اونچی اڑان کے بعد ڈالر کی پرواز نیچی ہوگئی جس کے بعد روپے کی قدر مستحکم ہونے لگی۔
اونچی اڑان کے بعد ڈالر کی پرواز نیچی ہوگئی جس کے بعد روپے کی قدر مستحکم ہونے لگی۔ مسلسل 3 سیشنز کے بعد ڈالر کی قیمت میں کمی ہوئی ہے، انٹربینک میں ڈالر 4 روپے 63 پیسے سستا ہوگیا۔ جس کے بعد انٹربینک میں ڈالر 265 روپے پر آگیا۔ گزشتہ روز انٹربینک میں ڈالر 7 روپے 3 پیسے مہنگا ہوا تھا، جس کے بعد امریکی کرنسی کی قیمت پہلی بار 269 روپے 63 پیسے تک پہنچ گئی تھی۔ جمعہ کو انٹربینک میں ڈالر کی قیمت 262 روپے 60 پیسے ریکارڈ کی گئی تھی۔
متنازعہ ٹوئٹ کیس: عدالت نے اعظم سواتی کو کیس کا ریکارڈ فراہم کرنے کی ہدایت کردی
اسپیشل جج سینٹرل اسلام آباد نے متنازعہ ٹوئٹ کیس میں اعظم سواتی کو کیس کا ریکارڈ فراہم کرنے کی ہدایت کردی۔ اسپیشل جج سنٹرل جج اعظم خان نے اعظم سواتی کے خلاف متنازعہ ٹوئٹ کیس کی سماعت کی۔ اعظم سواتی عدالت میں پیش ہوئے اور مؤقف اپنایاکہ اس عدالت کا امتحان ہے میں نہ ملک کا اور نہ قانون کا مجرم ہوں جب چیف جسٹس مجھے انصاف نہیں دے سکتے تو کیا ہوگا؟ لوگوں کا عدلیہ سے اعتباراٹھ رہا ہے، کچھ لوگ ہیں جوآج انصاف کر رہے ہیں۔
جج اعظم خان نے ریمارکس دیے کہ انشا اللہ انصاف ہی ہو گا۔ جبکہ علی بخاری ایڈووکیٹ نے کہا کہ اعظم سواتی کو وکیل کی خدمات حاصل کرنے کا موقع فراہم کیا جائے، ریکارڈ کی تصدیق شدہ نقول اعظم سواتی کوملنا ان کا قانونی حق ہے الزام معلوم ہوگا تواعظم سواتی دفاع کریں گے۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر اعظم سواتی کو کیس کا ریکارڈ فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت 28 مارچ تک ملتوی کردی۔
محکمہ موسمیات کی بارش اور برفباری کے حوالے سے اہم پیشگوئی
محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم سرد اور خشک رہے گا۔ محکمہ موسمیات کے مطابق شمالی بلوچستان اور بالائی علاقوں میں موسم شدید سرد رہے گا، اس دوران کشمیر اور گلگت بلتستان میں چند مقا مات پر ہلکی بارش اور پہاڑوں پر ہلکی برفباری کا امکان ہے۔ محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ پنجاب کے میدانی علاقوں میں رات اور صبح کے اوقات میں دھند پڑنے کی توقع ہے۔
توشہ خانہ کیس؛ عمران خان پرفرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا
توشہ خانہ ریفرنس میں عمران خان کیخلاف فوجداری کارروائی کیس میں عدالت نے عمران خان پر فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ کے ایڈیشنل سیشن جج ظفر اقبال نے عمران خان کیخلاف توشہ خانہ ریفرنس میں فوجداری کارروائی کے کیس کی سماعت کی۔الیکشن کمیشن نے عمران خان کیخلاف فوجداری کارروائی کا ریفرنس عدالت کو بھیجا تھا۔
پاکستان اور آئی ایم ایف کے مذاکرات کا دور آج سے شروع ہورہا
