Baaghi TV

Tag: تازہ ترین

  • دانیہ کے خلاف بے بنیاد ایف آئی آر درج کی گئی. والدہ دانیہ شاہ

    دانیہ کے خلاف بے بنیاد ایف آئی آر درج کی گئی. والدہ دانیہ شاہ

    عامر لیاقت کا قتل ہوا ہے جس کی وجہ رقم تھی. والدہ دانیہ شاہ

    مرحوم رکن قومی اسمبلی عامر لیاقت کی سابقہ اہلیہ دانیہ شاہ کی والدہ سلمیٰ بی بی کا کہنا ہے ان کی بیٹی بے گناہ ہے۔ لودھراں میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سلمیٰ بی بی نے کہا کہ کی گئی دانیہ کے خلاف بے بنیاد ایف آئی آر درج کی گئی ہے، اس کے موبائل سے کوئی ویڈیو وائرل نہیں ہوئی۔ دانیہ کی والدہ نے دعویٰ کیا کہ بشریٰ اقبال جھوٹ بول رہی ہے کہ عامر نے دانیہ کو طلاق دے دی تھی، عامرلیاقت نے وفات سے 4 روز قبل صلح کے لیے رابطہ کیا تھا۔

    دوران پریس کانفرنس سلمیٰ بی بی نے الزام لگایا کہ ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کا قتل ہوا ہے جس کی وجہ رقم تھی۔ واضح رہے کہ دانیہ شاہ عامرلیاقت کی نازیباویڈیوز وائرل کرنے کے کیس میں گرفتار ہوئیں اور وہ عدالتی ریمانڈ پر جیل میں ہیں، ملزمہ دانیہ شاہ پر کراچی کی عدالت میں فردجرم آج عائد کیے جانےکاامکان ہے۔

    واضح‌ رہے کہ اس سے قبل بھی مرحوم رکن قومی اسمبلی عامر لیاقت کی تیسری اہلیہ دانیہ شاہ کی والدہ کا کہنا تھا کہ بشریٰ اقبال کا مقصد جائیداد ہے اسے لیے ان کی بیٹی کو بھی پھنسایا جارہا ہے۔ نجی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دانیہ کی والدہ نے کہا تھا کہ بشریٰ نے عامر کے ساتھ بھی زیادتی کی اور اب میری بیٹی کے ساتھ بھی زیادتی کررہی ہے، عامر کا قتل ہوا ہے اس کی روح کو بھی انصاف ملے گا اور میری بیٹی کو بھی انصاف ملے گا۔ سلمیٰ بی بی نے بشریٰ اقبال پر الزام لگاتے ہوئے کہا تھا کہ بشریٰ کا مقصد جائیداد ہے جو سب میڈیا والے بھی جانتے ہیں اسی لیے عامر بھی مرگئے اور میری بیٹی کو بھی اسی لیے پھنسایا جارہا ہے۔

    عامر لیاقت کی وفات سے قبل ان کی نازیبا ویڈیو لیک کے معاملے پر بات کرتے ہوئے دانیہ کی والدہ کا کہنا تھا کہ عامر کی ویڈیو جس نے وائرل کی وہ سامنے آجائے گا میری بیٹی نے ویڈیو وائرل نہیں کی، کچھ بھی ہوجائے میری بیٹی 100 فیصد بے گنا ہ ہے، یہ جھوٹا الزام ہے، میری بیٹی کے خلاف جھوٹی چالیں اور پراپیگنڈہ رچایا جارہا ہے، اللہ ایک دن سچ سب کے سامنے لے کر آئے گا ہم ہمت نہیں ہارتے جو بیٹی پر الزام لگارہے کہ وہ اس کا ثبوت بھی دیں.

  • جنگل کے بادشاہ شیر کی گھاس کھانے کی ویڈٰیو وائرل

    جنگل کے بادشاہ شیر کی گھاس کھانے کی ویڈٰیو وائرل

    سوڈان کے دارالحکومت خرطوم میں مویشیوں کے ایک باڑے میں ایک شیر کی گھاس کھانےکی ویڈیو سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے-

    باغی ٹی وی : ویڈیو سوشل میڈیا پر جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی ہے ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ شیر مویشیوں کے ایک باڑے میں بیٹھا گھاس چررہا ہے لوگ ویڈیو دیکھ کر حیران ہیں کہ جنگل کا بادشاہ گوشت کے بجائے گھاس کیوں کھا رہا ہے؟-

