Baaghi TV

Tag: تازہ ترین

  • افغان طالبان رجیم اور بھارت اسرائیل گٹھ جوڑ   خطے کے استحکام کیلئے بڑا خطرہ

    افغان طالبان رجیم اور بھارت اسرائیل گٹھ جوڑ خطے کے استحکام کیلئے بڑا خطرہ

    افغان طالبان رجیم اور بھارت اسرائیل گٹھ جوڑ خطے کے استحکام کیلئے بڑا خطرہ بن گیا ہے۔

    بنگلہ دیشی جریدے دی مسلم ٹائمزکےمطابق پاکستان نے4 سالہ سفارتی کوششوں کے بعد افغانستان میں موجوددہشتگردوں کےٹھکانوں پرکارروائی کی طالبان رجیم کےجارحانہ رویےاورعدم تعاون کی وجہ سےقطراورترکیہ کی ثالثی کی کوششیں بےسود رہیں، فتنہ الخوارج کی پشت پناہی اورافغان سرزمین کے استعمال کی وجہ سے پاکستان طالبان کیخلاف کارروائی پرمجبور ہوا، علاقائی عدم استحکام کوسمجھنے کیلئے بھارت اسرائیل تعلقات اورافغان طالبان کےپراکسی کردارکاجائزہ لیناہوگا،افغانستان دہشتگرد گروہوں کیلئےمحفوظ پناہ گاہ بن چکاجو جنوبی اور وسطی ایشیا میں استحکام کومتاثرکررہاہے-

    ماہرین کے مطابق افغان سرزمین سےسرحد پارحملے اس بات کا ثبوت ہیں کہ مسلح گروہوں کیلئےسازگارماحول طویل المدتی علاقائی امن کیلئےخطرہ ہے۔

  • امریکا کا ایران میں 2 ہزار پاؤنڈ وزنی بنکر بسٹر بم سے حملہ

    امریکا کا ایران میں 2 ہزار پاؤنڈ وزنی بنکر بسٹر بم سے حملہ

    امریکا نے 2 ہزار پاؤنڈ وزنی بم سے اصفہاں پر حملہ کردیا ہے۔

    عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا نے اصفہان میں ایک بڑے اسلحہ ڈپو کو نشانہ بنایا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق اس حملے میں 2 ہزار پاؤنڈ وزنی بنکر بسٹر بم استعمال کیے گئے،اس حملے کا ہدف اصفہان میں اسلحہ ڈپو تھا حملے کے بعد زوردار دھماکے ہوئے اور دھماکوں کی ویڈیوز سامنے آئیں،ڈونلڈ ٹرمپ نے اس حملے کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر شیئر کی جس کا مقصد ایران کو مزید سخت پیغام بھی دینا تھا۔

    واضح رہے کہ کچھ رپورٹس میں اصفہان کو جوہری تنصیبات کا حامل علاقہ بتایا گیا ہے تاہم اس مخصوص حملے کا ہدف زیادہ تر اسلحہ ڈپو اور فوجی انفراسٹرکچر بتایا جا رہا ہے۔

  • میسنجر نہیں، ثالث: عالمی امن میں پاکستان کا ابھرتا ہوا کردار،تجزیہ:شہزاد قریشی

    میسنجر نہیں، ثالث: عالمی امن میں پاکستان کا ابھرتا ہوا کردار،تجزیہ:شہزاد قریشی

    میسنجر نہیں، ثالث: عالمی امن میں پاکستان کا ابھرتا ہوا کردار

    مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی کیا پاکستان ثالثی کا کردار سنبھال سکتا ہے؟

    ایران، امریکہ اور اسلامی دنیا کے درمیان پل پاکستان کی سفارتی آزمائش

    مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر عالمی سیاست کا مرکز بن چکا ہے، جہاں جاری کشیدگی نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے۔ اس نازک صورتحال میں ایسے ممالک کی اہمیت بڑھ جاتی ہے جو تنازعات کے حل میں مثبت اور متوازن کردار ادا کر سکیں۔ پاکستان انہی ممالک میں سے ایک ہے، جس کے پاس نہ صرف سفارتی صلاحیت موجود ہے بلکہ وہ مختلف عالمی طاقتوں کے درمیان پل کا کردار بھی ادا کر سکتا ہے۔

