Baaghi TV

Tag: بی جے پی

  • بی جے پی ایم ایل اے کے ہندو دیوی، دیوتاؤں سے متعلق عقائد پر سوالات نے تنازعہ کھڑا کر دیا

    بی جے پی ایم ایل اے کے ہندو دیوی، دیوتاؤں سے متعلق عقائد پر سوالات نے تنازعہ کھڑا کر دیا

    بھارت کی ہندو انتہا پسند حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے بہار سے تعلق رکھنے والے ایک ایم ایل اے نے دیوی لکشمی سے متعلق ہندو عقائد پر سوال اٹھا کر تنازعہ کھڑا کر دیا، جس سے ان کے آبائی حلقے میں احتجاج شروع ہوا۔

    باغی ٹی وی : "ہندوستان ٹائمز” کے مطابق بہار کے ضلع بھگل پورکے پیرپینتی اسمبلی حلقہ سے بی جے پی کے ایم ایل اے لالن پسون کی جانب سے ہندو مذہب میں خوشحالی اور خوش قسمتی کی علامت سمجھی جانے والی لکشمی دیوی سے متعلق ریمارکس کے خلاف بہار میں مظاہرہ کیا گیا اور بی جے پی ایم ایل کے پتلے بھی جلائے گئے۔

    بھارت کے خاتون صحافی کو امریکی سفر سے روکنے پر امریکا کا ردعمل

    ایم ایل اے کی جانب سے لکشمی دیوی سے متعلق ہندو عقائد کے حوالے سے سوالات اٹھائے گئے اور کہا گیا کہ اپنے عقائد کو شواہد کے ساتھ ثابت کریں اس کے علاوہ لالن پسون نے دیوالی کے موقع پر لکشمی پوجا کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے۔


    لالن پسون کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ اگر ہمیں لکشمی دیوی کی پوجا کرنے سے ہی دولت ملتی ہے تو پھر تو کسی بھی مسلمان کو ارب پتی اور کھرب پتی نہیں ہونا چاہیے، مسلمان کو لکشمی دیوی کی پوجا نہیں کرتے تو کیا وہ امیر نہیں ہیں؟-

    بی جے پی ایم ایل نے مزید کہا کہ مسلمان تو سرسوتی ویوی کی پوجا نہیں کرتے تو کیا مسلمانوں میں کوئی اسکالر نہیں ہے؟ کیا وہ آئی اے ایس اور آئی پی ایس نہیں بن سکتے؟-

    انہوں نے زور دے کر کہا کہ ہر چیز بشمول "آتما اور پرماتما” کا معاملہ صرف لوگوں کا عقیدہ ہے۔

    لالن پسون کا کہنا تھا کہ ہر چیز انسان کا عقیدہ ہوتی ہے، اگر آپ یقین رکھتے ہیں تو وہ ایک دیوی ہے اور اگر آپ کا اس چیز پر عقیدہ نہیں ہے تو وہ صرف ایک بت ہے، یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم دیوی دیوتاؤں کو مانتے ہیں یا نہیں، نتیجہ اگر آپ یقین کرنا چھوڑ دیں گے تو آپ کی ذہنی استعداد بڑھ جائے گی، ہمیں سائنسی بنیادوں پر چیزوں کو پرکھنا چاہیے اور پھر کسی منطقی نتیجے پر پہنچنا چاہیے-

    بھارتیہ جنتا پارٹی کے رکن اسمبلی کا یہ بھی کہنا تھا یہ ہندوؤں کا عقیدہ ہے کہ بجرنگ بلی طاقت کا دیوتا ہے لیکن مسلمان اور عیسائی تو بجرنگ بلی کو نہیں مانتے تو کیا وہ طاقتور نہیں ہیں؟ جس دن ہم ان چیزوں پر یقین کرنا چھوڑ دیں گے، یہ سب چیزیں ختم ہو جائیں گی۔

    بی جے پی ایم ایل اے کے بیان سے مشتعل لوگوں نے بھگل پور کے شیرماری بازار میں احتجاج کیا اور ان کا پتلا بھی جلایا،پاسوان اس سے پہلے اس وقت منظر عام پر آئے تھے جب انہوں نے مبینہ طور پر راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے سربراہ لالو پرساد یادو کے ساتھ ذاتی بات چیت کو لیک کیا تھا۔

    عراق میں اڑھائی ارب ڈالر کی چوری: عدالت نے فنانس کمیٹی کے رکن کو طلب کر لیا

  • سونالی پھوگٹ کو زہر دیا گیا بہن کا انکشاف

    سونالی پھوگٹ کو زہر دیا گیا بہن کا انکشاف

    بی جے پی رہنما اور بگ باس سے شہرت پانے والی سونالی پھوگٹ کا گزشتہ روز انتقال ہو گیا تھاابتدائی رپورٹس کے مطابق ان کی موت دل کا دورپڑنے سے ہوئی لیکن سونالی کی بہن نے ایک ٹی وی انٹرویو میں‌کہا ہے کہ ہمیں شک ہے کہ اس کے کھانے میں‌ذہر ملایا گیا اور زہر کھانےسے اسکی موت ہوئی ہے. سونالی کی بہن نے مزید یہ بھی کہا کہ وہ بالکل ٹھیک تھی اور اس نے ہمیں بتایا تھا کہ وہ شوٹنگ کے لئے کہیں آئوٹ ڈور جا رہی ہے اور ستایس اگست کو واپس آجائے گی . سونالی کی بہن نے مزید کہا کہ جب سونالی نے کھانا کھایا تو اس نے ماں کو کال

    کرکے کہ کہا میں کھانا کھانے کے بعد کچھ اچھا محسوس نہیں‌کررہی. سونالی نے اس شک کا بھی اظہار کیا تھا کہ میرے خلاف سازش ہو رہی ہے اور مجھے لگ رہا ہے کہ میرے کھانے میں‌شاید کچھ ملایا گیا ہے .سونالی کی بہن نے یہ بھی کہا کہ سونالی نے ان سے کہا تھا ” میرے خلاف کوئی سازش ہو رہی ہے”یاد رہے کہ گزشتہ روز ایک خبر آئی تھی کہ سونالی پھوگاٹ دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئی ہیں لیکن اب ان کی بہن نے انکو زہر دینے کے شک کا اظہار کر دیا ہے.رپورٹس کہتی کے مطابق جب سونالی کا انتقال ہوا وہ گوا میں تھیں.

