Baaghi TV

Tag: تازہ ترین

  • امریکا اور ایران کچھ معاملات پر اتفاق تک پہنچ گئےتھے،ایرانی وزیر خارجہ

    امریکا اور ایران کچھ معاملات پر اتفاق تک پہنچ گئےتھے،ایرانی وزیر خارجہ

    تہران: ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کچھ معاملات پر اتفاق تک پہنچ گئےتھے تاہم دو، تین اہم ایشوز کے سبب ڈیل نہ ہوسکی۔

    ترجمان ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے کہنے کے بعد کہ امریکہ ایران مذاکرات میں کوئی معاہدہ نہیں ہوا اور واشنگٹن نے اپنی ‘بہترین، حتمی پیشکش’ کی ہے، اس کے بعد کسی کو بھی ایک ملاقات سے ڈیل کی توقع نہیں تھی ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والا مذاکرا ت کا یہ دور اس ایک سال میں مذاکرات کا طویل ترین دور تھا جو 24 یا 25 گھنٹے جاری رہا،دونوں فریق کچھ معاملات پر اتفاق تک پہنچ گئےتھے تاہم دو، تین اہم ایشوزکے سبب ڈیل نہ ہو سکی جبکہ دیگرامورپرنکتہ نظرمیں اختلاف موجود ہے۔

    اسماعیل بقائی نے کہا کہ سفارت کاری کبھی ختم نہیں ہوتی، یہ قومی مفادات کے تحفظ کا ایک ذریعہ ہے، یہ توقع نہیں ہونی چاہیےتھی کہ ہم ایک ہی نشست میں کسی معاہدے تک پہنچ جائیں گے، میرے خیال میں کسی کو بھی ایسی توقع نہیں تھی، ایران خطے میں پاکستان دیگردوستوں کے ساتھ رابطے میں رہےگا، پاکستان کی حکومت، عوام اور وزیر اعظم شہباز شریف کا شکریہ اداکرتاہوں۔

  • گلوکارہ آشا بھوسلے 92 برس کی عمر میں انتقال کرگئیں

    گلوکارہ آشا بھوسلے 92 برس کی عمر میں انتقال کرگئیں

    بھارتی موسیقی کی معروف گلوکارہ آشا بھوسلے 92 برس کی عمر میں ممبئی میں انتقال کرگئیں۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق آشا بھوسلے کو گزشتہ روز سینے میں شدید درد کی شکایت پر ممبئی کے بریچ کینڈی اسپتال میں داخل کیا گیا تھا جہاں انہیں مبینہ طور پر دل کا دورہ پڑا جس سے وہ جانبر نہ ہوسکیں۔

    آشا بھوسلے کے بیٹے آنند بھوسلے نے کہا ہے کہ ان کی والدہ کا انتقال ہو چکا ہے اور ان کی آخری رسومات کل دوپہر 4 بجے ممبئی کے شیو جی پارک میں ادا کی جائیں گی اسی بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ مداح کل صبح 11 بجے کاسا گرینڈ، لوئر پرل میں ان کی آخری دیدار کر سکیں گے۔

    آشا بھوسلے نے اپنی منفرد آواز اور غیر معمولی ورسٹائل انداز سے کئی دہائیوں تک فلمی دنیا پر راج کیا ان کی پیدائش 8 ستمبر 1933 کو بھارتی ریاست مہاراشٹر کے شہر سنگلی میں ہوئی وہ مشہور گلوکارہ لتا منگیشکر کی بہن تھیں، تاہم انہوں نے اپنی الگ شناخت قائم کی۔

    آشا بھوسلے نے بہت کم عمری میں گلوکاری کا آغاز کیا اور بعد میں بھارتی فلم انڈسٹری میں پلے بیک سنگنگ کے ذریعے شہرت حاصل کی، انہوں نے ہزاروں گانے مختلف زبانوں میں گائے جن میں ہندی، مراٹھی، بنگالی، تامل اور دیگر علاقائی زبانیں شامل ہیں انہوں نے اپنی طو یل فنی زندگی میں بارہ ہزار سے زائد گانے ریکارڈ کیے، جو انہیں دنیا کی سب سے زیادہ ریکارڈنگ کرنے والی فنکاراؤں میں شمار کرتا ہے۔

