Baaghi TV

Tag: تاریخ

  • 18 اپریل کو وفات پانے والی چند مشہور شخصیات

    18 اپریل کو وفات پانے والی چند مشہور شخصیات

    18 اپریل کو وفات پانے والی چند مشہور شخصیات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    1558ء خاصکی خرم سلطان یا حورم سلطان ، جس کا شادی سے قبل نام روکسیلانہ (Roxelana) تھا، سلیمان اعظم کی (1531ء تا 18 اپریل 1558ء) بیوی اور ملکہ ، شہزادہ محمد، مہر ماہ سلطان، شہزادہ عبداللہ، سلیم دوم، شہزادہ بایزید اور شہزادہ جہانگیر کی والدہ تھی۔ وہ سلطنت عثمانیہ کی تاریخ میں سب سے طاقتور خواتین میں سے ایک تھی اور سلطنت خواتین کے طور پر جانے جانے والے دور کی ایک ممتاز شخصیت تھی۔ اسے عام طور پر خاصکی خرم سلطان (Haseki Hürrem Sultan) یا خرم خاصکی سلطان کے نام سے جانا جاتا تھا۔ (پیدائش: 1501ء)

    1619ء راجکماری شری مانوتی بائی بعد میں جگت گوسائیں المعروف تاج بی بی بلقیس مکانی بیگم ، شہنشاہ جہانگیر کی بیوی اور (3 نومبر 1605ء تا 18 اپریل 1619ء) ملکہ ، شاہجہاں کی والدہ اور جودھپور کے راجا اُدے سنگھ کی بیٹی تھیں۔ (پیدائش: 23 مئی 1573ء)

    1829ء محمود شاہ درانی ، احمد شاہ درانی کا پوتا اور افغانستان کا چوتھا درانی سلطان تھا جس نے درانی سلطنت پر دو مختلف ادوار (25 جولا‎ئی 1801ء تا 13 جولا‎ئی 1803ء اور 3 مئی 1809ء تا 1818ء) میں حکومت کی۔ (پیدائش: 1769ء)

    1938ء سید نجم الحسن نقوی المعروف نجم الحسن امروہوی ، برطانوی ہند کے شیعہ عالم اور مجتہد (پیدائش: 25 مئی 1863ء)

    1955ء البرٹ آئنسٹائن ، نوبل انعام برائے طبیعیات (1921ء) یافتہ جرمن نژاد امریکی ماہر طبیعیات، راضی دان، فلسفی، غیر فکشن مصنف و استاد جامعہ ، بیسویں صدی کا سب سے بڑا طبیعیات دان سمجھا جاتا ہے۔ (پیدائش: 14 مارچ 1879ء)

    2000ء سید علی محمد رضوی المعروف "سچے بھائی، پاکستانی شاعر اور نعت خواں (پیدائش: 1940ء)

    2019ء محمد جمیل خان بمعروف ڈاکٹر جمیل جالبی ، پاکستان کے نامور اردو نقاد، ماہرِ لسانیات، ادبی مؤرخ، سابق وائس چانسلر کراچی یونیورسٹی، چیئرمین مقتدرہ قومی زبان (موجودہ نام ادارہ فروغ قومی زبان) اور صدر اردو لُغت بورڈ تھے۔ آپ کا سب سے اہم کام قومی انگریزی اردو لغت کی تدوین اور تاریخ ادب اردو، ارسطو سے ایلیٹ تک، پاکستانی کلچر:قومی کلچر کی تشکیل کا مسئلہ جیسی اہم کتاب کی تصنیف و تالیف ہے۔ (پیدائش: 12 جون 1929ء)

  • 18 اپریل کو پیدا ہونے والی چند مشہور شخصیات

    18 اپریل کو پیدا ہونے والی چند مشہور شخصیات

    18 اپریل کو پیدا ہونے والی چند مشہور شخصیات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    1590ء احمد اول ، سلطنت عثمانیہ کے (22 دسمبر 1603ء تا 22 نومبر 1617ء) چودھویں سلطان ، خلیفۃ المسلمین ۔ آپ محمد ثالث کے سب سے بڑے بیٹے ہیں۔ (وفات: 22 نومبر 1617ء)

    1768ء ژان بپتست دبریت ، فرانسیسی انجینئر و مصور، اس نے کئی گراں قیمت لیتھو گرافز بنائے، جس میں برازیل کے لوگوں کی منظر کشی کی گئی تھی۔ وہ لوئس ڈیوڈ کا بہت بڑا چیلا تھا۔ (وفات: 28 جون 1848ء)

    1774ء پیشوا مادھو راؤ دوم بمعروف سوائے مادھو راؤ پیشوا اور مادھو راؤ دوم ناراین ، ہندوستان کی مرہٹہ سلطنت کے (1774ء تا 27 اکتوبر 1795ء) 12ویں پیشوا تھے۔ ان کے والد ناراین راؤ پیشوا تھے جنہیں رگھوناتھ راؤ کے حکم پر سنہ 1773ء میں قتل کر دیا گیا تھا۔ مادھو راؤ کی پیدائش اپنے والد کی وفات کے بعد ہوئی۔ چونکہ مادھو راؤ قانونی وارث تھے اس لیے سنہ 1782ء میں معاہدہ سال بائی کی مدد سے انہیں پیشوا مقرر کیا گیا۔ (وفات: 27 اکتوبر 1795ء)

    1809ء ہنری لوئی ویوین ڈیروزیو ، ہندوستانی معلم، شاعر و مصنف ، ہندو کالج کلکتہ کے معاون صدر مدرس، انقلابی مفکر اور ان اولین ہندوستانی معلمین میں سے تھے جنہوں نے نوجوانان بنگال کو مغربی تعلیم اور سائنسی علوم سے روشناس کرایا۔ (وفات: 26 دسمبر 1831ء)

    1886ء علامہ امداد علی امام علی قاضی ، حیدر آباد سندھ سے تعلق رکھنے والے پاکستانی ادیب، مفکر اور محقق۔ آپ نے سندھی ادب، ثقافت، علم، فن اور تہذیب پر بہت کام کیا ہے۔ (وفات: 13 اپریل 1968ء)

    1900ء احمد الدین اظہر المعروف اے ڈی اظہر ، سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والے پاکستانی شاعر اور سول سرونٹ (وفات: 24 فروری 1974ء)

    1905ء جارج ایچ ہائیچنگ ، نوبل انعام برائے فزیالوجی و طب (1988ء) یافتہ امریکی طبیب، حیاتی کیمیا دان، ماہرِ دوا ساز و استاد جامعہ (وفات: 27 فروری 1998ء)

    1916ء امبا لیکسمن راؤ ساگُن بمعروف للتا پوار ، بھارتی فلمی اداکارہ (وفات: 24 فروری 1998ء)

    1940ء جوزف لیونرڈ گولڈ سٹین ، نوبل انعام برائے فزیالوجی و طب (1985ء) یافتہ امریکی ماہر جینیات، طبیب، استاد جامعہ

    1942ء جوجین رنڈت ، ریسنگ ڈرائیور، فارمولا ون ڈرائیور جنہوں نے 1970 میں فورملا ون جیتنے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔ (وفات: 5 ستمبر 1970ء)

    1946ء صادقہ کرار المعروف صادقہ صلاح الدین ، پاکستانی سماجی کارکن اور ماہرِ معاشیات و تعلیمی امور ، آپ پاکستانی دانشور و محقق پروفیسر کرار حسین کی بیٹی ہیں۔

