Baaghi TV

Tag: بی جے پی

  • بی جے پی کو ہریانہ اور مقبوضہ کشمیر میں بھی شکست کا امکان

    بی جے پی کو ہریانہ اور مقبوضہ کشمیر میں بھی شکست کا امکان

    مودی کی جماعت بی جے پی کو عام انتخابات کے بعد ریاستی انتخابات میں بھی دھچکا لگنے کا امکان ہے۔ حکمران جماعت بی جے پی دو ریاستی انتخابات میں بھی ہارنے والی ہے۔

    ایگزٹ پولز کے مطابق ہریانہ اور مقبوضہ کشمیر میں بی جے پی کو اپوزیشن جماعت کانگریس اور اتحادیوں سے شکست کا امکان ہے۔بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ہریانہ کے ایگزٹ پولز میں کانگریس کو واضح برتری حاصل ہے جو حکمراں جماعت کی ریاست میں ایک دہائی کی حکمرانی کے خاتمے کا اشارہ ہے۔حزب اختلاف نے جموں و کشمیر میں بھی برتری حاصل کی ہے، ہریانہ اور مقبوضہ کشمیر میں مرحلہ وار ہونے والے انتخابات گزشتہ روز ختم ہوئے۔دونوں ریاستوں میں منگل تک ووٹوں کی گنتی ہوگی، نتائج کا اعلان بھی اسی دن ہوگا۔ ہریانہ اور مقبوضہ کشمیر میں عام انتخابات کے بعد کسی ریاست میں ہونے والی سب سے پہلی ووٹنگ ہے۔

    کراچی ایئرپورٹ کے قریب زوردار دھماکہ، پانچ افراد زخمی

    پنجاب پولیس کاکچے میں آپریشن، 2 ڈاکو ہلاک

    علی امین گنڈاپور نے گمشدگی کا ڈراما رچایا، وفاقی وزیر اطلاعات

  • اروند کیجریوال عبوری ضمانت ختم ہونے پر دوبارہ جیل بھیج دیا گیا

    اروند کیجریوال عبوری ضمانت ختم ہونے پر دوبارہ جیل بھیج دیا گیا

    نئی دہلی: بھارت کی عام آدمی پارٹی (آپ) کے رہنما اور دہلی کے وزیراعلیٰ اروند کیجریوال کو شراب پالیسی کیس میں عبوری ضمانت ختم ہونے پر دوبارہ جیل بھیج دیا گیا۔

    باغی ٹی وی : اروند کیجریوال کی یکم جون تک عبوری ضمانت منظور کی گئی تھی، سپریم کورٹ کی جانب سے عبوری ضمانت منظوری کے فیصلے میں کہا گیا تھا کہ اروند کیجریوال کو 2 جون کو خود کو دوبارہ جیل حکام کے حوالے کرنا ہوگا، یعنی بھارتی عام انتخابات کے نتائج کے اعلان سے 2 دن قبل انہیں پھر جیل جانا ہوگا۔

    اروند کیجریوال کو کرپشن الزامات پر شراب پالیسی کیس میں 21 مارچ کو گرفتار کیا گیا تھا، اس کے بعد سے وہ دہلی کی تہاڑ جیل میں قید تھے،اروندکیجریوال نے گرفتاری سے بچنے کے لیے دہلی ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا تا ہم عدالت نے ان کی حفاظتی ضمانت کی درخواست مسترد کردی تھی۔

    برطانوی بینک کے 3 کروڑ صارفین کا ڈیٹا ہیک،آن لائن فروخت کیلئے پیش

    عام آدمی پارٹی کا مؤقف ہےکہ بی جے پی کی قیادت عام آدمی پارٹی اور دیگر پارٹیوں کو جڑ سے ختم کرنا چاہتی ہے، کیجریوال پر الزامات کے پیچھے مودی کے سیاسی عزائم ہیں، عام آدمی پارٹی سے تعلق رکھنے والے نئی دہلی کے سابق نائب وزیراعلیٰ منیش سیسوڈیا اور راجیہ سبھا (ایوان بالا) کے رکن سنجے سنگھ بھی منی لانڈرنگ کیس میں گرفتار ہوچکے ہیں۔

