Baaghi TV

Tag: تاریخ

  • 01 اپریل  تاریخ کے آئینے میں

    01 اپریل تاریخ کے آئینے میں

    01 اپریل تاریخ کے آئینے میں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    1826ء سیمیول مارلی نے انٹرنل کمبسشن انجن کو پیٹنٹ کرایا۔

    1867ء سنگاپور، پینانگ اور ملکا کے علاقہ برطانیہ کی کالونی بنے۔

    1878ء کلکتہ میوزیم کی نئی عمارت کو عوام کے لئے کھولا گیا۔

    1881ء یروشلم میں یہودیوں کے خلاف فساد بھڑکا۔

    1891ء لندن اور پیرس کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ شروع ہوا۔

    1893ء جاپان میں انسین آتش فشاں کے پھٹنے سے 53؍ افراد ہلاک ہو گئے۔

    1912ء کلکتہ کی بجائے پرانی دہلی کو ہندوستان کا دارالحکومت بنایا گیا اور دہلی کو ایک صوبہ قرار دیا گیا۔

    1930ء ہندوستان میں شادی کے لئے لڑکیوں کی کم از کم عمر چودہ اور لڑکوں کی اٹھارہ سال کی گئی۔

    1931ء نکاراگوا کے ماناگوا کے علاقے میں زلزلہ سے دو ہزار افراد کی موت ہو گئی۔

    1933ء کراچی میں ہندوستانی فضائیہ قائم کی گئی۔

    1937ء اردن برطانیہ کی کراؤن کالونی بن گیا۔

    1949ء نیو فاؤنڈ لینڈ کینیڈا کا حصہ بن گیا۔

    1976ء اسٹیو جابز اور اسٹیو وزنیاک نے ایپل کمپیوٹر بنایا ۔

    1979ء ایران میں رائے شماری میں 98٪ ووٹ کے بعد شاہ کو برطرف کر دیا اور ایران اسلامی جمہوریہ بن گیا۔

    1997ء پاکستان کی قومی اسمبلی نے آئین کی 13ویں ترمیم منظور کر لی جس کے تحت 8ویں ترمیم کو ختم کر کے مکمل پارلیمانی نظام بحال کر دیا گیا۔

    2008ء پاکستان کرکٹ بورڈ نے شعیب اختر پر پانچ سال کے لئے پابندی لگا دی۔

    یکم اپریل2012 ء کو پاکستان کے محکمہ ڈاک نے ایشین پیسیفک پوسٹل یونین کے قیام کی پچاس ویں سالگرہ کے موقع پر آٹھ روپے مالیت کا ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا۔ اس ڈاک ٹکٹ پر انگریزی میں 50 YEARS OF ASIAN – PACIFIC POSTAL UNION (APPU) 1962 -2012 اور Taking POST into the future کے الفاظ تحریر تھے۔ اس ڈاک ٹکٹ کا ڈیزائن پاکستان سیکورٹی پرنٹنگ پریس کے ڈیزائنرعادل صلاح الدین نے تیار کیا تھا۔

    تعطیلات و تہوار :
    ۔””””””””””””””””””

    دنیا بھر میں لوگوں کو بیوقوف بنانے کا دن اپریل فول ڈے منایا جاتا ہے جو کہ اسلامی نقطہ نگاہ سے حرام ہے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تلاش ، ترتیب و ترسیل : آغا نیاز مگسی

  • 31 مارچ کو پیدا ہونے والی چند مشہور شخصیات

    31 مارچ کو پیدا ہونے والی چند مشہور شخصیات

    31 مارچ کو پیدا ہونے والی چند مشہور شخصیات

    822ء أبو الفضل جعفر المتوکل علی اللہ، دسواں عباسی خلیفہ (وفات : 861ء)

    1504ء لہنا جی المعروف اَنگد دیو یا گرو اَنگد، سکھوں کے دس گرؤں میں سے دوسرے گرو، گرو اَنگد دیوتا مہاراج جی بہت ہی ہنرمند شخصیت کے مالک تھے۔ پیدائش پر ان کا نام لہنا جی رکھا گیا۔ ان کا جنم سرائے نگا نام کے گاؤں میں ہوا جو پنجاب کے ضلع مکتسر میں واقع ہے۔ رواج کے مطابق دیوی لہنہ کے نام پر نام رکھا گیا۔ باپ کا نام پھیرو تھا اور وہ ایک چھوٹے دکان دار تھے-انکی ماں کا نام ماتا رامو تھا (یہ بھی ماتا سبہیرائے کے نام سے منصوب تھا۔ تاہم عام طور بر یہ منسا دوی اور دیا کؤر کے روپ میں جانی جاتیں تھیں- (وفات : 1552ء)

    1732ء آسٹریائی موسیقار، نغمہ ساز، پیانو نواز (وفات : 1809ء)

    1811ء روبرٹ بنسن، جرمن کیمیا دان (وفات : 1899ء)

    1865ء آنندی گوپال جوشی، پہلی بھارتی خاتون تھیں، جنہوں نے ڈاکٹری کی ڈگری لی (وفات : 1887ء)

    1890ء ولیم لارنس براگ، نوبل انعام (1915ء) یافتہ برطانوی طبیعیات دان، انھوں نے یہ انعام ولیم ہنری براگ کے ساتھ مشترکہ جیتا جس کی وجہ قلمی ساخت کو ایکس رے کے ذریعے دیکھنے کی ان کی مشترکہ کوششیں تھیں۔ (وفات : 1971ء)

    1906ء سن اٹیرو ٹومو ناگا، نوبل انعام (1965ء) یافتہ جاپانی طبیعیات دان۔ انہیں یہ انعام امریکی سائنسدانوں جولیان سکونگر اور رچرڈ فلپ فے مین کے ساتھ مشترکہ دیا گیا۔ اس کی وجہ کوانٹم الیکٹرونکس (Quantum Electronics) سے جڑے ان کے کام تھے جس کی وجہ سے اوسکیلیٹر اور ایمپلی فائیر کی تخلیق ممکن ہوئی ۔ (وفات : 1979ء)

    1914ء اوکٹاویو پاز، نوبل انعام (1990ء) یافتہ میکسیکن ادیب (پیدائش : 1998ء)

    1934ء کارلو روبیا، اٹالین طبیعیات دان۔ انھوں نے طبیعیات کا نوبل انعام بھی جیتا یہ انعام 1984ء میں انھوں نے نیدر لینڈ کے سائنس دان سم ونڈر میر کے ہمراہ ڈبلیو زیڈ زرات کی دریافت پر یہ انعام ملا۔

    1943ء کرسٹوفر کالکن، امریکی اداکار

    1948ء ایل گور، نوبل امن انعام (2007ء) یافتہ امریکی وکیل اور سیاستدان اور 45 ویں امریکی نائب صدر (20 جنوری 1993ء تا 20 جنوری 2001ء)

    1970ء آلینکا براتوشیک، سلووینیا کی پہلی اور مجموعی طور پر نویں وزیرِ اعظم (20 مارچ 2013ء تا 18 ستمبر 2014ء)

    1983ء ہاشم محمد آملہ، جنوبی افریقی کرکٹ کھلاڑی

    1984ء راکشیتا، بھارتی فلمی اداکارہ

    1987ء سنتوشی، بھارتی فلمی اداکارہ

    31 مارچ 1919ء اردو کے ممتاز ادیب اور صحافی آغا بابر کی تاریخ پیدائش ہے۔ آغا بابر کا اصل نام سجاد حسین تھا اور وہ بٹالہ ضلع گورداس پور میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ گورنمنٹ کالج لاہور اور پنجاب یونیورسٹی فارغ التحصیل تھے۔ ابتدا میں انہوں نے فلموں میں مکالمہ نویس کے طور پر کام کیا اور قیام پاکستان کے بعد آئی ایس پی آر کے جریدے مجاہد اور ہلال کے مدیر رہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد وہ امریکا چلے گئے اور عمر کا باقی حصہ انہوں نے وہیں بسر کیا۔ آغا بابر اردو کے اہم افسانہ نگاروں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کے افسانوی مجموعوں میں چاک گریباں، لب گویا، اڑن تشتریاں، پھول کی کوئی قیمت نہیں، حوا کی کہانی اور کہانی بولتی ہے کے علاوہ ڈراموں کے تین مجموعے بڑا صاحب، سیز فائر اور گوارا ہو نیش عشق شامل ہیں۔ انہوں نے اپنی سوانح حیات بھی لکھنی شروع کی تھی مگر وہ ان کی وفات کی وجہ سے ادھوری رہ گئی۔ آغا بابر مشہور دانشور عاشق حسین بٹالوی اور اعجاز حسین بٹالوی کے بھائی تھے۔ 25 ستمبر 1998ء کو آغا بابر نیویارک میں وفات پاگئے۔وہ نیویارک ہی میں آسودۂ خاک ہیں۔

