Baaghi TV

Tag: تازہ ترین

  • پنجاب اسمبلی میں ایران امریکا جنگ بندی پر خیر مقدم کی قراردادجمع

    پنجاب اسمبلی میں ایران امریکا جنگ بندی پر خیر مقدم کی قراردادجمع

    پنجاب اسمبلی میں ایران امریکا جنگ بندی کے خیرمقدم کی قرارداد جمع کرا دی گئی۔

    تفصیلات کے مطابق یہ قرارداد مسلم لیگ (ن) کی رکن حنا پرویز بٹ کی جانب سے جمع کروائی گئی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ یہ ایوان ایران امریکا جنگ بندی کا خیرمقدم کرتا ہے ایوان وزیراعظم شہباز شریف، وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہے، پاکستان نے مشرقِ وسطیٰ میں قیامِ امن کے لیے مخلصانہ کوششیں کی ہیں –

    قرارداد میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان کی پرامن سفارتی کاوشوں کو آج پوری دنیا تسلیم کر رہی ہے یہ وزیراعظم شہباز شریف اور ان کی حکومت کی ایک بڑی کامیابی ہے جس پاکستان کو عالمی سطح پر تنہائی کا شکار کرنے کی کوشش کی گئی تھی، آج وہی پاکستان دنیا کے اہم فیصلوں میں مؤثر کردار ادا کر رہا ہے وزیراعظم شہباز شریف، وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اسلامی دنیا کے ہیرو بن کر سامنے آئے ہیں،یہ ایوان امن کے قیام کے لیے وفاقی حکومت کے تمام فیصلوں کی تائید کرتا ہے۔

  • آپریشن غضب للحق: افغان طالبان سرحدی چوکیاں چھوڑ کر فرار

    آپریشن غضب للحق: افغان طالبان سرحدی چوکیاں چھوڑ کر فرار

    پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے سرحد پار حملوں کا بھرپور جواب دیتے ہوئے افغان طالبان کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملادیا۔

    ’افغانستان انٹرنیشنل‘ کے مطابق پاکستانی سیکیورٹی فورسز کےساتھ حالیہ جھڑپوں کے بعد افغان طالبان صوبے نورستان اورکنڑ میں سرحدی چوکیاں چھوڑ کر فرار ہوئے، افغان طالبان سرحدی چوکیوں سے پسپائی کے بعد مساجد میں نا صرف چھپ گئے بلکہ عام شہریوں کے روپ میں علاقوں سے فرار بھی ہوگئے۔

    افغان میڈیا کے مطابق قبائلی عمائدین کا کہنا ہے کہ افغان طالبان سیکیورٹی کی فراہمی میں مکمل طور پر ناکام اور اپنی عبرتناک شکست چھپانے کیلئے غلط معلومات پھیلا رہے ہیں، افغان طالبان رجیم کی غفلت نےعوام کو فاقہ کشی پر مجبور کیا، مقامی آبادی نے مدد کیلئے پاکستانی سیکیورٹی فورسز سے رجوع کرنے کا عندیہ دیدیا۔

    ماہرین کے مطابق طالبان رجیم کیخلاف حالیہ کارروائیاں اس بات کاثبوت ہیں کہ پاکستانی سیکیورٹی فورسزکسی بھی مہم جوئی کامنہ توڑ جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں پاکستان نے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بناکر یہ واضح پیغام دے دیا کہ اب دہشتگردوں کی سرپرستی برداشت نہیں کی جائے گی۔

  • ترکیہ کا ایران امریکا عارضی جنگ بندی کا خیرمقدم

    ترکیہ کا ایران امریکا عارضی جنگ بندی کا خیرمقدم

    ترکیہ کی وزارتِ خارجہ نے خطے میں جاری جنگ کے حوالے سے اعلان کردہ عارضی جنگ بندی کا خیرمقدم کیا ہے۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر جاری بیان میں کہا گیا کہ ترکیہ عارضی جنگ بندی کا خیرمقدم کرتا ہے اور اس کے مکمل نفاذ کی ضرورت پر زور دیتا ہے، جبکہ توقع ظاہر کی گئی ہے کہ تمام فریقین طے شدہ معاہدے کی پاسداری کریں گے،پائیدار امن کا راستہ صرف مذاکرات، سفارتکاری اور باہمی اعتماد کے ذریعے ہی ممکن ہے، اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کی کامیاب تکمیل کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھا جائے گا،پاکستان کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا گیا کہ امن کے قیام کے لیے کی جانے والی تمام کوششوں کا تسلسل برقرار رہنا چاہیے۔