    1951ء جاوید احمد غامدی ، پاکستان سے تعلق رکھنے والے مدرسہ فراہی کے عالم دین، شاعر، مصلح اور قومی دانشور

    1972ء یان بیورکلند ، سوئیڈش سیاستدان (12 ستمبر 2007ء تا 3 اکتوبر 2014ء) وزیرِ تعلیم سوئیڈن اور (5 اکتوبر 2010ء تا 3 اکتوبر 2014ء) نائب وزیرِ اعظم سوئیڈن

    1962ء پونم ڈِھیلوں ، بھارتی فلمی اداکارہ

    1976ء میلیسا جوان ہارٹ ، امریکی اداکارہ

    1989ء عالیہ شوکت ، امریکی فلمی اداکارہ

  • 18 اپریل تاریخ کے آئینے میں

    18 اپریل تاریخ کے آئینے میں

    18 اپریل تاریخ کے آئینے میں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    1025ء بولسلو اول شروبری کی بطور پولینڈ کے پہلے بادشاہ تاج پوشی ہوئی۔

    1612ء مغل حکمراں شاہ جہاں نے ممتاز سے نکاح کیا۔

    1797ء فرانس اور آسٹریا کے درمیان فائر بندی کے معاہدے پر دستخط ہوئے ۔

    1859ء سال ۱۸۵۷ء بغاوت کے رہنما تاتيا توپے کو پھانسی دی گئی۔

    1906ء امریکی ریاست کیلی فورنیا میں سات اعشاریہ نوشدت کا زلزلہ، زلزلے اور آتشزدگی سے چار ہزار افراد ہلاک اور شہرکا پچھہتر فیصد حصہ تباہ ہوا۔

    1906ء سان فرانسسکو میں زلزلے اور آگ سے تقریبا 4000؍افراد ہلاک ہو گئے۔

    1917ء مہاتما گاندھی نے ستیہ گرہ کے لیے بہار کے چمپارن کو منتخب کیا۔

    1930ء سوریہ سین عرف ماسٹر دا اور انڈین ریپبلکن آرمي کے ۶۲؍ لوگوں نے چٹ گاؤں کے اسلحہ خانے پر دھاوا بولا۔

    1942ء پیئیر لاوال فرانس کے وزیر اعظم بن گئے۔

    1945ء سوویت یونین اور بولیویا کے درمیان سفارتی تعلقات قائم ہوئے۔

    1946ء لیگ آف نیشنز ( جمعیت الاقوام ) کا اختتام ہو گیا۔

    1948ء ہالینڈ کے ہیگ میں بین الاقوامی عدالت کی تشکیل ہوئی۔

    1949ء جمہوریہ آئرلینڈ کا قانون نافذ ہو گیا۔

    1950ء ونوبا بھاوے نے آندھرا پردیش (اب تلنگانہ) کے پچمپللي گاؤں سے بھودان تحریک کا آغاز کیا۔

    1954ء مصر میں جمال عبدالناصر کی حکومت کا آغاز ہوا۔

    1955ء البرٹ آئنس ٹائن، عظیم سائنس داں کا انتقال ہوا۔

    1956ء مصر اور اسرائیل جنگ بندی پر رضامند ہوئے ۔

    1971ء سمراٹ اشوک نامی بھارت کا پہلا جمبو جیٹ طیارہ ۷۴۷؍ممبئی میں اترا۔

    18اپریل 1973ء کو پاکستان کے محکمہ ڈاک نے بھارت میں قید نوے ہزار پاکستانی جنگی قیدیوں کی رہائی کے لیے عالمی رائے عامہ ہموار کرنے کے لیے 1.25 روپے مالیت کا ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا جس پر پاکستانی جنگی قیدیوں کی تصویر چھاپی گئی تھی اور90,000 Prisoners of War in India, Challenge to World Conscience کے الفاظ تحریر تھے۔ اس ڈاک ٹکٹ کا ڈیزائن پاکستان سیکورٹی پرنٹنگ پریس کے ڈیزائنر مختار احمدنے تیار کیا تھا۔

    1978ء شوبھا سنگھ، بھارتی مصنف خشونت سنگھ کے والد کا انتقال۔

    1980ء روڈیشیا ، برطانیہ سے آزادی حاصل کر کے جمہوریہ زمبابوے بن گیا۔

    یہ 18 اپریل 1986ء کا واقعہ ہے۔ شارجہ میں پاکستان اور بھارت کے درمیان آسٹریلیشیا کپ کا فائنل کھیلا جارہا تھا۔ پاکستانی ٹیم کے کپتان عمران خان اور نائب کپتان جاوید میاں داد تھے۔ بھارت کی ٹیم نے پہلے بیٹنگ کی اور مقررہ پچاس اوورز میں 7 وکٹوں کے نقصان پر 245 رنز بنانے میں کامیاب رہی۔ اس کے بعد پاکستان کی ٹیم نے اپنی بیٹنگ کا آغاز کیا۔ میچ کا آخری اوور چیتن شرما کروا رہے تھے۔ آخری اوور کی پانچ گیندوں کے بعد پاکستان کا اسکور 242 رنز تھا اور اس کے نو کھلاڑی آئوٹ ہوچکے تھے۔ پاکستان کو میچ جیتنے کے لئے آخری گیند پر چار رنز درکار تھے۔ گیند کا سامنا جاوید میاں داد کو کرنا تھا جن کا ذاتی اسکور اس وقت 110 رنز تھا۔اس کے بعد وہی کچھ ہوا جو صرف افسانوں میں یا کہانیوں میں ہوتا ہے۔ جاوید میاں داد کو چوکا مارنے سے روکنے کے لئے بھارتی ٹیم کے کپتان کیپل دیو نے اپنے کھلاڑیوں کو میدان میں پھیلا دیا لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ میچ کی آخری گیند پھینکنے کے لئے چیتن شرما نے دوڑنا شروع کیا فضا میں سخت تنائو کی کیفیت تھی لوگوں کی سانسیں رکی ہوئی تھیں، اسٹیڈیم میں مکمل خاموشی تھی۔ چیتن شرما نے گیند پھینکی اور جاوید میاں داد نے اسے فل ٹاس بناتے ہوئے مڈ وکٹ کی طرف فضا میں اچھال دیا۔ جاوید میاں داد اس آخری گیند پر چھکا مارنے میں کامیاب ہوچکے تھے اور پاکستان یہ میچ ایک وکٹ سے جیت چکا تھا۔ اس میچ میں مین آف دی میچ کا ایوارڈ جاوید میاں داد نے حاصل کیا جبکہ مین آف دی سیریز کا اعزاز سنیل گواسکر کے حصے میں آیا

