Baaghi TV

Tag: بیرسٹر گوہر

  • نشان نہ ملتا تو تمام سیٹوں سے الیکشن مشکوک ہوجاتے،بیرسٹر گوہر

    نشان نہ ملتا تو تمام سیٹوں سے الیکشن مشکوک ہوجاتے،بیرسٹر گوہر

    چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سابق چیئرمین پی ٹی آئی آئی عمران خان سے آج ملاقات ہوئی ،ٹکٹوں سے متعلق پراسس کل مکمل ہوجائے گااور پریس کانفرنس میں اعلان کریں گے

    بیرسٹر گوہر علی خان کا کہنا تھا کہ پشاور ہائیکورٹ نے تاریخی فیصلہ دیا،بلا پی ٹی آئی نہیں پاکستانی عوام اور ان کے حقوق کی نشانی ہے،الیکشن کمیشن نے ہر مرحلہ پر روکنے کی کوشش کی ،نشان نہ ملتا تو تمام سیٹوں سے الیکشن مشکوک ہوجاتے ،آنے والا الیکشن کوئی بھی ہوتا کرپشن کا بازار لگ جاتا ،دنیا کے تمام قوانین میں کسی سیاسی پارٹی سے نشان لینے کا قانون نہیں، ہم نے ایسے الیکشن کرائے جس طرح کسی پارٹی نے نہ کرائے،

    بیرسٹر گوہر علی خان کا مزید کہنا تھا کہ کل ٹکٹ کا اعلان کریں گے ملک کے ہر حلقہ میں امیدوار ہوگا ،تمام ٹکٹ جو دستخط کرکے جاری کریں گے میڈیا سے شیئر کریں گے،ٹکٹوں کیلئے پیسوں کے لین دین کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ،تحصیل، ضلع اور ڈویژن کی سطح پر کمیٹیاں بنی ہیں،کل پکا فائنل ہے پرسوں مجھے ملاقات کی اجازت نہ ملی ،کل پشاور ہائیکورٹ مصروف تھا آج ملاقات ہوئی ،باہرملکوں کے کیسز سے متعلق بات نہیں ہوئی، کل سائفر کیس لگا ہواہے ہورا یقین ہے عدالت سے ریلیف ملے گا اوپن ٹرائل ہوگاسائفرکیس حکومت کے خلاف نہیں ہے،ملکی سلامتی کیلئے ہے،پوسٹل بیلٹ کیلئے ابھی اپلائی نہیں کیا،بانی پی ٹی آئی کو بہت سارے کیسز میں ملوث کیاجارہاہے ،8 فروری کو پی ٹی آئی کی جیت اور دوتہائی اکثریت ہوگی عوام کی آواز سنی جائے گی ،اگر سابق چیئرمین پی ٹی آئی ادھر ہی ہوئے تو پوسٹل بیلٹ کیلئے اپلائی کریں گے،آٹھ فروری کو انشاء اللہ پی ٹی آئی جیت کر دکھائے گی،

    واضح رہے کہ پشاور ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کا پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی انتخابات سے متعلق 22 دسمبر کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا، بلے کا نشان بحال ہو گیا،پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس اعجاز انور اور سید ارشد علی نے فیصلہ سنا دیا ۔پشاور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کو بلے کے نشان پر انتخابات لڑنے کی اجازت دے دی۔پشاور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کی درخواست منظور کر لی

    مجھے بلے کی آفر ہوئی میں نے انکار کر دیا

    بلے کے نشان کے بعد پی ٹی آئی کا نام و نشان بھی ختم ہوجائےگا ۔

     پی ٹی آئی کے ساتھ آج جو کچھ ہو رہا ہے وہ اسکا اپنا کیا دھرا ہے ،

    عمران خان نے تبدیلی کے نام پر عوام کو دھوکہ دیا

    الیکشن میں میں جہاں بھی ہوں گا وہاں جیت ہماری ہی ہوگی

     بانی پی ٹی آئی اب قصہ پارینہ بن چکے

    عمران خان ملک میں الیکشن نہیں چاہتا ، وہ صدارتی نظام چاہتاہے 

  • پی ٹی آئی چیف جسٹس پر اعتماد بارے تقسیم،بیرسٹر گوہر اور شیر افضل کی الگ الگ پریس کانفرنس

    پی ٹی آئی چیف جسٹس پر اعتماد بارے تقسیم،بیرسٹر گوہر اور شیر افضل کی الگ الگ پریس کانفرنس

