش کروایا ہے…وہ اس خاموشی کے نقصانات بھی جانتے ہیں اور اب وادی نیلم سے سیالکوٹ تک کے بارڈر پر ان کے فوجی جذبہ شہادت سے سرشار کھڑے ہیں.
    جہاں جہاں وہ مناسب سمجھ رہے ہیں جواب بھی دے رہے ہیں.

    بیشک پاک فوج کی خاموشی وحشت ناک ہے لیکن وقت اور جگہ کا تعین بھی تو پاک فوج ہمیشہ سے خود ہی کرتی آئی ہے اس لیے گزارش ہے کہ میڈیا کی خاموشی کو عسکری محاذ پر خاموشی نہ سمجھا جائے. بھارتی جارحیت کو دنیا کے سامنے پیش کیا جائے اور 26 فروری جیسے کسی سرپرائز کا انتظار کیا جائے.

  • مودی! امن کو موقع دو ۔۔۔ حافظ معظم

    مودی! امن کو موقع دو ۔۔۔ حافظ معظم

    بھارت ایک بار پھر آپے سے باہر ہوا جا رہا ہے، بھارتی جنگی جنون خطے کے امن کے لیے ایک چیلنج بن چکا ہے، اگرچہ بھارت کا جنگی جنون ماضی میں بھی دیکھنے کو ملتا رہا ہے مگر بی جے پی اور باالخصوص نریندر مودی کی سیاست پاکستان اور مسلم دشمنی کی بنیاد پر کھڑی ہے.
    مقبوضہ کشمیر کی حالیہ صورتحال اور بالخصوص انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں نے مودی حکومت کے مکروہ عزائم کا پردہ چاک کر دیا ہے، یو این او کی 2018 رپورٹ برائے کشمیر اور انسانی حقوق کی پاسداری نے بھارتی چہرے کو بری طرح مسخ کیا ہے، اسی طرح یورپی یونین کی پارلیمنٹ میں 19 فروری کو ہونے والے اجلاس میں کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں پر شدت سے سوال اٹھایا گیا.
    عمران خان کے حالیہ دورہ امریکہ کے بعد سے انڈیا سٹپٹا گیا ہے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی دو مرتبہ پیشکش نے بھارتی ایوانوں میں کھلبلی مچا دی ہے، کشمیر عالمی دنیا کی توجہ کا مرکز بن چکا ہے، چین، روس اور ترکی جیسے بڑے ممالک کشمیر ایشو پر پاکستانی مؤقف کی حمایت کرتے نظر آ رہے ہیں، ان حالات نے بھارت کو ہڑ بڑا کر رکھ دیا ہے.
    بھارت کو لگتا ہے کہ شاید اب کشمیر کہیں اس کے ہاتھ سے نکل نہ جائے، یہی وجہ ہے کہ بھارت عالمی توجہ کشمیر سے ہٹانے کے لیے کسی نئے ایڈونچر کی تیاری میں لگا ہوا ہے، لائن آف کنٹرول پر مسلسل سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزیاں کر رہا ہے، بھارت کی جانب سے سول