    1991ء کیرالہ ہندوستان کی پہلی مکمل خواندہ ریاست قرار دی گئی۔

    1993ء صدر پاکستان غلام اسحاق خان نے نواز شریف کی حکومت کو برطرف اور قومی اسمبلی تحلیل کردیا۔٭1993ء کے اوائل میں جب جنرل آصف نواز کا انتقال ہوا تھا اسی وقت سے صدر غلام اسحاق خان اور وزیراعظم محمد نواز شریف میں اختلافات کا آغاز ہوگیا تھا۔ یہ اختلافات جنرل آصف نواز مرحوم کے جانشین کی تقرری کے مسئلے سے شروع ہوئے تھے۔ کم و بیش اسی زمانے میں وزیراعظم نواز شریف نے آٹھویں ترمیم کے خاتمے کے لئے کوششوں کا آغاز کیا۔ انہوں نے خیرسگالی کے طور پر محترمہ بے نظیر بھٹو کو قومی اسمبلی کی امور خارجہ کی خاتمہ کمیٹی کا چیئرپرسن مقرر کیا۔18 مارچ 1993ء کو پاکستان کے سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ کے سربراہ محمد خان جونیجو امریکا میں انتقال کرگئے۔ ان کے انتقال کے بعد وزیراعظم نواز شریف نے خود کو مسلم لیگ کا صدر منتخب کروالیا۔ ان کے اس اقدام نے مسلم لیگ کے بہت سے رہنمائوں اور بزرگوں کو ان سے دور کردیا۔ اپریل 1993ء کے آغاز سے حامد ناصر چٹھہ کی سرکردگی میں مرکزی وزرا نے کابینہ سے مستعفی ہونے کے سلسلہ کا آغاز کیا اور پورے ملک میں یہ افواہیں گردش کرنے لگیں کہ صدر کسی بھی لمحے اسمبلیاں توڑنے والے ہیں۔ 17 اپریل 1993ء کو وزیراعظم نواز شریف نے ریڈیو اور ٹیلی وژن پر قوم سے خطاب کیا جس میں انہوں نے بڑے جذباتی انداز سے قوم کو اپنی خدمات گنوائیں اور کہاکہ ایوان صدر سازشوں کی آماجگاہ بن چکا ہے اور یہ کہ وہ کسی کمزوری، کوتاہی یا پسپائی کا مظاہرہ نہیں کریں گے۔ وہ نہ استعفیٰ دیں گے، نہ اسمبلی توڑیں گے اور نہ ڈکٹیشن لیں گے۔ وزیراعظم نواز شریف کی یہ تقریر صدر غلام اسحاق کو، جو اسمبلی توڑنے کے بارے میں تذبذب کا شکار تھے، ایک مضبوط سہارا فراہم کر گئی اور اگلے ہی دن 18 اپریل 1993ء کو انہوں نے ریڈیو اور ٹی وی پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے قومی اسمبلی کو توڑنے اور وزیراعظم نواز شریف اور ان کی کابینہ کو برطرف کرنے کا اعلان کردیا۔ اسی شام میر بلخ شیر مزاری کی قیادت میں ایک نگراں کابینہ نے حلف بھی اٹھالیا۔ یہ نگراں کابینہ جناب حامد ناصر چٹھہ اور جناب فاروق احمد لغاری پر مشتمل تھی۔ بعد میں اس کابینہ میں توسیع بھی کی گئی

    ٭18 اپریل 1993ء کو ایوان صدر میں منعقد ہونے والی ایک پروقار تقریب میں صدر غلام اسحاق خان نے میر بلخ شیر مزاری سے نگراں وزیراعظم کے عہدے کا حلف لیا۔ بلخ شیر مزاری ایک پرانے پارلیمنٹیرین تھے اور 1955ء میں پہلی مرتبہ پاکستان کی مجلس دستور ساز کے رکن منتخب ہوئے تھے۔ اس کے بعد وہ کئی مرتبہ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوتے رہے۔بلخ شیر مزاری 25مئی 1993ء تک نگراں وزیراعظم کے عہدے پر فائز رہے۔

    2013ء عراق کے دارالحکومت بغداد میں بم دھماکوں سے ۲۷؍ ہلاک، ۶۵؍زخمی ہو گئے۔

    2014ء ماؤنٹ ایورسٹ میں آئے طوفان سے نیپال کے ۱۲؍ کوہ پیما ہلاک ہو گئے۔

    تعطیلات و تہوار :

    1980ء روڈیشیا جمہوریہ زمبابوے بن گیا۔

    ثقافتی ورثہ کا عالمی دن

  • 15 اپریل کو وفات پانے والی چند مشہور شخصیات

    15 اپریل کو وفات پانے والی چند مشہور شخصیات

    15 اپریل کو وفات پانے والی چند مشہور شخصیات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    1865ء ابراہم لنکن، سولہواں امریکی صدر (4 مارچ 1861ء تا 15 اپریل 1865ء)، ایک ڈاکئے اور کلرک سے زندگی شروع کر کے امریکا کا سولہواں صدر بنا۔ اپنی ذاتی محنت سے قانونی امتحان پاس کیا۔ وکالت کا پیشہ اختیار کیا۔ آہستہ آہستہ امریکن کانگرس کا رکن بن گیا۔ 1856ء میں امریکا کی جمہوری جماعت میں شامل ہو گیا۔ 1860ء میں امریکا کا صدر منتخب ہوا۔ 1864ء میں دوبار صدر منتخب ہوا۔ 1863ء میں حبشیوں کی آزادی کا اعلان کیا۔ حبشیوں کو غلامی سے آزاد کرانے کی سر توڑ کوشش کی۔ انسان کو انسان کا غلام ہونا غیر فطری سمجھتا تھا۔ 1865ء میں کسی پاگل نے اسے اس وقت گولی مار کر قتل کر ڈالا جب وہ فورڈ تھیٹر میں ڈراما دیکھ رہا تھا۔ (پیدائش: 1809ء)

    1966ء نندلال بوس بھارتی مصور

    1980ء ژاں پال سارتر، نوبل انعام (1964ء) یافتہ فرانسیسی فلسفی اور ادیب (پیدائش: 1905ء)

    1982ء خالد احمد شوقی اسلامبولی، مصری صدر انور سادات کے قاتل کو 5 دیگر افراد سمیت سزائے موت دے دی گئی۔ وہ مصر کے سابق صدر انور سادات کے قتل کے منصوبہ ساز اور قاتل تھے جنہوں نے 6 اکتوبر 1981ء کو "فتح 6 اکتوبر 1973ء کی پریڈ” میں مصری صدر کو قتل کیا۔

    15 اپریل 2005ء کو پاکستان کے نامور فلمی موسیقار امجد بوبی لاہور میں وفات پاگئے۔ امجد بوبی مشہور موسیقار اے حمید کے قریبی عزیز اور شاگرد تھے۔ انہوں نے 1960ء کی دہائی میں امجد حسین کے نام سے اپنی فلمی کیریئر کا آغاز کیا تاہم ان کی بطور موسیقار پہلی فلم راجا جانی تھی جو 1976ء میں نمائش پذیر ہوئی۔ امجد بوبی کا شمار پاکستان کے ان موسیقاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی سریلی دھنوں کے باعث شہرت پائی۔ ان کی مشہور فلموں میں پرورش، کبھی الوداع نہ کہنا، نادیہ، روبی، نزدیکیاں، یہ ہی راستہ، گھونگھٹ، سنگم، چیف صاحب،ہم اور تم، مجھے جینے دو، بھابھی دیاں چوڑیاں اور یہ دل آپ کا ہوا کے نام سرفہرست ہیں۔

