Baaghi TV

Tag: بھٹو

  • 250 ارب ٹیکس پیپلزپارٹی کے حکمران خاندان کو جاتا ہے:اب اس نظام کو بدلنا ہوگا: خالدمقبول صدیقی

    250 ارب ٹیکس پیپلزپارٹی کے حکمران خاندان کو جاتا ہے:اب اس نظام کو بدلنا ہوگا: خالدمقبول صدیقی

    کراچی :250 ارب ٹیکس پیپلزپارٹی کے حکمران خاندان کو جاتا ہے:اب اس نظام کو بدلنا ہوگا،اطلاعات کے مطابق ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما خالد مقبول شہر قائد کے تاجروں کو مطالبات کی فہرست لیکر عدالت جانے کا مشورہ دے دیا۔

    ان خیالات کا اظہار کراچی کے مسائل سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کیا، انہوں نے کہا کہ مہذب معاشروں کے سارے طریقے ہم نے استعمال کئے اس کے باوجود تین کروڑ کے شہر کی سرکاری نمائندگی 50 لاکھ بھی نہیں۔

    خالد مقبول نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ حق اور سچائی کےلیے کھڑا ہونا سب سے بڑا جہاد ہے اور ہم نے سچائی کے ساتھ ایوانوں اور عدالتوں میں اپنا مقدمہ رکھا مگر نتیجہ صفر نکلا۔

    متحدہ قومی موؤمنٹ پاکستان کے کنوئنیر خالد مقبول نے کہا کہ کراچی کے عوام کے ٹیکس سے نکاسی آب کا نظام چلتا ہے، ٹیکس سے پولیس کو تنخواہ ملتی ہے لیکن جان و مال کا تحفظ نہیں۔

    انہوں نے دعویٰ کیا کہ 250 ارب روپے ٹیکس پیپلز پارٹی کے حکمران خاندان کو جاتا ہے جب کہ ایک حکمران خاندان کی جیب میں ایک ہزار ارب سالانہ جاتا ہے۔

    ایم کیو ایم رہنما کا کہنا تھا کہ حکمرانوں کی جیب میں پیسہ جائے گا تو وہ پاکستان کےلیے کھڑا نہیں ہوگا لیکن ہمیں ملکر کوئی پالیسی اور حکمت عملی ترتیب دینی ہوں گی کیوں کہ شناخت ہی حقوق کا تعین کرتی ہے۔

    خالد مقبول نے کہا کہ اقلیت کی حکومت اس شہر کی اکثریت پر قابض ہے، ہم نے ایوانوں اور عدالتوں میں اپنا مقدمہ رکھ دیا لیکن نتیجہ صفر ہے۔خالد مقبول صدیقی نے تاجروں کو مشورہ دیا کہ تاجروں کو ضرورت ہے مطالبات کی فہرست عدالت لے جائیں اور صنعت کاروں سے بھی کہتے ہیں کہ ہمارا ساتھ دیں۔

    ایم کیو ایم رہنما نے آخر میں واضح کیا کہ سندھ کی تمام سیاسی جماعتوں نے بلدیاتی ایکٹ کو مسترد کیا لیکن صوبائی وزرا عوام کو گمراہ کررہے ہیں پہلے اس کالے بلدیاتی قانون کو ختم کریں پھر بات ہوگی۔

  • بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت پرگیس کی قلت اور بڑھتی مہنگائی کے خلاف احتجاج جاری

    بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت پرگیس کی قلت اور بڑھتی مہنگائی کے خلاف احتجاج جاری

    اسلام آباد: بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت پرگیس کی قلت اور بڑھتی مہنگائی کے خلاف احتجاج جاری ،اطلاعات کے مطابق بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت پرگیس کی قلت اور بڑھتی مہنگائی کے خلاف احتجاج کی کال پر یہ سلسلہ دوسرے ہفتے میں داخل ہوگیا ہے ،

    پاکستان پیپلز پارٹی ملک میں مہنگائی اور تیل کی قیمتوں میں اضافے اور گیس بحران کے خلاف ملک گیر احتجاج کی کال پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے دسمبرکے شروع میں دی تھی جس کا آغاز10 دسمبر کوکیا گیا

     

    تفصیلات کے مطابق پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ہدایت پر کراچی، لاہور، پشاور سمیت مختلف شہروں اور ہر گاؤں میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے، چیئرمین پیپلزپارٹی کا کہنا ہے کہ کا کہنا ہے کہ اب 27 دسمبر کو گڑھی خدا بخش کے جلسے میں اگلا احتجاجی پروگرام دیا جائے گا۔

    واضح رہے کہ عالمی سطح پر پیٹرول کی قیمت کم ہوئی لیکن پی ٹی آئی حکومت نے اس کا فائدہ عوام تک نہیں پہنچایا۔ خیال رہے کہ حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں برقرار رکھتے ہوئے پیٹرول اور ڈیزل پر پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی اور سیلز ٹیکس بڑھا دیا ہے۔ ایک لیٹر پیٹرول کی قیمت میں 27 روپے 29 پیسے اور ایک لیٹر ڈیزل پر حکومت 33 روپے 38 پیسے ٹیکس وصول کر رہی ہے۔

  • سندھ میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے دبئی میں چھ مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط:بلاول بھٹونے سب کو بتادیا

    سندھ میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے دبئی میں چھ مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط:بلاول بھٹونے سب کو بتادیا

    دبئی :سندھ میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے دبئی میں چھ مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط:بلاول بھٹونے سب کو بتادیا،اطلاعات کے مطابق سندھ انویسٹمنٹ کانفرنس کے زیر اہتمام پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت صوبے میں پانی اور بجلی سمیت چھ اہم منصوبوں کی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے ہیں۔

    دبئی کے مقامی ہوٹل میں حکومت سندھ کے زیر اہتمام سندھ انویسٹمنٹ کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے ساتھ ساتھ شاہی خاندان کے سینئر رکن اور متحدہ عرب امارات کے وزیر شیخ نہیان بن مبارک النہیان نے بھی شرکت کی۔

     

     

    دبئی کے مقامی ہوٹل میں حکومت سندھ کے زیر اہتمام سندھ انویسٹمنٹ کانفرنس میں‌ متحدہ عرب امارات کے وزیر مملکت برائے خارجہ تجارت ڈاکٹر تھانی بن احمد الرزیودی بھی شریک ہوئے اور اس موقع پر شرکا نے سندھ میں پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ کی کامیابی اور سندھ میں کاروبار کے بہترین مواقعوں کی دستیابی کے ساتھ ساتھ دھابے جی اسپیشل اکنامک زون، ٹیکنالوجی پارک، ایجوکیشن سٹی اور ہائیڈروجن پراڈکشن بیس کے موضوعات پر بھی گفتگو کی گئی۔

