Baaghi TV

Tag: بھارت

  • بھارت کو ایک اور دھچکا، چین نے لداخ کے اہم حصے اپنے نام کرلئے

    بھارت کو ایک اور دھچکا، چین نے لداخ کے اہم حصے اپنے نام کرلئے

    چین نے ہوتان پریفیکچر میں لداخ کے کچھ حصے شامل کر کےدو نئی کاؤنٹیوں کے قیام کا اعلان کر دیاہے ، اس پیشرفت پر مودی حکومت سیخ پا ہے-

    باغی ٹی وی : بھارتی وزارت خارجہ نے جمعہ کو بیجنگ کے خلاف احتجاج بھی ریکارڈ کرایایہ پہلا موقع ہے جب بھارت اور چین نے ہمالیائی سرحدی تنازعے پر کھلے طور پر اعتراض کیا ہےچین کی جانب سے یہ اعلان 5 سال بعد سرحدی مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے چند دن بعد کیا گیا ،بھارتی قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول نے گزشتہ ماہ بیجنگ کا دورہ کرکے سرحدی علاقوں پر مذاکرات بھی کئے تھے

    دسمبر 2024ء میں چینی دفاعی ترجمان نے کہا تھا کہ:’’سرحدی علاقوں میں امن برقرار رکھنے کیلئے مشترکہ کوششوں کیلئے تیار ہیں‘‘

    بھارت کو ایک اور دھچکا، چین نے لداخ کے اہم حصے اپنے نام کرلئے

    بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جسوال کا کہنا ہے کہ ’’ہوتان پریفیکچر میں دو نئی کاونٹیز کے کچھ حصے لداخ میں آتے ہیں‘‘

    چینی خبر رساں ادارے ژنہوا کے مطابق ’’ہیآن کاؤنٹی اور ہیکانگ کاؤنٹی کا قیام چینی کمیونسٹ پارٹی اور ریاستی کونسل کی منظوری کے بعد کیا گیا‘‘،ہیان کی کاؤنٹی کا سیٹ ہونگلیوٹاؤن شپ ہے، جبکہ ہیکانگ کی کاؤنٹی کا سیٹ زیڈولا ٹاؤن شپ ہے، ان کاؤنٹیوں میں اکسائی چن کے علاقے کا ایک بڑا حصہ شامل ہے، جس پر بھارت چین پر غیر قانونی طور پر قبضے کا الزام لگاتا ہے-

    امریکی صدر جوبائیڈن اور اہلیہ کو کتنے قیمتی تحائف موصول ہوئے؟

    دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ 2020 میں لداخ میں سرحدی کشیدگی کے دوران دونوں ممالک کی فوجوں کے درمیان جھڑپوں میں کئی بھارتی فوجی ہلاک ہوئے بھارت اور چین کے درمیان سرحدی تنازع پر نئی پیشرفت خطے میں مزید کشیدگی کا باعث بن سکتی ہے، چین کبھی بھی ایسا قدم نہیں اٹھاتا جس میں اسے کوئی شک و شبہ ہو لہٰذا اب بھارت کیلئے مشکلات بڑھیں گی-

    دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کی وزارت خارجہ کی جانب سے واویلا دراصل خطے میں اسکی بالادستی کے خواب کو لگے دھچکے کارد عمل ہے، بھارت نے مقبوضہ کشمیر پر غیر قانونی قبضہ جمارکھا ہے اوراب چین کے ہاتھوں اسکےساتھ بھی وہی ہوا  –

    کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے سرفراز احمد کو ڈرافٹ سے ریلیز کر دیا

    نئی کاؤنٹیز کے قیام کا نہ تو علاقے پر ہماری خودمختاری کے حوالے سے ہندوستان کے دیرینہ اور مستقل موقف پر کوئی اثر پڑے گا اور نہ ہی اس پر چین کے غیر قانونی اور زبردستی قبضے کو قانونی حیثیت ملے گی۔

    دونوں فریقوں نے گزشتہ اکتوبر میں ایل اے سی کے ساتھ ملٹری گشت پر ایک معاہدے پر اتفاق کیا تھا، جو مئی 2020 سے کشیدگی کا مسئلہ بنا ہوا تھا جب حریف فوجیں لداخ میں 3,500 کلومیٹر (2,174 میل) لائن آف ایکچوئل کے ساتھ مٹھی لڑائی میں مصروف تھیں۔ کنٹرول — متنازعہ جموں و کشمیر کے علاقے لداخ میں ان کی ڈی فیکٹو بارڈر۔

    شادی سے انکار کرنے پر 50 سالہ خاتون ڈاکٹر کا نوجوان پر تشدد،زبان کاٹ دی

    جولائی 2020 میں ہونے والی جھڑپوں میں کم از کم 24 فوجی مارے گئے تھے جن میں سے 20 ہندوستان اور چار چین سے تھے۔ اس کے نتیجے میں ایک کشیدہ اور طویل عرصے سے جاری تعطل پیدا ہوا جس میں دونوں فریقوں نے خطے میں ہزاروں فوجی اہلکار اور بھاری ہتھیاروں کو تعینات کرتے دیکھا ہے۔