    2017ء ایما مورانو، اٹلی کی اب تک کی تصدیق شدہ سب سے عمررسیدہ خاتون (13 مئی 2016ء تا 15 اپریل 2017ء) 1800ء کی دہائی میں پیدا ہونے والی آخری معلوم شخصیت کے بارے میں خیال ہے کہ وہ انیسویں صدی میں پیدا ہونے والی آخری شخصیت تھیں۔ جو اکیسویں صدی میں زندہ تھیں۔ انہوں نے شمالی اطالیہ میں واقع اپنے گھر پر وفات پائی۔ (پیدائش: 1899ء)

    2017ء مختار مسعود ایک سچا پاکستانی اور مینار پاکستان کی تعمیری کمیٹی کے صدر بھی تھے۔ (پیدائش: 1926ء)

  • 15 اپریل   تاریخ کے آئینے میں

    15 اپریل تاریخ کے آئینے میں

    15 اپریل تاریخ کے آئینے میں۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    1450ء جنگ فورمینی میں فرانسینیوں نے فتح حاصل کر کے انگریزوں کا شمالی فرانس پر غلبہ توڑ دیا۔

    1632ء تیس سالہ جنگ کے دوران جنگ باراں میں سویڈن نے ہولی رومن مملکت کو ہرا دیا۔

    1689ء فرانس نے سپین کے خلاف اعلان جنگ کیا۔

    1783ء امریکی انقلابی جنگ کا اختتام ہوا۔

    1827ء کینیڈا کی سب سے بڑی جامعہ، یونیورسٹی آف ٹورنٹو چارٹر ہوئی۔

    1859ء بال گنگا دھر تلک نے راج گڑھ قلعہ میں شیواجی جشن کا افتتاح کیا۔

    1912ء ٹائی ٹینک جہاز نیو فاؤنڈ لینڈ میں برفانی تودے سے ٹکرانے کے بعد ڈوب گیا۔

    1923ء انسولین کے ذریعے ذیابطیس (شوگر) کا علاج شروع ہوا۔

    1927ء سوئٹزرلینڈ اور سوویت یونین سفارتی تعلقات بنانے پر متفق ہوئے۔

    1937ء شکاگو میں پہلا بلڈ بینک قائم ہوا۔

    1948ء ہماچل پردیش ریاست کی تشکیل ہوئی۔

    1954ء برطانیہ اور ہالینڈ کے درمیان امن معاہدے پر دستخط ہوئے ۔

    1955ء آزادی کے بعد پاکستان کے سب سے بڑے آبپاشی کے منصوبے کوٹری بیراج کا افتتاح ہوا۔

    1957ء برطانیہ ایٹمی دھماکا کرنے والا تیسرا ملک بن گیا۔

    1963ء پاکستان اور بھارت کے مابین کشمیر کے مسئلے پر کلکتہ مذاکرات کے اختتام پر مشترکہ اعلامیہ جاری ہوا۔

    15 اپریل 1985ء کو کراچی میں ناظم آباد چورنگی پر دو تیز رفتار بسوں نے سر سید گرلز کالج کی چند طالبات کو کچل دیا جن میں سے ایک طالبہ بشریٰ زیدی جاں بحق ہوگئی۔ اگلے روز چند طالبات نے اپنی ساتھی طالبہ کی ہلاکت پر ناظم آباد چورنگی پر چند پلے کارڈ اٹھا کر مظاہرہ کرناچاہا لیکن اس موقع پر پولیس نے حسب روایت بے تدبیری اور وحشت و بربریت کا مظاہرہ کیا۔ اس نے مظاہرہ کرنے والی طالبات پر اپنی گاڑی چڑھادی، آنسو گیس کے گولے پھینکے اور ان کے کالج میں زبردستی داخل ہوکر وہاں بھی شیلنگ اور لاٹھی چارج کا مظاہرہ شروع کردیا جس کے نتیجے میں متعدد طالبات زخمی اور بے ہوش ہوگئیں۔ جب یہ طالبات مرہم پٹی کروانے کے لئے عباسی شہید اسپتال پہنچیں تو وہاں بھی ان کی مڈبھیڑ پولیس سے ہوگئی۔ پولیس کے ساتھ ایک زخمی کانسٹیبل بھی تھا۔ پولیس چاہتی تھی کہ ڈاکٹر طالبات کی بجائے پہلے زخمی کانسٹیبل کی مرہم پٹی کریں۔ اس پر ڈاکٹروں اور پولیس والوں کی تکرار ہوگئی۔ پولیس نے اس موقع پر تدبر سے کام لینے کی بجائے ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکل اسٹاف کی پٹائی شروع کردی اور شعبہ حادثات کے شیشے اور کائونٹر توڑ دیئے۔ پولیس کے اس رویہ کے باعث پورا شہر کراچی آگ اور دھویں کی لپیٹ میں آگیا۔ اس حادثے کے بعد پرسکون شہری زندگی آگ، گیس اور گولی کے جہنم میں دھکیل دی گئی۔ پورے شہر کراچی میں فسادات پھوٹ پڑے، متعدد دکانیں، بنک اور گاڑیاں نذر آتش کردی گئیں۔ نتیجتاً کراچی کے تمام تعلیمی ادارے بند کردیئے گئے اور متعدد علاقوں میں تاحکم ثانی کرفیو نافذکردیا گیا۔ ان ہنگاموں میں 9 افراد ہلاک اور سو سے زیادہ زخمی ہوئے۔ 15 اپریل کے ٹریفک حادثے کے بعد تعصبات بھڑکانے کی ایک منظم تحریک شروع ہوگئی چونکہ کراچی میں ٹرانسپورٹ کا کاروبار پختون بھائیوں کے ہاتھ میں ہے اور پولیس میں بھی پختون اور پنجابی افراد کی اکثریت ہے اس لئے ان ہنگاموں کو مہاجر اور پنجابی پٹھان فسادات کا رنگ دے دیا گیا اور پورا شہر فرقہ واریت اور لسانی فسادات کی زد میں آگیا۔ اس فرقہ واریت اور فساد کا سلسلہ آئندہ کئی سالوں تک جاری رہا اور ٹریفک کے ایک حادثے کو بہانہ بناکر کراچی جیسے پرامن اور باہمی الفت و محبت والے شہر میں لسانی اور علاقائی تعصبات کا زہر گھول دیا گیا۔

    1990ء میخائیل گوربارچوف سویت یونین کے پہلے انتظامی صدر منتخب ہوئے ۔

    15 اپریل 1992ء کو پاکستان کے محکمہ ڈاک نے ملتان میں منعقد ہونے والے ڈاک ٹکٹوں کے دو روزہ سیمینار کے موقع پرقائد اعظم سیریز کے چھ پرانے ڈاک ٹکٹوں پر National Seminar on Philately – Multanکے الفاظ بالا چھاپ کرکے یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیے جوڈاک ٹکٹ جمع کرنے والے شائقین میں بہت پسند کیا گیا۔ اس موقع پر ڈاک کے ایک لفافے اور ایک ایروگرام پر بھی NATIONAL SEMINAR ONPHILATELY 15-16 APRIL1992 MULTAN کی خصوصی مہر شائع کی گئی

    1994ء مراکش معاہدے پر دستخط ہوئے اور گیٹ کو ڈبل یو ٹی او میں تبدیل کر دیا گیا۔

    1997ء سعودی عرب میں دورانِ حج حاجی کیمپ میں آگ لگنے سے 343 حاجی شہید ہو گئے۔

    1999ء۔۔لاہور ہائی کورٹ سے بےنظیر بھٹو کو نواز شریف حکومت کے قائم کردہ مقدمات میں سزا ہوئی۔