     

    چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ سندھ میں معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے کا ہمارا طویل ٹریک ریکارڈ ہے، ہم نے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے دریائے سندھ پر ایک بڑا پُل بنایا اور اور اب ہم اپنا ہی ریکارڈ توڑتے ہوئے دریائے سندھ پر نیا سب سے بڑا پُل بنانے کی منصوبہ بندی کررہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ ہم کراچی کے انفرااسٹرکچر کو بہتر بنانے کے لیے سرمایہ کاروں کے منتظر ہوں اور آج جن چھ مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ہوئے ہیں ہم ان پر فخر محسوس کرتے ہیں۔

     

     

    بلاول نے مفاہمتی یادداشتوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ان میں سے ایک کراچی میں کھارے پانی کو میٹھا بنانے کے حوالے سے یادداشت ہے، آپ سب جانتے ہیں کہ کراچی کو پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کی بدولت ہمیں امید ہے کہ اس منصوبے سے ہم کراچی اور صوبے میں پانی کے مسئلے کو حل کر سکیں گے۔

    انہوں نے کہا کہ کچرے سے توانائی بنانے کے حوالے سے بھی مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے ہیں، کچرہ پاکستان اور کراچی کا ایک بڑا مسئلہ ہے اور یہ مفاہمتی یادداشت صوبےاور ملک کو پرابھرا کرنے کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہو گا۔

    ان کا کا کہنا تھا کہ اسٹارٹ اپس، چھوٹے کاروباروں اور انٹرپرائزوں کو فنڈ کی فراہمی کے لیے بھی ایک یادداشت پر دستخط کیے گئے ہیں جبکہ اس کے علاوہ پاکستان اور سندھ میں سرمایہ کاری کے خواہشمند پاکستانی شہریوں کے ایک ون ونڈو آپریشن بنایا جارہا ہے جس سے انہیں اب اس سلسلے میں درپیش مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔

     

    انہوں نے سندھ میں فٹبال اکیڈمی میں سرمایہ کاری پر دبئی کے وزیر کا شکریہ ادا کیا اور کراچی آنے والوں کو پتہ ہے کہ یہ کھیل شہر قائد خصوصاً لیاری کے نوجوانوں میں بہت مقبول ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ آخری مفاہمتی یادداشت ای گورننس کے حوالے سے ہے جس سے ہمیں صوبے کے سرکاری محکموں میں شفافیت یقینی بنانے اور کرپشن کے خاتمے میں مدد ملے گی۔

  • :10 دسمبر:بلاول بھٹو نے حکومت کےخلاف بہت بڑا اعلان کردیا

    :10 دسمبر:بلاول بھٹو نے حکومت کےخلاف بہت بڑا اعلان کردیا

    کراچی::10 دسمبر:بلاول بھٹو نے حکومت کےخلاف بہت بڑا اعلان کردیا،اطلاعات کے مطابق پی پی چیئر مین بلاول بھٹو زرداری نے 10 دسمبر کو پٹرول کی بڑھتی قیمتوں کے خلاف ملک بھر میں اضلاع کی سطح پر احتجاج کرنے کا اعلان کردیا ہے ، دوسری طرف حکومت نے اس دن یوم مذمت منانے کا فیصلہ کرلیا ہے

    اس حوالے سےوزیراعلیٰ سندھ سیّد مراد علی شاہ کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ سندھ میں نئے بلدیاتی نظام کے حوالے سے کسی کو بھی لسانی سیاست نہیں کرنی چاہیے اور اس شہر اور صوبے کے عوام الطاف حسین کی سیاست کو رد کر چکے ہیں۔ہم سمجھتے ہیں کہ اگر ہم کراچی کو سنبھال سکتے ہیں، اگر ہم حق دلا سکتے ہیں، شہرق ائد میں ترقی کرا سکتے ہیں تو ملک میں ترقی کرا سکتے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ کراچی کی ترقی اور یہاں کے عوام کو حقوق کی فراہمی کے لیے ایک بااختیار لوکل گورنمنٹ سسٹم دینا پڑے گا اور ہماری خواہش یہی ہے کہ لوکل گورنمنٹ سسٹم میں کراچی میں ہماری حکومت بنے اور وفاقی سطح پر بھی پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت بنے۔ سندھ کا بلدیاتی نظام بہتر ہو رہا ہے، سندھ بھر میں نئے بلدیاتی نظام نے اپنی پہلی مدت مکمل کی اور ہم واحد صوبائی حکومت تھی جنہوں نے اپنے بلدیاتی نظام کی مدت مکمل کی۔

    انہوں نے ایم کیو ایم کا نام لیے بغیر کہا کہ ہماری محنت اور کوشش کو کراچی کے عوام دیکھ رہے ہیں کہ ایک جماعت کی 30سال کی کارکردگی ایک طرف اور مرتضیٰ وہاب کی دو تین مہینے کی کارکردگی ایک طرف ہے اور جب پیپلز پارٹی پارٹی کا منتخب نظام ہو گا تو ہم مزید نتائج دکھا سکیں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ کسی کو بھی لسانی سیاست نہیں کرنی چاہیے، یہ لوگ ماضی میں بھی اس طرح کی سیاست کرتے رہے ہیں، ہمیں الیکشن کمیشن کی پابندیوں کی وجہ سے اس قانون کو جلدی پاس کرنا پڑا ورنہ ہمارا ارادہ تھا کہ مردم شماری کے جھگڑے نمٹانے کے بعد اسی قانون کے حوالے سے ناصرف اپوزیشن اراکین بلکہ سول سوسائٹی کے اراکین سے مشاورت کرتے لیکن ہمیں 30نومبر تک اسے منظور کرنا پڑا۔

    بلاول نے عوام کو درپیش معاشی مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 10 دسمبر کو پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکن اپنے اپنے علاقے میں پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے خلاف احتجاج کریں گے اور 17 تاریخ کو پیپلز پارٹی ملک بھر میں اضلاع کی سطح پر گیس بحران کیخلاف احتجاج کرے گی۔

  • سندھ :6 روز میں ڈی آئی جی کی 3 مختلف جگہوں پر تعیناتی:حکومت پربھی پریشان

    سندھ :6 روز میں ڈی آئی جی کی 3 مختلف جگہوں پر تعیناتی:حکومت پربھی پریشان

    کراچی :سندھ :6 روز میں ڈی آئی جی کی 3 مختلف جگہوں پر تعیناتی:حکومت پربھی پریشان،اطلاعات کے مطابق سندھ پولیس میں تبادلے و تقرریاں مذاق بن گئے اور صرف 6 روز میں ڈپٹی انسپکٹرجنرل شرجیل کھرل کو 3مرتبہ مختلف جگہوں پرتعینات کردیا گیا۔