    تحریک انصاف کی قیادت میں ایک بار پھر لڑائی، وکلا تقسیم ہو گئے، بیرسٹر گوہر نے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر اعتماد کا اظہار کیا تو شیر افضل مروت نے عدم اعتماد کا اظہار کر دیا، بیرسٹر گوہر نے پریس کانفرنس کی تو شیر افضل مروت اپنی پریس کانفرنس کرنے پہنچ گئے

    تحریک انصاف کے مرکزی دفتر میں دلچسپ صورتحال اس وقت پیدا ہو گئی جب بیرسٹر گوہر خان نے پریس کانفرنس کی تو اسکے بعد شیر افضل مروت پہنچ گئے اور کہا کہ میں نے بھی پریس کانفرنس کرنی ہے،چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان اور شیر افضل مروت آمنے سامنے آ گئے، شیر افضل مروت نے کہا کہ میں اپنی پریس کانفرنس کروں گا،بیرسٹر گوہر نے شیر افضل مروت کو پریس کانفرنس سے روک دیا،شیر افضل مروت پریس کانفرنس کے لئے پریس روم میں پہنچ گئے اور کہا کہ اپنے خان صاحب سے ملکر آیا ہوں،جو بھی میں کہہ رہا ہوں یہ خان صاحب اور پی ٹی آئی کا بیانیہ سمجھیں

    قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس باجوہ نے بنوایا،فیض حمید کا کردار تھا، شیر افضل مروت
    شیر افضل مروت نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ،ہم عدالتوں کا احترام کرتے ہیں ڈرتے نہیں ،چیف جسٹس فائز عیسی پر عدم اعتماد ہے،ان کا رویہ جانبدرانہ ہے،جسٹس فائز عیسی کےخلاف ریفرنس جنرل باجوہ نے بنوایا، فیض حمید کا مرکزی کردار تھا،جب فائز عیسی چیف جسٹس بنے تو ہم نے ریفرنس کے اقدام پر شرمندگی کا اظہار کیا،ہم چاہتے ہیں کہ سسٹم پر چلیں،پی ٹی آئی میں ایک گروپ ہے اور وہ عمران خان کاہے،نواز شریف کا کیس تو لگ گیا خان صاحب کا کیس نہیں لگا رہے،چیف جسٹس فائز عیسی کی عدالت سے انصاف کےلیے مایوس ہوچکے ہیں،ہمارے وکلاء پارٹی کا تمسخر بند کیا جائے،ہم جیلوں میں ہیں اور مزید رہنے کو تیار ہیں

    عمران خان نے کبھی نہیں کہا کہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر اعتماد نہیں،بیرسٹر گوہر
    قبل ازیں بیرسٹر گوہر نے کہا کہ عمران خان نے کبھی نہیں کہا کہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر اعتماد نہیں،ویڈیوز میں جو آپ نے دیکھا یہ آٹے میں نمک کے برابر ہے،یہ ریاستی ظلم و تشدد ہے ہمیں کس جرم کی سزا دی جا رہی ہے،تجویز کنندہ یا ووٹر کو آخر کس جرم کی سزا دی جا رہی ہے،ہمارے سکروٹنی کے عمل میں 873 امیدواروں کے کاغذات نامزدگی مسترد کیے گئے،اس طرح سے کاغذات مسترد ہوئے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ بھی حیران ہو گئی،ایک ہی طریقے سے تین تین کاغذات نامزدگی مسترد کیے گئے،ہماری وفاقی کابینہ کے تمام ممبران کے کاغذات نامزدگی مسترد کروائے گئے، اس سب کے باوجود کوشش جاری ہے کہ ہمارے پاس نشان بھی نہ رہے،تمام سروے دیکھ لیں ہماری پالولرٹی 70 فیصد سے زائد ہے،اس عمل سے پی ٹی آئی کو نکالنے کی کوشش جاری ہے،ہمیں اطمینان ہے کہ عدلیہ بہت جلد ایکشن لے گی،اگر اسی طریقے سے الیکشن ہونگے تو یہ فری اینڈ فئیر انتخابات پر سوال ہوگا،سپریم کورٹ سے درخواست ہے کہ لیول پلئینگ فیلڈ کے لیے کردار ادا کریں

    پی ٹی آئی کا چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر عدم اعتماد کا اعلان

    ن لیگ کے محسن رانجھا نے پی ٹی آئی والوں پر پرچہ کٹوا دیا .