  • بھارتی حکومت مسلمانوں کی نسل کشی میں  مصروف عمل ہے— عبدالحفیظ چنیوٹی

    بھارتی حکومت مسلمانوں کی نسل کشی میں مصروف عمل ہے— عبدالحفیظ چنیوٹی

    بدقسمتی سے اس وقت بھارت میں جہاں ایک طرف ہندتوا نظریات کا پرچار زد عام ہے وہیں دوسری طرف اسلاموفوبیا کی بڑھتی ہوئی لہر بھی تشویش ناک ہے- بھارت میں مقدس گائے،حجاب، لو جہاد اور گھر واپسی کے نام پر ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت مسلمانوں کے گرد گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے-

    موجودہ بھارت میں عوامی سطح پر مسلمانوں کے خلاف نفرت اور اشتعال انگیزی پر مبنی گفتگو کو فروغ دیا جا رہا ہے- مسلمانوں کے خلاف منفی پروپیگنڈا، غلط معلومات اور فیک نیوز کی بنیاد پر ہتھیاروں سے لیس جتھوں کو مسلمانوں پر تشدد اور قتل عام کیلئے اکسایا جاتا ہے- عام سیاسی اور مذہبی اجتماعات کے علاوہ مختلف ڈیجیٹل پلیٹ فارمز جیسا کہ وٹس ایپ، فیس بک، ٹوئٹر وغیرہ پر ویڈیوز اور میسیجز کی صورت میں نفرت انگیز مواد کی بھر مار ہے-

    نفرت انگیز تقاریر اور گفتگو کی سب سے بڑی حالیہ مثال 17 تا 19 دسمبر 2021ء کو ہونے والے ہری دوار شہر میں ہندو انتہا پسندوں کے ایک اجتماع دھرم سنسد میں ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے مسلمانوں کے قتل عام پر ابھارنے کی ہے-

    بلکہ ایک انتہا پسند ہندو خاتون رہنما نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مسلم دشمنی اور مذہبی منافرت و تعصب کا ثبوت دیتے ہوئے یہاں تک کہا کہ:

    ’’چندسو ہندو اگر مذہب کے سپاہی بن کر 20 کروڑ مسلمانوں کو ہلاک کر دیں تو وہ فاتح بن کر ابھریں گے- اس خاتون رہنما نے اپنی تقریر میں واضح کیا کہ ایسا کرنے سے ہندو مت کی اصل شکل ’’سناتن دھرم‘‘ کو تحفظ حاصل ہو گا‘‘-

    مزید تقاریر میں یہ بھی کہا گیا کہ اگر 20لاکھ مسلمانوں کا قتل عام کردیا جائے تو بقیہ مسلمان بے چوں و چرا ’ہندو راشٹر‘ تسلیم کر لیں گے- مسلسل 3 دن اس اجتماع میں کھلے عام مسلمانوں کے قتل عام کیلئے تقاریر کی جاتی رہیں لیکن کسی نے کوئی ایکشن نہیں لیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ ہندتوا سرکار کی مرضی سے ہورہا تھا-

    ان اعلانات کے بعد مسلمانوں کے خلاف تشدد اور انتہا پسندی نے مزید شدت اختیار کی جس کی سب سے خوفناک مثال جہانگیرپوری میں ہنومان جینتی کے دن پرتشدد ہجوم کو ان جگہوں سے گزرنے دیا گیا جہاں زیادہ تر مسلمان رہتے ہیں- ہاتھوں میں تلوار، دیگر تیز دھار دار ہتھیاروں، پستول لہراتے ہوئے اور مسلمانوں کو گالی دیتے ہوئے اس پرتشدد ہجوم نے نماز کے وقت مسجد کے سامنے ہنگامہ برپا کیا-

    یہ بات دنیا سے ڈھکی چھپی نہیں کہ 2014 ءکے بعد جب سے بی جے پی برسرِ اقتدار آئی ہے تب سے مسلم مخالف جذبات میں بھی شدت دیکھنے کو ملی ہے-

    2014ء کے بعد 2019ء میں دوبارہ نریندر مودی کا وزیر اعظم منتخب ہونا اور اسی طرح 2017ء کے بعد 2022ء میں بھارت کی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش میں ہندو انتہا پسند اور کٹر مسلم مخالف یوگی آدتیہ ناتھ

    (جس کو مرکز میں مودی کے متبادل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے)

    کے دوبارہ وزیر اعلیٰ بننے سے واضح ہوتا ہے بھارت مکمل طور ہندو راشٹر بننے کی جانب گامزن ہے- حالیہ 5 میں سے 4 ریاستوں اترپردیش، اتراکھنڈ، منی پور اور گوا میں بھارتیہ جنتا پارٹی اقتدار میں واپس آگئی ہے- عام طور پر یہی تاثر اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس فتح سے مسلمانوں کے حالات مزید بدتر ہونگے-

    بھارت میں ریاستی انتخابات سے قبل یہ تاثر زد عام تھا کہ اگر مخصوص قسم کا زعفرانی رنگ کا لباس پہننے والے یوگی آدتیہ ناتھ خصوصاً اتر پردیش میں دوبارہ اقتدار میں آتے ہیں تو مسلمانوں سمیت دیگر اقلیتوں کے خلاف مبینہ ظلم و تشدد کا سلسلہ تیز ہو جائے گا- اگر ان کے پچھلے پانچ سالہ مسلم مخالف اقدامات کا ذکر کریں تو ان میں گائے کے ذبیحہ پر پابندی، لو جہاد، گھر واپسی اور بین المذاہب شادیوں پر پابندی نمایاں ہے- ان کے 5 سالہ دورِ اقتدار میں مسلمانوں پر مشتعل ہجوم کے ہاتھوں تشدد اور ان کے خلاف نفرت بھری تقاریر سر عام ہوتی رہی ہیں- مغل دور کا تعمیر شدہ تاج محل اور بابری مسجد سے نفرت یوگی آدتیہ ناتھ کی مسلم مخالف جذبات کی ایک چھوٹی سی مثال ہے-

    نریندرا مودی کی مرکزی حکومت کے مسلم مخالف سینکڑوں واقعات میڈیا میں رپورٹ ہو چکے ہیں- جن میں نمایاں مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد غیر قانونی اور غیر انسانی کرفیو کا نفاذ اور شہریت ترمیمی قانون کے تحت 30 لاکھ مسلمانوں کی بے دخلی کی راہیں ہموار کرنا شامل ہیں-

    یہ حقیقت ہے کہ آج نفرت اور انتہا پسندانہ سوچ کی وجہ سے بھارتی معاشرہ تقسیم ہوچکا ہے- سخت گیر ہندو آئے روز عوامی جلسوں میں مسلمانوں کا سیاسی، سماجی، معاشرتی اور معاشی سطح پر بائیکاٹ کا اعلان کر رہے ہیں-سوشل میڈیا پر موجود ویڈیوز میں واضح طور پر سنا جا سکتا ہے کہ ایک مجمع عام سے عہد لیا جا رہا ہے کہ :

    ’’ہم آج سے عہد کرتے ہیں کہ ہم مسلمانوں کی دکانوں سے کسی قسم کا کپڑا، جوتا اور دیگر سامان نہیں خریدیں گے اور نہ ہی انہیں کسی قسم کا سامان فروخت کریں گے‘‘-

    بھارت میں سوچی سمجھی سازش کے تحت ایک بیانیہ ’’ہندو خطرے میں ہیں‘‘ کو فروغ دے کر مسلمانوں سمیت دیگر اقلیتوں کے گرد گھیرا تنگ ہو چکا ہے- اس بیانیے پر کئی سوالات اٹھتے ہیں جن میں ایک سوال یہ قابل غور ہے کہ 15 فیصد والی اقلیت سے اکثریت کو کیا خطرات لاحق ہو سکتے ہیں؟ اسی بیانیہ کو فروغ دے کر بھارت میں اسلاموفوبیا کے واقعات تیزی سے بڑھ رہے ہیں- حالیہ دنوں میں بھارت کی 9 ریاستوں میں مسلم مخالف تشدد کے واقعات میں تیزی آئی ہے-یہ ریاستیں مدھیہ پردیش، گجرات، نئی دہلی، گوا، راجستھان، جھارکھنڈ، کرناٹک، مغربی بنگال، مہاراشٹر اور بہار ہیں- حال ہی میں ریاست کرناٹک کے سکولوں میں حجاب پہننے کو ایک سنگین مسئلے کے طور پر سامنے لایا گیا ہے-سکولوں میں حجاب کے مد مقابل ہندو طلبہ نے گلے میں کیسرانی رومال ڈالے ہوئے تھے-