    ادھر سعودی عرب کے ذرائع ابلاغ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی اور پاکستان کے وزیراعظم محمد شہباز شریف کی طرف سے امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے تک پہنچنے کے اعلان کا خیرمقدم کیا گیا ہے۔

    سعودی میڈیا نے سعودی عرب کی وزارتِ خارجہ کے حوالے سے لکھا ہے کہ اس پیش رفت کو خطے میں کشیدگی کم کرنے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا گیا ہے، جبکہ اس تناظر میں پاکستان کی قیادت، خصوصاً وزیراعظم اور آرمی چیف کی کوششوں کو سراہا گیا ہے جنہوں نے اس معاہدے تک پہنچنے میں کردار ادا کیا۔

    سعودی عرب پاکستان کی جانب سے جاری سفارتی اور ثالثی کوششوں کی مکمل حمایت کرتا ہے، جن کا مقصد ایک مستقل معاہدے تک پہنچنا ہے جو خطے میں امن واستحکام کو یقینی بنائے اور ان تمام عوامل کا حل فراہم کرے جو طویل عرصے سے عدم استحکام کا باعث بنتے رہے ہیں آبنائے ہرمز کو بین الاقوامی قانو ن، خصوصاً 1982 کے اقوامِ متحدہ کے قانونِ سمندر کے تحت، جہاز رانی کے لیے کھلا رکھا جانا چاہیے اور اس پر کسی قسم کی پابندی عائد نہیں ہونی چاہیے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق امید کا اظہار کیا گیا کہ جنگ بندی ایک جامع اور پائیدار امن کی بنیاد بنے گی، جس کے نتیجے میں خطے میں سلامتی اور استحکام کو فروغ ملے گا اور ایسے تمام اقدامات کا خاتمہ ہوگا جو خطے کے ممالک کی خودمختاری، امن اور استحکام کو متاثر کرتے ہیں۔

  • امریکا ایران جنگ بندی :بھارتی بھی  پاکستان کی کامیاب سفارتکاری کے معترف

    امریکا ایران جنگ بندی :بھارتی بھی پاکستان کی کامیاب سفارتکاری کے معترف

    امریکا اور ایران کے مابین 2 ہفتوں کی جنگ بندی کے اعلان کے بعد دنیا بھر میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے جہاں عالمی برادری نے اس پیش رفت کو مشرقِ وسطیٰ میں امن کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا ہے وہیں بھارتی بھی امریکا ایران جنگ بندی میں پاکستان کی کامیاب سفارتکاری کے معترف ہیں۔

    امریکا اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی پاکستان کے رابطوں کا نتیجہ ہے، جس میں اسلام آباد نے دونوں فریقوں پر زور دیا کہ وہ محاذ آرائی کو کم کریں اور تنازع کو مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے سفارت کاری کو موقع دیں لیکن پاکستان کا یہ ثالثی کردار نہ تو بھارت کو ہضم ہو رہا ہے اور نہ اسرائیل اس سے خوش ہے جہاں بھارتی میڈیا میں پاکستان کی کامیاب سفارت کاری پر ماتم کا سماں ہے وہیں بھارتی پاکستان کی کامیاب سفارتکاری کے معترف ہیں، بھارتی عوام نے کُھل کر پاکستانی کردار کی تعریف کی۔

    سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر #PakGlobalPeaceMaker ٹاپ ٹرینڈ بن گیا،بھارتی پروفیسر اشوک سوین نے وائٹ ہاؤس کی پوسٹ شیئر کرتے ہوئے پاکستان کی سفارتکاری کی تعریف کی اور لکھا یہ ایران کے لیے ایک فتح اور پاکستان کے لیے اعزاز کا نشان ہے مودی شاید پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر تنہا کرنے چاہتے تھے مگر اس کے برعکس بھارت خود تنہا رہا گیا۔

    بھارتی دفاعی تجزیہ کار پراوین ساہنی نے وزیر اعظم شہباز شریف کی پوسٹ شئیر کرتے ہوئے لکھا کہ شہباز شریف نے شاندار کام کیا،جبکہ مصنف اتل کھتری نے لکھا کہ ‘میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ میں پاکستان کے لیے یہ ٹوئٹ کروں گا،ساتھ ہی انہوں نے دنیا میں امن قائم کرنے کے لیے ثالثی کرنے پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا-