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

    انتخابی نشان بلے کے لیے الیکشن کمیشن میں درخواست

    سردار لکھنے پر اعتراض ہے تو اپنی آفیشل ویب سائٹ پر چلے جائیں،لطیف کھوسہ

    بلے کے نشان کے بعد پی ٹی آئی کا نام و نشان بھی ختم ہوجائےگا ۔

     پی ٹی آئی کے ساتھ آج جو کچھ ہو رہا ہے وہ اسکا اپنا کیا دھرا ہے ،

    عمران خان نے تبدیلی کے نام پر عوام کو دھوکہ دیا

  • ہمیں نکالا گیا تو جمہوریت کو نقصان ہو گا، بیرسٹر گوہر

    ہمیں نکالا گیا تو جمہوریت کو نقصان ہو گا، بیرسٹر گوہر

    تحریک انصاف کے وکیل بیرسٹر گوہر نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا ٹاک کرتے ہوئے کہا ہے کہ سابق چیئرمین سے ملاقات اسلام آباد ہائیکورٹ کے احکامات پر ہوئی،ٹکٹوں کے معاملہ پر ابتدائی مشاورت ہوئی ہے،دو دن کی مشاورت کے بعد پراسس مکمل ہو جائے گا اور ٹکٹ فائنل کرلیں گے

    بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ الیکشن اہم پراسس ہے فری فیئر پراسس میں جماعتوں کی شمولیت ضروری ہے ،ہمارے زیادہ تر امیدوروں کے کاغذات نامزدگی مسترد کئے گئے،8فروری کو ہمارے مخالفین کو شکست اور جیت پی ٹی ائی کی ہو گی ،سپریم کورٹ نے ابزرویشن دی کہ الیکشن 8فروری کو ہوں گے ،عدلیہ سے درخواست ہے کہ آپ ہی کا رول ہے ایک پارٹی کو سنگل آوٹ کرکےنکالا جائے گا تو جمہوریت کا نقصان ہو گا اکانومی ڈوب جائے گی،سابق چیئرمین کی مشاورت سے کہا جن لوگوں نے پارٹی کے خلاف پریس کانفرنس کی ان کو ٹکٹوں پر غور نہیں کیا جائے گا،کسی صورت الیکشن کا بائیکاٹ نہیں کریں گے،ہم انڈر 18اور انڈر 19ٹیم کے ساتھ بھی لڑیں گے،انکو کھلا گراونڈ نہیں دیں گے ،سپریم کورٹ میں درخواست دے چکے،درخواست کی کہ لیول پلینگ فیلڈ دی جائے،یہ فیصلہ عوام نے کرنا ہے،اگر کاغذات چھین لئے جائیں،لوگوں کو روکا گیا

    بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ مولانا کی پارٹی ملک کی پارٹی نہیں انکی جماعت کے پی اور بلوچستان تک ہے،انکی سیٹیں پنجاب اور سندھ میں نہیں ہوتیں،ہمارا کوئی موقف نہیں کہ الیکشن کسی صورت ملتوی ہوں،دعا ہے الیکشن خوش اسلوبی سے ہوں،پرامن ہوں،سسٹم پر اعتماد نہیں بھی ہے تو ہونا ہے،کیونکہ ہم نے الیکشن لڑنا ہے ،ہمارے پاس 70فیصد پاپولیرٹی ہے،جو حکومت ہارس ٹریڈنگ کے زمرے میں بن کر آتی ہے وہ کیسے ڈیلیور کر سکتی ہے،ہارس ٹریڈنگ سے بنی حکومت کبھی بھی ملک کو استحکام نہیں دے سکتی ،جہانگیر ترین کا وکیل انگیج کرکے پشاور ہائیکورٹ لے گئے،الیکشن کمیشن کو کہتے ہیں فری اور فیئر الیکشن کرانا آپکی ذمہ داری ہے،ایسی صورت حال میں الیکشن تو ہو جائیں گے لیکن بعد میں کیا ہو گا،ہماری درخواست ہے کہ ہمیں کامن انتخابی نشان دے دیں،ہمارے سارے امیدوار آزاد نہیں ہونے چاہیئں، بلے کے علاوہ کوئی نشان ملتا ہے تو لیں گے لیکن بائیکاٹ نہیں کریں گے ،نگران سیٹ اپ سے کوئی مطمئن نہیں ہے،

    پشاور ہائیکورٹ فیصلے کیخلاف الیکشن کمیشن کی اپیل منظور

    کسی بھی امیدوار کے تجویز ،تصدیق کنندہ کی ہراسگی برداشت نہیں ہوگی،عدالت

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    این اے 122،عمران خان کے کاغذات نامزدگی پر دائر اعتراضات پر فیصلہ محفوظ

    الیکشن کمیشن کا فواد حسن فواد کو عہدے پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

