Baaghi TV

Tag: تازہ ترین

  • لبنان میں اسرائیلی کارروائیاں،متعدد سرحدی دیہات مکمل  تباہ

    لبنان میں اسرائیلی کارروائیاں،متعدد سرحدی دیہات مکمل تباہ

    جنوبی لبنان میں جاری اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے دوران متعدد سرحدی دیہات کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے، جہاں گھروں کو بارودی مواد سے اُڑا کر زمین بوس کیا جا رہا ہے۔

    برطانوی اخبار دی گارڈین کی جانب سے جائزہ لی گئیں ویڈیوز میں دکھایا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے سرحدی دیہات طیبہ، نقورہ اور دیر سریان میں بڑے پیمانے پر دھماکے کیےلبنانی میڈیا نے دیگر سرحدی علاقوں میں بھی ایسی ہی کارروائیوں کی اطلاع دی ہے، تاہم ان دعوؤں کی تصدیق کے لیے سیٹلائٹ تصاویر فوری طور پر دستیاب نہیں ہو سکیں۔

    یہ کارروائیاں اس وقت سامنے آئیں جب اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے سرحدی دیہات میں تمام گھروں کو تباہ کرنے کا مطالبہ کیا، اور اس حوالے سے غزہ کے علاقوں رفح اور بیت حنون میں اپنائے گئے ماڈل کی پیروی کی بات کی، اسرائیلی فوج اس سے قبل جنوبی غزہ کے شہر رفح میں تقریباً 90 فیصد گھروں کو تباہ کر چکی ہے،یہ کارروائیاں بڑے پیمانے پر ریموٹ کنٹرول دھماکوں کے ذریعے کی جا رہی ہیں۔

    غزہ میں گھروں کے بڑے پیمانے پر تباہی کو ماہرین نے ڈومیسائیڈ قرار دیا ہے، جو ایک ایسی حکمت عملی ہے جس کے تحت شہری رہائش گاہوں کو منظم انداز میں تباہ کر کے پورے علاقے کو ناقابلِ رہائش بنا دیا جاتا ہے اسرائیل پر غزہ میں نسل کشی کے الزامات بھی عائد کیے جا چکے ہیں۔

    اسرائیلی فوج کا مؤقف ہے کہ ان کارروائیوں کا ہدف حزب اللہ کے بنیادی ڈھانچے جیسے سرنگیں اور عسکری تنصیبات ہیں، جنہیں ان کے مطابق شہری گھروں میں قائم کیا گیا ہے۔

    اسرائیل نے اعلان کیا ہے کہ وہ جنوبی لبنان کے وسیع علاقوں پر قبضہ کر کے دریائے لیتانی تک ایک سیکیورٹی زون قائم کرے گا، اور جب تک شمالی اسرائیل کے شہروں کی سیکیورٹی یقینی نہیں بن جاتی، بے گھر افراد کو واپس آنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اس اعلان نے طویل مدتی بے دخلی کے خدشات کو بڑھا دیا ہے۔

  • انڈیا کو پیغام ہے اپنے حکمرانوں کو سمجھائیں عوام پر توجہ دیں،حنیف عباسی

    وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی کا کہنا ہے کہ پاکستان نے ایران امریکا کے مابین امن مذاکرات کے لیے کردار ادا کرکے ثابت کیا کہ امن کے پیامبر ہیں-

    راولپنڈی ریلوے اسٹیشن پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے آج پاکستان کی شان دیکھیں کہ ایران، مصر اور یورپی یونین میں پاکستان کے ترانے پڑھے جا رہے ہیں، 193 ملکوں کو یہ منظر نصیب نہیں ہوا جو پاکستان کو ہوا، ان شاء اللہ اکانومی گروتھ بڑھے گی، گوادر اور کراچی پورٹ اَپ گریڈ ہوں گے کہ یہاں سرگرمیوں کے باعث جگہ نہیں ملے گی، پاکستانی عوام بھی جانتی ہیں کہ ملک بہت اہم کام کر رہا ہے اور لوگ مبارکباد دے رہے ہیں، راولپنڈی اسلام آباد کے بند ہونے پر بھی عوام نے خوش اسلوبی سے سہا کیونکہ یہ پاکستان کے مفاد میں تھا۔

