Baaghi TV

Tag: تازہ

  • بھارت کے ایک گاؤں میں 78 سال بعدپہلی بار بجلی کی فراہمی

    بھارت کے ایک گاؤں میں 78 سال بعدپہلی بار بجلی کی فراہمی

    بھارت کی ریاست مہاراشٹر کے ایک دور دراز گاؤں میں آزادی کے 78 سال بعد پہلی بار بجلی پہنچی ہے-

    ضلع تھانے کے علاقے پہاڑی شاہ پور تعلقہ کے گاؤں وراسواڑی کے رہائشیوں نے اس موقع پر آتشبازی کر کے اور خوشی کے نعرے لگا کر جشن منایا،مہاراشٹر اسٹیٹ الیکٹرسٹی ڈسٹری بیوشن کمپنی کے مطابق، گاؤں کے 15 گھروں کو بجلی فراہم کی گئی ہے، جبکہ سڑکوں پر اسٹریٹ لائٹس بھی نصب کی گئی ہیں، اس منصوبے کے لیے 67 کھمبوں کی تنصیب اور 63 کے وی اے کے نئے ٹرانسفارمر کی ضرورت تھی، جس پر 50 لاکھ بھارتی روپے سے زائد کی لاگت آئی۔

    حکام نے بتایا کہ اگرچہ اس منصولے کی منظوری دو سال قبل دی گئی تھی، لیکن گاؤں تک سڑکوں کے فقدان اور جنگلاتی علاقہ ہونے کی وجہ سے کھمبے اور ٹرانسفارمر لے جانا انتہائی مشکل تھا۔ محکمہ جنگلات سے اجازت لینے کے عمل نے بھی اس منصولے میں تاخیر کا باعث بنا۔

    پی سی بی کا ملک بھر میں سکولز کے لئے بڑے ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام کا آغاز

    گاؤں والوں کے لیے یہ لمحہ انتہائی جذباتی تھا، جب پہلی بار ان کے گھروں میں بجلی کی روشنی آئی رہائشیوں کا کہنا تھا کہ یہ ان کی زندگی میں آنے والی سب سے بڑی تبدیلی ہےیہ واقعہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ بھارت جیسے ترقی پذیر ملک میں اب بھی ایسے علاقے موجود ہیں جو بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔

    پاکستان ہاکی فیڈریشن کو فوری انتخابات کرانے کی ہدایت

  • مسئلہ فلسطین کا دو ریاستی حل ہی امن کا واحد راستہ ہے، سعودی وزیر خارجہ

    مسئلہ فلسطین کا دو ریاستی حل ہی امن کا واحد راستہ ہے، سعودی وزیر خارجہ

    سعودی عرب کے وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے کہا ہے کہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان پائیدار امن صرف دو ریاستی حل سے ہی ممکن ہے۔

    نیو یارک میں اقوام متحدہ کی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے فرانس کے صدر ایمانویل میکرون کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے کا اعلان کیا خطے میں امن کے قیام کے لیے عالمی برادری کو دو ریاستی حل کی حمایت کرنی چاہیے۔

    واضح رہے کہ برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور پرتگال کے بعد فرانس بھی فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے والے ممالک کی فہرست میں شامل ہوگیا ہے،نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے کے حالیہ عالمی فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ فرانس، برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا، پرتگال اور دیگر کئی ممالک کے اقدامات قابلِ تحسین ہیں۔

    اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کے بعد اپنے بیان میں اسحاق ڈار نے کہا کہ یہ کانفرنس سعودی عرب اور فرانس کی مشترکہ صدارت میں فلسطین کے مسئلے کے پرامن حل اور دو ریاستی حل کے نفاذ کے لیے منعقد کی گئی تھی،پاکستان کو فخر ہے کہ وہ 1988 میں فلسطین کے آزادی کے اعلان کے فوراً بعد اسے ریاست تسلیم کرنے والے اولین ممالک میں شامل تھا۔

    اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی قانون کے تحت فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا مشرقِ وسطیٰ میں منصفانہ، پائیدار اور جامع امن کے قیام کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے پاکستان عالمی برادری، خصوصاً اُن ممالک سے اپیل کرتا ہے جنہوں نے تاحال فلسطین کو تسلیم نہیں کیا کہ وہ بھی بین الاقوامی اصولوں کے تحت اس انسانی اور سیاسی فریضے کو پورا کریں۔

  • ٹیکس چوری پر کارروائیاں تیز ، جیولرز کو نوٹسز جاری

    ٹیکس چوری پر کارروائیاں تیز ، جیولرز کو نوٹسز جاری

    ایف بی آر نے ٹیکس نیٹ میں نہ آنے والے جیولرز کے خلاف کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے متعدد شہروں میں جیولرز کو نوٹسز بھجوا دیے۔

    میڈیا ذرائع کے مطابق ابتدائی مرحلے میں راولپنڈی، اسلام آباد، فیصل آباد اور ملتان کے جیولرز کو نوٹس جاری کیے گئے ہیں، جن کے ذریعے جیولرز سے ان کے ٹیکس معاملات پر وضاحت طلب کی گئی ہے۔

    گزشتہ روز یہ انکشاف ہوا تھا کہ ملک بھر میں 60 ہزار سے زائد جیولرز کا ڈیٹا ایف بی آر نے جمع کر لیا ہے جن میں سے صرف 21 ہزار رجسٹرڈ ہیں اور ان میں بھی محض 10 ہزار 524 نے باقاعدہ ٹیکس ریٹرن جمع کرائے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بیشتر جیولرز اپنی اصل آمدن چھپانے اور کم ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ ٹیکس ادائیگی سے بچ سکیں،ایف بی آر نے اس رویے پر سخت کارروائی کا فیصلہ کرتے ہوئے پہلے مرحلے میں پنجاب کے 900 جیولرز کی فہرست تیار کی ہے جنہیں کڑی جانچ پڑتال اور قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

  • پنجاب  یونین آف جرنلسٹس کا پی یوجے کے صدرکے گھر پر پولیس چھاپہ کے خلاف اظہار مذمت

    پنجاب یونین آف جرنلسٹس کا پی یوجے کے صدرکے گھر پر پولیس چھاپہ کے خلاف اظہار مذمت

    پنجاب یونین آف جرنلسٹس کا پی یوجے کے صدر نعیم حنیف کے گھر پر پولیس چھاپہ کے خلاف اظہار مذمت

    پنجاب یونین آف جرنلسٹس نے کرائم رپورٹرز اور لاہور پولیس کے درمیان جاری حالیہ کشمکش کے دوران پی یوجے کے صدر نعیم حنیف کے گھر پر پولیس کے چھاپے کو آزادی صحافت اور آزادی اظہار پر سنگین حملہ قرار دیا ہے اور کہا کہ پولیس اپنے خلاف خبروں کو دبانے کے لئے جہاں کرائم رپورٹرز پر حملہ آوور ہے وہیں صحافیوں کی آواز اور آزادی اظہار کے حق کو دبانے کے لئے پی ایف یوجے ، پی یوجے اور لاہور پریس کلب جیسے اداروں کے خلاف بھی میدان میں آگئی ہے ۔ یہ صحافیوں کو کھلی دھمکی ہے اور اس کے پیچھے جو بھی عناصر ہیں پی ایف یوجے ، پی یوجے اور سول سوسائٹی کھڑی ہے ۔