    ان واقعات کا مقصد مذہبی منافرت کو فروغ دینا تھا جو اسلاموفوبیا کا منہ بولتا ثبوت ہے-اس کے علاوہ بی بی سی کی ایک ویڈیو رپورٹ میں واضح دیکھا جا سکتا ہے کہ پولیس مسلمانوں کی حفاظت کی بجائے انتہا پسندوں کا ساتھ دیتے ہوئے حملے کر رہی ہے-

    بھارت میں مسلمانوں کے مذہبی مقامات اور شعائر کی سرِ عام بے حرمتی کی جاتی ہے-اس کے علاوہ بھارت میں مسلمانوں کو کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا ذمہ دار ٹھہرانا بھی اسلاموفوبیا کے مکروہ رجحان کی عکاسی کرتا ہے-بھارت میں بڑھتا ہوا اسلاموفوبیا اور نفرت انگیزی مسلمانوں کی نسل کشی کی مترادف ہے- پاکستان نے ہمیشہ اس بڑھتی ہوئی مذہبی منافرت اور اشتعال انگیزی کے خلاف اپنی آواز بلند کی ہے- حالیہ اسلام آباد اعلامیہ میں او آئی سی نے بھی بھارت کے ان اسلامو فوبک اقدامات کی بھر پور مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ:

    ’’ہم بھارت میں مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک اور عدم برداشت کی منظم اور وسیع پالیسی کی مذمت کرتے ہیں جس کی وجہ سے وہ سیاسی، معاشی اور سماجی پسماندگی کا شکار ہوئے ہیں- ہم حجاب کو نشانہ بنانے والے امتیازی قوانین اور پالیسیوں سے ظاہر ہونے والے ہندوستان میں مسلم تشخص پر سب سے زیادہ نقصان دہ حملوں سے بہت پریشان ہیں-ہم ہندوستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ایسے امتیازی قوانین کو فوری طور پر منسوخ کرے، ہندوستانی مسلمانوں کے حقوق کو یقینی بنائے اور ان کی مذہبی آزادیوں کا تحفظ کرے‘‘-

    حالیہ کچھ دنوں میں سیکولر بھارت میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کی ایک نئی لہر دیکھنے کو ملی ہے- مسلمانوں کے مذہبی مقامات اور آثارِ قدیمہ کو گرانے کے بعد ان کے کاروباروں کو ختم کرنے کے ساتھ ساتھ تجاوزات کے نام پر بلڈوزر سیاست کے ذریعے گھروں کو مسمار کیا جا رہا ہے-

    یہ بات عیاں ہے کہ متنازع شہریت کے ان قوانین سے نہ صرف مسلمانوں میں خوف بڑھا ہے بلکہ اس کے عملی اقدامات بھی سامنے آئے ہیں- مثلاً سرکاری حکام کا شہریت ثابت کرنے کے لئے مسلمانوں کو تنگ کرنا، غیر قانونی گرفتاریاں، پر تشدد واقعات میں اضافہ اور گھروں کو مسمار کرنا شامل ہے-

    5 اگست 2019ء کو ظالم بھارتی سرکار نے عالمی قوانین، دو طرفہ معاہدوں اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے برعکس غیر قانونی اقدامات کرتے ہوئے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کے ساتھ کشمیریوں پر غیر انسانی سلوک کرتے ہوئے شدید لاک ڈاؤن لگا کر انہیں کھلی جیل میں بند کر دیا-اس کے علاوہ بھارت کی طرف سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کے لئے 30 سے 40 لاکھ غیر کشمیریوں کو وادی کا ڈومیسائل جاری کردیا گیا – اس دوران کرونا وائرس کی عالمی وبا کی مشکلات میں بھی بھارت نے کشمیریوں کو جیلوں میں بند کرنے، انٹرنیٹ بند کرنا، جعلی اِنکاونٹر، عورتوں اور بچوں پر ظلم و تشدد ختم نہ ہونے والا سلسلہ شروع کر رکھا ہوا ہے- 10 لاکھ بھارتی فوج کی موجودگی میں کشمیریوں پریہ غیر انسانی محاصرہ 1000 دنوں سے تجاوز کر چکا ہے-

    کشمیر میڈیا سروس کی رپورٹ کے مطابق سال 2021ء میں قابض بھارتی فوج نے 210 کشمیریوں کو شہید کیا جن میں 65 افراد کو جعلی ان کاؤنٹر میں شہید کیا گیا- اس دوران 44 معصوم بچے یتیم اور 16 خواتین بیوہ ہوئیں اور بھارتی فوج نے 67 عمارتوں کو مسمار بھی کیا- اس عرصے میں بھارتی فوج نے 2716 کشمیریوں کو گرفتار اور 487 افراد کو زخمی کیا- رپورٹ کے مطابق بھارتی فوج نے صرف دسمبر 2021ء میں 31 افراد کو شہید کیا-

    کچھ عرصہ قبل کشمیری حریت لیڈر سید علی گیلانی کی وفات پر بھارت نے غیر انسانی رویہ اختیار کیا جس کی وجہ سے ان کی تدفین سخت سیکورٹی حصار میں کی گئی اور اہل خانہ کو جنازے میں بھی شامل نہیں ہونے دیا گیا- ماہِ رمضان المبارک میں بھی بھارتی فوج کے کشمیریوں پر مظالم جاری رہے حتیٰ کہ عید الفطر کے موقع پر مسلمانوں کے اجتماعات پر پابندی عائد کردی گئی-

    بی جے پی اور آر ایس ایس کے اقتدار میں آئے روز مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں پر بڑھتے ہوئے مظالم کو لکھنے کیلئے الفاظ کم پڑ جائیں، اس تحریر میں اس بات کا جائزہ پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ کس طرح بھارت میں مختلف غیر انسانی اقدامات سے 220 ملین مسلم آبادی کا نسلی صفایا اور قتلِ عام کیا جارہا ہے-یہ عمل صرف مسلمانوں تک محدود نہیں ہے بلکہ ہندو راشٹر کے قیام کےلئے دیگر اقلیتیں بھی ہندتوا سوچ اور مذموم عزائم کے نشانے پر ہیں جس سے یہ نتیجہ نکالا جاسکتا ہے کہ بھارت تاریخ میں انسانیت کے سب سے بڑے دشمن کے طور پر یادرکھا جائے گا-

    پوری دنیا خاص کر بھارت میں اسلاموفوبیا خوفناک شکل اختیار کرچکا ہے جس کی ہر قیمت پر روک تھام کیلئے عالمی برادری کو اپنا غیر جانبدارانہ کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے- ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ خصوصاً اقوام متحدہ اور انصاف کے عالمی اداروں نے اگر بھارت میں مسلمانوں پر ظلم و تشدد کے تیزی سے بڑھتے ہوئے واقعات سے مزید غفلت برتی اور بھارت کے ظالمانہ اقدامات کا ایکشن نہ لیا تو اس ظلم کے نتائج پوری انسانیت کو بھگتنا پڑیں گے-