    سوڈان وائلڈ لائف پارک نے اعتراف کیا کہ یہ منظر عجیب اور غیر فطری لگتا ہے، لیکن سچ یہ ہے کہ شیر وقتاً فوقتاً گھاس اور پتے کھاتے ہیں۔


    پارک انتظامیہ نے اپنے فیس بک پیج پر اس غیر معمولی رویے کی وضاحت کی کہا کہ جڑی بوٹیاں شیروں کی خوراک کا لازمی جزو نہیں ہیں، لیکن بعد میں انہیں کھانے کا سہارا لیا جاتا ہے کیونکہ یہ ان کے پیٹ کے امراض کو پرسکون کرنے میں مدد دیتی ہیں۔

    وضاحت میں کہا گیا کہ آج دوپہر کا کھانا کھانے کے بعد وہ بیٹھ گیا اور کچھ گھاس پر چبانے لگا جی ہاں، شیر گھاس کھاتے ہیں، تاہم، گھاس کو خوراک کے قدرتی حصے کے طور پر نہیں کھایا جاتا ہےاس کے بجائے،شیر گھاس کھاتے ہیں کیونکہ یہ انہیں پیٹ کےکیڑےکو پرسکون کرنے میں مدد کرتا ہے۔ ان کے گھاس کھانے کی ایک اور وجہ یہ ہے کہ گھاس معدنیات، وٹامنز اور فائبر کا قدرتی ذریعہ ہے، جو ان کی صحت کو سہارا دیتی ہے اور ہاضمے میں مدد دیتی ہے۔

    شیر گھاس کھاتے ہیں، اگرچہ یہ عجیب اور غیر فطری لگتا ہے، وہ وقتاً فوقتاً گھاس کھاتے رہتے ہیں درحقیقت، بلی کے تمام ارکان میں یہ ایک عام رویہ ہے۔ شیرچیتے اور گھریلو بلیا ں کبھی کبھار گھاس چباتے ہیں،پھر بھی، کوئی بھی جانور گھاس نہیں کھائے گا کیونکہ وہ گھاس کے ذائقے سے لطف اندوز ہوتے ہیں یا اس لیے کہ گھاس ان کی عام خوراک کا حصہ ہے۔

    دوسرے لفظوں میں شیر مختلف حالتوں میں جڑی بوٹی کو پیٹ کی ایک قسم کی دوا کے طور پر استعمال کرتے ہیں

  • فلپائن  میں دو طیارے  حادثے کا شکار

    فلپائن میں دو طیارے حادثے کا شکار

    منیلا: فلپائن میں یکے بعد دیگرے دو طیارے تباہ، فوجی طیارہ گر کر تباہ ہونے سے دو اہلکار ہلاک ہوگئے جبکہ ایک نجی طیارہ لاپتہ ہوگیا جس میں 6 افراد سوار تھے۔

    باغی ٹی وی: عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق فلپائن کے صوبے بتان میں فوجی طیارے نے تربیتی پرواز کے لیے ایئربیس سے اُران بھری تھی تاہم کچھ دیر بعد ہی کھیتوں میں گر کر تباہ ہوگیا۔

    فضائیہ نے بتایا کہ SF-260 TP مارچیٹی کو ٹیک آف کے 40 منٹ بعد دارالحکومت منیلا کے مغرب میں باتان صوبے میں ایک دھان کے کھیت میں گرتے ہوئے دیکھا گیا-

    فوجی طیارے کے زمین پر گرتے ہی آگ بھڑک اُٹھی۔ طیارے میں دو اہلکار سوار تھے جو حادثے میں ہلاک ہوگئے تاحال حادثے کی وجہ کا تعین نہیں ہوسکا ہے۔ حادثے کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹین تشکیل دیدی گئی۔

    فضائیہ نے کہا کہ اس نے اپنے SF-260 TP ٹرینر طیاروں کے بیڑے کو عارضی طور پر گراؤنڈ کر دیا ہے۔

    یہ طیارہ، جو 1970 کی دہائی سے فلپائن میں کام کر رہا ہے، اس نے ہلکے حملہ کرنے والے جنگی طیارے کے طور پر بھی کام کیا ہے، جس میں 2017 میں اسلامک اسٹیٹ کے وفادار عسکریت پسندوں کے قبضے کے بعد جنوبی مراوی شہر پر مہینوں کے فضائی حملوں کے دوران بھی شامل ہے۔

    جاپان میں شدید برف باری، نظام زندگی درہم برہم ،منسوخ پروازوں کی تعداد300 سے تجاوز کرگئی

