Baaghi TV

Tag: تازہ

  • پاکستان اور فلسطین کے درمیان صحت کے شعبے میں تعاون کا اہم معاہدہ

    پاکستان اور فلسطین کے درمیان صحت کے شعبے میں تعاون کا اہم معاہدہ

    اسلام آباد: پاکستان اور فلسطین کے درمیان صحت کے میدان میں تعاون کو فروغ دینے کے لیے ایک اہم معاہدے پر دستخط کیے گئے۔

    اس مفاہمتی یادداشت پر پاکستان کی جانب سے وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال جبکہ فلسطین کی جانب سے پاکستان میں تعینات فلسطینی سفیر نے دستخط کیے،تقریب میں وفاقی سیکرٹری صحت حامد یعقوب، ایڈیشنل سیکرٹری ہیلتھ اور ڈی جی ہیلتھ بھی شریک تھے۔

    وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس موقع پر کہا کہ معاہدے پر مؤثر عمل درآمد کے لیے آئندہ 30 روز میں ’’پاکستان،فلسطین ہیلتھ ورکنگ گروپ‘‘ قائم کیا جائے گا، جو اس تعاون کو عملی شکل دینے کے لیے رہنمائی فراہم کرے گا،معاہدے کے تحت جدید طبی شعبہ جات میں استعداد کار بڑھانے پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

    آئی ایم ایف وفد کے دورہ پاکستان سے قبل شرائط پر کام جاری

    مصطفیٰ کمال نے کہا کہ،دونوں ممالک انٹروینشنل کارڈیالوجی، آرگن ٹرانسپلانٹ، آرتھوپیڈک سرجری، اینڈوسکوپک الٹراساؤنڈ، برن اینڈ پلاسٹک سرجری جیسے اہم شعبوں میں مل کر کام کریں گے اس کے علاوہ متعدی امراض، آنکھوں کے امراض اور دواسازی کے شعبے میں بھی تعاون کو فروغ دیا جائے گامشترکہ تحقیق کے مواقع تلاش کرنے پر بھی توجہ دی جائے گی تاکہ صحت عامہ کے مسائل کا بہتر حل نکالا جا سکے۔

    مصطفیٰ کمال نے کہا کہ اس معاہدے کا مقصد دونوں برادر ممالک کے عوام کے لیے بہتر صحت کی سہولیات کو یقینی بنانا ہےپاکستانی عوام کے دل فلسطین کے ساتھ دھڑکتے ہیں، ہم ان کی فلاح کے لیے ہر ممکن مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں۔

    فلسطین کے سفیر نے وزیر صحت اور پاکستانی حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ فلسطین اور پاکستان دونوں برادر ممالک ہیں اور وہ اپنے عوام کی صحت کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے مل کر کام کرتے رہیں گے۔

    اداکارہ سارہ عمیر نے شوہر سے طلاق کی تصدیق کردی

  • میچ ریفری  کے خلاف کارروائی کی جائے، پی سی بی نے آئی سی سی کو ایک اور خط لکھ دیا

    میچ ریفری کے خلاف کارروائی کی جائے، پی سی بی نے آئی سی سی کو ایک اور خط لکھ دیا

    پاکستان کرکٹ بورڈ یعنی پی سی بی نے ایشیا کپ 2025 کے دوران میچ ریفری اینڈی پائی کرافٹ کو ہٹانے کے مطالبے پر سخت مؤقف اپناتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ قومی ٹیم ان کی نگرانی میں کوئی میچ نہیں کھیلے گی۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق پی سی بی نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل یعنی آئی سی سی کو دوسرا خط بھیج دیا ہے جس میں بورڈ نے اپنے ابتدائی مطالبے کو نہ ماننے پر سخت ردعمل ظاہر کیاخط میں کہا گیا ہے کہ آئی سی سی کی جانب سے پائی کرافٹ کے خلاف تحقیقات محض رسمی کارروائی ہیں جنہیں تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔

    پی سی بی نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اگر متنازعہ ریفری کو ہٹایا نہ گیا تو پاکستان ایسے تمام میچز کا بائیکاٹ کرے گا جن میں وہ نگرانی کریں گے،آئی سی سی کی انکوائری میں نہ تو تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا اور نہ ہی متعلقہ فریقین سے مشاورت کی گئی، پاکستان نے مطالبہ کیا ہے کہ تمام خدشات کو مکمل طور پر دور کیا جائے اور اس مطالبے کی باضابطہ منظوری کے بعد ہی پاکستان کھیلنے پر آمادہ ہوگا۔