    عالم دین، مبلغ اسلام اور سیاسی رہنما مولانا شاہ احمد نورانی 31 مارچ 1926ء کو میرٹھ (یو پی) میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد علامہ شاہ عبدالعلیم صدیقی، اعلیٰ حضرت شاہ احمد رضا خان بریلوی کے خلیفہ مجاز تھے۔ شاہ احمد نورانی نے حفظ قرآن اور درس نظامی کی تکمیل کے بعد نیشنل عربک کالج میرٹھ سے گریجویشن کیا اور الٰہ آباد یونیورسٹی سے فاضل عربی کی ڈگری حاصل کی۔ علامہ شاہ عبدالعلیم صدیقی اپنے وقت کے عظیم مبلغ تھے۔ ان کی وفات کے بعد یہ فریضہ شاہ احمد نورانی نے سنبھال لیا۔ وہ 1953ء سے 1964ء تک ورلڈ مسلم علما آرگنائزیشن کے سیکریٹری جنرل رہے۔ انہوں نے 1953ء اور 1974ء کی ختم نبوت تحریک میں فعال حصہ لیا۔ 1970ء میں وہ جمعیت علمائے پاکستان کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ 2003ء میں وہ ایم ایم اے کے ٹکٹ پر سینٹ آف پاکستان کے رکن بنے تھے اور اپنی وفات کے وقت بھی سینٹ کے رکن تھے۔ ٭11 دسمبر 2003ء کو مولانا شاہ احمد نورانی اسلام آباد میں وفات پاگئے۔ مولانا شاہ احمد نورانی کراچی میں حضرت عبداللہ شاہ غازیؒ کے مزار کے احاطے میں آسودۂ خاک ہیں۔

  • 31 مارچ  تاریخ کے آئینے میں

    31 مارچ تاریخ کے آئینے میں

    31 مارچ تاریخ کے آئینے میں

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    1774ء ہندستان میں پوسٹل سروس کا آغاز۔

    1767ء ممبئی میں پراتھنا سوسائٹی کی تشکیل ہوئی۔

    1870ء امریکہ میں پہلی بار کسی سیاہ فام شہری نے ووٹ دیا۔

    1889ء پیرس کے مشہور ایفل ٹاور کو سرکاری طور پر کھولنے کا اعلان کیا گیا۔

    1917ء امریکہ نے 25؍ ملین ڈالر میں ڈینش ویسٹ انڈیز خریدا اور اس کا نام ورجن آئی لینڈ رکھا۔

    1933ء ہٹلر نے جرمنی کا اقتدار سنبھالا۔

    1946ء دوسری عالمی جنگ کے بعد یونان میں پہلی بار پولنگ ہوئی۔

    1959ء تبت کے روحانی لیڈر دلائی لامہ کو ہندستان میں سیاسی پناہ ملی۔

    1964ء ممبئی میں آخری بار الیکٹرک ٹرام چلی۔

    1966ء سوویت روس نے پہلا چندریان لونا 10؍ لانچ کیا۔

    1979ء مالٹا کی آزادی کا دن۔ برطانوی فوجوں کے آخری دستے کا انخلا ہوا۔

    1983ء كولمبيا میں زلزلے سے تقریبا 5000 افراد ہلاک ہو گئے۔

    31 مارچ 2008ءکو یوسف رضاگیلانی کی 24 رکنی وفاقی کابینہ نے حلف اٹھایا جس میں 11کا تعلق پیپلز پارٹی، 9 کا تعلق مسلم لیگ نون ، دو کاتعلق اے این پی، ایک کا تعلق جے یوآئی اور ایک کا تعلق فاٹا سے تھا۔ وفاقی کابینہ سے پرویزمشرف نے صدرکی حیثیت سے حلف لیا تھا۔ پیپلز پارٹی کی طرف سے حلف اٹھانے والوں میں شاہ محمود قریشی، شیری رحمان، خورشید شاہ، راجہ پرویز اشرف، فاروق ایچ نائیک، نوید قمر، احمد مختار، قمرالزمان کائرہ، ہمایوں عزیز، نذر محمدگوندل اور نجم الدین خان شامل تھے۔پاکستان مسلم لیگ ن کی طرف سے حلف اٹھانے والوں میں چوہدری نثار علی خان، اسحاق ڈار، خواجہ آصف، احسن اقبال، سردار مہتاب احمد خان، خواجہ سعد رفیق، رانا تنویر، شاہد خاقان عباسی اور بیگم تہمینہ دولتانہ شامل تھے۔فروری 2008 کے عام انتخابات کے بعد پیپلزپارٹی نے مسلم لیگ ن، متحدہ قومی موومنٹ، عوامی نیشنل پارٹی اور جے یو آئی ف کے ساتھ صوبوں اور وفاق میں مخلوط حکومت قائم کی اور 31 مارچ 2008 کو سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے 24 رکنی وفاقی کابینہ سے حلف لیا۔لیکن12 مئی 2008 کو مسلم لیگ ن وفاقی کابینہ سے الگ ہو گئی۔

    31 مارچ 2006ء کو حکومت نے پاکستان کے سب سے بڑے صنعتی یونٹ پاکستان سٹیل ملز کے 75 فیصد (ایک ارب 68 کروڑ) حصص 21 ارب 68 کروڑ پاکستانی روپے میں فروخت کر کے اس کی نجکاری کر دی تاہم خریداروں کی شناخت کے بارے میں کافی اختلافات اور ابہام پیدا ہو گئے۔ نجکاری کمیشن نے نجکاری سے پہلے اور بعد بولی دینے والوں کے اور خریداروں کے جو نام ظاہر کیے تھے ان میں اختلاف پایا گیا تھا۔ علاوہ ازیں ادارہ کی مزدور یونینز بھی نجکاری کے عمل سے خائف تھیں۔ نتیجۃ اس فروخت کو پیپلز مزدور یونین اور پاکستان وطن پارٹی کے بیریسٹر ظفراللہ خان نے سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا۔ 24 مئی، 2006ء کو چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں عدالت عظمٰی کے نو رکنی بنچ نے حکم امتناعی جاری کر کے نئی انتظامیہ کو ملز کا کنٹرول سنبھالنے سے روک دیا۔ بعد ازاں، 15 جون، 2006ء اسی بنچ نے نجکاری کو کالعدم قرار دے دیا۔ یہ پاکستان کے حق میں ایک بہت فیصلہ تھا۔

    31مارچ2003ء کو پاکستان کونسل آف سائنٹفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ کی گولڈن جوبلی کے موقع پر پاکستان کے محکمہ ڈاک نے ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا جس کی مالیت چار روپے تھی۔ اس ڈاک ٹکٹ پراس ادارے کا لوگو بنا تھا اور انگریزی میں PIONEERS IN INDUSTRIAL RESEARCH, PAKISTAN COUNCIL OF SCIENTIFIC AND INDUSTRIAL RESEACH, GOLDEN JUBILEE 50 1953-2003 کے الفاظ تحریر کیے گئے تھے۔ اس ڈاک ٹکٹ کا ڈیزائن پاکستان اکیڈمی ٓف سائنسزنے فراہم کیا تھا۔

    2011ء۔۔چارسدہ میں جمعیت علمائے اسلام کے امیر مولانا فضل الرحمن پہ خود کش حملہ ۔12 شہید۔مولانا فضل الرحمن محفوظ رہے۔

    2017 ء۔۔کرم ایجنسی کے ہیڈ کوارٹر پارا چنار کے وسط میں نور مارکیٹ کے قریب واقع مرکزی امام بارگاہ کے دروازے پر بارود سے بھری گاڑی سے حملہ۔25 جان بحق ۔95 زخمی۔مظاہرین پہ فائرنگ سے 3 مزید جان سے گئے۔

    2014ء۔۔سابق فوجی آمر پرویز مشرف پہ آرٹیکل چھ کے تحت فرد جرم عائد کی گئی ۔

    *تعطیلات و تہوار

    مالٹا کی آزادی کا دن
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تلاش و ترسیل: آغا نیاز مگسی

  • 30 مارچ کو وفات پانے والی چند مشہور شخصیات

    30 مارچ کو وفات پانے والی چند مشہور شخصیات

    30 مارچ کو وفات پانے والی چند مشہور شخصیات

    1180ء المستضی بامر اللہ حسن بن یوسف ، خلافت عباسیہ کا (18 دسمبر 1170ء تا 27 مارچ 1180ء) 33واں خلیفہ ، مستضی کے دور میں صلاح الدین ایوبی نے دنیائے اسلام میں شہرت پائی۔ مستضی کی بیماری کے دوران ہی الناصرالدین اللہ کی خلافت کی بیعت کر لی گئی۔ (پیدائش: 23 مارچ 1142ء)