  • گستاخ نوپور شرما کو ریلیف دےدیا گیا

    گستاخ نوپور شرما کو ریلیف دےدیا گیا

    نئی دہلی :بھارتی سپریم کورٹ نے گستاخ نوپور شرما کوتحفظ دینے کی ٹھان لی،اطلاعات کے مطابق بھارتی سپریم کورٹ سے بی جے پی کی انتہا پسند لیڈر نوپور شرما کو بڑا ریلیف مل گیا، عدالت نے پولیس کو 10 اگست تک نوپور شرما کی گرفتاری سے روک دیا۔

    بھارتی سپریم کورٹ میں آج (منگل کو) نوپور شرما کی درخواست پر سماعت ہوئی، سپریم کورٹ نے بی جے پی کی رہنما کے خلاف گستاخانہ بیان پر درج مقدمات کے معاملے پر ریاستی حکومتوں سے جواب طلب کرتے ہوئے سماعت 10 اگست تک ملتوی کردی۔

    نوپور شرما نے نئی درخواست میں موقف اختیار کیا کہ یکم جولائی کو سپریم کورٹ نے ان سے متعلق سخت تبصرہ کیا تھا جس کی وجہ سے ان کی جان کو خطرہ مزید بڑھ گیا ہے۔

    نوپور شرما نے اپنے خلاف 8 ریاستوں میں درج 9 مقدمات میں گرفتاری نہ کرنے کا مطالبہ کیا اور تمام مقدمات کو یکجا کرکے دہلی منتقل کرنے کی درخواست کی، درخواست میں مرکز کے علاوہ 8 ریاستوں دہلی، مہاراشٹر، تلنگانہ، مغربی بنگال، کرناٹک، جموں و کشمیر اور آسام کو فریق بنایا گیا ہے۔

    دوسری جانب بھارتی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ بھارت کی بارڈر سیکیورٹی فورس نے ایک پاکستانی کو گرفتار کیا ہے جو نوپور شرما کو قتل کرنے کیلئے ہندوستان میں داخل ہوا تھا، پکڑے گئے شخص کی شناخت 24 سالہ رضوان اشرف کے نام سے ہوئی ہے جو پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر منڈی بہاؤ الدین کا رہائشی ہے۔

    نوپور شرما کون ہیں؟
    نوپور شرما بھارتی حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی قومی ترجمان ہیں جنہیں اب متنازعہ ریمارکس کے بعد عہدے سے برطرف کردیا گیا ہے۔ نوپور شرما نے اپنے سیاسی سفر کا آغاز اپنی یونیورسٹی کی تعلیم کے دوران کیا تھا۔
    نوپور شرما دہلی یونیورسٹی سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کیلئے بیرونِ ملک چلی گئیں اور بھارت کی یوتھ ایمبیسیڈر بھی تھیں۔ بعدازاں ملک واپس آنے کے بعد انہوں نے بھارتیہ جنتا یوا مورچہ کے لیے کام کیا۔

     

     

    بی جے پی رہنما نے 2008 میں اے بی وی پی سے دہلی یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین کے صدر کا انتخاب جیتا تھا۔ وہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے یوتھ ونگ میں نیشنل ایگزیکٹو کی رکن کے طور پر بھی کام کر چکی ہیں۔ وہ بی جے پی میں مختلف اہم عہدوں پر بھی فائز رہی ہیں۔

    نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی
    بی جے پی رہنما کا متنازعہ بیان فرقہ وارانہ واقعات کے ایک سلسلے کے پسِ منظر میں شروع ہوا، بی جے پی کی ترجمان نے قطر میں ایک انٹرویو کے دوران نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی کی۔

  • مودی خود نفرت پھیلانے والوں کو سوشل میڈیا پرفالو کرتے ہیں،انہیں کچھ کرنا ہوگا،اداکار نصیرالدین شاہ

    مودی خود نفرت پھیلانے والوں کو سوشل میڈیا پرفالو کرتے ہیں،انہیں کچھ کرنا ہوگا،اداکار نصیرالدین شاہ

    ممبئی: بھارتی لیجنڈری اداکار نصیرالدین شاہ کا کہنا ہے کہ توہین آمیز بیان پر صورتحال کا ذمہ دار چینلز اور سوشل میڈیا ہے-

    باغی ٹی وی : بھارتی لیجنڈری اداکار نصیرالدین شاہ نے مودی حکومت سے اپیل کی ہےکہ مودی آگے بڑھیں اور اس زہر کو روکیں،اداکار نے کہا کہ مودی خود نفرت پھیلانے والوں کو سوشل میڈیا پرفالو کرتے ہیں،انہیں کچھ کرنا ہوگا ،زہر کو بڑھنے سے روکنے کے لیے مودی کو قدم اٹھانے کی ضرورت ہے-

    نوپورشرما اور نوین کمار جندل پردہلی میں بھی مقدمہ درج،گرفتاری کا مطالبہ

    اداکار نصیرالدین شاہ نے کہا کہ توہین آمیز بیان پر صورتحال کا ذمہ دار چینلز اور سوشل میڈیا ہیں ،توہین آمیز بیانات انتہا پسندانہ خیالات کی عکاسی کرتے ہیں،توہین آمیز بیانات دینے والی ملزمہ قومی ترجمان ہیں، کوئی ایسی مثال یاد نہیں جب کسی مسلمان نے ہندو دیوتا پر ایسا اشتعال انگیز بیان دیا ہو-

    اداکار نے کہا کہ امن اور اتحاد کی بات کرنے پر جیل بھیجا جاتا ہے اور نسل کشی کی بات پر تھپڑ رسید کیا جاتا ہے،بھارت میں دہرا معیار ہے، زہر کو بڑھنے سے روکنے کی ضرورت ہے-

    خیال رہے کہ بی جے پی کی مرکزی ترجمان نوپور شرما کی جانب سے اسلام اور نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخانہ بیانات سامنے آنے کے بعد بھارت سمیت دنیا بھر میں مسلمانوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا۔

    سعودی عرب، قطر، یو اے ای، ایران اور پاکستان سمیت مختلف ممالک نے بھارتی سفیروں کو طلب کر کے شدید احتجاج ریکارڈ کرایا جبکہ اسلامی تعاون کی تنظیم او آئی سی نے بھی بی جے پی رہنماؤں کے بیان کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے بھارتی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے اشتعال انگیز بیانات کی روک تھام کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔

    دوسری جانب حکمران جماعت بی جے پی نے اپنے رہنماؤں کے بیانات کے حوالہ سے پالیسی جاری کی ہے اور کہا ہے کہ متنازعہ بیان نہ دیئے جائیں، آئی ٹی ماہرین کی مدد سے گزشتہ آٹھ برسون ستمبر 2014 سے مئی 2023 تک بی جے پی کے رہنماؤں کے بیانات کی تحقیقات کی گئی تومعلوم ہوا کہ بی جے پی کے رہنماؤں کے تقریبا 5200 بیانات غیرضروری ہیں، ان میں سے 2700 بیانات میں حساس الفاظ استعمال ہوئے جو نہیں ہونے چاہئے تھے، بی جے پی کے 38 رہنماؤن نےمذہبی عقائد کو آٹھ برسوں میں ٹھیس پہنچائی، اس کے بعد بی جے پی نے رہنماؤں کو نفرت انگیز بیان دینے سے روک دیا، نفرت انگیز اور مذہبی عقائد کو ٹھیس پہنچانے والے بی جے پی رہنماوں میں اننت کمار ہیگڑے، شوبھا کرندلاجے، گری راج سنگھ، تتھاگتا رائے، پرتاپ سنہا، ونے کٹیار، مہیش شرما، ٹی راجہ سنگھ، وکرم سنگھ سینی، ساکشی مہاراج، سنگیت سوم وغیرہ شامل ہیں-