  • کیا تیسری قوتوں کو آنے کی اجازت دی جارہی ہے؟ بیرسٹر گوہر علی خان

    کیا تیسری قوتوں کو آنے کی اجازت دی جارہی ہے؟ بیرسٹر گوہر علی خان

    چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ دو دن سے قابض سیاسی رہنما ہائیکورٹ پر حملہ آور ہیں،ان کی روش ہے فیصلوں کو ماننے کی بجائے حملہ آور ہوتے ہیں

    ایڈووکیٹ لطیف کھوسہ ،ایڈووکیٹ شعیب شاہین ، ایڈووکیٹ انتظار پنجوتھہ کے ہمراہ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر علی خان کا کہنا تھا کہ کل بہت سی پریس کانفرنس ہوئیں، باپ، بیٹا، بھانجا، بھتیجا سب لگے ہوئے ہیں، ان کا مقصد یہی ہے کہ پی ٹی آئی کے پاس کوئی نشان نہ رہے، یہ ہائیکورٹ اور سُپریم کورٹ پر حملہ آور تھے، یہ الیکشن کمیشن کو یرغمال کرکے بیٹھے ہوئے ہیں،ہم توقع کررہے تھے کہ الیکشن کمیشن سے کوئی بیان آئے گا،ہمارا پارٹی الیکشن کا مکمل پراسیس ہوا ہے،ہمارے تمام پارٹی الیکشن صاف شفاف ہوئے ہیں، ان سب کو پتا ہے 8 فروری کو ان کے پاس کچھ نہیں بچنا،یہ چاہتے ہیں کہ پی ٹی آئی کے پاس بلا کا نشان نہ رہے، کسی پارٹی سے نشان لینا اس پارٹی کو ڈیزالو کرنے کے مترادف ہے، بلا صرف تحریک انصاف کا نشان نہیں، 70 فیصد عوام کی امنگوں کی نشانی ہے،

    بیرسٹر گوہر نے پریس کانفرنس کے دوران مسلم لیگ ن اور جے یو آئی ف کے رہنماوں کی اپنے خلاف فیصلہ آنے پرججز کیخلاف بیانات،دھمکیاں دینے کی ویڈیوز چلا دی ہیں

    اگر الیکشن فری اینڈ فیئر نہ ہوئے تو معیشت کو نقصان ہو گا،عدلیہ نوٹس لے، بیرسٹر گوہر
    بیرسٹر گوہر علی خان کا کہنا تھا کہ ہمارا اصل چیئرمین، اصل لیڈر عمران خان ہے، وہ جیل میں ہو یا باہر وہی لیڈ کرتے ہیں، وہی رہنمائی کرتے ہیں، میں اُن کا نمائندہ ہوں، ہمارے انٹرا پارٹی انتخابات صاف و شفاف تھے، صاف و شفاف الیکشن نہ ہوئے تو معشیت تباہ،ملک کا بدترین نقصان ہوجائےگا،جمہوریت ڈی ریل ہوجائے گی،یہ جو قابض بیٹھے ہیں ان کو اس بات کا ادراک نہیں،عدلیہ سے التماس کرتے ہیں کہ اگر ایسے حملے ہوئے تو عوام کس طرف چل پڑے گی،کیا یہ بہتر نہیں ہے کہ عدلیہ اس مسئلے کو دیکھے؟،80 سے ذیادہ کیسز ہیں کسطرح لوگوں سے کاغذات نامزدگی چھینے گئے،عدلیہ کو بتا رہے ہیں ایک پارٹی کے خلاف سازش ہو رہی ہے،ہماری عوام سے گزارش ہے کہ پُرامن رہیں،کیا تیسری قوتوں کو آنے کی اجازت دی جارہی ہے؟ اگر الیکشن فری اینڈ فیئر نہ ہوئے تو معیشت کو نقصان ہو گا،انتخابی نشان لینے کے بعد جو ہارس ٹریڈنگ ہو گی اسکا ذمہ دار کون ہو گا، اگر آپ پی ٹی آئی سے انتخابی نشان لے لیں گے تو ریزرو سیٹیں کس کو ملیں گیں؟ جس طریقے سے شاہ محمود قریشی کو روکا گیا یہ ایک بڑی سیاسی جماعت کے خلاف سازش ہے،الیکشن کمیشن اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرے،