    خطے میں کشیدگی بھارت کی جانب سے جموں و کشمیر کو تقسیم کرنے اور لداخ کو خطے سے دو وفاق کے زیر انتظام مرکزی زیر انتظام علاقوں میں تقسیم کرنے کے چند ماہ بعد شروع ہوئی تھی، تاہم، کشیدگی میں آسانی اس وقت آئی جب دونوں ممالک کے سفارت کاروں نے کئی میٹنگیں کیں اور بعد میں ہندوستانی قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول نے دسمبر میں بیجنگ کا دورہ کیا جہاں انہوں نے چینی نائب صدر ہان ژینگ سمیت حکام سے ملاقات کی۔

    سائبر ٹرک دھماکے سے پھٹنے کے بعد ٹیسلا کا بڑا قدم

  • آسٹریلیا سے شکست:بھارت  ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے فائنل سےباہر

    آسٹریلیا سے شکست:بھارت ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے فائنل سےباہر

    سٍڈنی: آسٹریلیا نے سڈنی ٹیسٹ میں بھارت کو شکست دے کر 5 میچوں پر مشتمل بورڈر گواسکر ٹرافی اپنے نام کر لی۔

    باغی ٹی وی: آسٹریلیا نے بھارت کو سڈنی ٹیسٹ میں 6 وکٹوں سے شکست دےکر ورلڈ ٹیسٹ چیمپئین شپ کے فائنل کے لیے بھی کوالیفائی کر لیا سڈنی ٹیسٹ میں آسٹریلیا نے 6 وکٹوں سےکامیابی حاصل کی، انڈیا نے پہلی اننگز میں 185 اور دوسری اننگز میں 157 رنز بنائے ۔

    آسٹریلیا نے پہلی اننگز میں 181 اور دوسری اننگز میں 4 وکٹوں پر 162رنز بنائے دوسری اننگز میں آسٹریلیا کی جانب سے ڈیبیو کرنے والے بیو ویسٹر نے ناقابل شکست 38 رنز بنائے جبکہ ٹریوس ہیڈ 34 رنز بنا کر ناٹ آوٹ رہے۔

    صدر آصف زرداری کا صائم ایوب کو فون،چوٹ کے بارے دریافت

    آسٹریلیا کے اسکاٹ بولینڈ میچ میں مجموعی طور پر 10 وکٹیں حاصل کرنے پر بہترین کھلاڑی قرار پائے جبکہ بھارت کے جسپریت بمراہ کو سیریز میں 32 وکٹیں لینے اور 42 رنز بنانے پر بہترین کھلاڑی کا ایوارڈ دیا گیا۔

    دوسری جانب جنوبی افریقا ورلڈ ٹیسٹ چیمئن شپ کے لیے کوالیفائی کر چکا ہے، اس بار ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کا فائنل آسٹریلیا اور بھارت کے درمیان ہوگا۔

    خواجہ معین الدین چشتی اجمیریؒ کا عرس ،بھارت نے 400 پاکستانی زائرین کے ویزے روک لیے

  • بھارت کے نامور ایٹمی سائنسدان چل بسے

    بھارت کے نامور ایٹمی سائنسدان چل بسے

    نئی دہلی: بھارت کے 1975 اور 1998 کے جوہری تجربات میں مرکزی کردار ادا کرنے والے نامور سائنسدان راجگو پالا چدمبرم انتقال کر گئے-

    باغی ٹی وی : بھارتی جوہری توانائی کے اعلامیہ کے مطابق ہندوستان کے نامور ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر راجگو پالا چدمبرم 4 جنوری 2025 کی صبح انتقال کر گئے، سائنس میں ان کی بصیرت اور ٹیکنالوجی کے حوالے سے ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا چدمبرم 1936 میں پیدا ہوئے، وہ چنائی کے پریذیڈنسی کالج اور انڈین انسٹی ٹیوٹ آف سائنس، بنگلورو کے سابق طالب علم تھے-

    جوہری توانائی کے اہلکار نے بتایا کہ 88 سالہ چدمبرم جوہری ہتھیاروں کے پروگرام سے وابستہ تھے،ان کے قریبی لوگوں کے مطابق، چدمبرم نومبر میں بی اے آر سی میں گر گئے تھے اور ان کے سر میں چوٹ آئی تھی اور انہیں جسلوک ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ انہیں ڈسچارج کر دیا گیا تھا، لیکن صحت کے مسائل کی وجہ سے دوبارہ داخل کر دیا گیا اور آج صبح ان کا انتقال ہو گیا۔