    دوسری جانب، پی سی بی کے ترجمان عامر میر نے وضاحت کی ہے کہ مشاورت کا عمل جاری ہے اور پاکستان کی شرکت سے متعلق حتمی فیصلہ میچ سے قبل کرلیا جائے گا فیصلہ ہمیشہ پاکستان کے مفاد میں کیا جائے گا۔

    یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب پاکستان بدھ کو دبئی میں اپنے آخری گروپ میچ میں متحدہ عرب امارات کا سامنا کرنے والا ہے۔

    ادھربھارتی کپتان سوریا کمار یادو نے ایشین کرکٹ کونسل (اے سی سی) اور پی سی بی چیئرمین محسن نقوی سے متعلق سخت مؤقف اختیار کر لیا ہےبھارتی میڈیا کے مطابق سوریا کمار یادو نے اے سی سی کو پیغام دیا ہے کہ اگر بھارت ایشیا کپ جیتتا ہے تو وہ محسن نقوی سے ٹرافی وصول نہیں کریں گےٹرافی پریزنٹیشن میں محسن نقوی کی موجودگی ناقابلِ قبول ہوگی۔

  • جی ایچ کیو حملہ کیس:عمران خان ویڈیو لنک پر پیش ہونگے

    جی ایچ کیو حملہ کیس:عمران خان ویڈیو لنک پر پیش ہونگے

    راولپنڈی: پنجاب حکومت نے جی ایچ کیو حملہ کیس کے جیل ٹرائل کا نوٹیفکیشن واپس لے لیا۔

    ذرائع کے مطابق پنجاب حکومت نے جی ایچ کیو حملہ کیس کے جیل ٹرائل کا نوٹیفکیشن واپس لے کر نیا نوٹیفکیشن جاری کردیا، جیل ٹرائل کے نوٹیفکیشن کی واپسی کے بعد جی ایچ کیو حملہ کیس کا ٹرائل اب اڈیالہ جیل کے بجائے انسداد دہشتگردی عدالت راولپنڈی میں ہوگا، جی ایچ کیو حملہ کیس اور دیگر مقدمات کے باقی ملزمان اے ٹی سی راولپنڈی پیش ہونگے جب کہ عمران خان کو ضرورت کے مطابق ویڈیو لنک پر پیش کیا جائے گا۔

  • پاکستان ریلویز میں بھرتیاں کرنے کا فیصلہ

    پاکستان ریلویز میں بھرتیاں کرنے کا فیصلہ

    وفاقی حکومت نے پاکستان ریلویز میں بھرتیاں کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

    رپورٹ کے مطابق حکومت نے پاکستان ریلویز میں تین مختلف عہدوں پر ایک ہزار اہلکار بھرتی کرنے کا فیصلہ کیا ہے، 81 اسسٹنٹ سب انسپکٹر بھرتی کیے جائیں گے جن کی تعلیم انٹرمیڈیٹ ہونا لازم ہے، ان بھرتیوں میں 69 مرد، آٹھ خواتین اور چارنشستیں اقلیتی کوٹہ کیلئے مختص کی گئی ہیں،914 کانسٹیبل جن میں 789 مرد، 89 خواتین اور 39 نشستیں اقلیتی کوٹہ کے لئے مخصوص کی گئی ہیں۔ کانسٹیبل بھرتی ہونے کے لئے تعلیمی قابلیت میٹرک سی گریڈ رکھی گئی ہے۔

    عمران خان ٹی ٹی پی سے اپیل کریں تب دہشت گردی رُک سکتی ہے ،جاوید بدر

    مودی حکومت کی سرپرستی میں ہندوتوا ایجنڈے کو تقویت

    گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی سے ندیم افضل چن کی ملاقات

  • سیلاب کے دوران ہونے والے نقصانات کا تخمینہ لگا رہے ہیں،محمد اورنگزیب

    سیلاب کے دوران ہونے والے نقصانات کا تخمینہ لگا رہے ہیں،محمد اورنگزیب

    وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ جو نقصان ہوا وہ ہوا مگر ملک میں مصنوعی مہنگائی نہیں ہونے دیں گے،آئی ایم ایف نے صورتحال کو سمجھ لیا ہے، آفت زدہ علاقوں کو بجلی کے بلز بھیجنا مناسب نہیں-

    وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے سیلاب متاثرہ علاقوں کا دورہ کرنے کے بعد گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سیلاب متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا ہے، اب پانی نیچے جانا شروع ہو گیا ہے، وفاقی حکومت، صوبائی حکومت اور پاک فوج سمیت اداروں نے بہت اچھا کام کیا ہے،بروقت لوگوں کی منتقلی سے جانی نقصان بہت کم ہوا، تاہم اب سیلاب متاثرین کی بحالی اہم ہے، لوگوں کو دوبارہ بحال کر کے انفراسٹرکچر کی مرمت کرنی ہے مستقبل میں سیلاب کی صورتحال سے بچنے کے لیے مستقل حکمت عملی کی ضرورت ہے۔

    محمد اورنگزیب نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے بجلی کے بلز معطل کر کے سیلاب متاثرین کو ریلیف دیا اور ہم عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے ساتھ پروگرام میں ہیں تو آئی ایم ایف کو آگاہ کرنا بھی ضروری ہوتا ہے،آئی ایم ایف نے صورتحال کو سمجھ لیا ہے، آفت زدہ علاقوں کو بجلی کے بلز بھیجنا مناسب نہیں، جبکہ سیلاب کے دوران ہونے والے نقصانات کا تخمینہ لگا رہے ہیں، جو نقصان ہوا وہ ہوا مگر ملک میں مصنوعی مہنگائی نہیں ہونے دیں گے، اور عالمی سطح پر فیول کی قیمت کم ہو رہی ہے تو عالمی مہنگائی کا مسئلہ نہیں۔

  • پاکستانی معیشت اب زیادہ مستحکم بنیادوں پر کھڑی ہے, گورنر اسٹیٹ بینک

    پاکستانی معیشت اب زیادہ مستحکم بنیادوں پر کھڑی ہے, گورنر اسٹیٹ بینک

    گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد کا کہنا ہے کہ مالی سال 2026 میں شرح نمو 3.25 فیصد سے 4.25 فیصد کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔

    کراچی میں پاکستان ٹیکسٹائل کونسل کی سالانہ میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے، مرکزی بینک کے گورنر نے پاکستان کی معاشی پیش رفت کی تفصیلی رپورٹ پیش کی، جبکہ کونسل کی قیادت اور اراکین نے برآمدی مسابقت کو بڑھانے کے لیے فوری پالیسی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔

    گورنر جمیل احمد نے بتایا کہ 2022 کے بعد پاکستان نے غیر معمولی معاشی چیلنجز پر قابو پایا ہے، زرمبادلہ کے ذخائر جو 2023 کے آغاز میں صرف 2.8 ارب ڈالر رہ گئے تھے، اب بڑھ کر 14.3 ارب ڈالر ہو چکے ہیں، جاری کھاتہ خسارہ نمایاں طور پر کم ہوا ہے، جبکہ ترسیلات زر 2025 میں بڑھ کر 38 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی ہیں جو بڑی حد تک غیر رسمی ذرائع سے رسمی چینلز کی طرف منتقل ہوئی ہیں۔

    سوڈان : لینڈ سلائیڈنگ سے پورا گاؤں تباہ ، صرف ایک شخص زندہ بچا

    جمیل احمد نے کہا کہ افراطِ زر جون 2025 میں کم ہو کر 3.2 فیصد کی تاریخی سطح تک آ گیا ہے، جس کی بدولت اسٹیٹ بینک نے گزشتہ ایک سال میں شرحِ سود کو 22 فیصد سے کم کر کے 11 فیصد کر دیا، مالیاتی نظم و ضبط، ایکسچینج کمپنیوں میں اصلاحات اور بیرونی قرضوں کے مستحکم سطح پر رہنے نے منڈیوں کو اعتماد فراہم کیا ہےپاکستان کی معیشت اب زیادہ مستحکم بنیادوں پر کھڑی ہے اور مالی سال 2026 میں شرح نمو 3.25 سے 4.25 فیصد کے درمیان رہے گی، ہمارا عزم ہے کہ استحکام کو برقرار رکھا جائے، زرمبادلہ کے ذخائر بڑھائے جائیں اور افراطِ زر کو 5 سے 7 فیصد کے ہدف میں رکھا جائے۔‘