    1664ء گرو ہرکرشن بمعروف بال گرو یعنی بچہ گرو ، سکھوں کے دس میں سے آٹھویں سکھ گرو۔ گرو ہرکشن کو 5 سال کی عمر میں ہی اپنے باپ گرو ہررائے کے مرنے کے بعد 7 اکتوبر 1661ء کو گرو بنایا گیا۔ وہ 8 سال کی عمر میں دہلی میں پھیلنے والی وبا کی وجہ سے مر گئے۔ اُن کا گرو ہونے کا دور صرف 2 سال 5 ماہ اور 24 دن ہے۔ (پیدائش : 23 جولائی 1656ء)

    1813ء جوہان فریڈرک ہینرٹ ، جرمن ریاضی دان، ماہر فلکیات، استاد جامعہ (پیدائش : 19 اکتوبر 1733ء)

    1842ء میری وجی لی برن ، فرانسیسی مصورہ (پیدائش: 16 اپریل 1755ء)

    1949ء فریڈرخ برجیاس ، نوبل انعام برائے کیمیاء (1931ء) یافتہ جرمن کیمسٹ و استاد جامعہ ، جس نے کوئلے سے توں ایندھن بنانے کا طریقہ ایجاد کیا۔ انہیں یہ انعام جرمن کیمیاء دان کارل بوش کے ساتھ مشترکہ طور پر دیا گیا ۔ (پیدائش : 11 اکتوبر 1884ء)

    1950ء لیون بلوم ، فرانسیسی صحافی، ادبی تنقیدنگار و سیاستدان ، فرانسیسی سوشلسٹ پارٹی کا لیڈر اورفرانس کا پہلا سوشلسٹ وزیر اعظم ، 1946ء میں چند ہفتے وزیر اعظم رہا۔ پھر اقوام متحدہ میں فرانسیسی مندوب مقرر کیا گیا۔ (پیدائش: 9 اپریل 1872ء)

    1961ء سید حسین بروجردی یا سید حسین بن علی طباطبائی بروجردی ، شیعہ مجتہد ،آیت اللہ اور مرجع تقلید ، سید حسین طباطبائی کا شجرہ نسب حسن مثنی، امام حسن بن علی بن ابی طالب سے ملتا ہے۔ سید حسین طباطبائی 15 سال کی عمر میں دنیا کے تمام شیعوں کے اکیلے مرجع تقلید اور مجتہد تھے اور 17 سال کی عمر میں قم کے حوزہ علمیہ کے سربراہ بنے۔ (پیدائش : 23 مارچ 1875ء)

    1965ء فلپ شوالٹر ہنچ ، نوبل انعام برائے فزیالوجی و طب (1950ء) یافتہ امریکی کیمیاء دان و استاد جامعہ (پیدائش: 28 فروری 1896ء)

    1977ء عبد الحلیم علی شبانہ المعروف عبد الحلیم حافظ ، مصری اداکار اور گلو کار ، انہیں مصری اور عربی موسیقی کے چار بڑوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے، جن میں عبد الحلیم حافظ، ام کلثوم، محمد عبدالوہاب اور فرید الاطرش شامل ہیں۔ (پیدائش: 21 جون 1929ء)

    1972ء۔۔۔حافظ محمد صدیق الماس رقم ٭ پاکستان کے نامور خطاط حافظ محمد صدیق الماس رقم 15 اگست 1907ء کو جامکے چیمہ، گوجرانوالہ میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے فن خطاطی کی تعلیم حکیم محمد عالم گھڑیالوی سے حاصل کی اور بہت جلد خود بھی نامور خطاطوں میں شمار ہونے لگے۔ 1934ء میں انہوں نے علامہ اقبال کی کتاب زبورعجم کی خطاطی کی جس کے بعد مولانا ظفر علی خان نے ان سے اپنی کئی کتابوں کی خطاطی بھی کروائی اورانہیں خطاط العصر کا خطاب عطا کیا۔ حافظ محمد صدیق الماس رقم کو زبورعجم کے علاوہ جن مشہور کتابوں کی خطاطی کا اعزاز حاصل ہوا ان میں علامہ عنایت اللہ مشرقی تذکرہ اور حفیظ جالندھری کا شاہنامہ اسلام شامل تھے۔ 30 مارچ 1972ء کو حافظ محمد صدیق الماس رقم انتقال کرگئے۔ حافظ محمد صدیق الماس رقم لاہور میں حضرت طاہر بندگی کے مزار کے احاطے میں آسودۂ خاک ہیں۔

    1987ء علامہ احسان الہی ظہیر، عالمِ دین اور خطیب اِسلام۔علامہ احسان الہی ظہیر بن حاجی ظہور الہی ظہیر 31 مئی 1941 کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے ۔

    ابتدائی تعلیم حفظِ قرآن سے لے کردرسِ نظامیہ اور عالم فاضل تک جامعہ اسلامیہ گوجرانوالہ اور جامعہ سلفیہ فیصل آباد سے حاصل کیں،اعلیٰ تعلیم کے لیے اسلامک یونیورسٹی مدینہ منورہ تشریف لے گئے، سن 1969 میں ممتاز ڈویژن سے پاس ہوکر وطن آ گئے اورجامعہ پنجاب سے چھ مضامین میں ایم اے کیا یعنی عربی،اردو،فارسی،فلسفۂ تاریخ،ایم او ایل(قانون)اور اسلامیات۔ ۔۔ تمام امتحانات میں اچھے نمبرات سے کامیابی حاصل کی،آپ کئی زبانوں میں یکساں مہارت رکھتے تھے. زمانۂ تعلیم ہی سے تصنیف و تالیف کا کام شروع کر دیا تھا،کم وبیش بیس ضخیم کتابیں تالیف کیں اس کے علاوہ بے شمار مقالات و مضامین لکھے،ان کی آخری کتاب قتل سے صرف آٹھ گھنٹے قبل مکمل ہوئی تھی،آپ کی چند اہم کتابوں کے نام یہ ہیں : 1-القادیانیہ دراسات و تحلیل(عربی) 2-التصوف (عربی) 3-مرزائیت اور اسلام (اردو) 4-البابیہ عرض ونقد (عربی) 5-البہائیہ نقد وتحلیل (عربی) 6-الشیعۃ والسنۃ (عربی،فارسی،انگریزی) 7-الشیعہ و اہل البیت (عربی) 8-الشیعہ و القرآن (عربی) 9-البریلویہ عقائد و تاریخ(عربی) 10-الاسماعیلیہ (عربی) ان میں سے اکثر کتب کے دس سے زیادہ ایڈیشن نکل چکے ہیں، دنیا کی کئی زندہ زبانوں میں ان کتابوں کے ترجمے ہوئے ہیں۔ عربی، اردو، فارسی، انگریزی کے علاوہ ترکی، تھائی، انڈونیشی اور مالدیپی زبانوں میں ان کی کئی کتابیں کئی بار اور کئی کئی ترجموں کے ساتھ نکل چکی ہیں،”الشیعۃ والسنۃ”کے صرف انڈونیشی زبان میں تین ترجمے ہوئے، جن میں ایک پر "پیشِ لفظ” انڈونیشیا کے وزیرِ اعظم ڈاکٹر محمد ناصر نے لکھاہے۔میدانِ صحافت میں طویل عرصہ رہے اور مختلف اوقات میں ہفت روزہ "الاعتصام”ہفت روزہ "اہلِ حدیث”ہفت روزہ "الاسلام”کے مدیر رہے اور پھر اپنا ذاتی ماہنامہ "ترجمان الحدیث”نکالا،جس کے تاحیات مدیر رہے۔علامہ احسان الہی ظہیر 23 مارچ 1987 کی شب موچی دروازہ لاہور میں جمعیۃ اہلِ حدیث کے ایک جلسے میں خطاب کر رہے تھے کہ ایک زور دار دھماکا ہوا ،جس میں آپ شدید زخمی ہوئے،فورا اسپتال لے جایا گیا،جب یہ خبر سعودی عرب پہنچی تو شاہ فہد بن عبدالعزیز ابن سعود کے حکم سے ریاض منتقل کیا گیا ،مگر ہزار کوششوں کے باوجود آپ جانبر نہ ہو سکے اور 30 مارچ 1987 کو شہید ہو گئے۔۔ آپ کو جنت البقیع مدینہ منورہ میں ہزاروں علما مشائخ اور سوگواروں کی موجودگی میں امام مالک کے قدموں میں سپردِ خاک کیا گیا۔

