Baaghi TV

Tag: تازہ ترین

  • ہندوستانی ناول نگارانیتا نائر

    ہندوستانی ناول نگارانیتا نائر

    انیتا نائر کی پیدائش 26 جنوری 1966 کو ہوئی۔وہ ایک ہندستانی ناول نگار ہیں جو اپنی کتابیں انگریزی زبان میں لکھتی ہیں۔

    ابتدائی زندگی
    نائر کیرالہ کے پلوکاد ضلع کے شورانور میں پیدا ہوئیں۔ نائر نے کیرالہ واپس آنے سے پہلے چنئی (مدراس) میں تعلیم حاصل کی جہاں انھوں نے انگریزی زبان و ادب میں بی اے کی تعلیم حاصل کی۔ وہ اپنے شوہر سریش پرم باتھ اور ایک بیٹے کے ساتھ بنگلور میں رہتی ہیں۔

    کیریئر
    نائر بنگلور میں ایک اشتہاری ایجنسی کے تخلیقی ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کر رہی تھیں جب انہوں نے اپنی پہلی کتاب ”سب وے کے ستیر“ نامی مختصر کہانیوں کا ایک مجموعہ لکھا جسے انہوں نے ہار آنند پریس کو فروخت کیا۔ اس کتاب نے ورجینیا سینٹر برائے تخلیقی فنون کی رفاقت حاصل کی۔

    نائر کی دوسری کتاب پینگوئن انڈیا نے شائع کی تھی اور یہ کسی ہندستانی مصنف کی پہلی کتاب تھی جوپیکاڈر امریکہ کے ذریعہ شائع ہوئی تھی۔ افسانہ نگار اور شاعری کے لیے بہترین فروخت ہونے والی مصنف نائر کے ناولوں دی بیٹر مین اور لیڈیز کوپ کا 21 زبانوں میں ترجمہ کیا گیا ہے۔ نائر کا ناول دی بیٹر مین (2000) یورپ اور امریکہ میں بھی شائع ہوا ہے۔

    2002 میں ، ملیبار منڈ کی نظموں کا مجموعہ شائع ہوا۔ 2001 سے انیتا کا دوسرا ناول لیڈیز کوپ اب تک ہندستان سے باہر 15 ممالک جن میں امریکہ , ترکی ، پولینڈ , پرتگال بھی شامل ہیں ناقدین اور قارئین دونوں میں بہت پسند کیا گیا۔ کوپ ناول مردانہ غلبہ پانے والے معاشرے میں خواتین کے حالات کے بارے میں ہے جسے بڑی بصیرت، یکجہتی اور مزاح کے ساتھ لکھا گیا ہے۔

    لیڈیز کوپ 2002 کی پہلی پانچ کتابوں میں سے ایک قرار دی گئی تھی اور اسے دنیا بھر کی پچیس سے زیادہ زبانوں میں ترجمہ کیا گیا تھا۔ انھوں نے کچھ دوسری کتابیں بھی لکھی ہیں جیسے مسٹریس (2003) ، ایڈونچرز آف نونو، اسکیٹنگ اسکوائرل (2006)، لیونگ نیکسٹ ڈور ٹو ایلیس (2007) اور میجیکل انڈین میتھس (2008)۔ نائر کے کاموں میں بہت سارے سفری مقامات بھی شامل ہیں نائن فیکس آف بائیننگ ڈرامے کے ساتھ ، سب سے زیادہ فروخت ہونے والی مصنف انیتا نائر ڈرامہ نگار بھی بن گئی ہیں۔

  • جرمنی  نے یوکرین کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس لیپرڈ 2 ٹینک فراہم کرنے کی منظوری دے دی

    جرمنی نے یوکرین کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس لیپرڈ 2 ٹینک فراہم کرنے کی منظوری دے دی

    جرمنی نے یوکرین کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس لیپرڈ 2 ٹینکوں سے مسلح کرنے کی منظور دے دی ہے۔

    باغی ٹی وی: جرمنی کے حکومتی ترجمان اسٹیفن ہیبسٹریٹ نے کہا کہ جرمن حکومت کی جانب سے ٹینکوں کی پارٹنر ممالک سے ری ایکسپورٹ کی بھی منظور دی گئی ہے۔

    یوکرین کے کئی اعلیٰ عہدے داروں نے استفعے دے دئیے

    یوکرینی صدر زیلنسکی نے جرمن چانسلر اولاف شولز کا شکریہ ادا کیا اور کیف کو روس کے ساتھ جاری جنگ میں ٹینکوں سے لیس کرنے کے فیصلے کو انتہائی اہم اور بروقت فیصلہ قرار دیا۔

