Baaghi TV

Tag: بھارت

  • بھارت … ذرا سوچ سمجھ کر …

    بھارت … ذرا سوچ سمجھ کر …

    ویسے تو بھارت خطے میں ایشین ٹائیگر بن کر نہ صرف پاکستان بلکہ چین کو بھی ناکوں چنے چبوانے کا خواہشمند ہے مگر زمینی حقیقت پر غور کیا جائے تو حقائق اس کے بلکل برعکس ہیں۔ بھارتی الیکشن ہوں یا پاکستان کسی سیاسی بحران کا شکار۔ بھارت نے ہمیشہ بمبئی حملے، سمجھوتہ ایکسپریس اور پلوامہ جیسے گھناونے کھیل کھیلے اور اس کے فورا بعد بھارتی میڈیا اپنے ٹوپی ڈرامے شروع کر دیتا ہے۔ بھارتی میڈیا بھارت کو دنیا کی ہیبت ناک جنگی طاقت اور تیسری بڑی فوجی قوت قرار دیتا ہے۔ مگر حقائق اس کے برعکس ہیں۔

    1948 کی کشمیر جنگ ہو ۔ 1965 کی جنگ ہو۔ کارگل ہو۔ سرحدی جھڑپیں ہوں یا حالیہ فلاپ ایئر سڑائکس بھارتی فوج کو ہمیشہ منہ کی کھانا پڑی ہے ۔ یہاں تک کہ جنگ کے محاذ پر بھی مار کھائی اور انفارمیشن وار فیر میں بھی مار کھائی۔ بھارتی فوج کے پاس موجود اسلحہ نہ صرف میوزیم میں رکھنے کے قابل ہے بلکہ بھارتی فوجی خود بھی بدحالی کا شکار ہے. یہی وجہ ہے کہ بھارتی فوج میں اوسطا سالانہ 113 اور ماہانہ 9 اہلکاراپنی زندگی کا خاتمہ کررہے ہیں ۔ جس کی وجہ ان کی کسمپرسی اور مورال کا فقدان ہے۔ اکثر بھارتی فوجیوں کو جنگی محاذ پر کھانے کے لیے دو وقت کی روٹی تک نہیں مل پاتی ۔ بھارتی ہواباز پاکستانی ایف 16 اور جے ایف 17 تھنڈر کا سامنا کرنے سے ایسے گھبراتے ہیں جیسے کوا غلیل سے ۔ کبھی انکا سربجیت پکڑا جاتا ہے تو کبھی ابھی نندن چائے پینے یہاں چلا آتاہے۔کیونکہ
    The tea is fantastic
    بھارت کے زیر قبضہ کشمیر سے روز اطلاعات آتی رہتی ہیں کہ اتنے فوجی فلاں نہتے نوجوان نے مار دیے ۔ توکبھی فوج کے کمیپوں میں گھس کر مجاہدین نے قیامت برپا کر دی۔ جوکہ بزدل بھارتی فوج کی پیشہ ورانہ مہارت کے حوالے سے ذلت آمیز سوالیہ نشان ہے۔ بھارت کے چالیس فیصد میزائل تجربات کی ناکامیاں ان کی نا اہلیوں کا واضح ثبوت ہیں۔

    مزید پڑھیئے: تحریک انصاف کا بجٹ بم ۔۔۔ کپتان اجازت دے تو تھوڑا سا گھبرا لیں … نوید شیخ

    کاش ۔۔۔ پاکستان کو عبرتناک سبق کی دھمکیاں دینے والا بھارتی میڈیا خواب خرگوش سے باہر آ کر پاکستان کی میزائل ٹیکنالوجی کے کرشمات دیکھے تو ان کے ہوش ٹھکانے آجائیں گےاور یہی میزائل ایٹمی وارہیڈ لے جانے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔دہلی،کولکتہ ، مدراس ، ممبئی سمیت شاید ہی بھارت کا کوئی شہر۔ قصبہ ۔ ٹکڑا یا جزیرہ ہو جو پاکستانی میزائلوں کی زد میں نہ ہو۔ بھارت کی
    Cold start doctrine کو پہلے ہی پاکستانیtactical nuclear arms کی بدولت
    old start doctrine بن چکی ہے ۔ جس کا اعتراف بھارتی فوج کے چیف وی کے سنگھ پہلے ہی کر چکے ہیں ۔ پاکستانی مسلح افواج کو جن چیلنجز کا سامنا ہے وہ کوئی راز نہیں ۔ پاکستانی فوج کے اخراجات بھارتی فوج کے مقابلے میں تقریباً ایک چوتھائی سے بھی کم ہیں۔ مگر دہشتگردی کے خلاف جنگ ہو یا روایتی دشمن بھارت کی جانب سے جارحیت کا مظاہرہ پاک فوج ہمیشہ سرخرو ہوئی ہے۔ جس طرح پاک فوج نے سوات۔ شمالی اور جنوبی وزیر ستان سے دہشتگردوں کا خاتمہ کیا ہے پوری دنیا اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ پاک افواج ایک battle hardened فوج ہے۔