آبادی کو نشانہ بنائے جانے سے اب تک کئی معصوم پاکستانی شہید ہو چکے ہیں، تازہ اطلاعات کے مطابق بھارتی فوج کی جانب سے آزاد کشمیر میں ایل او سی کے نزدیک سول آبادی کو کلسٹر بمبوں کے زریعے نشانہ بنایا گیا ہے، یاد رہے کلسٹر بم کا استعمال جینوا اور عالمی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے.
    بھارت کا مقبوضہ کشمیر میں نئے فوجی دستوں کی تعینات کرنا، فوج اور ایئر فورس کو ہائی الرٹ رہنے کا حکم دینا، مقبوضہ کشمیر میں قبل از وقت گرمیوں کی چھٹیوں کا اعلان کرنا اور تعلیمی ادارے بند کرنے کا حکم دینا، مقبوضہ وادی میں سیاحت کے لیے آئے سیاحوں کو فوری طور کشمیر چھوڑنے کا حکم دینا کئی سوالات کو جنم دے رہا ہے، آخر بھارت کی جانب سے ان تمام اقدامات کا مقصد کیا ہے؟ بھارتی اقدامات واضح طور پر اشارہ کر رہے ہیں کہ بھارتی حکومت پاکستان کے ساتھ کسی نئے ایڈوینچر کے موڈ میں ہے.
    پاکستان کی امن کی کوششوں کو پاکستان کی کمزوری سمجھنا مودی قیادت کی احمقانہ سوچ ہے، بھارت کو یہ بات نہیں بھولنی چاہئیے کہ پاکستان ایک ذمہ دار ایٹمی قوت ہے، پاکستان کے پاس جدید ترین جوہری ہتھیار، ایڈوانس میزائل ٹیکنالوجی اور دنیا کی بہترین مسلح افواج ہیں، بھارت کا ہر ایک شہر پاکستان کے نشانے پر ہے، بھارت نے کسی قسم کا کوئی ایڈونچر کرنے کی کوشش کی تو اسے ایسا دندان شکن جواب ملے گا کہ بھارت کی آنیوالی نسلیں یاد رکھیں گی، مودی کا جنگی جنون بھارت کو لے ڈوبے گا.
    پاکستان نے ہمیشہ امن کی بات کی ہے، پاکستان کی جانب سے ہمیشہ مصالحت پسندانہ رویہ اپنا گیا، ہر بار بھارت کو دعوت دی کہ مزاکرات کی میز پر مل بیٹھ کر مسائل کا حل تلاش کریں لیکن بھارت کے سر پر تو جنگ کا بھوت سوار ہے، مودی امن کو موقع دینے کو بلکل بھی تیار نظر نہیں آتا، بھارتی حکومت کو سمجھنا ہو گا کہ جنگیں مسائل کا حل نہیں ہوتی بلکہ جنگیں مزید مسائل کو جنم دیتی ہیں، پاکستان انڈیا کا تصادم پورے حطے کی صورتحال کو یکسر بدل کر رکھ دے گا اسلیے مودی کو چاہیے کہ اپنے جنگی جنون سے باہر نکلے اور مزاکرات کی میز پر بیٹھ کر مسائل کا حل تلاش کرے، تاکہ اس خطے کو تباہی سے بچایا جا سکے اور امن کو موقع دیا جا سکے.