    قبل ازیں 2021 میں، ایک فوجی طیارہ جو فوجیوں کو لے کر بغاوت کے خلاف کارروائیوں کے لیے روانہ ہوا تھا، 96 افراد کے ساتھ گر کر تباہ ہو گیا تھا، جس میں 53 افراد ہلاک ہو گئے تھے-

    دوسری جانب کوایان ایئرپورٹ سے اُڑان بھرنے والا ایک پرائیوٹ سیسا طیارہ اپنی منزل پر نہیں پہنچ سکا طیارے کو سیرا میدر کے پہاڑی سلسلے سے گزرنا تھا اڑان بھرنے کے 4 منٹ بعد ہی کنٹرول ٹاور سے رابطہ منقطع ہوگیا تھا۔

    مسافر بردار طیارے کو 30 منٹ کی پرواز کے بعد منزل مقصود پر پہنچنا تھا لیکن طیارہ راستے میں ہی لاپتہ ہوگیا طیارے کی تلاش کے لیے ریسکیو ٹیم بھیجی گئی لیکن تاحال طیارے کا سراغ نہیں مل سکا۔

    طیارے میں 6 افراد سوار تھے۔ موسم کی خرابی کے باعث ریسکیو آپریشن بند کردیا گیا تھا جسے آج صبح دوبارہ شروع کیا گیا ہے مسافروں کے زندہ ملنے کی امیدیں معدوم ہوگئیں ہیں-

    فضائیہ نے کہا کہ اس کے ہیلی کاپٹر بدھ کے روز ایک لاپتہ سیسا طیارے کی تلاش کی کارروائیوں میں شامل تھے جس میں چھ عام شہری سوار تھے، جو گزشتہ روز شمال مشرقی صوبہ ازابیلا کے ایک ہوائی اڈے پر پہنچنے میں ناکام رہا۔

  • اب سڑکوں پر بات ہو گی،ایم کیو ایم کا اگلے ماہ احتجاج کرنے کا اعلان

    اب سڑکوں پر بات ہو گی،ایم کیو ایم کا اگلے ماہ احتجاج کرنے کا اعلان

    متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان نے بلدیاتی انتخابات اور حلقہ بندیوں کے خلاف اگلے ماہ احتجاج کرنے کا اعلان کردیا۔

    باغی ٹی وی : ایم کیو ایم پاکستان کے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کا کہنا ہے کہ احتجاج سے پہلے الیکشن کمیشن اور سندھ حکومت کو موقع دے رہے ہیں کہ اگلے ہفتے سے دوبارہ حلقہ بندیاں شروع کرائیں ، جب حلقہ بندیاں ہی نہیں تو انتخابات کی کیا قانونی حیثیت رہی۔

    فواد چوہدری کی گرفتاری سیاسی نہیں،مریم اورنگزیب

    انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کے لیے الیکشن نہیں حلقہ بندیاں اہم ہیں ، آئینی قانونی اور جمہوری طریقے سے انتخابات میں حصہ لینا چاہتے ہیں اگر ہم انتخابات میں حصہ نہیں لیں گے تو الیکشن تسلیم ہی نہیں ہوں گے ۔

    واضح رہے کہ متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان نے کراچی اور حیدرآباد میں نئے بلدیاتی انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا تھا کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وسیم اختر کا کہنا تھا کہ بلدیاتی انتخابات ہوئے پانچ دن ہوگئے لیکن نتیجہ اب تک نہیں آيا، موسم خراب ہے نہ برف باری، نہ ٹرن آؤٹ زیادہ ہےتوپھرانتخابی نتائج میں تاخیر کیوں؟ فافن اور الیکشن کمیشن سمیت سب کہہ رہے ہیں کہ انتحابات میں دھاندلی ہوئی۔

    ان کا کہنا تھا کہ کراچی اور حیدر آباد کا بلدیاتی الیکشن کالعدم قرار دے کر نیا الیکشن کرایا جائے، وہ شہر جو اسلام آباد اورسندھ حکومت کابجٹ بناتاہےاس کاخیال کیاجائےاگر بلدیاتی انتخابات میں ایسی دھاندلی ہوگی تو عام انتخابات میں کیاہوگا؟کراچی میں تین بار بلدیاتی انتخابات ملتوی ہوئے پھر بھی حلقہ بندیاں ٹھیک نہ کی گئيں، الیکشن سےپہلے ہی نہیں بعد میں بھی دھاندلی کی جارہی ہے، ووٹنگ ٹرن آؤٹ بڑھانے کیلئے مختلف طریقے اپنائے جارہے ہیں۔