    فلمی نقاد کے آر کے نے وزیر اعظم پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے ممکنہ ایٹمی جنگ کو روک کر نا صرف خلیجی خطے بلکہ پوری دنیا کو بچایا بلکہ دنیا کے اختتام تک آپ کو ایک ہیرو کے طور پر یاد رکھا جائے گا-

    دفاعی تجزیہ کار ابھیجیت مترا نے وزیر اعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کو جنگ بندی کی مبارک باد دیتے ہوئے لکھا کہ ثالثی کے لیے مہارت درکار ہوتی ہے لیکن ساتھ ہی خطرہ مول لینے کی بھی صلاحیت ہونی چاہیے، پاکستان نے دونوں کو بخوبی انجام دیا۔

    مصنف اور دانشور جیانت بھنڈاری نے جنگ بندی پر پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا پاکستان نے دکھا دیا ہے کہ وہ اچھے رہنما تلاش کر سکتا ہے، بنگلہ دیش اور سری لنکا بہت بہتر کام کر رہے ہیں، ہندوستانیوں کو خود سوچنا چاہئے کہ آخر وہ سڑکوں کے غنڈوں کی صلاحیت والے لیڈروں کی حمایت کیوں کرتے ہیں-

    بھارت کے مشہور اسکالر اشوک سوین نے سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر لکھا کہ پاکستان کی جانب سے جنگ بندی کے کامیاب مذاکرات نہ صرف امریکا اور ایران کے اس پر بھروسے کا ثبوت ہیں، بلکہ یہ چین کے اعتماد کی بھی عکاسی کرتے ہیں۔ مودی پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر تنہا کرنا چاہتے تھے، لیکن اس کے بجائے انہوں نے بھارت کو ہی تنہا کر دیا ہے۔

    جہاں بھارتیوں کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا جا رہا ہے وہیں گودی میڈیا کو پاکستان کی تعریفیں ہضم نہیں ہو رہیں اور اپنی خفت مٹانے کے لیے قصے کہانیاں بھی گڑھنی شروع کردی ہیں اور وزیراعظم شہباز شریف کے ایکس پر جاری پیغام کو متنازع بنانے کی کوشش کی۔

    بھارتی نیوز چینل ’این ڈی ٹی وی‘ کے ایک سگمنٹ میں موجود تجزیہ کار نے سوال اٹھایا کہ امریکا اور ایران نے ثالثی کے لیے پاکستان پر بھروسہ کیا لیکن بھارت پر کیوں نہیں-

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں پاکستان کی نمایاں حیثیت نے خطے میں اثر و رسوخ کے موجودہ حساب کتاب کو چیلنج کر دیا ہے جنگ بندی کے اس وقفے کو عارضی خاموشی سے مستقل مذاکرات میں بدلنے کے موقع کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

    بھارت کے لیے یہ صورتحال سفارتی طور پر کافی حساس ہے نئی دہلی طویل عرصے سے خود کو ایک ابھرتی ہوئی عالمی سفارتی طاقت کے طور پر پیش کر رہا ہے، لیکن مشرقِ وسطیٰ کے ہائی اسٹیک مذاکرات کے مرکز میں اسلام آباد کے اچانک نمودار ہونے نے بھارت کے اسٹریٹجک حلقوں اور میڈیا میں بحث چھیڑ دی ہے جہاں پاکستان کے اس کردار پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

    پاکستان کی یہ شمولیت حالیہ ہفتوں میں بتدریج بڑھی ہے وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور وزیراعظم شہباز شریف نے تہران اور واشنگٹن دونوں کے ساتھ رابطے بحال رکھے اور آج کے کامیاب مذاکرات سے پہلے ہمیشہ تحمل کا درس دیا۔

    خلیجی ممالک کے ساتھ پاکستان کے قریبی تعلقات، ایران کے ساتھ ورکنگ ریلیشنز اور امریکا کے ساتھ سیکیورٹی تعاون کی تاریخ نے اسے ایک منفرد مقام دیا کہ جب تناؤ عروج پر پہنچا تو اس نے ایک ثالث کے طور پر کردار ادا کیا جنگ بندی کی خبر پر مارکیٹ نے فوری ردِعمل ظاہر کیا اور آج تناؤ میں کمی کے فوراً بعد تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے نیچے گر گئیں۔

  • شمالی کوریا کا امریکا اور اتحادیوں کو نشانہ بنانے والے جدید میزائل بنانے کا اعلان

    شمالی کوریا کا امریکا اور اتحادیوں کو نشانہ بنانے والے جدید میزائل بنانے کا اعلان

