Baaghi TV

Tag: تازہ ترین

  • سونے کی عالمی اور مقامی قیمتوں میں مزید کمی

    سونے کی عالمی اور مقامی قیمتوں میں مزید کمی

    عالمی اور مقامی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں آج بھی بڑی کمی ریکارڈ کی گئی۔

    بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں آج منگل کے روز فی اونس سونے کی قیمت میں 56 ڈالر کی کمی ریکارڈ ہوئی، جس کے نتیجے میں نئی عالمی قیمت 4 ہزار 17 ڈالر کی سطح پر آ گئی،جبکہ آل پاکستان صرافہ ایسوسی ایشن کے مطابق مقامی مارکیٹ میں فی تولہ سونا 5 ہزار 600 روپے سستا ہو گیا جس کے بعد فی تولہ سونے کی قیمت 4 لاکھ ، 24 ہزار 136 روپے ہو گئی،اسی طرح دس گرام سونے کی قیمت 4 ہزار 801 روپے کی کمی کے بعد 3 لاکھ 63 ہزار 628 ہو گئی۔

    جبکہ ملک میں فی تولہ چاندی کی قیمت بھی 50روپے کی کمی سے 6ہزار 289روپے اور فی 10 گرام چاندی کی قیمت 43روپے کی کمی سے 5ہزار 391روپے کی سطح پر آگئی۔

  • کراچی رینجرز کیمپ پر حملے کا ماسٹر مائنڈ قاری بشیر گرفتار،اعتراف جرم کرلیا

    کراچی رینجرز کیمپ پر حملے کا ماسٹر مائنڈ قاری بشیر گرفتار،اعتراف جرم کرلیا

    کراچی رینجرز کیمپ پر حملے میں ملوث سہولت کاروں کا نیٹ ورک بے نقاب ہو گیا، حملے کے ماسٹر مائنڈ قاری بشیر کو گرفتار کرلیا گیا۔

    وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے آئی جی سندھ جاوید عالم، ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی ذوالفقار لاڑک، اور ایس ایس پی سی ٹی ڈی عرفان بہادر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ27جون کو سندھ رینجرز کی ٹرانسپورٹ ورکشاپ پر 4 دہشت گردوں نے حملہ کیا تھا،دہشت گردوں کے تمام ہینڈلرز افغانستان سےمسلسل ہدایات دے رہے تھے،جس میں تین دہشتگردوں کا تعلق افغانستان جبکہ ایک کا باجوڑ سےتھاجو 20 برس افغانستان میں رہا دہشتگردوں کا مقصد لوگوں کو یرغمال بناکر جانی نقصان پہنچانا تھا، سندھ رینجرز کے کامیاب آپریشن میں تین دہشت گرد ہلاک اور ایک زخمی حالت میں گرفتار ہوا، سیکیورٹی فورسز نے دشمن کے ناپاک عزائم کو شکست دی۔

    وزیر داخلہ کا کہنا کہ پچھلے کئی سالوں سے بدامنی کی کارروائیاں جاری ہیں،کراچی میں بدامنی پھیلانےکی کوشش کی گئی،کراچی کے امن کوسبوتاژ کرنے کی سازشوں کوخاک میں ملایا،سیکیورٹی فورسز دشمن کی ہرسازش کوناکام بنارہی ہیں ،سیکیورٹی فورسزنے حملے کے سہولت کاروں کے نیٹ ورک کوبےنقاب کیا۔

    پریس کانفرنس کے دوران گرفتار زخمی دہشت گرد کا اعترافی ویڈیو بیان بھی نشر کیا گیادہشت گردوں کے منصوبے کے بارے میں بریف کرتے ہوئے بتایا گیا کہ وہ عوام کو یرغمال بنا کر شہر میں خوف و ہراس پھیلانا چاہتے تھے،رینجرز کیمپ پرحملے میں ملوث خارجی دہشت گردکااعترافی بیان بھی سامنےآیا،کراچی کا امن تباہ کرنے کی کسی بھی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔

    ضیا الحسن لنجار کا کہنا تھا کہ پاکستان مخالف قوتیں ملک کے امن کونقصان پہنچانے کےدرپے ہیں، ان کے خلاف سختی سے نمٹا جائے گا کئی افغانی عار ضی اجازت نامے، شادی اور مختلف کارڈز کے سہارے رہ رہے تھے،اب کسی بھی غیر قانونی مقیم افغان باشندے کو یہاں ٹھہرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی،پشتون برادری کی آڑ میں غیر قانونی افغان باشندے شہر میں گھل مل جاتے ہیں جو بڑا چیلنج ہےانتہائی محتاط اورجامع حکمتِ عملی کے ساتھ غیر قانونی افغان باشندوں کے خلاف کارروائی جاری ہے، افغان باشندوں کے خلاف آپریشن کے دوران اپنے شہریوں کو کسی صورت نقصان نہیں پہنچا سکتے۔

    ایس ایس پی سی ٹی ڈی عرفان بہادر نے کہا کہ اس دہشتگردی کی کارروائی کو چار حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے، پہلے افغانستان میں منصوبہ بندی ہوئی، دو سرے مرحلے میں دہشتگردوں کو پاکستان پہنچایا گیا، تیسرا مرحلہ سہولت کار گروپ کا تھا اور آخر میں اسلحہ و خود کش جیکٹس فراہم کی گئیں،ایک خودکش بمبار جا نان افغانی، دوسرا باجوڑ کا اور تیسرا عمر فاروق افغان صوبے کنڑ کا رہائشی تھا،زخمی حالت میں گرفتار چوتھے دہشت گرد عثمان کا تعلق افغانستان کے صوبہ ننگرہار سے ہے۔

    دہشگردوں کا افغانستان سے تعلق واضح کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ دہشت گرد عثمان کو افغانستان کی جامعہ سے منتخب کر کے 2 مختلف کیمپس میں تربیت دی گئی، منصوبہ بندی میں نور ولی، شیر علی، سعید شاہ اور جماعت الاحرار کا امیر بصیر عرف احرار ملا ملوث ہیں،حملے کا ماسٹر مائنڈ قاری بشیر ہے، جسے پاکستان سے افغانستان بلا کر یہ ٹاسک سونپا گیا تھا۔

    انہوں نے کہا کہ رینجرز نے آپریشن کے دوران ماسٹر مائنڈ قاری بشیر کو گرفتار کیا، جس نے جرائم کا اعتراف کیا،افغانستان میں دہشت گردوں کو تربیت دے کر پاکستان میں حملوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے،گرفتار زخمی دہشت گرد نے اپنے اعترافی بیان میں نیٹ ورک سے متعلق تفصیلات فراہم کر دیں دہشت گردوں کا گروہ بلوچستان کے مختلف راستوں سے ہوتا ہوا حب سٹی پہنچا،حب سٹی سے گاڑی کے ذریعے دہشت گردوں کو کراچی کی چمڑا چورنگی لایا گیا،گرفتار ما سٹر مائنڈ قاری بشیر نے دہشت گردوں کو کراچی میں کرائے پر کمرہ لے کر دیا تھا۔

    انہوں نے مزید بتایا کہ رینجرز حملے کی اس کارروائی میں قاری بشیر سمیت مجموعی طور پر 13 دہشت گرد ملوث ہیں،دہشتگرد عثمان نے موٹر سائیکل پر بیٹھ کر موسمیات جاکر ریکی کی،حملے کا اصل ماسٹر مائنڈ قاری بشیر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی گرفت میں آ چکا ہے،ماسٹر مائنڈ قاری بشیر نے حملے پر روانہ کرنے سے قبل دہشت گردوں کو رخصت کیاما سٹر مائنڈ قاری بشیر نے د ہشت گردوں کی ویڈیو بنائی،ٹی ٹی پی کمانڈر سعید شاہ کے کہنے پر اسمگلر احسان اللہ کے ذریعے کراچی ہتھیار پہنچائے گئے،پہلے مرحلے میں کلاشنکوف اور بعد میں دستی بم فراہم کیے گئے،ہتھیاروں کی فراہمی اور اسمگلنگ کے پورے نیٹ ورک میں رحیم آفریدی سمیت 6 ملزمان ملوث ہیں۔