    مزید پڑھیے : عثمان بزدار کے کارنامے ۔۔۔نوید شیخ

    ماہرین کے مطابق اگر بڑی جنگ چھڑ جائے تو بھارت جنگ میں مصروف اپنی فوج کو زیادہ سے زیادہ 10 روز تک اسلحہ اور گولہ بارود فراہم کرسکتا ہے۔ بھارتی فوج کے پاس موجود 68 فیصد اسلحہ اور آلات بہت پرانے ہیں۔ بھارتی ایئر فورس کے جہاز اڑتے تابوت ہیں جواکثر اپنے وزن سے آپ ہی گرتے رہتے ہیں . یہ جہاز کسی بھی لحاظ سے ایف سولہ تو ایک طرف جے ایف 17تھنڈر کا ہی مقابلہ نہیں کر سکتے جبکہ پاکستان کے پاس دنیا کے بہترین پائیلٹ موجود ہیں۔ ہیومن ریسورس اور ٹریننگ کے لحاظ سے پاکستان اور بھارت کی فوج کا کوئی مقابلہ بنتا ہی نہیں ہے۔

    مزید بڑھیے: عمران خان پر چارج شیٹ ۔۔۔ نوید شیخ

    اگر بھارتی نیوی پر نظر ڈالی جائے تو آپ کو آئے روز خبریں ملیں گی کہ وہ اپنے ہی جہاز اور آبدوزوں کو اُڑانے میں مصروف ہیں۔ کبھی بھارتی نیوی کے شرمناک اسکینڈل سامنے آتے ہیں تو کبھی انکی کھڑی نیوکلیئر آبدوز چھوٹی سی غلطی کے سبب سمندر برد ہو جاتی ہے ۔ مگر اس سب کے باوجود بھارت اپنی ہٹ دھرمی سے باز نہیں آتااور پاکستان کو نقصان پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا ۔ بلوچستان میں دہشتگردی ہو یا عالمی سطح پر پاکستان کو بدنام کروانے کی سازش ہر معاملے کے پیچھے بھارت ہی نظر آتا ہے ۔ ان تمام محاذوں پر بھی بھارت کے مقدر میں سبکی ہی ہے ۔ اس سال کے آغاز میں بھارتی دھمکیوں کے جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا تھا کہ
    ” انڈیا کو جو چیز روک رہی ہے وہ ہماری قابل بھروسہ جوہری صلاحیت ہے تاہم وہ ہمارا عزم آزمانا چاہتا ہے تو آزما لے لیکن اس کا نتیجہ وہ خود دیکھے گا”
    بے شک اس فوج کی وجہ سے ہی یہ ملک محفوظ اور قائم ودائم ہے ۔
    پاک فوج زندہ باد
    پاکستان پائندہ باد

    اپنی رائے دینے کے لیے ای میل کریں
    naveedsheikh123@hotmail.com

    ٹویٹر پر فالو کریں

  • بھارت:خواتین پرتشدد جاری، خواتین کو سڑک پر بری طرح پیٹنے لگے

    بھارت:خواتین پرتشدد جاری، خواتین کو سڑک پر بری طرح پیٹنے لگے

    نئی دہلی:بھارت جہاں عورتوں پر ظلم تشدد کرنا ایک شغل بن کر رہ گیا ہے ایسے ہی ایک تازہ واقعہ میں پنجاب کے فریدکوٹ کے شہر کوٹک پورہ میں دومردوں کی طرف سے دو خواتین کے ساتھ سرعام جم کر پیٹائی کی گئی- یہاں تک کہ انہوں نے انہیں سڑک پر پیٹنے کے ساتھ بال پکڑ کر گھسیٹا بھی گیا- اسکا ویڈیو وائرل ہونے کے بعد پولیس نے اس واقعہ کے ذمہ داروں کو گرفتار کرنے کا فیصلہ کیا ہے.

