Baaghi TV

Tag: تازہ ترین

  • اظہر مشوانی گھر پہنچ گئے

    اظہر مشوانی گھر پہنچ گئے

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے فوکل پرسن اظہر مشوانی اچانک گھر پہنچ گئے

    تحریک انصاف نے اظہر مشوانی کی بازیابی کے لئے آج ملک گیر احتجاج کی کال دے رکھی ہے، اظہر مشوانی کی بازیابی کے لئے عدالتوں سے بھی رجوع کیا گیا تھا ، لاہور ہائیکورٹ نے پیر کو اظہر مشوانی کو پیش کرنے کا حکم دیا تھا، تا ہم آج جمعہ کو اظہر مشوانی گھر پہنچ گئے ہیں ، اظہر مشوانی کے ٹویٹر اکاؤنٹ سے ٹویٹ کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ الحمدللہ میں ابھی بخیر و عافیت گھر واپس پہنچ چکا ہوں ،ان 8 دنوں میں آپ کی دعاؤں، کاوشوں اور سپورٹ نے تاعمر کے لیے ہمیں مقروض کر دیا ہے – جزاک اللہ دعا ہے کہ ہمارے دیگر اسیر کارکنان بھی جلد اپنی فیملیز کے ساتھ افطاری کریں۔

    اظہر مشوانی کے بھائی نے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی تھی، لاہور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کارکن اظہر مشوانی کو بازیاب کرکے پیش کرنے کا حکم دے دیا،عدالت نے پیر کے روز اظہر مشوانی کو عدالت کے روبرو پیش کرنے کا حکم دیا عدالت نے اظہر مشوانی پر درج مقدمات کا ریکارڈ بھی طلب کرلیا

    علاوہ ازیں پی ٹی آئی سوشل میڈیا کے کارکنان کی گمشدگی کیخلاف کراچی پریس کلب پر تحریک انصاف نے احتجاج کیا،
    احتجاج میں خواتین کی بڑی تعداد بھی موجود تھی ،خواتین نے گمشدہ کارکنان کی تصاویر کے بینرز ہاتھوں میں اٹھائے ہوئے تھے، مظاہرین نے سوشل میڈیا کے کارکنان کی جلد بازیابی کا مطالبہ کیا،

    عدالت نے کہا کہ میں کیوں ایسا حکم جاری کروں جو سسٹم ہے اسی کے مطابق کیس فکس ہوگا،

    عمران خان نے باربار قانون کی خلاف ورزی کی جس پر انہیں جواب دینا ہوگا

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ آپ کا اپنا کیا دھرا ہے 

  • مینا کماری ناز،اداکارہ و شاعرہ

    مینا کماری ناز،اداکارہ و شاعرہ

    یوں تیری رہگزر سے دیوانہ وار گزرے
    کاندھے پہ اپنے رکھ کے اپنا مزار گزرے

    مینا کماری ناز

    اداکارہ و شاعرہ

    یوم وفات : 31 اگست 1972
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    برصغیر کی نامور اداکارہ شاعرہ مینا کماری ناز جنہیں” ملکہ غم ” بھی کہا جاتا ہے ان کا اصل نام ماہ جبیں ہے ۔ وہ یکم اگست 1932 میں بمبئی میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد کا نام علی بخش اور والدہ کا نام نیپرو بھاوتی ٹیگور تھا مسلمان ہونے کے بعد ان کا اسلامی نام اقبال بیگم رکھا گیا۔ مینا کماری نے 6 سال کی عمر میں چائلڈ اسٹار کی حیثیت سے ” لیدر فیس” فلم سے اپنی اداکاری کا آغاز کیا ۔ وہ تین بہنیں تھیں ان کی دوسری بہنوں کا نام خورشید اور مدھو تھا۔ فلم ڈائریکٹر وجے بھٹ نے ان کو مینا کماری کا فلمی نام دیا تھا جبکہ مینا کماری نے شاعری میں اپنے لیے ناز تخلص اختیار کیا ۔ 1952 میں انہوں نے فلمساز کمال امروہوی سے دوسری بیوی کی حیثیت سے شادی کی لیکن محبت کی یہ شادی کامیاب نہیں ہو سکی۔ چند برس بعد ہی ان کے درمیان علیحدگی ہو گئی جس کے بعد مینا کماری نے دوسری شادی نہیں کی ۔ کمال امروہوی کی بیوفائی کے بعد مرد حضرات پر ان کا اعتبار نہیں رہا۔ انہوں نے بقیہ تمام عمر تنہائی ، درد وغم سہتے ، اداکاری اور شاعری کرتے گزار دی۔ شاعری میں انہوں نے گلزار سے اصلاح لی تھی ۔ مینا کماری نے کل 94 فلموں میں کام کیا انہیں فلم ” بیجو باورا” سے بے پناہ شہرت اور پذیرائی ملی ۔ مینا کماری کو ہندوستان کی پہلی خاتون اداکارہ فلم فیئر ایوارڈ حاصل کرنے کا منفرد اعزاز حاصل ہوا۔ 31 مارچ 1972 میں ان کی وفات ہوئی ۔ ان کے انتقال کے بعد ” چاند” کے عنوان سے ان کا شعری مجموعہ شائع ہوا۔

    منتخب کلام

    عیادت ہوتی جاتی ہے عبادت ہوتی جاتی ہے
    مرے مرنے کی دیکھو سب کو عادت ہوتی جاتی ہے

    نمی سی آنکھ میں اور ہونٹ بھی بھیگے ہوئے سے ہیں
    یہ بھیگا پن ہی دیکھو مسکراہٹ ہوتی جاتی ہے

    تیرے قدموں کی آہٹ کو یہ دل ہے ڈھونڈتا ہر دم
    ہر اک آواز پر اک تھرتھراہٹ ہوتی جاتی ہے

    یہ کیسی یاس ہے رونے کی بھی اور مسکرانے کی
    یہ کیسا درد ہے کہ جھنجھناہٹ ہوتی جاتی ہے

    کبھی تو خوبصورت اپنی ہی آنکھوں میں ایسے تھے
    کسی غم خانہ سے گویا محبت ہوتی جاتی ہے

    خود ہی کو تیز ناخونوں سے ہائے نوچتے ہیں اب
    ہمیں اللہ خود سے کیسی الفت ہوتی جاتی ہے

    ……………….