    انہوں نے بتایا کہ قاری بشیر نے لیاقت نامی سہولت کار سے ہتھیارلیے اور کورنگی کراسنگ پر دہشت گردوں کے حوالے کیے،تمام تیاریاں مکمل ہونے پر ماسٹر مائنڈ قاری بشیر نے دہشت گردوں کو ٹیکسی کے ذریعے رینجرز کیمپ روانہ کیا،حملے کے آغاز میں خودکش بمبار جانان نے خود کو دھماکے سے اڑایاجس کے بعد اس کے 3 ساتھی اندر داخل ہوئے، خودکش دھماکے کے بعد پہلے دو اور پھر تیسرا دہشت گرد رینجرز کیمپ میں داخل ہوا،کارروائی کے دوران دہشت گرد وں سے کلاشنکوف، دستی بم اور گولیاں برآمد کر لی گئیں، رینجرز پر حملے کی منصوبہ بندی کرنے والے تمام اہم دہشت گرد اس وقت افغانستان میں موجود ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں اب بھی دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں موجود ہیں جہاں انہیں تربیت دی جاتی ہے،گرفتار ماسٹر مائنڈ قاری بشیر نے دورا ن تفتیش نیٹ ورک سے متعلق ناقابلِ تردید شواہد پیش کر دیئے ہیں، فتنہ الخوارج کے دہشت گرد پاکستانی حدود میں کارروائیوں کے لیے افغان سرزمین کواستعمال کر رہے ہیں۔

    پریس کانفرنس میں شریک آئی جی جاوید عالم اوڈھو کا کہنا تھا کہ سندھ میں رواں سال دہشت گردی کے صرف 7 واقعات ہوئے،جبکہ گزشتہ سال ایسے 37 واقعات پیش آئے تھے،سندھ میں خفیہ اطلاعات پر اب تک 770 سے زائد کامیاب آپریشنز کیے جا چکے ہیں تمام مراحل میں سی ٹی ڈی کی کارکردگی انتہا ئی متاثر کن رہی ہے،دہشت گردوں کا بنیادی مقصدکراچی کے امن و امان کو سبوتاژ کرنا تھا،پولیس اور سیکیورٹی فورسز کی 700 سے زائد کارروائیوں میں 75 دہشت گرد گرفتار کیےدہشت گردوں کو کارروائی کے لیے وقت اور جگہ کے انتخاب کا فائدہ ہوتا ہے،دہشت گردی کے لیے کلاشنکوف اور دیگر جدید ہتھیار بھی افغانستان سے لائے جا رہے ہیں۔

  • آپریشن شعبان ، بلوچستان میں مزید 4 دہشتگرد ہلاک

    آپریشن شعبان ، بلوچستان میں مزید 4 دہشتگرد ہلاک

    پاک فوج ، ایف سی بلوچستان اور پولیس کا مشترکہ آپریشن شعبان جاری، مزید 4 دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا گیا۔

    سکیورٹی ذرائع کے مطابق آپریشن شعبان میں ہلاک دہشتگردوں کی مجموعی تعداد 83 ہو گئی ، جبکہ 5 جولائی سے اب تک آپریشن شعبان اور دیگر آپریشنز میں121 خارجی ہلاک ہو چکے ہیں خارجیوں کو فضائی اور زمینی کارروائیوں میں نشانہ بنایا جا رہا ہے ، آخری دہشتگرد کے خاتمے تک بلوچستان میں آپریشن شعبان جاری رہے گا۔

    دوسری جانب دو روز قبل بلوچستان کے علاقے ماشکیل میں دہشتگردوں کی فائرنگ سے 5 مزدور جاں بحق ہوئے تھے، پولیس کے مطابق جاں بحق ہونے والے تمام افراد علاقے کی مختلف دکانوں پر کام کر رہے تھے، دہشت گردوں نے انہیں فائرنگ کا نشانہ بنایا۔

    وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے دہشتگردی کے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ دہشتگرد نہتے مزدوروں کو نشانہ بنا کر اپنے مکروہ عزائم بے نقاب کر چکے ہیں ، ماشکیل میں فائرنگ سے 5 افراد کے جاں بحق ہونے کا واقعہ قابل مذمت ہے۔ اور حکومت نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے شفاف تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔

  • اسرائیلی فوج کا حماس کے بحری کمانڈر سمیت 4 ارکان شہید کر نے کا دعوی

    اسرائیلی فوج کا حماس کے بحری کمانڈر سمیت 4 ارکان شہید کر نے کا دعوی

    اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ غزہ میں الگ الگ فضائی حملوں کے دوران حماس کی بحریہ کے ایک کمانڈر سمیت تنظیم کے4 ارکان کو شہید کر دیا ہے۔

    الجزیرہ کے مطابق اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ غزہ کے علاقے میں پیر کے روز کیے گئے حملے میں حماس کے نیول ارے کے سیل کمانڈر اسامہ نعیم حمدی شملخ کو نشانہ بنایا گیا حماس کی بحری شاخ سمندری کارروائیوں اور کمانڈو سرگرمیوں میں کردار ادا کرتی ہے۔

    بیان میں مزید کہا گیا کہ شمالی غزہ میں ایک اور فضائی حملے میں حماس کے مزید 3 ارکان شہید ہوئے اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ یہ افراد اسرائیلی دفاعی فورسز کے اہلکاروں پر حملے کی تیاری کر رہے تھے، جس کے بعد انہیں نشانہ بنایا گیا۔

    اسرائیلی فوج نے ان دعوؤں کے حوالے سے مزید شواہد جاری نہیں کیے، جبکہ حماس کی جانب سے بھی فوری طور پر اس بیان پر کوئی ردعمل یا شہادتوں کی تصدیق سامنے نہیں آئی۔

    واضح رہے کہ جنگ بندی معاہدے کے باوجود غزہ میں اسرائیلی مظالم جاری ہیں ، جنگ بندی کے بعد اسرائیلی حملوں میں اب تک مزید ایک ہزار 98 فلسطینی جاں بحق اور 3 ہزار 535 زخمی ہو چکے ہیں اسرائیلی فوج نے گزشتہ روزفضائی حملے کے بعد پھر علاقے سے انخلا کا حکم بھی دے دیا ہے فلسطینی خبر رساں ایجنسی نے غزہ کے طبی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ 7 اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی حملوں میں 73 ہزار 223 فلسطینی جاں بحق جبکہ ایک لاکھ 73 ہزار 654 زخمی ہو چکے ہیں۔

  • راولاکوٹ:کالعدم ایکشن کمیٹی کے شرپسندوں کا حملہ،سکیورٹی اہلکار شہید

    راولاکوٹ:کالعدم ایکشن کمیٹی کے شرپسندوں کا حملہ،سکیورٹی اہلکار شہید

    راولاکوٹ میں کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی سےوابستہ مسلح شرپسندوں نےسیکیورٹی فورسزاور شہریوں پرحملہ کر دیا،آٹومیٹک ہتھیاروں سےفائرنگ کے نتیجےمیں رینجرزکا ایک اہلکارشہید جبکہ دوسرا زخمی ہوگیا۔

    مذموم ایجنڈے میں ناکامی کے بعد آج صبح کالعدم ایکشن کمیٹی کےمسلح جتھوں نے متیال میرہ بس ٹرمینل راولاکوٹ کے قریب شہری آبادی پرفائرنک کی بزدلانہ کارروائی کے بعد امن وامان کی بحالی کیلئے پیش قدمی کرنے والی پولیس اور معاونت کیلئےپہنچنے والی رینجرزپرمسلح جتھوں نے جدید ہتھیاروں سے سیدھی فائرنگ کی،جس کے نتیجےمیں رینجرزکا ایک اہلکارشہید جبکہ دوسرا زخمی ہوگیا-

    واقعے کےبعد پولیس اورقانون نافذ کرنے والے اداروں نے بھرپورکارروائی کا آغاز کر دیا،آزاد کشمیر حکومت نے انتشاری عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے سابقہ مقدمات کی واپسی کا نوٹیفکیشن منسوخ کر دیا دوبارہ قانونی کارروائی شروع کرتے ہوئےسرغنہ مہران کےقریبی ساتھی ظہیرسمیت چھ ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے،مزید گرفتاریوں کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے جاری ہیں۔