پاکستان اور آئی ایم ایف کے مذاکرات کا دور آج سے شروع ہو گا۔ ذرائع کے مطابق مذاکرات میں نویں اقتصادی جائزے پر بات چیت ہو گی، سیلاب کے بعد پیدا صورتحال اور معاشی اہداف کا جائزہ لیا جائے گا، ٹیکس محاصل اور ایکس چینج ریٹ پر بریفنگ دی جائے گی، مذاکرات کامیاب ہونے پر پاکستان کو ایک ارب دس کروڑ ڈالر ملنے کا امکان ہے۔
آئی ایم ایف کا جائزہ مشن پاکستان میں 10 روز قیام کرے گا، پہلے مرحلےمیں 3 روزکیلئے تکنیکی سطح کے مذاکرات ہوں گے، آئی ایم ایف کےساتھ پالیسی سطح کےمذاکرات9جنوری تک جاری رہیں گے۔ پاکستان کی جانب سے جولائی تا دسمبر2022 کی معاشی کارکردگی سے آگاہ کیا جائے گا، سیلاب سے ہونے والے نقصانات اور اخراجات پر بریفنگ بھی دی جائے گی۔
پشاور میں دھماکے کے پیش نظر صوبے میں آج یوم سوگ منایا جائے گا۔
باغی ٹی وی: نگران وزیر اعلیٰ محمد اعظم خان نے صوبے میں ایک روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے آج خیبرپختونخوا میں قومی پرچم سرنگوں رہے گا اعظم خان نے کہا کہ حکومت شہداء کے لواحقین کے غم میں برابر کی شریک ہے، صوبائی حکومت متاثرہ خاندانوں کو تنہا نہیں چھوڑے گی۔
ادھر عوامی نیشنل پارٹی خیبرپختونخوا نے بھی 3 روزہ سوگ کااعلان کرتے ہوئے کہا کہ پورے صوبے میں تین دن کیلئے پارٹی کی تمام پارٹی سرگرمیاں معطل رہیں گی پارٹی پرچم سرنگوں رہیں گے-
خیال رہے کہ پولیس لائنز کی مسجد میں نماز ظہر کے دوران خودکش دھماکے میں امام مسجد اور پولیس اہلکاروں سمیت شہید ہونے والوں کی تعداد 59 ہوگئی جب کہ 140 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مسجد میں لوگ نماز ظہر ادا کر رہے تھے کہ اچانک دھماکا ہوگیا، دھماکے کی شدت بہت زیادہ تھی دھماکے سے مسجد کی دومنزلہ عمارت کر گئی اور کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے، دھماکے سے مسجد کا ایک حصہ بھی شہید ہوگیا ہے، سکیورٹی حکام کے مطابق مبینہ خودکش حملہ آور مسجد کی پہلی صف میں موجود تھامتعدد زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے، مسجد کے ملبے تلے سے تین افراد کو نکال لیا گيا ،اب بھی متعدد افراد کے ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ہے، بھاری مشینری سے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
شاذ تمکنت جدید اردو غزل کا ایک معتبر حوالہ ہیں آپ کا اصل نام ڈاکٹر سید مصلح الدین ہے آپ حیدر آباد ( آندھرا پردیش ) میں 31 جنوری 1933ء کو پیدا ہوئے آپ نے عثمانیہ یونیورسٹی حیدرآباد سے پی ایچ ڈی کیاجدید اردو شاعری میں شاذ تمكنت اپنے وقت کے مشہور شاعروں میں خود کو درج کرواچکے ہیں . دكن کے نامی گرامی شعرائے کرام میں شاذ کا شمار ہوتا ہے روایتی اور جدید شاعری کے درمیان جس پل کی تعمیر شاذ تمكنت نے کی وہ خود میں ایک دور کاآئینہ دار ہےان کی غزلوں اور نظموں میں جہاں ذاتی زندگی کے دکھ درد ظاہر ہیں، وہیں ان کا دکھ زمانہ کاعممومی طور پر تجربہ کرتا ہے آپ کا انتقال حیدر آباد ( آندھرا پردیش ) میں 18 اگست 1985ء کو ہوا –
…..
منتخب کلام
…..
