Baaghi TV

Tag: تازہ ترین

  • عمران خان مکمل ٹریپ میں،وہ ہو گا کہ لوگ الطاف حسین کو بھول جائینگے

    عمران خان مکمل ٹریپ میں،وہ ہو گا کہ لوگ الطاف حسین کو بھول جائینگے

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے توشہ خانہ کیس میں عدالت نے وارنٹ جاری کیے تو عمران خان پیش نہ ہوئے، اسلام آباد ہائیکورٹ نے پیش ہونے کا حکم دیا اسکے باوجود عمران خان عدالت نہ گئے ،عمران خان کے وارنٹ دوبارہ بحال ہوئے تو اگلے روز اسلام آباد پولیس عمران خان کو گرفتار کرنے لاہور پہنچ گئی، منگل کی شام تقریبا ساڑھے چار بجے پولیس زمان پارک پہنچی، بکتر بند گاڑی، واٹر کینن، بھاری نفری لیکن تقریبا 20 گھنٹے مسلسل جدوجہد کے باوجود عمران خان کو گرفتار نہیں کر سکی، کیونکہ عمران خان نے گرفتاری سے بچنے کے لئے کارکنان کو ڈھال بنایا ہوا ہے، تحریک انصاف کے درجنوں کارکنان زمان پارک موجود رہتے ہیں، ممکنہ گرفتاری کی خبر پھیلنے کے بعد کارکنان کی آمد کا سلسلہ بھی بڑھ گیا، پولیس نے رات کو بھی کوشش کی لیکن گرفتاری نہ ہو سکی، صبح بھی کوشش کی گئی لیکن پی ٹی آئی کارکنان نے پولیس کو آگے نہ بڑھنے دیا، اس دوران دونوں طرف سے آنکھ مچولی ہوتی رہی، پی ٹی آئی کی جانب سے پتھراؤ کیا گیا تو پولیس نے لاٹھی چارج، آنسو گیس کے شیل اور واٹر کینن کا استعمال کیا، 50 سے زائد پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں جنکو علاج کے لئے ہسپتال منتقل کیا گیا ہے، دوسری جانب تحریک انصاف کے کارکنان بھی زخمی ہیں لیکن انکی تعداد ابھی تک واضح نہیں ہو سکی، فرح حبیب تو یہ بھی دعویٰ کرتے رہے کہ کارکنوں کی موت بھی ہوئی لیکن ابھی تک کوئی لاش سامنے نہیں لائی جا سکی،

    پولیس جب زمان پارک پہنچی تو سب سے پہلے عمران خان کے قریبی افراد نے جھوٹ بولا کہ عمران خان زمان پارک نہیں ہیں، بعد ازاں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ میں جھوٹ نہیں بولوں گا عمران خان زمان پارک میں ہی موجود ہیں، عمران خان نے 20 گھنٹے تقریبا کارکنان کو ڈھال بنائے رکھا اور گرفتاری نہین دی، شاید عمران خان اور تحریک انصاف کی قیادت گرفتاری نہ دینے کو بڑی کامیابی سمجھ رہے ہیں لیکن حقیقت اسکے برعکس ہے، عمران خان کی گرفتاری اگر حکومت نے کرنی ہوتی تو ایک رپورٹ کے مطابق دس منٹ میں عمران خان کو گرفتار کیا جا سکتا تھا، اب ان 20 گھنٹوں میں تحریک انصاف نے لاقانونیت کی انتہا کی ہے، ایک طرف عمران خان کے وارنٹ،اور اس میں رکاوٹیں ڈالی گئیں،پولیس پر پتھراؤ کیا گیا، پولیس کی املاک کو آگ لگائی گئی، پولیس سے جھوٹ بولا گیا، قانون کو ہاتھ میں لیا گیا، پولیس پر پٹرول بم برسائے گئے، اور اس ساری منصوبہ بندی میں مبینہ طور پر عمران خان سمیت تحریک انصاف کی دیگر قیادت بھی شریک تھی، کیونکہ آج ہی یاسمین راشد اور صدر مملکت کی ایک آڈیو لیک ہوئی ہے جس میں یہ ساری باتیں کی گئی ہین کہ زمان پارک میں کیا ہو رہا ہے،پٹرول بم چلانے کا بھی اعتراف اس آڈیو میں ہے، صحافی محسن بلال نے بھی ایک ویڈیو ٹویٹ کی ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ پٹرول سے بھرا ہوا ڈرم۔ زمان پارک سے مال روڈ اشارے پر پہنچایا گیا۔ جس کے بعد پولیس اور کارکنان کے درمیان شدید تصادم ہوا۔ پولیس شیلنگ کرتی رہی اور تحریک انصاف کے کارکنان شیشے کی بوتلوں میں پٹرول بم پھینکتے رہے۔

    صحافی نوید شیخ کہتے ہیں کہ ویڈیو میں واضح دیکھا جا سکتا ہے کہ کیسے کپتان کے گھر کے اندر سے کے پی کے سے آئے دہشتگرد سیکورٹی اہلکاروں پر پیڑول بم مار رہے ہیں جبکہ اہلکاروں کے پاس خالی ڈنڈے ہیں ۔