    پاکستان کی سب سے بڑی طاقت اس کے متوازن تعلقات ہیں۔ ایک طرف اس کے امریکہ کے ساتھ دیرینہ سفارتی اور دفاعی روابط ہیں، تو دوسری جانب ایران کے ساتھ جغرافیائی قربت، ثقافتی رشتہ اور باہمی مفادات بھی اسے ایک منفرد حیثیت دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کو محض "میسنجر” یا پیغام رسانی تک محدود رکھنے کے بجائے ایک بااختیار ثالث کے طور پر سامنے لانے کی ضرورت ہے۔ تاہم، ثالثی کا کردار صرف خواہش سے حاصل نہیں ہوتا بلکہ اس کے لیے عالمی اعتماد، غیر جانبداری اور داخلی استحکام بنیادی شرائط ہیں۔

    اگر پاکستان کو واقعی اس سطح پر کردار ادا کرنا ہے تو اسے اپنی خارجہ پالیسی میں تسلسل، داخلی سیاسی استحکام اور معاشی مضبوطی کو یقینی بنانا ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ عالمی طاقتوں، خصوصاً امریکہ اور ایران، کا پاکستان پر اعتماد بھی ناگزیر ہے۔ یہاں اسلامی دنیا کا کردار بھی انتہائی اہم ہو جاتا ہے اگر اسلامی ممالک پاکستان کو ایک ثالث کے طور پر آگے بڑھانا چاہتے ہیں تو انہیں محض بیانات تک محدود رہنے کے بجائے عملی اقدامات کرنا ہوں گے، ایک مشترکہ حکمت عملی کے تحت پاکستان کو سفارتی حمایت فراہم کی جائے اور اسے ایک نمائندہ کردار دیا جائے، تاکہ وہ مؤثر انداز میں فریقین کے درمیان اعتماد سازی کر سکے۔

    پاکستان کے اندر بھی یہ ضروری ہے کہ تمام ریاستی ادارے وزارت خارجہ، عسکری قیادت اور دیگر متعلقہ ادارے—ایک صفحے پر ہوں۔ مشترکہ حکمت عملی کے ذریعے بیک چینل ڈپلومیسی کو فروغ دیا جا سکتا ہے، جو ایسے حساس معاملات میں اکثر کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ حتمی طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان کے پاس مشرقِ وسطیٰ میں امن کے قیام کے لیے ایک سنہری موقع موجود ہے۔ اگر وہ دانشمندی، توازن اور مؤثر حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھے تو نہ صرف خطے میں کشیدگی کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے بلکہ عالمی سطح پر ایک ذمہ دار اور باوقار سفارتی قوت کے طور پر اپنی پہچان بھی مضبوط کر سکتا ہے۔

  • اسرائیل خطے میں ابھرنے والے نئے علاقائی نظم و نسق کا عادی ہو جائے،ایرانی پاسداران انقلاب

    اسرائیل خطے میں ابھرنے والے نئے علاقائی نظم و نسق کا عادی ہو جائے،ایرانی پاسداران انقلاب

    ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے اسرائیل کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ خطے میں ابھرنے والے نئے علاقائی نظم و نسق کا عادی ہو جائے-

    پاسدارانِ انقلاب کے قدس فورس کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل اسماعیل قانی نے سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ خطے میں موجود اتحادی قوتوں کے درمیان تعاون اور رابطہ کاری میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں اسرائیل کو مسلسل دباؤ کا سامنا ہے صیہونی وزیراعظم نیتن یاہو خطے میں توسیع پسندی کے عزائم رکھتے ہیں، تاہم ان کے یہ خواب اب حقیقت کا روپ دھارتے نظر نہیں آ رہے۔

    بریگیڈیئر جنرل اسماعیل قانی کے بقول شمال میں حزب اللہ اور جنوب میں انصار اللہ نے اپنی کارروائیوں کے ذریعے صیہونی ریاست کے دعوؤں اور یہودی آبادکاروں سے کیے گئے وعدوں کی حقیقت بے نقاب کر دی ہے،مزاحمتی کمانڈروں کی شہادتوں نے یہ بات واضح کر دی ہے کہ مزاحمتی قوتوں کا کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم مربوط ہے اور ان کا وار روم ایک ہی ہے،بدلتی ہوئی صورتحال میں اسرائیل کو اس نئی حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے خود کو اس کے مطابق ڈھالنا ہوگا۔

  • حزب اللہ کے راکٹ حملوں میں 4 اسرائیلی فوجیوں کی  ہلاکت کی تصدیق

    حزب اللہ کے راکٹ حملوں میں 4 اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق

    جنوبی لبنان میں حزب اللہ کی جانب سے اسرائیلی فوجیوں کے خلاف متعدد راکٹ حملوں کے دوران چار اسرائیلی فوجی ہلاک ہوگئے ہیں، جس کے بعد اس جھڑپ میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کی مجموعی تعداد دس تک پہنچ گئی۔

    برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اسرائیلی فوج کی جانب سے 4 فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے اسرائیل نے لبنان میں فضائی حملے کیے اور جنوبی لبنان میں زمینی کارروائی بھی شروع کی ہے، جو 2 مارچ کو حزب اللہ کی جانب سے کی گئی سرحد پار حملے کے بعد شروع ہوئی۔

    لبنانی حکام نے بتایا ہے کہ اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں اب تک کم از کم 1247 افراد ہلاک اور 3690 زخمی ہو چکے ہیں۔

    یہ کشیدگی ایسے وقت میں شدت اختیار کر گئی جب امریکا اور اسرائیل نے ایران پر مشترکہ فوجی حملے شروع کیے تھے، جن میں 28 فروری سے اب تک 1340 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، ایران نے بھی جوابی کارروائی کی ہے اور اسرائیل اور خلیج کے ممالک میں امریکی فوجی اڈوں کو ڈرون اور میزائل حملوں سے نشانہ بنایا ہے، جس سے خطے میں تناؤ مزید بڑھ گیا ہے۔

    واضح رہے کہ امریکا-اسرائیل، ایران جنگ میں ایک بار پھر تیزی سے دیکھنے میں آئی ہے ادھر رات گئے امریکا و اسرائیل کی جانب سے رات گئے ایران میں شدید فضائی حملے کیے گئے، ایران کے شہر اصفہان میں بڑے حملے کیے گئے جہاں اسلحے کے ایک اہم ڈپو کو نشانہ بنایا گیا۔

  • اے آئی ڈیٹا سینٹرز   زمین کے درجہ حرارت کو کئی ڈگری تک بڑھا سکتے ہیں،تحقیق

    اے آئی ڈیٹا سینٹرز زمین کے درجہ حرارت کو کئی ڈگری تک بڑھا سکتے ہیں،تحقیق

    اے آئی ڈیٹا سینٹرز اتنی گرمی پیدا کرتے ہیں کہ وہ اپنے اردگرد کی زمین کے درجہ حرارت کو کئی ڈگری تک بڑھا سکتے ہیں ،د ڈیٹا سینٹر ہیٹ آئی لینڈز بناتے ہیں جو پہلے ہی 340 ملین لوگوں کو متاثر کر رہے ہیں۔

    دنیا بھر میں بنائے گئے ڈیٹا سینٹرز کی تعداد میں بہت زیادہ اضافے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ JLL، ایک رئیل اسٹیٹ کمپنی، کا تخمینہ ہے کہ ڈیٹا سینٹر کی گنجائش 2025 اور 2030 کے درمیان دوگنی ہو جائے گی جس کی توقع ہے کہ AI اس طلب سے نصف ہو گی۔

    کیمبرج یونیورسٹی، برطانیہ میں اینڈریا مارینونی اور ان کے ساتھیوں نے دیکھا کہ ڈیٹا سینٹر کو چلانے کے لیے درکار توانائی کی مقدار میں دیر سے مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور آنے والے سالوں میں اس کے "پھٹنے” کا امکان ہے، اس لیے وہ اس کے اثرات کا اندازہ لگانا چاہتے تھے۔

    تحقیق کے مطابق سطح کے اوسط درجہ حرارت میں اضافہ 2 ° C کے قریب ہوتا ہے، انتہائی صورتوں میں، خاص طور پر بعض ماحول میں، 9.1 ° C تک اضافہ دکھایا گیا ہے،گرمی صرف عمارت کے نشانات تک ہی محدود نہیں ہے، مطالعے سے پتہ چلا ہے کہ درجہ حرارت میں اضافہ 10 کلومیٹر (تقریباً 6.2 میل) دور تک کے علاقوں کو متاثر کرتا ہے۔

    محققین کا اندازہ ہے کہ 340 ملین سے زیادہ لوگ ڈیٹا سینٹرز کے اتنے قریب رہتے ہیں کہ ان بڑھتے ہوئے مقامی درجہ حرارت سے متاثر ہوں،AI کی تیز رفتار نشوونما کے لیے ایسے پروسیسرز کے ریک کی ضرورت ہوتی ہے جو روایتی سرورز کے مقابلے میں دس گنا زیادہ توانائی استعمال کرتے ہیں، جس سے بڑی مقدار میں گرمی پیدا ہوتی ہے جسے روایتی ایئر کنڈیشنگ اب سنبھال نہیں سکتا۔