    کراچی سے آمدہ اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ ڈی آئی جی شرجیل کھرل کو پہلے حیدرآباد سے سکھر ڈویژن تعینات کیاگیا، پھر ڈی آئی جی ایسٹ زون کراچی لگایاگیا۔

    تاہم اس کے باوجود بھی شرجیل کھرل کی تعیناتی مستحکم نہ رہ سکی جس کے پیش نظر اب شرجیل کھرل کو ڈی آئی جی ساؤتھ زون تعینات کر دیاگیا ہے۔دوسری جانب بار بار شرجیل کھرل کی تعیناتی میں تبدیلی سے متعلق پولیس یا حکومتی مؤقف اب تک سامنے نہیں آسکا ہے۔

    سندھ پولیس آج بھی مشکلات سے دوچار، تین سال میں نہ اسلحہ، نہ گاڑیاں، نہ فنڈز اور دیگر ضروریات اپ گریڈیشن کچھ بھی تو نہیں کیا ، نتائج کیا ہوں گے؟وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ اور آئی جی سندھ مشتاق احمد مہر کے درمیان سرد جنگ کے باعث سندھ بھر کی پولیس مشکلات سے دوچار ہوچکی ہے۔

    2018 سے قبل اے ڈی خواجہ اور سندھ حکومت کے درمیان سرد جنگ اور آئی جی تبدیلی کے بعد بھی آج تک اس سرد جنگ کی باتیں سامنے آرہی ہیں، گزشتہ تین برسوں میں پہلے آئی جی سید کلیم امام اور سندھ حکومت کے درمیان اور اب آئی جی سندھ مشتاق احمد مہر اور وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ کے درمیان سرد جنگ کے باعث پولیس فورس کی مشکلات میں اضافہ ہورہا ہے جو کہ باعث تشویش ہے اور یہ عمل پولیس کی کارکردگی کو متاثر کرسکتا ہے۔

    اگر پولیس کی آپریشنل ضروریات پوری نہ ہوں تو آپریشن میں نقصان اور آپریشن بند اور ناکام ہونے کا خدشہ بھی رہتا ہے، حالیہ چند روز قبل ڈاکوؤں کی جانب سے جدید اسلحے کے ساتھ دھمکی نما پیغام کہ کندھکوٹ گھوٹکی برج میں ہمارے بندے شامل کرو، ورنہ ہم لڑیں گے اور یہ اسلحہ دیکھ لو، یہ وہی اسلحہ ہے ، جس سے ڈاکو جنگل تیغانی نے پولیس کی چین اے پی سی پر حملہ کیا تھا۔

    اس دھمکی کے بعد تاحال حکومتی سطح پر کسی نے اس کا نوٹس نہیں لیا، لیکن ڈاکوؤں نے جدید ہھتیاروں کے ساتھ ایک بار پھر اپنے ختم ہوتے ہوئے ڈاکو راج کا اعلان کردیا، جو کہ لمحہ فکریہ ہے۔کسی بھی ترقی یافتہ یا ترقی پذیر ممالک میں پولیس کا کام قیام امن کو بحال رکھنا، عوام کی جان و مال کا تحفظ ہوتا ہے

  • بھٹوکی بستی میں میڈیکل کی طالبہ کا قتل:باپ نے پوسٹ مارٹم رپورٹ مسترد کردی

    بھٹوکی بستی میں میڈیکل کی طالبہ کا قتل:باپ نے پوسٹ مارٹم رپورٹ مسترد کردی

    کراچی :بھٹوکی بستی میں میڈیکل کی طالبہ کا قتل:باپ نے پوسٹ مارٹم رپورٹ مسترد کردی،اطلاعات کے مطابق گرلز ہاسٹل میں مبینہ خودکشی کا معاملہ ابھی تک معمہ بنا ہوا ہے، ادھرمقتول بچی کے والد نے پوسٹ مارٹم رپورٹ مسترد کردی ہے

    لڑکی کے والد کی میڈیا سے گفتگو کرتےہوئے کہا ہے کہ بیٹی نے کئی مرتبہ ہاسٹل وارڈن کو کمرے کی تبدیلی کی درخواست دی تھی جو منظور نہیں کی گئی، والد کا مزید کہنا تھا کہ پولیس تحقیقات اپنی جگہ لیکن بچی کے انتہائی قدم پر حیران ہیں،

    مقتول بچی کے چچا کا کہنا تھا کہ ہماری بیٹی دین دار اور خوش تھی وہ خودکشی نہیں کر سکتی،ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ واقعہ میں انتظامیہ کی نااہلی صاف ظاہر ہے،

    بچی کے چچا نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اساتذہ شاگردوں کے لیے والدین کی جگہ ہوتے ہیں لیکن اب تک بچی کی تعزیت کے لیے کوئی نہیں آیا

    بچی کے والد کا کہنا تھا کہ ایسے واقعات ہوتے رہے تو کون اپنی بچیوں کو پڑھنے بھیجے گا، والد,,بیٹی چاہتی تھی کہ وہ اپنے علاقہ کی لڑکیوں کے ساتھ روم میں رہے،

    مقتول بچی کے والد محترم ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ کو رد کرتا ہوں، کیمیکل ایگزیمینیش رپورٹس کو بھی دیکھیں گے، بیٹی کی لاش کو رسی سے لٹکا اور پیر ٹیبل پر دیکھ کر ہی شک شبہات پیدا ہو گئے تھے،

    یاد رہے کہ چند دن پہلے بھٹو کی بستی میں ایک اور حوا کی بیٹی کو قتل کردیا گیا تھا ، اطلاعات ہیں کہ بینظیر بھٹو میڈیکل یونیورسٹی کے چانڈکا میڈیکل کالج کی چوتھے سال کی طالبہ کی لاش 24 نومبر کی دوپہر کو گرلز ہاسٹل نمبر دو سے ان کے کمرے سے ملی۔

    پولیس عہدیدار کے مطابق اطلاع ملتے ہی پولیس جائے وقوع پر پہنچ گئی پولیس کے مطابق ہاسٹل نمبر دو کے کمرے سے نوشین کاظمی نامی لڑکی کی پھندا لگی لاش ملی۔

    طالبہ کا تعلق ضلع دادو سے تھا اور ان کے والدین کو اطلاع کردی گئی جب کہ طالبہ کی لاش کو تین گھنٹے گزر جانے کے باوجود پھندے سے نہیں اتارا گیا۔

    پولیس کا کہنا کہ فوری طور پر کہنا قبل از وقت ہے کہ طالبہ نے خودکشی کی یا پھر ان کے ساتھ کوئی واقعہ پیش آیا، تاہم بظاہر واقعہ خودکشی کا لگتا ہے۔