    شمالی کوریا نے دو روز کے دوران دوسرا پروجیکٹائل لانچ کر دیا ہے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی ایک بار پھر بڑھنے لگی۔

    عالمی میڈیا کے مطابق جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف نے فوری طور پر میزائل کی نوعیت یا فاصلے سے متعلق کوئی تفصیلات فراہم نہیں کیں ایک روز قبل بھی شمالی کوریا کے دارالحکومت کے قریب ایک نامعلوم پروجیکٹائل کے تجربے کا سراغ لگایا گیا تھا، جس کا تجزیہ جنوبی کوریا اور امریکا کے انٹیلی جنس ادارے کر رہے ہیں۔

    اس سے قبل شمالی کوریا نے دعویٰ کیا تھا کہ اس کے رہنما کم جونگ ان نے ایک جدید سالڈ فیول انجن کے کامیاب تجربے کا مشاہدہ کیا، جسے ملک کے اسٹریٹجک فوجی نظام میں اہم پیش رفت قرار دیا گیا کم جونگ اُن نے واضح کیا کہ وہ امریکا اور اس کے اتحادیوں کو نشانہ بنانے والے ایسے جدید، ناقابلِ سراغ میزائل تیار کرنا چاہتے ہیں۔

    ماہرین کے مطابق سالڈ فیول میزائلز کو حرکت دینا اور چھپانا آسان ہوتا ہے، جبکہ مائع ایندھن والے میزائلز کے برعکس انہیں لانچ سے پہلے بھرنے کی ضرورت نہیں پڑتی، جس سے ان کا سراغ لگانا مشکل ہو جاتا ہے۔

    جنوبی کوریا کی خفیہ ایجنسی نے قانون سازوں کو بریفنگ میں بتایا کہ حالیہ انجن ٹیسٹ ممکنہ طور پر ایسے طاقتور میزائل کی تیاری سے متعلق ہے جو متعدد جوہری وار ہیڈز لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہو۔

    شمالی کوریا 2019 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ناکام سفارتی مذاکرات کے بعد سے اپنے جوہری پروگرام کو تیزی سے وسعت دے رہا ہے فروری میں ورکرز پارٹی کے اجلاس میں کم جونگ اُن نے مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھنے کا اشارہ دیا، تاہم امریکا سے مطالبہ کیا کہ وہ جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کو مذاکرات کی شرط نہ بنائے۔

  • فیلڈ مارشل  کی اسٹریٹجک رہنمائی نے خطے میں امن کے قیام کو ممکن بنایا،وفاقی وزیر ریلویز

    فیلڈ مارشل کی اسٹریٹجک رہنمائی نے خطے میں امن کے قیام کو ممکن بنایا،وفاقی وزیر ریلویز

    وفاقی وزیر ریلویز محمد حنیف عباسی نے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کی مدبرانہ قیادت میں پاکستان نے عالمی سطح پر بڑی سفارتی کامیابی حاصل کی ہے۔

    محمد حنیف عباسی نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی میں پاکستان کا کلیدی کردار قابلِ فخر ہے، جس سے خطے میں امن کے قیام کی نئی راہیں کھلی ہیں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی اسٹریٹجک رہنمائی نے خطے میں امن کے قیام کو ممکن بنایا، جبکہ ان کی بصیرت افروز قیادت پاکستان کی دفاعی اور سفارتی ہم آہنگی کی بہترین مثال ہے، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی فعال اور متحرک سفارتی کوششوں نے جنگ بندی کے عمل کو کامیا ب بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر خطے کو ممکنہ تباہی سے بچا کر امن کا پرچم بلند کیا ہے، اور یہ کامیابی اعلیٰ قیادت کی بصیرت اور مؤثر سفارتکاری کا منہ بولتا ثبوت ہے اسلام آباد میں ہونے والی کامیاب سفارتی کاوشیں خطے میں پائیدار امن کی جانب ایک اہم سنگِ میل ہیں، جبکہ پاکستان کا کردار ہمیشہ امن، استحکام اور مکالمے کے فروغ کے لیے نمایاں رہا ہے، یہ تاریخی کا میابی پاکستان کے روشن اور مضبوط عالمی تشخص کی عکاس ہے ، اور دنیا پاکستان کی تعمیری اور مثبت سفارتکاری کو تسلیم کرنے پر مجبور ہو چکی ہے۔

  • پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تازہ علاقائی صورتحال کے حوالے سے اہم سفارتی رابطہ

    پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تازہ علاقائی صورتحال کے حوالے سے اہم سفارتی رابطہ

    پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تازہ علاقائی صورتحال اور امن کے قیام کے حوالے سے اہم سفارتی رابطہ ہوا ہے، جس میں مذاکرات اور سفارتکاری کو آگے بڑھانے پر زور دیا گیا۔

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ برائے خارجہ امور کایا کالاس سے ٹیلیفونک گفتگو کی،اسحاق ڈار نے خطے میں پائیدار امن کے لیے پاکستان کی مسلسل سفارتی کاوشوں کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان مذاکرات اور ڈائیلاگ کے ذریعے مسائل کے حل پر یقین رکھتا ہے۔

    یورپی یونین کی نمائندہ نے پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے کشیدگی کم کرنے اور ابتدائی جنگ بندی کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا انہوں نے اس سلسلے میں پاکستان کو یورپی یونین کی مکمل حمایت کا یقین بھی دلایا،جبکہ دونوں رہنماؤں نے خطے میں امن و استحکام کے لیے رابطوں کو جاری رکھنے اور سفارتی اقدامات کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔

  • ٹرمپ نے کیسے امریکا کو ایران جنگ میں گھسیٹا؟امریکی میڈیا نے پردہ فاش کر دیا

    ٹرمپ نے کیسے امریکا کو ایران جنگ میں گھسیٹا؟امریکی میڈیا نے پردہ فاش کر دیا

    نیویارک ٹائمز نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جنگ کا فیصلہ اچانک نہیں بلکہ خفیہ بریفنگز، اندرونی اختلافات اور ایک طاقتور اتحادی اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے دباؤ کے بعد کیا۔

    نیویارک ٹائمز کی کے مطابق فروری 2026 میں بنیامین نیتن یاہونے وائٹ ہاؤس میں ایک انتہائی خفیہ پریزنٹیشن دی، جس میں ایران پر بڑے حملے کا منصو بہ پیش کیا گیا اس بریفنگ میں اسرائیلی انٹیلی جنس ادارے موساد کے سربراہ سمیت اعلیٰ عسکری حکام نے شرکت کی اور دعویٰ کیا کہ ایران کی قیاد ت کو نشانہ بنا کر اور اس کے میزائل نظام کو تباہ کر کے چند ہفتوں میں فیصلہ کن کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔

    امریکی اور اسرائیلی حکام سب سے پہلے اوول آفس سے متصل کیبنٹ روم میں جمع ہوئے اس کے بعد نیتن یاہو مرکزی تقریب کے لیے نیچے کی طرف روانہ ہوئے: وائٹ ہاؤس کے سیچویشن روم میں صدر ٹرمپ اور ان کی ٹیم کے لیے ایران کے بارے میں ایک انتہائی درجہ بندی پریزنٹیشن، جسے غیر ملکی رہنماؤں کے ساتھ ذاتی ملاقاتوں کے لیے شاذ و نادر ہی استعمال کیا جاتا تھا۔

    ذرائع کے مطابق اس پریزنٹیشن نے صدر ٹرمپ کو بہت زیادہ متاثر کیا، اور انہوں نے ابتدائی طور پر ہی مثبت اشارہ دے دیا نیتن یاہو کی پریزنٹیشن سے چار مقاصد اخذ کیے گئےجن میں ، ایرانی اعلیٰ قیادت کا قتل، میزائل پروگرام کی تباہی، عوامی بغاوت اٹھانا اور رجیم چینج شامل تھے۔

    تاہم بعد میں امریکی انٹیلی جنس نے اس منصوبے کے پہلے دو حصوں کو قابل حصول اور آخری دو حصوں کو “حقیقت سے دور” قرار دیا، خاص طور پر ایران میں حکومت کی تبدیلی (Regime Change) کے امکان کو مسترد کر دیا گیا۔ وائٹ ہاؤس کے اندر ہونے والے اہم اجلاسوں میں شدید اختلافات سامنے آئے۔

  • ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی وزیر خارجہ کا بیان اپنے اکاؤنٹ پر شیئر کر دیا

    ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی وزیر خارجہ کا بیان اپنے اکاؤنٹ پر شیئر کر دیا

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا سرکاری بیان بھی اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ ٹروتھ سوشل پر شیئر کردیا-