    ورلڈ بینک سے پاکستان کو 40 ارب ڈالرز قرض ملنے کا امکان

    اعلامیہ کے مطابق ،چدمبرم ملک کے مختلف اہم عہدوں پر فائز رہے، جن میں بھارت کے پرنسپل سائنسی مشیر (2001-2018)، بھابھا اٹامک ریسرچ سینٹر کے ڈائریکٹر (1990-1993) رہے۔چدمبرم اٹامک انرجی کمیشن کے چیئرمین اور ہندوستان حکومت کے سیکرٹری (1993-2000) بھی رہے انہوں نے انٹرنیشنل اٹا مک انرجی ایجنسی (IAEA) (1994–1995) کے بورڈ آف گورنرز کے چیئرمین کے طور پر بھی خدمات سرانجام دیں، چدمبرم نے ہندوستان کی جوہری صلاحیتوں میں اضافے کے لئے اہم کردار ادا کرتے ہوئے 1974 میں ملک کے پہلے جوہری تجربے میں اہم کردار ادا کیا، اور 1998 میں پوکھران-II جوہری تجربات کے دوران محکمہ جوہری توانائی کی ٹیم کی قیادت کی۔

    68 سالہ شخص نے اپنی ہونے والی بہو سے شادی رچا لی

    بھارتی جوہری توانائی کے اعلامیہ کے مطابق عالمی معیار کے ماہر طبیعیات کے طور پر ڈاکٹر چدمبرم کی تحقیق نے ہائی پریشر فزکس، کرسٹا لوگرافی اور میٹریل سائنس کے شعبوں نمایاں اضافہ کیا ڈاکٹر چدمبرم نے بھارت میں توانائی، صحت کی دیکھ بھال اور اسٹریٹجک خود انحصار ی جیسے شعبوں کی ترقی اور متعدد پروجیکٹوں کو مکمل کیا، انہوں نے ہندوستان کے سائنس و ٹیکنالوجی کے منظر نامے کو نمایاں طور پر آگے بڑھایا۔

    اعلامیہ کے مطابق سپر کمپیوٹرز کی ہندوستان کی مقامی ترقی کی شروعات اور نیشنل نالج نیٹ ورک کو تصور کرنے میں بھی ان کا اہم کردار تھا، چدمبرم نے ملک میں تحقیق اور تعلیمی اداروں کو فروغ دیا،انہیں 1975 میں پدم شری اور 1999 میں پدم وبھوشن سمیت دیگر اہم ملکی اعزازات سے نوازا گیا ان کو کئی یونیورسٹیوں سے ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگریاں ملیں، وہ ممتاز ہندوستانی اور بین الاقوامی سائنس اکیڈمیوں کے سربراہ تھے۔

    چین میں پھیلنے والا وائرس 2 دہائیوں سے پاکستان میں موجود ؟

    بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سمیت کئی سیاسی رہنماؤں نے ہندوستان کے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام میں بھرپور کردار ادا کرنے پر ڈاکٹر چدمبرم کو خراج عقیدت پیش کیا ہے۔

  • سوشل میڈیا کی دوستی،بھارتی نوجوان پاکستان پہنچ گیا

    سوشل میڈیا کی دوستی،بھارتی نوجوان پاکستان پہنچ گیا

    بھارت کی ریاست اتر پردیش کے ضلع علی گڑھ سے تعلق رکھنے والے ایک 30 سالہ نوجوان بادل بابو نے سوشل میڈیا پر پاکستانی لڑکی سے محبت میں گرفتار ہو کر غیر قانونی طور پر سرحد پار کی اور پاکستان پہنچ گیا۔

    بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، بادل بابو نے فیس بک پر ایک پاکستانی لڑکی سے دوستی کی تھی، جس کے بعد وہ اس لڑکی سے ملنے کے لیے سرحد عبور کر کے پاکستان پہنچا۔ پاکستانی حکام نے اُسے گرفتار کر لیا ہے اور اس وقت اس سے تفتیش جاری ہے۔رپورٹ کے مطابق، بادل بابو نے پاکستانی حکام کو بتایا کہ اس کی ملاقات اس پاکستانی لڑکی سے فیس بک پر ہوئی تھی، اور وہ اُسی سے ملنے کے لیے پاکستان آیا تھا۔ پاکستانی حکام اس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ بادل بابو نے کس طرح سرحد پار کی اور کیا اس کے پاس قانونی دستاویزات تھے یا نہیں۔

    اس واقعہ نے ایک اور بار یہ سوال اٹھایا ہے کہ سوشل میڈیا اور آن لائن پلیٹ فارمز پر ہونے والی محبتوں کے باعث لوگ اپنی زندگیوں کو خطرے میں ڈال کر سرحدوں کو پار کرتے ہیں۔یہ پہلا واقعہ نہیں ہے جب کسی نے سوشل میڈیا کے ذریعے محبت کے نتیجے میں سرحد پار کی ہو۔ اس سے پہلے بھی متعدد افراد نے ایسی محبتوں کے نتیجے میں غیر قانونی طور پر سرحد عبور کی ہیں۔ سال 2023 میں، سیما حیدر نامی پاکستانی خاتون نے پب جی گیم پر بھارتی لڑکے سے دوستی کی اور اس کے بعد وہ اپنے چار بچوں کے ساتھ نیپال کے راستے بھارت پہنچ گئیں، جس کے بعد بھارتی پولیس نے انہیں گرفتار کر لیا تھا۔