    ماہرین کے مطابق کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کاجدید اسلحے اور بارودی مواد کا استعمال باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت پھیلائی گئی دہشتگردی ہے سیکیورٹی فورسز کی بے مثال قربانیاں اس حقیقت کی غماز ہیں کہ ریاستی رٹ کا ہر حال میں قیام اور تحفظ ناگزیر ہے،ریاستی اداروں پر حملوں میں ملوث مسلح جتھوں کے خلاف فوری، سخت اور بلا امتیاز قانونی کاروائی وقت کی اہم ضرورت ہے۔

  • مولانا فضل الرحمان نے آج تک  مسلمانوں کے تمام شہدا کی تضحیک کی ہے،فیاض الحسن چوہان

    مولانا فضل الرحمان نے آج تک مسلمانوں کے تمام شہدا کی تضحیک کی ہے،فیاض الحسن چوہان

    استحکام پاکستان پارٹی کے ترجمان فیاض الحسن چوہان نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے حالیہ بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ شہدا اور غازیوں کی قربانیوں کو تنخواہ سے جوڑنا پوری قوم کے جذبات کو مجروح کرنے کے مترادف ہے۔

    اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے فیاض الحسن چوہان نے کہا کہ پاک فوج کے جوان تنخواہ یا پیسے کے لیے نہیں بلکہ وطن، قوم اور اپنے نظریے کے دفاع کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہیں، شہدا اور غازیوں کی قربانیوں کو تنخواہ سے جوڑنا پوری قوم کے جذبات کو مجروح کرنے کے مترادف ہے –
    انہوں نے کہا کہ معرکہ حق میں افواج پاکستان نے اپنی صلاحیتوں کالوہامنوایا،جنگ میں پوری قوم متحد ہوکرافوا ج پاکستان کےساتھ کھڑی ہوئی،پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیے بھارت کی جانب سے سازشیں کی جا رہی ہیں، جبکہ سرحدوں پر تعینات سکیورٹی فورسز دشمن کے عزائم ناکام بنانے کے لیے مسلسل قربانیاں دے رہی ہیں، مولانافضل الرحمان نے شہداسے متعلق افسوسناک بیان دیا-

    فیاض الحسن چوہان نے کہا کہ میجر عدنان شہید نے اپنے ساتھی کی جان بچانے کے لیے اپنی جان قربان کی، جبکہ شہید تحسین کے والد نے اپنے بیٹے کی شہادت پر بھی ’پاکستان زندہ باد‘ کا نعرہ لگایا، جو وطن سے محبت اور قربانی کے جذبے کی روشن مثال ہے،تنخواہ سیاست دان، ڈاکٹر اور دیگر تمام پیشہ ور افراد بھی لیتے ہیں، لیکن اس بنیاد پر کسی کی خدمت یا قربانی کی اہمیت کم نہیں ہوتی۔

    انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان صاحب! آپ نے نبی پاکﷺ اور خلفائے راشدین سے لے کر آج تک مسلمانوں کے تمام شہدا کی تضحیک کی ہے، میں اللہ کے کرم سے ایک لٹریری اور دیوبند خاندان سے ہوں، جس کا ناجائز تاج تم (فضل الرحمان) اپنے سر پر بٹھاکر اپنے پورے خاندان کو پالنے لگے ہو-

  • پاکستان اور چین کے درمیان فارما انڈسٹری میں تعاون کی نئی شراکت داری کا امکان

    پاکستان اور چین کے درمیان فارما انڈسٹری میں تعاون کی نئی شراکت داری کا امکان

    پاکستان چین فارماسیوٹیکل اینڈ ہیلتھ کیئر بزنس ٹو بزنس انویسٹمنٹ کانفرنس 17 جولائی کو اسلام آباد میں منعقد ہوگی۔

