Baaghi TV

Tag: تازہ ترین

  • سعودی و ایرانی وزرائے خارجہ کا رابطہ

    سعودی و ایرانی وزرائے خارجہ کا رابطہ

    سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان بن عبداللہ کو ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ٹیلیفون کیا، جس میں خطے کی تازہ صورتحال اور باہمی امور پر گفتگو کی گئی۔

    سعودی وزارت خارجہ کے مطابق اس رابطے کے دوران دونوں رہنماؤں نے خطے میں جاری پیش رفت کا جائزہ لیا اور کشیدگی میں کمی لانے، سیکیورٹی اور استحکام کی بحالی کے لیے مختلف تجاویز پر تبادلہ خیال کیا۔

    سعودی وزارت خارجہ کے مطابق اس رابطے کے دوران دونوں رہنماؤں نے خطے میں جاری پیش رفت کا جائزہ لیا اور کشیدگی میں کمی لانے، سیکیورٹی اور استحکام کی بحالی کے لیے مختلف تجاویز پر تبادلہ خیال کیا۔

    رپورٹس کے مطابق گفتگو میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ موجودہ حالات میں سفارتی روابط کو فروغ دے کر مسائل کا پرامن حل تلاش کیا جائے، تاکہ خطے میں پائیدار امن اور استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔

  • پاکستانی سفیر کی مدینہ کے گورنر سے ملاقات

    پاکستانی سفیر کی مدینہ کے گورنر سے ملاقات

    پاکستان کے سفیر احمد فاروق نے مدینہ کے گورنر سے ملاقات کی، اس دوران دو طرفہ دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیالات کیا گیا۔

    سعودی عرب میں پاکستان کے سفیر احمد فاروق نے مدینہ ریجن کے گورنر، شہزادہ سلمان بن سلطان بن عبدالعزیز سے ان کے دفتر میں ملاقات کی، ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی کے مختلف امور پر تفصیلی گفتگو کی گئی اور دو طرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔

  • عالمی اور مقامی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں کمی

    عالمی اور مقامی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں کمی

    سونے کی عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں قیمت میں آج بڑی کمی ریکارڈ ہوئی ہے۔

    بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں آج جمعرات کے روز فی اونس سونے کی قیمت میں 95ڈالر کی بڑی کمی ریکارڈ ہوئی، جس کے نتیجے میں نئی عالمی قیمت 4ہزار 723ڈالر فی اونس کی سطح پر آگئی ہے،صرافہ بازاروں میں 24 قیراط کے حامل فی تولہ سونے کی قیمت بھی 9ہزار 500روپے کی کمی سے 4لاکھ 94ہزار 662روپے جب کہ فی 10 گرام سونے کی قیمت 8ہزار 145روپے گھٹ کر 4لاکھ 24ہزار 092روپے کی سطح پر آگئی ہے۔

    اسی طرح مقامی سطح پر فی تولہ چاندی کی قیمت 300 روپے کی کمی سے 7ہزار 884 روپے اور فی 10 گرام چاندی کی قیمت بھی 257روپے کی کمی سے 6ہزار 759روپے کی سطح پر آگئی ہے۔

  • پاکستان کے امن اقدامات کی حمایت،وزیراعظم شہباز شریف برطانیہ اور اتحادی ممالک کے مشکور

    پاکستان کے امن اقدامات کی حمایت،وزیراعظم شہباز شریف برطانیہ اور اتحادی ممالک کے مشکور

    وزیرِ اعظم شہباز شریف نے برطانیہ کے وزیراعظم کیئر سٹارمر کا شکریہ ادا کیا ہے جنہوں نے پاکستان کے امن اقدامات کی حمایت کی۔

    وزیرِ اعظم نے ایکس پر جاری بیان میں کہا ہے کہ پاکستان اپنے دوستوں اور شراکت داروں، بشمول برطانیہ، کے ساتھ مل کر خطے اور دنیا میں مستقل امن کے قیام کے لیے پرعزم ہے-