    اسی سال، 19 سالہ پاکستانی لڑکی اقرا جیوانی کی دوستی 25 سالہ بھارتی شہری ملائم سنگھ یادیو سے آن لائن گیم کے ذریعے ہوئی۔ اس دوستی کے بعد دونوں نے نیپال میں شادی کر لی۔ اس طرح کے واقعات سوشل میڈیا کی محبتوں کے حوالے سے ایک نیا رجحان بن گئے ہیں جہاں افراد اپنی زندگیوں کے فیصلے آن لائن تعلقات کے نتیجے میں کرتے ہیں۔

    پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات ہمیشہ کشیدہ رہے ہیں، اور سرحد پار محبت کی کہانیاں دونوں ممالک میں خبریں بن چکی ہیں۔ گزشتہ سال ایک بھارتی لڑکی انجو نے فیس بک پر دوستی کے بعد پاکستان آ کر دیر بالا میں پاکستانی نوجوان نصر اللہ سے نکاح کیا تھا۔ ایسے واقعات معاشرتی اور سیاسی سطح پر دونوں ممالک میں بحث کا موضوع بنتے ہیں۔

    ان واقعات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ سوشل میڈیا نے محبت اور تعلقات کے تصور کو نئی جہت دی ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ان تعلقات کے نتیجے میں پیدا ہونے والی مشکلات بھی سامنے آئی ہیں۔ سرحدوں کے پار جانے والے افراد کو قانونی پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور بعض اوقات ان کی زندگیاں خطرے میں بھی آ جاتی ہیں۔پاکستانی حکام اس وقت بادل بابو کی تفتیش کر رہے ہیں اور یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا وہ کسی اور مقصد کے لیے سرحد پار کر کے آیا تھا یا صرف محبت کی وجہ سے ایسا کیا۔ اس واقعہ نے ایک بار پھر اس بات کو اجاگر کیا ہے کہ سوشل میڈیا کا اثر افراد کی ذاتی زندگیوں پر کتنا گہرا ہوتا جا رہا ہے۔

    مری میں بارش متوقع،پنجاب میں دھند،سندھ میں موسم سرد،خشک

    جاپانی فحش فلموں کی اداکارہ کی دورہ لاہور کی تصاویر وائرل

  • 2009 میں بنگلہ دیش رائفلز  کی بغاوت کے بعد قتل عام کی تحقیقات کا آغاز

    2009 میں بنگلہ دیش رائفلز کی بغاوت کے بعد قتل عام کی تحقیقات کا آغاز

    2009 میں بنگلہ دیش رائفلز کی بغاوت کے بعد قتل عام کی تحقیقات کا آغازکر دیا گیا

    25 سے 26 فروری 2009ء کو بنگلہ دیش رائفلز کی جانب سے ہیڈکوارٹرز پلکھانا میں بغاوت ہوئی،غیر معمولی حالات کے دوران کم از کم 74 افراد کی ہلاکت ہوئی جس میں کئی شہری شامل تھے،ایک رپورٹ کے مطابق حالات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے وزیراعظم شیخ حسینہ واجد نے بھارت سے مدد مانگی،بھارت بنگلہ دیش کے حالات کو خراب کرنے میں اہم کردار ادا کرتا رہا ہے،بغاوت کے بعد مختلف حلقوں نے الزامات عائد کیے کہ شیخ حسینہ اور بھارتی حکام نے سیاسی فائدے کے لیے اس صورتحال کو ترتیب دیا تھا،

    لواحقین کے مطالبے پر بنگلہ دیش نے 2009 کی بغاوت کے حوالے سے نئی تحقیقات کا آغاز کیا ہے، جس میں غیر ملکی مداخلت کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے، بنگلہ دیش میں 2009 کی بنگلہ دیش رائفلز کے بغاوت کے متاثرین کے اہل خانہ اپنے پیاروں کے لیے انصاف اور مزید تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں،مظاہرین بنگلہ دیش رائفلز (بی ڈی آر) کے اصل نام کی بحالی کا بھی مطالبہ کر رہے ہیں، کیونکہ بغاوت کے بعد اس کا نام تبدیل کرکے "بارڈر گارڈ بنگلہ دیش(بی جی بی) رکھا گیا تھا،بھارت کی مداخلت نے بنگلہ دیش میں فوج اور حکومت کے درمیان اختیارات کے توازن کو بدل کر رکھ دیا،حقائق یہ بات ثابت کرتے ہیں کہ بھارت خطے کے چھوٹے ممالک میں ہمیشہ سیاسی عدم استحکام پیدا کرتا رہا ہے