    سپریم کورٹ نے ظل سبحانی کو تاحیات نا اہل قرار دے رکھا ، نا اہلی کے باوجود ظل سبحانی کے کاغذات نامزدگی منظور کر لیے گئے،لطیف کھوسہ
    تحریک انصاف کے رہنما لطیف کھوسہ کاکہنا تھا کہ ایک مفرور شخص کو ہیتھرو ایئرپورٹ سے ہمارے سفیر نے سی آف کیا، اسلام آباد ایئرپورٹ پر ہائی کورٹ کی بائیو میٹرک مشین چل کر جاتی ہے، اسی ظل سبحانی کو وزیر اعظم بنانے کے لیے لایا گیا ہے،سوشل میڈیا کا زمانہ ہے سب دیکھ رہے ہیں،لندن پلان کے تحت بادشاہ سلامت کو چوتھی دفعہ وزیراعظم بنانا ہے،چھ آف شور کمپنیاں ہیں ہی آپکی،دھرتی ماں کو آپ چوتھی دفعہ لوٹنے جا رہے ہیں،جو لوگ لکھنا پڑھنا نہیں جانتے وہ انتخابی نشان پر ہی ووٹ دیتے ہیں،جمہوریت کا جنازہ نکل چکا ہے،جس طرح کاغذات منظور ہوئے اسے کون کرواتا ہے،میرے داماد کے سیکرٹری کو آج اٹھالیا گیا،سپریم کورٹ کے فیصلے کو آوور ریچ کرنے کے لیے آئین میں ترمیم کرنی پڑے گی،پارلیمان نہیں ہے آئین میں ترمیم نہیں ہو سکتی،ہمارے کسی امیدوار کے کاغذاتِ ابھی تک منظور نہیں کیے گئے،ایک بندہ تا حیات نا اہل ہے اس کے بھی کاغذات نامزدگی جمع کر لیے گئے ہیں جو کچھ ہو رہا ہے دنیا دیکھ رہی ہے یہ تاریخ میں یاد رکھا جائے گا ،چوتھی مرتبہ وزیراعظم بنانا ہے تو ملکی معیشت ڈوبے گی،یہ پاکستانی تاریخ کی بدترین پری پول دھاندلی ہے، کل شاہ محمود قریشی کو نہیں سپریم کورٹ کو دھکے پڑے ہیں،نواز شریف کے لیے صرف ایک ہی طریقہ ہے وہ 90 ون ایف میں ترمیم ہے،ابھی پارلیمان نہیں آئینی ترمیم بھی نہیں ہو سکتی ،سپریم کورٹ نا اہلی میں اپیل بھی خارج کر چکی ہے، سپریم کورٹ نے ظل سبحانی کو تاحیات نا اہل قرار دے رکھا ہے، نا اہلی کے باوجود ظل سبحانی کے کاغذات نامزدگی منظور کر لیے گئے،

    این اے 122،عمران خان کے کاغذات نامزدگی پر دائر اعتراضات پر فیصلہ محفوظ

    تمام امیدواران کو الیکشن کا برابر موقع ملنا چاہئے

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

    ٹکٹوں کی تقسیم،ن لیگ مشکل میں،امیدوار آزاد لڑیں گے الیکشن

    کسی بھی امیدوار کے تجویز ،تصدیق کنندہ کی ہراسگی برداشت نہیں ہوگی،عدالت

     این اے 15سے نوازشریف کے کاغذات نامزدگی منظور

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    الیکشن کمیشن کا فواد حسن فواد کو عہدے پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

  • شیر افضل مروت کی گرفتاری،الیکشن کمیشن نے یہ لیول پلیئنگ فیلڈ دی؟ بیرسٹر گوہر

    شیر افضل مروت کی گرفتاری،الیکشن کمیشن نے یہ لیول پلیئنگ فیلڈ دی؟ بیرسٹر گوہر

    تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے الیکشن کمیشن میں کیس کی سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 837950 پارٹی کے اہل ووٹر ہیں انٹراپارٹی انتخابات کے خلاف درخواست گزار سب پلانٹڈ لوگ ہیں،

    گوہر علی خان کا کہنا تھا کہ ہمارا بلامقابلہ ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم عمران خان کے ساتھ ہیں،پینل کم از کم بیس لوگوں پر مشتمل ہوتا ہے یہ 14 ہیں، ہم شیر افضل مروت کی گرفتاری کی شدید مزمت کرتے ہیں، ہمیں لیول پلیئنگ فیلڈ نہیں مل رہی،بلے کے نشان کو روک کرکوئی غلط تاریخ رقم نہ کریں،اگر آپ آر اوز کو جیوڈیشریز کے بجائے انتظامی لوگوں کو لگائیں گے تو الیکشن صاف شفاف نہیں ہونگے، آج شیر افضل مروت کی گرفتاری کے بعد الیکشن کمیشن کس منہ سے کہتا ہے لیول پلینگ فیلڈ تحریک انصاف کو دی ہوئی،کیا یہ لیول پلینگ فیلڈ ہے، کیا ان کے پاس گنیں تھیں؟ ایسی صورتحال میں الیکشن کیسے فیئر ہو گا، ہم پارٹی کے ورکرز کنونشن کریں گے اور آگے بڑھیں گے