    پولیس کا زمان پارک میں آپریشن جاری تھا تو تحریک انصاف کے سوشل میڈیا کی جانب سے ہمیشہ کی طرح فیک ویڈیوز اور فیک خبریں وائرل کرنے کی بھی کوشش کی گئی،تاہم سوشل میڈیا پر انکا مسلسل کاؤنٹر کیا جاتا رہا، اسلام آباد پولیس سے لے کر پنجاب حکومت تک سب نے فوری فیک خبروں کو کاؤنٹر کیا اورتحریک انصاف کے پروپگنڈے کو بے نقاب کیا،ان حالات میں جو تحریک انصاف نے ان 20 گھنٹوں میں کیا ایسے میں تحریک انصاف کو سیاسی جماعت کہلوانے کا کوئی حق نہیں رہا، کیونکہ کوئی بھی سیاسی جماعت اس طرح کا تشدد نہیں کرتی اور نہ ہی قانون ہاتھ میں لیتی ہے بلکہ سیاسی رہنما تو قانون پر عمل کر کے دوسروں کے لئے مثال قائم کرتے ہیں، ایسے میں قانون پر عمل کرتے ہوئے تحریک انصاف پر سے سیاسی جماعت کا لیبل ختم ہونا چاہئے اور اسے کالعدم قرار دینا چاہئے، پاکستان بڑی مشکل سے دہشت گردی سے نکلا ایسے میں پاکستان کو کسی بھی مشکل میں مزید نہیں دھکیلا جا سکتا، ضرورت اس امر کی ہے کہ تحریک انصاف کے ساتھ قانون کا ہاتھ قانون کے مطابق ہی رکھا جائے کسی قسم کی مزید رعایت تحریک انصاف کو مزید شدت پسندی کی طرف راغب کرے گی،

    لاہور سے صحافی نجم ولی خان کہتے ہیں کہ عمران خان غداری اور بغاوت کے لئے بچھائے گئے ٹریپ میں مکمل طور پر آ گئے ہیں۔ ان کی صفوں میں ان کے مخالفین کے ایجنٹوں نے انہیں آج "پوائنٹ آف نو ریٹرن” پر پہنچا دیا ہے۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ عمران خان کے ساتھ وہ ہو گا کہ اکبر بگتی، الطاف حسین اور ایم کیو ایم کی مثالیں بھول جائیں گی۔

    نجم ولی خان مزید کہتے ہیں کہ جو عمران خان نیازی اور اس کا گروہ کر رہا ہے وہ اگر گرفتاری کی کوشش پر نوازشریف، اصف زرداری، مولانا فضل الرحمان، فاروق ستار، الطاف حسین، اسفند یار ولی، آفتاب شیر پاو، سراج الحق، سعد رضوی، محمود خان اچکزئی میں سے کوئی کرتا تو ۔۔۔؟ تو کیا ہوتا؟

    ن لیگی رہنما، وفاقی وزیر احسن اقبال کہتے ہیں کہ عمران نیازی اندھے پیروکاروں کے زور پہ پاکستان کا ہٹلر، پی ٹی آئی نازی پارٹی بننے کی کوشش کر رہی ہے۔ہٹلر کی گرم تقریروں نے جرمن قوم کو فریب میں مبتلا کیا، جج، صحافی،دانشور اور عوام اس کے جھانسے میں آئے اسے ووٹ دئیے اور اقتدار میں آ کے اسنے جرمن قوم اور دنیا کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔

    ایک ٹویٹر صارف کرن نازنے لکھا کہ خان صاحب جو کرتوت خود کرتے ہیں،وہی دوسروں پر ڈالتے ہیں۔کیاآپکے احکامات پر فورسز نےلبیک والوں کی گھروں کی دیواریں نہیں پھلانگی تھیں؟کیا آپ نے پولیس اور فورسز سےTLP پر سٹریٹ فائر نہیں کروائے تھے؟آپ اتنے بھولے کیوں ہیں؟فورسز کو عوام کے سامنے آپ نے کھڑا نہیں کیا؟

    https://twitter.com/kiran_Naaz12/status/1635951799822606340

    ایک صارف لکھتے ہیں کہ عمران خان معلوم انسانی تاریخ کے وہ پہلے سرخیل ہیں جنہوں نے محاذ آرائی و جنگ کی صف بندی کی ترتیب ہی الٹ کر رکھ دی ہے،پہلے جنگ میں رہنما سب آگے ہوتا تھا اس کے دائیں بائیں وزراء ہوتے تھے،پھر پیچھے گھڑ سوار سپاہی،یہاں منظر نامہ کچھ یوں ہے کہ پہلی صف سے معذور و بوڑھے لیڈ کر رہے دوسری صف سے خواتین و بچے واویلا کر رہے،تیسری صف میں ہجیڑے کھڑے بدعائیں دے رہے،اور آخری صفوں سے پیچھے اوٹ میں چھپے لیڈر سے احکامات لے کر آگے پہنچاتے وزرا و مشران دکھائی دے رہے.

  • ڈاکٹر یاسمین راشد، صدر مملکت کی مبینہ آڈیو لیک ، منصوبہ بندی آئی سامنے

    ڈاکٹر یاسمین راشد، صدر مملکت کی مبینہ آڈیو لیک ، منصوبہ بندی آئی سامنے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو پولیس تاحال گرفتار نہ کر سکی تا ہم یاسمین راشد کی ایک ہی دن میں دوسری آڈیو لیک ہو گئی ہے

    اب دوسری آڈیو یاسمین راشد کی سامنے آئی ہے جس میں وہ صدر مملکت عارف علوی سے بات کر رہی ہیں، مبینہ آڈیو میں یاسمین راشد نے صدر عارف علوی سے کسی سے خان کیلئے بات کرنے کی درخواست کی،یاسمین راشد نے مبینہ آڈیو میں صدر عارف علوی سے کہا کہ ’سر یہاں پر صورتحال پر بہت خراب ہے پیٹرول بم پھینکنا شروع کردیے ہیں ہمارے ورکرز نے اس سے پہلے کہ خون خرابا ہو، میرا خیال ہے آپ کو کسی سے بات کرنے کی ضرورت ہے