    سال 2024 میں دنیا بھی میں 68 صحافیوں کی ہلاکت

    کراچی، فرنیچر مارکیٹ میں آگ ، 30 سے زائد دکانیں جل گئیں

  • جاسوسی سرگرمیاں، بھارت کے عرب ممالک کے ساتھ تعلقات کشیدہ

    جاسوسی سرگرمیاں، بھارت کے عرب ممالک کے ساتھ تعلقات کشیدہ

    بھارت کے عرب ممالک کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہو گئے، بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر 30 دسمبر 2024 سے قطر کا تین روزہ دورہ کر رہے ہیں۔

    باغی ٹی وی کے مطابق اگست 2022 میں قطر نے دہرا گلوبل ٹیکنالوجیز کے تحت کام کرنے والے 8 سابق بھارتی بحریہ افسران کو جاسوسی کے الزامات پر گرفتار کیا، ان پر قطر کی U212 جدید آبدوزوں کی خفیہ معلومات اسرائیل، بھارت کی ایجنسی را اور ایران کے ساتھ شیئر کرنے کا الزام تھا۔قطر کی 2024 میں کل آبادی تقریباً 3.12 ملین ہے، جن میں صرف 12 فیصد قطری شہری ہیں، ہندوستانی سب سے بڑی تارکین وطن برادری ہیں، جو کل آبادی کا تقریباً 21.8 فیصد ہیں اور تعمیرات، صحت عامہ اور ٹیکنالوجی جیسے شعبوں میں خدمات فراہم کرتے ہیں۔ان افسران میں کپتان نووتج سنگھ گل اور بیرندر کمار ورما جیسے اعلیٰ عہدے کے افراد شامل تھے، 2023 میں سزائے موت سنانے کے بعد انہیں فروری 2024 میں رہا کر دیا گیا۔بھارتی وزیر خارجہ کا یہ دورہ جاسوسی کے الزامات، تارکین وطن کے تنازعات، اسرائیل کی حمایت اور غیر جانبداری کے خدشات کے درمیان ہندوستان کے تعلقات کو نئے سرے سے جوڑنا ہے، کیونکہ عرب ممالک کے لیے ہندوستان کی قابل اعتماد حیثیت پر کافی سوالات اٹھتے ہیں۔بھارت کی عالمی جاسوسی سرگرمیاں دستاویزی طور پر ثابت ہوچکی ہیں، 2019 میں ایک بھارتی جوڑے کو جرمنی میں کشمیری اور سکھ گروہوں پر جاسوسی کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔اس سے قبل 2016 میں بھارتی بحریہ کے کمانڈر کلبھوشن یادو کو پاکستان میں دہشت گرد نیٹ ورک چلانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا، 2015 میں سری لنکا نے سیاسی مداخلت کے لیے بھارت کے را کے اسٹیشن چیف کو ملک بدر کیا۔نریندر مودی کے باعث بھارت کی خارجہ پالیسی میں نمایاں تبدیلی آئی ہے، اسرائیل کے ساتھ قریبی تعلقات قائم کئے جاچکے ہیں، 2024 میں بھارت نے فلسطین کی جانب سے پیش کردہ پہلی اقوام متحدہ کی قرارداد پر ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا، جو اس کے روایتی فلسطین نواز موقف سے ہٹ کر تھا۔اس فیصلے نے بھارت کو BRICS بلاک اور دیگر جنوبی ایشیائی ممالک سے دور کر دیا، جس سے اس کی غیر جانبداری پر خدشات پیدا ہوئے ہیں، یہ عمل فلسطین بحران کے درمیان بھارت اور اسرائیل کے بڑھتے ہوئے اتحاد کی عکاسی کرتا ہے۔عرب دنیا میں بھارت کی قابل اعتماد حیثیت پر سوالات کھڑے ہو چکے ہیں، حماس حملوں کے بعد اسرائیل نے اپنے سرکاری اکاؤنٹ پر بھارت کا عوامی طور پر شکریہ ادا کیا، بھارتی اکاؤنٹس سے پرو اسرائیل ہیش ٹیگز کا رجحان نمایاں نظر آتا ہے۔بھارتی تارکین وطن برادری نے عالمی سطح پر اہم کردار ادا کیا ہے لیکن ان کی سرگرمیاں اکثر تنقید کا شکار رہتی ہیں، مشرق وسطیٰ میں، تارکین وطن کی کمیونٹیز ثقافتی اور اقتصادی تبادلے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں لیکن انہیں ہندوتوا نظریے کو فروغ دینے سے باز نہیں آتے۔آسٹریلیا میں بھی بھارتی خفیہ کارروائیاں بے نقاب ہوئیں، جہاں را کے ایجنٹوں نے تارکین وطن کی کمیونٹیز اور سیاستدانوں کو نشانہ بنایا، سکیورٹی کلیئرنس رکھنے والے افراد کو بھرتی کیا اور حساس دفاعی معلومات تک رسائی حاصل کی۔عرب ممالک کو بھارت پر اپنے اعتماد پر نظرثانی کرنی چاہیے، مضبوط ثقافتی اور اقتصادی تعلقات کے باوجود، جاسوسی، اسرائیل کی حمایت، اور نظریاتی اثرات جیسے واقعات مشرق وسطیٰ میں تعلقات کی پاکیزگی کے لئے چیلنج ہیں۔