    پولیس کا کہنا تھا کہ طالبہ کے ورثا کے پہنچنے کے بعد کیس داخل کرنے سے متعلق فیصلہ کیا جائے گا جب کہ پوسٹ مارٹم کی ابتدائی رپورٹ آنے اور واقعے کی ابتدائی تفتیش کے بعد ہی واقعے سے متعلق کچھ کہا جا سکے گا۔

    کچھ عرصہ قبل بھی چانڈکا میڈیکل کالج میں ایک طالبہ نے اسی طرح پراسرار طور پر خودکشی کرلی تھی۔

    گرلز ہاسٹل سے طالبہ کی لاش ملنے کے بعد سوشل میڈیا پر متعدد افراد نے واقعے کی ویڈیوز اور تصاویر بھی شیئر کیں، جن میں طالبہ کو پھندے میں لٹکا دیکھا جا سکتا ہے۔

    سوشل میڈیا پر صارفین کی جانب سے شیئر کی گئی ویڈیوز اور تصاویر میں طالبہ کو پھندے سے لٹکا دیکھا جاسکتا ہے

  • بھٹو کی بستی میں‌ میڈیکل کالج میں طالبہ کو پھانسی دے دی گئی

    بھٹو کی بستی میں‌ میڈیکل کالج میں طالبہ کو پھانسی دے دی گئی

    لاڑکانہ :بھٹو کی بستی میں‌ میڈیکل کالج میں طالبہ کو پھانسی دے دی گئی ،اطلاعات کے مطابق بھٹو کی بستی میں ایک اور حوا کی بیٹی کو قتل کردیا گیا ہے ، اطلاعات ہیں کہ بینظیر بھٹو میڈیکل یونیورسٹی کے چانڈکا میڈیکل کالج کی چوتھے سال کی طالبہ کی لاش 24 نومبر کی دوپہر کو گرلز ہاسٹل نمبر دو سے ان کے کمرے سے ملی۔

    پولیس عہدیدار کے مطابق اطلاع ملتے ہی پولیس جائے وقوع پر پہنچ گئی پولیس کے مطابق ہاسٹل نمبر دو کے کمرے سے نوشین کاظمی نامی لڑکی کی پھندا لگی لاش ملی۔

    طالبہ کا تعلق ضلع دادو سے تھا اور ان کے والدین کو اطلاع کردی گئی جب کہ طالبہ کی لاش کو تین گھنٹے گزر جانے کے باوجود پھندے سے نہیں اتارا گیا۔

    پولیس کا کہنا کہ فوری طور پر کہنا قبل از وقت ہے کہ طالبہ نے خودکشی کی یا پھر ان کے ساتھ کوئی واقعہ پیش آیا، تاہم بظاہر واقعہ خودکشی کا لگتا ہے۔

    پولیس کا کہنا تھا کہ طالبہ کے ورثا کے پہنچنے کے بعد کیس داخل کرنے سے متعلق فیصلہ کیا جائے گا جب کہ پوسٹ مارٹم کی ابتدائی رپورٹ آنے اور واقعے کی ابتدائی تفتیش کے بعد ہی واقعے سے متعلق کچھ کہا جا سکے گا۔

    کچھ عرصہ قبل بھی چانڈکا میڈیکل کالج میں ایک طالبہ نے اسی طرح پراسرار طور پر خودکشی کرلی تھی۔

    گرلز ہاسٹل سے طالبہ کی لاش ملنے کے بعد سوشل میڈیا پر متعدد افراد نے واقعے کی ویڈیوز اور تصاویر بھی شیئر کیں، جن میں طالبہ کو پھندے میں لٹکا دیکھا جا سکتا ہے۔

    سوشل میڈیا پر صارفین کی جانب سے شیئر کی گئی ویڈیوز اور تصاویر میں طالبہ کو پھندے سے لٹکا دیکھا جاسکتا ہے۔

    دوسری جانب پولیس نے ہاسٹل کو سیل کردیا ہے اور شواہد اکھٹے کیے جارہے ہیں، پولیس کے مطابق فرانزک ٹیم کمرے سے شواہد اکٹھے کرچکی ہے ،نوشین کے خط کو بھی ہینڈ رائٹنگ ماہر سے چیک کروایا جائے گا جب کے پوسٹ مارٹم کے بعد لاش کو ورثا کے حوالے کیا جائے گا ،ورثا سے ملاقات کے بعد ہی تعین کیا جاسکے گا کے نوشین نے یہ انتہائی قدم کیوں اٹھایا۔

    نوشین کاظمی کی پراسرار ہلاکت سے قبل ستمبر 2019 میں بھی اسی یونیورسٹی کے چانڈکا ڈینٹل کالج کے ہاسٹل سے بیچلرز ان ڈینٹل سرجری (بی ڈی ایس) کی فائنل ایئر کی طالبہ نمرتا مہر چندانی کی لاش ملی تھی۔

    عوام الناس کا کہنا ہےکہ علاقے کی بدقسمتی ہے کہ عوامی لیڈراپنی سیاست چمکانے اوربچانے کے لیے توگھروں سے نکل پڑتےہیں لیکن کبھی انہوں نے ان علاقوں کی درسگاہوں کے متعلق خبرگیری نہیں کی جس کی وجہ سے مسائل بڑھ رہے ہیں‌

     

     