    الیکشن بیس دن میں کرانے کا حکم تھا نہ کہ اسکے معاملات دیکھنے کا حکم تھا،سینیٹر علی ظفر
    تحریک انصاف کے رہنما سینیٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ چودہ درخواست گزار کی شکایت یہ ہے کہ ہمیں ووٹ نہیں ڈالنے دیا گیا، انٹرا پارٹی الیکشن میں ووٹ صرف جماعت کا ممبر ہی ڈال سکتا ہے،ہم نے چیک کیا ان میں سے کوئی الیکشن کے دن ممبر نہیں تھا، انکا الیکشن میں حصہ لینے کا حق نہیں تھا۔ اگر وہ ممبر نہیں تو ووٹ نہیں کر سکتے، اگر دوسرا کوئی ممبر ہی نہ ہو مخالفت کےلیے تو ووٹ کی ضرورت ہی نہیں پڑتی، وقت کی کمی کی وجہ سے ہماری دلائل پیر کے دن مکمل ہونگے،الیکشن بیس دن میں کرانے کا حکم تھا نہ کہ اسکے معاملات دیکھنے کا حکم تھا، ہم نے بتایا کہ کس دن الیکشن ہونگے جو چاہے نمائندگی کا امیدوار بن سکتا ہے، 2019 آئین پی ٹی آئی کے مطابق الیکشن درست ہوئے،

    آج ایسے اشخاص پارٹی کا حصہ ہیں جو خود جمعہ جمعہ آٹھ دن ہوئے آئے ہیں،اکبر ایس بابر
    دوسری جانب اکبر ایس بابر کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کے وکلا کو دلائل دینے کا موقع دیا گیا، آج بہت سارے ایسے قانونی نکات رکھے گے جو تضادات کا مجموعہ ہے، پی ٹی آئی نے آئین سے انحراف کیا ہے،ان کے الیکشن ہیں ہی متنازع میں پارٹی کا بانی رکن ہوں،آج ایسے اشخاص پارٹی کا حصہ ہیں جو خود جمعہ جمعہ آٹھ دن ہوئے آئے ہیں، آج وہ بھی ہمیں پارٹی کا رکن ماننے سے انکار کر رہے ہیں،ایک نئی سیاسی تاریخ رقم کررہے ہیں،ہم پارٹی میں شفاف انٹرا پارٹی انتخابات چاہتے ہیں،آج کیوں جمہوریت کمزور ہے،قومی الیکشن کی طرح یہ انٹرا پارٹی الیکشن بھی ہمارا بنیادی حق ہیں، ہم نے تحریک انصاف کو ایک رول ماڈل بنانا تھا،اس کو اے ٹی ایم کے حوالے کیا گیا،وکلا کے چھوٹے سے گروہ نے قبضہ کر رکھا ہے،

    پی ٹی آئی انٹراپارٹی الیکشن،یہ دھاندلی نہیں دھاندلا ہوا ہے،مریم اورنگزیب

     اسلامی شرعی احکامات کا مذاق اڑانے پر عمران نیازی کے خلاف راولپنڈی میں ریلی نکالی

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    بشریٰ بی بی کی سڑک پر دوڑیں، مکافات عمل،نواز شریف کی نئی ضد، الیکشن ہونگے؟

    جعلی رسیدیں، ضمانت کیس، بشریٰ بی بی آج عدالت پیش نہ ہوئیں

    عمران خان، بشریٰ بی بی نے جان بوجھ کر غیر شرعی نکاح پڑھوایا،مفتی سعید کا بیان قلمبند

  • جس کو عمران خان کہیں گے اس کو ٹکٹ ملے گا، نومنتخب چیئرمین

    جس کو عمران خان کہیں گے اس کو ٹکٹ ملے گا، نومنتخب چیئرمین

    راولپنڈی: نومنتخب چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان کا کہنا ہے کہ امیدواروں کے حوالے سے کمیٹیاں پہلے سے ہی بنی ہوئی ہیں، جس کو عمران خان کہیں گے اس کو ٹکٹ ملے گا۔