  • گوادر ریفائنری منصوبے میں سعودی عرب 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا

    گوادر ریفائنری منصوبے میں سعودی عرب 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا

    پاکستان میں توانائی کے شعبے کے لیے ایک بڑی سرمایہ کاری متوقع ہے سعودی عرب گوادر میں جدید آئل ریفائنری کے قیام کے لیے تقریباً 10 ارب ڈالر لگانے کا ارادہ رکھتا ہے، جس میں سعودی تیل کمپنی آرامکو پاکستانی سرکاری کمپنیوں کے ساتھ مل کر کام کرے گی۔

    میڈیا میں شائع سیف الرحمان کی رپورٹ کے مطابق اس منصوبے کے لیے ابتدائی بات چیت مکمل ہو چکی ہے اور اب شراکت داری کے خد وخال طے کیے جا رہے ہیں آرامکو اس میگا پراجیکٹ میں لیڈ کرے گی جبکہ پاکستان کی چار بڑی کمپنیاں، پی ایس او، او جی ڈی سی ایل، پی پی ایل اور جی ایچ پی ایل مجموعی طور پر 40 سے 45 فیصد حصہ داری رکھیں گی۔

    مجوزہ ریفائنری کی یومیہ پیداواری صلاحیت 4 لاکھ بیرل تک ہو سکتی ہے، جو پاکستان کی موجودہ ریفائننگ ضروریات کا بڑا حصہ پورا کرے گی۔ منصوبے کو قابلِ عمل بنانے کے لیے حکومت کی جانب سے 20 سالہ ٹیکس چھوٹ دینے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔

    ذرائع کے مطابق یہ سرمایہ کاری نہ صرف گوادر کو علاقائی انرجی حب بنائے گی بلکہ سی پیک کے تحت اقتصادی سرگرمیوں کو بھی نئی رفتار دے گی، سعودی عرب کی جانب سے گوادر میں آئل ریفائنری کا قیام طویل عرصے سے زیر بحث تھا، اور اب اس پر عملی پیش رفت کا امکان روشن ہو گیا ہے۔

  • پاکستان میں ایران امریکا جنگ بندی مذاکرات ، بھارت  میًں صف ماتم بچھ گئی

    پاکستان میں ایران امریکا جنگ بندی مذاکرات ، بھارت میًں صف ماتم بچھ گئی

    پاکستان میں ایران امریکا جنگ بندی مذاکرات نے بھارت میًں صف ماتم بچھا دی ہے، مودی کو ہرطرف سے تنقید کا سامنا ہے۔

    خلیجی جنگ کے تناظر میں بھارت کی سفارتی ناکامی پر اپوزیشن جماعت کانگریس نے نام نہاد ’وشوا گرو‘ مودی کو آڑے ہاتھوں لے لیا،بھارتی جریدے ڈیکن ہیرالڈ کے مطابق سینئرکانگریس رہنما جئے رام رامیش نےایکس پر پوسٹ میں کہا کہ پاکستان کے بطور ثالث مرکزی کردار نے خودساختہ وشوا گرو مودی کی انداز سیاست پر سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں.

    انہوں نے کہا کہ مودی کی "نمستے ٹرمپ” اور” پھر ایک بار ٹرمپ سرکار” مہم کے باوجود امریکا نے پاکستان کو یہ کردار کیسے ادا کرنے دیا، کانگریس لیڈر مودی امریکا کے ساتھ یکطرفہ تجارتی معاہدے پر رضامند ہونے کے باوجود کوئی سیاسی فائدہ نہ اٹھاسکے،جئے رام رامیش بھارت برکس پلس کی صدارت کے باوجود خلیجی جنگ کے تناظرمیں کوئی مصالحتی قدم کیوں نہ اٹھاسکا۔