    دبئی: 461 ملین درہم کی منی لانڈرنگ کرنے والا گروہ گرفتار

    جو بائیڈن کا یوکرین کیلئے 2 ارب 50 کروڑ ڈالر امداد کا اعلان

    اہلسنت و الجماعت کا بھی کراچی میں دھرنوں کا اعلان

    پراپرٹی ٹیکس کمی کیلئے آئی ایم ایف سے رابطے کا فیصلہ

    پنجاب حکومت نے ایک استعفیٰ مانگا، 31 استعفے آ گئے

  • پوسٹ مارٹم کے دوران مردہ شخص کے حلق سے زندہ چوزا نکل آیا

    پوسٹ مارٹم کے دوران مردہ شخص کے حلق سے زندہ چوزا نکل آیا

    پوسٹ مارٹم کے دوران ڈاکٹرز اس وقت حیران رہ گئے جب مردہ شخص کے حلق سے زندہ چوزا نکل آیا –

    باغی ٹی وی: بھارتی میڈیا کے مطابق چھتیس گڑھ سے تعلق رکھنے والے ایک 35 سالہ شخص کے پوسٹ مارٹم کے دوران ایک زندہ چوزا حلق میں بند پایا گیا، جس سے کئی سوالات کھڑے ہوگئے آنند یادو کو گھر میں نہانے کے بعد اچانک چکر آنے لگے اور وہ بے ہوش ہو گیا جس کے بعد اسے ہسپتال لے کر جایا گیا تو ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دیا۔

    پہلے تو ڈاکٹروں کو معلوم نہیں تھا کہ اس کی موت کیوں ہوئی، لیکن پوسٹ مارٹم کرنے کے بعد انہیں ایک حیران کن وجہ معلوم ہوئی کہ تقریباً 8 انچ زندہ چوزا، اس کے گلے میں پھنس گیا تھا۔

    خلیل الرحمان قمر کیس، آمنہ عروج کی درخواست ضمانت پر سماعت ملتوی

    پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹر سنتو بیگ نے کہا کہ چوزا پھنسنے کے باعث آنند کی سانس کی نالی اور گلا بند ہوگیا تھا جس کی وجہ سے اس کا دم گھٹنے لگا، ڈاکٹر بیگ، جنہوں نے 15 ہزار سے زائد پوسٹ مارٹم کیے ہیں، نے کہا کہ میں نے اپنے کیریئر میں اس طرح کا کیس پہلے کبھی نہیں دیکھا۔

    سابق کرکٹر ارشد پرویز انتقال کر گئے

    علاقے کے لوگوں نے بتایا کہ آنند یادو کو بچے پیدا کرنے کے مسائل کا سامنا تھا، اس لیے وہ مدد کے لیے ایک جعلی عامل کے پاس گیا۔ لوگوں کا خیال ہے کہ جعلی عامل نے اسے حلق میں چوزا رکھنے کا مشورہ دیا جس پر اس نے عمل کیا، پولیس کا کہنا ہے کہ حکام یادیو کی موت کی تحقیقات کر رہی ہے۔

    ریشم کی منفرد دعا جس کے باعث وہ تاحال غیر شادی شدہ ہیں

  • سوشل میڈیا کی دوستی،  منڈی بہاؤالدین پہنچنے والا بھارتی گرفتار

    سوشل میڈیا کی دوستی، منڈی بہاؤالدین پہنچنے والا بھارتی گرفتار

    سوشل میڈیا پر دوستی کی ایک اور حیران کن داستان سامنے آئی ہے، جہاں ہمسایہ ملک بھارت کا رہائشی مجنوں اپنی لیلیٰ کو پانے کے لیے پاکستانی سرزمین تک پہنچ گیا۔

    بھارتی شہری بادل بابو ولد کرپال سنگھ، جو کہ بھارت کے صوبہ پنجاب کے علاقے سے تعلق رکھتا ہے، سوشل میڈیا پر نواحی گاؤں مونگ کی رہائشی لیلیٰ کے ساتھ دوستی کی تھی۔بتایا گیا ہے کہ بادل بابو کی لیلیٰ کے ساتھ سوشل میڈیا پر تعلقات اتنے بڑھ گئے کہ وہ اپنی محبوبہ سے ملنے کے لیے پاکستان پہنچ آیا۔ اس نے بغیر کسی قانونی سفری دستاویزات کے پاکستان کی سرحد عبور کی اور مونگ کے قریب ایک مقام پر قیام کیا۔جب مقامی لوگوں کو اس بھارتی شہری کی موجودگی کا علم ہوا، تو انھوں نے فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی۔ پولیس تھانہ صدر نے فوری کارروائی کرتے ہوئے بادل بابو کو گرفتار کر لیا اور اسے حوالات میں بند کر دیا۔ پولیس نے اس کے خلاف فارن ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔

    مقدمہ سب انسپکٹر غلام رضا کی مدعیت میں درج کیا گیا، جس میں کہا گیا کہ گرفتار بھارتی شہری پولیس کو پاکستان میں قیام کے حوالے سے کوئی قانونی دستاویزات فراہم نہیں کر سکا۔ پولیس حکام کے مطابق بادل بابو کے خلاف کارروائی جاری ہے اور اسے قانونی کارروائی کے بعد عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

    یہ واقعہ سوشل میڈیا کے ذریعے پیدا ہونے والی محبت اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے قانونی مسائل کی عکاسی کرتا ہے، جو کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں پیچیدگیاں پیدا کر سکتے ہیں۔ پولیس حکام نے عوام کو اس بات کا مشورہ دیا ہے کہ وہ غیر قانونی طریقے سے کسی دوسرے ملک جانے کی کوشش نہ کریں، کیونکہ ایسا عمل نہ صرف قانون کے خلاف ہے بلکہ اپنی زندگی کو بھی خطرے میں ڈال سکتا ہے۔مقامی عوام اس واقعے کو ایک سنگین صورتحال کے طور پر دیکھ رہے ہیں، کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان سیکیورٹی اور سفری قوانین کی سختی کے باوجود ایسی کوششوں کا ہونا ایک سنگین نوعیت کی بات ہے۔

    جنوبی کوریا،طیارہ حادثے میں شکار مسافر کی آخری گفتگو

    سابق امریکی صدر جمی کارٹر کی وفات،جوبائیڈن سمیت سابق صدور کا اظہار تعزیت

  • بھارتی دہشت گردی، پاکستان کا دفاع اور ٹرمپ کی پالیسی، تجزیہ : شہزاد قریشی

    بھارتی دہشت گردی، پاکستان کا دفاع اور ٹرمپ کی پالیسی، تجزیہ : شہزاد قریشی

    پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان کسی عالمی طاقت کے توازن میں بگاڑ کے لئے کسی بھی قسم کے عزائم نہیں رکھتا یہ بات امریکہ سمیت مغربی ممالک جانتے ہیں کہ بائیڈن انتظامیہ نے پاکستان کے بارے میں ایک متنازعہ فیصلہ کیاہے۔ بائیڈن انتظامیہ کے فیصلے کو لے کر ہمارے سیاستدانوں نے دلیل کے بجائے غلیل اٹھا لی ہے جیسا کہ ملک کے صدر آصف علی زرداری اوربلاول بھٹو نے اپنی تقریر میں امریکہ کو للکارا ہے۔ یہ جانتے ہوئے کہ بائیڈن انتظامیہ اور ٹرمپ انتظامیہ کی خارجہ پالیسی میں بہت فرق ہے ۔ ٹرمپ انتظامیہ کی پاکستان کے بارے کیا پالیسی ہوگی ۔ بہت ہی تھوڑا فاصلہ باقی ہے۔ امریکہ اور مغربی ممالک جانتے ہیں کہ بھارت پاکستان کو لیکر کس پالیسی پر گامزن ہے ۔ بھارت کے جارحانہ عزائم سے امریکہ سمیت عالمی قوتیں آگاہ ہیں اور پاکستان کو اپنی سلامتی اور بقا کو برقرار رکھنے کے لئے اپنا دفاع مضبوط رکھنے کا پورا حق ہے۔پاکستان کے دفاع کو مستحکم دیکھ کر بھارت کو تکلیف ہے۔ بھارت نے خود خطے میں سب سے زیادہ تباہ کن ہتھیار حاصل کئے ہوئے ہیں ۔ عالمی طاقتوں سے دفاعی نظام حاصل کر رکھا ہے ۔ اُمید ہے کہ آنے والی ٹرمپ انتظامیہ بائیڈن انتظامیہ کے ان فیصلوں پر عمل نہیں کرے گی امریکہ اور پاکستان دونوں اتحادی ملک ہیں پاکستان نے 9/11 کے بعددہشت گردی کے خاتمے کے لئے جانی و مالی قربانیاں دی ہیں۔ آج تک پاکستان دہشت گردی کی زدمیں ہے ۔عالمی دنیا یہ بھی جانتی ہے کہ افغانستان میں قیام امن کے لئے پاکستان کا کردار کیا رہا اور بھارت افغانستان میں قیام امن کو برباد کرنے کا کردار ادا کرتا ہے۔ دہشت گردوں کی پشت پناہی میںملوث رہا جبکہ پاکستان میں دہشت گردی میں بھی ملوث رہا جس کا ثبوت پاکستان کے پاس موجود ہے۔ نئی آنے والی ٹرمپ انتظامیہ کو بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے ۔ مشرق وسطیٰ سمیت روس یوکرین جنگ عالمی تجزیہ نگاروں کے مطابق مشرق و سطیٰ میں طویل جنگ نہیں چاہتے جبکہ امریکی دفاعی ادارے چین کو امریکی طاقت اور مفاعدات کے لئے سب سے زیادہ ممکنہ چیلنجز کے طورپر دیکھ رہے ہیں۔ٹرمپ کے پاس عالمی دنیا کے لئے نئی خارجہ پالیسی کا تعین کرنے کا اہم اختیار ہوگا۔ پاکستان کو یاد رکھنا چاہیئے کہ2025 وائٹ ہائوس کی خارجہ پالیسی کا نقطہ نظر 2024 بائیڈن انتظامیہ سے مختلف ہوگا۔ پاکستا ن کو نئی ٹرمپ انتظامیہ کو دلیل کے ساتھ اپنے دفاع اور دیگر مسائل سے آگاہ کرنا ہوگا۔سیاسی جماعتوں کو غلیل سے نہیں دلیل کے ساتھ نئی امریکی انتظامیہ کے ساتھ بات کرنا ہوگی۔