    2002ء سید شرافت علی المعروف صہبا لکھنوی، پاکستانی شاعر، نقاد۔ اردو کے ممتاز شاعر، ادیب اور ماہنامہ افکار کے مدیر صہبا لکھنوی کا اصل نام سید شرافت علی تھا۔ ان کا آبائی وطن لکھنؤ تھا تاہم وہ 25 دسمبر 1919ء کو ریاست بھوپال میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے بھوپال، لکھنؤ اور بمبئی سے تعلیمی مدارج طے کئے اور 1945ء میں بھوپال سے ماہنامہ افکار کا اجرا کیا۔ قیام پاکستان کے بعد وہ کراچی میں سکونت پذیر ہوئے اور یہاں 1951ء میں افکار کا دوبارہ اجرا کیا۔ افکار کے ساتھ ان کی یہ وابستگی ان کی وفات تک جاری رہی اور یہ رسالہ مسلسل 57 برس تک بغیر کسی تعطل کے شائع ہوتا رہا۔ صہبا لکھنوی کے شعری مجموعے ماہ پارے اور زیر آسماں کے نام اشاعت پذیر ہوئے جبکہ ان کی نثری کتب میں میرے خوابوں کی سرزمین (سفرنامہ مشرقی پاکستان)، اقبال اور بھوپال، مجاز ایک آہنگ، ارمغان مجنوں، رئیس امروہوی فن و شخصیت اور منٹو ایک کتاب شامل ہیں۔ ٭30 مارچ 2002ء کو صہبا لکھنوی کراچی میں وفات پا گئے۔

  • 30 مارچ کو پیدا ہونے والی چند مشہور شخصیات

    30 مارچ کو پیدا ہونے والی چند مشہور شخصیات

    30 مارچ کو پیدا ہونے والی چند مشہور شخصیات

    1135ء موسیٰ بن میمون ، اندلس سے تعلق رکھنے والے یہودی حاخام، فلسفی، طبیب، ماہر فلکیات اور تورات کے عالم تھےـ ان کو رامبام بھی کہا جاتا ہے، جو ان کے عبرانی نام کی مختصر شکل ہےـ موسیٰ بن میمون ہی وہ بیکالین یہودی فلسفی جس نے لکھا تھا "الجھن کا راہ نما” ("Guide of the Perplexed”) (وفات: 13 دسمبر 1204ء)

    1432ء سلطان محمد فاتح بمعروف محمد ثانی فاتح ۔ سلطنت عثمانیہ کے(12 فروری 1451ء تا 12 مئی 1481ء) ساتویں سلطان اور قیصر ، انہوں نے محض 21 سال کی عمر میں قسطنطنیہ فتح کر کے بازنطینی سلطنت کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ کر دیا۔ اس عظیم الشان فتح کے بعد انہوں نے اپنے خطابات میں قیصر کا اضافہ کیا۔ (وفات : 3 مئی 1481ء)

    1785ء ہنری ہارڈنج ، برطانوی فوجی افسر اور سیاستدان۔ (23 جولائی 1844ء تا 12 جنوری 1848ء) 19واں گورنر جنرل ہند، وہ پہلی انگریز سکھ جنگ کے دوران گورنر جنرل ہند بنا،۔ جنگ کریمیا میں وہ افواج کا کمانڈر ان چیف تھا۔ (وفات : 24 ستمبر 1856ء)

    1853ء ونسٹ ولیم وان گاگ ، ڈچ مصور (وفات: 19 جولائی 1890ء)

    1908ء دیویکا رانی ، بھارتی فلمی اداکارہ بمقام وشاکھا پٹنم (وفات: 9 مارچ 1994ء)

    1926ء رالف پائرے لے کاک بمعروف پیٹر مارشل ، امریکی اداکار، گلو کار اور گیم شو کا میزبان۔

    1930ء تھامس ردلے شارپ بمعروف ٹوم شارپ ، برطانوی ناول نگار و مصنف (وفات: 6 جون 2013ء)

    1938ء کلاوس مارٹن شواب ، جرمن انجینئر، ماہر معاشیات، ماہر تعلیم، استاد جامعہ

    1962ء یوکو اوگاوا ، جاپانی ناول نگار و مصنفہ

    1976ء جیسیکا کاوفیل ، امریکی اداکارہ و گلوکارہ

    1941ء وسیم سجاد،پاکستان کے سابق نگراں صدر وسیم سجاد 30 مارچ 1941ء کو جالندھر میں پیدا ہوئے۔ وہ جسٹس سجاد احمد جان کے صاحبزادے ہیں ، وسیم سجاد نے پنجاب یونیورسٹی، یونیورسٹی لاء کالج لاہور اور اوکسفرڈ یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی۔ عملی زندگی کا آغاز تدریس کے شعبے سے کیا تاہم جلد ہی قانون کے پیشے سے وابستہ ہوگئے۔ 1985ء میں وہ سینٹ آف پاکستان کے رکن منتخب ہوئے اور 24 دسمبر 1988ء کو سینٹ کے چیئر مین کے عہدے پر فائز ہوئے۔ 1991میں وہ دوسری مرتبہ سینٹ کے چیئر مین کے عہدے پر منتخب ہوئے۔ 18 جولائی 1993ء کو جب غلام اسحاق خان اپنے عہدے سے مستعفی ہوئے تو وسیم سجا د سینٹ کے چیئر مین ہونے کے ناتے پاکستان کے نگراں صدر مملکت بن گئے۔ انہوں نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے نمائندے کے طور پراگلے صدارتی انتخاب میں بھی حصہ لیا لیکن کامیاب نہ ہوسکے اور ایک مرتبہ پھر سینٹ کے چیئر مین کی ذمہ داریاں نبھانے لگے۔ وسیم سجاد 1997 ء میں تیسری مرتبہ سینٹ کے چیئر مین منتخب ہوئے ۔ دسمبر 1997ء میں جب فاروق احمد لغاری اپنے عہدئہ صدارت سے مستعفی ہوئے تو وسیم سجا د سینٹ کے چیئر مین ہونے کے ناتے ایک مرتبہ پھرپاکستان کے نگراں صدر مملکت بن گئے۔ اس مرتبہ وہ اس عہدے پر جناب رفیق تارڑ کے صدر منتخب ہونے تک متمکن رہے ۔

  • 28 مارچ کو وفات پانے والی چند مشہور شخصیات

    28 مارچ کو وفات پانے والی چند مشہور شخصیات

    28 مارچ کو وفات پانے والی چند مشہور شخصیات

    1534ء ماہم بیگم ، (21 اپریل 1526ء تا 26 دسمبر 1530ء) پہلی ملکہ مغلیہ سلطنت ہند ، مغلیہ سلطنت کے بانی ظہیر الدین بابر کی بیوی اور مغل شہنشاہ نصیرالدین ہمایوں کی والدہ تھی۔

    1552ء لہنا جی المعروف گرو انگد دیو ، دیو سکھ مذہب کے آ‎ئے دس گرؤں میں سے (7 ستمبر 1539ء تا 28 مارچ 1552ء) دوسرے ‎آنے والے گرو ، گرو اَنگد دیوتا مہاراج جی بہت ہی ہنرمند شخصیت کے مالک تھے۔ ان کا جنم پنجاب کے ضلع مکتسر کے گاؤں سرائے نگا میں ہوا ۔ رواج کے مطابق دیوی لہنہ کے نام پر نام رکھا گیا۔ باپ کا نام پھیرو تھا اور وہ ایک چھوٹے دکان دار تھے- انکی ماں کا نام ماتا رامو تھا (یہ بھی ماتا سبہیرائ کے نام سے منصوب تھا۔ تاہم عام طور بر یہ منسا دوی اور دیا کؤر کے روپ میں جانی جاتیں تھیں- (پیدائش : 31 مارچ 1504ء)

    1889ء تاج العلما علامہ مفتی سید محمد عباس موسوی لکھنوی بمعروف محمد عباس شوشتری ، برصغیر کے ایک عظیم شیعہ مجتہد اور متکلم تھے۔ (پیدائش: 15 مئی 1809ء)

    1941ء ورجینیا وولف ، برطانوی خاتون ناول نگار ، جس نے ندی میں چھلانگ لگا کر خودکشی کی ، مغربی دُنیا میں وہ غالباً پہلی ادیبہ ہیں، جس نے خواتین پر زور دیا کہ وہ محض مرد ادیبوں کی نقالی کرنے کی بجائے اپنے الگ تخلیقی راستے تلاش کریں۔ (پیدائش : 25 جنوری 1882ء)

    1947ء پروفیسر عبدالباری، بھارتی تعلیمی اور سماجی مصلح اور صدر ٹاٹا ورکس یونین 1936ء تا 1947ء (پیدائش : 1892ء)

    1969ء ڈیوائٹ ڈی آئزن ہاور ، امریکی جنرل، منصف، مدبر و سیاستدان ، (20 جنوری 1953ء تا 20 جنوری 1961ء) 34 ویں امریکی صدر (پیدائش : 14 دسمبر 1890ء)

    1982ء ولیم جیوک ، نوبل انعام برائے کیمیاء (1949ء) یافتہ امریکی کیمیاء دان، انجینئر و استد جامعہ ، جس نے مادے کی خصوصیات کو درجہ حرارت ابسولیوٹ زیرو پر کام کیا۔ (پیدائش : 12 مئی 1895ء)

    2002ء جنرل ٹکا خان ، پاکستانی جرنیل ، (6 اپریل 1971ء تا 31 اگست 1971ء) گورنر مشرقی پاکستان ، (3 مارچ 1972ء تا 1 مارچ 1976ء) 7ویں کمانڈر ان چیف پاک فوج اور پہلے چیف آف آرمی اسٹاف پاک فوج ، (دسمبر 1988ء تا اگست 1990ء) 10ویں گورنر پنجاب (پیدائش: 7 جولا‎ئی 1915ء)