    2002ء چین کا طیارہ جنوبی كوریا میں حادثہ کا شکار ہوا جس میں 128؍ مسافر ہلاک ہوئے۔

    15اپریل 2012ء کو پاکستان کے محکمہ ڈاک نے گورنمنٹ ہائی اسکول نمبر 1، تھانہ مالاکنڈ ڈویژن کے قیام کی ایک سوویں سالگرہ کے موقع پر ایک خوب صورت یادگاری ٹکٹ جاری کیا۔ آٹھ روپے مالیت کایہ ڈاک ٹکٹ نوید اعوان نے ڈیزائن کیا تھا۔ اس ڈاک ٹکٹ پرگورنمنٹ ہائی اسکول نمبر 1، تھانہ مالاکنڈ ڈویژن کی تصویر بنی تھی اور اس پر انگریزی میں CENTENARY OF GOVERNMENT HIGH SCHOOL NO. 1, THANA, MALAKAND DIVISION 1912-2012 کی عبارت تحریر تھی

    2013ء عراق میں بم دھماکے سے33 افراد ہلاک و دیگر 143؍ زخمی ہوئے۔

    2013ء نکولس مدورو وینزویلا کے صدر بنے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تلاش ، ترتیب و ترسیل : آغا نیاز مگسی

  • 13 اپریل تاریخ کے آئینے میں

    13 اپریل تاریخ کے آئینے میں

    13 اپریل تاریخ کے آئینے میں

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    1111ء ہینری پنجم کی بطور ہولی رومن شاہنشاہ تاج پوشی ہوئی۔

    1598ء فرانس کے بادشاہ ہینری چہارم کے نانٹس فرمان کے مطابق ہوجوناٹس کو مذہبی آزادی ملی۔

    1699ء سکھوں کے دسویں گرو گوند سنگھ نے خالصہ پنت قائم کیا۔

    1772ء وارن ہیٹنگس ایسٹ انڈیا کمپنی کی بنگال کمیٹی کے سربراہ مقرر ہوئے۔

    1796ء اٹلی کی جنگ نیپولین نے آسٹریا کو ہرایا۔

    1829ء برطانوی پارلیمنٹ نے رومن کیتھولکس کو مکمل مذہبی آزادی کا حق دے دیا۔

    1849ء ہنگری کو جمہوری ملک قرار دے دیا گیا۔

    1919ء امرتسر کے جیلیانوالا باغ میں قتل عام ہوا برطانوی جنرل ڈائر نے وہاں جلسہ کر رہے نہتے لوگوں پر گولیاں چلوا دیں، جس میں سرکاری اعداد شمار کے مطابق ۳۷۹؍افراد ہلاک اور ۱۲۰۰؍سے زیادہ زخمی ہو گئے۔

    1930ء ہندوستان میں انگریزوں کے ساتھ لڑنے کے لئے ہندوستانی سرخ فوج (انڈین ریڈ آرمی) تشکیل دی گئی۔

    1941ء نیہون، (جاپان) اور روس نے غیر جانبداری کا معاہدہ کیا۔

    1944ء نیوزی لینڈ اور سوویت یونین کے درمیان سفارتی تعلقات قائم ہوئے ۔

    1960ء فرانس افریقی صحرا میں ایٹم بم کا تجربہ کرنے والا چوتھا ملک بنا۔

    1970ء چاند کے سفر پر روانہ ہوئے امریکی خلائی جہاز اپولو۔۱۳؍کے ایندھن کے ٹینک میں دھماکہ ہو گیا۔

    1980ء امریکہ نے ماسکو میں ہورہے اولمپک کھیلوں کا بائیکاٹ کیا۔

    1984ء ہندوستان کرکٹ ٹیم نے شارجہ میں پاکستان کو ۵۸؍ رن سے ہرا کر پہلی مرتبہ ایشیا کپ جیتا۔

    1997ء امریکہ کے گولف کھلاڑی ٹائگر ووڈز ۲۱؍ سال کی عمر میں یوایس ماسٹرز چیمپئن شپ جیتنے والے سب سے کم عمر کھلاڑی تھے۔

    2013ء پشاور میں ایک بس میں ہوئے دھماکہ میں ۸؍ افراد ہلاک ہوئے۔

    2018ء۔۔پاکستان کی سپریم کورٹ نے سابق وزیر اعظم پاکستان کی مدت نااہلی کو تاحیات قرار دے دیا۔
    ۔

    تعطیلات و تہوار :
    ۔”””””””””””””””””

    تھائی لینڈ میں نئے سال کا آغاز

    کمبوڈیا میں نئے سال کا آغاز

  • 11 اپریل کو پیدا ہونے والی چند مشہور شخصیات

    11 اپریل کو پیدا ہونے والی چند مشہور شخصیات

    11 اپریل کو پیدا ہونے والی چند مشہور شخصیات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    146ء ستٹمس سرویس، رومی شہنشاہ

    1357ء جان اول، پرتگال کے بادشاہ

    1492ء مارگرٹ نوار، نوار کی ملکہ

    1755ء جیمز پارکنسن، سرجن تھے اور اس نے دماغی امراض پر تحقیق کی۔

    1827ء جیوتی راؤ گووِند راؤ پھلے المعروف جیوتی با پھلے، ہندوستانی فعالیت پسند، مفکر، معاشرتی مصلح، مصنف اور ماہر الہیات (وفات: 1890ء)

    1869ء کستوربا موہن داس گاندھی، بھارتی راہنما موہن داس کرم چند گاندھی کی بیوی اور فعالیت پسند (وفات: 1944ء)

    1887ء جے منیی رائے ہندوستانی مصور

    1930ء اینٹون سینڈور لاوی، امریکی یہودی مصنف، موسیقار اور عالِمِ اسرار تھا۔ وہ لاوی شیطانیت اور کلیسیائے شیطان کا بانی تھا۔ 1958ء میں اینٹون لاوی نے دہریت کو اختیار کیا۔ یہ شخص کالے جادو کا ماہر تھا اور اس کی دلی خواہش تھی کہ ایک ایسا مذہب بنا دیا جائے جس کے ذریعے دنیا میں جنس اور وسائل پر قابو کر لیا جائے۔ اسی بات پر عمل کرتے ہوئے اُس نے پہلے لاوی شیطانی مذہب بنایا پھر 1969ء میں ایک کتاب ترتیب دی جسے شیطانی بائبل (The Satanic Bible) کہا جاتا ہے۔ (وفات: 1997ء)

    1943ء انور حسین خاں المعروف انور شعور، پاکستانی اردو شاعر

    1950ء بل ارون، امریکی مزاحیہ اداکار

    1951ءروہنی هنٹ گڑی بھارتی تھیٹر اور ٹیلی ویژن اداکارہ، بمقام پنے۔

    1952ء قمر زمان، پاکستانی سابق اسکواش کھلاڑی

    1952ء رویندر کوشیک، بھارت کی سراغ رسانی ایجنسی ریسرچ اینڈ انالیسیس ونگ کا ایک جاسوس۔ وہ پاکستانی فوج میں اہم دستاویزات حاصل کرنے کے لیے ایک مسلمان نام نبی احمد شاکر اور پاکستانی شناخت کے ساتھ بھرتی ہوا تھا اور اسی مقصد کے لیے کام کرتا رہا، حالانکہ اس کے عہدے کی مسلسل ترقی ہوتی گئی تھی۔ (وفات: 2001ء)