    آبلہ پا کوئی اس دشت میں آیا ہوگا
    ورنہ آندھی میں دیا کس نے جلایا ہوگا

    ذرے ذرے پہ جڑے ہوں گے کنوارے سجدے
    ایک اک بت کو خدا اس نے بنایا ہوگا

    پیاس جلتے ہوئے کانٹوں کی بجھائی ہوگی
    رستے پانی کو ہتھیلی پہ سجایا ہوگا

    مل گیا ہوگا اگر کوئی سنہری پتھر
    اپنا ٹوٹا ہوا دل یاد تو آیا ہوگا

    خون کے چھینٹے کہیں پوچھ نہ لیں راہوں سے
    کس نے ویرانے کو گل زار بنایا ہوگا

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    یوں تیری رہگزر سے، دیوانہ وار گزرے
    کاندھے پہ اپنے رکھ کے، اپنا مزار گزرے
    .
    بیٹھے ہیں راستے میں دل کا کھنڈر سجا کر
    شاید اسی طرف سے، اک دن بہار گزرے
    .
    دار و رسن سے دل تک، سب راستے ادھورے
    جو ایک بار گزرے، وہ بار بار گزرے

    بہتی ہوئی یہ ندیا، گھلتے ہوئے کنارے
    کوئی تو پار اترے، کوئی تو پار گزرے
    .

    مسجد کے زیر سایہ، بیٹھے تو تھک تھکا کر
    بولا ہر اک منارا، تجھ سے ہزار گزرے
    .
    قربان اس نظر پہ، مریم کی سادگی بھی
    سائے سے جس نظر کے، سو کردگار گزرے
    .
    تو نے بھی ہم کو دیکھا، ہم نے بھی تجھ کو دیکھا
    تو دل ہی ہار گزرا، ہم جان ہار گزرے

  • قتل میں ملوث ملزم گرفتار، ہو گیا تھا افغانستان فرار

    قتل میں ملوث ملزم گرفتار، ہو گیا تھا افغانستان فرار

    اسلام آباد کیپیٹل پولیس تھانہ شمس کالو نی اور ہو می سائیڈ یو نٹ پولیس ٹیم کی بڑی کاروائی، قتل میں ملوث ملزم کو قلیل وقت میں گرفتارکرلیا، ملزم واردات کے بعد افغا نستان فرار ہو گیا تھا، مزید کارروائی ضابطہ جاری ہے۔

    اسلام آباد کیپیٹل پولیس کا ضلع بھر میں جرائم پیشہ عناصر اور غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث عناصر کیخلاف کریک ڈاون جاری ہے، مورخہ 23مار چ 2023 کو تھانہ شمس کا لو نی پولیس کو مسمی محمد حنیف نے درخو است دی کہ میرے بڑے بھا ئی محمد ایو ب کو ملزمان جلیل، نا در، فضل، نسیم اور قاسم نے تیز دھا ر خنجر کے وار کرکے شدید مضروب کیا ،جس سے میرا بھا ئی گر پڑ ا اور موقع پر ہی جا بحق ہو گیا، جس پر پولیس ٹیم نے فوری مقدمہ نمبر162 مورخہ 23 مار چ 2023 بجرم 302/34 ت پ تھانہ شمس کا لو نی درج رجسٹر کرکے تفتیش شروع کر دی،تھا نہ شمس کالو نی اور ہومی سائیڈ یو نٹ پولیس ٹیم نے جدید تکنیکی اور سائنسی تقاضوں پر تفتیش کرتے ہوئے قلیل وقت میں اس سنگین نو عیت کے وقوعہ میں ملوث ملزم محمد جلیل کوگرفتار کرلیا، گرفتارملزم سے مزید تفتیش جاری ہے،

    سی پی او ،ڈی آئی جی آ پر یشنز سید شہزاد ندیم بخا ری نے کہا کہ جرائم اور تشدد پر اسلام آباد پولیس کی جانب سے زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جارہی ہے اور ان ملزمان کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لا کر ملزمان کو قرار واقعی سزا دلواکر کیفرکردار تک پہنچایا جائے گا، انہو ں نے مزید کہا کہ اسلام آباد کیپیٹل پولیس شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لئے تمام تر وسائل بروئے کار لارہی ہے، شہریوں سے بھی گزارش ہے کہ وہ پولیس کے ساتھ تعاون کریں اور کسی بھی مشکو ک چیزیا سرگرمی کے بارے میں متعلقہ تھانہ یا ” پکار-"15پر فوراً اطلا ع دیں۔تا کہ پولیس اور عوام کے تعاون سے معاشرے کو جرائم سے پاک کیا جا سکے۔

    پی ٹی آئی کارکنان کا مسجد میں گھس کر امام مسجد پر حملہ، ویڈیو وائرل

    پی ٹی آئی کے منحرف رکن اسمبلی کے گھر پر حملہ،فائرنگ،قاتلانہ حملہ کیا گیا، بیٹے کا دعویٰ

    اللہ خیر کرے گا،دعا کریں پاکستان کی خیر ہو ،شہباز شریف پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ گئے

    غیرت کے نام پر استعفے دینے والے آج عدالت چلے گئے، ثانیہ عاشق

    بریکنگ،پی ٹی آئی کا استعفوں پر یوٹرن،عدالت میں کہا اب پارٹی استعفے نہیں دینا چاہتی

  • جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کیخلاف ریفرنس،صدر مملکت نے واپسی کی دی منظوری

    جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کیخلاف ریفرنس،صدر مملکت نے واپسی کی دی منظوری

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف کیوریٹیو ریویو ریفرنس واپس لینے کی منظوری دے دی

    صدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی نے سول ریویو پیٹیشن میں کیوریٹیو ریویو پیٹیشن اور سی ایم اے واپس لینے کی منظوری دے دی صدرمملکت نے منظوری آئین کے آرٹیکل 48 ایک کے تحت وزیراعظم کی ایڈوائس پر دی  صدر مملکت نے ایڈووکیٹ سپریم کورٹ انیس احمد شہزاد کے حق میں سند اختیار پر بھی دستخط کردیئے