    یاسمین راشد کی بات پر صدر عارف علوی نے کہا کہ ’میں نے بات کرلی ہے‘ یاسمین راشد نے کہا کہ ’ آپ ان سے کہہ دیں کہ میں بات کرلیتا ہوں عمران خان سے‘صدر عارف علوی نے کہا کہ ’میں سمجھا نہیں آپ کیا کہہ رہی ہیں‘ یاسمین راشد نے کہا کہ ’دیکھیں کچھ مر جائیں گے، صورتحال اتنی بری ہو جائے گی کہ الیکشن ملتوی ہوجائیں گے، کچھ پولیس والے مرجائیں گے میرا خیال ہے آپ خان صاحب کو کہیں کہ give in ، باقی آپ کی مرضی،ابھی رینجرز وہاں پر ہے، پیٹرول بم چل رہے ہیں، ان کی واٹر کینن کو آگ لگ گئی ہے، میں تو باہر ہوں ،

    صدرمملکت عارف علوی نے کہا کہ میں اسد عمر سے بات کرتا ہوں ، جس پر یاسمین رشد نے کہا کہ آپ شاہ صاحب سے بھی بات کرلیں وہ خان صاحب کے ساتھ ہیں

    قبل ازیں شاہ محمود قریشی نے بھی ایک ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ تحریک انصاف کے تمام اراکین، ٹکٹ ہولڈرز لاہور پہنچیں اور عمران خان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کریں، واضح رہے کہ زمان پارک میں پولیس اور پی ٹی آئی کارکنان آمنے سامنے ہیں،تحریک انصاف کے کارکنان کی جانب سے پولیس پر پتھراو کیا جاتا ہے تو پولیس کی جانب سے آنسو گیس، کے شیل پھینکے جاتے ہیں ،زمان پارک کی جانب آنے والی تمام سڑکوں کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے پولیس اور کارکنوں کے درمیان جھڑپوں میں اب تک دونوں جانب سے 64 افراد زخمی ہو چکے ہیں جن میں 54 پولیس اہلکار اور 10 شہری شامل ہیں 51 پولیس اہلکار سروس ہسپتال اور تین میو ہسپتال میں لایا گیا ہے ۔

    ترجمان پنجاب حکومت کا کہنا ہے کہ شرپسند بدستور نہتے پولیس والوں کو نشانہ بنا رہے ہیں اور درجن سے زائد گاڑیوں اور موٹرسائیکل کو جلا چکے ہیں پولیس پر تشدد کرنے والوں اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے خلاف بھی سخت کاروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے،

    یاسمین راشد اور اعجاز شاہ کی کال لیک ہوئی ہے

    ،قانون کو کوئی بھی ہاتھ میں لے گا تو کاروائی ہوگی ،ڈی آئی جی آپریشنز اسلام آباد

     کل شام سے گرفتاری کے لئے شروع ہونے والا آپریشن تاحال مکمل نہ ہو سکا،

    اسلام آبادم پنڈی، کراچی، صادق آباد و دیگر شہروں میں مقدمے درج 

    عدالت نے کہا کہ میں کیوں ایسا حکم جاری کروں جو سسٹم ہے اسی کے مطابق کیس فکس ہوگا،

    عمران خان نے باربار قانون کی خلاف ورزی کی جس پر انہیں جواب دینا ہوگا

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ آپ کا اپنا کیا دھرا ہے 

  • 60 سے زائد وارداتیں کرنیوالے ملزمان ہوئے گرفتار

    60 سے زائد وارداتیں کرنیوالے ملزمان ہوئے گرفتار

    60 سے زائد وارداتیں کرنیوالے ملزمان ہوئے گرفتار

    پاکستان رینجرز (سندھ) اورپو لیس نے انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے کراچی کے علاقے ماڑی پور روڈ سے ڈکیتی اور اسٹر یٹ کرائم کی متعدد وارداتوں میں ملوث3 ملزمان محمد انور بنگالی، محمد سمیر عرف ریا ض اور عرفان بنگا لی کو گرفتار کر لیا۔ملزمان کے قبضے سے ایک عدد 30بور پسٹل اور ایک عدد 9ایم ایم پسٹل بمعہ ایمو نیشن بھی برآمد کر لیا گیا۔

    ملزمان کراچی کے مختلف علاقوں ماڑی پور روڈ، شنواری ہو ٹل، گُل بائی، آئی سی آئی پُل اور فشری میں شہریوں سے مو با ئل فونز، نقدی اور موٹر سا ئیکل چھیننے کی 60سے زائد وارداتوں میں ملو ث ہیں۔ابتدائی تفتیش کے دوران ملزمان نے ڈکیتی، اسٹر یٹ کرائم اور مزاحمت پر متعدد افراد کو گو لیاں مار کر زخمی کر نے کا اعتراف کیا ہے۔ ملزمان اس سے پہلے کئی بار جیل جا چکے ہیں۔ ملزمان کے دیگر ساتھیوں کی گر فتاری کے لیے چھا پے مارے جارہے ہیں۔

    معذور بچی کے ساتھ زبردستی گھناؤنا کام کرنیوالا ملزم گرفتار

    20 سالہ لڑکی کو اغوا کر کے کیا گیا مسلسل دو روز گھناؤنا کام

    بچوں سے زیادتی کے مجرموں کوسرعام سزائے موت ،علامہ ساجد میر نے ایسی بات کہہ دی کہ سب حیران

    پیار کرنا بن گیا جرم،جوڑے کے گلے میں جوتوں کا ہار ڈال کرلگوایا گیا چکر

    شادی کے بعد سسر کرتا رہا نئی نویلی دلہن کے ساتھ مسلسل گھناؤنا کام

    ترجمان سندھ رینجرز کے مطابق گرفتارملزمان کو بمعہ اسلحہ و ایمو نیشنمزید قانونی کاروائی کے لیے پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ عوام سے اپیل ہے کہ ایسے عناصر کے بارے میں اطلاع فوری طور پر قریبی رینجرز چیک پوسٹ، رینجرز ہیلپ لائن 1101 یا رینجرز مددگار واٹس ایپ نمبر 03479001111 پر کال یا ایس ایم ایس کے ذریعے دیں۔ آپ کا نام صیغہ راز میں رکھا جائے گا۔