    فیصل قریشی بھڑک گئے لیکن کس بات پہ؟

  • نوپورشرما اور نوین کمار جندل پردہلی میں بھی مقدمہ درج،گرفتاری کا مطالبہ

    نوپورشرما اور نوین کمار جندل پردہلی میں بھی مقدمہ درج،گرفتاری کا مطالبہ

    توہین آمیز بیان پرسابق ترجمان بی جے پی نوپورشرما اور نوین کمار جندل پرمقدمہ درج کر لیا گیا

    اشتعال انگیز پوسٹ اور غلط معلومات دینے پر 8 دیگر افراد کے خلاف بھی کارروائی کی گئی دہلی پولیس اسپیشل سیل نے ذمہ داروں کے خلاف مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا ،دہلی پولیس پوچھ گچھ کے لیے تمام ملزمان کو نوٹس بھیجے گی، نئی دہلی میں ملزمان کے خلاف نفرت پھیلانے اور لوگوں کواکسانے پر مقدمہ درج کیا گیا ،اس سے قبل ممبئی اور مہاراشٹر پولیس نے نوپور شرما کے خلاف مقدمات درج کیے تھے،

    دہلی پولیس کے اسپیشل سیل کی جانب سے درج مقدمے میں بی جے پی کے سابق ترجمان نوین جندل، صحافی صبا نقوی کے نام بھی شامل کیے گئے ہیںیف آئی آر میں پیس پارٹی کے چیف ترجمان شاداب چوہان، مولانا مفتی ندیم، عبدالرحمن، گلزار انصاری، انیل کمار مینا اور ہندو مہاسبھا کی عہدیدار پوجا شکون پانڈے کے نام بھی شامل کئے گئے ہیں۔

    دہلی پولیس نے دشمنی پھیلانے،انتشار پیدا کرنے، تشدد بھڑکانے میں ملوث ہونے پر یہ مقدمہ درج کیا ہے، صحافی صبا نقوی پر الزام ہے کہ انہوں نے اس وقت مبینہ طور پر شیولنگ کا مذاق اڑاتے ہوئے ٹویٹ کیا تھا جب ہندو گروپ دعویٰ کر رہے تھے کہ انہیں وارانسی میں گیان واپی مسجد کے احاطے سے ایک شیولنگ ملا ہے

    قبل ازیں علی گڑھ میں پیغمبر اسلام کی شان میں گستاخی کرنے والی نوپور شرما کو پھانسی یا عمر قید کی سزا کا مطالبہ کرتے ہوئے اے ایم یو میں زبردست مظاہرہ کیا گیا، مظاہرین نے گستاخوں کو پھانسی دینے کا مطالبہ کیا،مہاراشٹر میں مقدمہ درج ہونے کے بعد شہریوں نے مطالبہ کیا کہ گستاخ رسول کو گرفتار کیا جائے ، اس ضمن میں شہریوں نے پولیس کے اعلیٰ حکام سے ملاقات کی اور مطالبہ سامنے رکھا، پولیس افسران کو دیئے گئے خط میں کہا گیا ہ کسی بھی مذہب کے خلاف نازیبا الفاظ کا استعمال عام ہو گیا ہے اس سے ملک میں امن و امان بگڑے گا، نوپور شرما کے بیان پر بھارت میں مسلمان سخت غم و غصہ میں ہیں، بھارت کے کئی شہروں میں مقدمے درج کئے گئے ہیں، اسے گرفتار کیوں نہیں کیا جاتا، جلد از جلد اسے گرفتار کیا جائے

    دوسری جانب بھارت کی حکمران جماعت بی جے پی نے اپنے رہنماؤں کے بیانات کے حوالہ سے پالیسی جاری کی ہے اور کہا ہے کہ متنازعہ بیان نہ دیئے جائیں، آئی ٹی ماہرین کی مدد سے گزشتہ آٹھ برسون ستمبر 2014 سے مئی 2023 تک بی جے پی کے رہنماؤں کے بیانات کی تحقیقات کی گئی تو معلوم ہوا کہ بی جے پی کے رہنماؤں کے تقریبا 5200 بیانات غیر ضروری ہیں، ان میں سے 2700 بیانات میں حساس الفاظ استعمال ہوئے جو نہیں ہونے چاہئے تھے، بی جے پی کے 38 رہنماؤن نے مذہبی عقائد کو آٹھ برسون میں ٹھیس پہنچائی، اسکے بعد بی جے پی نے رہنماؤں کو نفرت انگیز بیان دینے سے روک دیا، نفرت انگیز اور مذہبی عقائد کو ٹھیس پہنچانے والے بی جے پی رہنماوں میں اننت کمار ہیگڑے، شوبھا کرندلاجے، گری راج سنگھ، تتھاگتا رائے، پرتاپ سنہا، ونے کٹیار، مہیش شرما، ٹی راجہ سنگھ، وکرم سنگھ سینی، ساکشی مہاراج، سنگیت سوم وغیرہ شامل ہیں

    دہلی فسادات کا ذمہ دار کون؟ جمعیت علماء ہند نے کی نشاندہی

    دہلی فسادات اور 2002 کے گجرات فسادات میں گہری مماثلت،ہندوؤں کی دکانیں ،گھر کیوں محفوظ رہے؟ سوال اٹھ گئے

    دہلی فسادات، کوریج کرنیوالے صحافیوں کی شناخت کیلیے اتروائی گئی انکی پینٹ

    دہلی، اجیت دوول کا دورہ مسلمانوں کو مہنگا پڑا، ایک اور نوجوان کو مار دیا گیا

    دہلی فسادات میں امت شاہ کی پرائیویٹ آرمی ملوث،یہ ہندوآبادی پر دھبہ ہیں، سوشل ایکٹوسٹ جاسمین

    بی جے پی رہنما گستاخانہ بیان پر بھارتی ناظم الامور کی دفترخارجہ طلبی

    بھارتی حکام کی جانب سے توہین آمیز بیانات انتہائی تکلیف دہ ہیں، ترجمان پاک فوج

  • گستاخانہ بیانات:  آل پاکستان انجمن تاجران نے بھارتی مصنوعات کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا

    گستاخانہ بیانات: آل پاکستان انجمن تاجران نے بھارتی مصنوعات کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا

    متعدد ممالک میں بھارتی مصنوعات کے بائیکاٹ کی مہم سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر پوری شدت کے ساتھ جاری ہے۔ مہم عوام کی جانب سے چلائی جا رہی ہے تاہم آل پاکستان انجمن تاجران نے بھارتی مصنوعات کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا ہے-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق صدر آل پاکستان انجمن تاجران اجمل بلوچ نے کہا ہے کہ حکومت بھارت سے تجارت ختم کر نے کا اعلان کرے،وہاں کی کوئی بھی چیز پاکستان میں فروخت نہیں ہو گی 10جون بروز جمعہ آبپارہ چوک سے انڈین ایمبیسی تک احتجاجی مارچ ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی مسلمان نبیﷺکی شان میں گستاخی برداشت نہیں کرسکتا۔