    واضح رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے گزشتہ روز جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کےخلاف کیوریٹیو ریویو ریفرنس واپس لینےکا حکم دیا تھا اور ان کے خلاف ریفرنس کی پیروی نہ کرنےکا فیصلہ کیا تھا,وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ریفرنس کے نام پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور ان کے اہل خانہ کو ہراساں اور بدنام کیا گیا، یہ ریفرنس نہیں تھا، آئین اور قانون کی راہ پر چلنے والے ایک منصف مزاج جج کے خلاف ایک منتقم مزاج شخص عمران نیازی کی انتقامی کارروائی تھی،یہ عدلیہ کی آزادی پر شب خون اور اسے تقسیم کرنے کی مذموم سازش تھی،پاکستان مسلم لیگ(ن) اور اتحادی جماعتوں نے اپوزیشن کے دور میں بھی اس جھوٹے ریفرنس کی مذمت کی تھی، عمران نیازی نے صدر کے آئینی منصب کا اس مجرمانہ فعل کے لئے ناجائز استعمال کیا، صدر عارف علوی عدلیہ پر حملے کے جرم میں آلہ کار اور ایک جھوٹ کے حصہ دار بنے، پاکستان بار کونسل سمیت وکلا تنظیموں نے بھی اس کی مخالفت کی تھی، ان کی رائے کی قدر کرتے ہیں،

    شیخوپورہ سے ہمیں اسلام آباد لا کر چھوڑ دیا گیا، خاتون کی دکھ بھری کہانی

    بڑے اسکولز میں کس طرح کے بگڑے بچے پڑھتے ہیں؟

    فاٹا کے جرگوں میں لڑکیوں کے ساتھ کیا ہوتا ہے؟ 15 لاکھ میں ڈیل ڈن

    مردانہ کمزوری کی حقیقت کیا؟ہم ایسے سوالات کیوں نہیں اٹھاتے؟

  • سپریم کورٹ،انتخابات کیس، سیکرٹری دفاع، سیکرٹری خزانہ  آٸندہ سماعت پر طلب

    سپریم کورٹ،انتخابات کیس، سیکرٹری دفاع، سیکرٹری خزانہ آٸندہ سماعت پر طلب

    پنجاب اور کے پی کے میں انتخابات ملتوی کرنے کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کا آغاز کر دیا ،پاکستان بار کونسل کے چیئرمین ایگزیکٹو کونسل عدالت میں پیش ہوئے، چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کو بعد میں سنیں گے ، حسن رضا پاشا نے کہا کہ بار کا کسی کی حمایت سے کوئی تعلق نہیں ہے ،اس پر فل کورٹ نہیں بن رہا تو فل کورٹ میٹنگ بنا دیں چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس پر ہم سوچ رہے ہیں ججز کے آپس میں تعلق اچھے ہیں۔ کل اور آج دو ججوں نے سماعت سے معذرت کی باہمی اعتراف اور شائستہ گفتگو پہلے بھی ہوئی اور بعد میں بھی۔کچھ نقاط پر ہماری گفتگو ضروری ہے سیاسی معاملات سامنے آئے جس پر میڈیا اور پریس کانفرسنز سے تیل ڈالا گیا۔ عدالت نے سارے معاملے پر تحمل کا مظاہرہ کیا۔ کچھ لوگ چند ججز پر تنقید کررہے ہیں کچھ دوسرے ججز پر تنقید کررہے ہیں۔ ہم اس معاملہ کو بھی دیکھیں گے۔ اس معاملہ پر مجھے چیمبر میں ملیں،آج پہلی بار آپ عدالت آئے ہیں، باتوں سے نہیں عمل سے خود کو ثابت کریں،چیمبر میں آئیں آپ کا بہت احترام ہے،سپریم کورٹ بار کے صدر مجھ سے رابطے میں رہے ہیں،معاملہ صرف بیرونی امیج کا ہوتا تو ہماری زندگی پرسکون ہوتی، میڈیا والے بھی بعض اوقات غلط بات کردیتے ہیں،عدالت ہمیشہ تحمل کا مظاہرہ کرتی ہے، سماعت کے بعد کچھ ملاقاتیں کروں گا، تو قع ہے کہ پیر کا سورج اچھی نوید لے کر طلوع ہوگا،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل صاحب جو نکتہ اٹھانا چاہیں اٹھا سکتے ہیں، عدالت نے کچھ مقدمات میں حالات کی پیروی کے لیے فریقین کو ہدایت کی،اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت سے گزارش ہے کہ پہلے درجہ حرارت کم کریں،ملک میں ہر طرف درجہ حرارت کم کرنا چاہیئے ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ درجہ حرارت کم کرنے کے لیے آپ نے کیا کیا، اٹارنی جنرل نے کہا کہ وقت کے ساتھ ہی درجہ حرارت کم ہو سکتا ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے ہمیشہ آئین کو ہی فوقیت دی ہے،ججز کو دفاترسے نکال کر گھروں میں قید کیا گیا،معجزہ ہوا کہ ججز واپس دفاتر میں آ گئے،نوے کی دہائی میں کئی بہترین ججز واپس نہیں آ سکے آئین، جمہوریت کو زندہ رکھنا ہے، کل تک جیلوں میں رہنے والے آج اسمبلی میں تقاریر کر رہے ہیں،اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ عوام کے نمائندے ہیں، اسمبلی کی مدت ہوتی یے، ہاؤس کے سربراہ کو تحلیل کا ختیار ہے، نوے دن کا وقت اپریل میں ختم ہو رہا ہے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ صدر نے نوے دن کی مدت کے پندرہ دن بعد تاریخ دی،صدر کو الیکشن کمیشن نے حالات نہیں بتائے تھے،صدر کو حالات سے اگاہ کیا ہوتا تو شاید 30 اپریل تاریخ نہ آتی عدالت کے سامنے مسئلہ اٹھ اکتوبر کی تاریخ کا ہے ،عدالت مشکلات پیدا کرنے نہیں بیٹھی عدالت کو ٹھوس وجہ بتائیں یا ڈائیلاگ ،ایک فریق پارٹی چیئرمین کی گارنٹی دے رہا ہے، شاید حکومت کو بھی ماضی بھلانا پڑے گا،اسمبلیوں کی مدت ویسے بھی اگست تک مکمل ہورہی ہے،اگر حکومت اور اپوزیشن کے مذاکرات ہوں تو کچھ دن وقفہ کرلیں گیے،اگر مذاکرات نہیں ہونے تو آئینی کردار ادا کریں گے،عدالتی فیصلہ دیکھ کر کہیں گے کہ بااختیار فیصلہ ہے۔ ہر فریق کے ہر نقطے کا فیصلے میں ذکر کریں گے، بیس ارب کی اخراجات پر پہلے عدالت کو بتائیں۔ اخراجات کم کرنے کی تجویز دی تھی،دوسرا مسئلہ سیکیورٹی کا ہے ،نصف پولنگ سٹیشن انتہائی حساس یا حساس ہیں، صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ ملک میں دہشتگردی ہے، دہشتگردی تو 90 کی دہائی سے ہے عدالت کو بتایا گیا کہ افواج بارڈر پر مصروف ہیں، اس معاملے کو بھی دیکھنا ہو گا،

    اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ آج عدالت کا جاری سرکلر دیکھا یے، جسٹس جمال مندوخیل کا نوٹ بھی پڑھا ہے، جسٹس جمال مندوخیل بینچ سے الگ ہو چکے ہیں ،دوسرا نقطہ یکم مارچ کے فیصلے کے تناسب کا ہے،تیسرا نکتہ یکم مارچ کے فیصلے کی بنیاد پر ہی ہے، موجودہ درخواست کی بنیاد یکم مارچ کا عدالتی حکم یے، نو رکنی بینچ کے دو اراکین نے رضا کارانہ بینچ سے علیدگی اختیار کی، چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کو کس نے کہا کہ دو ججز بینچ سے الگ ہوئے تھے، عدالت کا ستائس فروری کا حکم پڑھیں اس میں کہاں لکھا ہے،؟ اٹارنی جنرل نے ستائیس فروری کا عدالتی حکم پڑھ کر سنایا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ معاملہ چیف جسٹس کو بینچ کی ازسر نو تشکیل کے لیے بھیجا گیا تھا،چاہتا تو تمام ججز کو بھی تبدیل کر سکتا تھا،اگر آپ وہی کرنا چاہتے ہیں جس سے مسئلہ بنا تو یہ ہماری پرائیوسی میں مداخلت ہوگی۔آرڈر میں دوبارہ بینچ کی تشکیل کا کہا گیا، بینچ کی تشکیل دینا چیف جسٹس کا اختیار ہے، دوبارہ 9 رکنی بینچ بنایا جاسکتا تھا، کتنے رکنی بینچ بنا یا ٹوٹا اس میں مت جائیں، ایسا کر کے آپ ہماری حدود میں مداخلت کر رہے ہیں۔ بینچ کی تشکیل ہمارا اندرونی معاملہ ہے، سپریم کورٹ کے اندرونی معاملات کو پبلک پر اچھالا جانا بدقسمتی ہے، بینچ کی تشکیل سپریم کورٹ کا اندرونی اختیار ہے ایک دوسرے کی عزت کریں تاکہ معاملات حل ہوں .دوبارہ بینچ کے معاملات میں مت جائیں،

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ آپ نے کہا کہ ججز نے سماعت سے معذرت نہیں کی تھی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میں نے اس حوالے سے کچھ نہیں کہا،سماعت روکنے والا حکم ہم ججز آپس میں زیر بحث لائیں گے، آپ درجہ حرارت کم کرنے والی بات کر رہے تھے، ہم تو تنقید کا جواب بھی نہیں دے سکتے ججز کی اندرونی گفتگو عوام میں نہیں کرنی،اٹارنی جنرل نے کہا کہ پہلے دن فل کورٹ تشکیل دینے کی استدعا کی تھی ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس نکتے پر آپ دلائل ضرور دیں ،فل کورٹ والا معاملہ میرے ذہن میں تھا ،عدالتننگ بینچ بناتے وقت بہت کچھ ذہن میں رکھنا ہوتا ہے،ایک بات یہ زہن میں ہوتی ہے کہ معمول کے مقدمات متاثر نہ ہوں،موجودہ دور میں روز نمٹائے گیے مقدمات کی تعداد بڑھ رہی ہے، بعض اوقات تمام ججز دستیاب نہیں ہوتے،گزشتہ ہفتے کویٹہ کراچی اور لاہور میں بھی بینچ تھے اس ہفتے بھی لاہور میں بینچ تھا .فل کورٹ بنانے سے قبل کئی معاملات کو زیر غور رکھنا ہوتا ہے، دیکھنا ہوتا ہے بینچ بنانے سے دیگر کام نہ رکے، فل کورٹ بنانے سے دیگر کیسز متاثر ہوتے ہیں کئی مواقع پر ججز کی عدم موجودگی کے باعث فل کورٹ کا کام متاثر ہوتا ہے،نو رکنی بینچ تشکیل دیتے وقت تمام ججز کے بارے میں سوچا،جسٹس اطہر من اللہ کو آئین سے ہم آہنگ پایا، جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس منیب اختر اور جسٹس اعجاز الاحسن بھی آئین کے ماہر ہیں،آپ پوچھ سکتے ہیں جسٹس مظاہر نقوی کیوں شامل کیے گئے، جسٹس مظاہر نقوی کو شامل کرنا خاموش پیغام دینا تھا،دو سال جسٹس فائز عیسیٰ کیس چلا اور عدالت کو سزا ملی ،جسٹس فائز عیسیٰ کے لیے بھی مقدمہ سزا ہی تھا، ہمارے ایک ساتھی کا دو سال ٹرائل کیا گیا،دو سال کے ٹرائل کے بعد بھی کچھ نہیں نکلا۔ سپریم کورٹ میں آج بھی اتفاق ہے، طاقت کے ایوانوں میں بیٹھے لوگوں کو اندازہ نہیں سپریم کورٹ کتنا متاثر ہورہی ہے، آج ججز کی آڈیوز لیک کی جارہی ہیں۔ سیاسی معاملات اور سنی سنائی باتوں پر نشانہ ججز کو بنایا جا رہا ہے، سپریم کورٹ متحد تھی کچھ معاملات میں اب بھی ہے، اہم عہدوں پر تعینات لوگ کس طرح عدلیہ کو نشانہ بنا رہے ہیں، مجھے کہا جا رہا ہے کہ ایک اور جج کو سزا دوں، جا کر پہلے ان شواہد کا جائزہ لیں۔سپریم کورٹ میں بیس سال کی نسبت بہترین ججز ہیں ،جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس شاہد وحید کے فیصلے پڑھیں، جسٹس شاہد وحید نے بہترین اختلافی نوٹ لکھا،آڈیو لیک کی بنیاد پر کیسے نشانہ بنایا جائے ،قانون پر بات کریں تو میں بطور جج سنوں گا، میرے ججز کے بارے میں بات کریں گے تو میرا سامنا کرنا پڑے گا،میرا بھی دل ہے میرے بھی جذبات ہیں، جو کچھ کیا پوری ایمانداری سے اللہ کو حاضر ناظر جان کر کیا ،جو کچھ آج تک کیا آئین اور قانون کے مطابق کیا ،ٹیکس کا معاملہ ہے تو متعلقہ افسر کو کہیں ٹریس کریں ٹیکس معاملے پر کیسے جج کا ٹرائل کریں، جسٹس اقبال حمید الرحمان کو استعفی سے روکا تھا، جسٹس اقبال حمید الرحمان نے کہا مرحوم باپ کو کیا منہ دکھاوں گا،چیف جسٹس کی کمرہ عدالت میں جذبات سے آواز بھر آئی