  • مشرقِ وسطیٰ میں جنگ یا امن؟ سفارتکاری کے نازک لمحے،تجزیہ  : شہزاد قریشی

    مشرقِ وسطیٰ میں جنگ یا امن؟ سفارتکاری کے نازک لمحے،تجزیہ : شہزاد قریشی

    مشرقِ وسطیٰ میں جنگ یا امن؟ سفارتکاری کے نازک لمحے

    امریکہ ایران کشیدگی جنگ بندی کی امید یا وقتی خاموشی؟

    عالمی طاقتیں متحرک، کیا مشرقِ وسطیٰ ایک بڑے بحران سے بچ جائے گا؟

    دو ہفتوں کی مہلت: کیا سفارتکاری جنگ پر غالب آ سکتی ہے؟

    مشرقِ وسطیٰ میں امن کی ایک نئی امید کیا جنگ ٹل سکتی ہے؟

    عالمی سیاست ایک بار پھر ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے جہاں امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لینے کا خدشہ پیدا کر دیا ہے۔ ایسے حساس وقت میں اگر کوئی ملک مذاکرات کے ذریعے کشیدگی کم کرنے میں کردار ادا کرتا ہے تو یہ ایک خوش آئند پیش رفت سمجھی جاتی ہے۔

    اس تناظر میں پاکستان کا کردار قابلِ تحسین طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔ پاکستان نے نہایت متوازن اور ذمہ دار سفارتکاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے فریقین کو مذاکرات کی طرف لانے میں اہم پیش رفت کی ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب کشیدگی عروج پر تھی، پاکستان نے پل کا کردار ادا کرتے ہوئے امن کے لیے سنجیدہ کوششوں کا آغاز کیا۔ یہ اقدام نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن کے لیے ایک مثبت اور تعمیری قدم ہے، جو پاکستان کی سفارتی بصیرت اور ذمہ دارانہ عالمی کردار کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ تنازعات کے حل کے لیے جنگ کے بجائے مذاکرات اور امن کو ترجیح دی ہے، جو اس کی خارجہ پالیسی کا ایک مستقل اور مثبت پہلو رہا ہے۔

    حالیہ صورتحال میں یہ تاثر ابھر کر سامنے آیا ہے کہ سفارتی سطح پر کچھ پیش رفت ہوئی ہے، اور دونوں فریقین کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ مذاکرات کے ذریعے کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اگر واقعی جنگ بندی (سیز فائر) کے لیے دو ہفتوں کا وقت طے پایا ہے تو یہ ایک اہم موقع ہے جسے ضائع نہیں ہونا چاہیے۔

    تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جنگ بندی کے ابتدائی لمحات ہمیشہ نازک ہوتے ہیں۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب اعتماد سازی کی ضرورت سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ اگر اس عرصے کے دوران فریقین سنجیدگی کا مظاہرہ کریں، اشتعال انگیزی سے گریز کریں اور مذاکرات کو جاری رکھیں، تو ایک مستقل حل کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

    اس تنازعے کی پیچیدگی اس بات میں ہے کہ یہ صرف دو ممالک تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات پورے خطے پر پڑتے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی مختلف سیاسی، مذہبی اور جغرافیائی تنازعات کا مرکز رہا ہے۔ اگر یہ کشیدگی کھلی جنگ میں تبدیل ہوتی ہے تو نہ صرف علاقائی استحکام خطرے میں پڑے گا بلکہ عالمی معیشت بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے، خاص طور پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور تجارتی راستوں کی بندش کے باعث۔

    بین الاقوامی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس موقع کو ضائع نہ ہونے دے۔ بڑی طاقتوں کو چاہیے کہ وہ اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے دونوں فریقین کو مذاکرات کی میز پر قائم رکھیں۔ اس کے ساتھ ساتھ غیر جانبدار ممالک کا کردار بھی نہایت اہم ہو جاتا ہے جو اعتماد سازی میں پل کا کردار ادا کر سکتے ہیں۔

    یہ بھی حقیقت ہے کہ کسی بھی دیرپا امن کے لیے صرف وقتی جنگ بندی کافی نہیں ہوتی۔ اس کے لیے بنیادی مسائل کو حل کرنا ضروری ہوتا ہے، جن میں سیکیورٹی خدشات، علاقائی اثر و رسوخ، اور جوہری پروگرام جیسے حساس معاملات شامل ہیں۔ جب تک ان نکات پر کھلے دل سے بات چیت نہیں ہوگی، تب تک مستقل امن ایک خواب ہی رہے گا۔

