ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا اور اسرائیل کی جانب سے دوبارہ حملہ کیا گیا تو یورینیم کی 90 فیصد افزودگی جیسے سخت اقدامات پر غور کیا جا سکتا ہے۔
ایرانی پارلیمان کی خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کمیٹی کے ترجمان ابراہیم رضائی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان میں کہا ہے کہ اگر امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف دوبارہ جارحیت کی گئی تو ایران ممکنہ طور پر یورینیم کی 90 فیصد تک افزودگی پر غور کرے گا اس معاملے کا پارلیمنٹ میں جائزہ لیا جائے گا۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سخت لہجہ اختیار کیا اور ایران کے ساتھ ہونے والی موجودہ جنگ بندی کے بارے میں کہا کہ یہ اس وقت لائف سپورٹ پر ہے جو کسی بھی وقت ختم ہو سکتی ہے انہوں نے ایران کی جانب سے بھیجی گئی امن تجاویز کو احمقانہ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا اور کہا کہ ایران نے ایک فضول دستاویز بھیجی ہے جسے پڑھنے کا بھی میرا دل نہیں کیا۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران پہلے اپنا یورینیم دینے پر راضی تھا لیکن اب وہ اس سے مکر رہا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ صرف امریکا اور چین ہی جوہری مواد کو محفوظ طریقے سے منتقل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ ان پر کسی قسم کا کوئی دباؤ نہیں ہے اور وہ ایران کے خلاف مکمل فتح حاصل کر کے رہیں گے۔
ایران نے بھی امریکی دھمکیوں کا جواب دینے کے لیے کمر کس لی ہے اور بحری دفاع کو مضبوط کرنے کے لیے آبنائے ہرمز میں اپنی چھوٹی آبدوزیں روانہ کر دی ہیں ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ آبدوزیں آبنائے ہرمز کی چھپی ہوئی محافظ ثابت ہوں گی اور کسی بھی دشمن کو یہاں سے گزرنے کی اجازت نہیں دیں گی۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے صدر ٹرمپ کے بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی مسلح افواج کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے پوری طرح تیار ہیں اور دنیا پہلے بھی دیکھ چکی ہے کہ غلط فیصلوں اور غلط حکمت عملی کا انجام ہمیشہ بھیانک ہوتا ہے،ہم ہر قسم کی صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں اور اگر امریکا نے کوئی غلطی کی تو اسے وہ نتائج بھگتنے پڑیں گے جو اسے حیران کر دیں گے۔
دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی بحری فورس کے ریئر ایڈمرل محمد اکبرزادہ نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کے محافظوں نے ثابت کر دیا ہے کہ اس اہم آبی گزرگاہ پر ایران کا مؤثر اور طاقتور کنٹرول موجود ہے،ایران آبنائے ہرمز کو صرف ایک محدود جغرافیائی مقام کے طور پر نہیں بلکہ ایک اسٹریٹجک نقطۂ نظر سے دیکھتا ہے، جو دیگر ممالک کی سوچ سے مختلف ہےماضی میں آبنائے ہرمز کو صرف ہرمز اور جزائر کے اطراف موجود ایک محدود علاقہ تصور کیا جاتا تھا، تاہم اب صورت حال مکمل طور پر تبدیل ہو چکی ہے۔
ایرانی عہدیدار کے مطابق ماضی میں اس آبی گزرگاہ کی چوڑائی 20 سے 30 میل سمجھی جاتی تھی، لیکن اب یہ 200 سے 300 میل یعنی تقریباً 500 کلومیٹر تک پھیل چکی ہے، جو جاسک اور سیریک سے جزیرہ قشم اور تنبِ بزرگ سے آگے تک محیط ’چاند‘ کی شکل اختیار کر چکی ہے۔
محمد اکبرزادہ نےکہا کہ ایران کی خطے کے دیگر ملکوں کے عوام سے کوئی دشمنی نہیں، تاہم بعض حکومتیں ہمیشہ ایران مخالف رویہ اپناتی رہی ہیں بعض ممالک ایران کے ہر اقدام کو اس انداز میں پیش کرتے ہیں جیسے ایران انہیں فتح کرنا چاہتا ہو، حالانکہ یہ تصور مکمل طور پر غلط ہے اور ایران کے بارے میں یہ ایک منفی اور جھوٹی تصویر بنائی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے توانائی، تجارتی سامان کی ترسیل اور ٹرانزٹ کے شعبوں میں کبھی رکاوٹ پیدا نہیں کی بلکہ عالمی برادری کو وسیع خدمات فراہم کیں بعض مواقع پر ایران نے اپنے علاقائی پانیوں سے گزرنے والے جہازوں، حتیٰ کہ مخالف ممالک کے بحری جہازوں کو بھی سیکیورٹی فراہم کی اور یہ خدما ت مفت مہیا کی گئیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ ایران خطے میں ہونے والی تمام نقل و حرکت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور اپنے سمندری حدود اور قومی مفادات پر کسی قسم کی جارحیت کی اجازت نہیں دے گا خطے میں بدلتے حالات کے تناظر میں نئی پالیسیاں نافذ کی جا رہی ہیں، جن کے اثرات دنیا جلد دیکھے گیانہوں نے ایرانی عوام کو یقین دہانی کرائی کہ ایران کی مسلح افواج ملک کی خودمختاری اور جغرافیائی سالمیت کے دفاع کیلئے ہر وقت تیار ہیں۔