نہ جانے کون سے عالم ميں اس کو ديکھا تھا
تمام عمر وہ عالم رہا ہے آنکھوں ميں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کل اس کے ساتھ ہي سب راستے روانہ ہوئے
ميں آج گھر سے نکلتا تو کس کے گھر جاتا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہر صبح سب سے پوچھتے پھرتے ہيں ہم کہ آج
بندے ہيں کون؟ کس کو خدا مانتے ہيں لوگ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ميں يہ کہتا ہو کہ مجھ سا نہيں تنہا کوئي
آپ چاہيں تو ميري بات ميں ترميم کرليں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کوئي گلہ کوئی شکوہ ذرا رہے تم سے
يہ آرزو ہے کہ اک سلسلہ رہے تم سے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کيا قيامت ہے مجھے حوصلہ ضبط ہے شاذ
کيا غضب ہے کہ ترے درد کا اندازہ ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
يہ جہاں ہے مجلس بے اماں کوئي سانس لے تو بھلا کہاں
ترا حسن آگيا درمياں يہي زندگي کا جواز ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ميں جسے ديکھنا چاہوں وہ نظر نہ آسکے
ہائے ان آنکھوں پہ کيوں تہمتِ بينائي ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اے ارض و سما تجھ ميں دل بن کے دھڑکتے ہيں
کچھ يونہي نہيں ہم کو آداب ِغزل آئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
يوں بھي کچھ دن کيلئے دور رہا ہوں تجھ سے
ليکن اس بار سفر کي يہ تھکن اور ہي ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کچھ دير رو بھي لے ، طبعيت بحال ہو
کيا سوچنے سے فائدہ کيوں سوچتا ہے پھر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ذرا سي بات تھي بات آگئي جدائي تک
ہنسي نے چھوڑ ديا لا کے جگ ہنسائي تک
بھلے سے اب کوئي تيري بھلائي گنوائے
کہ ميں نے چاہا تھا تجھ کو تری برائی تک
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پھر کوئي آئے جسے ٹوٹ کے چاہا جائے
ہميں ايک عمر ہوئي ہے کف افسوس ملے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خدا نہيں ہے تو کيا ہے ہمارے سينوں ميں
وہ اک کھٹک سي جسے ہم ضمير کہتے ہيں
سعودی عرب نے پشاور مسجد دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
باغی ٹی وی: ٹوئٹر پر جاری پیغام میں کہا گیا ہے کہ ’مملکت کی طرف سے سعودی وزارتِ خارجہ نے پاکستان میں پشاور کی ایک مسجد میں دہشت گردانہ حملے کی شدید مذمت کی ہے۔
#Statement | The Ministry of Foreign Affairs expresses the Kingdom of Saudi Arabia's strong condemnation and denunciation of the terrorist attack that took place at a mosque in #Peshawar, Pakistan. pic.twitter.com/AP9m4U2T6U
سعودی وزارت خارجہ نے عبادت گاہوں کو نشانہ بنانے، پُر امن لوگوں کو دھمکانے اور بے گناہوں کا خون بہانے جیسی کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے اس بات کی تاکید کی ہے کہ ہر قسم کے تشدد، انتہا پسندی اور دہشت گردی خواہ اس کے مقاصد ومحرکات کچھ بھی ہوں، ان کے خلاف سعودی عرب برادر ملک اسلامی جمہوریہ پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے۔
سعودی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ وزارت متاثرین کے اہلِخانہ اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کی حکومت اور عوام کے ساتھ تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتی ہے اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا گو ہے۔
سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ انتونیو گوتریس نے پشاور مسجد میں حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے ہولناک دہشتگرد حملے کی مذمت کی کہا کہ مذہب کی آزادی ایک بنیادی انسانی حق ہے-