    2006ء بنسی لال ، بھارتی سیاستدان ، بھارتی ہندو جاٹ آزاد سرگرم کارکن، انڈین نیشنل کانگریس کے بزرگ رہنما اور (11 مئی 1996ء تا 23 جولائی 1999ء) وزیر اعلی ہریانہ ، جدید ہریانہ کے معمار کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں۔ (پیدائش: 26 اگست 1927ء)

    28 مارچ 1947ء جدوجہد آزادی کی خاتون رہنما بیگم محمد علی جوہر کی تاریخ وفات ہے۔بیگم محمد علی جوہر کا اصل نام امجدی بانو تھا۔ وہ 1885ء میں ریاست رامپور میں پیدا ہوئیں۔ 5 فروری 1902ء کو وہ مولانا محمد علی جوہر کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئیں جو رشتے میں آپ کے عزیز تھے۔ 1919ء میں جب مولانا محمد علی جوہر کو خلافت تحریک کے سلسلے میں جیل بھیجا گیا تو بیگم محمد علی جوہرعملی سیاست سے منسلک ہوگئیں۔ اسی برس انہیں خود بھی قید و بند کی صعوبت بھی برداشت کرنی پڑی، رہائی کے بعد وہ عملی سیاست میں مکمل طور پر فعال ہوگئیں اور 1931ء میں مولانا محمد علی جوہر کی وفات کے بعد سیاسی میدان میں ان کی نیابت کرنے لگیں۔ 23 مارچ 1940ء کو آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس میں انہوں نے ہندوستان کی مسلمان خواتین کی جانب سے قرارداد لاہور کی تائید میں تقریر کی۔ وہ آل انڈیا مسلم لیگ کی پہلی رہنما تھیں جنہوں نے اس قرارداد کو قرارداد پاکستان کا نام دیا۔ ہندوستانی پریس نے طنز کے طور پر اس نام کو ایسا اچھالا کے لفظ پاکستان زبان زد خاص و عام ہوگیا اور 14 اگست 1947ء کو ہندوستان کے مسلمانوں نے اپنی طویل جدوجہد سے جو وطن حاصل کیا اس کا نام پاکستان ہی ہوگیا۔

    ٭28 مارچ 2006ء کو پاکستان کی مشہور گلوکارہ روبینہ بدر کینسر کے ہاتھوں کراچی میں وفات پاگئیں۔ ان کی عمر 50 سال تھی۔روبینہ بدر نے ریڈیو پاکستان اور پاکستان ٹیلی وژن سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا۔پاکستان ٹیلی وژن پر ان کا گایا ہوا نغمہ تم سنگ نیناں لاگے ان کے کیریئر کا ایک اہم سنگ میل سمجھا جاتا ہے۔بعدازاں انہوں نے متعدد فلموں میں بھی اپنی آواز کا جادو جگایاجن میں ایماندار، چکر باز، شوکن میلے دی، حکم دا غلام، انتظار، پردہ نہ اٹھائو، عزت اور خانزادہ کے نام سرفہرست ہیں۔

    ٭28 مارچ 1985ء کو سندھ کے مشہور ملہہ پہلوان، رستم سندھ شیر میر بحر دنیا سے رخصت ہوئے۔شیر میر بحر 21 جون 1924ء کو ضلع نوشہروفیروز کی تحصیل کنڈیارو میں پیدا ہوئے تھے۔ گائوں کے لڑکوں کے ساتھ ملاکھڑے کرتے کرتے بہت جلد وہ سندھ کے ایک مشہور ملہہ پہلوان بن گئے۔ 1962ء میں ہالا میں ایک دنگل میں انہوں نے چیکوسلواکیہ کے پہلوان جارج زیبسکو کو شکست دی اور شیر سندھ کا خطاب حاصل کیا۔ بعدازاں انہوں نے بھارت اور جاپان کے کئی نامی پہلوانوں کو بھی ہرایا۔شیر میر بحر کے فن کے قدر دانوں میں سابق والی ریاست خیرپور میر علی مراد خان تالپور، صدر فیلڈ مارشل محمد ایوب خان اور وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو بھی شامل تھے۔ وزیراعظم بھٹو نے انہیں 1974ء میں ملہہ کا قومی کوچ مقرر کیا تھا مگر ان کی حکومت کے خاتمے کے بعد شیر میر بحر کی یہ ملازمت ختم ہوگئی۔وہ گوٹھ پہلوان شیر میر بحر تعلقہ کنڈیارو ضلع نوشہرو میں آسودۂ خاک ہیں۔

  • 28 مارچ تاریخ کے آئینے میں

    28 مارچ تاریخ کے آئینے میں

    28 مارچ تاریخ کے آئینے میں

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    2005 سماٹرا میں انیس سو پینسٹھ کے بعد دوسرا بڑا زلزلہ آیا ،جس کی شدت ریکٹر اسکیل پرآٹھ اعشاریہ سات تھی۔زلزلے کے نتیجے میں ایک ہزار تین سوافراد لقمہ جل بنے۔

    1970ء۔۔ ترکی میں سات اعشاریہ چار کی شدت کا زلزلہ آیا جس کے نتیجے میں ایک ہزار چھیاسی افراد ہلاک جبکہ دوسوچوون دیہات تباہ ہوئے۔

    1854 کریمین جنگ:فرانس نے روس کے خلاف جنگ کااعلان کیا۔

    1845 میکسیکو نے امریکا سے سفارتی تعلقات منقطع کیے۔

    1738 برطانیہ نے اسپین کے خلاف جنگ کا اعلان کیا۔

    1970ء – پاکستان کے صدر یحیی خان نے لیگل فریم ورک آرڈر جاری کیا جس کو آئینی عمل کے لیے ایک لائحۂ عمل کے طور پر استعمال کیا جانا تھا۔ اس کے تحت قومی اسمبلی کی 313 نشستوں میں سے 169 نشستیں مشرقی پاکستان کو دی گئیں۔

    1977ء – ذوالفقار علی بھٹو دوسری مرتبہ پاکستان کے وزیر اعظم بنے۔

    1868 ریڈیو کے موجد مارکونی نے پہلی بار انگلینڈ سے ایک ٹیلی گراف یورپ بھیجا ۔

    1959 کو تبت میں دلائی لامہ کی حکومت کو چین نے بر طرف کرکے اپنے حمایت یافتہ پنچن لامہ کو سربراہ کا مقرر کیا ۔

    1973 کو ویت نام میں متعین آخری فوجی اپنے وطن روانہ ہوا جس سے ویت نام میں 10 ویت امریکہ جنگ اپنے اختتام کو پہنچی ۔

    28 مارچ 1968ء کو ڈھاکا میں ایسٹ پاکستان ایگریکلچریونیورسٹی کا پہلا کانووکیشن منعقد ہوا۔ اس موقع پرپاکستان کے محکمہ ڈاک نے ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا جس پر یونیورسٹی کی ایک عمارت کی تصویر بنی ہوئی تھی۔ اس ڈاک ٹکٹ کی مالیت 15پیسے تھی اور اسے پاکستان سیکیورٹی پیپرز کے ڈیزائنر سلیم غوری نے ڈیزائن کیا تھا۔

    28مارچ 1972ء کو پاکستان کے محکمہ ڈاک نے اکنامک کمیشن فار ایشیا اینڈ دی فار ایسٹ( ایکیفے) کے قیام کی پچیسویں سالگرہ کے موقع پر 20پیسے مالیت کا ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا جس پراس ادارے کا لوگو بنا تھا ۔ایشیااور مشرق بعید کی ترقی کے لیے یہ ادارہ اقوام متحدہ نے 28مارچ 1947ء کو قائم کیا تھا۔ اس ڈاک ٹکٹ کا ڈیزائن پاکستان سیکورٹی پرنٹنگ پریس کے ڈیزائنرفضل کریم نے تیار کیا تھا۔

    28 مارچ 1955 ء۔۔نیوزی لینڈ کی ٹیم صرف 26 رنز بنا کر آوٹ ہوگئی تھی .. یہ ٹیسٹ کرکٹ کا سب سے کم ترین اننگز ٹوٹل ہے .. یہ ایسا حیران کن ریکارڈ ہے کہ ایک ٹیم میں گیارہ محمد عرفان بھی بیٹنگ کے لئے بھیج دئے جائیں شائد تب بھی اس سے زیادہ سکور کر لیں .. اس میچ میں ایک حیران کن واقعہ یہ بھی پیش آیا کہ انگلینڈ کے باولر ایپل یارڈ دو بار ہیٹرک پر آئے اور دونوں بار ان کو ہیٹرک مکمل کرنے سے روکنے کا کارنامہ ( میچ کے حساب سے یہ بھی کارنامہ ہی تھا ) نیوزی لینڈ ایلکس مائر کے حصے میں آٰیا ۔نیوزی لینڈ کے ایلکس مائر ہی نے 28 مارچ 1951 کو مسلسل دو اوور پھینکے تھے یہ اپنی نوعیت کا دوسرا واقع تھا ایک اوور انہوں نے چائے کے وقفے سے پہلے پھینکا تھا اور دوسرا چائے کے وقفے کے فورا بعد ..