    دوسری جانب اپنے رد عمل میں روس نے جرمنی کی جانب سے یوکرین کو لیپرڈ 2 ٹینک فراہم کرنے کے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے اسے مغرب کی اشتعال انگیزی قرار دے دیا۔

    2019 میں پاکستان اوربھارت جوہری جنگ کے قریب تھے،امریکی مداخلت نے کشدگی کو…

    روس کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے ثابت ہوتا ہے کہ جرمنی دوسری عالمی جنگ کے دوران نازی جرائم کے بعد خود پر عائد ہونے والی تاریخی ذمہ داری کو بھول چکا ہے یوکرین کو بھاری اسلحہ فراہم کرنے سے ثابت ہوتا ہے کہ مغرب جنگ کو بھڑکا رہا ہے۔

  • جب تک زندہ ہوں تب تک پاکستان کے لیے جدو جہد کرونگا،عمران خان

    جب تک زندہ ہوں تب تک پاکستان کے لیے جدو جہد کرونگا،عمران خان

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کے چیئرمین سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مجھے حکومت سے سازش کے تحت باہر نکالا تو عوام لاکھوں کی تعداد میں سڑکوں پر نکلے،

    زمان پارک لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ 26سال پہلے اپنی جماعت کا نام انصاف کی تحریک رکھا تھا،جن ممالک میں قانون کی بالادستی ہو وہ خوشحال ہیں، ریاست مدینہ کی بنیادعدل وانصاف پر رکھی گئی تھی،انسانی معاشرہ وہ ہوتا ہے جہاں انصاف قائم ہو،مدینہ کی ریاست میں پہلے عدل و انصاف آیا پھر خوشحالی آئی، چین نے 30 سال میں 70 کروڑ لوگوں کو غربت سے نکال لیا، اپریل میں ہماری حکومت گئی تو آٹا 65 روپے کلو تھا، عالمی مارکیٹ میں قیمتیں کم ہونے کے باوجود یہاں پیٹرول اور ڈیزل مہنگا ہے،ہماری حکومت جانے سے اب تک بجلی کی قیمتیں بھی دگنی ہو گئی ہیں،ابھی ملک میں مزید مہنگائی آنے والی ہے، انہوں نے 1100 ارب روپے کے کرپشن کیسز ختم کروا لئے،

    عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ ملک میں مہنگائی اس ظلم اور ناانصافی کی وجہ سے ہے، پی ڈی ایم نے ملک کو تباہی کی طرف دھکیل دیا،پولیس نے فواد چودھری کو کیوں پکڑا، کونسا جرم کیا ہے؟ملک بڑے خطرناک موڑ پر کھڑا ہے ،آج اگر آپ کھڑے نہیں ہوئے تو آگے اندھیرا ہے۔ میں جب تک زندہ ہو میں اپنے ملک کے لئے لڑوں گا۔ جب تک زندہ ہوں تب تک پاکستان کے لیے جدو جہد کرونگا ،میری آواز بند کرنے کی کوشش کیوں کی جارہی ہے، میں نے موت کو قریب سے دیکھ لیا، کسی چیز کا ڈر نہیں ہے، زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ میری قوم اگر آپ نے اپنے آپ کو بچانا ہے تو انصاف کے ساتھ کھڑا ہونے پڑے گا۔

    ہتھکڑیاں لگے فواد چودھری کی عدالت پیشی،رات میری آنکھوں پرپٹی باندھی گئی،فواد کا بیان

    فواد چودھری کیخلاف درج ایف آئی آر کی کاپی باغی ٹی وی کو موصول

     فواد چودھری کو گرفتار کر لیا گیا 

    میرا پیغام پہنچا دو….فواد چودھری کے کس سے رابطے؟ آڈیو لیک ہو گئی

    ہ عمران خان کی نازیبا آڈیو لیک ہوئی ہے

    آڈیو لیکس، عمران خان گھبرا گئے،زمان پارک میں جاسوسی آلات نصب ہونے کا ڈر، خصوصی سرچ آپریشن