    لاہور پریس کلب میں منعقدہ ایک مشاورتی اجلاس ،جس میں پی ایف یوجے کے سیکرٹری جنرل و صدر لاہور پریس کلب ارشد انصاری سمیت لاہور کی تمام صحافی قیادت شریک تھی ۔اس موقع پر پی یوجے کے صدر نعیم حنیف نے کہا کہ وہ تو چاہتے تھے کہ اس تنازع کو زیادہ ہوا نہ دی جائے اور جو عناصر بھی حکومت اور صحافیوں کے درمیان خلیج پیدا کرنا چاہتے ہیں انہیں ان کے ناپاک مقاصد میں کامیاب نہ ہونے دیا جائے ، گزشتہ دنوں وزیر اطلاعات پنجاب عظمی بخاری کی لاہور پریس کلب اور آمد اور صحافی قیادت سے ملاقات میں بھی ہم نے ان مکروہ عناصر کی نشاندہی کی تھی اور تمام معاملہ وزیر اطلاعات کے حوالے کردیا تھا مگر شومئی قسمت جس روز دوپہر کو عظمی بخاری لاہور پریس کلب تشریف لائیں اسی شب پولیس نے میرے گھر پر چھاپہ مارا ۔جہاں میرے والدین اور بھائیوں کو پریشان کیا گیا۔

    سیکیورٹی فورسز کا ڈی آئی خان میں آپریشن، بھارتی حمایت یافتہ 7 دہشتگرد ہلاک

    نعیم حنیف نے کہا ہم آج بھی سمجھتے ہیں اس لڑائی کے درپردہ جو بھی عناصر ہیں حکومت خود ان کا محاسبہ کرئے اور ذمہ دارا عناصر کو قابو میں کرئے۔ اجلاس میں شریک سیکرٹری جنرل پی ایف یوجے وصدر لاہور پریس کلب ارشد انصاری ،کرائم رپورٹرز ایسوسی ایشن ، ایسوسی ایشن آف فوٹو جرنلسٹس لاہور ، سپورٹس رپورٹرز فیڈریشن آف پاکستان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ صحافی آزادی صحافت اور آزادی اظہار کی اس جدوجہد میں متحد ہیں ۔ انہوں نے صدر پی یوجے نعیم حنیف کے گھر پر پولیس کے چھاپے کی شدید مذمت کی اور اس چھاپہ کے ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔

    دریں اثنا پی یوجے کی ایگزیکٹو کونسل نے یونین ہے صدر کے گھر پر حملہ کو صحافیوں کے خلاف کھلا حملہ قرار دیا ہے اور وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف سے اس چھاپے کے ذمہ داران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے ۔ پی یوجے کے جنرل سیکرٹری قمرالزمان بھٹی نے واضح کیا صحافیوں نے آزادی صحافت ،ازادی اظہار اور شہری آزادیوں پر کبھی کوئی سمجھوتہ نہیں کیا ۔اس جنگ میں ہمارے سینئر نے لازوال قربانیوں دی ہے ہیں اور ہم آج بھی ہر طرح کی جدوجہد کے لئے پر عزم ہیں ۔

    معرکہ حق میں،فیلڈ مارشل نے اپنے جوانوں کو تیار کیا اور کمال کی کارکردگی دکھائی ،وزیراعظم

  • فلسطینی صدر اقوام متحدہ  اجلاس میں ویڈیو لنک پر خطاب کریں گے

    فلسطینی صدر اقوام متحدہ اجلاس میں ویڈیو لنک پر خطاب کریں گے

    امریکا کے ویزا دینے سے انکار کے بعد اقوام متحدہ نے فلسطینی صدر محمود عباس کو اگلے ہفتے نیویارک میں ہونے والے اجلاس سے وڈیو لنک کے ذریعے خطاب کی اجازت دے دی۔

    کئی ممالک کی جانب سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کیے جانے کے اعلان کے بعد امریکا نے فلسطینی صدر محمود عباس کو یو این جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے ویزا دینے سے انکار کر دیا تھا۔

    دوسری جانب پرتگال نے فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنے کا اعلان کر دیا۔پرتگال کے وزیر خارجہ نے رواں ہفتے برطانیہ کے دورے کے دوران کہا تھا کہ ان کا ملک فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے پر غور کر رہا ہے تاہم اب وزارت خارجہ کی جانب سے فلسطین کو ریاست تسلیم سے متعلق اعلان کردیاگیا ہے۔