    باغی ٹی وی: راولپنڈی میں اڈیالہ جیل کے باہر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بیرسٹر گوہر خان نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی پر 180 مقدمات ہیں، تحریک انصاف کے ساتھ ساتھ عدلیہ بھی مشکل مرحلے سے گزر رہی ہے لیکن اعتماد ہے کہ عدلیہ ہمیں بھی ریلیف دے گی بیرسٹر گوہر نے امید ظاہر کی کہ بلے کا نشان ان کی ہی جماعت کا ہوگا، آئندہ ہفتے تک سب واضح ہو جائے گا۔

    ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی الیکشن کے خلاف جتنی مرضی درخواستیں دے دیں، پی ٹی آئی نے یہ الیکشن قانون کے مطابق کروائے ہیں، پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی الیکشن فری اینڈ فئیر ہوئے ہیں، بیلٹ پیپر پر بلے کا نشان رہے گا، بانی پی ٹی آئی عمران خان جسے کہیں گے اسے پارٹی کا ٹکٹ ملے گا۔

    دوسری جانب بانی پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹرعلی ظفر نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے بانی نے انٹرا پارٹی الیکشن پر اعتماد کا اظہار کیا ہے الیکشن کمیشن کے پاس بلے کا انتخابی نشان الاٹ کرنے کے لیے 7 دن ہیں، الیکشن سے متعلق سپریم کورٹ کے احکامات کی پابندی ہونی چاہیے ۔

  • یہاں کوئی بھتیجے اور داماد کو پارٹی نہیں دیتا،عمران خان نے مجھے دے دی،بیرسٹر گوہر

    یہاں کوئی بھتیجے اور داماد کو پارٹی نہیں دیتا،عمران خان نے مجھے دے دی،بیرسٹر گوہر

    چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان بانی چئیرمین پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کیلئے اڈیالہ جیل پہنچ گئے۔

    عمران خان سے ملاقات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر خان کا کہنا تھا کہ چییرمین پی ٹی آئی بننے کے بعد بانی چئیرمین سے دوسری ملاقات ہے، صحافی نے سوال کیا کہ آپ کے انٹرا پارٹی الیکشن کو متنازعہ الیکشن کہا جارہا ہے، بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہم نے مکمل آئین و قانون کے تحت الیکشن کروائے ہیں،ہم نےصاف و شفاف انٹرا پارٹی الیکشن کروائے ہیں، ہر قسم کی کوشش کی جارہی ہے پی ٹی آئی کو بلے کا نشان نہ ملے، مجھے یقین ہے بیلٹ ہوگا تو بلا بھی ہوگا،

    بیرسٹر گوہر خان کا کہنا تھا کہ امیدواروں کے حوالے سے کمیٹیاں پہلے سے ہی بنی ہیں،جسکو سابق وزیر اعظم کہیں گے اسکو ٹکٹ ملے گا، بڑا مشکل لمحہ ہے جس سے پارٹی گزر رہی ہے،180 مقدمات بنے ہیں، اس حوالے سے تیاری کی ہے آئندہ ہفتہ تک سب واضح ہو جائے گا، عدلیہ بھی مشکل مرحلے سے گزر رہی ہے،امید ہے عدلیہ ہمیں بھی ریلیف دے گی،میرے والد پیپلز پارٹی کے ایم پی اے تھے،وکلاء تحریک اور گورنر رول کے بعد پیپلز پارٹی سے استعفی دیکر اپنے پیشہ پر توجہ دے رہا تھا ،میں نے پی ٹی آئی کو جوائن کرلیا تھا، میرا تعلق پی ٹی آئی سے ہے اسی کے ساتھ رہوں گا ،سابق وزیر اعظم نے مثال قائم کی اور ورکر کو پارٹی سونپ دی، یہاں کوئی بھتیجے اور داماد کو پارٹی نہیں دیتا،عدلیہ پر اعتماد ہے، آخری مرحلہ پر کوئی کوشش کی گئی تو عدلیہ جمہوریت کو ڈی ریل نہیں ہونے دے گی اور بلا ہمارا ہی ہو گا،

     اسلامی شرعی احکامات کا مذاق اڑانے پر عمران نیازی کے خلاف راولپنڈی میں ریلی نکالی

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    بشریٰ بی بی کی سڑک پر دوڑیں، مکافات عمل،نواز شریف کی نئی ضد، الیکشن ہونگے؟

    جعلی رسیدیں، ضمانت کیس، بشریٰ بی بی آج عدالت پیش نہ ہوئیں

    عمران خان، بشریٰ بی بی نے جان بوجھ کر غیر شرعی نکاح پڑھوایا،مفتی سعید کا بیان قلمبند