    دوسری جانب بھارتی حکمران جماعت بی جے پی کے رہنماؤں کی جانب سے توہین رسالت ﷺ پر سعودی عرب، بحرین اور کویت میں بائیکاٹ انڈیا کی مہم شروع ہوگئی-

    بھارتی حکام کے گستاخانہ بیانات، حافظ سعد حسین رضوی کی شدید مذمت

    قطر اور کویت نے بی جے پی رہنماؤں کے گستاخانہ بیانات پر بھارتی حکومت سے معافی کا مطالبہ کیا ہے مسلم دشمنی کو شہہ دینے والے مودی کو او آئی سی اور سعودی عرب سمیت مختلف ملکوں کی جانب سے مذمتوں کا سامنا ہے جبکہ حکمراں جماعت بی جے پی کی ترجمان کی ہرزہ سرائی پر مسلم دنیا میں اشتعال بڑھنے لگا ایران، قطر اور کویت نے بھارتی سفیروں کو طلب کرکے بی جے پی ترجمان کی گستاخی پر شدید احتجاج کیا۔

    بھارتی حکام کے نبی کریم ﷺ کےشان اقدس میں گستا خانہ بیانات، او آئی سی کی شدید مذمت

    سعودی عرب، بحرین اور کویت میں بائیکاٹ انڈیا کی مہم شروع ہوگئی ہے اور سپر اسٹورز سے احتجاجاً بھارتی اشیا ہٹا دی گئیں ہیں مفتی اعظم عمان احمد بن حمد الخليلی نے بھی بھارتی اشیا کے بائیکاٹ کی اپیل کی ہے۔

    عرب میڈیا کے مطابق مشرق وسطیٰ کے ممالک میں مقیم افراد میں اس بات پر سخت غم و غصہ پایا جا رہا ہے کہ آسام پولیس کی جانب سے مسلمانوں کی بیدخلی کے لیے چلائی جانے والی مہم کے دوران انتہا درجے کا ظلم و تشدد کیا جا رہا ہے۔

    پی آئی اے نے اپنا حج آپریشن کا آج سے باضابطہ آغاز کردیا

  • بھارتی حکام کے گستاخانہ بیانات، حافظ سعد حسین رضوی کی شدید مذمت

    بھارتی حکام کے گستاخانہ بیانات، حافظ سعد حسین رضوی کی شدید مذمت

    لاہور: بھارتی حکمران جماعت کی ترجمان کے اسلام اور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کی شان اقدس میں گستاخی پر امیر تحریک لبیک پاکستان حافظ سعد حسین رضوی نے شدید مذمت کی ہے-

    باغی ٹی وی : امیر ٹی ایل پی حافظ سعد حسین رضوی نے کہا کہ نوپور شرما اور نوین جندل کی حضور ﷺ کی شان میں گستاخی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں،اس شرمناک عمل سے پوری دنیا کہ مسلمانوں کے دل چھلنی ہوئے ہیں،گستاخ رسول ﷺ واجب القتل ہے، چاہے اس کا تعلق بھارت سے ہو یا فرانس سے-

    حافظ سعد حسین رضوی نے کہا کہ حکومت بھارتی ناظم الامور کو فوری طور پر طلب کر کے بھرپور احتجاج ریکارڈ کروائے بی جے پی کی طرف سے پارٹی رکنیت معطل کرنا کافی نہیں،گستاخی رسول نا قابل معافی جرم ہے عبرت ناک سزا دی جائے-

    حضوراکرمﷺ کی شان میں گستاخی کرنیوالی بی جے پی لیڈر نپور شرما اور ٹائمز ناؤ کےخلاف…

    امیر ٹی ایل پی نے کہا کہ مودی کے اقتدار میں مذہبی آزادیوں کو کچلا اور مسلمانوں کو انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے او آئی سی اور عالمی برادری بھارتی انتہا پسندی کا فوری نوٹس لے-

    واضح رہے کہ بی جے پی کی ترجمان نوپور شرما اور ایک اور رہنما نوین کمار جندال نے نبی کریم ﷺ کے بارے میں توہین آمیز کلمات ادا کیے تھے جس پر دنیا بھر میں احتجاج کیا گیا اور بی جے پی کو ترجمان سے استعفیٰ لینا پڑا۔

    بی جے پی کی ترجمان نوپور شرما نے ایک ٹی وی چینل کے پروگرام میں اسلام اور نبی کریمﷺکے حوالے سے متنازع گفتگو کی تھی۔بی جے پی کی ترجمان کے گستاخانہ بیان پر بھارت اور بیرون ملک شدیدغم وغصےکا اظہارکیا جارہا ہے۔

    بی جےپی رہنماکاگستاخانہ بیان:”اوآئی سی سخت ایکشن لے“یہ گُستاخی اوربدتمیزی برداشت نہیں:عمران خان

    وزیراعظم شہباز شریف،صدرپاکستان ڈاکٹرعارف الرحمن علوی نے بھارت کی حکمران جماعت بی جے پی کی ترجمان کی جانب سے نبی کریمﷺکی شان میں گستاخی کی شدید مذمت کرتے ہوئےکہا تھا کہ ہم بارہا کہہ چکے ہیں کہ فاشسٹ مودی کی قیادت میں بھارت مذہبی آزادی پامال کر رہا ہے، بھارت میں مسلمانوں پر شدید ظلم و ستم جاری ہے، دنیا بھارتی انتہا پسندی کا نوٹس لے۔

    دوسری جانب عرب ممالک میں عوام کی جانب سے سخت احتجاج کیا جارہا ہے، مصر، سعودی عرب، قطر، بحرین اورکویت میں بائیکاٹ انڈیا کی مہم چل پڑی ہے اور بھارت سے درآمد شدہ اشیاء استعمال نہ کرنے کی اپیل کی جارہی ہے۔مفتی اعظم عمان احمد بن حمد الخليلی نے بھارتی اشیاءکا بائیکاٹ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہےکہ بی جے پی ترجمان کا یہ اقدام ہر مسلمان کے خلاف ہے، اس پر مشرق سے مغرب تک تمام مسلمانوں کو ایک ہونا چاہیے۔

    نبی کریم ﷺکی شان میں انتہائی توہین آمیز ریمارکس کی مذمت کرتےہیں:پاکستان

  • بی جے پی رہنما کے گستاخانہ بیان پر بھارتی ناظم الامور کی دفترخارجہ طلبی

    بی جے پی رہنما کے گستاخانہ بیان پر بھارتی ناظم الامور کی دفترخارجہ طلبی

    بی جے پی رہنما گستاخانہ بیان پر بھارتی ناظم الامور کی دفترخارجہ طلبی

    بی جے پی رہنما کے توہین مذہب کے بیان پر مسلمان سراپا احتجاج ہیں، پاکستان سمیت دنیا کے کئی ممالک میں اس گستاخی کے خلاف رد عمل دیا جا رہا ہے،

    پاکستان نے بھارتی ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کیا ہے اور حکومت پاکستان کی طرف سے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں ہندوستان کی حکمران جماعت بی جے پی کے دو سینئر عہدیداروں کی طرف سے کئے گئے انتہائی توہین آمیز ریمارکس کی شدید مذمت کی، پاکستان کی جانب سے بھارتی ناظم الامور کو بتایا گی کہ یہ ریمارکس مکمل طور پر ناقابل قبول ہیں اور اس سے نہ صرف پاکستانی عوام بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات کو شدید ٹھیس پہنچی ہے۔