    لاہور: نجی گرلز ہاسٹل میں خفیہ کیمرے لگائے جانے کا انکشاف

  • بھارتی انتخابات ، مودی کی بے چینی،سادہ اکثریت حاصل کرنا مشکل

    بھارتی انتخابات ، مودی کی بے چینی،سادہ اکثریت حاصل کرنا مشکل

    بھارت میں انتخابات ہو رہے ہیں، حکمران جماعت بی جے پی الیکشن جیتنے کی سر توڑ کوشش کر رہی ہے تو وہیں کانگریس بھی اتحادیوں کے ساتھ ملکر حکومت بنانے کی خواہاں ہے، دونوں بڑی جماعتیں ایک دوسرے پر الزامات کی بوچھاڑ کر رہی ہیں،ایسے میں سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے بھارتی انتخابات پر اپنا تجزیہ پیش کیا ہے

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے بھارتی انتخابات بارے مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ بھارتی انتخابات میں ٹرن آؤٹ غیر متوقع ہو سکتا ہے، پہلی بار بھارتی وزیراعظم مودی اور انکی جماعت بی جے پی بے چین ہیں، انہیں احساس ہو گیا ہے کہ انتخابات کے نتائج جیسے وہ چاہتے ہیں ویسے نہیں ہوں گے جس طرح وہ توقع کر رہے تھے، اس طرح نتائج نہیں آ رہے، کئی ریاستوں میں انہیں سرپرائز ملے گا، ایک بات یقینی ہے، کہ بی جے پی کو اکثریت نہیں مل رہی جس کے مزے انہوں نے پچھلی بار لئے،

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اگرچہ بی جے پی زیادہ سیٹیں جیت جائے گی تا ہم اسے سادہ اکثریت نہیں مل رہی جو انکے سیاسی نعرے کے لئے بہت ضروری ہے، اگر 272 سیٹیں نہیں ملتیں تو مودی اتنے متعلقہ نہیں ہوں گے جتنے وہ پچھلے انتخابات کے بعد تھے۔انتخابی مہم میں اب بی جے پی کا اچانک موڈ بدل گیا ہےاور ایک بار پھر بی جے پی نے مسلم مخالف نعرے شروع کر دیے ہیں حالانکہ انتخابات سے قبل انہوں نے ایسا کرنے سے گریز کیا تھا

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ بی جے پی اپنے پرانے آزمائے ہوئے حلقوں پر قائم ہے۔انکے لئے کوئی نیا ووٹ نہیں ہے، بھارتی انتخابات میں ٹرن آؤٹ بہت اہم ہے۔ اگر 67% سے زیادہ ووٹرز ووٹ دیتے ہیں تو مودی جیت سکتے ہیں۔ کم ٹرن آؤٹ مودی کے خوابوں کے لیے تباہ کن ہوگا۔ بہت سے ہندوتوا لیڈروں کو انتخابات سے پہلے ہی باہر کردیا گیا۔ یہ بین الاقوامی برادریوں کو مطمئن کرنے اور پیراڈائم شفٹ کی عکاسی کرنے کی ایک کوشش تھی۔ تاہم اب مودی نے خود ہی شور مچانا شروع کر دیا ہے اور وہ پرانا منتر پرواپس آ گیا ہے۔ یہ پہلی بار حکمران اشرافیہ میں خوف و ہراس کی عکاسی کرتا ہے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ بھارتی انتخابات میں بھارتی الیکشن کمیشن کو کریڈٹ جاتا ہے، جو مضبوط اور یقینی طور پر غیر جانبدار ہے۔ حسن یہ ہے کہ بھارت کو عبوری حکومت کی ضرورت نہیں ہے اور پھر بھی کوئی حکومت پر دھاندلی کا الزام نہیں لگاتا۔

    ہم جنس پرستی کلب کے قیام کی درخواست پر ڈاکٹر فرید احمد پراچہ کا ردعمل

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    ایبٹ آباد میں "ہم جنس پرستی کلب” کے قیام کے لیے درخواست