    (تجزیہ شہزاد قریشی)

  • سکھ برادری کا بھارتی وزیر خارجہ  کی  واشنگٹن آمد پر احتجاج

    سکھ برادری کا بھارتی وزیر خارجہ کی واشنگٹن آمد پر احتجاج

    واشنگٹن ڈی سی میں بھارت کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر کی آمد کے خلاف سکھ برادری کے رہنماؤں نے شدید احتجاج کیا۔

    احتجاج میں شریک مظاہرین نے خالصتان تحریک کے حق میں نعرے بازی کی اور بھارتی وزیر خارجہ کی ملاقات کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ ایس جے شنکر بھارت میں سکھوں کے حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث ہیں اور ان کی پالیسیاں سکھوں کے خلاف سازشوں کی عکاسی کرتی ہیں۔مظاہرین نے اپنے شدید غصے کا اظہار کرتے ہوئے بھارتی پرچم پر تلواروں سے حملہ کیا اور نعرے لگائے کہ بھارت کی حکومت سکھوں کے خلاف عالمی سطح پر جرائم میں ملوث ہے۔ یہ احتجاج واشنگٹن میں امریکی محکمہ خارجہ میں ایس جے شنکر کی ملاقات کے دوران کیا گیا، جہاں خالصتان کے حامیوں نے بھارتی وزیر خارجہ کی موجودگی میں سخت احتجاج کیا۔

    احتجاج کے دوران ڈاکٹر بخشش سنگھ سندھو نے کہا کہ "ایس جے شنکر بھارت میں سکھوں کے خلاف سازشوں میں ملوث ہیں اور ان کے اقدامات عالمی سطح پر سکھوں کے قتل کی حمایت کرتے ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کی حکومت عالمی سطح پر سکھوں کے حقوق کی پامالی کر رہی ہے اور اس کے خلاف سخت کارروائی کی ضرورت ہے۔گرپتونت سنگھ پنوں نے بھی شدید الفاظ میں تنقید کرتے ہوئے کہا کہ "ایس جے شنکر نہ صرف بھارت میں سکھوں کے خلاف ظلم کی حمایت کرتے ہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی اس معاملے میں بھارت کی پالیسیوں کا دفاع کر رہے ہیں۔” انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ بھارت کے وزیر خارجہ کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں۔

    مظاہرین نے اس موقع پر بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کی پالیسیوں کے خلاف بھی نعرے لگائے۔ ان کا کہنا تھا کہ مودی حکومت عالمی سطح پر سکھوں کی نسل کشی کو فروغ دے رہی ہے اور اس کے خلاف آواز اٹھانا ضروری ہے۔ مظاہرین نے ایس جے شنکر کے ساتھ ملاقات کرنے والے امریکی حکام پر بھی تنقید کی اور ان سے مطالبہ کیا کہ بھارت کے وزیر خارجہ کے خلاف عالمی پابندیاں عائد کی جائیں۔بھارت کی حکومت عالمی سطح پر سکھوں کے خلاف نسل کشی کی سازش کر رہی ہے اور اس کے خلاف عالمی برادری کو ایک سخت موقف اپنانا ہوگا۔

    اس احتجاجی مظاہرے میں شریک افراد نے بھارتی حکومت کے اقدامات کی شدید مذمت کی اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ بھارت کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو نظر انداز نہ کیا جائے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ جب تک بھارت اپنے سکھ شہریوں کے حقوق کا احترام نہیں کرتا، تب تک اس کے حکام کو عالمی سطح پر مسترد کرنا چاہیے۔

    خاتون جیل افسر کا قیدی کے ساتھ جنسی تعلق،ویڈیو لیک

    مسلمان کی جائیداد میں غیر مسلم کا حصہ،عدالت نے فیصلہ سنا دیا