    الیکشن کمیشن کو دھمکانے کے کیس میں فواد چوہدری کا 2 دن کا جسمانی ریمانڈ منظور

  • راج کوی کاخطاب پانے والے پنڈت میلہ رام

    راج کوی کاخطاب پانے والے پنڈت میلہ رام

    اک بار اس نے مجھ کو دیکھا تھا مسکراکر
    اتنی تو حقیقت ہے باقی سب کہانیاں ہیں

    میلا رام وفا

    پنڈت بھگت رام کے بیٹے اور پنڈت جے داس کے پوتے،ناول نویس ،شاعر،صحافی اورحکومت پنجاب سے راج کوی کاخطاب پانے والے پنڈت میلہ رام،میلہ رام وفا کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ 26 جنوری1895کوگاؤں ديپوکےضلع سیالکوٹ میں پیداہوئے۔ بچپن میں گاؤں میں مویشی چرانےجایا کرتے تھے۔ کئی اخباروں کےمدیرہوئے، نیشنل کالج لاہور میں اردو فارسی کےدرس و تدریس کافریضہ انجام دیا۔

    ان کو باغیانہ نظم ”اے فرنگی“ لکھنے کے جرم میں دوسال کی قید بھی ہوئی شعری مجموعے”سوزوطن“ اور”سنگ میل“ کے علاوہ ”چاندسفرکا“ (ناول)ان کی اہم کتابیں ہیں بڑے بھائی سنت رام بھی شاعرتھےاورشوق تخلص کرتے تھے ٹی آر رینا کی کتاب پنڈت میلہ رام وفا حیات وخدمات، انجمن ترقی اردو(ہند) سے2011 میں چھپ چکی ہے فلم پگلی(1943)اورراگنی(1945)کے نغمے انہی کے لکھے ہوئے ہیں۔

    بارہ سال کی عمرمیں شادی ہوئی 17سال کی عمرمیں شعر کہنا شروع کیا پنڈت راج نارائن ارمان دہلوی کے شاگرد ہوئےارمان داغ دہلوی کے شاگرد تھے۔اردوکےمشہورومعروف رسالہ ”مخزن“ کے مدیررہے اور لالہ لاجپت رائے کے اردو اخبار ”وندے ماترم“ کی ادارت بھی کی۔ مدن موہن مالویہ کے اخبارات میں بھی کام کیا ویر بھارت میں جنگ کا رنگ کے عنوان سے کالم لکھتے تھے ان کاانتقال جالندھر پنجاب میں 19 ستمبر 1980 کو ہوا۔

    اشعار
    ۔۔۔۔۔
    اک بار اس نے مجھ کو دیکھا تھا مسکرا کر
    اتنی تو ہے حقیقت باقی کہانیاں ہیں

    گو قیامت سے پیشتر نہ ہوئی
    تم نہ آئے تو کیا سحر نہ ہوئی

    کہنا ہی مرا کیا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا
    یہ بھی تمہیں دھوکا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا

    اتنی توہین نہ کر میری بلا نوشی کی
    ساقیا مجھ کو نہ دے ماپ کے پیمانے سے

    عالم ہے ترے پرتو رخ سے یہ ہمارا
    حیرت سے ہمیں شمس و قمر دیکھ رہے ہیں

    تم بھی کرو گے جبر شب و روز اس قدر
    ہم بھی کریں گے صبر مگر اختیار تک

    راتیں عیش و عشرت کی دن دکھ درد مصیبت کے
    آتی آتی آتی ہیں جاتے جاتے جاتے ہیں

    دن جدائی کا دیا وصل کی شب کے بدلے
    لینے تھے اے فلک پیر یہ کب کے بدلے

  • مؤرخ، ماہر لسانیات، ماہر بشریات اور ماہر آثار قدیمہ پروفیسر احمد حسن دانی

    مؤرخ، ماہر لسانیات، ماہر بشریات اور ماہر آثار قدیمہ پروفیسر احمد حسن دانی

    پروفیسر احمد حسن دانی پاکستان سے تعلق رکھنے والے نامور مفکر، مؤرخ، ماہر لسانیات، ماہر بشریات اور ماہر آثار قدیمہ تھے۔