    پولیس حکام کے مطابق اس واقعہ میں ملوث افراد کو گرفتار کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور امید ہے ان کو بہت جلد گرفتار کر لیا جائےگا اور ان کو اس جرم کے بدلے میں قرار واقعی سزا دی جائے گی.لیکن عوام الناس کا کہنا ہے کہ پولیس کہتی تو ہےکہ مجرموں کو سزا دی جائے گی لیکن ایسا نہیں ہے بلکہ پولیس ٹال مٹول سے کام لیتے ہوئے خواتین پر زیادتیوں کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیتے ہیں.

  • بھارت: دماغی وائرس سے100 سے زیادہ بچے ہلاک

    بھارت: دماغی وائرس سے100 سے زیادہ بچے ہلاک

    بھارتی ریاست بہار میں دماغی بیماری کے باعث ہلاک ہونے والے بچوں کی تعداد 100 سے تجاوز کر گئی ہے۔
    بھارتی حکام کےمطابق دماغی بیماری کا تعلق لیچی کے پھل سے جڑے وائرس سے ہے جبکہ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ حکومت ہلاکتوں کی اصل وجہ معلوم کرنے میں اپنی ناکامی کو چھپانے کے لیے اس بیماری کا ذمہ دار لیچی کے پھل کو ٹھہرا رہی ہےحالانکہ ایسا نہیں ہےبعض لوگوں کا یہ بھی ماننا ہے کہ حکومت کا مؤقف لیچی کے خلاف ایک منظم سازش ہے۔
    ریاست بہاررواں سال جون کے آغاز سے ’ایکیوٹ انسیفلائٹس سنڈروم‘ نامی وائرس کے پھیلاؤ کا مقابلہ کر رہی ہے۔ریاست کے شہرمظفرپورمیں واقع کرشنا میڈیکل کالج اور ہسپتال میں اب تک 85 بچوں کی موت واقع ہو چکی ہے جبکہ ایک نجی ہسپتال کے ریکارڈ کے مطابق 18 بچے ہلاک ہوئے ہیں۔ یہ وائرس مقامی طور پر ’چمکی بخار‘ کے نام سے جانا جاتا ہے اور 2014 میں اس نے 150 لوگوں کی جان لی تھی

    چند سال پہلے امریکی محققین نے تصدیق کی تھی کہ دماغی بیماری کا تعلق کسی پھل میں موجود زہریلے مواد سے ہے، تاہم انہوں نے لیچی میں یہ زہر ہونے کی تصدیق نہیں کی تھی۔ محققین نے واضح کیا تھا کہ بیماری کی تہہ تک پہنچنے کے لیے مزید تحقیق کرنا ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بیماری سے مرگی، دماغی حالت میں تبدیلی یا پھرموت واقع ہو سکتی ہے۔ یہ وائرس مقامی طور پر ’چمکی بخار‘ کے نام سے جانا جاتا ہے اور 2014 میں اس نے 150 لوگوں کی جان لی تھی۔ چمکی بخار 1995 سے ہر سال موسم گرما میں ریاست بہار کے ایک ہی ضلع میں پھیلتا ہے، جو لیچی کے پیدا ہونے کا موسم بھی ہے۔یہ وائرس بنگلہ دیش اور ویتنام کے لیچی اگانے والے علاقوں میں بھی پایا گیا ہے۔

    انڈیا کی شمالی ریاست بہارکا شمار ملک کی غریب ترین ریاستوں میں ہوتا ہے۔ اس کی آبادی 10 کروڑ ہے اور اس وقت شدید گرمی کی لہر کی لپیٹ میں بھی ہے جس کی وجہ سے 78 لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں سے بیشتر کی عمر 50 سال سے زیادہ ہے۔