    وفاقی وزیر حنیف عباسی کا مذاکرات سے متعلق کہنا تھا کہ ایٹمی دھماکے کیے جس کہ وجہ سے کوئی پاکستان کی جانب آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھ سکتا اور آج پاکستان کی شان دیکھیں کہ آپ امن کے پیامبر بن گئے، یہ کارنامہ اس سے قبل کسی نے دیکھا اور نہ سنا،پاکستان خطے کا محفوظ ترین ملک ہے اور یقین رکھیں محفو ظ صرف اپنا گھر ہوتا ہے انڈیا کو پیغام ہے اپنے حکمرانوں کو سمجھائیں عوام پر توجہ دیں، وہاں 70 فیصد کو ٹوائلٹ میسر نہیں، دہلی کے چند جگہوں پر ترقی و ز ندگی نظر آتی ہے، مودی سے کہتا ہوں 10 مئی کو شسکت کے زخم چاٹے تھے، اب آپ اپنا گھر بچائے۔

    محکمہ ریلوے کی کاکردگی سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نے ریلوے کی بہتری کے لیے بیل آؤٹ پیکج دیا ہے، اب نہ بجلی بند ہوگی اور نہ گیس، ریلو ے مزید ترقی کرے گا، سفاری ٹرین کو اَپ گریڈ کرکے تمام کوچز کو ایئر کنڈیشنڈ کر دیا گیا، مسافروں اور اسٹاف کو مزید سہولیات بھی دے رہے ہیں۔

    حنیف عباسی نے کہا کہ سفاری ٹرین پہلے بھی چلتی تھی لیکن فرق سوچ کا اور عوام کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کا ہے، سہولت کو سندھ میں بھی شروع کیا ہے راولپنڈی میں سفاری ٹرین کی کسی کوچ میں اے سی نہیں تھا اور عوام کو شدید گرمی میں سفر کرنا پڑتا تھا لیکن ٹرین و کوچز کو اَپ گریڈ کرکے ہر کوچ میں اے سی نصب کر دیا گیا ہے اور سیٹیں بھی کشن کی گئی ہیں راولپنڈی سے گولڑہ، مارگلہ اور اٹک خود کے تاریخی سیاحتی مقام تک ہر اسٹیشن پر ٹرین ر کتی ہے جہاں مسافروں کو ریفریشمنٹ اور تاریخ سے آگاہ کیا جاتا ہے۔

    انہوں ںے کہا کہ ہمیں ریلوے مزدور کا احساس ہے، تمام دن شدید گرمی میں محنت کرتا ہے، ٹریک کو مینٹین کرتا ہے، ورکشاپوں میں کام کرتا ہے، ایسے تمام عملے کا ریلوے معترف ہے مانتا ہوں ٹریک کے ایشوز ہیں، سالوں سے لوکو موٹیو بہتر نہیں ہوئی، ان شاء اللہ جولائی تک اَپ ریلوے لوکو موٹیو میں بہتر ی دیکھیں گےستمبر کے پہلے ہفتے میں لاہور تا راولپنڈی ٹریک سے متعلق اسٹون لینگ کرنے جا رہے ہیں لاہور اور راولپنڈی کے ٹریک پر ڈھائی ار ب کی لاگت سے پنجاب حکومت کام کرے گی، مریم نواز کی توجہ چاہیے تھی وہ مل گی ہے وہ کام بہت تیزی سے کرتی ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کے ساتھ روہڑی جنکشن کے حوالے سے جوائنٹ وینچر کر رہے ہیں، 40 فیصد سندھ حکومت اور 60 فیصد وفاق دے گا۔ کے پی حکومت سے بات چیت نہیں ہوئی لیکن سیکرٹری ریلوے کے ذریعے رابطہ کیا ہے، ہمارا دل بڑا ہے تھر کول ایک سو پانچ کلو میڑ پہلی مرتبہ کرنے جا رہے ہیں یہ بھی حقیقت ہےکہ 300 مسافروں کو لےجانے والا پائلٹ فائیو اسٹار ہوٹل میں رہتا ہےاور ریلوے کے 1100 مسافروں کو لے جانے والے ٹرین ڈرائیور کے لیے کوئی سہولت نہیں لیکن اب ہم دیں گے پاکستان ریلوے کو پہلے سے بہت زیادہ ترقی دیں گے کفایت شعاری کے سلسلے میں تین گاڑیاں استعمال نہیں کیں، تمام افسران کا کٹ اسی دن لگا جب حکومت نے لگایا، پیٹرول کی قیمت خوشی سے نہیں بڑھائی جاتی، دعا کریں سیز فائر جاری رہے تو بہتری آئے گی۔