    1963ء برینٹ فریزر باؤڈن المعروف بلی، نیوزی لینڈ سے تعلق رکھنے والا کرکٹ امپائر۔

    1928ء۔۔وارث لدھیانوی ٭ پنجابی زبان کے معروف شاعر اور نغمہ نگار وارث لدھیانوی کا اصل نام چوہدری محمد اسماعیل تھا اور وہ 11 اپریل 1928ء کو لدھیانہ میں پیدا ہوئے تھے۔ ابتدا میں عاجز تخلص کرتے تھے پھر استاد دامن کے شاگرد ہوئے اور وارث تخلص کرلیا۔ وارث لدھیانوی نے لاتعداد پنجابی فلموں کے نغمات تحریر کئے جن میں کرتار سنگھ، مکھڑا، رنگیلا، دو رنگیلے، باوجی، شیر خان اور شعلے کے نام سرفہرست ہیں۔ ٭5 ستمبر 1992ء کو وارث لدھیانوی لاہور میں وفات پاگئے-

  • 03 اپریل کو پیدا ہونے والی چند مشہور شخصیات

    03 اپریل کو پیدا ہونے والی چند مشہور شخصیات

    03 اپریل کو پیدا ہونے والی چند مشہور شخصیات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    1879ء آغا حشر کاشمیری، اردو مصنف (وفات : 1935ء)

    1896ء نکولے سیمینو، نوبل انعام (1956ء) یافتہ روسی کیمیاء دان۔ انھیں کیمیائی ٹرانفورمیشن پر ان کے کام کے حؤالے سے جانا جاتا ہے ۔ (وفات : 1986ء)

    1903ء كملا دیوی چٹو پادھیا ئے، سماجی مصلح اور مجاہد آزادی

    1914ء ایس ایچ ایف جے مانیکش ہندستان کے پہلے فیلڈ مارشل بمقام امرتسر

    1924ء مارلن برانڈو، امریکی اداکار (وفات : 2004ء)

    1928ء مجید نظامی، پاکستان کے اشاعتی ادارے نوائے وقت گروپ کے چیف ایڈیٹر اور پبلیشر (وفات : 2014ء)

    1929ء فضل الرحمان خان ، برطانوی ہندوستانی نژاد امریکی سول انجیئنر،معمار ، فضل الرحمن خان کو تعمیراتی انجنیئرنگ کا آئن سٹائن کہا جاتا ہے۔ انھوں نے بلند و بالا عمارتیں تعمیر کرنے کی ایک ایسی تکنیک متعارف کرائی جس کی وجہ سے ٹوئن ٹاور جیسی بلند و بالا عمارتیں تعمیر ہو سکیں۔ فضل الرحمان کے ایجاد کردہ طریقے کی بدولت امریکا میں بلند عمارتوں کی تعمیر کا نیا دور شروع ہوا جس کی مدد سے کم لوہے کے استعمال سے عمارتیں تعمیر ہوئیں۔ (وفات : 1982ء)

    1930ء ہلمٹ کول، ڈوئچ چانسلر

    1958ء ایلک بالڈون، امریکی اداکار

    1961ء ایڈی مرفی، امریکی اداکار

    1962ء جیا پردا، بھارتی فلمی اداکارہ اور سایستدان ، راشٹریہ لوک دل، اتر پردیش کی طرف سے سابق رکن پارلیمان

    1962ء سلمیٰ آغا، سابقہ پاکستانی اور بھارتی فلمی اداکارہ اور پس پردہ گلوکارہ

    1963ء حسن سدپارہ، سدپارہ گاؤں، سکردو کے رہنے والے پاکستانی کوہ پیما، جنھوں نے آٹھ ہزاری جن میں ماؤنٹ ایورسٹ سمیت کے ٹو ،گاشر برم -1، گاشر برم -2، نانگا پربت، بروڈ پیک کو سر کیا۔ (وفات : 2016ء)

    1965ء نازیہ حسن، پاکستانی پاپ گلو کارہ، ٭3 اپریل1965ء پاکستان کی مشہور گلوکارہ نازیہ حسن کی تاریخ پیدائش ہے۔ نازیہ حسن کراچی میں پیدا ہوئی تھیں۔ انہوں نے اپنے فنی کیریئر کا آغاز پاکستان ٹیلی وژن کے مشہور پروگرام سنگ سنگ چلیں سے کیا جس میں ان کے بھائی زوہیب حسن بھی ان کے ساتھ شرکت کرتے تھے۔ ان دونوں بھائی بہن نے گلوکاری کے ساتھ ساتھ اعلیٰ تعلیم بھی حاصل کی۔ پاکستان پاپ موسیقی کو روشناس کرانے کا سہرا بھی انہی بھائی بہن کو جاتا ہے۔ عالمی سطح پر نازیہ حسن کو اس وقت شہرت ملی جب انہوں نے بھارتی موسیقار بدو کی موسیقی میں فلم قربانی کا مشہور نغمہ آپ جیسا کوئی میری زندگی میں آئے ریکارڈ کروایا۔ اس نغمے نے مقبولیت کے نئے ریکارڈ قائم کئے اور اس پر انہیں بھارت کا مشہور فلم فیئر ایوارڈ بھی عطا ہوا۔ وہ یہ ایوارڈ حاصل کرنے والی پہلی پاکستانی شخصیت تھیں۔ فلم قربانی کے اس نغمے کی مقبولیت کے بعد نازیہ اور زوہیب حسن کا مشہور البم ڈسکو دیوانے ریلیز ہوا۔ اس کیسٹ نے بھی فروخت اور مقبولیت کے نئے ریکارڈ قائم کئے۔ نازیہ حسن اور زوہیب حسن نے پاکستان میں پاپ موسیقی کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا اور صاف ستھرا انداز اپناتے ہوئے عالمی شہرت حاصل کی۔ دونوں بہن بھائی نے جب جدید انداز میں ٹیلی وژن اور اسٹیج پر پرفارم کرنے شروع کیا تو ان پر اعتراضات کی بھرمار بھی ہوئی لیکن دونوں سب اعتراضات سے بے نیاز آگے بڑھتے رہے۔ نازیہ حسن اور زوہیب حسن کے دیگر مقبول کیسٹوں میں بوم بوم اور ینگ ترنگ کے نام سرفہرست ہیں۔ 1995ء میں نازیہ حسن کی شادی مرزا اشتیاق بیگ سے ہوئی، ان کے ایک بیٹا بھی ہوا۔ شادی کے کچھ عرصے کے بعد اطلاع ملی کہ نازیہ حسن کینسر کے موذی مرض میں مبتلا ہیں۔ اس کے بعد ان کے اپنے شوہر اشتیاق بیگ سے اختلافات کی خبریں بھی منظرعام پر آئیں۔ نازیہ حسن 13 اگست 2000ء کو لندن میں وفات پاگئیں۔وہ نارتھ لندن کے مسلم قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔

    1966ء یاسین ملک، جموں و کشمیر کے حریت پسند رہنما اور کشمیر لبریشن فرنٹ کے سربراہ

    1973ء ریحام خان، برطانوی، پاکستانی صحافی اور تحریکِ انصاف کے سربراہ کی سابقہ بیوی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تلاش ، ترتیب و ترسیل: آغا نیاز مگسی