    ابتدائی زندگی
    پروفیسر احمد حسن دانی کشمیری الاصل تھے۔ وہ 20 جون 1920ء کو بسنہ، چھتیس گڑھ، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئانہوں نے 1944ء میں جامعہ بنارس ہندو سے ایم اے کیا۔ وہ اس ادارے سے ایم اے کی ڈگری لینے والے پہلے مسلمان طالبِ علم تھے۔ اگلے ہی برس انھوں نے محکمہ آثارِ قدیمہ میں ملازمت اختیار کر لی اور پہلے ٹیکسلا اور اُس کے بعد موہنجوڈارو میں ہونے والی کھدائی میں حصّہ لیا۔

    ڈھاکہ
    ۔۔۔۔۔
    آثارِ قدیمہ میں اُن کی بے حد دلچسپی کے پیشِ نظر انھیں برطانیہ کی حکومت نے تاج محل جیسے اہم تاریخی مقام پر متعین کر دیا۔ تقسیمِ ہند کے بعد وہ پاکستان آ گئے اور ڈھاکہ میں فرائض انجام دینے لگے۔ تعلیم و تربیت کے ابتدائی مراحل ہی میں پروفیسر دانی نے محسوس کر لیا تھا کہ آثارِ قدیمہ کی تحقیقات کو عوام تک پہنچانے کے لیے عجائب گھروں کی تعمیر انتہائی ضروری ہے۔ چنانچہ 1950ء میں انھوں نے وریندر میوزیم راجشاہی کی بنیاد رکھی۔ کچھ عرصہ بعد جب انھیں ڈھاکہ میوزیم کا ناظم مقرر کیا گیا تو انھوں نے بنگال کی مسلم تاریخ کے بارے میں کچھ نادر تاریخی نشانیاں دریافت کیں جو آج بھی ڈھاکہ میوزیم میں دیکھنے والوں کی توجہ کا مرکز ہیں۔

    غیر ملکی دورے
    ۔۔۔۔۔۔
    متحدہ ہندستان میں انگریز ماہرین کے تحت کام کرتے ہوئے پروفیسر دانی کے دِل میں اس بیش بہا تاریخی، ثقافتی اور تمدنی خزانے کو دیکھنے کی تمنّا پیدا ہوئی تھی جو انگریزوں نے اپنے طویل دور میں جمع کر لیا تھا۔ پروفیسر دانی کی یہ خواہش بیس پچیس برس بعد اس وقت پوری ہوئی جب خود ان کا نام تاریخ اور عمرانیات کے مطالعے میں ایک حوالہ بن چُکا تھا۔ سن ستر کی دہائی میں انھیں انگلستان اور امریکا کے طویل مطالعاتی دوروں کا موقع مِلا۔

    اعزازات
    ۔۔۔۔۔
    احمد حسن دانی کو ان کی اعلٰیٰ ترين علمی خدمات کے صلے ميں حکومت پاکستان نے ستارہ امتياز اور ہلال امتياز سے نوازا۔ خود اُن کے علم و بصیرت کی چکا چوند جب مغربی دنیا میں پہنچی تو آسٹریلیا سے کینیڈا تک ہر علمی اور تحقیقی اِدارہ اُن کی میزبانی کا شرف حاصل کرنے کی دوڑ میں پیش پیش نظر آنے لگا۔ امریکا، برطانیہ فرانس اور آسٹریلیا کے علاوہ انہیں جرمنی اور اٹلی میں بھی اعلٰی ترین تعلیمی، تدریسی اور شہری اعزازات سے نوازا گیا۔

    گندھارا
    ۔۔۔۔۔
    گندھارا تہذیب میں بے پناہ دلچسپی کے باعث پروفیسر دانی کا بہت سا وقت پشاور یونیورسٹی میں گزرا۔ اسی زمانے میں انھوں نے پشاور اور لاہور کے عجائب گھروں کی تزئینِ نو کا بیڑا بھی اُٹھایا۔ 1971 میں وہ اسلام آباد منتقل ہو گئے جہاں انھوں نے قائدِاعظم یونیورسٹی میں علومِ عمرانی کا شعبہ قائم کیا اور 1980 میں اپنی ریٹائرمنٹ تک اسی سے منسلک رہے۔

    ریٹائرمنٹ
    ۔۔۔۔۔
    ریٹائر ہونے کے بعد انھیں پتھروں پر کندہ قدیم تحریروں میں دلچسپی پیدا ہو گئی اور اواخرِعمر تک وہ گلگت، بلتستان، چترال اور کالاش کے علاقوں میں، آثارِ قدیمہ کے جرمن ماہرین کی معاونت سے قدیم حجری کتبوں کے صدیوں سے سربستہ راز کھولنے کی کوشش میں مصروف رہے۔