    قبل ازیں، وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے سینیئر مسلم لیگی خاتون رہنما و ممبر قومی اسمبلی طاہرہ اورنگزیب کے ہمراہ راولپنڈی اسٹیشن سے اٹک خورد کے تاریخی سیاحتی مقام تک چلنے و اَپ گریڈ کی جانے والی سفاری ٹرین کا افتتاح کیا۔

  • امریکا اور ایران کچھ معاملات پر اتفاق تک پہنچ گئےتھے،ایرانی وزیر خارجہ

    امریکا اور ایران کچھ معاملات پر اتفاق تک پہنچ گئےتھے،ایرانی وزیر خارجہ

    تہران: ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کچھ معاملات پر اتفاق تک پہنچ گئےتھے تاہم دو، تین اہم ایشوز کے سبب ڈیل نہ ہوسکی۔

    ترجمان ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے کہنے کے بعد کہ امریکہ ایران مذاکرات میں کوئی معاہدہ نہیں ہوا اور واشنگٹن نے اپنی ‘بہترین، حتمی پیشکش’ کی ہے، اس کے بعد کسی کو بھی ایک ملاقات سے ڈیل کی توقع نہیں تھی ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والا مذاکرا ت کا یہ دور اس ایک سال میں مذاکرات کا طویل ترین دور تھا جو 24 یا 25 گھنٹے جاری رہا،دونوں فریق کچھ معاملات پر اتفاق تک پہنچ گئےتھے تاہم دو، تین اہم ایشوزکے سبب ڈیل نہ ہو سکی جبکہ دیگرامورپرنکتہ نظرمیں اختلاف موجود ہے۔

    اسماعیل بقائی نے کہا کہ سفارت کاری کبھی ختم نہیں ہوتی، یہ قومی مفادات کے تحفظ کا ایک ذریعہ ہے، یہ توقع نہیں ہونی چاہیےتھی کہ ہم ایک ہی نشست میں کسی معاہدے تک پہنچ جائیں گے، میرے خیال میں کسی کو بھی ایسی توقع نہیں تھی، ایران خطے میں پاکستان دیگردوستوں کے ساتھ رابطے میں رہےگا، پاکستان کی حکومت، عوام اور وزیر اعظم شہباز شریف کا شکریہ اداکرتاہوں۔

  • گلوکارہ آشا بھوسلے 92 برس کی عمر میں انتقال کرگئیں

    گلوکارہ آشا بھوسلے 92 برس کی عمر میں انتقال کرگئیں

    بھارتی موسیقی کی معروف گلوکارہ آشا بھوسلے 92 برس کی عمر میں ممبئی میں انتقال کرگئیں۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق آشا بھوسلے کو گزشتہ روز سینے میں شدید درد کی شکایت پر ممبئی کے بریچ کینڈی اسپتال میں داخل کیا گیا تھا جہاں انہیں مبینہ طور پر دل کا دورہ پڑا جس سے وہ جانبر نہ ہوسکیں۔

    آشا بھوسلے کے بیٹے آنند بھوسلے نے کہا ہے کہ ان کی والدہ کا انتقال ہو چکا ہے اور ان کی آخری رسومات کل دوپہر 4 بجے ممبئی کے شیو جی پارک میں ادا کی جائیں گی اسی بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ مداح کل صبح 11 بجے کاسا گرینڈ، لوئر پرل میں ان کی آخری دیدار کر سکیں گے۔

    آشا بھوسلے نے اپنی منفرد آواز اور غیر معمولی ورسٹائل انداز سے کئی دہائیوں تک فلمی دنیا پر راج کیا ان کی پیدائش 8 ستمبر 1933 کو بھارتی ریاست مہاراشٹر کے شہر سنگلی میں ہوئی وہ مشہور گلوکارہ لتا منگیشکر کی بہن تھیں، تاہم انہوں نے اپنی الگ شناخت قائم کی۔