  • مسئلہ کشمیر، پاکستانی موقف کی جیت اور بھارتی ناکام ہتھکنڈے ۔۔۔انشال راؤ

    مسئلہ کشمیر، پاکستانی موقف کی جیت اور بھارتی ناکام ہتھکنڈے ۔۔۔انشال راؤ

    ہندوستان کے شمال مغربی حصے میں ایک آزاد مسلم ریاست قائم ہوگی، "گاہ میری نگاہ تیز چیر گئی دل وجود” یہ اقبال ہی تھے جس نے اس وقت تقدیر مبرم کا مشاہدہ کرلیا تھا جب قائداعظم نے 14 نکات ہی پیش کیے تھے پھر دنیا نے دیکھا کہ قدرت والے نے پاکستان کو رمضان کے مہینے میں نازل فرمایا اور اہم بات یہ کہ اللہ نے ایسی کوئی بیماری نہیں اتاری جس کا علاج پہلے نہ پیدا کیا ہو بالکل اسی طرح اسرائیل کے وجود سے 9 مہینے پہلے پاکستان کا قیام عمل میں آیا، تقسیم ہند اس بنیادی اصول کے تحت طے پائی تھی کہ مسلم اکثریت والے علاقے پاکستان میں شامل ہونگے اور ہندو اکثریتی علاقے بھارت میں، اس حساب سے کشمیر قطعی طور پر پاکستان کا حصہ بنتا تھا مگر انگریز کی عیاری اور بدنیتی کے باعث کشمیر کا معاملہ ادھورا رہ گیا جس پر لارڈ ماونٹ بیٹن و نہرو نے غاصبانہ قبضہ جمالیا اس حق تلفی کے سبب پاکستان و بھارت کے مابین کئی خونریز جنگیں بھی ہوئیں جن میں ہزاروں افراد ہلاک و زخمی ہوے اور باہمی کشیدگی پر ہر سال ارب ہا ارب روپے خرچ ہوتے ہیں، معاملہ شروع میں اقوام متحدہ کے احاطے میں گیا مگر اقوام متحدہ کی عدم دلچسپی اور بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث آج تک حل نہ ہو پایا، اس ضمن میں شملہ معاہدہ کے تحت دونوں ملک مسئلہ کشمیر کو باہمی مذاکرات سے حل کرنے پہ متفق تو ہوے مگر کوئی نتیجہ حاصل نہ ہوا، دانشمندی تو اسی میں تھی کہ دونوں ملک ستر سالہ مخاصمت کو مٹانے کے لیے کوئی عملی کام کرتے، عین ممکن تھا ایسا ہو بھی سکتا تھا مگر ہندوتوا دہشتگرد کبھی بھی ہندو مسلم منافرت کی دیوار برلن کو گرانے کے لیے تیار نہیں بلکہ مودی سرکار میں تو ہندوتوا دہشتگردی سر چڑھ کر بولنے لگی ہے۔ جنوبی ایشیا کو کشیدگی سے پاک کرنے کے لیے ضروری ہے کہ مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق استصواب رائے سے کیا جائے، ماضی میں اس کی راہ میں سوویت یونین کا ویٹو بھی حائل تھا اور امریکی عدم دلچسپی بھی مگر اب امریکہ نے اس مسئلے کے حل میں گہری دلچسپی دکھائی ہے، دورہ عمران خان کے موقع پر امریکہ نے کشمیر پہ ثالثی کا بیان دیا اور اب اس مسئلے کو نمٹانے کا عزم کا اظہار کیا ہے لیکن یہ بات عالمی حالات کے تناظر میں دیکھی جائے تو ہر ذیشعور شخص جانتا ہے کہ امریکہ نیو ورلڈ آرڈر کے قیام کے لیے سر توڑ کوشش کرتا آرہا ہے جیسا کہ اب چین امریکہ کے مقابلے میں ایک طاقت کے طور پر ابھر کر سامنے آرہا ہے تو دوسری طرف روس ایک بار پھر سر اٹھا رہا ہے ایسے میں امریکہ کو اس پورے علاقے میں ایک دوسرے اسرائیل کی بھی ضرورت ہے جو شاید ممکن نظر نہیں آتی البتہ مشکل ضرور ہے، اس ضمن میں بھارتی ڈیفینس ریسرچ ٹیم کے سربراہ کی رپورٹ میں بتایا جاچکا ہے کہ امریکہ کا آزاد خود مختار کشمیر کے قیام کا منصوبہ ہے جوکہ آزاد کشمیر، مقبوضہ کشمیر اور جموں و لداخ کے علاقوں پہ مشتمل ہے اور آزاد خود مختار کشمیر کا آپشن "آل پارٹیز حریت کانفرنس” کے دستور میں شامل ہے مزید برآں ملک یاسین سے انڈین ٹی وی کے اینکر کا خودمختار ریاست کا سوال جس پہ ملک یاسین کا یہ کہنا کہ آپشن موجود ہے اور حریت پسند تنظیم کے سپریم کمانڈر عمر خالد کا