    بھارتی سفارت کار کو مزید بتایا گیا کہ پاکستان بی جے پی حکومت کی جانب سے مذکورہ عہدیداروں کے خلاف اٹھائے گئے تاخیری اور غیر اخلاقی تادیبی اقدامات پر افسوس کا اظہار کرتا ہے جس سے مسلمانوں کے درد کو کم نہیں کیا جا سکتا۔پاکستان کو ہندوستان میں مسلمانوں کے خلاف فرقہ وارانہ تشدد اور نفرت میں خطرناک حد تک اضافے پر گہری تشویش ہے۔

    دوسری جانب بی جے پی ترجمان کے گستاخانہ بیان پر سعودی عرب کا سخت ردعمل ساامنے آیا ہے، سعودی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ پیغمبر اسلام ﷺ کی توہین ناقابل برداشت ہے،او آئی سی نے بی جے پی رہنما کے گستاخانہ بیان کی شدید مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ بی جے پی ترجمان کا بیان اسلام کے خلاف نفرت اور بدسلوکی کے تناظرمیں ہے، بھارتی حکمران جماعت اسلام کے خلاف منظم کارروائیوں میں ملوث ہے بھارت مسلمانوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنائے

    پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین اور وزیرخارجہ بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ بی جے پی رہنماؤں کی جانب سے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ سے متعلق نفرت انگیز اور توہین آمیز کلمات کی سخت مذمت کرتا ہوں، اربوں کی تعداد میں دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات کا استحصال مکمل طور پر ناقابل قبول ہے، وقت آچکا ہے کہ اقوام عالم ہندوستان میں اسلاموفوبیا سے متاثر ہندوتوا کو روکیں

    وزیر خارجہ بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ بی جے پی رہنماؤں کے توہین آمیز کلمات پر بھارتی سفارت کار کو طلب کرلیا،بھارتی سفارت کار کو طلب کرکے توہین آمیز کلمات پر سخت پیغام دے دیا گیا،بی جے پی قیادت اور حکومت توہین آمیز کلمات کی مذمت کرے،بی جے پی قیادت ذمہ داروں کو کیفرکردار تک پہنچائے،

    پی ڈی ایم کے سربراہ ،جے یو آئی کے قائد مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ بی جے پی ترجمان کے توہین رسالت ﷺ پر مبنی بیان پر پوری مسلم امہ مل کر بھارت سے جواب طلب کرے بی جے پی ترجمان کی جانب سے حضور علیہ السلام کی شان میں گستاخانہ کلمات کی شدید مذمت کرتے ہیںان گستاخانہ کلمات سے پوری دنیا کے مسلمانوں کے دل چھلنی ہوئے ہیں مسلمان کے لئے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذات بارے ایک لفظ بھی قابل برداشت نہیں بھارتی حکومت ایسے رہنماؤں کوسخت سزا دے ورنہ دنیا کا امن خطرے میں پڑ جائے گا

    وفاقی وزیر ماحولیاتی تبدیلی شیری رحمان نے بی جے پی رہنماوں کے توہین آمیز بیانات کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ نبی ﷺکے بارے میں بی جے پی رہنماوں کے اشتعال انگیز بیانات کی قابل مذمت ہے،بی جے پی رہنماوں نے مسلمانوں کی دل آزاری کی ہے،بی جے پی رہنماوں کے بیانات سےدنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں، عالمی دنیا اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اس کا نوٹس لیں، مودی حکومت حساس مذہبی معاملات پر لوگوں میں نفرت پھیلا رہی ہے،عالمی دنیا کا رواداری کا معیار باقی ممالک اور مودی کے لیے الگ الگ نہیں ہو سکتا، بھارتی انتہا پسندی دنیا کے لیے ایک خطرہ بن چکی ہے،بی جے پی رہنما وںکی رکنیت معطلی کافی نہیں، مودی سرکار کو مسلمانوں سےمعافی مانگنی چاہیے،

    بی جے پی کی ترجمان کی جانب سے حضرت محمد ﷺ کی توہین کے خلاف مذمتی قرارداد پنجاب اسمبلی میں جمع کروا دی گئی،قرارداد مسلم لیگ(ن) کی رکن سمیرا کومل کی جانب سے جمع کرائی گئی ،قرارداد کے متن میں کہا گیا کہ یہ ایوان بھارت کی حکمران جماعت بی جے پی کی ترجمان کی جانب سے حضرت محمد ﷺ کی توہین پر شدید مذمت کرتا ہے بی جے پی ترجمان نوپور شرما کے گستاخانہ بیان کی وجہ سے دنیا بھر کے مسلمانوں کو گہرا صدمہ ہوا ہے مغربی ممالک کی طرح بھارت میں بھی مسلمانوں کے متعلق نفرت کے جذبات پائے جاتے ہیں مغربی ممالک میں مسلسل پیغمبر اسلام ﷺکی شان میں گساخی کے واقعات سامنے آتے ہیں پوری امت مسلمہ عقید ختم نبوت اور تحفظ ناموس رسالت ﷺ کے معاملے میں ایک ہو او آئی سی فوری اجلاس پر بلاکر ان گستاخانہ عزائم کےخلاف لائحہ عمل بنائے وزیر اعظم پاکستان اس مسئلے کو عالمی سطح پر اجاگر کریں

    تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر نے کہا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے ترجمان نے نبی کریم ﷺکی شان میں گستاخی کی جس کی سخت مذمت کرتے ہیں یہ ایک دفعہ پھر یاد دلاتی ہے کہ ہمارے اجداد کی قربانی سے جو آزاد ملک ملا وہ کتنی بڑی نعمت ہے،بھارتیہ جنتا پارٹی کے ترجمان کے اشتعال انگیز بیان اورگستاخی کی عالمی سطح پر مذمت کرنی چاہیے،

    ق لیگی رہنماوں نے بی جے پی رہنماؤں کی طرف سے گستاخانہ بیانات کی مذمت کی ہے، سابق وزیراعظم، ق لیگ کے سربراہ چوھدری شجاعت حسین کا کہنا تھا کہ بی جے پی رہنماؤں کی توہین آمیز بیانات سے عرب دنیا کی آنکھیں کھل جانی چاہییں،سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویزالہیٰ کا کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات کو فوری طور پر بھارتی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنا چاہیے ہمارا تن من دھن خاتم النبین حضرت محمد ﷺپر قربان ہے، بھارت کی جانب سے توہین آمیز بیانات کا او آئی سی اور اقوام متحدہ نوٹس لیں,سابق وفاقی وزیر مونس الہیٰ کا کہنا تھا کہ گستاخانہ بیانات کو روکا نہ گیا تو عالمی سطح پر نفرت پھیلنے کا خدشہ ہے،بھارت کی اس حرکت کی وجہ سے خطے کا امن خطرے میں پڑ گیا ،

    واضح رہے کہ بھارت کی حکمران جماعت بی جے پی کی ترجمان نوپورشرما نے ایک ٹی وی چینل کے پروگرام میں اسلام اور نبی کریمﷺ کے حوالے سے متنازع گفتگو کی تھی اس بیان پرمسلمانوں کی جانب سے شدیدغم وغصے کا اظہارکیا جارہا ہے