  • 41 سال قبل جب بھٹو کو پھانسی دی گئی، خود نوشت نذیر لغاری

    یہ اپریل 1979 ء کی تیسری تاریخ ہے۔ مجھے صبح سویرے اُٹھ کر سندھ ہائیکورٹ پہنچنا ہے جہاں شفیع محمدی نے دوسری بار قسمت آزمائی کرنی ہے۔ قبل ازیں جب سپریم کورٹ نے بھٹو صاحب کی اپیل کو ایک متنازع اور منقسم فیصلے کے ذریعے مسترد کرتے ہوئے تین کے مقابلے میں چار ججوں کی اکثریت سے لاہور ہائی کورٹ کے کے انتہائی متعصبانہ فیصلے کو برقراررکھا تھاتو شفیع محمدی ایڈووکیٹ نے اس فیصلے کے خلاف 21 مارچ 1979ء کو سندھ کی شریعت بنچ میں اپیل دائر کی تھی۔ اس اپیل کی تیاری میں ، میں شفیع محمدی صاحب کے ساتھ ساتھ تھا۔ میں نے ادھر اُدھر کی لائبریریوں اور اردو بازار سے تاریخ طبری، تاریخ مسعودی، طبقات ابن سعد، تاریخ ابنِ خلدون، تاریخِ یعقوبی، تاریخ علامہ جلال الدین السیوطی اور دیگر تاریخی کتب کے حصول میں ان کے ساتھ ساتھ رہاتھا۔ سندھ کی شریعت بنچ کے سربراہ سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عبدالقادر شیخ تھے جبکہ بنچ کے دیگر دو جج جسٹس ڈاکٹر آئی محمود اور ذوالفقار مرزا کے والد جسٹس ظفر حسین مرزا تھے۔ شفیع محمدی نے اپیل کی تیاری میں حضرت علی کی شہادت کے واقعہ کو بطورنظیر پیش کیا تھا۔ نظائر کی تاریخ کی یہ سب سے بڑی نظیر تھی جسے شریعت کورٹ مسترد نہیں کرسکتی تھی۔ تاریخ کے مطابق کوفہ میں حضرت علی کو شہید کرنے کی سازش تیار کی گئی تھی، پھر اس سازش پر عملدرآمد کیلئے باقاعدہ منصوبہ بندی کی گئی۔ منصوبے کے مطابق پہلے مسجدِ کوفہ کے دروازے پر حضرت علی پر وار کیا گیا جو خطا ہوا، دوسرا وار کچھ آگے بڑھنے کے بعد کیا گیا، وہ وار بھی خطا ہوگیا، تیسرا وار منصوبہ کے مطابق حضرت علی کی امامت میں نماز کی ادائیگی کے دوران کیا گیا، اس وار سے حضرت علی کو شدید زخم لگا، حضرت علی کو مسجدِ کوفہ سے ایوانِ امیرالمومنین لایا گیا۔ میں نے مسجد کوفہ میں جاکر حضرت علی کی سجدہ گاہ اور گھر کا وہ مقام دیکھا جہاں پر آپ کو لایا گیا۔ کچھ ہی دیر میں حملہ آور عبدالرحمن ابنِ ملجم کو پکڑ کر حضرت علی کے روبرو پیش کیا گیا۔ آپ کے سامنے تمام حقائق لائے گئے، ابنِ ملجم کا اعترافی بیان بھی آگیا۔ اس پر امیرالمومنین نے فیصلہ دیا کہ جن لوگوں نے قتل کی سازش تیار کی ان میں سے کسی کو کچھ نہ کہا جائے، جس شخص نے پہلا وار کیا اسے بھی کچھ نہ کہا جائے، دوسرا وار کرنے کے خلاف بھی کوئی کارروائی نہ کی جائے۔ اب رہا، ابنِ ملجم تو اگر میں اس وار کی شدت سے بچ گیا تو میں اپنا بدلہ خود لوں گا اور اگر اس وار سے میری جان چلی جائے تو ابنِ ملجم پر ایک ہی وار کیا جائے کیونکہ اس نے مجھ پر ایک ہی وار کیا ہے۔

    تاریخ کی تمام کتابوں میں حضرت علی کے اس فیصلے کو برہانِ قاطع کی حیثیت حاصل تھی۔ اب حقیقت یہ ہے کہ احمدرضا قصوری اور محمد احمد قصوری پر حملہ کے روز بھٹو صاحب ملتان میں تھے، چنانچہ شریعت کے اعتبار سے بھٹو صاحب کو سزا نہیں دی جاسکتی تھی۔صوبائی شریعت کورٹ کے تین رکنی بنچ نے شفیع محمدی کی درخواست کو قابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے اگلے روز کی تاریخ مقرر کردی اور ان سے معلوم کیا کہ آپ کے مقدمہ میں وکیل کون ہوگا، اس دوران شفیع محمدی سے کوئی مشورے کئے بغیر عبدالحفیظ پیرزادہ اُٹھ کھڑے ہوئے اور بولے کہ میں اس کیس میں شفیع محمدی صاحب کی طرف سے پیش ہوں گا۔ اس کے بعد کورٹ برخاست ہوگئی۔ میں اور شفیع محمدی چیف جسٹس کی کورٹ سے بارروم میں آگئے، یہاں ہمیں عبدالحفیظ پیرزادہ کا انتظار تھا تاکہ وہ آئیں اور ہم سے اس کیس سے متعلق ہماری تیاری کو ایک نظر دیکھ لیں، کیونکہ عدالت نے اگلے روز یعنی 22 مارچ 1979ء کی تاریخ مقرر کی تھی۔ عبدالحفیظ پیرزادہ بارروم میں نہ آئے، ہم لگ بھگ دو گھنٹوں تک وہاں بیٹھ کر پیرزادہ کا انتظار کرتے رہے۔ اس دوران بار روم کا موضوع گفتگو یہی کیس تھا اور تمام وکلاء اسے بہت بڑی کامیابی قرار دے رہے تھے۔ اس دور کے کرمنل لاء کے سب سے بڑے ماہر عزیزاللہ شیخ کہہ رہے تھے کہ شفیع صاحب آپ نے شریعت کورٹ کا راستہ اختیار کر کے کیس کو نیا موڑ دے دیا ہے، اب بھٹو صاحب کو پھانسی دینا آسان نہیں رہا۔ شفیع محمدی اور میں بے چینی سے پہلو بدل رہے تھے۔ جب بہت وقت گزر جانے کے بعد پیرزادہ نہ آئے تو میں اور شفیع صاحب سندھ مدرستہ الاسلام کے سامنے شفیع صاحب کے دفتر آگئے۔ ہمیں پیرزادہ کا رویہ سمجھ میں نہیں آرہا تھا۔ اب کچھ کچھ پریشانی لاحق ہونے لگی تھی۔

    ہم دونوں شام سات بجے اُٹھ کر سن سیٹ بلیوارڈ پر واقع پیرزادہ کے گھر پر پہنچ گئے۔ وہ مختلف لوگوں سے ملاقاتوں میں مصروف تھے۔ دو گھنٹے انتظار کرانے کے بعد لگ بھگ سوا نو بجے پیرزادہ نے ہمیں شرفِ باریابی بخشا۔ ہم ملے تو بہت مطمئن نظر آئے اور کہنے لگے کہ شفیع صاحب اب تو ہمارے پاس بڑا وقت ہے۔ آپ فکر نہ کریں ، ہم یہ کیس جیت لیں گے۔ ہم پیرزادہ کے گھر سے اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے۔
    اگلے روز چیف جسٹس کی کورٹ میں شریعت بنچ کیلئے تین عدالتی کرسیاں لگی ہوئی تھیں، ٹھیک نو بجے تینوں جج صاحبان چیف جسٹس کے چیمبر سے نمودار ہوئے۔ کورٹ روم کچھا کھچ بھرا ہوا تھا۔ عدالت میں تِل دھرنے کی جگہ نہ تھی۔ پورے ماحول پر خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ کسی کے کھانسنے یا کھنکھارنے کی آواز بھی نہیں آرہی تھی۔ لوگوں کے ہاتھوں میں بندھی گھڑیوں کی ٹِک ٹِک اور سینوں میں دھڑکتے دلوں کی دھک دھک کو صاف سنا جا سکتا تھا۔ سندھ شریعت کورٹ میں ایک ہی کیس لگا ہوا تھا۔ جج صاحبان اپنی اپنی نشستیں سنبھال چکے تو چیف جسٹس عبدالقادر شیخ کی آواز نے سناٹے کا سینہ چیرتے ہوئے کہا”یس مسٹر پیرزادہ” پیرزادہ اپنی نشست پر روسٹرم کے سامنے کھڑے ہوئے اور ایک تباہ کن قیامت خیز جملہ ادا کیا "My lord I withdraw my case” ان کے اس جملہ کہنے شفیع محمدی اور میں حواس باختہ ہوگئے، ہمیں اپنے کانوں اور پیرزادہ کے ادا کئے گئے جملے کا یقین نہیں آرہا تھا۔ شفیع محمدی نے سراپا سوال بن کر شفیع محمدی سے پوچھا کہ آپ نے ایسا کیوں کیا، پیرزادہ نے کہا کہ سپریم کورٹ میں ہماری ریویو پٹیشن لگی ہوئی ہے، ہمیں وہاں سے انصاف ملنے کا یقین دلایا گیا ہے۔ شفیع محمدی نے کہا سپریم کورٹ میں نظر ثانی کی اپیل کا ہماری شریعت کورٹ کی اپیل سے کیا تعلق ہے۔ پیرزادہ نے روکھے لہجے میں کہا آپ لوگ سپریم کورٹ کو اشتعال دلانا چاہتے ہیں۔