    ڈیٹا سینٹرز بڑی مقدار میں توانائی کا استعمال کرتے ہیں اور سرورز سے گرمی کو دور کرنے کے لیے، وہ گرم ہوا کو براہ راست ماحول میں خارج کرتے ہیں، بہت سے ڈیٹا سینٹرز گرم علاقوں میں بنائے گئے ہیں (مثال کے طور پر، میکسیکو کا باجیو علاقہ، اسپین میں آراگون)، جہاں گرمی کا انتظام زیادہ مشکل ہے، یہ مقامی درجہ حرارت بڑھنے کا اثر خاص طور پر مقامی علاقوں میں گرمی اور گرمی کے دوران پہلے سے ہی خراب ہو سکتا ہے-

  • وزیر خارجہ و نائب وزیراعظم   اسحاق ڈار چین روانہ

    وزیر خارجہ و نائب وزیراعظم اسحاق ڈار چین روانہ

    وزیر خارجہ و نائب وزیراعظم اور سینیٹر اسحاق ڈار چین کے سرکاری دورے پر روانہ ہوگئے ہیں-

    وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق یہ دورہ چینی وزیر خارجہ وانگ یی کی دعوت پر کیا جا رہا ہے، مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے تناظر میں اس دورے کو انتہائی اہم قرار دیا جارہا ہے،پاکستان اور چین کے درمیان ہر موسم میں قائم رہنے والی اسٹریٹجک شراکت داری مضبوط بنیادوں پر قائم ہے، جس میں علاقائی اور عالمی معاملات پر باقاعدہ مشاورت اور قریبی رابطہ شامل ہے۔

    اس دورے کے دوران دونوں ممالک علاقائی صورتحال، دوطرفہ تعلقات اور عالمی امور میں باہمی دلچسپی کے موضوعات پر تفصیلی تبادلہ خیال کریں گےوزیر خارجہ اسحاق ڈار کا حالیہ کندھے کے معمولی فریکچر کے باوجود یہ دورہ کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان چین کے ساتھ اپنے تعلقات کو کس قدر اہمیت دیتا ہے۔

    یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے کہ جب مشرق وسطیٰ شدید کشیدگی کی لپیٹ میں ہے، اور پاکستان اس دوران امن کے داعی کے طور پر سامنے آیا ہے، اور خطے میں قیام امن کے لیے بھرپور سفارتکاری کررہا ہے، پاکستانی قیادت کی کاوشوں سے اسلام آباد میں پاکستان، سعودی عرب، مصر اور ترکیہ کے وزر ائے کی اہم بیٹھک ہوئی، جس میں علاقائی کشیدگی کم کرنے لیے جاری کوششوں کا جائزہ لیا گیا۔

    اجلاس میں مشرق وسطیٰ میں جنگ بندی اور امن قائم کرنے کے موضوع پر مفصل بات چیت ہوئی اور متعدد تجاویز پر غور کیا گیا، جس کے دوران تمام فر یقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے مذاکرات کا پہلا دور مکمل ہوگیا ہے جبکہ اگلا دور جلد شروع کیا جائے گا، جس میں دی گئی تجاویز پر ہونے والی پیشرفت کے بارے میں ایک دوسرے کو آگاہ کیا جائےگا۔

    دوسری جانب چین نے بھی تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے تنازع میں فوجی کارروائیاں فوری طور پر روک دی جائیں اور مذاکرات کی میز پر مسائل کا حل نکالا جائے۔

  • ایران کا دبئی پورٹ پر کھڑے آئل ٹینکر پر میزائل حملہ

    ایران کا دبئی پورٹ پر کھڑے آئل ٹینکر پر میزائل حملہ

    ایران نے دبئی کے ساحل کے قریب کھڑے آئل ٹینکر پر حملہ کر کے اسے آگ لگا دی۔

    برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق پیر کے روز حملے کا نشانہ بننے والا ٹینکر ال-سالمی کویت کا پرچم لگائے چل رہا تھا یہ حملہ 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملے کے بعد، خلیج اور ہرمز کے راستے چلنے والے تجارتی جہازوں پر میزائل یا دھماکہ خیز ڈرون کے حالیہ حملوں کی ایک کڑی ہے۔

    یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ اگر ایران آبنائے ہرمز نہ کھولا تو امریکا اس کے توانائی کے پلانٹس اور تیل کے کنوؤں کو مکمل طور پر تباہ کر دے گا۔