    دوران ریمارکس چیف جسٹس عمر عطا بندیال جذباتی ہوگئے، عرفان قادر نے چیف جسٹس عمر عطا بندیال سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں سماعت کے دوران جذباتی نہیں ہونا ہے،جس پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم تو تنقید کا جواب بھی نہیں دے سکتے ججز کی اندرونی گفتگو عوام میں نہیں کرنی چاہیے، درجہ حرارت کم کرنے والی آپشن پر ہی رہیں،ہمارے سامنے فاروق نائیک، اکرم شیخ اور دیگر سینئر وکلا موجود ہیں،ہم پہلے حکومت کا موقف سننا چاہتے ہیں، اٹارنی جنرل کی جانب سے عدالت کو معاشی صورتحال پر آگاہی دی گئی، اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہمارا بجٹ میں خسارہ ہے،چیف جسٹس نے کہا کہ فرض کریں کہ اگر خسارہ اکتوبر تک رہا تو پھر کیا ہوگا،

    عرفان قادر نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا موقف پورا نہیں سنا گیا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پہلے اٹارنی جنرل کو بات مکمل کرنے دیں، عرفان قادر نے کہا کہ میں صرف 3 منٹ بات کرتا ہوں،روز مجھے گھنٹوں بیٹھنا پڑتا ہے،آپ جذباتی ہوسکتے ہیں تو ہم بھی ہوسکتے ہیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کو سنیں گے آپ نے 3 منٹ کا کہا ہے،عرفان قادر نے کہا کہ 3 منٹ نہیں بلکہ مختصرا بات مکمل کرنے کی کوشش کرونگا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل صاحب کیس کی بات کریںادھر ادھر کی باتوں سے میں جذباتی ہوگیا تھا،اٹارنی جنرل صاحب سکیورٹی اور فنڈز پر بات کریں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ پہلے سیاسی جماعتوں کو سن لیں، بعد میں دلائل دوں گا،معاشی حالات پر عدالت کو آگاہ کروں گا،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا آٹھ اکتوبر تک انتخابات ملتوی ہو سکتے ہیں اس پر جواب دیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فاروق ایچ نائیک ، اکرم شیخ اور کامران مرتضیٰ کو بھی سنیں گے، پہلے ریاست پاکستان کو سننا چاہتے ہیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ معاملہ بیس ارب کا نہیں پوری معیشت کا یے،ملک کو پندرہ سو ارب خسارے کا سامنا ہے، تیس جون تک شرح سود بائیس فیصد تک جا سکتی ہے،شرح سود بڑھنے سے قرضوں میں اضافہ ہوتا ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ کیا ماضی کے قرضوں پر بھی نئی شرح سود لاگو ہوتی ہے، جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ حکومت کے پاس اس وقت کتنا پیسہ موجود ہے،فیڈرل کونسلیڈیٹڈ فنڈز میں کتنی رقم موجود ہے، اگر بیس ارب خرچ ہوتے ہیں تو خسارہ کتنے فیصد بڑھے گا،پندرہ سو ارب خسارے میں بیس ارب سے کتنا اضافہ ہو گا، الیکشن اخراجات شاید خسارے کے ایک فیصد سے بھی کم ہے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ سپلیمنٹری بجٹ میں 170 ارب کی توقع ہے، اگر پورا جمع ہو گیا،جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ فیڈرل کونسلیڈیٹڈ فنڈز کس کے کنٹرول میں ہوتا ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ فنڈز وزارت خزانہ کے کنٹرول میں ہوتا ہے،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 2019 کے رولز پڑھ کر بتائیں فنڈ کس کے کنٹرول میں ہوتا ہے، پبلک فنانشل مینجمنٹ ایکٹ کے تحت رولز کا جائزہ لیں، رولز کے مطابق تو کونسلیڈیٹڈ فنڈز سٹیٹ بینک میں ہوتا ہے، سٹیٹ بینک کو بلا کر پوچھ لیتے ہیں ان کے پاس کتنا پیسہ ہے، الیکشن کمیشن حکومت کی جانب دیکھ رہا ہے ،کمیشن کہتا ہے کہ فنڈز مل جائیں تو تیس اپریل کو الیکشن کروا سکتے ہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فنڈز میں رقم ہونا اور خرچ کے لیے دستیاب ہونا الگ چیزیں ہیں ، سٹیٹ بینک کو رقم اور سونا ریزرو رکھنا ہوتا ہے،

    اٹارنی جنرل نے دوبارہ فل کورٹ بنانے کا مطالبہ کیا جس پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم تین دن سے آپ کو سن رہے ہیں،عدالت کا ایک ایک دن اہم ہے،آپ چاہتے ہیں بینچ میں مزید ججز شامل کریں تاکہ دلائل دوبارہ سے شروع کرنے پڑیں ، جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بار بار فل کورٹ کے مطالبات کرنے کا کیا مقصد ہے؟ دنیا کے کسی عدالتی سسٹم میں ایسے مطالبات نہیں کیے جاتے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فل کورٹ پر کسی کو اعتراض نہیں ہوگا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ تاثر دینا کہ فل کورٹ پر اعتماد ہوگا یہ رویہ درست نہیں،عدالت کا ایک ایک لمحہ اہم ہے،ہمیں بتایا جائے کب الیکشن کرانے ہیں،ہم سیاسی جماعتوں سے بھی الیکشن سے متعلق یقین دہانیاں لیں گے، لگتا ہے اٹارنی جنرل کے پاس مزید کہنے کو کچھ نہیں،الیکشن کرانا وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے، ہمیں حکومت کی مشکلات کا اندازہ ہے، 90 روز کے اندر الیکشن نہیں کرائے جاسکے صرف یہ دیکھنا ہے مزید کتنے دن درکار ہوں گے الیکشن کیلئے،ہم اس عدالت میں تمام فریقین کو بلائیں گے، تمام فریقین سے معاونت کیلئے یقین دہانیاں لیں گے،سپریم کورٹ نے آئندہ سماعت ہر سیکریٹری خزانہ کو نوٹس جاری کردیے سیکرٹری دفاع اور سیکریٹری خزانہ سوموار کو ذاتی حیثیت میں عدالت طلب کر لیا گیا،سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل کی فل کورٹ بنانے کی درخواست فی الحال مسترد کردی،