روزنامہ جنگ میں شایع ہونے والا انٹرویو بھی موجود ہے جس میں انہوں نے واضح کہا تھا کہ کشمیر میں خودمختاری کا نظریہ فروغ پانے لگا ہے اور یہ بات سب پہ عیاں ہے کہ جنگ جیو گروپ کو بات متن سے ہٹا کر پیش کرنے میں اولیت حاصل ہے جبکہ حقیقت تو یہ ہے کہ 2010 کے بعد سے بالعموم اور 2014 کے بعد سے بالخصوص کشمیری عوام میں نظریہ پاکستان کی جڑیں زیادہ گہری ہورہی ہیں اور اگر کشمیر خودمختار بھی بنتا ہے تو بھی سو فیصد پاکستان کے حق میں ہے کیونکہ کشمیری بھائیوں سے پاکستان کا رشتہ قیام پاکستان سے پہلے ہی قائم ہوگیا تھا جس کا عملی مظاہرہ 1931 سے شروع ہونے والا آزادی کا جذبہ سامنے آچکا ہے اور قیام پاکستان کے فوری بعد گلگت بلتستان بریگیڈ کے کمانڈر کا سپاہ سمیت پاکستان کے حق میں کھڑا ہوجانا بھی ریکارڈ پہ موجود ہے یہ درحقیقت خالصتاً انڈین رپورٹ تھی جوکہ مسئلہ کشمیر کے حل کو ٹالنے کے لیے ایک ہتھیار بھی تھا مقصد کشمیری اور پاکستانی عوام میں بددلی و بےچینی پیدا کرنا تھا جیسا کہ ماضی میں بھارت کامن ویلتھ ٹروپس یا امریکی ثالثی کو پاکستان کے سیٹو اور سینٹو پیکٹ کو لیکر بطور ہتھیار استعمال کرتا رہا اور Demilitarize کرنے سے بھاگتا رہا جس کے سبب استصواب رائے نہ ہوسکی لیکن اب شاید بھارتی ہتھکنڈے زیادہ نہ چل سکیں کیونکہ پوری دنیا میں مسئلہ کشمیر کے حل کو لیکر بحث جاری ہے 2014 میں برطانوی پارلیمنٹ میں کشمیر ڈبیٹ میں واضح طور پر کہدیا گیا تھا کہ Kashmir is not a forgotten conflict اس کے علاوہ یورپی یونین اور برطانیہ نے بھی بھارتی اٹوٹ انگ کے دعوے کی نفی کردی ہے کہ Kashmir is unresolved issue جس سے پاکستانی موقف کی جیت ہوگئی لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ ماضی قریب کی پاکستانی حکومتوں کا کشمیر کے مسئلے پہ عملی کام مایوس کن رہا حتیٰ کہ UNSC کی طرف سے کشمیر کو Unresolved Issue کی فہرست سے نکالنے کے لیے پاکستان سے موقف مانگنے پر حکومت وقت نے کوئی جواب ہی جمع نہیں کروایا لیکن 2014 میں قدرت نے اس وقت دوبارہ زندہ کردیا جب David Ward برطانوی پارلیمینٹیرین سمیت دیگر نے اسے Unresolved issue قرار دیا جسکی جزوی تائید یورپی یونین نے بھی کی لیکن افسوس پاکستانی حکومت اور اینکر مافیا اس وقت کہاں سوئے تھے جس پر کمنٹ کا حق قارئین خود استعمال کریں، اس کے علاوہ فروری 2019 کی پاک بھارت کشیدگی کے بعد یورپی یونین سمیت پوری دنیا نے اس مسئلے کے حل کو دنیا کے امن کے لیے ضروری قرار دیا ہے، اب امریکہ کے ساتھ ساتھ چین بھی کشمیر کے حل کے لیے سرگرم ہے جس کے بعد سے بھارت نے کشمیر میں پچاس ہزار مزید فوجی دستے بھیج دیئے ہیں اور کنٹرول لائن پر شدید دراندازی شروع کررکھی ہے مزید برآں امرناتھ یاترا پہ آنیوالوں پہ حملے کا خدشہ قرار دے رہا ہے عین ممکن ہے کہ پارلیمنٹ حملے کی طرح کوئی حملہ کرواکر دنیا میں پاکستان کے خلاف ڈھونگ رچائے دوسری طرف یہ بات بھی اہمیت کی حامل ہے کہ اس سال امرناتھ یاترا پہ جانے والوں کی تعداد ابتک کی تاریخ کی سب سے بڑی تعداد ہے یقینی ہے کہ ان کی آڑ میں ہزاروں ہندوتوا دہشتگرد خطے میں بھیجے گئے ہوں جن کے مذموم مقاصد مکتی باہنی طرز کے ہوسکتے ہیں جسے بھارت پروپیگنڈے کے تحت حریت پسندوں کے خلاف استعمال کرسکتا ہے لیکن انشاءاللہ اب کی بار بھارت کامیاب ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔

  • مقبوضہ کشمیر میں فوجیوں کی تعداد میں اضافہ ۔۔۔ غنی محمود قصوری

    مقبوضہ کشمیر میں فوجیوں کی تعداد میں اضافہ ۔۔۔ غنی محمود قصوری

    یوں تو قیام پاکستان سے لے کر اب تک ہندوستان کئی مرتبہ پاکستان سے منہ کی کھا چکا مگر پھر وہی اب کی مار کے دکھا کے مصداق پھر نئے سرے سے مار کھانے کو تیار رہتا ہے
    ان شاءاللہ ثم ان شاءاللہ کارگل اور پھر 27 فروی 2019 کے بعد اب سب سے بڑی ذلت انڈیا کی مقبوضہ وادی کشمیر میں بننے جا رہی ہے
    اس جنوری میں پلوامہ میں ہندوستانی فوج پر ہوئے حملے کے بعد 20 کمپنی فوج کا اضافہ کیا گیا حریت راہنماؤں کو جیل میں ڈالا گیا اور تقریبا ساری حریت قیادت ابھی بھی جیلوں میں قید ہے مودی سرکار نے سوچا تھا کہ اب فوج میں اضافہ کرکے حریت قیادت کو جیل میں ڈال کے وہ آزادی کی تحریک کو ڈبا لے گا مگر نتجہ میں ہندوستانی فوج میں خودکشیاں بڑھیں اور دوسری جانب مقبوضہ کشمیر کے مجاھدین نے بھی اپنے حملے انڈین فوج پر تیز کر دیئے نیجہ میں بھارتی فوج کا کافی جانی و مالی نقصان ہوا تو دوسری جانب برسر پیکار مسلح فریڈم فائٹرز کی شہادتوں میں بھی اضافہ ہوا اس وقت تقریبا ریاض نیکو کے علاوہ سارے ٹاپ کمانڈر شہید ہو چکے ہیں جسے شاید ہندوستانی فوج اپنی فتح سمجھ رہی ہے مگر وہ بھول گئے کہ برہان مظفر وانی بھی تو ایک غیر مسلح فریڈم فائٹر تھا اور ایک شوشل میڈیا ایکٹیویسٹ تھا پھر پھر آخر کیا ہوا کہ وہ غیر مسلح سے مسلح ہو کر ایسا لڑا کہ تحریک آزادی کشمیر میں نئی روح پھونگ گیا دنیا خاص طور پر ہندوستانی فوج برہان وانی کی دلیری کا برملا اعتراف کرچکی ہے
    اب اگر اس بنیاد پر انڈیا فوج میں اضافہ کرے کہ سارے مجاہدین شہید ہو چکے ہیں اور وہ فوجی اضافے سے غیر مسلح کشمیری عوام کے دلوں میں اپنی ڈھاک بٹھا لے گا تو یہ اس کی بھول ہے انڈیا ابتک کتنی بار فوجی اضافہ کر چکا سیاحت کے بہانے ہندءوں کو کشمیر میں بسا چکا کچھ دیگر تھوڑی بہت سہولیات کا لالچ دے کر کشمیریوں کے دل جیتنے کی کوشش کر چکا مگر ہر بار ناکام رہا کیونکہ کشمیریوں کے نزدیک آزادی کے سوا دوسرا راستہ ہے ہی نہیں لہذہ انڈیا فوجی اضافہ کرنے کی بجائے کشمیریوں کو ان کا حق حق آزادی اور کشمیر سے فوجیں نکال کر فوج پر صرف ہونے والے پیسے سے اپنی عوام کو سہولیات دے جو جو عوام خط غربت سے نیچے زندگی بسر کر رہی ہے