  • 02 اپریل کو پیدا ہونے والی چند مشہور شخصیات

    02 اپریل کو پیدا ہونے والی چند مشہور شخصیات

    02 اپریل کو پیدا ہونے والی چند مشہور شخصیات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    748ء شارلیمین، فرانکیا اور روم کے قدیم بادشاہ (وفات : 814ء)

    1614ء شاہزادی جہاں آرا بیگم صاحب، مغل سلطان شاہ جہاں اور ممتاز محل کی دختر، اورنگ زیب کی بڑی بہن۔ (وفات : 1681ء)

    1647ء ماریہ سبیالا مریان، جرمن نژاد ڈچ خاتون، اپنے دور کی عظیم نقاش و عقلیت پسند خاتون۔ جنہیں حشرات و نباتات پر ماہرانہ تحقیق کی وجہ سے دنیائے سائنس میں خاص مقام حاصل ہے (وفات : 1717ء)

    1743ء۔۔ٹامس جیفرسن۔۔امریکہ کا تیسرا صدر۔ اعلان آزادی کو قلمبند کرنے کا اعزاز اسی کو حاصل ہوا۔ 1784ء میں فرانس میں وزیر با اختیار مقرر ہوا۔ 1801ء سے 1807ء تک جمہوریہ متحدہ امریکا کا صدر رہا۔ اس کی صدارت کے دوران میں لوئی زیانا کی ریاست خریدی گئی اور امریکا میں بردہ فروشی خلاف قانون قرار دی گئی۔

    1805ء۔۔ہینز کرسچن اینڈرسن ڈنمارک کا ادیب جس نے بچوں کے لیے جن پریوں کی کہانیاں لکھیں چودہ سال کی عمر میں حصول روزگار کی خاطرکوپن ہیگن پہنچا۔ ابتدا میں اوپرا میں کام کیا مگر ناکام رہا۔ پھر شاعری اور افسانہ نویسی شروع کی۔ 1835ء سے بچوں کے لیے کہانیاں لکھنے لگا۔ جو بچوں سے زیادہ بڑوں میں مقبول ہوئیں۔ کہانیوں کا پہلا مجموعہ 1835ء میں چھپا۔

    1840ء۔۔ایملی زولا پیرس فرانس میں 2 اپریل 1840ء کو پیدا ہوا۔اس کا بچپن، لڑکپن اور جوانی کے کچھ سال ایکس۔این کے صوبے میں گزرے جو اس کے ناولوں میں Plassans کے نام سے جانا جاتا ہے۔ 1858ء میں ایملی زولا پیرس آیا۔ اس کا باپ اٹلی کا اور ماں فرانس کی تھی۔ 1862ء تک اس نے فرانس کی شہریت نہ لی تھی۔ زولا کا ابتدائی زمانہ بہت غربت میں گزرا۔ بہت سے محکموں میں کلرکی کی۔ آخر کار Therese Raquin نامی اخبار سے منسلک ہو گیا جس سے اسے پیسہ بھی ملا اور شہریت بھی۔ اسی عرصے میں اسے A.G Melley مل گئی جس سے اس نے 1870ء میں شادی کر لی۔ یہ شادی اچھی ثابت نہ ہوئی۔ زولا نے نیچرلسٹ تحریک کی سربراہی کی اور اپنی کہانیاں موپساں اور دوسرے دو لکھنے والوں کے ساتھ مل کر چھپوائیں اور مسلسل اس تحریک کو آگے بڑھانے کے لیے کام کرتا رہا۔ زولا 1902ء میں فوت ہوا۔ اس کی موت ایک مستری کی نااہلی کی وجہ سے ہوئی۔ مستری اس کے بیڈروم کی چمنی ٹھیک کرنے آیا۔ چمنی درست کی لیکن اس کے بند پائپ کو صاف کرنا بھول گیا۔ کوئلوں کی ساری گیس کمرے میں بھر گئی اور زولا صبح تک دم گھٹنے سے مر گیا۔ زولا کی زندگی کا ایک سنسنی خیز واقعہ 1898ء میں ہوا جو اس کی تخلیقی زندگی پر بہت اثر انداز ہوا۔ یہ فرانس کے صدر کے نام ایک کھلا خط تھا جو L.Aurore نامی اخبار کے پہلے صفحے پر چھپا۔ یہ فرانس کی فوجی انتظامیہ کی کرپشن کی نشان دہی تھی۔ اس خط نے فرانسیسیوں کو دو گروہوں میں تقسیم کر دیا، دنیا میں بدنامی الگ ہوئی۔ حکومت نے زولا کے اس خط کا سختی سے نوٹس لیا اور اس پر مقدمہ قائم کر دیا۔ عدالت نے زولا کو ایک سال کی سزا سنا دی۔ زولا انگلستان بھاگ گیا اور وہاں جا کر سیاسی پناہ لے لی۔ یہ سارا ہنگامہ ایک یہودی کیپٹن Drey Fus کے بارے میں تھا جسے ایک سازشی جال میں پھنسایا گیا تھا اور زولا نے اس کی مدد کی تھی۔ سال کے بعد جب کیپٹن کے خلاف مقدمہ واپس لے لیا گیا اور اسے پورے اعزازات سمیت بری کر دیا گیا تو زولا واپس پیرس آ گیا اور اپنی 20 ناولوں کی سیریز پوری کرنے لگا۔ 20 ناولوں کی سیریز The Rougon Maequqrt کا نام ہے۔ ان ناولوں میں ابھرنے والے کردار ایک ہی خاندان کی نسل سے تعلق رکھتے ہیں اور ناولوں میں کبھی کم اور کبھی دیر تک سامنے رہتے ہیں یا کبھی کبھی ایسا بھی ہوا ہے کہ ایک ہی کردار کی زندگی کے واقعات ناول کا حصہ بنا لیے گئے ہیں۔ زولا نے ہمیشہ سچائی اور انصاف کے حق میں آواز اٹھائی اور مخالف قوتوں سے مقابلہ کیا۔ زولا کہا کرتا تھا کہ ’’ میں نے ہمیشہ سچ اور انصاف کا ساتھ دیا ہے۔ میری صرف ایک ہی آرزو اور خواہش ہے کہ جو لوگ اندھیرے میں جی رہے ہیں انہیں روشنی میں لایا جائے۔ جو دکھ میں سانس لے رہے ہیں انہیں خوشی دلائی جائے۔ یہ میری روح کی آواز ہے۔ اگر یہ جرم ہے تو دن کی روشنی میں میرے خلاف مقدمہ چلایا جائے۔‘‘ فرانس کی حکومت کو یہ بات پسند نہ تھی۔ اس پر مقدمہ چلا لیکن جب سچائی سامنے آئی تو حکومت کو ہار ماننا پڑی۔ حکومت نے اندر ہی اندر زولا کو سزا دی۔ اس سزا کا انکشاف دس سال بعد ہوا۔ دس سال بعد زولا کے گھر کی چمنی ٹھیک کرنے والے مستری نے اس راز سے پردہ اٹھایا اور کہا کہ سیاسی وجوہات پر میں نے ہی زولا کے گھر کی چمنی کو بند کیا تھا جس سے گیس زولا کے کمرے میں بھر گئی تھی اور زولا کی موت واقع ہوئی تھی۔زولا کی موت 29 ستمبر 1902 کو ہوئی تھی۔