    ہنی ٹریپ،لڑکی نے دوستوں کی مدد سے نوجوان کیا اغوا

    بچ کر رہنا،لڑکی اور اشتہاریوں کی مدد سے پنجاب پولیس نے ہنی ٹریپ گینگ بنا لیا

    طالبات کو نقاب کی اجازت نہیں،لڑکے جینز نہیں پہن سکتے،کالج انتظامیہ کیخلاف احتجاج

    امجد بخاری کی "شادی شدہ” افراد کی صف میں شمولیت

  • بھارتی وزیر داخلہ  ہیلی کاپٹر حادثے میں بال بال بچ گئے

    بھارتی وزیر داخلہ ہیلی کاپٹر حادثے میں بال بال بچ گئے

    پٹنہ: بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما اور بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ جلسے سے روانگی کے وقت ہیلی کاپٹر حادثے میں بال بال بچ گئے۔

    باغی ٹی وی: بھارتی میڈیا کے مطابق 59 سالہ وزیر خارجہ امیت شاہ ریاست بہار میں انتخابی مہم کے دوران اُن کا ہیلی کاپٹر اُڑان بھرتے وقت پائلٹ کے قابو سے باہر ہوگیا اور تھوڑی اونچائی پر جاکر دائیں جانب جھولتے ہوئے دوبارہ زمین سے ٹکرا گیا،تاہم پائلٹ نے مہارت سے ہیلی کاپٹر پر کنٹرول حاصل کرلیا اور کامیابی سے پرواز بھرلی اس حادثے میں امیت شاہ اور ان کے دیگر ساتھی مکمل طور پر محفوظ رہے تاہم ہیلی کاپٹر کو کچھ نقصان پہنچا۔

    دبئی: المکتوم ایئر پورٹ کے لیے 128 بلین درہم کے توسیعی منصوبے پر …

    واضح رہے کہ بہار میں بھارتیہ جنتا پارٹی اور جے پی نتیش کمار کی جماعت ’جے ڈی یو‘ نے انتخابی اتحاد کیا ہے 17 نشستوں پر بی جے پی جب کہ 16 جے ڈی یو کا امیدوار ہے،بھارت میں عام انتخابات کے 7 مرحلوں میں سے 2 مرحلے مکمل ہوچکے ہیں جب کہ تمام مراحل یکم جون کو ختم ہو جائیں گے جب کہ 4 جون کو نتائج کا اعلان کیا جائے گا۔

    کراچی میں انسداد پولیو مہم کا آغاز ہوگیا

  • اگر بی جے پی جیت گئی تو ملک کا وہ حال ہوگا کہ لوگ پہچان نہیں پائیں گے،انڈین ماہر معاشیات

    اگر بی جے پی جیت گئی تو ملک کا وہ حال ہوگا کہ لوگ پہچان نہیں پائیں گے،انڈین ماہر معاشیات

    نئی دہلی: بھارت کی وزیرِ خزانہ نرملا سیتارمن کے شوہر اور ماہرِ معاشیات پرکلا پربھاکر نے خبردار کیا ہے کہ اگر بھارتیہ جنتا پارٹی ایک بار پھر جیت گئی تو بھارت کا نقشہ بدل جائے گا۔

    باغی ٹی وی : ماہرِ معاشیات پرکلا پربھاکر کے نے ایک حالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ کچھ بھی ہو، بھارتی جنتا پارٹی کو ایک بار پھر اقتدار میں نہیں آنا چاہیے اگر نریندر مودی وزیر اعظم کی مسند پر براجمان رہے تو ملک میں شدید نفرت پھیلے گی، ملک کا وہ حال ہوگا کہ لوگ پہچان نہیں پائیں گے منی پور میں قبائلی اور نسلی بنیادوں پر جو نفرت پائی جاتی ہے وہ پورے ملک کی شناخت بن جائے گی۔