    28 مارچ 2005ء۔۔پاکستان نے بنگلور میں انڈیا کو شکست دے کر نا صرف سیریز برابر کی تھی بلکہ یہ انضمام الحق کا 100 واں ٹیسٹ میچ بھی تھا جسے انہوں نے شاندار 184 رنز بنا کر یادگار بھی بنا لیا تھا ۔ یہ 100 ویں ٹیسٹ میں کسی بھی کھلاڑی کی سب سے بڑی اننگز کا ریکارڈ بھی ہے .. اس میچ کی اصل بات یونس خان کا دونوں اننگز میں ٹیم کے لئے کھیلنا تھا .. پہلی اننگز میں انہوں نے 267 رنز بنائے تھے لیکن جتنے مزے سے وہ بیٹنگ کر رہے تھے بڑی آسانی سے ٹرپل سنچری بنا سکتے پر ٹیم نے اننگز ڈیکلئیر کرنی تھی اس لئے تیز کھیلنے کے چکر میں آوٹ ہوگئے ۔۔ دوسری اننگز میں وہ 84 پر ناٹ آوٹ تھے جب اننگز ڈیکلئیر کرنا پڑی۔

    تعطیلات و تہوار :
    ۔””””””””””””””””””

    جمہوریہ چیک میں یوم اساتذہ

    جمہوریہ سلواکیہ میں یوم اساتذہ

  • 27 مارچ کو پیدا ہونے والی چند مشہور شخصیات

    27 مارچ کو پیدا ہونے والی چند مشہور شخصیات

    27 مارچ کو پیدا ہونے والی چند مشہور شخصیات

    1677ء ملا نظام الدین محمد بن ملا قطب الدین سہالوی ، فاضلِ جید،عارف فنون رسمیہ، ماہر علوم نقلیہ و عقلیہ، فقیہ اصولی و بانی درسِ نظامیہ ۔ (وفات: 8 مئی 1748ء)

    1845ء ولہیلم رونٹیگن ، نوبل انعام برائے طبیعیات (1901ء) یافتہ جرمن ماہر طبعیات و استاد جامعہ ، جس نے 1895ء میں اس نے ایکس شعاع دریافت کیں۔ ان شعاعوں کو اس کے نام کی مناسبت سے رونتجن شعاع بھی کہتے ہیں ۔ (وفات: 10 فروری 1923ء)

    1847ء اوتو والاخ ، نوبل انعام برائے کیمیاء (1910ء) یافتہ جرمن کیمیاء دان و استاد جامعہ ، جس نے نامیاتی کیمیاء اور کیمیائی صنعت میں تحقیق کی اور ایک الیسائیکلک کمپاونڈ کی گئی اولین تحقیقات تھی۔ (وفات : 26 فروری 1931ء)

    1901ء ایساکو ساٹو ، نوبل امن انعام (1974ء) یافتہ جاپانی سیاستدان ، (7 نومبر 1964ء تا 9 جولائی 1972ء) 39 ویں وزیراعظم جاپان (وفات : 3 جون 1975ء)

    1942ء جان ایڈورڈ سلسٹن ، نوبل انعام برائے فزیالوجی و طِب (2002ء) یافتہ برطانوی حیاتیات دان، ماہرِ جینیات و استاد جامعہ (وفات : 6 مارچ 2018ء)

    1961ء سید سردار احمد پیرزادہ ، پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو زبان کے پہلے نابینا صحافی، دانشور، تجزیہ و کالم نگار، مقتدرہ قومی زبان کے ماہانہ جریدہ اخبار اردو کے ایڈیٹر اور ریڈیو، ٹی وی کے اینکر پرسن

    1963ء قوینٹن ٹیرنٹینو ، امریکی فلمساز

    1965ء رینوکا شاہانے ، بھارتی فلمی اداکارہ اور ٹی وی اینکر

    1970ء رانا محمود الحسن ، ملتان سے تعلق رکھنے والے پاکستانی سیاستدان، مارچ 2018ء رکنِ ایوان بالا پاکستان

    1975ء سٹیسی فرگوسن، امریکی اداکارہ و گلوکارہ

    1979ء عمران طاہر ، پاکستانی نژاد جنوبی افریقی کرکٹ کھلاڑی

    1982ء تہمینہ افضل ، پاکستانی نژاد امریکی ماڈل، اداکارہ اور گلوکارہ ، وہ کھیل کے میدان میں بھی شہرت رکھتی ہیں۔

    1987ء نور العین خالد المعروف عینی جاں عینی خالد ، پاکستانی نژاد برطانوی موسیقار اور ماڈل

  • 23 مارچ کو پیدا ہونے اور وفات پانے  والی چند مشہور شخصیات

    23 مارچ کو پیدا ہونے اور وفات پانے والی چند مشہور شخصیات

    23 مارچ کو پیدا ہونے والی چند مشہور شخصیات

    1142ء المستضی بامر اللہ حسن ، خلافت عباسیہ کا (حکومت18 دسمبر 1170ء تا 27 مارچ 1180ء) 33واں خلیفہ ، مستضی کے دور میں صلاح الدین ایوبی نے دنیائے اسلام میں شہرت پائی۔ مستضی کی بیماری کے دوران ہی الناصرالدین اللہ کی خلافت کی بیعت کر لی گئی۔ (وفات: 30 مارچ 1180ء)

    1749ء پِئیر سِیموں لاپلاس ، اثر انداز فرانسیسی عالِم ، جن کا کام ریاضیات، شماریات، طبیعیات اور فلکیات کی نشو و نما میں نہایت اہم تھا، انہیں فرانس کے نیوٹن کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ 1812ء میں لاپلاس نے شماریات (Statistics) میں کئی بنیادی نظریات پیش کئے۔ انہوں نے حسابی نظام میں امکان (probability) کی بنیاد پر استقرائی منطق (Inductive reasoning) کو پیش کیا۔ (وفات: 5 مارچ 1827ء)

    1853ء مظفر الدین شاہ قاجار ، فارس کے قاجار خاندان کا (1 مئی 1896ء تا 3 جنوری 1907ء) پانچواں شہنشاہ (وفات : 3 جنوری 1907ء)

    1858ء لڈوگ کویڈ ، نوبل امن انعام (1927ء) یافتہ جرمن کارکن، مؤرخ اور سیاستدان ۔ جو جرمن بادشاہ وہلیم دوم پر تنقید کی وجہ سے شہرت پائی ۔ (وفات: 4 مارچ 1941ء)

    1875ء سید حسین بروجردی یا سید حسین بن علی طباطبائی بروجردی ، شیعہ مجتہد ،آیت اللہ اور مرجع تقلید ، سید حسین طباطبائی کا شجرہ نسب حسن مثنی، امام حسن بن علی بن ابی طالب سے ملتا ہے۔ سید حسین طباطبائی 15 سال کی عمر میں دنیا کے تمام شیعوں کے اکیلے مرجع تقلید اور مجتہد تھے اور 17 سال کی عمر میں قم کے حوزہ علمیہ کے سربراہ بنے۔ (وفات: 30 مارچ 1961ء)

    1876ء محمد ضیاء المعروف ضیاء گوک الپ ، ترک ماہر عمرانیات، مصنف، شاعر اور سیاسی شخصیت ، 1908ء میں انقلاب نوجوانان ترک کے بعد آپ نے گوک الپ (قہرمانِ آسمانی یا آسمانی ہیرو) کا قلمی نام اختیار کیا جو تاحیات برقرار رکھا۔ (وفات : 25 اکتوبر 1924ء)

    1881ء ہرمن سٹاوڈنگر ، نوبل انعام برائے کیمیاء (1953ء) یافتہ جرمن کیمیاء دان، انجینئر و استاد جامعہ، جو پولیمر کیمیاء کے حوالے سے جانے جاتے تھے۔ (وفات : 8 ستمبر 1965ء)

    1881ء روگر ماٹن ڈو گاڈ ، نوبل ادب انعام (1937ء) یافتہ فرانسیسی ناول نگار (وفات : 22 اگست 1958ء)

    1904ء جوآن کرافورڈ ، امریکی فلمی اداکارہ، ماڈل و رقاصہ (وفات: 10 مئی 1977ء)

    1907ء ڈینئیل بوٹایک ، نوبل انعام برائے فزیالوجی اور طب (1957ء) یافتہ سوئس نژاد اطالوئی طبیب، ماہرِ دوا سازی، ماہرِ اعصابیات، حیاتی کیمیا دان، ماہرِ اسپرانٹو و استاد جامعہ ، انھوں نے ایسی ادویہ تیار کی تھی جو خاص قسم کی عصبیاتی پیغام کو روکنے کی صلاحیت رکھتی تھی۔ (وفات: 8 اپریل 1992ء)