    1902ء بڑے غلام علی خان، پٹیالا گھرانے سے تعلق رکھنے والے ہندوستانی کلاسیکی گلوکار (وفات : 1968ء)

    1942ء۔۔ولفریڈ جیرالڈ ریبمبس (وفات- 9 مارچ 2010ء) ایک منگلورائی گلوکار اور گیت کار تھے جو وِلِفی رِبِمس کے نام سے زیادہ مشہور ہیں۔ ولفی ریبمس اپنی کوکنی اور تولو زبانوں کے نغمہ ساز کے لیے مشہور تھے۔ وہ مقبول طور پر کوکن کوگل کے نام سے مشہور ہیں جس کے معنی کوکن کی کوئل ہے

    1949ء پامیلا ریڈ، امریکی فلمی اداکارہ

    1969ء اجے دیوگن، بھارتی اداکار

    1969ء۔۔۔انجینئر شوکت اللہ خان پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے سابقہ گورنر ہیں جنہیں صدر پاکستان آصف علی زرداری نے راجا پرویز اشرف کی ہدایت پر 11 فروری 2013ء کو تعینات کیا

    1981ء مائیکل کلارک، آسٹریلوی کرکٹر

    1981 ء ۔۔کپل شرما ایک بھارتی اسٹینڈ اپ کامیڈین ،اداکار، ٹی وی میزبان، پروڈیوسر اور موسیقار ہیں۔ کپل شرما کا ایک شو ہے جس کا نام دہ کپل شرما شو ہے یہ شو ہر ہفتہ اتوار کو سونی ٹی وی چینل پر آتا ہے جس میں بہت سے فلمی اداکار اور بہت سے سیلیبریٹ شرکت کرتے ہیں

    1986ء ابراهیم آفیلای، ڈچ پیشہ ور فوٹبالر جو بطور اٹیکینگ مڈفیلڈر ایف سی بارسلونا کے لیے کھیلتا ہے۔

    1990ء گریما چودھری، بھارتی جوڈوکا، اس نے بھارت کو ملک کی واحد جوڈوکا کے طور پر 2012ء گرمائی اولمپکس میں خواتین کے 63 کیلو زمرے میں نمائندگی کی۔

    1969ء آغا نیاز مگسی اردو، سندھی، بلوچی اور براہوی زبان کے ادیب، شاعر ، محقق اور کالم نگار
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تلاش ، ترتیب و ترسیل : آغا نیاز مگسی

  • 02 اپریل   تاریخ کے آئینے میں

    02 اپریل تاریخ کے آئینے میں

    02 اپریل تاریخ کے آئینے میں.
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    1669ء مغل حکمراں اکبر نے جذیہ ختم کیا۔

    1745ء آسٹریا اور باویریا کے درمیان امن معاہدہ طے ہوا۔

    1801ء کوپن ہیگن میں برطانوی بیڑے نے ڈینمارک کے بیڑے کو برباد کر دیا۔

    1905ء مصر کی راجدھانی قاہرہ اور جنوبی افریقہ کے کیپ ٹاون کے درمیان ریل چلنی شروع ہوئی۔

    1921ء البرٹ آئنسٹائن نے اپنے نئے نظریہ اضافیت (Theory of Relativity) پر نیویارک شہر میں لیکچر دیا۔

    1930ء ہیل سلیسی حبشہ کے شہنشاہ بن گئے۔

    1942ء کانگریس نے کرپس مشن کی تجویز کو خارج کیا۔

    1945ء سوویت یونین اور برازیل کے درمیان سفارتی تعلقات بحال ہوئے۔

    1971ء۔۔سابق وزیر اعظم پاکستان نواز شریف نے کلثوم نواز سے پسند کی شادی کی۔

    1978ء۔۔۔پاکستان نے ہاکی کا عالمی کپ جیتا ٭مارچ 1978ء میں ہاکی کا چوتھا عالمی کپ ٹورنامنٹ ارجنٹائن کے شہر بیونس آئرس میں منعقد ہوا۔ اس ٹورنامنٹ میں 14 ممالک کی ٹیموں نے حصہ لیا۔ پاکستانی ٹیم کی قیادت اصلاح الدین نے کی جبکہ نائب کپتان شہناز شیخ اور منیجر عبدالوحید تھے۔ پاکستان پول بی کے تمام ممالک کو شکست دے کر بآسانی سیمی فائنل میں پہنچ گیا جہاں اس کا مقابلہ مغربی جرمنی سے ہوا۔ میچ کا فیصلہ فاضل وقت میں ہوا، جب میچ کے 83 ویں منٹ میں اصلاح الدین نے میچ کا واحد اور فیصلہ کن گول اسکور کیا۔ فائنل میں، جو 2 اپریل 1978ء کو کھیلا گیا، پاکستان کے مدمقابل ہالینڈ کی ٹیم تھی۔ پہلے ہاف کے اختتام تک میچ 1-1 سے برابر تھا۔ دوسرے ہاف میں ہالینڈ ایک اور پاکستان دو گول کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ یوں پاکستان نے 7 برس بعد، ہاکی کا عالمی کپ دوسری مرتبہ جیت لیا۔ پاکستان کی جانب سے اصلاح الدین، اختر رسول اور احسان اللہ نے گول بنائے جبکہ ہالینڈ کی طرف سے ٹائیز کروزے اور پال لٹجن گول کرنے میں کامیاب ہوئے۔ اس ٹورنامنٹ میں پاکستان کی مجموعی کارکردگی بہت شاندار رہی، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ پورے ٹورنامنٹ میں پاکستان نے 35 گول اسکور کئے تھے جبکہ اس کے خلاف صرف 4 گول اسکور کیے جاسکے تھے۔

    1982ء آرجنٹین نے فاکلینڈز آئلینڈز پر حملہ کر دیا۔

    1992ء پیئیر بیریگووی فرانس کے وزیراعظم بن گئے۔

    1997ء سمیتا سینا نے اپنے جسم پر سے 3200؍کلو گرام وزنی ٹرک کو گذار کر ریکارڈ قائم کیا۔

    2 اپریل 2005ء کو پاکستان کے قدیم تربیتی ادارے کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج، کوئٹہ کے قیام کی سوویں سالگرہ منائی گئی۔ یہ کالج یکم اپریل 1905ء کو بمبئی کے نزدیک دیولائی کے مقام پر قائم ہوا تھا اور 1907ء میں اسے کوئٹہ منتقل کردیا گیاتھا۔ اس موقع پر پاکستان کے محکمہ ڈاک نے پانچ روپیہ مالیت کا ایک ڈاک ٹکٹ جاری کیا۔ اس ڈاک ٹکٹ پر قدیم اور جدید دونوں عمارتوں کی منظر کشی کی گئی تھی اور 1905 2005 100 YEARS OF EXCELLENCE COMMAND & STAFF COLLEGE QUETTA کے الفاظ تحریر تھے ۔ اس ڈاک ٹکٹ کا ڈیزائن کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج، کوئٹہ نے فراہم کیا تھا۔

    تعطیلات و تہوار :
    ۔”””””””””””””””””

    بچوں کی کتابوں کا عالمی دن

    1970ء قطر نے برطانیہ سے آزادی حاصل کی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تلاش ، ترتیب و ترسیل: آغا نیاز مگسی