    دوسری جانب پی ٹی سی کے چیئرمین فواد انور نے گورنر کی کامیابیوں کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو برآمد کنندگان کو درپیش بنیادی مسائل کو فوری طور پر حل کرنا ہوگا اگرچہ معاشی استحکام حاصل کیا گیا ہے لیکن پاکستان میں کاروبار کی لاگت اب بھی غیر مسابقتی ہے،برآمدی سہولت اسکیم سے ضروری خام مال کے اخراج نے برآمد کنندگان پر بھاری بوجھ ڈال دیا ہے، ایسے وقت میں جب عالمی منڈیوں میں پاکستان کے لیے مارکیٹ شیئر حاصل کرنے کا نادر موقع موجود ہے۔‘

    علی امین گنڈاپور کی مولانا فضل الرحمن اورگورنر کے پی،پر کڑی تنقید

    فواد انور نے زور دیا کہ برآمدی سہولت اسکیم سے نکالے گئے خام مال پر عائد درآمدی ڈیوٹیز واپس لی جائیں، سیلز ٹیکس 3 سے 5 فیصد تک محدود اور قابل واپسی بنایا جائے مزید یہ کہ سب کے لیے یکساں 1 فیصد ڈیوٹی ڈرا بیک اسکیم، اور اجرت و توانائی کے بڑھتے اخراجات کے لیے سبسڈی والے فائنانسنگ پروگرام فراہم کیے جائیں،ٹیکسٹائل اور ملبوسات پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں، یہی وقت ہے کہ حکومت جراتمندانہ پالیسی معاونت فراہم کرے تاکہ ہماری صنعت عالمی منڈی میں طویل المدتی مارکیٹ شیئر حاصل کر سکے، بجائے اس کے کہ مقابلے میں پیچھے رہ جائے۔

    بیلجیئم کا فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے اور اسرائیل پر سخت پابندیاں لگانے کا اعلان

  • ترکیہ نے اسرائیل کے ساتھ تمام تجارتی تعلقات ختم کر دیے

    ترکیہ نے اسرائیل کے ساتھ تمام تجارتی تعلقات ختم کر دیے

    ترکیہ نے اسرائیل کے ساتھ تمام تجارتی تعلقات ختم کر دیے، ترک فضائی حدود بھی،اسرائیلی طیاروں کے لیے بند کر دی گئی-

    ترک وزیرِ خارجہ حکان فیدان نے جمعے کے روز پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس میں خطے کی تازہ ترین صورتحال پر نہایت سخت اور دوٹوک مؤقف پیش کیا،اپنے خطاب میں ترک وزیر خارجہ نے اس بات کی تصدیق کی کہ ترکیہ نے اسرائیل کے ساتھ تمام تجارتی تعلقات ختم کر دیے ہیں، ترک بحری جہازوں کو اسرائیلی بندرگاہوں پر جانے کی اجازت نہیں ہے اور ترک فضائی حدود اسرائیلی طیاروں کے لیے بند کر دی گئی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اسرائیل گزشتہ 2 برس سے غزہ میں نسل کشی کر رہا ہے اور بنیادی انسانی اقدار کو دنیا کی آنکھوں کے سامنے پامال کر رہا ہےغزہ میں ہونے والے مظالم انسانی تاریخ کے سیاہ ترین ابواب میں شمار ہوں گے اسرائیل کو بے لگام حملے جاری رکھنے کی اجازت دینا نہ صرف فلسطینی عوام بلکہ پورے خطے کو آگ کی لپیٹ میں لے سکتا ہےفلسطینی عوام کی مزاحمت تاریخ کا دھارا بدلنے کی طاقت رکھتی ہے، یہ مظلوموں کے لیے ایک علامت بنے گی اور موجودہ بوسیدہ عالمی نظام کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دے گی۔