    1910ء اکیرا کروساوا ، جاپانی ہدایتکار اور مصنف (وفات: 6 ستمبر 1998ء)

    1914ء سید رئیس احمد جعفری ندوی ، صدارتی اعزاز برائے حسن کارکردگی (1966ء) یافتہ پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو کے نامور صحافی، مؤرخ، ماہرِ اقبالیات، ناول نگار، مترجم اور سوانح نگار ، (وفات: 27 اکتوبر، 1968ء)

    1916ء ہرکشن سنگھ سُرجیت ، بھارتی کمیونسٹ سیستدان ، (1992ء تا2005ء) مارکسی کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا یعنی سی پی ایم کے سابق جنرل سیکریٹری اور سیاسی رہنما (وفات: 1 اگست 2008ء)

    1923ء شیخ مبارک علی ایاز المعروف شیخ ایاز ، ہلال امتیاز (1994ء) اور فیض احمد فیض ایوارڈ (1994ء) یافتہ سندھی شاعر و استاد جامعہ ، آپ کو شاہ عبدالطیف بھٹائی کے بعد سندھ کا عظیم شاعر مانا جاتا ہے۔ اگر آپ کو جدید سندھی ادب کے بانیوں میں شمار کیا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ آپ مزاحمتی اور ترقی پسند شاعر کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ سندھ یونیورسٹی کے وائس چانسلر بھی رہے۔ (وفات: 28 دسمبر 1997ء)

    1924ء خواجہ معین الدین ، صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی یافتہ پاکستانی ڈراما نویس جس نے اپنے ڈرامے مرزا غالب بندر روڈ پر کی وجہ سے شہرت پائی ۔ (وفات: 9 نومبر 1971ء)

    1927ء پروفیسر محمد منور مرزا ، ستارہ امتیاز یافتہ پاکستانی ماہرِ اقبالیات ، محقق ، مؤرخ ، شاعر اور اردو کے پروفیسر ( وفات : 7 فروری 2000ء)

    1933ء صوبیدار عبدالخالق المعروف پرندہ ایشیاء ، پاکستانی آرمی ریٹائرڈ کھلاڑی جس نے 1954ء کے ایشیائی کھیلوں میں 100میٹر کی دوڑ 10.6 سیکنڈز میں عبور کر کے نیا ریکارڈ قائم کیا۔ ‘فلائنگ برڈ آف ایشیا’ کا خطاب اسے جواہرلعل نہرو نے دیا۔ (وفات : 10 مارچ 1988ء)

    1935ء ڈاکٹر جگتار ، بھارت سے تعلق رکھنے والے پنجابی شاعر (وفات : 3ہ مارچ 2010ء)

    1945ء احسان مانی ، آئی سی سی کے سابق صدر اور اگست 2018ء سے 27ویں چیئرمین پی سی بی,1948ء وسیم باری ، پاکستانی کرکٹ کھلاڑی, 1964ء ہوپ ڈیوس ، امریکی اداکارہ, 1972ء سمرتی ملہوترا المعروف اسمرتی ایرانی ، بھارتی فلمی اداکارہ اور سیاست دان

    1973ء میر واعظ عمر فاروق ، مقبوضہ کشمیر کے حریت رہنما جو عوامی ایکشن کمیٹی کے سربراہ، جامع مسجد کے خطیب اور آل پارٹیز حریت کانفرنس کے اہم رہنما بھی ہیں۔

    1977ء جنید اکبر ، پاکستانی سیاستدان ، وہ (1 جون 2013ء تا 31 مئی 2018ء) قومی اسمبلی پاکستان کے رکن بھی رہے۔

    1987ء کنگنا راناوت ، بھارتی فلمی اداکارہ

    1990ء سونو ، بھارتی فلمی اداکارہ

    1929.نصرت بھٹو کی شہرت ذولفقار علی بھٹو کی دوسری بیوی کے بطور ہے۔ اس کی اولاد بینظیر بھٹو، مرتضی بھٹو، شاہنواز بھٹو، اور صنم بھٹو ہیں۔ نصرت بھٹو نسلاً ایرانی صوبہ کردستان سے تعلق رکھتی ہے۔ بھٹو کو پھانسی کے بعد پیپلز پارٹی کی سربراہ بھی رہی۔ 1996ء میں بینظیر کے حکومتی دور میں مرتضٰی کے ماروائے عدالت قتل کے بعد ذہنی توازن کھو بیٹھی اور اس کے بعد مرنے تک بےنظیر کے خاندان کے ساتھ دبئی میں مقید رہی۔ 23 اکتوبر 2011 ء اتوار کو دبئی میں انتقال کر گئی.

    1983ء – مصلح الدین صدیقی، (پیدائش۔ 1918ء)

    23 مارچ کو وفات پانے والی چند مشہور شخصیات

    1369ء پیٹر ، شاہ قشتالہ ، ظالم (ال ظالم) یا صرف (ال Justo) کے نام سے پکارا جاتا تھا۔ وہ (1350ء تا 1369ء) کاسٹایل اور لیون کا بادشاہ تھا۔ وہ آئیوریا گھرانہ کی مرکزی شاخ کا آخری حکمران تھا۔ (پیدائش : 30 اگست 1334ء)

    1827ء پئیر سیموں لاپلاس، اثر انداز فرانسیسی عالِم تھے، جن کا کام ریاضیات، شماریات، طبیعیات اور فلکیات کی نشوونما میں نہایت اہم تھا۔ وہ تمام وقت کا ایک عظیم ترین سائنس دان سمجھا جاتا ہے۔ (پیدائش : 1749ء)

    1887ء نواب کلب علی خان ، ریاست رام پور کے (21 اپریل 1865ء تا 23 مارچ 1887ء) دسویں نواب رام پور ، نواب یوسف علی خان کا فرزند ، رام پورکی جامع مسجد تعمیر کروائی۔ رضا لائبریری، رام پور کو جدید طرز پر تعمیر کروایا اور رام پور میں کتابوں کا عظیم ذخیرہ جمع کیا۔ نواب کلب علی خان کو عربی اور فارسی زبان میں کافی عبور حاصل تھا اور اسلامی دنیا کے بیشتر نادر مخطوطات اُن کی سعی سے رضا لائبریری، رام پورمیں جمع کیے گئے۔ (پیدائش: 1832ء)

    محمد علی محمد خان محب ، محمود آباد بھارت کے سیاستدان، شاعر اور (28 جون 1903ء تا 23 مارچ 1931ء) راجا محمود آباد (پیدائش: 4 جون 1878ء)

    1959ء بدیع الزماں سعید نوری ، ترک ماہر عالم دین، صوفی و محقق (پیدائش : 1878ء)

    1992ء فریڈریک آگسٹ وان ہایک ، نوبل انعام برائے معاشیات (1984ء) یافتہ آسٹریائی برطانوی ماہر معاشیات، ماہر، فلسفی، عمرانیات و استاد جامعہ ، انہیں یہ انعام سوئیڈش ماہر اقتصادیات گونر مائرڈل کے ساتھ مشترکہ طور پر دیا گیا۔ (پیدائش: 8 مئی 1899ء)

    2011ء الزبتھ ٹیلر ، برطانوی نژاد امریکی اداکارہ، (پیدائش : 27 فروری 1932ء)

    2015ء ہیری لی کوان یئو ، سنگا پوری وکیل اور سیاست دان، (3 جون 1959ء تا 28 نومبر 1990ء) وزیر اعظم سنگا پور اور (28 نومبر 1990ء تا 12 اگست 2004ء) سینئر وزیر سنگا پور ، وہ پہلے وزیراعظم سنگا پور ہیں جنہوں نے تین دہائیوں تک حکمرانی کی۔ انہیں جدید سنگاپور کا بانی مانا جاتا ہے۔ اور یہ تیسری دنیا سے واحد مثال ہے کہ صرف ایک نسل کو جدید دنیا کے مقابل لا کھڑا کیا۔ (پیدائش : 16 ستمبر 1923ء)

    1843ء۔۔ہوش محمد شیدی۔ہوشو کے والد کا نام سبھاگو اور والدہ کا نام دائی تھا . اس کے بھائی کا نام نصیبو جبکہ بہن کا نام سیتاجی تھا . یہ سندھی نام ہیں جن سے ان کی سندھ سے محبت کی ایک جھلک نظر آتی ہے ہوشو کی پیدائش اور مزار کے حوالے سے متضاد رائے ہیں مگر جو سب سے زیادہ عام ہے وہ ہے کہ ہوش محمد عرف ہوشو شیدی کی پیدائش میر فتح علی ٹالپور کے گھر ہوئی کیونکہ ہوشو شیدی کی والدہ وہاں ملازمہ تھی .