  • منظور پشتین محب وطن پشتونوں کو ورغلا کر ’را‘ کے لئے استعمال کررہا ہے

    منظور پشتین محب وطن پشتونوں کو ورغلا کر ’را‘ کے لئے استعمال کررہا ہے

    وہ تمام دوست جو سمجھتے ہیں کہ کالمز اور تجزیے بوٹ پالش کرنے لئے لکھے جاتے ہیں ان کے لئے اطلاعا عرض ہے کہ ملک ہمارا ہے ، ریاست ہماری ہے ، حکومت ہماری ہے تو فوج بھی ہماری ہے ۔ جہاں جائز تنقید ہو اس سے نہیں گھبراتا لیکن اگر ریاست کے حامی بیانئے پر کوئی بوٹ پالشیا بھی کہے تو مجھے کوئی اعتراض نہیں ۔ منظور پشتین کا مسنگ پرسنز سے متعلق تحقیقات کا مطالبہ کسی حد تک جائز ہے لیکن ان تحقیقات کے لئے عدالتوں کے دروازے کھلے ہیں ، ادارے اپنا کام کر رہے ہیں اور جمہوری نظام جیسے کیسے جاری ہے ۔ اگر واقعی پی ٹی ایم کے تحفظات ہیں تو انہیں بین الاقوامی برادری ، عالمی میڈیا اور بھارتی خٖفیہ ایجنسی را کے ہاتھوں آلہ کار بننے کی بجائے اپنے اداروں سے تعاون کرنا چاہیے ۔ تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی پانی ہو جائے ۔ لیکن یہ ۔ ۔ ۔ ’ کیپٹن میجر ۔ ۔ دہشت گرد‘ ۔ ۔ اور ۔ ۔ ’یہ جودہشت گردی ہے ۔ ۔ اس کے پیچھے وردی ہے ‘ جیسے نعروں کا پرچار کرتے ہوئے فوجی چیک پوسٹ پر حملہ کردینا ، بین الاقوامی میڈیا پر خبروں کی زینت بننے کے لئے اپنے بندوں کو مروا دینا ۔ کس کے بیانئے کی عکاسی کرتا ہے ۔ یہ بالکل واضح ہوچکا ہے ۔ لنڈے کے لبرلز جورات کو امرت اور شام میں کالی کافی پی کر فیس بکی دانشوری جھاڑتے ہوئے برملا لکھ ڈالتے ہیں ’ہائے پی ٹی ایم کے ساتھ تو ظلم ہورہا ہے ‘ ۔ انہیں اگر زمینی حقائق کا علم نہیں تو اپنی دانشوری اپنے پاس رکھیں اور سچ اور جھوٹ کو سمجھنے کی کوشش کریں ۔ مظلوموں جیسا چہرہ بنا کر عالمی میڈیا کے سامنے دکھڑے رونے والی پی ٹی ایم کے پاکستانی میڈیا پرمبینہ بلیک آوٹ پر دانشوری جھاڑنے والے ذرا یہ بتائیں کہ بھارتی میڈیا خالصتان موومنٹ پر واویلا کرنیوالوں کو کتنی کوریج دیتا ہے ۔ یا عالمی میڈیا بھارت کے خلاف اس استحصال پر لب کشائی کیوں نہیں کرتا ۔ اسے چھوڑیں مقبوضہ وادی کشمیر کے حریت پسندوں کا موقف کونسے بھارتی میڈیا پر جاری ہوتا ہے ۔ بھارت حریت رہنماوں کو مکمل کوریج کیوں نہیں دیتا ۔ ۔ حیرت کی بات ہے کہ پاکستان کا پڑھا لکھا طبقہ کس طرح احمقانہ مطالبوں پر تلا ہوا ہے ۔ گزشتہ ایک سال میں سات سے زائد مرتبہ منظور پشتین کو دعوت دی گئی ہے کہ وہ پاک فوج کے ساتھ بیٹھ کر تنازعے کو حل کرے ۔ موصوف ایک مرتبہ بھی بیٹھنے پر رضا مند نہیں ہوئے ۔ ریاست ایسے ریاست مخالف عناصر کے ساتھ اور کیا ہمدردی کرے کہ ریاست مخالف بیانئے کے باوجود پی ٹی ایم کی نمائندگی پارلیمنٹ میں ہے ۔ اگر ریاست اتنی ظالم ہوتی تو چند افراد پر مشتمل را کے ہاتھوں میں کھیلتے ہوئے اس جتھے کو کچلنے میں دیر ہی کتنی لگنی تھی ۔ معاملہ بین الاقوامی مراعات ، کینیڈا اور جرمنی کی شہریت اور بھارت سے فنڈنگ کا ہے ۔ آپ اس بات سے اندازہ لگا لیجئے کہ برطانوی نشریاتی ادارہ لکھتا ہے کہ پی ٹی ایم کا موقف پاکستانی میڈیا سے غائب کیوں ہے ۔ کوئی لندن والوں سے پوچھے کہ رائل ملٹری تو دور کی بات اسکاٹ لینڈ یارڈ کی چوکی پر حملہ کرنے والے کسی بھی شدت پسند کا موقف آپ بی بی سی پر چلا کے دکھائیں ہم مان جائیں گے ۔ بی بی سی سمیت سارے بھارت نواز میڈیا کی توپوں کا رخ پاکستان کی جانب ہے اور اس سے صاف واضح ہے کہ پی ٹی ایم کو کس کی حمایت حاصل ہے ۔ ۔ یہ بین الاقوامی سازش ہے ، بھارت کی فنڈنگ ہے اور مقصد ریاست پاکستان اور ہماری افواج کو بلاوجہ کے ایشوز میں الجھائے رکھنا ہے ۔ نوجوان اور پڑھے پشتونوں اور لنڈے کے لبرلز سے گذارش ہے کہ عقل کے ناخن لیں ، سوچ سمجھ کے لکھیں کیونکہ نفرت کا یہ پرچار ملک کو بہت بڑے نقصان سے دوچار کر سکتا ہے