    تاہم، موجودہ حالات میں امید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے اگر جنگ بندی میں توسیع ہوتی ہے اور مذاکرات کا سلسلہ جاری رہتا ہے، تو یہ ایک مثبت پیش رفت ہوگی جو خطے کو ایک بڑے بحران سے بچا سکتی ہے دنیا اس وقت ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں ایک غلط فیصلہ بڑے پیمانے پر تباہی کا سبب بن سکتا ہے، جبکہ ایک دانشمندانہ قدم امن اور استحکام کی نئی راہیں کھول سکتا ہے۔ اب یہ فیصلہ عالمی قیادت کے ہاتھ میں ہے کہ وہ تاریخ میں اپنا کردار کس طرح درج کروانا چاہتی ہے۔

  • ایران نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں ہٹانے کا امریکی دعویٰ مسترد کر دیا

    ایران نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں ہٹانے کا امریکی دعویٰ مسترد کر دیا

    ایران نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں ہٹانے اور ایک نیا محفوظ راستہ بنانے کے لیے امریکی جہازوں کی آمد کا دعویٰ سختی سے مسترد کردیا۔

    ایرانی فوج کے مرکزی ہیڈکوارٹر خاتم الانبیا کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکی سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر کا یہ دعویٰ جھوٹ پر مبنی ہے،ایرانی کمانڈر نے امریکی جہاز کے آبنائے ہرمز میں داخل ہونے کے دعوے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی بحری جہاز کی نقل و حرکت اور گزرگاہ کا اختیار ایران کی مسلح افواج کے ہاتھ میں ہے۔

    واضح رہے کہ امریکی سینٹرل کمانڈ سینٹکام نے دعویٰ کیا تھا کہ اس کے دو جنگی جہازوں نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں ہٹانے اور ایک محفوظ راستہ تیار کرنے کے مشن میں حصہ لیایہ دونوں جہاز بارودی سرنگیں ہٹانے کےمشن کو شروع کرنے کےبعد آبنائے ہرمز سےگزر کر خلیج میں داخل ہوگئے ہیں۔

    قبل ازیں امریکی حکام نے بتایا تھا کہ ایران نے چھوٹی کشتیوں کے ذریعے ان بارودی سرنگوں کو بچھایا تھا اور اس کا مکمل ریکارڈ بھی محفوظ نہیں رکھا جب کہ کئی مائنز کے لہروں کے ذریعے سرک جانے یا بہہ جانے کا بھی خدشہ ہے زمین میں بچھائی گئی بارودی سرنگوں کی نسبت سمندری بارودی سرنگوں کو بچھانا اور پھر اسے کلیئر کرنا زیادہ مشکل کام ہے جس کی صلاحیت ایران کے پاس نہیں۔

    اس کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ امریکا آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگوں کو صاف کر رہا ہے جو کہ ان ممالک کو کرنا چاہئے تھا جو امریکا پر سب سے زیادہ تنقید کرتے ہیں۔

  • امریکا ایران کی جانب سےمسائل کے حل کیلئے سفارتکاری کو ترجیح دی جا رہی ہے،اسحاق ڈار

    امریکا ایران کی جانب سےمسائل کے حل کیلئے سفارتکاری کو ترجیح دی جا رہی ہے،اسحاق ڈار

    نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا نے وزیراعظم شہباز شریف کی اپیل پر جنگ بندی قبول کی اور اسلام آباد میں امن مذاکرات میں شرکت کی، جو خطے کے لیے مثبت پیشرفت ہے۔

    اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے اہم مذاکرات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ ایران اور امریکا نے وزیراعظم شہباز شریف کی اپیل پر جنگ بندی قبول کی اور اسلام آباد میں امن مذاکرات میں شرکت کی، جو خطے کے لیے مثبت پیش رفت ہے۔