    آشا بھوسلے نے بہت کم عمری میں گلوکاری کا آغاز کیا اور بعد میں بھارتی فلم انڈسٹری میں پلے بیک سنگنگ کے ذریعے شہرت حاصل کی، انہوں نے ہزاروں گانے مختلف زبانوں میں گائے جن میں ہندی، مراٹھی، بنگالی، تامل اور دیگر علاقائی زبانیں شامل ہیں انہوں نے اپنی طو یل فنی زندگی میں بارہ ہزار سے زائد گانے ریکارڈ کیے، جو انہیں دنیا کی سب سے زیادہ ریکارڈنگ کرنے والی فنکاراؤں میں شمار کرتا ہے۔

  • گوادر ریفائنری منصوبے میں سعودی عرب 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا

    گوادر ریفائنری منصوبے میں سعودی عرب 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا

    پاکستان میں توانائی کے شعبے کے لیے ایک بڑی سرمایہ کاری متوقع ہے سعودی عرب گوادر میں جدید آئل ریفائنری کے قیام کے لیے تقریباً 10 ارب ڈالر لگانے کا ارادہ رکھتا ہے، جس میں سعودی تیل کمپنی آرامکو پاکستانی سرکاری کمپنیوں کے ساتھ مل کر کام کرے گی۔

    میڈیا میں شائع سیف الرحمان کی رپورٹ کے مطابق اس منصوبے کے لیے ابتدائی بات چیت مکمل ہو چکی ہے اور اب شراکت داری کے خد وخال طے کیے جا رہے ہیں آرامکو اس میگا پراجیکٹ میں لیڈ کرے گی جبکہ پاکستان کی چار بڑی کمپنیاں، پی ایس او، او جی ڈی سی ایل، پی پی ایل اور جی ایچ پی ایل مجموعی طور پر 40 سے 45 فیصد حصہ داری رکھیں گی۔

    مجوزہ ریفائنری کی یومیہ پیداواری صلاحیت 4 لاکھ بیرل تک ہو سکتی ہے، جو پاکستان کی موجودہ ریفائننگ ضروریات کا بڑا حصہ پورا کرے گی۔ منصوبے کو قابلِ عمل بنانے کے لیے حکومت کی جانب سے 20 سالہ ٹیکس چھوٹ دینے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔

    ذرائع کے مطابق یہ سرمایہ کاری نہ صرف گوادر کو علاقائی انرجی حب بنائے گی بلکہ سی پیک کے تحت اقتصادی سرگرمیوں کو بھی نئی رفتار دے گی، سعودی عرب کی جانب سے گوادر میں آئل ریفائنری کا قیام طویل عرصے سے زیر بحث تھا، اور اب اس پر عملی پیش رفت کا امکان روشن ہو گیا ہے۔

  • پاکستان میں ایران امریکا جنگ بندی مذاکرات ، بھارت  میًں صف ماتم بچھ گئی

    پاکستان میں ایران امریکا جنگ بندی مذاکرات ، بھارت میًں صف ماتم بچھ گئی

    پاکستان میں ایران امریکا جنگ بندی مذاکرات نے بھارت میًں صف ماتم بچھا دی ہے، مودی کو ہرطرف سے تنقید کا سامنا ہے۔

    خلیجی جنگ کے تناظر میں بھارت کی سفارتی ناکامی پر اپوزیشن جماعت کانگریس نے نام نہاد ’وشوا گرو‘ مودی کو آڑے ہاتھوں لے لیا،بھارتی جریدے ڈیکن ہیرالڈ کے مطابق سینئرکانگریس رہنما جئے رام رامیش نےایکس پر پوسٹ میں کہا کہ پاکستان کے بطور ثالث مرکزی کردار نے خودساختہ وشوا گرو مودی کی انداز سیاست پر سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں.