    وفات
    ۔۔۔۔۔
    حسن دانی گردے اور ذیابیطس کے مرض میں مبتلا تھے۔ 22 جنوری 2009ء کو انہیں پمز ہسپتال اسلام آباد لایا گیا جہاں ان کے علاج کی کوشش کی گئی لیکن 26 جنوری 2009ء وہ 88 سال کی عمر میں اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔

  • ہندوستانی ناول نگارانیتا نائر

    ہندوستانی ناول نگارانیتا نائر

    انیتا نائر کی پیدائش 26 جنوری 1966 کو ہوئی۔وہ ایک ہندستانی ناول نگار ہیں جو اپنی کتابیں انگریزی زبان میں لکھتی ہیں۔

    ابتدائی زندگی
    نائر کیرالہ کے پلوکاد ضلع کے شورانور میں پیدا ہوئیں۔ نائر نے کیرالہ واپس آنے سے پہلے چنئی (مدراس) میں تعلیم حاصل کی جہاں انھوں نے انگریزی زبان و ادب میں بی اے کی تعلیم حاصل کی۔ وہ اپنے شوہر سریش پرم باتھ اور ایک بیٹے کے ساتھ بنگلور میں رہتی ہیں۔

    کیریئر
    نائر بنگلور میں ایک اشتہاری ایجنسی کے تخلیقی ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کر رہی تھیں جب انہوں نے اپنی پہلی کتاب ”سب وے کے ستیر“ نامی مختصر کہانیوں کا ایک مجموعہ لکھا جسے انہوں نے ہار آنند پریس کو فروخت کیا۔ اس کتاب نے ورجینیا سینٹر برائے تخلیقی فنون کی رفاقت حاصل کی۔

    نائر کی دوسری کتاب پینگوئن انڈیا نے شائع کی تھی اور یہ کسی ہندستانی مصنف کی پہلی کتاب تھی جوپیکاڈر امریکہ کے ذریعہ شائع ہوئی تھی۔ افسانہ نگار اور شاعری کے لیے بہترین فروخت ہونے والی مصنف نائر کے ناولوں دی بیٹر مین اور لیڈیز کوپ کا 21 زبانوں میں ترجمہ کیا گیا ہے۔ نائر کا ناول دی بیٹر مین (2000) یورپ اور امریکہ میں بھی شائع ہوا ہے۔

    2002 میں ، ملیبار منڈ کی نظموں کا مجموعہ شائع ہوا۔ 2001 سے انیتا کا دوسرا ناول لیڈیز کوپ اب تک ہندستان سے باہر 15 ممالک جن میں امریکہ , ترکی ، پولینڈ , پرتگال بھی شامل ہیں ناقدین اور قارئین دونوں میں بہت پسند کیا گیا۔ کوپ ناول مردانہ غلبہ پانے والے معاشرے میں خواتین کے حالات کے بارے میں ہے جسے بڑی بصیرت، یکجہتی اور مزاح کے ساتھ لکھا گیا ہے۔

    لیڈیز کوپ 2002 کی پہلی پانچ کتابوں میں سے ایک قرار دی گئی تھی اور اسے دنیا بھر کی پچیس سے زیادہ زبانوں میں ترجمہ کیا گیا تھا۔ انھوں نے کچھ دوسری کتابیں بھی لکھی ہیں جیسے مسٹریس (2003) ، ایڈونچرز آف نونو، اسکیٹنگ اسکوائرل (2006)، لیونگ نیکسٹ ڈور ٹو ایلیس (2007) اور میجیکل انڈین میتھس (2008)۔ نائر کے کاموں میں بہت سارے سفری مقامات بھی شامل ہیں نائن فیکس آف بائیننگ ڈرامے کے ساتھ ، سب سے زیادہ فروخت ہونے والی مصنف انیتا نائر ڈرامہ نگار بھی بن گئی ہیں۔

  • جرمنی  نے یوکرین کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس لیپرڈ 2 ٹینک فراہم کرنے کی منظوری دے دی

    جرمنی نے یوکرین کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس لیپرڈ 2 ٹینک فراہم کرنے کی منظوری دے دی

    جرمنی نے یوکرین کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس لیپرڈ 2 ٹینکوں سے مسلح کرنے کی منظور دے دی ہے۔

    باغی ٹی وی: جرمنی کے حکومتی ترجمان اسٹیفن ہیبسٹریٹ نے کہا کہ جرمن حکومت کی جانب سے ٹینکوں کی پارٹنر ممالک سے ری ایکسپورٹ کی بھی منظور دی گئی ہے۔