    کویت کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق یہ ٹینکر تقریباً 2 ملین بیرل تیل لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے جس کی موجودہ قیمت 200 ملین ڈالر سے زائد ہے،ٹینکر کے مالک کویت پیٹرولیم کارپوریشن نے کہا کہ نقصان کا جائزہ لینے کے لیے کام جاری ہے اور آئل اسپِل کے امکان سے خبردار کیا۔

    دبئی کے حکام نے تصدیق کی ہے کہ ڈرون حملے کے بعد آگ پر قابو پالیا گیا ہے اور کسی قسم کے جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

    کویت نے خبردار کیا ہے کہ متاثرہ آئل ٹینکر سے اردگرد کے پانیوں میں تیل کا اخراج ہوسکتا ہے۔

  • عمران خان اپنی بہنوں کے ہوتے ہوئے جیل سے باہر نہیں آ سکتے،شیر افضل مروت

    عمران خان اپنی بہنوں کے ہوتے ہوئے جیل سے باہر نہیں آ سکتے،شیر افضل مروت

    رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت کا کہنا ہے کہ عمران خان اپنی بہنوں کے ہوتے ہوئے جیل سے باہر نہیں آ سکتے۔

    میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شیر افضل مروت نے کہا کہ حضرت یوسف علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے بھائی عطا کیے تھے جبکہ عمران خان کو بہنیں نصیب ہوئی ہیں اور ان کے ہوتے ہوئے عمران خان جیل سے باہر نہیں آسکتے، علی امین گنڈ پور کو ہٹانے کیلئے پارٹی نے الزام تراشیاں کی تھیں اب ایسے بند ےکو وزیراعلیٰ بنایا گیا ہےجو پرائمری اسکول نہیں چلا سکتا موجودہ وزیراعلیٰ کے پی6 ماہ میں اپنی کابینہ بھی نہیں بنا سکے ہیں کس وزیراعلیٰ کے اسٹیبلشمنٹ سے رابطے نہیں ہوتے؟ علی امین گنڈاپور پر اسٹیبلشمنٹ سے رابطے کا الزام لگاتے ہیں موجودہ وزیراعلیٰ تو اسٹیبلشمنٹ سے رابطوں میں 10 قدم آگے ہیں۔

    دوسری جانب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے شدید مخالفت کے باوجود خیبرپختونخوا کابینہ میں توسیع کا فیصلہ کرلیا، کابینہ میں مزید 14 ارکان کو شامل کیا جائے گا۔

    سرکاری ذرائع کے مطابق پشاور سے سابق وزیر صحت، سوشل ویلفیئر و عشر زکوٰۃ سید قاسم علی شاہ کو دوبارہ کابینہ میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جنوبی وزیرستان سے آصف محسود، ٹانک سے عثمان بیٹنی، کرک سے خورشید خٹک کو کابینہ میں شامل کیا جائے گا، کابینہ توسیع میں چارسدہ سے افتخار اللہ جان، مرد ان سے طارق آریانی اور احتشام خان کو شامل کیا جائے گا دیر سے ہمایوں خان، سوات سے میاں شرافت علی، مالاکنڈ سے پیر مصور کو کابینہ میں شامل کیا جائے گا، ہزارہ ڈویژن سے افتخار جدون اور اکرام غازی کو کابینہ میں شامل کیا جائے گا، کابینہ توسیع میں الیکشن میں ہارے دو ارکان کو بھی شامل کیا جائے گا،خیبرپختونخوا کابینہ توسیع کا نوٹیفکشن جلد جاری کیے جانے کا امکان ہے۔

  • صدر مملکت سے وزیراعظم کی ملاقات،قومی سلامتی کی موجودہ صورت حال پر تفصیلی تبادلہ خیال

    صدر مملکت سے وزیراعظم کی ملاقات،قومی سلامتی کی موجودہ صورت حال پر تفصیلی تبادلہ خیال

    صدر مملکت آصف علی زرداری سے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ملاقات کی جس میں قومی سلامتی کی موجودہ صورت حال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ملاقات میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، سابق وزیرِ خارجہ بلاول بھٹو زرداری اور وزیرِ داخلہ محسن نقوی بھی شریک ہوئےاس موقع پر قومی سلامتی کے مشیر لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک نے بھی شرکت کی ملاقات میں قومی سلامتی کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، جبکہ خطے کی بدلتی صورتحال اور اس کے پاکستان پر ممکنہ اثرات کا جائزہ لیا گیا، شرکا نے معاشی، توانائی اور سیکیورٹی چیلنجز پر بھی مشاورت کی،اس موقع پر قومی سطح پر مربوط حکمتِ عملی اپنانے اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا گیا۔