  • غیر معیاری سلنڈرز، شدید اورخطرناک دھماکے، اوگرا کی لاپرواہی پرقائمہ کمیٹی کا افسوس

    غیر معیاری سلنڈرز، شدید اورخطرناک دھماکے، اوگرا کی لاپرواہی پرقائمہ کمیٹی کا افسوس

    غیر معیاری سلنڈرز، شدید اورخطرناک دھماکے، اوگرا کی لاپرواہی پرقائمہ کمیٹی کا افسوس

    سینیٹر رانا مقبول احمد کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کیبنٹ سیکرٹریٹ کا اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کیبنیٹ سیکرٹریٹ کا اجلاس منعقد ہوا جس میں غیر رجسٹرڈ ایل پی جی مینوفیکچررز کی جانب سے قانون کی خلاف ورزی اور غیر معیاری سلنڈر فروخت کرنے کے معاملے پر غور کیا گیا۔ غیر معیاری سلنڈرز کی وجہ سے شدید اور خطرناک سلنڈر دھماکے ہوئے ہیں۔ کمیٹی نے ایک اہم ادارہ اوگرا کی لاپرواہی پر شدید افسوس کا اظہار کیا اور انہیں خبردار کیا کہ اگر وہ گیس سلنڈر دھماکوں جیسے چیلنجز کو مستعدی سے پورا کرنے میں ناکام رہے تو کمیٹی اِنکی کارکردگی کا جائزہ لے گی اور ادارے کے خلاف کارروائی کرے گی۔ اوگرا نے تصدیق کی کہ دفعہ 286 کی خلاف ورزی پر درج کسی ایف آئی آر کا کوئی ریکارڈ نہیں ملا۔ کمیٹی نے اوگرا کو کمیٹی کی سفارشات پر عمل درآمد کے لیے چھ ہفتے کا وقت دے دیا، اس مدت کے دوران غیر مجاز ڈیلرز کی قانونی حیثیت اور رجسٹریشن کو لازمی قرار دینے، ٹائم لائنز طے کرنے، وارننگ جاری کرنے، اشتہار دینے اور مینوفیکچرنگ میں استعمال ہونے والی تفصیلی وضاحتیں (معیار اور مواد) دینا شامل ہیں۔ کمیٹی نے اوگرا کو یہ بھی ہدایت کی کہ وہ وزارت قانون و انصاف کے ساتھ اجلاس منعقد کرے تاکہ پاکستان پینل کوڈ میں ترمیم کے لیے تیار کردہ مسودے کی جانچ پڑتال کی جائے اور ایل پی جی سلنڈرز کے بڑھتے ہوئے دھماکوں کی وجہ سے انسانی جانوں اور املاک کو لاحق خطرات کے ذمے داران کی سزا میں اضافہ کیا جا سکے۔

    جنوری2023 کیلیے 533.453ارب کا ٹیکس ہدف مقرر
    توشہ خانہ میں عمران خان کا گھٹیا کردار سامنے آیا ہے. وزیر داخلہ راناثنااللہ
    جنوبی ایشیا میں پاکستان روس کا اہم اتحادی ہے. صدر پیوٹن
    لیونل میسی کی پی ایس جی رونالڈوکی سعودی آل اسٹارزٹیم کے خلاف فتح
    وزیر خارجہ کی جنوبی افریقہ کے بین الاقوامی تعلقات اور تعاون کے وزیر سے ملاقات
    حدیقہ میمن کیس:اجتماعی زیادتی کا جرم ثابت ہونے پر چار ملزمان کو عمر قید کی سزا
    ایرانی سفیر کی دفتر خارجہ طلبی، دہشت گردانہ حملے پرتشویش کا اظہار

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کیبنیٹ سیکرٹریٹ نے سپیشل سنٹرل سپیریئر سروسز (سی ایس ایس) امتحان 2023 کے بارے میں بھی تفصیلی بریفنگ لی، اور ان امیدواروں کے لیے جو سول سروسز میں شامل ہونے کے قابل اور مستحق ہیں، پسماندہ علاقوں میں تعلیمی نظام کو بہتر بنانے پر تبادلہ خیال کیا۔ کمیٹی نے خاص طور پر دیہی علاقوں میں مقابلے کے امتحان میں ناکامی کی بلند شرح پر افسوس کا اظہار کیا۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے کمیٹی کو بتایا کہ پنجاب میں اس وقت غیر مسلم امیدواروں کی 52 خالی آسامیاں ہیں۔ کمیٹی نے اسپیشل سنٹرل سپیریئر سروسز (سی ایس ایس) امتحان، 2023 کے تحت عمر میں 32 سال تک کی رعایت اور ایک اضافی موقع پر تبادلہ خیال کیا۔ خصوصی سی ایس ایس کا موقع پنجاب اور آزاد جموں و کشمیر کے اقلیتی کوٹے کے امیدواروں، کے پی کے سے خواتین اور اقلیتوں کے لیے دستیاب ہے، اور سندھ (رورل) سندھ ( اربن) بلوچستان اور سابق فاٹا کے تمام امیدواروں کے لیے کھلا ہے۔ مزید بریفنگ میں بتایا گیا کہ خصوصی سی ایس ایس کے لیے درخواست دینے کےلیے دو مراحل کی اجازت دی گئی ہے۔ پہلا مرحلہ 18-12-2022 سے 04-01-2023 تک جاری رہا اور دوسرا مرحلہ 26-02-2023 سے 14-03-2023 تک جاری رہا۔ 8-03-2023 تک کل 44,238 درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔ جون سے اگست تک MPT کے اہل امیدواروں کے لیے لازمی مضامین اور انٹرویوز کے لیے کوچنگ فراہم کی جائے گی۔ خصوصی CSS کے لیے متعلقہ کوٹے کے تحت آنے والی ہر موجودہ اسامی کے مقابلے میں چار امیدواروں کا انتخاب کیا جائے گا۔ کمیٹی نے عملی مشق اور اس کی نگرانی پر مزید بحث کو موخر کر دیا۔