    یوکرین کے کئی اعلیٰ عہدے داروں نے استفعے دے دئیے

    یوکرینی صدر زیلنسکی نے جرمن چانسلر اولاف شولز کا شکریہ ادا کیا اور کیف کو روس کے ساتھ جاری جنگ میں ٹینکوں سے لیس کرنے کے فیصلے کو انتہائی اہم اور بروقت فیصلہ قرار دیا۔

    دوسری جانب اپنے رد عمل میں روس نے جرمنی کی جانب سے یوکرین کو لیپرڈ 2 ٹینک فراہم کرنے کے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے اسے مغرب کی اشتعال انگیزی قرار دے دیا۔

    2019 میں پاکستان اوربھارت جوہری جنگ کے قریب تھے،امریکی مداخلت نے کشدگی کو…

    روس کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے ثابت ہوتا ہے کہ جرمنی دوسری عالمی جنگ کے دوران نازی جرائم کے بعد خود پر عائد ہونے والی تاریخی ذمہ داری کو بھول چکا ہے یوکرین کو بھاری اسلحہ فراہم کرنے سے ثابت ہوتا ہے کہ مغرب جنگ کو بھڑکا رہا ہے۔

  • جب تک زندہ ہوں تب تک پاکستان کے لیے جدو جہد کرونگا،عمران خان

    جب تک زندہ ہوں تب تک پاکستان کے لیے جدو جہد کرونگا،عمران خان

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کے چیئرمین سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مجھے حکومت سے سازش کے تحت باہر نکالا تو عوام لاکھوں کی تعداد میں سڑکوں پر نکلے،

    زمان پارک لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ 26سال پہلے اپنی جماعت کا نام انصاف کی تحریک رکھا تھا،جن ممالک میں قانون کی بالادستی ہو وہ خوشحال ہیں، ریاست مدینہ کی بنیادعدل وانصاف پر رکھی گئی تھی،انسانی معاشرہ وہ ہوتا ہے جہاں انصاف قائم ہو،مدینہ کی ریاست میں پہلے عدل و انصاف آیا پھر خوشحالی آئی، چین نے 30 سال میں 70 کروڑ لوگوں کو غربت سے نکال لیا، اپریل میں ہماری حکومت گئی تو آٹا 65 روپے کلو تھا، عالمی مارکیٹ میں قیمتیں کم ہونے کے باوجود یہاں پیٹرول اور ڈیزل مہنگا ہے،ہماری حکومت جانے سے اب تک بجلی کی قیمتیں بھی دگنی ہو گئی ہیں،ابھی ملک میں مزید مہنگائی آنے والی ہے، انہوں نے 1100 ارب روپے کے کرپشن کیسز ختم کروا لئے،

    عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ ملک میں مہنگائی اس ظلم اور ناانصافی کی وجہ سے ہے، پی ڈی ایم نے ملک کو تباہی کی طرف دھکیل دیا،پولیس نے فواد چودھری کو کیوں پکڑا، کونسا جرم کیا ہے؟ملک بڑے خطرناک موڑ پر کھڑا ہے ،آج اگر آپ کھڑے نہیں ہوئے تو آگے اندھیرا ہے۔ میں جب تک زندہ ہو میں اپنے ملک کے لئے لڑوں گا۔ جب تک زندہ ہوں تب تک پاکستان کے لیے جدو جہد کرونگا ،میری آواز بند کرنے کی کوشش کیوں کی جارہی ہے، میں نے موت کو قریب سے دیکھ لیا، کسی چیز کا ڈر نہیں ہے، زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ میری قوم اگر آپ نے اپنے آپ کو بچانا ہے تو انصاف کے ساتھ کھڑا ہونے پڑے گا۔

    ہتھکڑیاں لگے فواد چودھری کی عدالت پیشی،رات میری آنکھوں پرپٹی باندھی گئی،فواد کا بیان

    فواد چودھری کیخلاف درج ایف آئی آر کی کاپی باغی ٹی وی کو موصول

     فواد چودھری کو گرفتار کر لیا گیا 

    میرا پیغام پہنچا دو….فواد چودھری کے کس سے رابطے؟ آڈیو لیک ہو گئی

    ہ عمران خان کی نازیبا آڈیو لیک ہوئی ہے

    آڈیو لیکس، عمران خان گھبرا گئے،زمان پارک میں جاسوسی آلات نصب ہونے کا ڈر، خصوصی سرچ آپریشن