    سپریم کورٹ سماعت پیر صبح ساڑھے گیارہ بجے تک ملتوی کر دی، سپریم کورٹ نے سیکرٹری دفاع اور سیکرٹری خزانہ کو آٸندہ سماعت پر طلب کر لیا

    قبل ازیں سپریم کورٹ کا بینچ دوسری بار ٹوٹنے پر وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے نئی صورتحال کے پیش نظر اٹارنی جنرل کو ایک بار پھر فل کورٹ کی استدعا کرنے کی ہدایت کر دی ، وزیر قانون نے انتخابات التوا کیس میں سپریم کورٹ کا بینچ ٹوٹنے پر قانونی ٹیم سے تفصیلی مشاورت کی، انہوں نے الیکشن کمیشن کے وکیل عرفان قادر سے قانونی پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا جبکہ پیپلز پارٹی کے وکیل فاروق نائیک اور ن لیگ کے وکیل اکرم شیخ بھی اس دوران گفتگو میں شریک رہے

     انتخابات ملتوی کرنے کے خلاف درخواست پر سماعت کیلئے دوبارہ بینچ تشکیل

     چیف جسٹس کی سربراہی میں بینچ کا بار بار ٹوٹنا سوالیہ نشان ہے،

     انصاف ہونا چاہیئے اور ہوتا نظر بھی آنا چاہیئے،

     ون مین شو چلایا جارہا ہے، عوام تسلیم نہیں کریگی 

  • اگر فل کورٹ نہ بنا تو تنازعہ مزید بڑھے گا،عطا تارڑ

    اگر فل کورٹ نہ بنا تو تنازعہ مزید بڑھے گا،عطا تارڑ

    ن لیگی رہنما، وزیراعظم کے معاون خصوصی عطا تارڑ نے کہا ہے کہ اگر بینچ ایسے ہی بنتے اور ٹوٹتے رہے تو ادارے کی ساکھ ختم ہوجائے گی ون مین شو چلایا جارہا ہے، عوام تسلیم نہیں کریگی ،

    سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ بدقسمتی ہے سرکلر کے ذریعے سپریم کورٹ کے حکم کی نفی کی جارہی ہے ، فل کورٹ کی تشکیل اب لازم ہوگئی ، اگر فل کورٹ نہ بنا تو تنازعہ مزید بڑھے گا،چاہتے ہیں معاملہ حل ہو،چیف جسٹس کو چاہیے تھا کہ فل کورٹ بنچ بناتے، پوری قوم اس معاملے پر رنجیدہ ہے ، آج بنچ پر وکلاء کے تحفظات تھے اور بنچ کی تشکیل کے بعد اعتراض اٹھایا گیا،

    عطا تارڑ کا مزید کہنا تھا کہ تمام کرائیسز کا فیصلہ مشاورت کے بعد ہونا چاہیے مندوخیل نے دکھی دل سے کہا کہ اللہ تعالیٰ اس ادارے کی حفاظت کرے سرکلر کا رواج پہلی دفعہ دیکھا ہے قوم پہلے ہی مسائل میں مبتلا ہے مل کر بیٹھیں اور مسائل حل کریں ہم چاہتے ہیں سپریم کورٹ کی بقا بحال رہے، ملک میں ایک آئینی بحران پیدا ہو چکا ہے لیکن دو تارڑ آئین کی پاسداری کے لیے کھڑے رہیں گے آج معاملات سجاد علی شاہ ٹو کی طرف جا رہے ہیں ،سپریم کورٹ میں جب بھی کوئی سجاد علی شاہ بنے گا تو آئین کی پاسداری کیلئے تارڑ آئے گا،

    دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ ایک پاگل جس کے ہاتھ میں ماچس ہے، ملک کو آگ لگانا چاہتا ہے، پہلے کاغذ لہرا کر سائفر کی کہانی گھڑی، قانون اور اسمبلی توڑی صدر ، ڈپٹی اسپیکر سے آئین شکنی کرائی، اسی شخص نے پنجاب اور کے پی کے اسمبلی توڑی،ججز کمیٹی کو بینچ بنانے کا فیصلہ کرنا چاہیئے تاکہ بینچ فکسنگ کا تاثر ختم ہو، ترازو کے پلڑے برابر نظر آنے چاہیئے،جسٹس اعجازالحسن 3 رکنی بینچ کا حصہ نہین بن سکتے ،تین رکنی بینچ کا فیصلہ عوام نہیں مانے گی ، پی ڈی ایم کا مطالبہ فل کورٹ بنائی جائے،دیگر جماعتوں کو بھی سماعت کا حصہ بنایا جائے، پوری سماعت متنازعہ ہو چکی ہے، رجسٹررار کا سرکلر ایک فرد کا فیصلہ ہے،اس بینچ نے فل کورٹ کے علاوہ کوئی فیصلہ کیا تو کون مانے گا، عمران خان ملک میں افراتفری چاہتا ہے،دہشتگرد زمان پارک میں پال کر پولیس پر پیٹرول بم پھینکے گئے، عمران خان عالمی سازش کے بیانیے میں پکڑا گیا،

     چیف جسٹس کی سربراہی میں بینچ کا بار بار ٹوٹنا سوالیہ نشان ہے،

     انصاف ہونا چاہیئے اور ہوتا نظر بھی آنا چاہیئے،

    سوشل میڈیا چیٹ سے روکنے پر بیوی نے کیا خلع کا دعویٰ دائر، شوہر نے بھی لگایا گھناؤنا الزام

    سابق اہلیہ کی غیراخلاقی تصاویر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے والے ملزم پر کب ہو گی فردجرم عائد؟

    ‏سوشل میڈیا پرغلط خبریں پھیلانا اورانکو بلاتصدیق فارورڈ کرنا جرم ہے، آصف اقبال سائبر ونگ ایف آئی 

  • عدلیہ کی تقسیم مکافات عمل ہے یا تاریخ کا انتقام ، شازیہ مری

    عدلیہ کی تقسیم مکافات عمل ہے یا تاریخ کا انتقام ، شازیہ مری

    وفاقی وزیر اور ترجمان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز شازیہ مری کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس کی سربراہی میں بینچ کا بار بار ٹوٹنا سوالیہ نشان ہے،