    پولینڈ کا ایف 16 طیارہ گر کر تباہ، پائلٹ ہلاک

    ترک وزیرِ خارجہ نے واضح الفاظ میں کہا کہ ترکی کسی بھی ایسے منصوبے کو قبول نہیں کرے گا جس کا مقصد فلسطینیوں کو غزہ سے بے دخل کرنا ہو ، ترکی کسی کو شام کی قدیم اور قیمتی کمیونٹیز کو مسخ شدہ عزائم کے لیے استعمال کرنے یا اس کی علاقائی سالمیت کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دے گا، انہوں نے اسرائیل کے غزہ، لبنان، یمن، شام اور ایران پر حملوں کو ’دہشت گرد ریاست‘ کی ذہنیت قرار دیا اور کہا کہ یہ رویہ عالمی نظام کے خلاف کھلی بغاوت ہے حکان فیدان کا یہ خطاب خطے کی صورتحال کے تناظر میں ترکی کے سخت اور واضح مؤقف کی عکاسی کرتا ہے۔

    شانگلہ سیلاب: 8 ہمسایہ افراد اور ان کے مویشیوں کو بچاتےہوئے چرواہے کا ہاتھ کٹ گیا

  • قومی مالیاتی کمیشن کا ابتدائی اجلاس ملتوی

    قومی مالیاتی کمیشن کا ابتدائی اجلاس ملتوی

    سیلابی صورتحال کے باعث قومی مالیاتی کمیشن کا ابتدائی اجلاس ملتوی کر دیا گیا-

    ذرائع کے مطابق اجلاس کل 29 اگست کو ہونا تھا، جو سندھ حکومت کی درخواست پر موخر کر دیا گیا،اجلاس میں این ایف سی ایوارڈ سے متعلق سفارشات، ذیلی گروپس کے قیام اور مستقبل کے اجلاسوں کا شیڈول زیر غور آنا تھا جبکہ وفاق اور چاروں صوبے اپنی مالیاتی صورتحال پر بریفنگ دینے والے تھے،صدر مملکت کی منظوری سے 22 اگست کو 11ویں قومی مالیاتی کمیشن کا نوٹیفکیشن جاری ہوا تھا، جس کے چیئرمین وفاقی وزیر خزانہ ہیں جبکہ چاروں صوبوں کے وزرائے خزانہ اور نامزد ارکان بھی کمیشن کا حصہ ہیں، تاہم سندھ میں سیلابی صورتحال کے باعث درخواست کی گئی کہ اجلاس موخر کیا جائے-

    سیلاب متاثرین کے لیے الخدمت کی خیمہ بستی میں امدادی سرگرمیاں جاری

    واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے صدر مملکت آصف علی زرداری نے آئین کے آرٹیکل 160 (1) کے تحت 11واں قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ کی تشکیل کی تھی،وزارت خزانہ میں قائم این ایف سی سیکریٹریٹ سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق 11ویں قومی مالیاتی کمیشن 9 ارکان پر مشتمل ہے، وفاقی وزیر خزانہ اس کے چیئرمین جب کہ چاروں صوبوں کے وزرائے خزانہ کمیشن کے ارکان میں شامل ہوں گے،اسی طرح پنجاب حکومت کے نمائندے سابق بیوروکریٹ ناصر محمود کھوسہ، سندھ سے ماہر معاشیات ڈاکٹر اسد سید، خیبر پختونخوا سے ڈاکٹر مشرف رسول اور بلوچستان سے فرمان اللہ کو کمیشن کا رکن مقرر کیا گیا ہے۔

    سابق ایم این اے رمیش کمار کے گھر میں ڈکیتی، ڈاکو کروڑ وں،کا سامان لے اڑے

  • بعض پالیسیوں پر اختلافات کے باوجود پیپلز پارٹی وفاقی حکومت کےساتھ ہے،بلاول بھٹو

    بعض پالیسیوں پر اختلافات کے باوجود پیپلز پارٹی وفاقی حکومت کےساتھ ہے،بلاول بھٹو

    چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ،بعض پالیسیوں پر اختلافات کے باوجود پیپلز پارٹی وفاقی حکومت کےساتھ ہے۔

    نوڈیرو میں صاف ستھرا لاڑکانہ و روزگار اسکیم پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ 20 لاکھ گھروں پر مشتمل پیپلز ہاؤسنگ اسکیم دنیا کا سب سے بڑا منصوبہ ہے، نوڈیرواور رتوڈیرو میں خواتین کو گھروں کے مالکانہ حقوق دیے ہیں، ان گھروں کے بنانےکیلئے ایک لاکھ تک روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوئے، چاہتا ہوں یہ منصوبہ ایک دو سال تک مکمل ہو جائے۔