    پرکلا پربھاکر نے کہا کہ اگر نریندر مودی اِس منصب پر رہے تو بھارت میں پھر کبھی انتخابات نہیں ہوں گے عوام انتخابات کی امید نہ رکھیں، وزیر اعظم نریندر مودی اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے دیگر رہنماؤں کی طرف سے ’جسے پاکستان جانا ہے اُسے جانے دو‘ جیسے نفرت انگیز بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے پرکلا پربھاکر نے کہا کچھ بعید نہیں وزیر اعظم خود لال قلعہ کے پلیٹ فارم سے منافرت پر مبنی تقریریں کریں اور یہ کہ یہ سب کچھ ڈھک چُھپ کر نہیں بلکہ کُھلم کُھلا ہوگا۔

    شاہ چارلس کی تصویر والے کرنسی نوٹوں کی رونمائی کر دی گئی

    گزشتہ ماہ انتخابی چندے کے حوالے سے الیکٹورل بونڈز کا اسکینڈل سامنے آنے پر پرکلا پربھاکر نے کہا تھا کہ یہ محض بھارت کا نہیں بلکہ دنیا بھر میں اپنی نوعیت کا سب سے بڑا اسکینڈل تھا ،الیکٹورل بونڈ اسکینڈل سامنے آنے کے بعد اب مقابلہ دو سیاسی اتحادوں کے درمیان نہیں بلکہ بھارتیہ جنتا پارٹی اور بھارتی عوام کے درمیان ہے۔

    افریقی ملک کے ساحلی علاقے میں کشتی ڈوبنے سے 38 تارکین وطن ہلاک

    وہ سرگرمیاں میاں بیوی اپنا ازدواجی تعلق مضبوط اور خوشگوار بنا سکتے ہیں

  • بالی ووڈ ادکارہ کنگنا رناوت بی جی پی  کے ٹکٹ پر الیکشن لڑیں گی

    بالی ووڈ ادکارہ کنگنا رناوت بی جی پی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑیں گی

    ممبئی: بالی ووڈ کی معروف اداکارہ کنگنا رناوت رواں سال بھارت میں ہونے والے انتخابات کے لیے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ٹکٹ پر الیکشن لڑیں گی۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق 24 مارچ اتوار کے روز بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے ملکی ایوان زیریں (لوک سبھا) کے انتخابات کے لیے 111 امیدواروں کی اپنی پانچویں فہرست جاری کی جس میں بالی ووڈ کی متنازع اداکارہ کنگنا رناوت کا نام بھی شامل تھا، کنگنا رناوت بی جے پی کے ٹکٹ پر ہماچل پردیش کے شہر مندی سے لوک سبھا کا الیکشن لڑیں گی۔

    بی جے پی کی جانب سے ٹکٹ ملنے پر کنگنا رناوت نے سوشل میڈیا پر جاری کی گئی اپنی پوسٹ میں کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو ہمیشہ میری غیر مشروط حمایت حاصل رہی ہے، بی جے پی کی قومی قیادت نے مجھے میری جائے پیدائش ہماچل پردیش سے اپنا لوک سبھا امیدوار بنانے کا اعلان کیا ہے، میں باضابطہ طور پر پارٹی میں شامل ہونے پر فخر اور خوشی محسوس کررہی ہوں، میں الیکشن جیت کر اپنی خدمات سے ایک قابل اعتماد سرکاری ملازم بننے کی منتظر ہوں۔
    https://x.com/KanganaTeam/status/1771926746826162447?s=20
    واضح رہے کہ بھارت میں عام انتخابات کا شیڈول جاری کردیا گیا ہے جس کے تحت 19 اپریل کو انتخابات کا آغاز ہوگا اور 4 جون کو حتمی نتائج کا اعلان کردیا جائے گا۔