    رات کو بی بی سی نے آٹھ بجے کی نشریات میں اس خبر کو شامل کیا اور سیر بین کے تبصرے میں کہا گیا کہ بھٹو کو بچانے کاآخری موقع ضائع کردیا گیا۔
    پھر وہی ہوا جس کا خطرہ تھا، سپریم کورٹ نے بھٹو صاحب کی نظرثانی کی اپیل مسترد کردی۔ اب شفیع صاحب اور میں دوبارہ سر جوڑ کر بیٹھ گئے، دوبارہ پٹیشن تیار کی گئی اور 2 اپریل کو صوبائی شریعت کورٹ سے اس پٹیشن کی فوری سماعت کی استدعا کی گئی۔ چیف جسٹس نے پوچھا کہ اس پٹیشن کی فوری سماعت کی کیا ضرورت ہے۔ شفیع محمدی نے کہا کہ ضیاءالحق بدنیت ہے وہ بھٹو صاحب کو جلد پھانسی دے دے گا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ یہ نقطہ آپ نے پٹیشن میں درج نہیں کیا، شفیع صاحب نے جیب سے قلم نکالتے ہوئے کہا کہ میں اس پٹیشن میں قلم سے یہ جملہ درج کردیتا ہوں۔ چیف جسٹس عبدالقادر شیخ نے کہا کہ اب آپ یہ پٹیشن کل 3 اپریل کو دائر کیجیئے گا۔
    یہ اپریل 1978ء کی تیسری تاریخ ہے، میں صبح صبح پیراڈائز سینیما سے ہائی کورٹ کی بلڈنگ کی طرف جارہا ہوں، مجھے سامنے پاسپورٹ آفس کے قریب شفیع محمدی آتے ہوئے نظرآرہے ہیں، اُن کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے ہیں۔ میرا دل بجھ گیا۔ میں تقریباً دوڑتے ہوئے ان کے قریب پہنچا اور پوچھا، کیا ہوا؟ شفیع محمدی نے روتے ہوئے کہا کہ وہ نہیں سنتے، میں نے پوچھا کہ کہتے کیاہیں؟ وہ کہتے ہیں کہ جسٹس ڈاکٹر آئی محمود بیمار ہوگئے ہیں۔ لہذا شریعت بنچ ڈسچارج ہوگئی ہے۔ میں نے کہا کہ عدالت سے کہتے ہیں کہ عدالت ہمارے خرچ پر جسٹس آئی محمود کے گھر چلے، وہاں چل کر ہم شریعت کورٹ کے روبرو استدعا کرتے ہیں۔ شفیع محمدی بولے کہ میں یہ بات کرچکا ہوں، چیف جسٹس اور جسٹس ظفر مرزا کہتے ہیں کہ جسٹس آئی محمود بات کرنے کے قابل بھی نہیں ہیں۔ میں نے کہا کہ ایک بار اور چل کر بات کرتے ہیں۔
    ہم دونوں یتیموں کی طرح چیف جسٹس کے چیمبر کے سامنے پہنچے، شفیع محمدی نے دروازے کا ہینڈل گھمایا تو چیف جسٹس نے اُکتاہٹ سے کہا کہ شفیع صاحب آج کچھ نہیں ہوسکتا۔ ہم دروازے سے ہی واپس پلٹ آئے۔ ہم دوسری منزل سے گراؤنڈ فلور پر سامنے لان کی طرف چلے گئے۔ دائیں طرف بلڈنگ کے کونے پر صدیق کھرل، حسین شاہ راشدی، رخسانہ زبیری، بیگم اشرف عباسی اوریو نعمت مولوی کھڑے تھے، ہم دونوں اُن کے ساتھ کھڑے تھے۔ سب خاموش، سب ہماری ناکامی سے واقف، سب دلگرفتہ، سب مایوس، سب دلگیر۔۔۔اچانک صدیق کھرل کی آواز خاموشی کے سینے اور خود ہمارے دلوں میں خنجر بن کر اُتر گئی۔ "کل ڈیڈ باڈی آرہی ہے” میرے اور شفیع محمدی کے مشترکہ دوست خان رضوانی کی اپنے ذرائع سے یہ قیامت خیز خبر چھپ چکی تھی۔ ہم سب نے بیگم اشرف عباسی سے کہا کہ آپ پیرزادہ سے رابطہ کرکے اصل صورتحال معلوم کریں، رات کو بارہ بجے کے بعد بیگم اشرف عباسی کا حفیظ پیرزادہ سے رابطہ ہوا، پیرزادہ نشے میں تھا، اس نے بیگم اشرف عباسی سے کہا” ڈارلنگ کل تم ایک خوشخبری سنو گی”
    اس رات کو گزرے 41 سال گزر چکے ہیں، میں رات کے اس تیسرے پہر 41 سال پرانے وقت میں جا چکا ہوں، بھٹو صاحب کو پھانسی دی جا چکی ہے۔ ان کی میت رات کی تاریکی میں اسلام آباد ائیر پورٹ لائی جاچکی ہے۔ پیرزادہ سو چکا ہوگا، میں اپنے گھر میں جاگ رہا ہوں۔ قمر عالم شامی میرے گھر میرے برابر ایک چارپائی سورہا ہے، نرسری میں میری بہنوں سے بھی زیادہ عزیز بہنوں شاہدہ اور زبیدہ نے شامی کو میرے ساتھ بھیج