    دوسری جانب تحریکِ انصاف کے رہنمابابر اعوان نے عمران خان سے جیل میں ملاقات کے بعد کہا کہ عمران خان نے کہا ہے کہ ہر سیٹ پر الیکشن لڑیں گے، توشہ خانہ کے مقدمے کی اصل تاریخ پہلے سے فکس شدہ تھی، یہ مقدمات عمران خان کو الیکشن سے باہر رکھنے کی سازش ہیں،نیب ہلکا سا لیول پلیئنگ فیلڈ عمران خان کو بھی دے،

  • پی ٹی آئی کی چیئرمین شپ کے لیے بیرسٹر گوہر علی خان کا انتخاب ،قیادت کے انتخاب پر سوالات

    پی ٹی آئی کی چیئرمین شپ کے لیے بیرسٹر گوہر علی خان کا انتخاب ،قیادت کے انتخاب پر سوالات

    پی ٹی آئی کی چیئرمین شپ کے لیے بیرسٹر گوہر علی خان کا انتخاب ،قیادت کے انتخاب پر سوالات

    تحریک انصاف کے عمران خان کی جگہ بیرسٹر گوہر علی خان کو پی ٹی آئی کا نیا چیئرمین منتخب کر لیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ عمران خان کی بظاہر اس خواہش کی نشاندہی کرتا ہے کہ ایک قابل اعتماد اتحادی ان کی جگہ لے لے، جو ایک ایسے اسٹریٹجک فیصلے کا اشارہ ہے جس کے دور رس نتائج ہو سکتے ہیں۔ تاہم، یہ پارٹی کے اندر دیگر تجربہ کار سیاسی شخصیات کے حوالہ سے بھی متعلقہ سوالات اٹھاتا ہے۔

    تحریک انصاف کی قیادت کی منتقلی میں قابل ذکر سیاسی شخصیات کو نظر انداز کیا گیا جیسا کہ سابق وزیر، عمر ایوب خان، جو اب پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل ہیں۔ عمرایوب خان اس سے قبل 2004 سے 2007 تک وفاقی کابینہ میں وزیر مملکت برائے خزانہ کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ ایک اور شخصیت سید علی ظفر، جو سابق وفاقی وزیر قانون و انصاف رہ چکے ہیں اور سینیٹ میں پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈر کے عہدے پر بھی فائز تھے۔

    ممتاز قانون دان اعتزاز احسن سے وابستہ بیرسٹر گوہر کے انتخاب نے تحریک انصاف کی صفوں میں تیزی دکھائی ہے ان کا سفر توشہ خانہ کیس کے دوران جج ہمایوں دلاور کے ساتھ تصادم کے تبادلے سے شروع ہوا۔

    بیرسٹر گوہر کی تقرری کے بارے میں ملی جلی رائے سامنے آ رہی ہے، انہیں عمران خان کے عثمان بزدار کو وزیر اعلیٰ پنجاب مقرر کرنے کے ماضی کے فیصلے سے بھی جوڑا جا رہا ہے۔ یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ عمران خان نے جان بوجھ کر کسی ایسے شخص کا انتخاب کیا جو اس کے قانونی مسائل کے حل ہونے تک کوئی خطرہ پیدا کیے بغیر اپنا کردار ادا کر سکے تاہم، اہم سوال یہ ہے کہ کیا بیرسٹر گوہر انتخابات میں پی ٹی آئی کی حمایت کر سکتے ہیں؟-

    انتخابی مہم اور الیکشن کے دن کے انتظامات کی تاثیر ایک اہم سائنس ہے، اور اس بارے میں شکوک و شبہات باقی ہیں کہ آیا بیرسٹر گوہر پی ٹی آئی کے کارکنوں کی آن دی گراؤنڈ حمایت حاصل کر سکتے ہیں۔ ان شکوک و شبہات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے کہ بہت سے اہم رہنماؤں کی غیر موجودگی پارٹی کو ایک چیلنجنگ پوزیشن میں چھوڑ کر جا رہی ہے۔ مزید برآں، سیاسی منظر نامے میں تبدیلی آئی ہے، اس نظام کے ساتھ جس نے 2018 میں پی ٹی آئی کی حمایت کی تھی، 2024 میں ممکنہ تبدیلی کے آثار دکھائی دے رہے ہیں۔

    جیسے جیسے سیاسی مرحلہ سامنے آ رہا ہے وقت ہی بیرسٹر گوہر علی خان کی تحریک انصاف کے لیے قیادت کے حقیقی مضمرات سے پردہ اٹھائے گا آنے والے چیلنجز پاکستانی سیاست کی پیچیدہ حرکیات کو نیویگیٹ کرنے کے لیے اسٹریٹجک فیصلہ سازی، اور ماہر انتظام کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