  • تیری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں پے …فرحان شبیر

    تیری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں پے …فرحان شبیر

    تیری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں پے ۔
    پاکستان اور بھارت ایک ساتھ ہی آزاد ہوئے اور ایک ساتھ ہی دنیا کے نقشوں پر نمودار ہوئے ۔ پاکستان بنانے والوں پر مذہب کا استعمال کرنے کا طعنہ کسا جاتا رہا جبکہ بھارت والوں کے سیکولرازم اور ہندو نہیں بلکہ انڈین نیشنلزم کی مثالیں دیں جاتی رہیں کہ ہندوستان میں سارے انڈین ہیں نو مسلم ، نو عیسائی ، نو ہندو وغیرہ وغیرہ ۔
    چلو اب مودی کی فتح نے کچھ باتیں تو کلئیر کردیں کہ مسلمان چاہے ادھر کا یا ادھر کا یا مشرق وسطی کا ، بھلے کتنا ہی چول بنا رہے کتنا ہی اپنے دین سے لاتعلق رہے اسکا وجود ہی دل دشمناں میں کانٹے کی طرح کھٹکتا رہیگا ۔ دو قومی نظریہ کل بھی درست تھا آج بھی تر و تازہ ہے ۔ بانیان پاکستان نے اسے بہت پہلے محسوس کرلیا تھا اور ہندو کے دانتوں سے چھین کر مسلمانوں کو ایک ملک لیکر دیا ۔ بہت کہا جارہا تھا کہ ہندوستانیوں کو لگ پتہ گیا ہے لہذا اب وہ مودی کی مذہب کی سیاست کا چورن نہیں پھانکیں گے لیکن چشم فلک کی آنکھ نے یہ نظارہ بھی دیکھا کہ خود کو سیکولر کہلانے والے ملک میں ہندو دھرم کا علم لہرائے نریندر مودی اور امیت شاہ جیسے کٹر مسلم دشمن رہنما اپنی قوم سے پہلے سے زیادہ اکثریت لینے میں کامیاب ہوگئے ۔

    یہ تو ہمارے ہاں کا اندھیرا ہے جس میں ادھر والوں کو پتہ ہی نہیں کہ آس پاس میں ہو کیا رہا ہے ۔ کس طرح پورے کا پورے بھارت ہندو انتہا پسندی کے نرغے میں آکر ہندوستان بنتا جارہا ہے یا بنگلہ دیش میں پاکستان کا نام لینے والوں پر کس طرح زمین تنگ کی جارہی ہے ۔ یا اسرائیل کے حالیہ الیکشن میں ایک طرف جیتنے والا کٹر یہودی نیتھن یاہو اور دوسری جانب ہارنے والا اس سے بھی کٹر یہودی انکا سابق آرمی چیف تھا ۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی فتح میں بھی یہاں زیادہ سے زیادہ وائٹ ریسسزم کو ہی دیکھا گیا حالانکہ اس کی بھی فتح میں ایک بہت بڑا کردار ایونجیلیکلز کرسچین اور امریکی زائینوسٹ نظریات کے حامی jews کا ہے ۔
    میرے ہاں تمہارے چاہنے والے ، بھارت نواز حلقے قوم کو ہمیشہ تمہارا ایک نقلی چہرہ ہی دکھاتے رہے ۔ اور جس کسی نے بھارتی لابی ، Raw کی کاروائیوں ، بنگلہ دیش بنانے کی سازشوں ، بلوچستان میں را کے کلبھوشن نیٹ ورک کے عزائم ، کے پی کے میں پہلے ٹی ٹی پی اور اب پی ٹی ایم کر بات کی اسے اسٹیبلشمنٹ کا حواری، بوٹ پالیشیا ، غیرت بریگیڈ ، انڈین فوبیا کا شکار اور آسان الفاظ میں جمہوریت کا دشمن قرار دے کر نکو بنا دیا ۔ حالانکہ سری لنکا، بنگلہ دیش ، افغانستان اور بشمول میرے (پاکستان تک میں ) ہندوستان کی خفیہ اور اعلانیہ سامراجی کاروائیوں کی ایک تاریخ گواہ ہے ۔ خدا کا شکر ہے آج انٹرنیٹ کی وجہ سے دوسرے ممالک کے رائٹرز اور صحافیوں کے مضامین اور کتابیں بآسانی مل جاتے ہیں اور میرے لوگوں کو بھی حال سے لیکر ماضی کو سمجنے میں مدد مل جاتی یے ۔