    انہوں نے کہا کہ مودی کی "نمستے ٹرمپ” اور” پھر ایک بار ٹرمپ سرکار” مہم کے باوجود امریکا نے پاکستان کو یہ کردار کیسے ادا کرنے دیا، کانگریس لیڈر مودی امریکا کے ساتھ یکطرفہ تجارتی معاہدے پر رضامند ہونے کے باوجود کوئی سیاسی فائدہ نہ اٹھاسکے،جئے رام رامیش بھارت برکس پلس کی صدارت کے باوجود خلیجی جنگ کے تناظرمیں کوئی مصالحتی قدم کیوں نہ اٹھاسکا۔

  • مشرقِ وسطیٰ میں جنگ یا امن؟ سفارتکاری کے نازک لمحے،تجزیہ  : شہزاد قریشی

    مشرقِ وسطیٰ میں جنگ یا امن؟ سفارتکاری کے نازک لمحے،تجزیہ : شہزاد قریشی

    مشرقِ وسطیٰ میں جنگ یا امن؟ سفارتکاری کے نازک لمحے

    امریکہ ایران کشیدگی جنگ بندی کی امید یا وقتی خاموشی؟

    عالمی طاقتیں متحرک، کیا مشرقِ وسطیٰ ایک بڑے بحران سے بچ جائے گا؟

    دو ہفتوں کی مہلت: کیا سفارتکاری جنگ پر غالب آ سکتی ہے؟

    مشرقِ وسطیٰ میں امن کی ایک نئی امید کیا جنگ ٹل سکتی ہے؟

    عالمی سیاست ایک بار پھر ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے جہاں امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لینے کا خدشہ پیدا کر دیا ہے۔ ایسے حساس وقت میں اگر کوئی ملک مذاکرات کے ذریعے کشیدگی کم کرنے میں کردار ادا کرتا ہے تو یہ ایک خوش آئند پیش رفت سمجھی جاتی ہے۔

    اس تناظر میں پاکستان کا کردار قابلِ تحسین طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔ پاکستان نے نہایت متوازن اور ذمہ دار سفارتکاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے فریقین کو مذاکرات کی طرف لانے میں اہم پیش رفت کی ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب کشیدگی عروج پر تھی، پاکستان نے پل کا کردار ادا کرتے ہوئے امن کے لیے سنجیدہ کوششوں کا آغاز کیا۔ یہ اقدام نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن کے لیے ایک مثبت اور تعمیری قدم ہے، جو پاکستان کی سفارتی بصیرت اور ذمہ دارانہ عالمی کردار کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ تنازعات کے حل کے لیے جنگ کے بجائے مذاکرات اور امن کو ترجیح دی ہے، جو اس کی خارجہ پالیسی کا ایک مستقل اور مثبت پہلو رہا ہے۔

    حالیہ صورتحال میں یہ تاثر ابھر کر سامنے آیا ہے کہ سفارتی سطح پر کچھ پیش رفت ہوئی ہے، اور دونوں فریقین کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ مذاکرات کے ذریعے کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اگر واقعی جنگ بندی (سیز فائر) کے لیے دو ہفتوں کا وقت طے پایا ہے تو یہ ایک اہم موقع ہے جسے ضائع نہیں ہونا چاہیے۔

    تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جنگ بندی کے ابتدائی لمحات ہمیشہ نازک ہوتے ہیں۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب اعتماد سازی کی ضرورت سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ اگر اس عرصے کے دوران فریقین سنجیدگی کا مظاہرہ کریں، اشتعال انگیزی سے گریز کریں اور مذاکرات کو جاری رکھیں، تو ایک مستقل حل کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

    اس تنازعے کی پیچیدگی اس بات میں ہے کہ یہ صرف دو ممالک تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات پورے خطے پر پڑتے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی مختلف سیاسی، مذہبی اور جغرافیائی تنازعات کا مرکز رہا ہے۔ اگر یہ کشیدگی کھلی جنگ میں تبدیل ہوتی ہے تو نہ صرف علاقائی استحکام خطرے میں پڑے گا بلکہ عالمی معیشت بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے، خاص طور پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور تجارتی راستوں کی بندش کے باعث۔

    بین الاقوامی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس موقع کو ضائع نہ ہونے دے۔ بڑی طاقتوں کو چاہیے کہ وہ اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے دونوں فریقین کو مذاکرات کی میز پر قائم رکھیں۔ اس کے ساتھ ساتھ غیر جانبدار ممالک کا کردار بھی نہایت اہم ہو جاتا ہے جو اعتماد سازی میں پل کا کردار ادا کر سکتے ہیں۔