    اعلامیے کے مطابق اس 2 روزہ کانفرنس کا انعقاد اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل، وزارت قومی صحت، ضوابط و رابطہ اور ڈرگ ریگولیٹری اتھار ٹی آف پاکستان کے اشتراک سے کیا جا رہا ہے کانفرنس کا مقصد پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی تعاون کو مزید فروغ دینا، سرمایہ کاری میں اضافہ ، جد ت طرازی کی حوصلہ افزائی اور فارماسیوٹیکل، ہیلتھ کیئر اور بایوٹیکنالوجی کے شعبوں میں اسٹریٹجک شراکت داری کو مضبوط بنانا ہے۔

    اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ یہ کانفرنس براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ اور پائیدار صنعتی ترقی کے لیے سازگار ماحول کی فراہمی کے حوالے سے ایس آئی ایف سی کے عزم کی عکاسی کرتی ہے یہ کانفرنس ایک اعلیٰ سطح کے بزنس ٹو بزنس پلیٹ فارم کے طور پر منعقد کی جا رہی ہے، جس میں پاکستا ن کی معروف فارماسیوٹیکل، ہیلتھ کیئر اور بایوٹیکنالوجی کمپنیوں کے ساتھ چینی سرمایہ کار، صنعت کار، ٹیکنالوجی فراہم کرنے والے ادارے اور دیگر کاروباری ر ہنما شریک ہوں گے۔

    اعلامیے کے مطابق، کانفرنس کے دوران شرکا کو تجارتی شراکت داری قائم کرنے، سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے اور دونوں ممالک کے درمیان کاروباری تعاون کو فروغ دینے کے مواقع میسر آئیں گے،کانفرنس میں منظم بزنس ٹو بزنس ملاقاتیں، نیٹ ورکنگ سیشنز اور سرمایہ کاری سے متعلق مذاکرات بھی ہوں گے، جن کا مقصد مشترکہ منصوبوں، ٹیکنالوجی کی منتقلی، کنٹریکٹ مینوفیکچرنگ، تحقیق میں تعاون اور مقامی سطح پر پیداوار کے فروغ جیسے شعبوں میں تعاون بڑھانا ہے۔

    اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ اس کانفرنس سے پاکستان کے ہیلتھ کیئر نظام کی جدید خطوط پر ترقی، فارماسیوٹیکل صنعت کی مسابقتی صلاحیت میں اضافہ اور دونوں ممالک کے درمیان بامعنی کاروباری روابط کو فروغ ملنے کی توقع ہے پاکستان چین فارماسیوٹیکل اینڈ ہیلتھ کیئر بی ٹو بی انویسٹمنٹ کانفرنس 2026 دونوں ممالک کے دیرینہ اسٹریٹجک تعلقات کو مزید مستحکم کرنے، طویل المدتی صنعتی تعاون کو فروغ دینے اور پائیدار اقتصادی ترقی و مشترکہ خوشحالی کے لیے سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔

  • وزیراعظم کی بیرونِ ملک سے آنے والی ترسیلاتِ زر کو 100 فیصد ڈیجیٹل بنانے کی ہدایت

    وزیراعظم کی بیرونِ ملک سے آنے والی ترسیلاتِ زر کو 100 فیصد ڈیجیٹل بنانے کی ہدایت

    وزیراعظم نے کہا کہ موبائل بینکنگ ایپ استعمال کرنے والوں کی تعداد کا ایک سال میں 9 کروڑ 50 لاکھ سے بڑھ کر 13 کروڑ 70 لاکھ تک پہنچ جانا ایک اہم کامیابی ہے، جبکہ بینکوں اور مالیاتی اداروں کو کیش لیس معیشت کے فروغ میں مزید فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔

    وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت کیش لیس معیشت اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ سے متعلق اجلاس میں گزشتہ سال کے دوران ہونے والی پیشرفت کا جائزہ لیا گیا، وزیراعظم نے معاشی ٹیم کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے لیے کیے گئے اقدامات مثبت نتائج د ے رہے ہیں۔