    ہوشو شیدی نے اپنا بچپن میروں کے گھر میں ہی گزارہ اور جب جوان ہوئے تو فوج میں بھرتی ہوگئے .ا س وقت سندھ میں تالپوروں کی حکومت تھی . اور ہوشو کا خاندان تالپوروں کا عقیدت مند اور وفادار تھا .ہوشو اپنی بہادری اور وفاداری کی وجہ سے جلد ہی فوج میں جرنیل کے عہدے تک پہنچ گیا . یہ وہ دور ہے جب میر فتح علی کا بیٹا میر صوبیدار سندھ کا حاکم تھا . سندھ کی خوشحالی دیکھ کر انگریزوں نے سندھ پر.قبضے کا منصوبہ بنایا . اس سلسلے میں انگریزوں نے تالپور حکومت میں سے چند غداروں کو ساتھ ملا کر میر صوبیدار کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا اور میر صوبیدار کے قریب ہوگئے جب ہوشو شیدی کو انگریزوں کی نیت پر شک ہوا اور اس نے میر صوبیدار کو انگریزوں کے منصوبے کے بارے میں بتایا تو میر صاحب نے اس پر یقین نہیں کیا. 11 جنوری 1843 کو انگریزوں نے ٹالپور حکومت پر شب خون مار دیا اور میانی کی جگہ پر پہلا معرکہ ہوا میر صوبیدار نے کوئی مزاحمت نہیں کی اور انگریزوں نے جلد ہی میر صوبیدار اور دوسرے سرداروں کو قید کرلیا .ہوشو شیدی کے لیے یہ صورتحال بہت تکلیف دہ تھی اس نے اپنے قابل اعتماد دوستوں اور بہادر سپاہیوں کو جمع کرنا شروع کردیا اور 11 مارچ 1843 کو اپنی فوج کو لیکر نکل پڑا 23 مارچ 1843 کو ہوش محمد شیدی کی فوج اور انگریزوں کی فوج کا آمنا سامنا پھلیلی واہ کے قریب ہوا ہوشو نڈر جرنیل تھا وہ نعرہ لگاتے ہوئے مرسوں مرسوں سندھ نہ ڈیسوں انگریز فوج کی صفوں میں گھس گیا اور اپنی دھرتی کی حفاظت کے لیے امر ہوگیا .

    1931ء – بھگت سنگھ، برصغیر کی جنگ آزادی کی ایک مشہور شخصیت ۔بھگت سنگھ 28 ستمبر 1907 کو ضلع لائل پور (موجودہ فیصل آباد) کے موضع بنگہ میں پیدا ہوئے۔ کاما گاٹا جہاز والے اجیت سنگھ ان کے چچا تھے۔جلیانوالہ باغ قتل عام اور عدم تعاون کی تحریک کے خونیں واقعات سے اثر قبول کیا۔ 1921ء میں اسکول چھوڑ دی اور نیشنل کالج میں تعلیم شروع کی۔ 1927ءمیں لاہور میں دسہرہ بم کیس کے سلسلے میں گرفتار ہوے اور شاہی قلعہ لاہور میں رکھےگیے۔ ضمانت پر رہائی کے بعد نوجوان بھارت سبھا بنائی اور پھر انقلاب پسندوں میں شامل ہوگیے۔ دہلی میں عین اس وقت، جب مرکزی اسمبلی کا اجلاس ہو رہا تھا انھوں نے اور بے کے دت نے اسمبلی ہال میں دھماکا پیدا کرنے والا بم پھینکا۔ دونوں گرفتار کرلیے گئے۔ عدالت نے عمر قید کی سزا دی۔1928ء میں سائمن کمیشن کی آمد پر لاہور ریلوے اسٹیشن پر زبردست احتجاجی مظاہرہ ہوا۔ پولیس نے لاٹھی چارج کیا جس میں لالہ لاجپت رائے زخمی ہو گئے۔ اس وقت لاہور کے سینئر سپرٹینڈنٹ پولیس مسٹر سکاٹ تھے۔ انقلاب پسندوں نے ان کو ہلاک کرنے کا منصوبہ بنایا۔ لیکن ایک دن پچھلے پہر جب مسٹر سانڈرس اسسٹنٹ سپرٹینڈنٹ پولیس لاہور اپنے دفتر سے موٹر سائیکل پر دفتر سے نکلے تو راج گرو اور بھگت سنگھ وغیرہ نے ان کو گولی مارکر ہلاک کر دیا۔ حوالدار جین نے سنگھ کا تعاقب کیا۔ انہوں نے اس کو بھی گولی مار دی اور ڈی اے وی کالج ہاسٹل میں کپڑے بدل کر منتشر ہو گئے۔ آخر خان بہادر شیخ عبد العزیز نے کشمیر بلڈنگ لاہور سے ایک رات تمام انقلاب پسندوں کو گرفتار کر لیا۔ لاہور کے سینٹرل جیل کے کمرۂ عدالت میں ان پر مقدمہ چلایا گیا۔ بھگت سنگھ اور دت اس سے قبل اسمبلی بم کیس میں سزا پا چکے تھے۔ مقدمہ تین سال تک چلتا رہا۔ حکومت کی طرف سے خان صاحب قلندر علی خان اور ملزمان کی طرف سے لالہ امرد اس سینئر وکیل تھے۔ بھگت سنگھ اور سکھ دیو کو سزائے موت کا حکم دیا گیا اور 23 مارچ، 1931ء کو ان کو پھانسی دے دی گئی۔ فیروز پور کے قریب دریائے ستلج کے کنارے، ان کی لاشوں کو جلا دیا گیا۔ بعد میں یہاں ان کی یادگار قائم کی گئی۔

  • 20 مارچ  تاریخ کے آئینے میں

    20 مارچ تاریخ کے آئینے میں

    20 مارچ تاریخ کے آئینے میں

    1602 – متحدہ ڈچ ایسٹ انڈیا کمپنی کا قیام۔

    1739 – نادر شاہ نے دہلی سلطنت پر قبضہ کیا۔

    1814 ء – پرنس ولیم فریڈرک نیدرلینڈ کا حکمران بنا۔

    1904 – سی ایف اینڈریوز مہاتما گاندھی کے ساتھ تحریک آزادی میں شامل ہونے ہندوستان آئے تھے۔

    1916 – البرٹ آئن اسٹائن کی کتاب جنرل تھیوری آف ریلیٹیویٹی شائع ہوئی۔

    1920 – لندن سے جنوبی افریقہ کے لئے پہلی پرواز شروع ہوئی۔

    1956 – تیونس کو فرانس سے آزادی ملی۔

    1956 – سوویت یونین نے نیوکلائی تجربہ کیا۔

    1977 – سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی کو لوک سبھا انتخابات میں شکست ہوئی۔

    1981 – ارجنٹینا کے سابق صدر اسابیل پیرن کو آٹھ سال کی سزا سنائی گئی۔

    1991 ء – بیگم خالدہ ضیا بنگلہ دیش کی صدر منتخب ہوئیں ۔

    2003 – امریکہ نے عراق پر حملہ شروع کیا۔

    1739ء نادر شاہ نے دہلی پر قبضہ کیا۔

    1956ء تیونس نے فرانس سے آزادی حاصل کی۔

    2008ء جنوبی وزیرستان میں فوجی کیمپ کے باہر خودکش حملہ، 5 اہلکار جاں بحق اور 11 زخمی۔

    1969ء امریکی صدر رچرڈ نکسن نے ویتنام سے 1970 میں جنگ ختم کرنے کا اعلان کیا۔

    20مارچ 2001ء کو حبیب بنک اے جی زیورخ کے قیام کی چونتیسویں سالگرہ کے موقع پر پاکستان کے محکمہ ڈاک نے پانچ روپے مالیت کا ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا۔ اس ڈاک ٹکٹ پرحبیب بنک اے جی زیورخ کے صدر دفتر کی تصویر اور اس کا لوگوشائع کیا گیا تھا اور انگریزی میں HABIB BANK A.G. ZURICH (INCORPORATED IN SWITZERLAND) کے الفاظ تحریر کیے گئے تھے ۔ ان ڈاک ٹکٹوں کا ڈیزائن عبداللہ صدیقی نے تیار کیا تھا۔

    20مارچ2014ء کو پاکستان کے محکمہ ڈاک نے پاکستان کے نامور سپوت ایم ایم عالم کی یاد میں ایک ڈاک ٹکٹ جاری کیا۔ اس ڈاک ٹکٹ پرجناب ایم ایم عالم اور انہیں عطا کیے جانے والے ستارہ جرأت کے اعزازات کی ایک خوب صورت تصویر شائع کی گئی تھی۔ آٹھ روپیہ مالیت کا یہ ڈاک ٹکٹ عادل صلاح الدین نے ڈیزائن کیا تھااوراس پر انگریزی میں Air Commodore (R) M.M.Alam SJ(with bar) کے الفاظ تحریر تھے۔