    اقوام متحدہ کے اجلاسوں سے قبل کینیڈا، فرانس، برطانیہ، بیلجیم اور آسٹریلیا سمیت کئی مغربی ممالک باضابطہ طور پر فلسطین کو تسلیم کرنے کا اعلان کرنے والے ہیں-

    کراچی: 3 خواجہ سراؤں کی لاشیں برآمد، وزیراعلیٰ سندھ نے رپورٹ طلب کرلی

    باجوڑ میں گرینڈ جرگہ، قبائلی عمائدین کا پاک فوج کے شانہ بشانہ لڑنے کے عزم کا اعادہ

    توشہ خانہ ٹو کیس :عمران خان کے سابق ملٹری سیکرٹری کا بیان سامنے آگیا

  • برطانیہ آج فلسطینی ریاست کو تسلیم کر لے گا، برطانوی وزیر اعظم کا اعلان

    برطانیہ آج فلسطینی ریاست کو تسلیم کر لے گا، برطانوی وزیر اعظم کا اعلان

    لندن: برطانیہ کے وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے اعلان کیا ہے کہ برطانیہ آج فلسطینی ریاست کو تسلیم کر لے گا۔

    غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق برطانوی حکومت نے کہا ہے کہ غزہ میں بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر پالیسی تبدیل کی جا رہی ہے۔ اور برطانیہ آج دوپہر کو فلسطینی ریاست کو تسلیم کرلے گا۔

    واضح رہے کہ پرتگال نے بھی فلسطینی ریاست کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کر دیادوسری جانب کینیڈا اور فرانس ان دیگر مغربی ممالک میں شامل ہیں جو اسمبلی میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔

    یہ ممالک ایک ایسے وقت فلسطینی ریاست کو تسلیم کر رہے ہیں کہ جب اسرائیل غزہ پٹی فلسطینیوں کا قتل عام کر رہا ہے جسے نسل کشی قرار دیا جا چکا ہے،پرتگال نے جولائی میں ہی اعلان کر دیا تھا کہ وہ تنازع کی “انتہائی تشویش ناک پیشرفت” کی وجہ سے ایسا کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، جس کی وجہ غزہ میں جاری انسانی بحران اور اسرائیل کی فلسطینی زمین کو ضم کرنے کی بار بار کی دھمکیاں ہیں،اقوام متحدہ کے 193 ارکان میں سے تقریباً تین چوتھائی پہلے ہی فلسطین کی ریاست کو تسلیم کر چکے ہیں۔

  • ایران کا  عالمی جوہری ایجنسی سے تعاون معطل کرنے کا اعلان

    ایران کا عالمی جوہری ایجنسی سے تعاون معطل کرنے کا اعلان

    ایران نے اقوام متحدہ میں ووٹنگ کے بعد عالمی جوہری ایجنسی سے تعاون معطل کرنے کا اعلان،کیاہے-

    ایران کی اعلیٰ ترین قومی سلامتی کونسل نے کہا ہے کہ برطانیہ، فرانس اور جرمنی کی جانب سے اقوام متحدہ کی پابندیاں دوبارہ عائد کرنے کا اقدام عملاً اقوام متحدہ کے ایٹمی نگران ادارے کے ساتھ ایران کے تعاون کو معطل کر دے گا۔

    یہ اعلان اُس وقت سامنے آیا جب سلامتی کونسل نے جمعے کو ان پابندیوں کو بحال کرنے کے حق میں ووٹ دیا جو کئی برس سے منجمد تھیں، یورپی حکومتوں نے ایک دہائی پرانے جوہری معاہدے میں شامل ’اسنیپ بیک‘ میکانزم کو فعال کیا تھا اور ایران پر عدم تعمیل کا الزام لگایا تھا۔