    انہوں نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی جانب سے خطے میں فوری جنگ بندی کی اپیل کی گئی تھی، جس پر اسلامی جمہوریہ ایران اور ریاستہائے متحدہ امریکا دونوں نے مثبت ردعمل دیا، دونوں ممالک کے وفود گزشتہ روز پاکستان پہنچے تاکہ اسلام آباد مذاکرات میں شرکت کر سکیں پاکستان نے نہ صرف جنگ بندی کے حصول میں مدد فراہم کی بلکہ اس کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے بھی بھرپور کوششیں کیں، جو پورے خطے اور اس سے باہر کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔

    انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان آئندہ دنوں میں بھی ایران اور امریکا کے درمیان مکالمے اور رابطوں کو فروغ دینے میں اپنا کردار ادا کرتا رہے گا تاکہ خطے میں پائیدار امن اور استحکام کی راہ ہموار ہو سکے دونوں ممالک کی جانب سے جنگ بندی کے عزم اور مذاکرات میں شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ مسائل کے حل کے لیے سفارتکاری کو ترجیح دی جا رہی ہے، اور پاکستان اس عمل میں سہولت کار کے طور پر اپنا مثبت کردار جاری رکھے گا۔

  • بغیر کسی ڈیل کے واپس جا رہے ہیں، مستقبل میں بات چیت کے دروازے بند نہیں کیے، امریکی نائب صدر

    بغیر کسی ڈیل کے واپس جا رہے ہیں، مستقبل میں بات چیت کے دروازے بند نہیں کیے، امریکی نائب صدر

    امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں 21 گھنٹے طویل مذاکرات کے باوجود ایران کے ساتھ کوئی حتمی معاہدہ نہیں ہو سکا-

    اسلام آباد میں ہونے والے اہم امریکا ایران مذاکرات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان تقریباً 21 گھنٹے تک تفصیلی اور طویل مذاکرات ہوئے، تاہم اس کے باوجود کسی حتمی معاہدے تک پہنچنا ممکن نہ ہو سکا۔

    انہوں نے واضح طور پر کہا کہ یہ صورتحال ایران کے لیے بری خبر ہے کیونکہ امریکا نے اپنے مؤقف اور شرائط کھل کر سامنے رکھیں، مگر ایران نے انہیں تسلیم نہ کرنے کا انتخاب کیا،امریکا کو ایک واضح اور ٹھوس یقین دہانی درکار ہے کہ ایران نہ صرف اب بلکہ مستقبل میں بھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرے گا۔

    جے ڈی وینس نے کہا کہ مذاکرات کا بنیادی نکتہ یہی تھا کہ ایران ایک مضبوط اور قابلِ تصدیق عزم ظاہر کرے کہ وہ ایٹمی ہتھیار نہیں بنائے گا اور نہ ہی ایسے وسائل حاصل کرے گا جو اسے تیزی سے اس قابل بنا سکیں، تاہم اب تک ایسی کوئی حتمی یقین دہانی سامنے نہیں آئی اگرچہ معاہدہ نہیں ہو سکا، لیکن مثبت پہلو یہ ہے کہ ایرانی وفد کے ساتھ کئی اہم اور ٹھوس امور پر تفصیلی بات چیت ہوئی، جس سے آئندہ مذاکرات کے لیے کچھ بنیاد ضرور قائم ہوئی ہے۔

    امریکی نائب صدر نے کہا کہ مذاکرات کے دوران امریکی وفد مسلسل اپنے اعلیٰ حکام سے رابطے میں رہا اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ سمیت پینٹاگون اور نیشنل سیکیورٹی اداروں سے متعدد بار مشاورت کی گئی، تاکہ ہر مرحلے پر حکمت عملی کو واضح رکھا جا سکے امریکی وفد اب بغیر کسی معاہدے کے واپس امریکا جا رہا ہے، تاہم مستقبل میں بات چیت کے دروازے بند نہیں کیے گئے اور امید ہے کہ آگے چل کر پیشرفت ہو سکتی ہے۔