  • آج عمران خان کہتا ہے کہ میں ایماندار ہوں تو سب سے بڑا جھوٹ ہے،وزیراعظم

    آج عمران خان کہتا ہے کہ میں ایماندار ہوں تو سب سے بڑا جھوٹ ہے،وزیراعظم

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ عمران خان کے حوالہ سے وہ کچھ نہیں کر رہے، عمران خان کی گرفتاری کے نوٹس عدالتوں سے جاری ہورہے ہیں

    سی پی این ای کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کی سخت ترین شرائط کا سامنا ہے پاکستان کو معاشی، خارجی اور سیاسی چیلنجز کا سامنا ہے تاہم دیوالیہ پن کا جو خوف تھا وہ ختم ہوگیا عمران خان نے حکومت کے خاتمے کے خوف سے آئی ایم ایف کے معاہدے کی دھجیاں اڑائیں آئی ایم ایف نے ہماری حکومت کو کہا کہ معاہدے کو من وعن ماننا ہوگا آئی ایم ایف سے اسٹاف لیول کا معاہدہ جلد ہوجائے گا تاثر تھا شہباز شریف حکومت نہیں چلا سکے گا لیکن ہم آگے بڑھ رہے ہیں الیکشن وقت پرہوں گے تو آئین، قانون اور ریاست جاندار ہوگی، ملک آگے چلے گا عمران خان نے اپنا گھر ریگولرائز کرالیا غریبوں کے گھر کو گرا دیا، حکومت نے توشہ خانہ سے متعلق نئے قوانین بنائے ہیں

    وزیراعظم شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ ملک میں مردم شماری کا آغاز ہوچکا ہے فنڈز مہیا کردیے گئے ہیں، صوبائی حکومتوں نے مردم شماری میں حصہ ڈالنا ہے صوبائی حکومت کے مردم شماری سے متعلق تحفظات ہیں،تحفظات دور کریں گے تو آگے چلیں گے ،وزیراعظم شہباز شریف نے گزشتہ شام سے بنی گالہ میں عمران خان کی گرفتاری کے لئے ہونے والے آپریشن پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ایک شخص خود کو قانون سے بالاتر سمجھتا ہے عمران خان اس وقت بیماری، بزرگی اور لاچاری کا واویلا کر رہے ہیں عدالتوں پردھاوے اور ججز پرفقرے کسے جا رہے ہیں، نوازشریف روز عدالت جاتے تھے ان پر جعلی کیسز بنائے گئے تھے، کبھی کسی نے کہا کہ میں نہیں پیش ہوں گا میں تو کچھ نہیں کررہا،گرفتاری کے نوٹس عدالتوں سےجاری ہورہے ہیں،ایک شخص جو خود کرتا تھا اس کا الزام ہمیں دے رہا ہے، آج عمران خان کہتا ہے کہ میں ایماندار ہوں تو سب سے بڑا جھوٹ ہے،

    ،قانون کو کوئی بھی ہاتھ میں لے گا تو کاروائی ہوگی ،ڈی آئی جی آپریشنز اسلام آباد

     کل شام سے گرفتاری کے لئے شروع ہونے والا آپریشن تاحال مکمل نہ ہو سکا،

    اسلام آبادم پنڈی، کراچی، صادق آباد و دیگر شہروں میں مقدمے درج 

    عدالت نے کہا کہ میں کیوں ایسا حکم جاری کروں جو سسٹم ہے اسی کے مطابق کیس فکس ہوگا،

    عمران خان نے باربار قانون کی خلاف ورزی کی جس پر انہیں جواب دینا ہوگا

  • آصف زرداری نے دی تھی مسکراتے ہوئے گرفتاری، ویڈیو وائرل

    آصف زرداری نے دی تھی مسکراتے ہوئے گرفتاری، ویڈیو وائرل

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق عمران خان کو پولیس گرفتار کرنے کے لئے زمان پارک پہنچی ہے تا ہم ابھی تک گرفتار نہیں کر سکی کیونکہ عمران خان نے کارکنان کو ڈھال بنایا ہوا ہے

    دوسری جانب عمران خان کے دور حکومت میں اسوقت کے اپوزیشن جماعتوں کے قائدین آصف زرداری، شہباز شریف، شاہد خاقان عباسی، احسن اقبال، خواجہ آصف، فریال تالپور سمیت دیگر کو گرفتار کیا گیا تو سب نے قانون کی پاسداری کرتے ہوئے گرفتاری دی کہیں کوئی احتجاج نہیں کیا اور نہ ہی کارکنان کو ڈھال بنایا

    صحافی اعزاز سید نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ویڈیو شیئر کی ہے اور کہا ہے کہ جون 2019کو جناب آصف زرداری نے نیب کو یوں ہنستے مسکراتے اپنے بچوں کے ہمراہ گرفتاری دی۔ کوئی احتجاج کیا نہ اپنے کارکنوں کو پولیس سے لڑنے کی ہدایت کی ۔

    سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے حوالہ سے بھی اعزاز سید نے ویڈیو ٹویٹ کی ہے اور کہا ہے کہ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی 18 جولائی 2019 کو لاہور میں تھے نیب اور پولیس نے گاڑی گھیرے میں لی , بولے وارنٹ دکھائیں آپکے ساتھ جاؤں گا’۔ عباسی بھی ہنستے کھیلتے گرفتار ہوئے ، شکایت کی نہ اپنے کارکنوں کو پولیس پر حملوں کا حکم دیا۔

    شہباز شریف، خواجہ آصف، سمیت دیگر رہنماؤں نے بھی گرفتاریاں دیں تو کسی نے بھی کارکنان کو ڈھال نہیں بنایا اسکے مقابلے میں عمران خان نے زمان پارک کو سٹیٹ کے اندر سٹیٹ بنایا ہوا ہے،عمران خان زمان پارک بیٹھے اور سب کارکنان کو بلا کر انکو ڈھال کے طور پر استعمال کر رہے ہیں

    ،قانون کو کوئی بھی ہاتھ میں لے گا تو کاروائی ہوگی ،ڈی آئی جی آپریشنز اسلام آباد

     کل شام سے گرفتاری کے لئے شروع ہونے والا آپریشن تاحال مکمل نہ ہو سکا،

    اسلام آبادم پنڈی، کراچی، صادق آباد و دیگر شہروں میں مقدمے درج 

    عدالت نے کہا کہ میں کیوں ایسا حکم جاری کروں جو سسٹم ہے اسی کے مطابق کیس فکس ہوگا،

    عمران خان نے باربار قانون کی خلاف ورزی کی جس پر انہیں جواب دینا ہوگا

  • افغانی پاسپورٹ کے ساتھ جعلی پاکستانی پاسپورٹ، ملزم ایئر پورٹ سے گرفتار

    افغانی پاسپورٹ کے ساتھ جعلی پاکستانی پاسپورٹ، ملزم ایئر پورٹ سے گرفتار

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ایف آئی اے کی ملک بھر میں جرائم پیشہ عناصر کیخلاف کاروائیاں جاری ہیں

    ایف آئی اے امیگریشن نے لاھور ائرپورٹ پر کارروائی کی ہے ،ایف آئی اے امیگریشن نے لاھور ائرپورٹ پر کارروائی کرتے ہوئے مسافر کو گرفتار کر لیا ، نور اسلام نامی افغان مسافر عمان سے ڈیپورٹ ہوا تھا۔ملزم فلائٹ نمبر WY343کے ذریعے عمان سے لاہور ڈیپورٹ ہوا تھا۔ دوران تلاشی ملزم سے افغانی پاسپورٹ اور جعلی پاکستانی پاسپورٹ برآمد ہوا۔ ملزم نے پاکستانی پاسپورٹ پر ملازمت کے غرض سے ایران سے عمان جانے کی کوشش کی۔ جعلی پاکستانی پاسپورٹ استعمال کرنے پر ملزم کو عمان سے ڈیپورٹ کر دیا گیا۔

    ملزم کا تعلق افغانستان کے شہر کابل سے ہے۔ملزم نے ملازمت کے غرض سے پشاور کے رہائشی ایجنٹ کو 435000 روپے ادا کر کے پاکستانی پاسپورٹ حاصل کیا۔ملزم نے رقم ایجنٹ کے بینک اکاونٹ میں جمع کروائی تھی۔ملزم واٹس ایپ نمبر کے ذریعے ایجنٹ سے رابطے میں تھا ملزم کو قانونی کارروائی کے لئے اینٹی ہیومن ٹریفیکنگ سرکل لاھور منتقل کر دیا گیا۔

    بھنگ اورافیوم سے ادویات بنانےاورکاشت سےمتعلق کام شروع 

    حکومت خود بھنگ کی کاشت کرے گی: فواد چوہدری کا اعلان 

    بھنگ برائے علاج : بھنگ برائے فروخت:حکومت نے استعمال کے لیے طریقہ کار کی منظوری دے دی

    دوسری جانب ایف آئی اے کے پی زون کی درگئ میں کارروائیاں کی گیں، ڈائریکٹر کے پی زون مجاہد اکبر خان کی ہدایت پر ہنڈی حوالہ میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں، ڈپٹی ڈائریکٹر کمرشل بینکنگ سرکل پشاور افضل خان نیازی کی زیرنگرانی ٹیم نے کارروائی کرتے ہوئے 3 ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ملزمان کے قبضے سے 29لاکھ 23 ہزار روپے اور ہنڈی حوالہ سے متعلق رسیدیں برآمد کر لی گئی ہیں، گرفتار ملزمان میں سدیس، زار محمد اور فیضان شامل ہیں۔ملزمان کے خلاف 3 مقدمات درج کر لیے گئے۔مزید تفتیش جاری ہے۔

  • توشہ خانہ وارنٹ، عمران خان کی درخواست خارج

    توشہ خانہ وارنٹ، عمران خان کی درخواست خارج

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کے وارنٹ منسوخی کی درخواست نمٹا دی،عدالت نے عمران خان کی درخواست خارج کر دی،

    سابق وزیراعظم کے وارنٹ گرفتاری کی منسوخی کی درخواست پراسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے سماعت کی ،عدالت عالیہ نے قرار دیا ہے کہ عمران خان کی انڈر ٹیکنگ ٹرائل کورٹ میں پیش کی جائے، ٹرائل کورٹ انڈر ٹیکنگ پر قانون کے مطابق فیصلہ کرے گی توشہ خانہ کیس میں ٹرائل کورٹ کا عمران خان کے وارنٹ گرفتاری کا حکم برقرار رہے گا