    اس ووٹ کا مطلب یہ ہے کہ وہ پابندیاں، جو 2015 کے معاہدے کے تحت ایران کی جوہری سرگرمیوں پر پابندیوں کے بدلے معطل کر دی گئی تھیں، 28 ستمبر سے دوبارہ نافذالعمل ہو جائیں گی، جب تک کہ ایران آئندہ ہفتے کے اندر سلامتی کونسل کو قائل نہ کر سکے۔

    تہران نے کہا کہ یورپی طاقتوں کا یہ اقدام مہینوں کی ان کاوشوں کو نقصان پہنچاتا ہے جو عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے ساتھ نگرانی کی بحالی اور عالمی قوانین کی پاسداری یقینی بنانے کے لیے کی گئی تھیں۔

    اس ماہ کے آغاز میں ایران اور ایجنسی کے درمیان قاہرہ میں ایک معاہدہ طے پایا تھا جس کے تحت ایرانی جوہری تنصیبات کا معائنہ دوبارہ شروع ہونا تھا،ایران نے یہ معائنے اُس وقت معطل کر دیے تھے جب جون میں اسرائیل اور امریکا نے اس کی جوہری تنصیبات پر حملے کیے تھے،مغربی حکومتیں طویل عرصے سے ایران پر ایٹمی ہتھیار بنانے کی کوشش کا الزام لگاتی رہی ہیں، تاہم تہران اس الزام کی تردید کرتا ہے۔

  • مہنگائی کے اعداد وشمارجاری

    مہنگائی کے اعداد وشمارجاری

    گزشتہ ہفتے کے دوران مہنگائی میں شرح میں کمی آئی ہے۔

    وفاقی ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق ملک میں دوسرے ہفتے بھی مہنگائی میں اضافے کی رفتار کی شرح میں کمی ہوئی ہے اور حالیہ ہفتے مہنگائی کی شرح میں کمی کی رفتار میں 1.34فیصد کمی واقع ہوئی ہوئی ہے جبکہ اس سے پچھلے ہفتے بھی مہنگائی میں اضافے کی رفتار کی شرح میں 0.2 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی تھی.حالیہ ہفتے سالانہ بنیاد پر بھی مہنگائی کی شرح 5.03 فیصد سے کم ہو کر 4.17 فیصد ہوگئی ہے۔

    وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق گزشتہ ہفتے چاول، انڈے، مٹن، جلانے والی لکڑی، گھی اور دال مونگ سمیت 18 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ جبکہ 14 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی اور19 اشیائے ضروریہ کی قیمتیں مستحکم رہی ہیں۔

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ حالیہ ایک ہفتے میں ہائی اسپیڈ ڈیزل 1.06 فیصد، چاول 0.84 فیصد، انڈوں کی قیمت میں 0.91 فیصد تک اضافہ ہوا ہے، بیف 0.42 فیصد، مٹن 0.31 فیصد، ویجی ٹیببل گھی 0.25 فیصد، انرجی سیور 0.23 فیصد اور دال مونگ 0.10 فیصد مہنگی ہوئی ہے۔

    اسی طرح حالیہ ایک ہفتے میں 14 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی آئی ہے، پیاز 1.17 فیصد، ٹماٹر 23.11 فیصد، آٹا 2.60 فیصد،کیلے5.07 فیصد، دال مسور 0.64 فیصد، دال چنا0.47 فیصد، لہسن0.46 فیصد اور مرغی کی قیمت میں 12.74 فیصد کمی ہوئی ہے۔

    حالیہ ہفتے کے دوران حساس قیمتوں کے اعشاریہ کے لحاظ سے سالانہ بنیاد پر 17 ہزار 732 روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کے لیے مہنگائی میں اضافے کی رفتار1.43 فیصد کمی کے ساتھ 3.82فیصد، 17 ہزار 733 روپے سے 22 ہزار 888 روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کے لیے مہنگائی میں اضافے کی رفتار 1.59 فیصد کمی کے ساتھ 4.02 فیصد، 22 ہزار 889روپے سے 29 ہزار 517 روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کے لیےمہنگائی میں اضافے کی رفتار1.34 فیصد کمی کے ساتھ4.89فیصد ریکارڈ کی گئی۔

    وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق 29 ہزار 518روپے سے 44ہزار 175 روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کے لیے مہنگائی میں اضافے کی رفتار1.31 فیصدکمی کے ساتھ4.97 فیصد رہی اور 44 ہزار 176روپے ماہانہ سے زائد آمدنی رکھنے والے طبقے کے لیے مہنگائی میں اضافے کی رفتار1.23فیصد کمی کے ساتھ 3.47فیصد رہی ہے-

  • اسلام آباد ہائیکورٹ کے پانچ ججز کا چیف جسٹس کے اختیارات اور اقدامات کیخلاف سپریم کورٹ سے رجوع

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے پانچ ججز کا چیف جسٹس کے اختیارات اور اقدامات کیخلاف سپریم کورٹ سے رجوع

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے پانچ ججز نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کے اختیارات اور اقدامات کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا۔

    جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس بابر ستار، جسٹس طارق محمود جہانگیری، جسٹس ثمن رفعت اور جسٹس اعجاز اسحٰق خان نے علیحدہ علیحدہ درخواستیں سپریم کورٹ میں دائر کیں،درخواستوں میں ججوں نے سپریم کورٹ سے استدعا کی ہے کہ انتظامی اختیارات کو ہائی کورٹ کے ججوں کے عدالتی اختیارات کو کمزور کرنے یا ان پر غالب آنے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا،چیف جسٹس ہائی کورٹ اس وقت جب کسی بینچ کو مقدمہ دیا جا چکا ہو، نئے بینچ تشکیل دینے یا مقدمات منتقل کرنے کا مجاز نہیں ہے۔

    درخواستوں میں کہا گیا کہ چیف جسٹس اپنی مرضی سے دستیاب ججوں کو فہرست سے خارج نہیں کر سکتا اور نہ ہی اس اختیار کو ججوں کو عدالتی ذمہ داریوں سے ہٹانے کے لیے استعمال کر سکتا ہے،بینچوں کی تشکیل، مقدمات کی منتقلی اور فہرست جاری کرنا صرف ہائی کورٹ کے تمام ججوں کی منظوری سے بنائے گئے قواعد کے مطابق کیا جا سکتا ہے، جو آئین کے آرٹیکل 202 اور 192(1) کے تحت اختیار کیے گئے ہیں۔

    گوجرانوالہ: اساتذہ میں ٹیبلٹس، طلبہ میں تعلیمی سامان تقسیم

    درخواست گزاروں نے مزیدکہا کہ بینچوں کی تشکیل، روسٹر ہائی کورٹ رولز اور مقدمات کی منتقلی سے متعلق فیصلہ سازی صرف چیف جسٹس کے اختیار میں نہیں ہو سکتی اور ماسٹر آف دی روسٹر کے اصول کو سپریم کورٹ کے فیصلوں میں ختم کر دیا گیا ہے، 3 فروری اور 15 جولائی کو جاری ہونے والے نوٹی فکیشنز کے ذریعے بنائی گئی انتظامی کمیٹیاں اور ان کے اقدامات قانونی بدنیتی پر مبنی، غیر قانونی اور کالعدم ہیں۔

    عدالت سے استدعا کی گئی کہ ان نوٹی فکیشنز اور کمیٹیوں کے تمام اقدامات کو غیر قانونی قرار دیا جائے،غیر قانونی طور پر تشکیل دی گئی انتظامی کمیٹی کے ذریعے اسلام آباد ہائی کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر رولز 2025 کی منظوری اور ہائی کورٹ کی پیشگی منظوری کے بغیر نوٹیفکیشن جاری کرنا آئین کے آرٹیکل 192(1) اور 202 کی خلاف ورزی ہے، اور ستمبر میں اس کی توثیق بھی غیر قانونی اور بے اثر ہےسپریم کورٹ اسلام آباد ہائی کورٹ کو ہدایت دے کہ وہ ڈسٹرکٹ جوڈیشری پر مؤثر نگرانی اور نگران عمل کرے، جیسا کہ آئین کے آرٹیکل 203 میں درج ہے، تاکہ ہر ہائی کورٹ اپنے ماتحت عدالتوں کی نگرانی اور کنٹرول کر سکے۔