    دیا تھا۔ آج کی رات بہت بھاری تھی، اس رات میرے ساتھ کوئی توہو جو مجھے سہارا دے سکے۔ 41 سال گزر گئے، یہ رات آج بھی بھاری ہے۔

    نذیر لغاری

  • معصوم بچہ ویکسین نہ ملنے سے مر گیا لیکن بھٹو آج بھی زندہ ہے ۔۔۔

    معصوم بچہ ویکسین نہ ملنے سے مر گیا لیکن بھٹو آج بھی زندہ ہے ۔۔۔

    شکارپور کے گاؤں داؤد ابڑو کے رہائشی محنت کش صفدر ابڑو کا 10 سالہ بیٹا میر حسن ویکسین نہ ملنے پر کمشنر آفیس کے سامنے فرش پر تڑپ تڑپ کر زندگی کی بازی ہار گیا۔بچے کی موت پر غم سے نڈھال والد کا کہنا تھا کہ بچے کو شکارپور، سلطان کوٹ اور دیگر مقامات پر لے کر گئے لیکن داد رسی نہ ہو سکی۔ دوسری جانب اے آر وی سینٹر کے انچارج ڈاکٹر نور الدین قاضی کا کہنا تھا کہ شکارپور، جیکب آباد سمیت ڈویژن بھر میں ویکسین کی کمی ہے، ویکسین نہ ملنے سے مرض بگڑ چکا تھا اس نے اب دو دن ہی زندہ رہنا تھا کیوں کہ اس کا اثر10 سالہ میر حسن کے دماغ پر ہو چکا تھا۔

    ویسے تو دس سالہ میر حسن نے تو بڑے ہو کر بھی مر ہی جانا تھا . اسی لیے گزشتہ روز بلاول کو پریس کانفرنس میں خورشید شاہ کا رونا تو یاد رہا ۔ جمہوریت میں خطرے پڑ چکی ہے یہ بتانا تو یاد رہا ۔ مگر وہ یہ ضرور بھول گئے کہ ان کی اس لولی لنگڑی ، کرپٹ اور نکمی حکومت کی بدولت میر حسن جیسے بچوں کی زندگیا ں داو پر لگی ہوئی ہیں ۔ بلاول ہمیشہ بھول جاتے ہیں کہ سندھ میں ان کی بادشاہت دہائیوں سے چلتی آرہی اور اسی حکومت کی بدولت عوام کی زندگیاں خطرے میں ہیں ۔

    مزید پڑھیے : عثمان بزدار کے کارنامے ۔۔۔نوید شیخ

    لوگ کہتے ہیں کہ کیسا صوبہ اور کیسی حکومت ہے جہاں لوگ اس لئے مر جاتے ہیں کہ کتا کاٹ لے تو ہسپتالوں میں ویکسین نہیں ملتی۔ مگر لوگوں کو کیا پتہ جمہوریت کیا ہوتی ہے ۔ جمہوریت کے لیے قربانی دینی پڑتی ہے خون دینا پڑتا ہے ۔کل کو جب بلاول اس ملک کے وزیر اعظم بنیں گے تب عوام کو پتہ چلے گا کہ جمہوریت بہترین انتقام کیوں ہے ۔ سندھ میں لبرل سیکولر ترقی پسند پروگریسو پیپلزپارٹی کی دہاییوں سے حکومت ہے۔ مگر سندھ اور سندھیوں کے حالات زندگی بدلنے میں پیپلز پارٹی بری طرح ناکام رہی ہے ۔ مگر تمام جیالے لیڈروں نے اپنی قسمت ضرور بدل لی ہے ۔ شاید ہی کوئی وزیر ہو جس کی دبئی میں پراپرٹی نہ ہو ۔ شاید ہی کوئی وزیر ہو جس پر کرپشن کا الزام نہ ہو ۔ معذرت کے ساتھ جس طرح پیپلز پارٹی نے بھٹو کا نام زندہ رکھا ہوا ہے اس سے تو بہتر تھا بھٹو پیدا ہوتے ساتھ ہی مر جاتا ۔ کیونکہ تھر میں لوگ بھوک سے مر جاتے ہیں ۔ مگر بھٹو زندہ رہتا ہے ۔

    مزید بڑھیے: عمران خان پر چارج شیٹ ۔۔۔ نوید شیخ

    سندھ چاہے ایڈز زدہ ہو جائے مگر بھٹو اور بھٹو خاندان کو کچھ نہیں ہونا چاہیئے ۔ کیونکہ جمہوریت کے لیے بھٹو خاندان نے قربانیاں دیں ہیں ۔ یہ صرف ان کا ہی حق ہے کہ سندھ پر وہ حکومت کریں ۔ چاہیے سندھی سسک سسک کر مرجائیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ اب وہ وقت آن پہنچا ہے کہ اس ملک کو فیصلہ کرنا ہوگا ۔ کب تک بھٹو ، شریف ، زرداری ، فضل الرحمان ، اچکزئی ، باچا خان ، ان جاگیرداروں اور وڈیروں کی اولادوں کی غلامیاں کرتے رہیں گے ۔ ان غلامی کی زنجیروں کو توڑیں اور ان خاندانوں اور لیڈروں کو نشان عبرت بنا دیں ۔ سندھیوں اور اس ملک کی غریب عوام کے پاس اب صرف کھونے کے لیے غلامی کی زنجیریں باقی رہ گئیں ہیں ۔ یہ غلامی کی زنجیریں توڑیں ۔ اور اس اشرفیہ کو غارت کردیں ۔

    اپنی رائے دینے کے لیے ای میل کریں
    naveedsheikh123@hotmail.com

    یوٹیوب چینل سکرائب کریں

    https://www.youtube.com/c/superteamks

    فیس بک پروفائل

    https://www.facebook.com/sheikh.naveed.9

    ٹویٹر پر فالو کریں

     

     

  • میر حسن تو مر گیا لیکن بھٹو آج بھی زندہ ہے:علی چاند

    میر حسن تو مر گیا لیکن بھٹو آج بھی زندہ ہے:علی چاند

    میر حسن ابڑو بیٹا ہمیں معاف کرنا ہم نے کبھی اس پاک وطن سے بھٹو کو کبھی مرنے ہی نہیں دیا ۔ ہم نے تو آپ جیسے غریبوں ، بے بس لاچاروں کے ٹیکس کا پیسہ وہ ٹیکس جو آپ لوگ ایک روپے کی ٹافی ، پانچ روپے کی چاکلیٹ پر دیتے ہو وہ سارے کا سارا پیسہ بھٹو کو زندہ رکھنے پر لگا دیا ہے ۔ ہم نے ساری محنت بھٹو کو زندہ رکھنے پر لگا دی ہے ۔ بیٹا معاف کرنا ہم نے تو تمہارے ایک روپے کی ٹافی سے بھی ٹیکس لیا اور پھر وہ سارا ٹیکس بھٹو کے نواسے نواسیوں کے کتے پالنے پر لگا دیا ۔ میر حسن ابڑو بیٹا اس بات کا قصور وار کون ہے ؟ وہ لوگ جو آج بھی دو دو سو لے کر جٸیے بھٹو کا نعرہ لگا رہے ہیں یا وہ لوگ قصور وار ہیں جن کا آج بھی کہنا ہے کہ اگر کبھی سنو کے پی پی پی کا صرف ایک ہی ووٹر ہے تو یقین کر لینا کہ وہ میں ہی ہوں ۔