    برطانیہ کے وزیر اعظم کیئر سٹارمر نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان 2 ہفتوں کی جنگ بندی خوش آئند ہے اور اب مقصد جنگ کا پائیدار خاتمہ ہونا چاہیےبرطانیہ اپنے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی آزادی کو یقینی بنانے کے لیے کام کرے گا۔

    بدھ 8 اپریل 2026 کو جاری مشترکہ بیان میں برطانیہ سمیت فرانس، اٹلی، جرمنی، کینیڈا، ڈنمارک، نیدرلینڈز، اسپین، یورپی کمیشن، یورپی کونسل اور جاپان نے اس 2 ہفتوں کی جنگ بندی کا خیرمقدم کیا اور پاکستان سمیت تمام شراکت داروں کی کوششوں کو سراہا۔

    بیان میں کہا گیا کہ اب مذاکرات کے ذریعے جنگ کا جلد اور پائیدار خاتمہ ضروری ہے، اور یہ صرف سفارتی ذرائع سے ممکن ہے، جنگ بندی ایران کے شہریوں کے تحفظ، خطے میں سیکورٹی کی بحالی اور عالمی توانائی بحران کے خطرات کو کم کرنے کے لیے اہم ہے، تمام فریقین پر زور دیا گیا کہ جنگ بندی پر عمل درآمد کریں، جس میں لبنان بھی شامل ہے، اور خطے میں دیرپا امن کے قیام کے لیے بین الاقوامی شراکت دار تعاون جاری رکھیں گے۔

  • اسلام آباد مذاکرات:ایرانی سفیر نے وفد کی پاکستان آمد سے متعلق بیان ڈیلیٹ کردیا

    اسلام آباد مذاکرات:ایرانی سفیر نے وفد کی پاکستان آمد سے متعلق بیان ڈیلیٹ کردیا

    پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم کی سوشل میڈیا پوسٹ ڈیلیٹ کر دی گئی جس میں ایرانی وفد کی پاکستان آمد کے حوالے سے اطلاع دی گئی تھی۔

    رضا امیری مقدم کی جانب سے آج صبح ایکس اکاؤنٹ پر پوسٹ شائع کی گئی تھی جس میں ایران کے وفد کی پاکستان آمد کا اعلان کیا گیا تھا تاہم اب یہ پوسٹ ایکس پر دستیاب نہیں ہے ،پوسٹ میں کہا گیا تھا کہ ایرانی وفد آج رات اسلام آباد پہنچے گا تاکہ امریکی مذاکرات کاروں کے ساتھ جنگ بندی کے معاملے پر بات چیت کی جا سکے،یرانی وفد آج رات اسلام آباد کے لیے روانہ ہوگا تاکہ ایران کے 10 نکاتی امن منصوبے کے تحت مذاکرات کیے جائیں۔

    انہوں نے پوسٹ میں لکھا تھا کہ ایرانی وفد کا یہ دورہ اس باوجود ہو رہا ہے کہ ایرانی عوام میں اسرائیلی حکومت کی جانب سے اس سفارتی اقدام کو ناکام بنانے کی کوششوں کے حوالے سے شک و شبہات پائے جا رہے ہیں ایران اس امن منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے سنجیدہ ہے اور پاکستانی قیادت کے ساتھ تعلقات مضبوط بنانے اور مذاکرات کے عمل کو آگے بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

    اب تک پوسٹ ہٹانے کی وجہ یا اس حوالے سے کوئی وضاحت سامنے نہیں آئی۔

  • وزیر داخلہ محسن نقوی سے امریکی سفیر کی ملاقات

    وزیر داخلہ محسن نقوی سے امریکی سفیر کی ملاقات

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے امریکی سفیر نیٹلی بیکر کی ملاقات ہوئی جس میں انہوں نے پاکستان کے مضبوط سفارتی کردار کی تعریف کی اور انتظامات کے حوالے سے تفصیلی بات چیت کی گئی-