    بھارت کا آرمی چیف بپن راوت آج بھی دھڑلے سے کہتا ہے کہ ” پاکستان سیکیولر شناخت اپنا لے تو سب ٹھیک ہو جائگا” جبکہ میرے ہاں آج بھی احباب بھارت کا ذکر کرتے ہوئے پردہ دار بیبیوں کی طرح شرما کر رہ جاتے ہیں ۔ ہندوستان میں مودی کی جیت یا اسرائیل میں نیتھن یاہو کو پھر سے اقتدار مل جانا ، کبھی انکی نظروں سے نہیں گذرتا کبھی انکے کان کھڑے نہیں کرتا ۔ پی ٹی ایم کے مسائل کا رونا رونے والے کسی لبڑل کو کشمیر کا دکھ نظر نہیں آئیگا اور کشمیر و فلسطین کو گھر کے باہر کا مسلہ قرار دینے والا وہی لبڑل پیرس کے سانحے پر ڈی پیاں رنگین کرتا نظر آئیگا ۔ انکی نظر میں امریکی اسٹیبلشمنٹ کے اخبار کا جمال خاشگجی شہید صحافت اور امریکی اسٹیبلشمنٹ کے کرتوتوں سے پردہ اٹھانے والا جولین اسانج NOBODY ہوتا ہے ۔

    ان دانشوڑوں نے کبھی بھارتی لیڈروں کے اندر برسوں سے بلبلاتے پاکستان دشمنی کے ازلی کیڑے کو نمایاں کیا نہ اسکی خفیہ ایجنسی Raw کے کردار کو موضوع بحث بنایا ۔ سارک کا پورا خطہ بھارت کے مذہبی انتہا پسند لیڈروں کے اکھنڈ بھارت کے جنون میں تباہ ہورہا ہے لیکن ہمارے ہاں ایک طبقہ ہمیشہ سے را کی دی امن کی آشا کی بانسری بجاتا آرہا ہے ۔ نریندر مودی کی دوبارہ کامیابی سے جتنی جلدی ہو سکے میرے پاکستانیوں کو کچھ سبق سیکھ لینا چاہئیے ۔

    ایک تو یہ مذہب کی بنیاد پر سیاست آج بھی ہورہی ہے سو سال پہلے بھی ہورہی تھی اور سو سال بعد بھی ہوتی رہیگی ۔ یہ غلط ہے یا صحیح اس میں آرا ہو سکتی ہیں لیکن دنیا کے سب سے ترقی یافتہ ملک امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ سے لیکر مڈل ایسٹ میں نیتھن یاہو کی جیت تک اور ادھر برازیل میں بولسینیرو کی جیت سے لیکر بھارت میں نریندر مودی تک مذہب کی بنیاد پر ہی سیاست ہورہی ہے ۔ آپ جتنا اپنے ملک میں اسلام کو سائڈ لائن کرا لیں لیکن آج بھی اسرائیل ہو یا بھارت مسلم دشمنی کا نعرہ بکتا ہے ۔ اسکا مطلب یہ نہیں کہ اسلام کا جھنڈا لیکر ساری غیر مسلم دنیا کو اپنا دشمن گردان کر نفرت کرنا شروع کردی جائے ۔ یہ ایک مسلمان کے شایان شان ہی نہیں ہے ۔ لیکن دشمن کی سازشوں سے غافل رہ کر اپنا سروائول بھی نہیں کیا جاسکتا ۔ لہذا مسلمانوں اور پاکستانیوں کو بھی متحد اور متفق ہونا پڑیگا ۔ ورنہ جو حال پچھلے بیس سالوں میں افغانستان ، عراق ، لیبیا ، شام وغیرہ میں ہوچکا ہے وہی ایران ، پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ بھی ہوتا ہوا نظر آرہا ہے ۔