    پاکستان کی اعلیٰ قیادت وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کاوشوں سے امریکا اور ایران کے درمیان بڑے تصادم کو روکنے کی کامیاب کاوشوں کے بعد دونوں ممالک کی جانب سے مختلف بیانات دیئے گئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دو ہفتے کی جنگ بندی پر جہاں اپنی کامیابی کے قصیدے پڑھے تو وہیں انہوں نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا سرکاری بیان بھی اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ ٹروتھ سوشل پر شیئر کیا۔

    جس عباس عراقچی انہوں نے شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کو کامیاب سفارتکاری اور مشرق وسطیٰ کو بحران سے بچانے میں اہم کردار ادا کرنے پر زبردست خراج تحسین پیش کیا ٹروتھ سوشل پر صدر ٹرمپ کے اکاؤنٹ سے شیئر ہونے والے اس بیان میں ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی خطے میں جنگ کے خاتمے کے لیے کوششوں کو سراہتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا۔

    بیان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی درخواست اور امریکہ کی جانب سے 15 نکاتی مذاکراتی تجویز کے تناظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کی 10 نکاتی تجویز کو مذاکرات کی بنیاد کے طور پر قبول کرنے کے اعلان کے بعد ایران نے یہ مؤقف اختیار کیا ہے ایران نے واضح کیا ہے کہ اگر اس کے خلاف حملے بند کیے جاتے ہیں تو اس کی مسلح افواج دفاعی کارروائیاں روک دیں گی۔

  • سب کچھ پہلے سے ہی طے شدہ لگتا تھا،جنگ بندی پر اسرائیلی حکومت حیران

    سب کچھ پہلے سے ہی طے شدہ لگتا تھا،جنگ بندی پر اسرائیلی حکومت حیران

    اسرائیلی حکومت امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران سے جنگ بندی کے اعلان پر حیرت زدہ رہ گئی۔

    عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کی تہذیب اجڑنےکے لیے شادیانے بجانےکی تیاری کرنے والوں کے خواب ٹوٹ گئے اسرائیلی اہلکار نےکہا کہ ہم ٹرمپ کے فیصلے سے حیران تھے، ہمیں آخری لمحات میں اپ ڈیٹس موصول ہوئیں، سب کچھ پہلے سے ہی طے شدہ لگتا تھا۔

    اسرائیلی صحافی زیو روبنسٹین نےکہا کہ یہ تسلیم کرنا ضروری ہے کہ دو ہفتوں کی جنگ بندی کے بعد کوئی جنگ دوبارہ شروع نہیں ہوگی دنیا دیکھ رہی ہے اور سچ جانتی ہے، دنیا کے تمام F-35 تیل کے ایک بیرل کی قیمت پر نہیں جیت پائیں گے،ایران نامی تہذیب ٹرمپ سے 1500 سال پہلے موجود تھی اور اس کے بعد بھی 1500 سال باقی رہے گی۔

    واضح رہے کہ پاکستان کی بھرپور سفارتی کوششوں کے نتیجے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ دو ہفتوں کے لیے حملے روکنے پر اتفاق کر لیا ہے،صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری پوسٹ میں تصدیق کی کہ وہ ایران کے بجلی گھروں اور پلوں سمیت دیگر بنیادی ڈھانچے پر ہونے والے ممکنہ حملوں کو روک رہے ہیں، تاہم اس کے بدلے ایران کو آبنائے ہرمز کو فوری اور مکمل طور پر بحری ٹریفک کے لیے کھولنا ہوگا۔

    ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ساتھ بات چیت کی بنیاد پر کیا گیا ہے جنہوں نے مجھ سے درخواست کی کہ میں آج رات ایران کی طرف بھیجی جانے والی تباہ کن فورس کو روک دوں۔

    وزیراعظم نے اپنی ایک پوسٹ میں کہا تھا کہ سفارت کاری کو موقع دینے کے لیے میری صدر ٹرمپ سے پرخلوص درخواست ہے کہ وہ ڈیڈ لائن میں دو ہفتوں کی توسیع کریں، اور ساتھ ہی ہم اپنے ایرانی بھائیوں سے بھی درخواست کرتے ہیں کہ وہ خیر سگالی کے طور پر آبنائے ہرمز کو کھول دیں، تمام فریقین دو ہفتوں کی جنگ بندی کریں تاکہ مستقل امن کی کوششیں اپنے منطقی انجام تک پہنچ سکیں۔ اب دس اپریل سے تہران اور واشنگٹن کے درمیان باقاعدہ مذاکرات شروع ہونے جا رہے ہیں جس پر پوری دنیا کی نظریں لگی ہوئی ہیں۔