    شازیہ مری کا کہنا تھا کہ افسوس ناک حقیقت یہ ہے کہ ایک جیسے مقدمات میں انصاف کا پیمانہ مختلف رہا ہے، ہمارا آج بھی موقف ہے کہ آئینی معاملات کیلئے علیحدہ آئینی عدالت کی ضرورت ہے، آئین سازی کا اختیار صرف پارلیمنٹ کو حاصل ہے،قوم تو پوچھتی رہے گی کہ بھٹو سے انصاف کیوں نہیں ہوتا ،سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس اعتراف کر چکے ہیں کہ بھٹو صاحب کو پھانسی غلط تھی، عدلیہ کی تقسیم مکافات عمل ہے یا تاریخ کا انتقام ،

    شازیہ مری کا مزید کہنا تھا کہ چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کا قومی اسمبلی میں خطاب عوام کے دل کی آواز ہے، صدر آصف علی زرداری نے اپنے تمام اختیارات پارلیمان کو دیئے،بااختیار پارلیمنٹ کے لیئے محترمہ بینظیر بھٹو شہید نے تاریخی جدوجہد کی تھی، گڑھی خدا بخش بھٹو کے قبرستان سے خون کی لالی لیکر جمہوریت کا سورج طلوع ہوا ہے، افسوس ناک حقیقت یہ ہے کہ ہماری عدلیہ نے جمہوریت کو کمزور اور آمروں کو مضبوط کیا، آئین سازی صرف پارلیمان کا اختیار ہے

    سوشل میڈیا چیٹ سے روکنے پر بیوی نے کیا خلع کا دعویٰ دائر، شوہر نے بھی لگایا گھناؤنا الزام

    سابق اہلیہ کی غیراخلاقی تصاویر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے والے ملزم پر کب ہو گی فردجرم عائد؟

    ‏سوشل میڈیا پرغلط خبریں پھیلانا اورانکو بلاتصدیق فارورڈ کرنا جرم ہے، آصف اقبال سائبر ونگ ایف آئی اے

    سوشل میڈیا پر جعلی آئی ڈیز کے ذریعے لڑکی بن کر لوگوں کو پھنسانے والا گرفتار

  • جسٹس مندوخیل سے مشاورت نہ کرنا،پوری قوم کیلئے لمحہ فکریہ ہے،وزیر داخلہ

    جسٹس مندوخیل سے مشاورت نہ کرنا،پوری قوم کیلئے لمحہ فکریہ ہے،وزیر داخلہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ انصاف ہونا چاہیئے اور ہوتا نظر بھی آنا چاہیئے،

    سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناءاللہ کا کہنا تھا کہ اسمبلی دونوں صوبوں کے وزراء اعلٰی نے تحلیل نہیں کی، جسٹس جمال مندو خیل نے اپنے اختلافی نوٹ میں جو باتیں لکھیں افسوس ناک ہیں جسٹس مندوخیل سے مشاورت نہ کرنا ،پوری قوم کیلئے لمحہ فکریہ ہے میں نے آج تک یہ نہیں سنا کہ سپریم کورٹ کے جج کے فیصلے کو ایک سرکلر سے غلط قرار دیا گیا .یہ بینچ 9 سے شروع ہو کر آج 3 ججز تک آ گیا ہے ،سیاسی ،انتظامی ،معاشی ،جوڈیشری کے درمیان بحران کا سبب صرف ایک فتنہ ہے, قاضی فائز عیسی ٰ کے خاندان کو اگر عدالتوں میں خوار نہ کیا جاتا تو آج یہ عدالتی بحران نہ ہوتا یہ دونوں صوبائی اسمبلیاں عمرا ن خان کی ضد پر توڑی گئیں ہیں ،اس کا جائزہ لیا جانا چاہیئے،

    وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے چیف جسٹس سے فل کورٹ بنانے کی استدعا کر دی اور کہا کہ فل کورٹ نہ بنا تو ایسا فیصلہ قابل عمل نہیں ہو گا یہ صورتحال انتہائی افسوس ناک اور قومی سانحے سے کم نہیں ،ایک فتنے نے پوری قوم کو اس نہج پر لا کھڑ ا کیا ہے ،اب اس بات کا جائزہ لینا ضروری ہوگیا ہے کہ یہ فتنہ کس طرح یہاں متعارف کروایا گیا اور ملک کو بحران در بحران کا شکار کررہا ہے جو چاہتا ہے کہ ملک میں افراتفری اور انارکی پیدا ہو،

    واضح رہے کہ پنجاب اور کے پی انتخابات ملتوی کرنے سے متعلق پی ٹی آئی درخواست پر پانچویں سماعت آج ہونی تھی، چار رکنی بینچ تشکیل دیا گیا تھا مگر آج پھر بینچ ٹوٹ گیا، جسٹس جمال خان مندوخیل بھی بینچ سے الگ ہو گئے

    الیکشن التوا کیس ، سپریم کورٹ کا 4 رکنی بینچ ٹوٹ گیا . جسٹس جمال خان مندوخیل نے کیس سننے سے معذرت کر لی ،سپریم کورٹ نے کل کی سماعت کا فیصلہ جاری کردیا جس میں جسٹس جمال نے اختلافی نوٹ لکھا اور کہا کہ چیف جسٹس نے مجھ سے مشاورت نہیں کی تھی چیف جسٹس نے عدالت میں آرڈر نہیں لکھوایا تھا

    سوشل میڈیا چیٹ سے روکنے پر بیوی نے کیا خلع کا دعویٰ دائر، شوہر نے بھی لگایا گھناؤنا الزام

    سابق اہلیہ کی غیراخلاقی تصاویر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے والے ملزم پر کب ہو گی فردجرم عائد؟

    ‏سوشل میڈیا پرغلط خبریں پھیلانا اورانکو بلاتصدیق فارورڈ کرنا جرم ہے، آصف اقبال سائبر ونگ ایف آئی اے

    سوشل میڈیا پر جعلی آئی ڈیز کے ذریعے لڑکی بن کر لوگوں کو پھنسانے والا گرفتار

  • رکن اسمبلی دوران اجلاس موبائل پر فحش فلمیں دیکھتے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا

    رکن اسمبلی دوران اجلاس موبائل پر فحش فلمیں دیکھتے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا

    رکن اسمبلی اجلاس کے دورن موبائل پر فحش فلمیں دیکھتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا ہے، واقعہ بھارت کا ہے، تریپورہ میں بھارت کی موجودہ حکمران جماعت بی جے پی سے تعلق رکھنے والے رکن اسمبلی جدب لال دیب ناتھ اسمبلی اجلاس میں شریک ہوئے تو دوران اجلاس موبائل فون پر فحش فلمیں دیکھتے رہے، انہیں یہ اندازہ نہیں تھا کہ ایوان میں کیمرے لگے ہوئے ہیں، رکن اسمبلی کی جانب سے فحش فلمیں دیکھنے کی ویڈیو سی سی ٹی وی میں ریکارڈ ہوئی جس کے بعد کسی نے اسکو سوشل میڈیا پر وائرل کر دیا، سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہونے کے بعد بی جے پی تریپورہ کے صدر کا کہنا ہے کہ پارٹی نوٹس جاری کر کے رکن اسمبلی سے وضاحت طلب کرے گی.