    جے ڈی وینس نے پاکستان کی قیادت کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے نہ صرف بہترین میزبانی کی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان اختلافات کم کرنے اور ممکنہ معاہدے کی راہ ہموار کرنے میں بھرپور کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے ’حیرت انگیز کام‘ کیا اور مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی۔

    پاکستان نے ایک ذمہ دار اور مؤثر ثالث کا کردار ادا کیا، تاہم حتمی پیش رفت کے لیے ایران کی جانب سے واضح اور عملی یقین دہانی ناگزیر ہے،امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اسلام آباد میں امریکا ایران مذاکرات کے دوران پاکستان کی قیادت کے کردار کو سراہتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کاوشوں کو ’حیرت انگیز‘ قرار دیا اور ان کی میزبانی و سفارتی کوششوں پر شکریہ ادا کیا۔

    اسلام آباد میں منعقد ہونے والے اہم امریکا ایران مذاکرات کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے پاکستان کے کردار کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے نہ صرف بہترین میزبانی کی بلکہ دونوں ممالک کے درمیان اختلافات کم کرنے اور ممکنہ معاہدے کی راہ ہموار کرنے میں بھرپور کوشش کی۔

    میڈیا سے گفتگو میں جے ڈی وینس نے خاص طور پر وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے مذاکر ا ت کے دوران انتہائی متحرک اور مثبت کردار ادا کیا،پاکستان کی قیادت نے ایک ذمہ دار ثالث کے طور پر کام کرتے ہوئے امریکا اور ایران کو قریب لانے کی سنجیدہ کوشش کی۔

    نائب صدر کے مطابق مذاکرات کے دوران کئی ایسے مواقع آئے جہاں پاکستان کی قیادت نے فریقین کے درمیان پل کا کردار ادا کیا اور بات چیت کو تعطل کا شکار ہونے سے بچایا، وزیراعظم اور فیلڈ مارشل نے نہ صرف اعلیٰ سطحی سفارتکاری کا مظاہرہ کیا بلکہ عملی طور پر بھی دونوں جانب اعتماد سازی کی کوششیں کیں۔

    جے ڈی وینس نے کہا کہ اگرچہ اس مرحلے پر کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پا سکا، تاہم پاکستان کی کوششوں نے مذاکرات کو ایک مثبت سمت ضرور دی اور کئی اہم نکات پر پیشرفت ممکن بنائی امریکی وفد اب واشنگٹن واپس جائے گا جہاں وہ ڈونلڈ ٹرمپ کو مذاکرات کی مکمل تفصیلات سے آگاہ کریں گے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی جانب سے فراہم کی گئی میزبانی اور سہولیات عالمی معیار کے مطابق تھیں، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کے لیے سنجیدہ اور فعال کردار ادا کر رہا ہے،وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے نہایت پیشہ ورانہ انداز میں قیادت کی اور ان کی کاوشیں آئندہ کسی بھی ممکنہ معاہدے کے لیے بنیاد فراہم کر سکتی ہیں امی ہے کہ مستقبل میں جب بھی مذاکرات کا اگلا دور ہوگا، پاکستان اسی طرح ایک اہم اور مؤثر کردار ادا کرتا رہے گا۔

    امریکا اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والے اہم مذاکرات کے اختتام پر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن واپس روانہ ہو گئے، جہاں انہیں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے رخصت کیا۔

    یہ مذاکرات تقریباً 21 گھنٹے تک جاری رہے جن میں امریکا اور ایران کے درمیان اہم امور، خصوصاً جوہری پروگرام اور علاقائی کشیدگی کے حوالے سے تفصیلی بات چیت کی گئی۔ تاہم طویل مذاکرات کے باوجود فریقین کسی حتمی معاہدے تک نہ پہنچ سکے۔

    امریکی نائب صدر نے روانگی سے قبل اپنے بیان میں کہا تھا کہ اگرچہ مذاکرات میں پیشرفت کے کچھ پہلو سامنے آئے، لیکن بنیادی نکات پر اتفاق نہ ہو سکا انہوں نے واضح کیا کہ امریکا کو ایران کی جانب سے اس بات کی ٹھوس اور قابلِ تصدیق یقین دہانی درکار ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا۔