    دہلی تشدد ، خاموشی پرطلبا نے کیا کیجریوال کے گھر کا گھیراؤ، پولیس تشدد ،طلبا گرفتار

    امریکا سمیت متعدد ممالک کی دہلی بارے سیکورٹی ایڈوائیزری جاری

    دہلی فسادات، 42 سالہ معذور پر بھی مسجد میں کیا گیا بہیمانہ تشدد

    دہلی فسادات کا ذمہ دار کون؟ جمعیت علماء ہند نے کی نشاندہی

    دہلی فسادات اور 2002 کے گجرات فسادات میں گہری مماثلت،ہندوؤں کی دکانیں ،گھر کیوں محفوظ رہے؟ سوال اٹھ گئے

    دہلی فسادات، کوریج کرنیوالے صحافیوں کی شناخت کیلیے اتروائی گئی انکی پینٹ

    دہلی، اجیت دوول کا دورہ مسلمانوں کو مہنگا پڑا، ایک اور نوجوان کو مار دیا گیا

    دہلی فسادات میں امت شاہ کی پرائیویٹ آرمی ملوث،یہ ہندوآبادی پر دھبہ ہیں، سوشل ایکٹوسٹ جاسمین

  • نبی کریم ﷺکی شان میں انتہائی توہین آمیز ریمارکس کی مذمت کرتےہیں:پاکستان

    نبی کریم ﷺکی شان میں انتہائی توہین آمیز ریمارکس کی مذمت کرتےہیں:پاکستان

    اسلام آباد:پاکستان نے بھارت کی حکمراں جماعت بی جے پی کے دو سینئر عہدیداروں کی جانب سے حال ہی میں نبی کریمﷺ کی شان میں انتہائی توہین آمیز ریمارکس کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے نہ صرف پاکستانی عوام بلکہ دنیا بھر کے اربوں مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں، پاکستان بھارت سے توہین آمیز ریمارکس اور حضورﷺ کی شان پر حملہ کرنے والے ذمہ داروں کے خلاف فیصلہ کن اور قابلِ عمل کارروائی کا مطالبہ کرتا ہے۔

    اسلاموفوبیا قرارداد منظور ہونے پر بھارت کا شدید ردعمل

    دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ بھارتیہ جنتاپارٹی کی جانب سے ان افراد کے خلاف وضاحت کی کوشش اور تاخیر سے و نیم دلانہ تادیبی کارروائی سے مسلم دنیا کو پہنچنے والے درد اور اضطراب کو دور نہیں کیا جا سکتا۔

    ترجمان نے کہا کہ ہندوستان میں رہنے والے مسلمان بھی بی جے پی کے دو عہدیداروں کے مکمل طور پر نفرت انگیز بیانات سے جتنے ناراض ہیں اس حقیقت کی کانپور اور ہندوستان کے دیگر حصوں میں ہونے والے فرقہ وارانہ تشددسے عکاسی ہو رہی ہے۔

    عاصم افتخار کا کہنا تھا کہ پاکستان کو ہندوستان میں مسلمانوں کے خلاف فرقہ وارانہ تشدد اور نفرت میں خطرناک حد تک اضافے پر بھی گہری تشویش ہے، ہندوستان میں مسلمانوں کو منظم طریقے سے بدنام کیا اور پسماندہ کیا جا رہا ہے، مسلمانوں کو ہندوستان کی مختلف ریاستوں میں سلامتی کی مشینری کی مکمل ملی بھگت اور حمایت کے ساتھ بنیاد پرست ہندو ہجوم کے منظم حملوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

    اسلامی ممالک کو اسلاموفوبیا کیخلاف مل کر کام کرنا ہوگا:صدرعارف علوی

    ترجمان نے کہا کہ یہ بات انتہائی افسوسناک ہے کہ ہندوستانی ریاستی مشینری نے ملک بھر میں مقامی مسلمان کمیونٹیز کی مدد کے لیے اپیلوں سے اپنے آپ کوعلیحدہ رکھا ہے، وہ ریاستیں جہاں پر بی جے پی کی حکومتیں ہیں میں اقلیتوں کے حقوق کی مسلسل سنگین خلاف ورزیاں، ہندوستان کی مرکزی حکومت کی طرف سے مسلم مخالف قانون سازی اور مکمل استثنیٰ وبیشتر اوقات ریاستی سرپرستی میں مختلف ہندو انتہا پسندگروپوں کی طرف سے مسلمانوں کے خلاف حیلوں بہانوں سے تشدد کے واقعات ہو رہے ہیں جس سے اسلامو فوبیا اور انتہا پسندی کے بگڑتے ہوئے رجحان کی عکاسی ہورہی ہے، بی جے پی کی اعلیٰ قیادت کی خاموشی اس بات کا ایک اور ثبوت ہے کہ اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کو پسماندہ اور عفریت بنا کر پیش کرنے کے اپنے مذموم عزائم کو انجام دینے میں ان متعصب ہندوؤں کو ریاستی مشینری کی کھلی حمایت حاصل ہے۔

    عالمی برادری کو اسلاموفوبیا کے تدارک کے لیے اقدام اٹھانا ہوں گے ، وزیر خارجہ

    انہوں نے کہا کہ یہ بات قابل مذمت ہے کہ بھارت میں مسلمانوں کو ان کے جینے اور آزادی سے اپنے مذہب پر عمل کرنے کے حق سے محروم کرنا ایک معمول بن گیا ہے، یہ امر بھی افسوسناک ہے کہ انتہا پسند ہندوتوا ایجنڈے کے حامل بی جے پی، آر ایس ایس نے ہندوستانی مسلمانوں اور ان کی عبادت گاہوں کے خلاف بدنیتی سے بدنامی اور بے ہودہ تشدد کا سلسلہ جاری رکھا ہے، پاکستان بھارت سے توہین آمیز ریمارکس اور حضورؐ کی شان پر حملہ کرنے والے ذمہ داروں کے خلاف فیصلہ کن اور قابلِ عمل کارروائی کا مطالبہ کرتا ہے ۔

    ترجمان نے کہا کہ بھارت کو اپنی اقلیتوں کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے بچانے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہئیں، ان کی حفاظت، سلامتی اور بہبود کو یقینی بنانا چاہیے اور انہیں امن کے ساتھ اپنے عقائد کا دعوٰی کرنے اور ان پر عمل کرنے کی اجازت دینی چاہیے، پاکستان نے ایک بار پھر عالمی برادری سے بھارت میں اسلامو فوبیا کی سنگین صورت حال کا فوری نوٹس لینے کامطالبہ کیا ہے کہ ہندوستان کو اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے اپنے عقیدے اور مذہبی عقائد پر عمل کرنے کے حقوق سلب کرنے کے لیے جوابدہ ہونا چاہیے۔

    عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ بھارت کو اس کی ہندو انتہا پسندانہ قابل مذمت مہم سے باز رکھے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ مسلمانوں کو اکثریتی آبادی سے مختلف مذہبی عقائد رکھنے کا نشانہ نہ بنایا جائے۔ ترجمان نے کہاکہ دنیا کو ہندوستان میں ہندواتوا کے انتہاپسندانہ نظریات سے متاثرہ بی جے پی اورآرایس ایس کے ہاتھوں مسلمانوں کی ہونے والی نسل کشی سے بچانے کے لیے اپنی مداخلت کرنی چاہیے۔