    بلاول بھٹو نے کہا کہ ماضی میں سندھ کیساتھ سوتیلی ماں کا سلوک کیا گیا، بعض پالیسیوں پر اختلافات کے باوجود پیپلز پارٹی وفاقی حکومت کےساتھ ہے،بلدیاتی نمائندوں کے درمیان کارکردگی کی بنیاد پر حوصلہ افزا مقابلے ہونے چاہئیں، وزیراعلیٰ اچھی کارکردگی کے حامل بلدیاتی نمائندوں کو مزید فائدہ مند سہولیات فراہم کریں۔

    قبل،ازیں،پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور پیپلز پارٹی وومن ونگ سندھ کی صدر فریال تالپور کے ہمراہ گوٹھ راہوجا کا دورہ کیا بلاول بھٹو نے نو تعمیر شدہ مکانوں کا دورہ بھی کیا اور سیلاب زدگان کے گھروں کی تعمیر مکمل ہونے کے بعد گوٹھ کی خواتین میں مالکانہ حقوق کی سندیں تقسیم کیں۔ دورے کے موقع پر کمسن طالبعلم سے دلچسپ مکالمہ ہوا۔

    بلاول بھٹو نے طالبعلم حمزہ علی سے سوال کیا کہ آپ بڑے ہوکر کیا بننا چاہتے ہیں، جس پر بچے نے جواب دیا میں بڑے ہوکر پائلٹ بننا چاہتا ہوں۔بلاول بھٹو نے کہا شاباش آپ پائلٹ بن کربھارتی جہاز گرانا دورے کے موقع پر سندھ رورل سپورٹ آرگنائزیشن (سرسو)کے حکام نے بلاول بھٹو زرداری کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ایک لاکھ بیس ہزار مکانات میں سے نوے ہزار مکانات کی تعمیر مکمل ہو چکی ہے جبکہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت مستحقین میں سولر پلیٹیں، پنکھے، انورٹر اور دیگر اشیأ کی تقسیم بھی جاری ہے۔

  • دہلی ہائی کورٹ نے مودی کی تعلیمی  اسناد  عوامی طور پر ظاہر کرنے کا حکمنامہ منسوخ کر دیا

    دہلی ہائی کورٹ نے مودی کی تعلیمی اسناد عوامی طور پر ظاہر کرنے کا حکمنامہ منسوخ کر دیا

    نئی دہلی ہائی کورٹ نے وفاقی انفارمیشن کمیشن (سی آئی سی) کی جانب سے 2016 میں رائٹ ٹو انفارمیشن (آر ٹی آئی) کارکن کو وزیر اعظم نریندر مودی کے گریجویشن (بی اے) کا ریکارڈ دیکھنے کی اجازت دینے کا حکم نامہ منسوخ کر دیا۔

    بھارتی اخبار ’دی ہندو‘ کے مطابق،نئی دہلی ہائی کورٹ نے فیصلہ سنایا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی تعلیمی اسناد عوامی طور پر ظاہر نہیں کی جاسکتیں،ساتھ،ہی،عدالت نے وہ حکم بھی کالعدم قرار دے دیا ہے، جس کے تحت آر ٹی آئی کارکن کو دہلی یونیورسٹی کے 1978 کے بی اے کے ریکارڈ دیکھنے کی اجازت ملنی تھی، یہ وہی سال ہے، جب نریندر مودی نے گریجویشن کیا تھا۔

    175 صفحات پر مشتمل مشترکہ فیصلے میں جسٹس سچن،دتہ نے یہ قرار دیا کہ سی آئی سی کا سی بی ایس ای کو بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی لیڈر سمرتی ایرانی کی دسویں اور بارہویں جماعت کے ریکارڈ فراہم کرنے کی ہدایت درست نہیں، اور درخواست کے مطابق مطلوبہ معلومات کے بارے میں کوئی پوشیدہ عوامی مفاد نہیں ہے، ہر وہ چیز جو عوامی دلچسپی کا باعث ہو، وہ ’عوامی مفاد‘ کے مترادف نہیں ہے، اور 21 دسمبر 2016 کے سی آئی سی کے حکم کو کالعدم قرار دے دیا،عدالت نے کہا کہ مودی نے اپنی تعلیمی قابلیت کے بارے میں مختلف بیانات دیے، لیکن یہ حیران کن ہے کہ اگر انہوں نے گریجویٹ ہونے کا دعویٰ کیا تو عوامی تجسس کی خاطر اس کی تصدیق کیوں کی جائے؟۔