    انہوں نے ایک سال کے دوران کیو آر (QR) کوڈ کے ذریعے ڈیجیٹل ادائیگیاں وصول کرنے والے فعال مرچنٹس کی تعداد میں 300 فیصد اضافے پر معاشی ٹیم کو خراجِ تحسین پیش کیا اور ہدایت کی کہ تاجروں کو ڈیجیٹل ادائیگیوں کی جانب راغب کرنے کے لیے آگاہی مہم کو مزید مؤثر بنایا جائے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ موبائل بینکنگ ایپ استعمال کرنے والوں کی تعداد کا ایک سال میں 9 کروڑ 50 لاکھ سے بڑھ کر 13 کروڑ 70 لاکھ تک پہنچ جانا ایک اہم کامیابی ہے، جبکہ بینکوں اور مالیاتی اداروں کو کیش لیس معیشت کے فروغ میں مزید فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔

    انہوں نے بیرونِ ملک سے آنے والی ترسیلاتِ زر کو 100 فیصد ڈیجیٹل بنانے کی ہدایت بھی جاری کی اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی ادائیگیوں کو ڈیجیٹل نظام پر منتقل کرنے کے اقدام کو شفاف، تیز رفتار اور مستحقین کے لیے سہل قرار دیتے ہوئے سراہا۔

    اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ جون 2025 سے جون 2026 کے دوران ڈیجیٹل ادائیگیاں وصول کرنے والے مرچنٹس کی تعداد 300 فیصد اضافے کے بعد 20 لاکھ 3 ہزار ہو چکی ہے، جبکہ نادرا کی 99 فیصد ادائیگیاں ڈیجیٹل ہو چکی ہیں اور نقد ادائیگیوں کا تناسب 71 فیصد سے کم ہو کر صرف ایک فیصد رہ گیا ہے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ایک کروڑ مستحقین کو تمام ادائیگیاں ڈیجیٹل والٹ کے ذریعے کی جا رہی ہیں، جبکہ ملک میں موبائل بینکنگ ایپ استعما ل کرنے والوں کی تعداد 13 کروڑ 70 لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔

    اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ جولائی 2025 سے جون 2026 کے دوران 11.9 ارب ڈیجیٹل ٹرانزیکشنز ریکارڈ کی گئیں، جبکہ گزشتہ سال بیرونِ ملک سے آنے والی 92 فیصد ترسیلاتِ زر ڈیجیٹل ذرائع سے موصول ہوئیں کیش لیس معیشت کے حوالے سے تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن کا عمل جاری ہے اور اس کی حتمی رپورٹ سفارشات سمیت نومبر 2026 میں پیش کی جائے گی، جبکہ پاکستان بینکنگ ایسوسی ایشن نے بھی رکن بینکوں کو راست (RAAST) سمیت ڈیجیٹل اد ا ئیگیوں کے فروغ کے لیے اہداف دے دیے ہیں۔

    اجلاس میں وفاقی وزرا احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، عطا اللہ تارڑ، شزا فاطمہ خواجہ، علی پرویز ملک، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد، چیئرمین نادرا اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

  • شہدااور غازیوں کی  قربانیوں کو تنخواہ یا مراعات سے نہیں تولا جا سکتا،حنیف عباسی

    شہدااور غازیوں کی قربانیوں کو تنخواہ یا مراعات سے نہیں تولا جا سکتا،حنیف عباسی

    وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی نے کہا ہے کہ شہدا اور غازی قوم کا فخر ہیں، ان کی قربانیوں کو تنخواہ یا مراعات سے نہیں تولا جا سکتا-

    اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حنیف عباسی نے، بظاہر مولانا فضل الرحمان کے حالیہ بیان کے تناظر میں، کہا کہ مولانا فضل الرحمان آج بھی ہمارے لیے قابل احترام ہیں، تاہم شہدا کے اہلخانہ کے جذبات کا احترام پوری قوم کی ذمہ داری ہے، پاکستان ’لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ ﷺ‘ کی بنیاد پر قائم ہوا، جبکہ دہشتگردی کے خلاف اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے جوان پوری قوم کا فخر ہیں اور قوم انہیں سلام پیش کرتی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ شہدا اور غازیوں کی قربانیوں کی کوئی قیمت نہیں لگائی جا سکتی، پاک فوج کے شہدا پوری قوم کا فخر ہیں اور ان پر انگلی اٹھانا پوری قوم کے جذبات کو مجروح کرنے کے مترادف ہے،اختلافِ رائے اپنی جگہ، مگر شہدا کی قربانیوں کو تنخواہ یا ٹیکس سے جوڑنا درست نہیں، پاکستان کے خلاف پراکسی جنگ کرنے والوں کو ہر قیمت پر شکست دی جائے گی ان کے بقول دشمن پاکستان کو اندر سے کمزور کرنے کی سازش کر رہا ہے، تاہم دہشتگردوں اور پاکستان دشمن عناصر کے خلاف کارروائیاں پوری قوت سے جاری رہیں گی۔

    انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا، بلوچستان، کشمیر اور ملک کے دیگر حصوں سے تعلق رکھنے والے شہدا نے وطن کے دفاع کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا پاکستان کی سلامتی اور عوام کا تحفظ انہی قربانیوں کا نتیجہ ہے، جبکہ پاک فوج کسی ایک صوبے کی نہیں بلکہ پورے پاکستان کی فوج ہے، کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور کشمیری قیادت نے ہمیشہ پاکستان کے ساتھ الحاق کی جدوجہد کی ہے، حنیف عباسی نے قوم پر زور دیا کہ دہشتگردی کے خلاف متحد ہو کر کھڑی ہو، کیونکہ موجودہ حالات قومی اتحاد، یکجہتی اور شہدا کے احترام کے متقاضی ہیں-

  • آبنائے ہرمز میں دو بحری جہازوں کی ٹکر، ایران نے 23 ڈوبتے غیر ملکیوں کو بچا لیا

    آبنائے ہرمز میں دو بحری جہازوں کی ٹکر، ایران نے 23 ڈوبتے غیر ملکیوں کو بچا لیا

    ایران کے قریب آبنائے ہرمز میں قشم جزیرے کے شمالی حصے کے نزدیک دو مال بردار بحری جہازوں کے درمیان شدید تصادم کے نتیجے میں ایک جہاز کو سنگین نقصان پہنچا، تاہم ایران کی امدادی ٹیموں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے اس پر سوار 23 غیر ملکی عملے کے ارکان کو بحفاظت بچا لیا ہے۔

    ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق حادثہ اس وقت پیش آیا جب ایک بڑا مال بردار جہاز دوسرے بحری جہاز سے بری طرح ٹکرا گیا، تصادم اس قدر شدید تھا کہ متاثرہ جہاز کے نچلے حصے کو شدید نقصان پہنچا، جس کے باعث اس میں تیزی سے پانی بھرنا شروع ہوگیا اور جہاز کے ڈوبنے کا خطرہ پیدا ہوگیا۔

    رپورٹ کے مطابق صورت حال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے جہاز کے کپتان نے فوری طور پر ہنگامی انخلا کا حکم دیا، جس کے بعد عملے نے جہاز خالی کرنا شروع کر دیا ایرانی حکام اور امدادی اداروں نے اطلاع ملتے ہی ریسکیو آپریشن شروع کیا اور جہاز پر سوار تمام 23 غیر ملکی عملے کے ارکان کو بحفاظت نکال کر قشم جزیر ے پر منتقل کر دیا۔

    فارس نیوز ایجنسی کے مطابق امدادی کارروائی بروقت مکمل کی گئی، جس کے باعث کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی، تصادم کے بعد متاثرہ جہاز میں تیزی سے پانی بھر رہا تھا، تاہم امدادی ٹیموں نے تمام افراد کو محفوظ مقام تک منتقل کرنے میں کامیابی حاصل کی حادثے کے بعد متاثرہ جہاز کی صو رتحال کا جائزہ لیا جا رہا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت کو محفوظ رکھنے اور حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے بھی تحقیقات اور ضروری اقدا ما ت جاری ہیں۔

    دوسری جانب ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا نے رپورٹ کیا کہ منگل کے روز بندر عباس میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جبکہ جزیرہ کیش پر چھ دھماکوں اور قشم جزیرے پر بھی مزید دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ تاہم ان دھماکوں اور بحری حادثے کے درمیان کسی براہ راست تعلق کی تصدیق نہیں کی گئی۔