    بھارتی اداکار کا دائرہ اسلام میں داخل ہونے کا اعلان

    سدھو موسے والا کے بھائی کی پیدائش پر حکومت والد کو ہراساں کرنے لگی

    معروف امریکی ریپر لِل جون نے اسلام قبول کر لیا

  • بی جے پی پاکستانیوں کو ہمارے حقوق، مکانات، نوکریاں دینا چاہتی ہے،بھارتی وزیر

    بی جے پی پاکستانیوں کو ہمارے حقوق، مکانات، نوکریاں دینا چاہتی ہے،بھارتی وزیر

    نئی دہلی: دہلی کے وزیراعلیٰ اروند کیجریوال نے کہا ہے کہ بی جے پی پاکستانیوں کو ہمارے حقوق، مکانات، نوکریاں دینا چاہتی ہے، مرکزی حکومت کا پیسہ پاکستانیوں کو یہاں بسانے پر خرچ کیا جائےگا-

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق ایک پریس کانفرنس میں اروند کیجریوال نے شہریت ترمیمی قانون کے نفاذ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت کا پیسہ پاکستانیوں کو یہاں بسانے پر خرچ کیا جائےگا، پاکستان، بنگلا دیش اور افغانستان میں تقریباً ڈھائی سے 3 کروڑ اقلیتیں رہتی ہیں، بھارت اپنے دروازے کھول دے گا تو ان ممالک سے لوگ بڑے پیمانے پربھارت آئیں گے، قانون واپس نہ لیا گیا تو عوام آئندہ لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کے خلاف ووٹ دیں۔

    دبئی ایئرپورٹ پر سامان سے جادو ٹونے کی اشیاء ملنے پر مسافر گرفتار

    اروند کیجریوال نے کہا کہ بی جے پی کا یہ قانون لانے کا مقصد کم ووٹ بینک والی ریاستوں میں اپنا ووٹ بینک کو مضبوط کرنا ہے، یہ تو صرف شروعات ہے، ایسا چلتا رہےگا اور بڑی تعداد میں لوگ بھارت میں داخل ہوں گے، یہ قانون بڑے پیمانے پر شمال مشرقی ریاستوں خاص طور پر آسام کو متاثر کرے گا۔

    سندھ ہائیکورٹ کی پی ٹی اے کو فحش اور غیراخلاقی مواد کی سخت نگرانی کرنے …

    پی آئی اے پائلٹس کو روزے کی حالت میں پرواز نہ کرنے کی ہدایت

  • انتخابات میں جیت کیلئے مودی نے رام مندر کو بھی داؤ پر لگا دیا

    انتخابات میں جیت کیلئے مودی نے رام مندر کو بھی داؤ پر لگا دیا

    نئی دہلی: بھارت کی سیاسی جماعت جنتا دل پارٹی کے رہنما اجے یادیو نے مودی سرکار پر رام مندر کو بم سے اڑانے کی پلاننگ کا الزام لگا دیا۔

    باغی ٹی وی :این ڈی ٹی وی کے مطابق اجے یادیو نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ مودی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) 22 جنوری 2024 کو افتتاح کے موقع پر بم دھماکا کرائے گی اور مودی سرکار حملے کا الزام پاکستان اور مسلمانوں پر لگا دے گی، ممکنہ بم دھماکے سے مذہبی تناؤ شدت اختیار کر جائے گا۔

    اجے کمار یادیو کا کہنا ہے کہ ٹیکس کے پیسے سے تعمیر رام مندر کا کریڈٹ بی جے پی لے رہی ہےجنتا دل پارٹی کے ایم پی کوشلندر کمار نے بھی مودی سرکار کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

    بیٹی نے گھر پر قبضہ کر کے بیوہ ماں‌کو نکال دیا،بیوہ خاتون کا تحفظ کا …

    بھارتی پولیس نے خبردار کیا ہے کہ رام مندر کے افتتاح کے موقع پر دھماکا کرنے کی دھمکی دی گئی ہے تیہار سنگھ اور اوم پرکاش مشرا نامی دو افرادے یوگی آدتیہ اور رام مندر پر حملے کی دھمکی دی ہے22 جنوری 2024 کو رام مندر کے افتتاح پر مودی کو بطور مہمان خصوصی شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔

    اسٹاک ایکسچینج میں مثبت آغاز،ڈالر کی قیمت میں بھی کمی کا سلسلہ جاری

    خسرہ نمبر 33، سال 1919 ریونیو ریکارڈ کے مطابق ہماری ملکیت ہے : …

  • بھارتی انتخابات میں کانگریس کی ناکامی،ایک جائزہ

    بھارتی انتخابات میں کانگریس کی ناکامی،ایک جائزہ

    بھارت میں ریاستی انتخابات ہو رہے ہیں،مدھیہ پردیش، راجستھان، اور چھتیس گڑھ کی ریاستوں میں حالیہ اسمبلی انتخابات کے نتائج نے بھارت کی سابق حکمران جماعت کانگریس کودھچکا پہنچایا ہے، جس کے نتیجے میں انڈیا بلاک کے اندر اقتدار کی تقسیم کی حرکیات کا از سر نو جائزہ لیا گیا ۔ ان ریاستوں کے نتائج نے نہ صرف کانگریس کو مایوس کیا بلکہ اس کے اتحادی شراکت داروں کے ساتھ بھی تعلقات کشیدہ ہوئے ہیں،جو خود کو نظر انداز کر رہے ہیں

    کانگریس کی جانب سے اتحادی جماعتوں کے ساتھ مؤثر طریقے سے تعاون نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے کانگریس کو ناکامی ہوئی،بھارت میں سیاسی جماعتوں کے اتحاد کے شراکت داروں نے انتخابات میں جیت کی صورت میں اقتدار کی تقسیم کے حوالہ سے قبل از وقت مکالمے کی خواہش کا اظہار کیا تھا تاہم کانگریس کی جانب سے ایسا نہیں کیا گیا،کانگریس وقت سے قبل سودے بازی نہیں کر رہی تھی،بلکہ انکی توجہ انتخابات کے نتائج پر تھی،اتحادیوں کی جانب سے عدم اطمینان اور اقتدار کی تقسیم کو لے کر کانگریس کو انتخابات میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا

    انتخابات کےبعد اتحادیوں نے کانگریس کی اہمیت پر سوال اٹھانے کا اشارہ کیا، کانگریس کو حزب اختلاف کی سب سے کمزور کڑی کے طور پر دیکھاجاتا ہے،قابل ذکر ہے کہ کانگریس نے تین ریاستوں کرناٹک،ہماچل پردیش اور تلنگانہ میں کامیابی حاصل کی، کانگریس کی یہ کامیابی بعض علاقوں میں پارٹی کی موجودگی کوظاہر کرتی ہے

    دوسری جانب بھارت میں اس وقت کی حکمران جماعت بی جے پی نے راجھستان میں نمایاں کامیابی حاصل کی ہے، بی جے پی نے 114 اسمبلی حلقے اور تقریباً 42 فیصد ووٹ حاصل کیے ہیں،میواڑ، برج، مارواڑ اور ہراوتی جیسے علاقوں میں بی جے پی کی کامیابی نے پارٹی کی تنظیمی طاقت کو نمایاں کیا ہے۔مروجہ رائے یہ ہے کہ راجستھان میں اشوک گہلوت کی زیرقیادت حکومت کے خلاف کوئی بری رائے سامنے نہیں آئے گی، کانگریس کو امید تھی کہ وزیراعلی گہلوت کی مقبولیت، انکی فلاحی سکیمز کی وجہ سے انتخابات میں کامیابی ملے گی تا ہم اس کے برعکس نتائج آئے،ووٹرزامن و امان کی صورتحال، کرپشن، خواتین پر مظالم سمیت دیگر اہم مسائل کو دیکھ رہے تھے جس کی وجہ سے کانگریس کو نتائج توقع کے برعکس ملے،وزیراعلیٰ گہلوت نے انتخابی نتائج کو نہ صرف تسلیم کیا بلکہ کہا کہ شکست کے اسباب پر غور کیا جائے گا،ہمارے منصوبے اچھے تھے اور پورے بھارت میں انکا تذکرہ تھا تاہم کامیابی نہیں ملی.