    یہ بھی حقیقت ہے کہ کسی بھی دیرپا امن کے لیے صرف وقتی جنگ بندی کافی نہیں ہوتی۔ اس کے لیے بنیادی مسائل کو حل کرنا ضروری ہوتا ہے، جن میں سیکیورٹی خدشات، علاقائی اثر و رسوخ، اور جوہری پروگرام جیسے حساس معاملات شامل ہیں۔ جب تک ان نکات پر کھلے دل سے بات چیت نہیں ہوگی، تب تک مستقل امن ایک خواب ہی رہے گا۔

    تاہم، موجودہ حالات میں امید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے اگر جنگ بندی میں توسیع ہوتی ہے اور مذاکرات کا سلسلہ جاری رہتا ہے، تو یہ ایک مثبت پیش رفت ہوگی جو خطے کو ایک بڑے بحران سے بچا سکتی ہے دنیا اس وقت ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں ایک غلط فیصلہ بڑے پیمانے پر تباہی کا سبب بن سکتا ہے، جبکہ ایک دانشمندانہ قدم امن اور استحکام کی نئی راہیں کھول سکتا ہے۔ اب یہ فیصلہ عالمی قیادت کے ہاتھ میں ہے کہ وہ تاریخ میں اپنا کردار کس طرح درج کروانا چاہتی ہے۔

  • ایران نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں ہٹانے کا امریکی دعویٰ مسترد کر دیا

    ایران نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں ہٹانے کا امریکی دعویٰ مسترد کر دیا

    ایران نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں ہٹانے اور ایک نیا محفوظ راستہ بنانے کے لیے امریکی جہازوں کی آمد کا دعویٰ سختی سے مسترد کردیا۔

    ایرانی فوج کے مرکزی ہیڈکوارٹر خاتم الانبیا کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکی سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر کا یہ دعویٰ جھوٹ پر مبنی ہے،ایرانی کمانڈر نے امریکی جہاز کے آبنائے ہرمز میں داخل ہونے کے دعوے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی بحری جہاز کی نقل و حرکت اور گزرگاہ کا اختیار ایران کی مسلح افواج کے ہاتھ میں ہے۔

    واضح رہے کہ امریکی سینٹرل کمانڈ سینٹکام نے دعویٰ کیا تھا کہ اس کے دو جنگی جہازوں نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں ہٹانے اور ایک محفوظ راستہ تیار کرنے کے مشن میں حصہ لیایہ دونوں جہاز بارودی سرنگیں ہٹانے کےمشن کو شروع کرنے کےبعد آبنائے ہرمز سےگزر کر خلیج میں داخل ہوگئے ہیں۔

    قبل ازیں امریکی حکام نے بتایا تھا کہ ایران نے چھوٹی کشتیوں کے ذریعے ان بارودی سرنگوں کو بچھایا تھا اور اس کا مکمل ریکارڈ بھی محفوظ نہیں رکھا جب کہ کئی مائنز کے لہروں کے ذریعے سرک جانے یا بہہ جانے کا بھی خدشہ ہے زمین میں بچھائی گئی بارودی سرنگوں کی نسبت سمندری بارودی سرنگوں کو بچھانا اور پھر اسے کلیئر کرنا زیادہ مشکل کام ہے جس کی صلاحیت ایران کے پاس نہیں۔

    اس کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ امریکا آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگوں کو صاف کر رہا ہے جو کہ ان ممالک کو کرنا چاہئے تھا جو امریکا پر سب سے زیادہ تنقید کرتے ہیں۔

  • امریکا ایران کی جانب سےمسائل کے حل کیلئے سفارتکاری کو ترجیح دی جا رہی ہے،اسحاق ڈار

    امریکا ایران کی جانب سےمسائل کے حل کیلئے سفارتکاری کو ترجیح دی جا رہی ہے،اسحاق ڈار

    نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا نے وزیراعظم شہباز شریف کی اپیل پر جنگ بندی قبول کی اور اسلام آباد میں امن مذاکرات میں شرکت کی، جو خطے کے لیے مثبت پیشرفت ہے۔

    اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے اہم مذاکرات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ ایران اور امریکا نے وزیراعظم شہباز شریف کی اپیل پر جنگ بندی قبول کی اور اسلام آباد میں امن مذاکرات میں شرکت کی، جو خطے کے لیے مثبت پیش رفت ہے۔

    انہوں نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی جانب سے خطے میں فوری جنگ بندی کی اپیل کی گئی تھی، جس پر اسلامی جمہوریہ ایران اور ریاستہائے متحدہ امریکا دونوں نے مثبت ردعمل دیا، دونوں ممالک کے وفود گزشتہ روز پاکستان پہنچے تاکہ اسلام آباد مذاکرات میں شرکت کر سکیں پاکستان نے نہ صرف جنگ بندی کے حصول میں مدد فراہم کی بلکہ اس کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے بھی بھرپور کوششیں کیں، جو پورے خطے اور اس سے باہر کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔

    انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان آئندہ دنوں میں بھی ایران اور امریکا کے درمیان مکالمے اور رابطوں کو فروغ دینے میں اپنا کردار ادا کرتا رہے گا تاکہ خطے میں پائیدار امن اور استحکام کی راہ ہموار ہو سکے دونوں ممالک کی جانب سے جنگ بندی کے عزم اور مذاکرات میں شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ مسائل کے حل کے لیے سفارتکاری کو ترجیح دی جا رہی ہے، اور پاکستان اس عمل میں سہولت کار کے طور پر اپنا مثبت کردار جاری رکھے گا۔

  • بغیر کسی ڈیل کے واپس جا رہے ہیں، مستقبل میں بات چیت کے دروازے بند نہیں کیے، امریکی نائب صدر

    بغیر کسی ڈیل کے واپس جا رہے ہیں، مستقبل میں بات چیت کے دروازے بند نہیں کیے، امریکی نائب صدر

    امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں 21 گھنٹے طویل مذاکرات کے باوجود ایران کے ساتھ کوئی حتمی معاہدہ نہیں ہو سکا-

    اسلام آباد میں ہونے والے اہم امریکا ایران مذاکرات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان تقریباً 21 گھنٹے تک تفصیلی اور طویل مذاکرات ہوئے، تاہم اس کے باوجود کسی حتمی معاہدے تک پہنچنا ممکن نہ ہو سکا۔

    انہوں نے واضح طور پر کہا کہ یہ صورتحال ایران کے لیے بری خبر ہے کیونکہ امریکا نے اپنے مؤقف اور شرائط کھل کر سامنے رکھیں، مگر ایران نے انہیں تسلیم نہ کرنے کا انتخاب کیا،امریکا کو ایک واضح اور ٹھوس یقین دہانی درکار ہے کہ ایران نہ صرف اب بلکہ مستقبل میں بھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرے گا۔

    جے ڈی وینس نے کہا کہ مذاکرات کا بنیادی نکتہ یہی تھا کہ ایران ایک مضبوط اور قابلِ تصدیق عزم ظاہر کرے کہ وہ ایٹمی ہتھیار نہیں بنائے گا اور نہ ہی ایسے وسائل حاصل کرے گا جو اسے تیزی سے اس قابل بنا سکیں، تاہم اب تک ایسی کوئی حتمی یقین دہانی سامنے نہیں آئی اگرچہ معاہدہ نہیں ہو سکا، لیکن مثبت پہلو یہ ہے کہ ایرانی وفد کے ساتھ کئی اہم اور ٹھوس امور پر تفصیلی بات چیت ہوئی، جس سے آئندہ مذاکرات کے لیے کچھ بنیاد ضرور قائم ہوئی ہے۔

    امریکی نائب صدر نے کہا کہ مذاکرات کے دوران امریکی وفد مسلسل اپنے اعلیٰ حکام سے رابطے میں رہا اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ سمیت پینٹاگون اور نیشنل سیکیورٹی اداروں سے متعدد بار مشاورت کی گئی، تاکہ ہر مرحلے پر حکمت عملی کو واضح رکھا جا سکے امریکی وفد اب بغیر کسی معاہدے کے واپس امریکا جا رہا ہے، تاہم مستقبل میں بات چیت کے دروازے بند نہیں کیے گئے اور امید ہے کہ آگے چل کر پیشرفت ہو سکتی ہے۔