    بھارت جو نہرو کے دور میں غیر وابستہ ممالک کی تحریک کا رکن اور سیکولر مزاج رکھتا تھا آج مودی کے رنگ میں گیروا ہوچکا ہے اور ہندووانہ تعصب میں پاکستان دشمنی کی نفرت کی آگ میں جل رہا ہے ۔ اور جب نہرو جیسے سیکولر کہلوانے لیڈر کی بیٹی بنگلہ دیش بنانے کا کریڈٹ لیتے ہوئے دو قومی نظریے کی ناکامی کا اعلان کرتی ہے تو پھر مودی جیسی کٹر ہندوانہ ذہنیت رکھنے والے لیڈر سے کیا توقع نہ رکھی جائے ۔ بھارت پہلے بھی پاکستان کے دو ٹکڑے کر چکا ہے اور آج بھی مذید ٹکڑے کرنا چاہتا ہے ۔ پہلے را نے مشرقی پاکستان میں اپنا کھیل کھیلا اور میرا ایک بازو کٹ کر جاگرا ۔ جرنیل اور سیاستدان دونوں اس کھیل میں شامل رہے اور قوم 65 کی کامیابی کے خمار میں سوئی پڑی رہی ۔

    اب ایک دفعہ پھر وہی کھیل کھیلا جارہا ہے جب سے چین گوادر میں انٹرسٹد ہوا ہے تب سے بلوچستان توڑ کر فری بلوچستان اور کے پی کو توڑ کر افغانستان میں شامل کرنے کی راہیں ہموار کی جارہی ہیں ۔ مڈل ایسٹ کی ری اسٹرکچرنگ کی طرح پاکستان کی کانٹ چھانٹ بھی pantagon سے لیکر اسرائیلی اور بھارتی ملٹری آفیسز کی ٹیبلوں پر نہ جانے کب سے دھرا ہے ۔ اور اس میں امریکہ اسرائیل اور بھارت تینوں کا انٹرسٹ ہے ۔ کیونکہ مڈل ایسٹ کی ری اسٹرکچرنگ سے اسرائیل کے گریٹر اسرائیل بننے کے خواب کے راستے میں بھی پاکستان ایک بہت بڑی رکاوٹ ہے کیونکہ پاکستانی اسلام سے کتنا ہی دور ہوجائے ، کٹ مر جائگا لیکن مکہ یا مدینہ پر کسی کا آنکھ اٹھانا بھی برداشت نہیں کریگا کیونکہ وہ عربوں کے نہیں اسکے خدا اور رسول کے گھر ہیں اور کچھ بھی ہو پاکستان بحرحال ایک ایٹمی اور بہترین لڑاکا قوت تو ہے۔ لہذا پہلے تو پاکستانی کے بدن سے روح مُحَمَّد کو نکالا جائے پھر اسکے ڈیفنس کو ختم کیا جائے ۔

    اسی طرح دنیا میں خود کو ایک کھلاڑی منوانے سے پہلے بھارت کو ساوتھ ایشیا میں اپنے آپکو کھلاڑی منوانا ہے اور پاکستان گرتے پڑتے بھی بھارت کا یہ خواب پورا ہونے نہیں دے رہا ۔ لہذا بھارت کے خواب کی تکمیل کے لئیے پڑوسی ریاستوں اور بالخصوص مسلم پاکستان اور بنگلہ دیش کا کمزور اور لاچار ہونا لازمی ہے تو پھر بھلا نیوکلئیر طاقت بننا کیسے قبول کیا جاسکتا ہے ۔ جسے اب بھی شک ہے وہ ایران کے خلاف امریکی چارج شیٹ ملاحظہ کر سکتا ہے ۔ پاکستان کا چین کے ساتھ چلتے ہوئے اپنی معاشی اور دفاعی خودمختاری کی طرف قدم بڑھانا امریکہ اور بھارت کو شدید اضطراب میں ڈالے ہوئے ہے جتنا تیزی پاکستان سی پیک پر دکھا رہا ہے اتنا ہی زور بھارت پاکستان میں پاکستان مخالف کاروائیوں پر لگا رہا ہے ۔