    امریکا نے بھارت کو ایک اور جھٹکا دے دیا

    درخواست گزار نے سپریم کورٹ سے استدعا کی کہ وہ یہ اعلان کرے کہ ہائی کورٹ اپنے لیے آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت کوئی رٹ جاری نہیں کر سکتی، آرٹیکل 199 ہائی کورٹ کے دائرہ اختیار سے متعلق ہے ہائی کورٹ کا ڈویژن بینچ نہ تو کسی سنگل بینچ کے عبوری فیصلوں پر اپیل کے لیے اختیار رکھتا ہے اور نہ ہی یہ کسی سنگل بینچ کے کارروائیوں پر ایسا کنٹرول اختیار کر سکتا ہے جیسے وہ کوئی زیریں عدالت یا ٹریبونل ہو،عبوری حکم سے مراد ایک جاری مقدمے میں دیا گیا عارضی فیصلہ ہے۔

    درخواست گزاروں نے سپریم کورٹ سے کہا کہ ہائی کورٹ کے جج کوصرف آرٹیکل 209 کے تحت عدالتی کام کرنے سے روکا جا سکتا ہے اور کسی جج کو عہدے سے ہٹانے کے لیے رٹِ قو وارانٹو دائر کرنا درست نہیں ہےآرٹیکل 209 آئین کے تحت سپریم جوڈیشل کونسل کو سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے ججوں کی صلاحیت اور رویے کی تحقیقات کرنے کا اختیار دیتا ہے،درخواست گزاروں نےسپریم کورٹ سے استدعا کی کہ وہ اس کیس کے حالات کے مطابق کوئی اور ریلیف بھی دے جو مناسب سمجھا جائے۔

    پاکستان میں انٹرنیٹ بحالی میں 4 سے 5 ہفتے لگ سکتے ہیں

  • پاک سعودی تزویراتی دفاعی معاہدےکا مقصد صرف استحکام ہے،دفتر خارجہ

    پاک سعودی تزویراتی دفاعی معاہدےکا مقصد صرف استحکام ہے،دفتر خارجہ

    دفتر خارجہ نے کہاہے کہ پاک سعودیہ باہمی تزویراتی دفاعی معاہدہ کسی تیسرے ملک کے خلاف خطرے کے طور پر استعمال نہیں ہوگا۔

    ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ایک سوال کے جواب میں کہا کہ آیا پاک سعودی تزویراتی دفاعی معاہدہ صرف اسرائیل کو نشانہ بنانے کے لیے ہے یا اس کا وسیع تر ایجنڈا ہے، اور کیا پاکستان اپنے جوہری ہتھیار اب تیسرے ملک کو پیشکش کر رہا ہے؟ اس پر ترجمان نے کہا کہ ’پاکستان اور سعودی عرب کا تاریخی برادرانہ تعلق ہے جسے اب نئی بلندیوں پر لے جایا جا رہا ہے، معاہدے کا مقصد صرف استحکام ہے۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے باہمی تعلقات منفرد اور دیرینہ ہیں، دونوں ممالک کی قیادت ان تعلقات کو نئی بلندیوں پر لے جانا چاہتی ہے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعلقات 1960 سے جاری ہیں، موجودہ باہمی تزویراتی دفاعی معاہدہ کسی تیسرے ملک کے خلاف خطرے کے طور پر استعمال نہیں ہوگا۔