    بھارت میں ان انتخابات کے بعد کانگریس کو ایک مشکل دور کا سامنا ہے، اس لیے اس کی سیاسی حکمت عملی کے از سر نو جائزہ لینے کی اشد ضرورت ہے۔کانگریس کو ووٹر کے خدشات کو دور کرنا چاہئے اور انکی اہمیت کو تسلیم کرنا چاہیے، ابھرتے ہوئے سیاسی منظر نامے پر ،کھوئے ہوئے مقام کو دوبارہ حاصل کرنے کے لیے تازہ نقطہ نظر اور تخلیقی حل ناگزیر ہیں۔ کانگریس پارٹی کی انتخابی ناکامیوں نے انڈیا بلاک کے اندر اس کے کردار پر نظر ثانی کرنے پر تحریک دی ہے۔ جیسا کہ اتحادی عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہیں اور کانگریس پر سوال اٹھاتے ہیں،اب کانگریس پارٹی کو خود کا جائزہ لینا چاہیے، اپنے نقطہ نظر کو اپنانا چاہیے، اور اتحاد کے مقاصد میں بامعنی حصہ ڈالنے کے لیے اپنی سیاسی حیثیت کی تعمیر نو کے لیے فعال طور پر کام کرنا چاہیے۔

  • ریاستی انتخابات:بی جے پی تین مرکزی ریاستوں جبکہ کانگریس ایک ریاست میں کامیاب

    ریاستی انتخابات:بی جے پی تین مرکزی ریاستوں جبکہ کانگریس ایک ریاست میں کامیاب

    بھارت میں ریاستی انتخابات میں انتہا پسند جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے چھتیس گڑھ، مدھیہ پردیش اور راجستھان کی تین مرکزی ریاستوں میں کامیابی حاصل کر لی جبکہ کانگریس صرف تلنگانہ میں جیت حاصل کرسکی۔

    باغی ٹی وی : مدھیہ پردیش میں بی جے پی نے زبردست جیت حاصل کرتے ہوئے مخالف کو آسانی سے شکست دی بھارتیہ جنتا پارٹی فی الحال 230 رکنی ریاستی اسمبلی میں 164 نشستوں حاصل کرکے آگے ہے، بی جے پی کو حکومت بنانے کیلئے 116 سیٹیں درکار ہیں، اسی طرح کانگریس اسمبلی میں 65 سیٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔

    بی جے پی چھتیس گڑھ میں 55 سیٹیں حاصل کرچکی ہے جو کہ 90 کے اکثریتی نمبر سے صرف چند ہی قدم دور ہے کانگریس، اس دوران 35 سیٹوں حاصل کرچکی ہے راجستھان میں بی جے پی اس وقت 115 سیٹوں سے آگے ہے جبکہ کانگریس 69 سیٹوں پر ہے جبکہ جنوبی ریاست تلنگانہ میں کانگریس فی الحال 64 سیٹیں حاصل کرپائی ہے جبکہ بھارتیہ راشٹریہ سمیتھی (بی آر ایس) 40 سیٹوں پر ہے۔

    ادارہِ امن و تعلیم کے زیر اہتمام 4 روزہ تربیتی ورکشاپ کا انعقاد

    واضح رہے کہ 2018 میں کانگریس نے تین اہم ریاستی انتخابات راجستھان، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ میں کامیابی حاصل کی، تین ماہ بعد بی جے پی نے قومی سطح پر اور تینوں ریاستوں میں عام انتخابات میں کلین سویپ کیا، ہندوستان میں ریاستی انتخابات ریاست یا علاقے کے مخصوص خدشات پر لڑے جاتے ہیں، جبکہ عام انتخابات زیادہ قومی سطح کے مسائل کے گرد گھومتے ہیں بی جے پی ریاستی انتخابات میں اکثر ناکام رہی ہے،آج تک، پارٹی نے بھارت کی 28 ریاستوں میں سے 15 پر حکومت کی ہے اور ان میں سے صرف نو پر براہ راست حکومت ہےباقی چھوٹے شراکت دار ساتھ اتحاد میں تھے۔

    پاکستان کے لئے موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنا ایک اہم چیلنج ہے،نگران وزیر اعظم