    ‏اسلام آباد ہائیکورٹ میں عمران خان کے وارنٹ گرفتاری منسوخی کی درخواست پر سماعت ہوئی ،عمران خان کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل دیئے،اور کہا کہ 13 مارچ کو عمران خان عدالت کے سامنے پیش نہیں ہو سکے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ وہ اس دن کہاں تھے؟ خواجہ حارث نے کہا کہ عمران خان اس روز گھر پر تھے،‏میں نے توشہ خانہ کیس کے قابل سماعت نہ ہونے پر دلائل دیے لیکن الیکشن کمیشن کے وکیل نے کیس کے قابل سماعت ہونے پر دلائل دینے کے لیے وقت مانگا ‏میں نے ٹرائل کورٹ سے کہا کہ کیس کے قابل سماعت پر فیصلہ کر دیں ،عمران خان پیش ہو جائیں گے ‏ہم نے ٹرائل کورٹ کو بتایا کہ وارنٹ گرفتاری جاری کرنا بنتا ہی نہیں، فوجداری مقدمات اور ضمانت کی کیسز میں فرق ہیں،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ٹرائل کورٹ کے وارنٹ فیلڈ میں تھے اور ابھی بھی ہیں ،وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ ہم نے ٹرائل کورٹ سے کہا تھا کہ وارنٹ گرفتاری جاری نہ کریں جب تک درخواست قابل سماعت نہ ہو، الیکشن کمیشن ایکٹ کے تحت ہی وہ شکایت درج ہی نہیں کرائی گئی،الیکشن ایکٹ کے سیکشن 6 کے تحت الیکشن کمیشن خود ہی شکایت درج کرسکتا ہے،سیکرٹری الیکشن کمیشن کی جانب سے شکایت درج کرائی گئی ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ‏عدالت فرد جرم عائد کرنے سے پہلے آپ کے اعتراضات پر فیصلہ کر سکتی تھی ،لیکن آپ کے کلائنٹ کو پیش ہونا چاہئے تھا ،وکیل نے کہاکہ ‏ٹرائل کورٹ کے جج نے میرے قابل سماعت کے دلائل پر آرڈر میں کچھ نہیں لکھا ،‏جو کچھ لاہور میں ہورہا ہے وہ بدقسمتی ہے ،میں نے عمران خان سے بات کی ہے ،عمران خان نے تحریری یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ 18 مارچ کو پیش ہوں گے ،

    ‏ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد روسٹرم پر طلب کر لئے گئے،خواجہ حارث نے کہا کہ ‏میں ذاتی یقین دہانی کراتا ہوں کہ عمران خان پیش ہوں گے ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو لاہور میں ہورہا ہے وہ ضروری ہے لیکن اس سے ضروری میرے لیے اپنی عدالتوں کا احترام ہے ،قانون سب کے لیے ایک ہونا چاہیے ،وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ ‏آج ٹرائل کورٹ کو بتایا ہے کہ کمپلینٹ ہی قابل سماعت نہیں،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وارنٹ دوبارہ جاری ہونے کا ایشو نہیں، عدالت نے کہا تھا تیرہ مارچ کو پیش ہوں ورنہ وارنٹ بحال ہو جائے گا،وکیل نے کہا کہ قانون کے مطابق الیکشن کمیشن کمپلینٹ دائر کر سکتا ہے،الیکشن کمشنر یا کسی افسر کو کمپلینٹ دائر کرنے کی اتھارٹی دی جا سکتی ہے، جب کمپلینٹ دائر کرنے میں قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے،اس صورت میں وارنٹ جاری کرنے کی کارروائی بھی درست نہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسی بھی کریمنل کیس میں سمن جاری ہو تو کیا عدالت پیش ہونا ضروری نہیں؟ وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ ‏ٹرائل کورٹ کو ہم نے بتایا کہ پہلے کچھ گذارشات پر ہمیں سنیں، ہماری درخواست مسترد کرتے ہوئے عدالت نے کہا ہم وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیس جو بھی ہو مگر ملزم کا عدالت میں پیش ہونا ضروری ہے ، جو کچھ لاہور میں ہو رہا ہے، ہم دنیا کو قانون کی بے توقیری دکھا رہے ہیں،ہم تو قبائلی علاقوں کا سنتے تھے کہ وہاں گولیاں بھی چلتی ہیں، مارٹر گولے بھی آج یہ سب کچھ لاہور زمان پارک میں ہو رہا ہے،زمان پارک اس وقت میدان جنگ بنا ہوا ہے،عدالت چھوٹی ہو یا بڑی ،ہمیں احترام کرنا چاہئے ،اسلام آباد ہائیکورٹ نے دلائل سننے کے بعد عمران خان کی ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا

    ،قانون کو کوئی بھی ہاتھ میں لے گا تو کاروائی ہوگی ،ڈی آئی جی آپریشنز اسلام آباد

     کل شام سے گرفتاری کے لئے شروع ہونے والا آپریشن تاحال مکمل نہ ہو سکا،

    اسلام آبادم پنڈی، کراچی، صادق آباد و دیگر شہروں میں مقدمے درج 

    عدالت نے کہا کہ میں کیوں ایسا حکم جاری کروں جو سسٹم ہے اسی کے مطابق کیس فکس ہوگا،

    عمران خان نے باربار قانون کی خلاف ورزی کی جس پر انہیں جواب دینا ہوگا

  • پی ایس ایل میچ  آج ہر صورت کروانے کا فیصلہ

    پی ایس ایل میچ آج ہر صورت کروانے کا فیصلہ

    پنجاب حکومت نے انٹنر نیشنل ایونٹ پی ایس ایل کا سیمی فائنل میچ کو آج ہر صورت کروانے کا فیصلہ کیا ہے