The U.S. Mission to Pakistan extends its deepest condolences to the families and loved ones of the victims of the horrific attack at a Police Lines mosque in Peshawar on January 30. The United States stands with Pakistan in condemning all forms of terrorism.
امریکی سیکرٹری خارجہ انٹونٹی بلنکن اور اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے نے بھی پشاور خود کش حملے کی مذمت کی، امریکا نے واضح کیا کہ پاکستان میں دہشت گردی قبول نہیں کی جائے گی، امریکہ ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت میں پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے۔
Worshipers at a mosque in Peshawar endured a horrific attack today, which killed and injured many. Terrorism for any reason at any place is indefensible. I extend my deepest condolences to the families and loved ones of the victims. https://t.co/bPvvcKdwfN
انٹونی بلنکن نے کہا کہ پشاور کی ایک مسجد میں نمازیوں پر آج ایک خوفناک حملہ ہوا، جس میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے۔ کسی بھی جگہ پر کسی بھی وجہ سے دہشت گردی ناقابلِ دفاع ہے۔ میں متاثرین کے اہل خانہ اور عزیزوں کے تئیں اپنی گہری تعزیت کا اظہار کرتا ہوں۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز پشاور میں پولیس لائنز کی مسجد میں نماز ظہر کے دوران خودکش دھماکے میں امام مسجد اور پولیس اہلکاروں سمیت شہید ہونے والوں کی تعداد 59 ہوگئی جب کہ 140 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔
مسجد میں لوگ نماز ظہر ادا کر رہے تھے کہ اچانک دھماکا ہوگیا، دھماکے کی شدت بہت زیادہ تھی جس سے مسجد کی چھت منہدم ہو گئی اور کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے، دھماکے سے مسجد کا ایک حصہ بھی شہید ہوگیا ہے، سکیورٹی حکام کے مطابق مبینہ خودکش حملہ آور مسجد کی پہلی صف میں موجود تھا-
کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے دھماکے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ پٹرول کی قیمت میں پینتیس روپے اضافہ ہو چکا ہے، ڈالر روپے کی عزت پامال کر کے اسے ٹکے ٹوکری کر چکا ہے، سفید پوش لوگ صدمے میں ہیں کہ پہلے گاڑی سے موٹر سائیکل پر آئے تھے کیا اب سائیکل پر آنا پڑے گا،
مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر بات کرتے ہوئے مبشر لقمان کا کہنا تھاکہ ہر طرف تباہی کے آثار نمایاں ہیں، لیکن قوم کو ایسا بے حسی کا ٹیکا لگایا جا چکا ہے کہ ہر کوئی کبوتر کی طرح تباہی کو دیکھ کر آنکھیں بند کی ہوئی ہیں، تباہی کا ایک آتش فشاں ہے جس پر قوم کا ہجوم بے حسی سے کھڑا ایک دوسری کو نیچا دکھانے کی کوشش کر رہا ہے،ہر کوئی اس آتش فشاں کے پھٹنے سے ایسے بے خبر نظر آتا ہے کہ دماغ گھوم جاتا ہے،لیکن یہ طوفان آ رہا ہے، کہاں سے کب، کیسے اور کدھر۔ اس کا جواب اس کے نمودار ہوتے ہی مل جائے گا لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ یہ آ رہا ہے ۔ اور اس کے آنے سے پہلے ہی حالات اتنے دگر گوں ہیں کہ پاکستان اور یہاں کے لوگو ں کی حالت زار دیکھ کر اب مجھے آہستہ آہستہ اس بات پر یقین آنا شروع ہو گیا ہے کہ میرے ملک میں واقعی قیامت آ چکی ہے اور لوگ جہنم میں رہ رہے ہیں ۔ بلکہ ہمارے سامنے جو جہنم کا عکس کھینچا جاتا ہے وہ بھی شاید ہماری حالت کے سامنے کم پڑ جائے ۔ یہاں جو ظلم ہو رہا ہے ۔ جو لوگوں کو بربریت کا نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ جیسے لوگوں کی عزتیں پامال ہو رہی ہیں ۔جیسے لوگوں کے خوشحال گھر بنجر ہور ہے ہیں ۔ شہر لٹ رہے ہیں ۔۔ایسا تو شاید جہنم میں بھی نہیں ہوگا۔خدا ترس کھا لے گا لیکن اس کے بندے یہاں ترس نہیں کھا رہے
حاکم یہاں سب سے بڑے قصاب بنے ہوئے ہیں