    ملاقات میں مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال میں پر بات چیت کی گئی جبکہ جنگ بندی کا خیر مقدم بھی کیا گیا اسلام آباد میں ہونے والے اعلیٰ سطح کے مذاکرات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا جبکہ انتظامات کے حوالے سے تفصیلی بات چیت کی گئی،محسن نقوی نے کہا کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، اسٹیفو ٹکوف اور کرشنرر ہمارے خصوصی مہمان ہوں گے، تمام غیر ملکی مہمانوں کو ہر لحاظ سے فول پروف سیکیورٹی کی فراہمی کا جامع پلان مرتب کیا ہے۔

  • ٹرمپ کے جنگی اختیارات محدود کرنے کی قرارداد پر ووٹنگ  کا اعلان

    ٹرمپ کے جنگی اختیارات محدود کرنے کی قرارداد پر ووٹنگ کا اعلان

    ڈیموکریٹک رہنما چک شومر نے کہا ہے کہ امریکی سینیٹ ایران کے خلاف امریکی صدر کے جنگی اختیارات محدود کرنے کی قرارداد پر ووٹنگ کرے گی تاکہ ایران میں جاری جنگ کو روکا جا سکے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مزید حملوں کے لیے کانگریس کی منظوری لینا لازم ہو۔

    برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق سینیٹر چک شومر کا کہنا ہے کہ خاص طور پر اس خطرناک لمحے میں کانگریس کو اپنی اتھارٹی دوبارہ واضح کرنی ہوگی، انہوں نے ٹرمپ کے بیانات کو غیر متوازن قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ جنگ ایران کی حکومت کو کمزور کرنے یا اس کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے میں ناکام رہی ہے، جبکہ عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔

    واضح رہے کہ امریکا اور ایران نے پاکستان کی ثالثی میں دو ہفتے کی جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے، جس کا اعلان بدھ کی رات صدر ٹرمپ نے کیا تھایہ اہم پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی جب ایران کے لیے صدر ٹرمپ کی جانب سے دی گئی ڈیڈ لائن ختم ہونے میں محض دو گھنٹے باقی تھے، اس ڈیڈ لائن میں ایران کو وارننگ دی گئی تھی کہ اگر اس نے بند کی گئی آبنائے ہرمز کو نہ کھولا تو شدید تباہی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    ایران نے کہا ہے کہ اس کا ایٹمی پروگرام پرامن ہےٹرمپ انتظامیہ نے جنگ کو فیصلہ کن فتح کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی، حالانکہ امریکا کے اعلیٰ جنرل نے کہا کہ امریکی فوج لڑائی دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہے وائٹ ہاؤس کا موقف ہے کہ ٹرمپ کے اقدامات قانونی ہیں اور بطور کمانڈر ان چیف ملک کے تحفظ کے لیے محدود فوجی کارروائی کرنے کے ان کے حقوق میں شامل ہیں۔

    سینیٹ اور ہاؤس میں ڈیموکریٹس نے گزشتہ مہینوں میں کئی بار کوشش کی کہ جنگی اختیارات کی قرارداد پاس ہو تاکہ ٹرمپ کو فوجی کارروائی سے پہلے قانون سازوں کی اجازت لینا لازم ہو، مگر وہ ناکام رہے۔

  • اسحاق ڈار کا ازبک ہم منصب سے رابطہ، مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام پر تبادلہ خیال

    اسحاق ڈار کا ازبک ہم منصب سے رابطہ، مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام پر تبادلہ خیال

    نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ازبکستان کے وزیر خارجہ بختیار سعیدوف سے مشرق وسطیٰ اور وسیع خطے کی تازہ ترین صورتحال پر بات چیت کی۔

    ازبک وزیر خارجہ نے پاکستان کی قیادت کو سراہا اور خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کی تمام اقدامات، خصوصاً ابتدائی دو ہفتوں کی جنگ بندی ممکن بنانے میں کیے گئے کردار کے لیے ازبکستان کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا،دونوں رہنماؤں نے امید ظاہر کی کہ یہ مسلسل کوششیں اور رابطے خطے اور اس سے باہر دیرپا امن اور استحکام کے فروغ میں مددگار ثابت ہوں گے۔