  • لاہور میں رواں سال پولیس افسران اور اہلکاروں کے خلاف 16 مقدمات درج

    لاہور میں رواں سال پولیس افسران اور اہلکاروں کے خلاف 16 مقدمات درج

    صوبائی دارالحکومت لاہور میں سال 2026ء کے دوران مختلف تھانوں میں پولیس افسران اور اہلکاروں کے خلاف 16 مقدمات درج ہوئے۔

    پولیس ریکارڈ کے مطابق درج شدہ مقدمات میں کانسٹیبل سے لے کر سب انسپکٹر تک کے 26 اہلکار نامزد کئے گئے،درج شدہ مقدمات میں 4 سب انسپکٹر، 6 اے ایس آئی نامزد کئے گئے مختلف تھانوں میں درج مقدمات میں 16 ہیڈ کانسٹیبل اور کانسٹیبل بھی نامزد ہوئےمقدمات کا اندراج مالی کرپشن، ناقص تفتیش اور اختیارات سے تجاوز کرنے پر ہوا۔

    سائلین کو ہراساں کرنے اور مختلف جرائم میں ملوث ہونے کے باعث بھی مقدمات درج ہوئے۔ماڈل ٹاؤن ڈویژن میں پولیس کے خلاف 4 مقدمات درج ہوئے سٹی اور سول لائنز ڈویژن میں پولیس کے خلاف 3، 3 مقدمات کا اندراج کیا گیا،صدر، اقبال ٹاؤن اور کینٹ ڈویژن میں پولیس کے خلاف 2، 2 مقدمات درج کئے گئے-

  • دو امریکی جنگی جہازوں کا آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کا عمل شروع

    دو امریکی جنگی جہازوں کا آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کا عمل شروع

    امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا ہے کہ نیوی کے دو جنگی جہازوں نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔

    امریکی سینٹکام کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بارودی سرنگوں سے پاک کرنے کا یہ آپریشن آبنائے ہرمز کو بحری جہازوں کی آمد و رفت کے لیے محفوظ بنانے کے لیے کیا جا رہا ہے-

    سینٹکام کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر براڈ کوپر نےکہ آج ہم نے ایک نیا محفوظ راستہ بنانے کا عمل شروع کر دیا ہے اور جلد ہی اس راستے سے بحری صنعت کو بھی آگاہ کریں گے تاکہ یہاں سے تجارت کی آزادانہ آمد و رفت کو فروغ دیا جا سکے۔

    امریکی بحریہ کے جنگی جہاز یو ایس ایس فرینک ای پیٹرسن اور یو ایس ایس مائیکل مرفی آبنائے ہرمز عبور کر کے خلیج میں داخل ہو گئے ہیں جو ایران کی جانب سے بچھائی گئی بارودی سرنگوں کو صاف کرنے کے وسیع مشن کے آغاز کی نشاندہی کرتا ہے۔

    اس آپریشن کا مقصد دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہ میں بحری آمد و رفت کو بحال کرنا ہے جو گزشتہ چھ ہفتوں سے عملی طور پر بند رہی جس کے باعث عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور سپلائی میں تاریخی خلل پیدا ہوا۔

    قبل ازیں امریکی حکام نے بتایا تھا کہ ایران نے چھوٹی کشتیوں کے ذریعے ان بارودی سرنگوں کو بچھایا تھا اور اس کا مکمل ریکارڈ بھی محفوظ نہیں رکھا جب کہ کئی مائنز کے لہروں کے ذریعے سرک جانے یا بہہ جانے کا بھی خدشہ ہے زمین میں بچھائی گئی بارودی سرنگوں کی نسبت سمندری بارودی سرنگوں کو بچھانا اور پھر اسے کلیئر کرنا زیادہ مشکل کام ہے جس کی صلاحیت ایران کے پاس نہیں۔

    اس کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ امریکا آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگوں کو صاف کر رہا ہے جو کہ ان ممالک کو کرنا چاہئے تھا جو امریکا پر سب سے زیادہ تنقید کرتے ہیں۔