    سندھ کا میر حسن ابڑو جسے کتے نے کاٹا اور کتے کے کاٹے کی ویکسین نہ ملنے پر وہ کمشنر آفس کے سامنے سسک سسک کر ماں کی گود میں ہی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے سو گیا ۔ دکھ صرف میر حسن ابڑو کی موت کا نہیں دکھ تو اس بات کا ہے کہ میر حسن کی سسکیاں ، اس کی ماں کی آہیں ، اس کی والدہ کی تڑپ بھی بے ضمیر اور بے شرم حکمرانوں کو نہیں جگا سکی ۔ میر حسن جیسے بچے تو موت کے منہ میں چلتے جارہے ہیں ، تھر میں ہزاروں بچے خوراک کی کمی کا شکار ہو کر موت کی وادی میں پہنچ گٸے لیکن بے ضمیر اور مردہ دل والوں کا آج بھی یہی نعرہ ہے کہ بھٹو کل بھی زندہ تھا ، بھٹو آج بھی زندہ ہے ۔ بھٹو کے نواسے نواسیوں کو ان کے کتوں کے ساتھ دیکھ کر ، ان کتوں کے ساتھ ان کا پیار محبت دیکھ کر بھی کیا سندھ کے لوگوں کو کبھی خیال نہیں آیا کہ لوگ یہی سمجھ لیں کہ ان لوگوں کے نزدیک اہم کون ہے ۔ اپنے ایک ایک روپے کے ٹیکس ادا کرتے ہوٸے کبھی خیال نہیں آیا کہ یہ ٹیکس بھٹو کے نواسے نواسیوں کے کتوں پر تو خرچ ہو گا لیکن سندھ کی عوام پر حرام سمجھا جاٸے گا ۔

    میر حسن ابڑو کی سسکیاں بھی اگر ہم لوگوں کو ہمارے حکمرانوں کی اوقات دکھا کر ہمارے مردہ ضمیروں کو نہ جگا سکیں تو سمجھ جانا کہ کل کو ہمارا اپنا خون ، ہمارا اپنا لخت جگر ، ہماری گود میں پلنے والا میر حسن بھی ایسی اذیت سے گزر سکتا ہے ۔ آج اگر میر حسن کی آہیں ہمیں نہ جگا پاٸیں تو سمجھ لینا کہ ہم نے بھی اپنی اولاد کو اذیت دینے کا فیصلہ کر لیا ہے ۔ میر حسن کی موت یہ پیغام دے کر جا رہی ہے کہ آٶ پکڑو ان مردہ ضمیر حکمرانوں کے گریبان اور لو ان سے اپنے بچوں کی ایک ایک روپے کی ٹافی پر دٸیے گے ٹیکس کا حساب ، لو ان سے اپنے بچوں کی پانچ پانچ روپے والی چاکلیٹ کے ٹیکس کا حساب ۔ اگر آج نہیں بولو گے تو کل بھگتو گے ۔ میر حسن کی سکیاں بتا رہی ہیں کہ ہمیں بھٹو کو مارنا ہوگا ورنہ ہماری نسلیں اسی طرح تڑپ تڑپ کر جان دیں گی اور حکمرانوں کے کتے عیاشیاں کریں گے ۔ میر حسن ابڑو کی تڑپ بتا رہی ہے کہ آنکھیں کھولو اس سے پہلے کہ تمہارے بچوں کی آنکھیں بند ہوجاٸیں ۔

    کیا قیامت گزر رہی ہوگی اس ماں کے دل پر جس کا بھٹو زندہ تھا مگر اس کا پیارا بیٹا اس کے سامنے تڑپ تڑپ کر جان دے رہا تھا اور بے بس ماں اپنے لخت جگر کے لیے کچھ کر نہیں پا رہی تھی ۔ میر حسن کی ماں بھی سوچ رہی ہوگی کاش بھٹو اس کے سامنے ہوتا تو اسے خود اپنے ہاتھوں سے مار دیتی تاکہ اس کے جگر کا ٹکڑا آج ایسی بے بسی کی موت نہ مرتا ۔ ماں بھی سوچ رہی ہوگی کہ کاش بھٹو کے نواسے نواسیاں اس کے سامنے ہوتے یہ بھی ان کو ایسے تڑپاتی ، یہ بھی ان کو ایسی اذیت سے گزارتی تاکہ انہیں بھی پتہ ہوتا کہ انہیں ووٹ ان کے پالے ہوٸے کتے نہیں بلکہ سندھ کے غریب عوام دیتے ہیں ۔ عوام خوراک کی کمی سے مرتی ہے تو مرے ، عوام ادویات نہ ہونے کی وجہ سے مرتی ہے تو مرے لیکن سندھی عوام کے ووٹ سے جیتنے والی جماعت کا ایک ہی منشور ، ایک ہی مقصد ایک ہی نعرہ ہے کہ بھٹو زندہ ہے ۔ خدا جانے کب بھٹو مرے گا اور سندھ کی عوام کی طرف توجہ دی جاٸے ۔

    اپنے ووٹ کا جسے پاکستانی عوام محض ایک پرچی سمجھتی ہے اس کا سوچ سمجھ کر استعمال کریں ۔ تاکہ ہم سب کے میر حسن کبھی ہماری گودوں میں اس طرح دم نہ توڑیں ۔ ووٹ ڈالنے سے پہلے کبھی سوچا ہے کہ جسے ووٹ دے رہے ہو اس کا منشور کیا ہے ، اس کے بچے پاکستان میں ہیں یا کسی انگریز ملک میں کتوں کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں ۔

    نہیں سوچا تو آٸیندہ ضرور سوچنا کیونکہ کتوں کے ساتھ زندگی گزارنے والے کتوں کا تو خیال رکھیں گے لیکن آپ کا نہیں ۔

    اللہ پاک ہمارے پیارے پاکستان پر مسلط ایسے لوگوں کو نیست و نابود کرے اور پاکستان کی عوام کو کوٸی ایک ہمدرد عطا فرما دے جو ان کے دکھ درد کا ازالہ کر سکے ۔ آمین