    آسٹریلیا کا ایران پر یہودی مخالف حملوں میں ملوث ہونے کا الزام، ایرانی سفیر کی ملک بدری کا حکم

    آر ٹی آئی کارکن نیرج کی درخواست پر سی آئی سی نے دہلی یونیورسٹی کو حکم دیا تھا کہ 1978 کے بی اے امتحان کے رجسٹر کا معائنہ کرایا جائے، جس میں تمام طلبہ کے رول نمبر، نام، والد کا نام اور نمبر درج ہوں، اور متعلقہ صفحات کی مصدقہ نقول فراہم کی جائیں۔

    سی آئی سی کے حکم کو دہلی یونیورسٹی نے عدالت میں چیلنج کیا، اور عدالت نے پہلی ہی سماعت (24 جنوری 2017) میں اس حکم پر عمل درآمد روک دیا،یونیورسٹی نے کہا کہ وہ 1978 میں بی اے کے امتحان دینے والے تمام طلبہ کی ذاتی معلومات ظاہر نہیں کر سکتی، کیوں کہ یہ معلومات ’رازداری‘ میں رکھی گئی ہیں، اور آر ٹی آئی ایکٹ کے تحت ان کا انکشاف مستثنیٰ ہے، سی آئی سی کا حکم تمام یونیورسٹیوں کے لیے دور رس منفی نتائج کا باعث بن سکتا ہے، جن کے پاس کروڑوں طلبہ کے ڈگری ریکارڈ محفوظ ہیں۔

    جسٹس دتہ نے یونیورسٹی کے مؤقف سے اتفاق کیا اور کہا کہ عدالت اس حقیقت سے آنکھیں بند نہیں کر سکتی کہ جو چیز بظاہر ایک بے ضرر یا الگ تھلگ انکشاف لگے، وہ اندھا دھند مطالبات کے دروازے کھول سکتا ہے، جو کسی حقیقی عوامی مفاد کے بجائے غیر سنجیدہ تجسس یا سنسنی پھیلانے کے جذبے پر مبنی ہوں،یہ حقیقت کہ معلومات کسی عوامی شخصیت سے متعلق ہیں، اس بات کو ختم نہیں کرتی کہ ذاتی معلومات پر نجی حیثیت یا رازداری کا حق قائم ہے، خاص طور پر جب یہ عوامی ذمہ داریوں سے متعلق نہ ہوں،یہ ڈیٹا، جو کسی طالب علم کی تعلیمی زندگی کے مختلف پہلوؤں سے متعلق ہے، یونیورسٹی اعتماد اور بھروسے کے ساتھ رکھتی ہے، اور طلبہ کو یہ جائز توقع ہوتی ہے کہ ان کے ریکارڈ کی رازداری قائم رکھی جائے گی۔

    ڈیرہ غازی خان: ممکنہ سیلاب، ضلعی انتظامیہ نے این جی اوز سے تعاون طلب کر لیا

    دہلی یونیورسٹی کی نمائندگی کرنے والے سولیسیٹر جنرل تشار مہتا نے کہا کہ آر ٹی آئی کا مقصد کسی تیسرے فریق کی تجسس کی تسکین نہیں ہے، آر ٹی آئی ایکٹ کی دفعہ 6 اس بات کی ضمانت دیتی ہے کہ معلومات فراہم کی جائیں گی، یہی اس کا مقصد ہے، لیکن آر ٹی آئی کسی کا تجسس مٹانے کے لیے نہیں ہے۔

    سی آئی سی نے اپنے حکم میں دہلی یونیورسٹی کو معائنہ کرانے کو کہا تھا اور اس دلیل کو مسترد کر دیا تھا کہ یہ کسی تیسرے فریق کی ذاتی معلومات ہیں، اور کہا کہ اس دلیل میں ’کوئی وزن ہے نہ ہی کوئی قانونی حیثیت۔

    نارنگ منڈی میں مہنگائی کا طوفان، انتظامیہ کی طوطاچشمی