    فتنہ الخوارج سے متعلق وزیر اعظم کے بیان پر ایک سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ وزیر اعظم کا بیان نہایت واضح ہے افغانستان کے ساتھ اچھے ہمسائیگی والے تعلقات چاہتے ہیں یہ بیان افغانستان کو سفارتی ذرائع سے بھجوایا گیا ہے نمائندہ خصوصی صادق خان کا دورہ معمول کا ہے، جونہی ان کا نیا دورہ افغانستان طے ہوگا، میڈیا کو آگاہ کیا جائے گا۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بگرام ایئربیس سے متعلق بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ بگرام کا معاملہ کابل میں افغان حکومت اور امریکی حکومت کا باہمی معاملہ ہے، ہم اُن ملکوں کی خودمختاری کا احترام کرتے ہیں۔

    ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نےکہاکہ، صدر آصف علی زرداری اس وقت چین کے دورے پر ہیں جہاں انہوں نے اعلیٰ چینی حکام سے ملاقاتیں کیں۔ صدر زرداری نے چین کی لڑاکا طیارے بنانے والی فیکٹری کا دورہ بھی کیا اور پاکستان کے فضائی دفاع میں جے ایف-17 اور جے-10C طیاروں کے کردار کو سراہا۔

    پاکستان میں دہشتگردوں کی بھارتی سرپرستی کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ترجمان دفترِ خارجہ نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ بیرونی سرزمین سے بدامنی پھیلانے سے باز رہے اور اپنے ہاں انسانی حقوق کی حالت بہتر بنائے۔ بھارتی پراپیگنڈا اور اشتعال انگیز بیانات خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ ہیں، بھارتی میڈیا کو الزامات کی بجائے بھارت کی طرف سے ہونے والے قتل و غارت اور دہشت گردی کی مہمات پر غور کرنا چاہیے۔ پاکستان نے ہمیشہ بھارتی روایتی قوت کو تحمل اور ذمہ داری کے ساتھ روکا ہے۔

    اُنہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے خلاف ایٹمی الزامات بھارت کا خودساختہ اور گمراہ کن بیانیہ ہے پاکستان جموں و کشمیر سمیت تمام مسائل کے پرامن حل پر یقین رکھتا ہے۔ پاکستان ایک ذمہ دار ملک کے طور پر خطے میں امن، استحکام اور بامقصد مذاکرات کا خواہاں ہے۔

    پاکستان کی جانب سے سکھ یاتریوں کو ویزوں کے اجرا سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے شفقت علی خان نے کہا کہ پاکستان سکھوں کے مذہبی مقامات کا کسٹوڈین ہے پاکستان ہر سال دنیا بھر سے آنے والے سکھ یاتریوں کو خوش آمدید کہتا ہے بھارت کی جانب سے یاتریوں کو کرتارپور راہداری کے استعمال سے روکنا افسوسناک ہے۔

    انہوں نے کہا کہ 1974 کے مذہبی مقامات کے پروٹوکول کے تحت پاکستان یاتریوں کو خوش آمدید کہنے کے لیے ہمیشہ تیار ہے۔ پاکستان نے کرتارپور راہداری کبھی بند نہیں کی۔ بھارتی رویہ یاتریوں کے لیے رکاوٹ ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ گردوارہ کرتارپور صاحب مکمل طور پر بحال اور فعال ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف کی 26 ستمبر کو اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں تقریر کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے ترجمان دفترِ خارجہ نے کہا کہ وزیراعظم کی تقریر 26 ستمبر کو متوقع ہے، جس کی تفصیلات جلد جاری کی جائیں گی۔

    جنرل اسمبلی سیشن کے حاشیے پر وزیراعظم کی ملاقاتوں سے متعلق ایک سوال پر ترجمان نے کہا کہ وزیراعظم کی ملاقاتوں کا شیڈول ابھی طے کیا جا رہا ہے اور جیسے ہی وہ حتمی ہوگا، میڈیا کو آگاہ کیا جائے گا۔