    ترجمان پنجاب حکومت کا کہنا ہے کہ پولیس اور ضلعی انتظامیہ کو اس میں حائل کسی بھی رکاوٹ کو دور کرنے کے لیے سختی سے نمٹنے کا فیصلہ کیا ہے،عدالتی احکامات پر بھی عمل درآمد کو سختی سے کروانے کا حکم دیا گیا ہے ،شرپسند بدستور نہتے پولیس والوں کو نشانہ بنا رہے ہیں اور درجن سے زائد گاڑیوں اور موٹر سائیکل کو جلا چکے ہیں پولیس پر تشدد کرنے والوں اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے خلاف بھی سخت کاروائی کا فیصلہ کیا ہے

    دوسری جانب اطلاعات ہیں کہ پولیس نے عمران خان کی گرفتاری کیلئے زمان پارک میں آپریشن کچھ وقت کیلئے معطل کرتے ہوئے پیش قدمی روک دی ہے جس کی وجہ پاکستان سپر لیگ کے قذافی سٹیڈیم میں شیڈول میچ کو قرار دیا جا رہا ہے جیونیوز نے حکومتی ذرائع سے کہا ہے کہ پولیس زمان پارک کا محاصرہ جاری رکھے گی عدالتی حکم پر عملدرآمد مکمل کروایا جائے گا،میچ ختم ہونے تک پولیس پیش قدمی نہیں کرے گی لاہورکے قذافی سٹیڈیم میں آج لاہور قلندرز اور ملتان سلطانز کے درمیان پہلا کوالیفائر شیڈول ہے جو کہ شام سات بجے کھیلا جائے گا،

     کل شام سے گرفتاری کے لئے شروع ہونے والا آپریشن تاحال مکمل نہ ہو سکا،

    اسلام آبادم پنڈی، کراچی، صادق آباد و دیگر شہروں میں مقدمے درج 

    عدالت نے کہا کہ میں کیوں ایسا حکم جاری کروں جو سسٹم ہے اسی کے مطابق کیس فکس ہوگا،

    عمران خان نے باربار قانون کی خلاف ورزی کی جس پر انہیں جواب دینا ہوگا

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ آپ کا اپنا کیا دھرا ہے 

  • وطن عزیز کے دلخراش حالات ،تجزیہ :  شہزاد قریشی

    وطن عزیز کے دلخراش حالات ،تجزیہ : شہزاد قریشی

    ان دنوں قومی سیاست کے میدان میں ہنگامہ آرائی ، افراتفری اور تشدد پسندی کا رجحان مشاہدہ کیا جا رہا ہے اس کا ایک نہایت قابل افسوس پہلو یہ ہے کہ امن و امان قائم کرنے والے ایک اہم ریاستی ادارے یعنی پولیس اور پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں کے درمیان خونریز تصادم شروع ہو گیا ہے۔ گذشتہ سے پیوستہ روز عمران خان کی گرفتاری کے لیے ان کی رہائش گاہ واقع زمان پارک تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش میں پنجاب و اسلام آباد پولیس اور مذکورہ کارکنوں کے درمیان جو مقابلہ ہوا اس کے حوالہ سے مذکورہ علاقہ کو میدان جنگ قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس واقعہ کو قومی میڈیا میں تو ایک الگ انداز میں پیش اور نشر کیا گیا لیکن غیر ملکی میڈیا نے اس ضمن میں اس بات کو اہمیت اور فوقیت دی کہ حکومت کے اقدامات جمہوری روایت اور مزاج کے برعکس ہیں۔

    ایک ایسے وقت میں جب پاکستان کو اپنی اقتصادی اور معاشی حیثیت کو مستحکم بلکہ برقرار رکھنے کے لیے آئی ایم ایف کی مالیاتی اعانت کی اشد ضرورت ہے ، امن و امان کی صورت حال کا تیزی کے ساتھ ابتراوربے قابو ہونا کسی طور بھی قابل قبول نہیں۔ غیر ملکی میڈیا نے اس بات کو بھی اجاگر کیا کہ عمران خان کی گرفتاری کے لیے وفاقی دارالحکومت ، اسلام آباد کی پولیس اور پنجاب پولیس نے مشترکہ طور پر جو کارروائی کی، وہ نہایت افسوسناک اور ناقابل قبول ہے۔ دراصل مذکورہ غیرملکی میڈیا وطن عزیز کی سیاسی حرکیات اورریاستی اقدامات کو اپنے احوال اور معیارات کے مطابق دیکھتا ہے اور ایسے میں اس کی مایوسی نہایت درست محسوس ہوتی ہے۔

    یہ بات بھی قابل غور ہے کہ مغربی میڈیا سے مغربی پالیسی سازادارے اورشخصیات کسی حد تک ضرور متاثر ہوتے ہیں چنانچہ وطن عزیز کے دلخراش واقعات اس تناظر میں بھی نہایت غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔ وقت کا اہم ترین تقاضا اب یہی ہے کہ سیاست دان اس حقیقت کا ادراک کریں کہ اگر مستقبل کی سیاست کو جمہوریت کے اندازاوررنگ میں محفوظ کرنا ہے تو اس کے لیے باہمی سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے قومی مفادات کو ترجیح دینا ہو گی۔ ایک عامی بھی اس بات کا اقرار اور احساس کرتا ہے کہ اس وقت اصل مسئلہ داخلی سیاسی حالات اور امن و امان کا ہے کیونکہ اسی کی بنیاد پر تعمیر و ترقی کے سلسلہ کا انحصار ہے۔ خود وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری اس بات کا دو ٹوک الفاظ میں اعتراف کر چکے ہیں کہ ان کو اپنے غیر ملکی دوروں کے دوران جس سوال اور استفسار کا سب سے زیادہ سامنا کرنا پڑتا ہے ان کا تعلق داخلی حالات سے ہے۔ یہ بات بھی نہایت فکر انگیز اور قابل توجہ ہے کہ اب اصل معاملہ جماعتی اور سیاسی امور کا نہیں بلکہ قومی اور اجتماعی امور کا ہے ۔