    دوسری جانب کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے کہا ہے کہ انہوں نے حالیہ دنوں میں پاکستان کے نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے متعدد بار رابطہ کیا، جس میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

    سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں انیتا آنند نے بتایا کہ اسحاق ڈار نے انہیں آگاہ کیا کہ رواں ہفتے مزید مذاکرات متوقع ہیں انہوں نے پاکستان کی مسلسل سفارتی کوششوں، خصوصاً 2 ہفتوں کی جنگ بندی ممکن بنانے میں کردار، کو سراہا،انہوں نے کہا کہ کینیڈا ان مذاکرات کی حمایت کے لیے تیار ہے اور تمام فریقین پر زور دیا کہ جنگ بندی کو برقرار رکھا جائے اور اسے لبنان تک توسیع دی جائے۔

    بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ مذاکرات کے عمل کے دوران قریبی رابطہ برقرار رکھا جائے گا تاکہ خطے میں پائیدار امن کی کوششوں کو آگے بڑھایا جا سکے۔

  • ترک صدر  کا پاکستان اور قطری قیادت سے  ٹیلیفونک رابطہ

    ترک صدر کا پاکستان اور قطری قیادت سے ٹیلیفونک رابطہ

    ترک صدر رجب طیب اردگان نے پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف اور قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی سے الگ الگ ٹیلیفونک رابطہ کیا جس میں ایران میں جنگ بندی کے عمل اور حالیہ پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق کال کے دوران اردگان نے ایران کے خلاف امریکا اسرائیل جنگ میں جنگ بندی کی کوششوں میں پاکستان کے کردار پر وزیر اعظم کا شکریہ ادا کیاانہوں نے کہا کہ دو ہفتے کے امن عمل کو مؤثر طریقے سے استعمال کیا جانا چاہئے اور اس بات پر زور دیا کہ ترکیہ پائیدار امن اور استحکام کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا وزیر اعظم شہباز شریف نے جنگ بندی کے عمل میں ترکیہ کے تعاون کی بھی تعریف کی،رہنماؤں نے جنگ بندی اور جاری سفارتی کوششوں سے متعلق تازہ ترین پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا۔

    ترک صدر نے قطر کے امیر کے ساتھ بھی فون پر بات کی اور کہا کہ حال ہی میں ایران اور اس کے مخالفین کے درمیان دو ہفتے کی جنگ بندی نے خطے میں پائیدار امن و استحکام کے لیے ایک اہم موقع فراہم کیا ہے ترک ایوان صدر کے مطابق کال کے دوران دونوں رہنماؤں نے جنگ بندی اور تازہ ترین علاقائی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا۔

  • افغانستان فتنہ الخوارج کومحفوظ پناہ گاہیں فراہم کررہا ہے،امریکی میڈیا

    افغانستان فتنہ الخوارج کومحفوظ پناہ گاہیں فراہم کررہا ہے،امریکی میڈیا

    امریکی میڈیا نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ افغان طالبان رجیم افغانستان میں موجودہ دہشتگردتنظیموں کابخوبی علم رکھتی ہے مگر اسےظاہر نہیں کرتی۔

    امریکی جریدہ یوریشیاریویو کے مطابق افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے درمیان معاہدہ ہے افغان طالبان رجیم افغانستان میں موجودہ دہشتگردتنظیموں کابخوبی علم رکھتی ہے مگر اسےظاہر نہیں کرتی،اگر افغان طالبان خوارج کی موجودگی کو کھل کر تسلیم کریں تو پھر انہیں خوارج کیخلاف کارروائی کرنا پڑے گی افغانستان فتنہ الخوارج کومحفوظ پناہ گاہیں فراہم کررہا ہے جو طویل عرصے سے پاکستان میں خونریزی میں ملوث ہیں۔

    عالمی ماہرین کے مطابق عالمی جریدے کا افغانستان میں دہشتگردوں کی موجودگی سے متعلق پاکستانی موقف کی تائید کرنا ثابت کرتا ہے کہ پاک فوج کا دہشتگردو ں کیخلاف جاری آپریشن "غضب للحق” بالکل درست ہے۔