    جے ڈی وینس نے پاکستان کی قیادت کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے نہ صرف بہترین میزبانی کی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان اختلافات کم کرنے اور ممکنہ معاہدے کی راہ ہموار کرنے میں بھرپور کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے ’حیرت انگیز کام‘ کیا اور مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی۔

    پاکستان نے ایک ذمہ دار اور مؤثر ثالث کا کردار ادا کیا، تاہم حتمی پیش رفت کے لیے ایران کی جانب سے واضح اور عملی یقین دہانی ناگزیر ہے،امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اسلام آباد میں امریکا ایران مذاکرات کے دوران پاکستان کی قیادت کے کردار کو سراہتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کاوشوں کو ’حیرت انگیز‘ قرار دیا اور ان کی میزبانی و سفارتی کوششوں پر شکریہ ادا کیا۔

    اسلام آباد میں منعقد ہونے والے اہم امریکا ایران مذاکرات کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے پاکستان کے کردار کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے نہ صرف بہترین میزبانی کی بلکہ دونوں ممالک کے درمیان اختلافات کم کرنے اور ممکنہ معاہدے کی راہ ہموار کرنے میں بھرپور کوشش کی۔

    میڈیا سے گفتگو میں جے ڈی وینس نے خاص طور پر وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے مذاکر ا ت کے دوران انتہائی متحرک اور مثبت کردار ادا کیا،پاکستان کی قیادت نے ایک ذمہ دار ثالث کے طور پر کام کرتے ہوئے امریکا اور ایران کو قریب لانے کی سنجیدہ کوشش کی۔

    نائب صدر کے مطابق مذاکرات کے دوران کئی ایسے مواقع آئے جہاں پاکستان کی قیادت نے فریقین کے درمیان پل کا کردار ادا کیا اور بات چیت کو تعطل کا شکار ہونے سے بچایا، وزیراعظم اور فیلڈ مارشل نے نہ صرف اعلیٰ سطحی سفارتکاری کا مظاہرہ کیا بلکہ عملی طور پر بھی دونوں جانب اعتماد سازی کی کوششیں کیں۔

    جے ڈی وینس نے کہا کہ اگرچہ اس مرحلے پر کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پا سکا، تاہم پاکستان کی کوششوں نے مذاکرات کو ایک مثبت سمت ضرور دی اور کئی اہم نکات پر پیشرفت ممکن بنائی امریکی وفد اب واشنگٹن واپس جائے گا جہاں وہ ڈونلڈ ٹرمپ کو مذاکرات کی مکمل تفصیلات سے آگاہ کریں گے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی جانب سے فراہم کی گئی میزبانی اور سہولیات عالمی معیار کے مطابق تھیں، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کے لیے سنجیدہ اور فعال کردار ادا کر رہا ہے،وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے نہایت پیشہ ورانہ انداز میں قیادت کی اور ان کی کاوشیں آئندہ کسی بھی ممکنہ معاہدے کے لیے بنیاد فراہم کر سکتی ہیں امی ہے کہ مستقبل میں جب بھی مذاکرات کا اگلا دور ہوگا، پاکستان اسی طرح ایک اہم اور مؤثر کردار ادا کرتا رہے گا۔

    امریکا اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والے اہم مذاکرات کے اختتام پر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن واپس روانہ ہو گئے، جہاں انہیں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے رخصت کیا۔

    یہ مذاکرات تقریباً 21 گھنٹے تک جاری رہے جن میں امریکا اور ایران کے درمیان اہم امور، خصوصاً جوہری پروگرام اور علاقائی کشیدگی کے حوالے سے تفصیلی بات چیت کی گئی۔ تاہم طویل مذاکرات کے باوجود فریقین کسی حتمی معاہدے تک نہ پہنچ سکے۔

    امریکی نائب صدر نے روانگی سے قبل اپنے بیان میں کہا تھا کہ اگرچہ مذاکرات میں پیشرفت کے کچھ پہلو سامنے آئے، لیکن بنیادی نکات پر اتفاق نہ ہو سکا انہوں نے واضح کیا کہ امریکا کو ایران کی جانب سے اس بات کی ٹھوس اور قابلِ تصدیق یقین دہانی درکار ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا۔