    رکن اسمبلی جدب لال دیب ناتھ کی ویڈیو جب وائرل ہوئی تو عوامی حلقوں نے اسکی مذمت کی، سوشل میڈیا صارفین نے رکن اسمبلی جدب لال دیب ناتھ کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا، میڈیا رپورٹس کے مطابق رکن اسمبلی جدب لال دیب ناتھ نے جس اجلاس کے دوران یہ ویڈیو دیکھی وہ اجلاس 24 مارچ سے 28 مارچ تک ہوا تھا، رکن اسمبلی جدب لال دیب ناتھ کی جانب سے فحش ویڈیو دوران اجلاس دیکھنے پر اپوزیشن لیڈر دیب برما کا کہنا ہے کہ اراکین اسمبلی ذمہ دار شخص ہیں، انہیں اپنے عمل سے دوسروں کے لئے بری مثال نہیں بننا چاہئے، انہوں نے رکن اسمبلی جدب لال دیب ناتھ کے خلاف کاروائی کا بھی مطالبہ کیا، بھارت کی اپوزیشن جماعت کانگریس نے بھی رکن اسمبلی جدب لال دیب ناتھ کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اسمبلی اجلاس کے دوران موبائل لانا منع ہے، تا کہ سب اجلاس پر فوکس کریں، رکن اسمبلی جدب لال دیب ناتھ موبائل کیسے لے کر گئے، فحش ویڈیو دیکھ کر ایوان کے وقار کو نقصان پہنچایا گیا، بی جے پی میں اگر اخلاقیات نام کی کوئی چیز ہے تو رکن اسمبلی جدب لال دیب ناتھ کے خلاف کاروائی کی جائے،

    پولیس کا ریسٹورنٹ پر چھاپہ، 30 سے زائد نوجوان لڑکے لڑکیاں گرفتار

    واٹس ایپ پر محبوبہ کی ناراضگی،نوجوان نے کیا قدم اٹھا لیا؟

    غیرت کے نام پر سنگدل باپ نے 15 سالہ بیٹی کو قتل کر دیا

    جنسی طور پر ہراساں کرنے پر طالبہ نے دس سال بعد ٹیچر کو گرفتار کروا دیا

    غیر ملکی خاتون کے سامنے 21 سالہ نوجوان نے پینٹ اتاری اور……خاتون نے کیا قدم اٹھایا؟

    بیوی طلاق لینے عدالت پہنچ گئی، کہا شادی کو تین سال ہو گئے، شوہر نہیں کرتا یہ "کام”

    50 ہزار میں بچہ فروخت کرنے والی ماں گرفتار

    ریلوے سٹیشن پر لگی ٹی وی سکرینز پر فحش فلم چل گئی

  • انشورنس کمپنی بیوہ کو ڈیتھ انشورنس کلیم ادا کرے،صدر مملکت کی ہدایت

    انشورنس کمپنی بیوہ کو ڈیتھ انشورنس کلیم ادا کرے،صدر مملکت کی ہدایت

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے انشورنس کمپنی کو بیوہ کو ڈیتھ انشورنس کلیم ادا کرنے کی ہدایت کی ہے،کمپنی نے متوفی شوہر کی جانب سے جان بوجھ کر بیماری چھپانے کے عذر پر انشورنس کلیم ادائیگی سے انکار کیا تھا .صدر مملکت نے وفاقی انشورنس محتسب کے حکم کے خلاف شہناز اختر کی درخواست قبول کر لی

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا تھا کہ انشورنس کمپنی کے پاس ناقص بنیادوں پر انشورنس کلیم مسترد کرنے کا جواز نہیں ، انشورنس کمپنی کی جانب سے بدانتظامی ہوئی ، انشورنس محتسب کے احکامات کو مسترد کیا جاتا ہے ،ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس جیسی بیماریوں میں مبتلا افراد کی اکثریت محتاط رہ کر لمبے عرصے تک زندہ رہتی ہے،ایسی بیماریوں کو چھپانے کو دھوکہ دہی سے تعبیر نہیں کیا جاسکتا،کمپنی حکم کی وصولی کے 30 دنوں کے اندر شکایت کنندہ کو انشورنس کلیم ادا کرے،

    انشورنس محتسب نے کیس بیوہ کو پریمیم کی رقم پہلے سے ہی واپس ہونے کی بنیاد پر بند کر دیا تھا ،اور کہا تھا کہ 1.5 لاکھ روپے کی کٹوتی کی رقم واپس ہوچکی، کمپنی کلیم ادا کرنے کی ذمہ دار نہیں ، صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا تھا کہ ڈیتھ سرٹیفکیٹ میں بیماری کی کوئی مدت نہیں بتائی گئی ،بیماری سے متعلق ہسپتال کا جاری کردہ چارٹ 2017 سے متعلق ، انشورنس پالیسی 2015 میں جاری ہوئی،صدر مملکت نے وفاقی انشورنس محتسب کا فیصلہ مسترد کر دیا

    یاسمین راشد اور اعجاز شاہ کی کال لیک ہوئی ہے

    ،قانون کو کوئی بھی ہاتھ میں لے گا تو کاروائی ہوگی ،ڈی آئی جی آپریشنز اسلام آباد

     کل شام سے گرفتاری کے لئے شروع ہونے والا آپریشن تاحال مکمل نہ ہو سکا،

    اسلام آبادم پنڈی، کراچی، صادق آباد و دیگر شہروں میں مقدمے درج 

    عدالت نے کہا کہ میں کیوں ایسا حکم جاری کروں جو سسٹم ہے اسی کے مطابق کیس فکس ہوگا،

    عمران خان نے باربار قانون کی خلاف ورزی کی جس پر انہیں جواب دینا ہوگا

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ آپ کا اپنا کیا دھرا ہے