    جیسے Raw نے مشرقی پاکستان میں مکتی باہنی بنائی شیخ مجیب الرحمان پر ہاتھ رکھا ویسے ہی پاکستان میں ایم کیو ایم کے الطاف حسین سے لیکر بلوچ لیڈروں اور طالبان کے مذہبی شدت پسندوں سے لیکر سیکیولر پی ٹی ایم تک سب کو دامے درمے سخنے سپورٹ کیا ۔ افسوس اس بات کا ہے کہ جس جس لیڈر نے پاکستان کے خلاف ذہر اگلا اس اس لیڈر کو ہمارے لبڑلز، ہمارے دانشوڑ حضرات نے سر آنکھوں پر بٹھایا ۔ بلکہ ایک طرح سے انہیں لیڈر بننے میں مدد دی ۔ ناراض بلوچ سے لیکر ناراض بچے کہہ کہہ کر کبھی بھی انکے پروپیگنڈے کے نقائص سامنے نہیں لائے ۔ فوج سے ازلی دشمنی میں جس نے پاکستان کو گالی دی احباب نے اسے گلے لگا کر لیڈر بنا دیا ۔ پتہ نہیں حب علی ہے یا بغض معاویہ ۔

    ہر دفعہ کی طرح اس دفعہ بھی پہلے سے پایا جانے والا احساس محرومی کیش کرایا جارہا ہے ۔ اس میں تو کوئی شک نہیں کہ احساس محرومی تو پاکستان کے ہر شہر میں ہے لیکن بلوچستان اور کے پی اور اسکے قبائلی علاقے اسکا بہت بری طرح کا شکار ہیں ۔ احساس محرومی کا شکار نہ ہوں تو کبھی کسی کو علیحدگی پسندانہ نظریات پھیلانے کا موقع ہی نہ ملے ۔ لیکن یہ کونسا اصول ہے کہ احساس محرومی کا ذمہ دار خالی فوج کو ٹہرا کر سیاستدانوں کو کلین چٹ دے دی جائے ۔ منظور پشتین ، محسن داوڑ ایک طرف تو نقیب محسود کی لاش پر اپنی سیاست چمکاتے ہیں تو دوسری طرف راو انوار جن زرداری صاحب کا اپنا بچہ تھا انہی زرداری صاحب کی افطار میں شرکتیں کرتے ہیں ادھر محسن داوڑ اور علی وزیر فوجی چوکی پر حملہ کر کے بدامنی پھیلاتے ہیں وہیں بلاول بھٹو انہیں کلین چٹ دے دیتا ہے ۔ اسی پی ٹی ایم کی قیادت کو ناراض بچے ناراض بچے کہہ کہہ کر لاہور سے لیکر اسلام آباد تک میں جلسے جلوس کرانے کے لئیے فیسیسلیٹیٹ کیا گیا ۔ لاہور کے منظور پشتین کے جلسے کو پوری لبڑل لابی نے بڑی دلجمعی کے ساتھ گلوریفائی کیا اور پختون قوم کے درد مند بتایا ۔ حالانکہ ان سوالوں کا جواب کوئی نہیں دیتا تھا کہ جب تک فاٹا طالبان کے ہاتھوں تباہ ہورہا تھا اس وقت تو منظور پشتین کہیں کھڑا نہیں تھا اور جب قبائلی علاقوں کو مرجر کے بعد مرکزی دھارے میں لایا جارہا ہے تو یہ لر و بر افغان کا نعرہ لگا رہے ہیں ۔ اور اسی طرح بلوچستان کو بھی ترقی کے راستے پر آنے سے روکنے کے لئیے کوئیٹہ سے لیکر گوادر تک پھر سے دہشت گردی کا نشانہ بنایا جارہا ہے ۔
    ان نازک لمحات میں قوم کا ڈیوائڈ ہونا دشمن کی سب سے بڑی کامیابی ہے اور اس وقت حال یہی ہے کہ نہ ہمیں دشمنوں کا احساس ہے اور نہ انکے عزائم کا ضرورت اس بات کی ہے پاکستانی بھی اب بھارت اسرائیل اور امریکہ کے عزائم کو سمجھیں اور ملک کی تعمیر و ترقی کے لئیے جت جائیں کیونکہ ملک کی مضبوطی قوم کے اتحاد کا تقاضہ کرتی ہے اور اگر قوم ہی ڈیوائڈ ہو تو اسلحے کے انبار بھی کام نہیں آتے ۔