    عمران خان کی جاسوسی، آلات برآمد،کس کا کارنامہ؟

     فوادچودھری کے بھائی فراز چودھری کو بھی گرفتار کر لیا گیا

    قبل ازیں زمان پارک پہنچنے پر تحریک انصاف کے رہنما فرح حبیب کا کہنا تھا کہ ہمارے خلاف انتقامی کارروائیاں کی جارہی ہیں، حکومت حواس باختہ ہوچکی ہے، عدالت نے حکم دیا کہ فوادچودھری کو پیش کریں کیا ملک میں قانون کی کوئی عملداری نہیں ؟پی ڈی ایم حکومت انسانی حقوق کی خلاف ورز ی کررہی ہے،ہمارا ایک ہی مطالبہ ہے کہ انتخابات کرائے جائیں ،فوادچودھری کا کیس 6بجے دوبارہ شروع ہوگا، یہ الیکشن سے بھاگ رہے ہیں ، نا معلوم لوگ اور بغیر نمبر پلیٹ والی گاڑی میں فواد چودھری کو لے کر جارہے تھے،پنجاب پولیس ان کو پروٹیکشن دے رہی تھی، آئی جی پنجاب کیخلاف کارروائی ہونی چاہیے،

  • یوم پیدائش،  انور پیرزادہ ،معروف سندھی شاعر

    یوم پیدائش، انور پیرزادہ ،معروف سندھی شاعر

    تاریخ پیدائش:25 جنوری 1945ء
    وفات:07 جنوری 2007ء
    کراچی
    شہریت: پاکستان، برطانوی ہند
    زبان: انگریزی

    انور پیرزادہ سندھ کے معروف ترقی پسند شاعر، محقق اور ادیب۔ لاڑکانہ میں پیدا ہوئے۔ انور پیرزادہ نے عملی زندگی کا آغاز درس و تدریس سے کیا۔ تاہم بعد میں انہوں نے پاکستان ایئر فورس میں شمولیت اختیار کر لی۔ مشرقی پاکستان میں فوجی آپریشن کے دوران میں وہ چٹاگانگ میں تعینات رہے۔
    اس پر آشوب دور کی صورت حال کے بارے میں ایک دوست کو لکھے گئے خط میں انہوں نے مشرقی پاکستان کے لوگوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کا ذکر کیا لیکن ان کا خط حکام کے ہاتھ لگ گیا اور انہیں کورٹ مارشل کے ذریعے ایئر فورس کی ملازمت سے برخاست کر کے جیل میں ڈال دیا گیا۔

    رہائی کے بعد وہ صحافت کے پیشہ سے منسلک ہوگئے۔ بائیں بازو کے نظریات رکھنے کے باعث وہ کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان سے وابستہ تھے۔ ضیاء دور میں انھیں ایک بار پھر قید و بند کا سامنا کرنا پڑا۔
    جیل میں انہوں نے صوفی شاعر شاہ عبد الطیف بھٹائی کے کلام کا مطالعہ کیا اور اس پر تحقیق کے ذریعے ان کی شاعری کو بائیں بازو کے نظریات کے تحت سمجھنے کا طرز فکر متعارف کرایا۔ اپنی اس کاوش کی وجہ سے انہیں سندھ میں ترقی پسند سیاسی کارکنوں اور نوجوانوں میں مقبولیت حاصل ہو ئی۔
    ان کا تعلق ضلع لاڑکانہ کے دیہات بلھڑیجی سے تھا، جو ترقی پسند سیاست دانوں اور ادیبوں کی سرگرمیوں کے حوالے سے اپنی الگ پہچان رکھتا تھا۔ بلھڑیجی کے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد نے سابق سوویت یونین سے تعلیم حاصل کی اور شاید اسی وجہ سے اس گاؤں کو سندھ میں ’لٹل ماسکو‘ بھی کہا جاتا ہے۔
    ناقدین کے مطابق انور پیرزادہ کی ترقی پسند شاعری کے مجموعے ”اے چنڈ بھٹائی کھی چئجا“‘ (اے چاند بھٹائی کو کہنا) نے سندھی ادب کو تازگی بخشی۔ وہ سندھ کے آثار قدیمہ میں بھی گہری دلچسپی لیتے رہے۔
    انہوں نے دریائے سندھ کے ساتھ ساتھ اس کے پاکستان کی حدود میں داخل ہونے سے لیکر سمندر میں شامل ہونے تک کا سفر بھی کیا۔