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ آج میری نظر سے اخبار کا ایک تراشہ گرزا اور اس کے بعد میرے سامنے ایک پوری ماضی کی کتاب کھل گئی۔ اخبارکی سرخی یہ تھی کہ مردان میں ایک شخص نے ریاست مدینہ کے امیرکو بد دعا دے دی اوراس کے بعد اس شخص پربد دعا دینے کی پاداش میں نا صرف ایف آئی آر کی گئی بلکہ اسے گھر سے اٹھا یا گیا او اسے سلاخوں کے پیچھے لایا گیا اسے عبرت کا نشانا بنایا گیا تا کہ ریاست میں کوئی بھی دوسرا شخصامیر المومنین کو بد دعا نا دے سکے وہ اپنے منہ سے کوئی ایسا جملہ نا نکال سکے جس سے حکمرانوں کی انا کو ٹھیس پہنچ سکے ۔اور اس لاچار شخص کو نا جانے کتنے د ن بعد اس شرط پر چھوڑا گیا کہ وہ آئندہ کے بعد عمران خان کی شان میں کسی قسم کی کوئی گستاخی نہیں کرے گا۔
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اس دورمیں اور کیا کیا ظلم نہیں ہوئے ۔لوگوں پر کیا کیا جبر کے پہا ڑ نہیں توڑے گئے ۔عمران خان ہمیشہ اپنے جلسوں میں کہتے تھے کہ میں غلامی سے نجات دلانے آیا ہوں میں لوگوں کو شعور دینے آیا ہوں ۔لیکن جس کے دور حکومت میں ایک شخص کو ریاست کو بد دعا دینے کی اجازت نا ہوکسی کے دل سے ڈر کی وجہ سے ہائے ہی نا نکل سکے ۔آواز اٹھانے کی اجازت نا ہو ۔۔ کیا وہ شخص لوگوں کو حقیقی آزادی دے سکتا ہے ؟اور یہ کوئی اس قسم کا ایک واقعہ نہیں تھا۔ آپ اس دور کے اخبار اٹھا کر دیکھیں ، اخبار بھرے ہوئے ہیں اس طرح کی خبروں سے ۔ مظالم کی لمبی فہرست ہے جو ختم ہونے کا نام نہیں لیتی ۔سیاستدان ، صحافی ، استاد، بیوروکریٹ ، عام شہری جس جس شخص نے اس دور میں تحریک انصاف پر تھوڑی سی بھی تنقید کی اس کو خاموش کروانے کےلیے ہر حد تک جایا گیا ۔ایسے ایسے مقدمے ہوتے رہے جس کے بارے میں سن کر عقل بھی شرما جائے ۔سینیٹر عرفان صدیقی کو دیکھ لیں ان کی عمر تک کا حیا نہیں کیا گیا ۔ انھیں بھی گرفتار کیا گیا ۔جرم ان کا یہ بتا یا گیا کہ انھوں نے اپنا گھر کرائے پر دیا ہے اور پولیس تھانے میں اطلاع نہیں دی۔اس سے بڑھ کر قانون اور انصاف کےلیے شرم کی بات کیا ہوسکتی ہے ؟پاکستان میں روز کتنے قتل ہوتے ہیں ؟کتنی چوریاں ہوتی ہیں کتنے گلے کاٹے جاتے ہیں کتنے بینک لوٹے جاتے ہیں کتنے پیسے باہر منی لانڈر کیے جاتے ہیں کتنے غریبوں کی زمینوں پر قبضے ہوتے ہیں کتنی بچیوں کی عصمت دری ہوتی ہے لیکن کیا وہ مجرم کبھی پکڑے گئے ہیں ؟ کیا انھیں کبھی سزا ملی ہے
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سال 2023 کا پہلا مہینہ ہی ملازمین کے لئے اچھا ثابت نہیں ہوا،
دنیا بھر میں معاشی بحران کی وجہ سے ادارے نہ صرف ملازمین کو نوکریوں سے نکال رہے ہیں بلکہ انکی تنخواہوں میں بھی کمی کی جا رہی ہے، ایک رپورٹ کے مطابق سال 2023 کے پہلے مہینے جنوری میں اب تک 68 ہزار افراد نوکریوں سے محروم ہو گئے ہیں ، بڑی اور نامور کمپنیاں بھی ملازمین کو فارغ کر رہی ہیں، گوگل، مائیکرو سافٹ مے بھی ملازمین کو فارغ کیا ہے،رپورٹ کے مطابق جنوری میں دنیا بھرمیں تقریبا 219 کمپنیوں نے ملازمین کو نکالا ہے
219 کمپنیوں نے اب تک ایک ماہ میں 68 ہزار سے زائد ملازمین کو نکالا ہے، جبکہ گزشتہ برس 2022 میں ایک ہزار سے زائد کمپنیوں نے ایک لاکھ چون ہزار 336 ملازمین کو فارغ کیا تھا، 2023 کا پہلا مہینہ ہی ملازمین پر بھاری رہا، ماہرین توقع کر رہے ہیں کہ یہ پورا سال ہی ملازمین کے لئے ایسے ہی گزرے گا، اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ جو ملازمین نوکریوں سے برطرف نہیں ہو رہے انکی تنخواہوں میں کمی کی جا سکتی ہے، نیشنل ایسوسی ایشن فار بزنس اکنامکس نے اس حوالہ سے ایک سروے کیا ہے جس میں صرف 12 فیصد ماہرین کا کہنا ہے کہ انکی کمپنیاں اگلے تین ماہ میں نئی ملازمتیں لائیں گی ،اس سے یہ ثابت ہو گا کہ نئی ملازمتوں کا حصول بھی مشکل ہوتا جا رہا ہے،
نیشنل ایسو سی ایشن فار بزنس اکنامکس کی صدر جولیا کوروناڈو کا کہنا ہےکہ انتہائی تشویشناک بات ہے کہ رواں برس کا پہلا مہینہ ہی ملازمین کے لئے اچھا نہیں گزرا،اتنی بڑی تعداد میں برطرفیوں سے بے روزگاری میں انتہائی اضافہ ہو گا،