    عمران خان کی جاسوسی، آلات برآمد،کس کا کارنامہ؟

     فوادچودھری کے بھائی فراز چودھری کو بھی گرفتار کر لیا گیا

    قبل ازیں زمان پارک پہنچنے پر تحریک انصاف کے رہنما فرح حبیب کا کہنا تھا کہ ہمارے خلاف انتقامی کارروائیاں کی جارہی ہیں، حکومت حواس باختہ ہوچکی ہے، عدالت نے حکم دیا کہ فوادچودھری کو پیش کریں کیا ملک میں قانون کی کوئی عملداری نہیں ؟پی ڈی ایم حکومت انسانی حقوق کی خلاف ورز ی کررہی ہے،ہمارا ایک ہی مطالبہ ہے کہ انتخابات کرائے جائیں ،فوادچودھری کا کیس 6بجے دوبارہ شروع ہوگا، یہ الیکشن سے بھاگ رہے ہیں ، نا معلوم لوگ اور بغیر نمبر پلیٹ والی گاڑی میں فواد چودھری کو لے کر جارہے تھے،پنجاب پولیس ان کو پروٹیکشن دے رہی تھی، آئی جی پنجاب کیخلاف کارروائی ہونی چاہیے،

  • یوم پیدائش،  انور پیرزادہ ،معروف سندھی شاعر

    یوم پیدائش، انور پیرزادہ ،معروف سندھی شاعر

    تاریخ پیدائش:25 جنوری 1945ء
    وفات:07 جنوری 2007ء
    کراچی
    شہریت: پاکستان، برطانوی ہند
    زبان: انگریزی

    انور پیرزادہ سندھ کے معروف ترقی پسند شاعر، محقق اور ادیب۔ لاڑکانہ میں پیدا ہوئے۔ انور پیرزادہ نے عملی زندگی کا آغاز درس و تدریس سے کیا۔ تاہم بعد میں انہوں نے پاکستان ایئر فورس میں شمولیت اختیار کر لی۔ مشرقی پاکستان میں فوجی آپریشن کے دوران میں وہ چٹاگانگ میں تعینات رہے۔
    اس پر آشوب دور کی صورت حال کے بارے میں ایک دوست کو لکھے گئے خط میں انہوں نے مشرقی پاکستان کے لوگوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کا ذکر کیا لیکن ان کا خط حکام کے ہاتھ لگ گیا اور انہیں کورٹ مارشل کے ذریعے ایئر فورس کی ملازمت سے برخاست کر کے جیل میں ڈال دیا گیا۔

    رہائی کے بعد وہ صحافت کے پیشہ سے منسلک ہوگئے۔ بائیں بازو کے نظریات رکھنے کے باعث وہ کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان سے وابستہ تھے۔ ضیاء دور میں انھیں ایک بار پھر قید و بند کا سامنا کرنا پڑا۔
    جیل میں انہوں نے صوفی شاعر شاہ عبد الطیف بھٹائی کے کلام کا مطالعہ کیا اور اس پر تحقیق کے ذریعے ان کی شاعری کو بائیں بازو کے نظریات کے تحت سمجھنے کا طرز فکر متعارف کرایا۔ اپنی اس کاوش کی وجہ سے انہیں سندھ میں ترقی پسند سیاسی کارکنوں اور نوجوانوں میں مقبولیت حاصل ہو ئی۔
    ان کا تعلق ضلع لاڑکانہ کے دیہات بلھڑیجی سے تھا، جو ترقی پسند سیاست دانوں اور ادیبوں کی سرگرمیوں کے حوالے سے اپنی الگ پہچان رکھتا تھا۔ بلھڑیجی کے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد نے سابق سوویت یونین سے تعلیم حاصل کی اور شاید اسی وجہ سے اس گاؤں کو سندھ میں ’لٹل ماسکو‘ بھی کہا جاتا ہے۔
    ناقدین کے مطابق انور پیرزادہ کی ترقی پسند شاعری کے مجموعے ”اے چنڈ بھٹائی کھی چئجا“‘ (اے چاند بھٹائی کو کہنا) نے سندھی ادب کو تازگی بخشی۔ وہ سندھ کے آثار قدیمہ میں بھی گہری دلچسپی لیتے رہے۔
    انہوں نے دریائے سندھ کے ساتھ ساتھ اس کے پاکستان کی حدود میں داخل ہونے سے لیکر سمندر میں شامل ہونے تک کا سفر بھی کیا۔

  • پھر یوں ہوا کہ زندگی میری نہیں رہی

    پھر یوں ہوا کہ زندگی میری نہیں رہی

    پھر یوں ہوا کہ زندگی میری نہیں رہی
    اس کی نہیں رہی تو کسی کی نہیں رہی

    فاطمہ حسن

    اصل نام: سیدہ انیس فاطمہ زیدی
    تاریخ پیدائش:25 جنوری 1953ء
    جائے پیدائش:کراچی
    زبان:اردو
    اصناف:تحقیق، تنقید،شاعری
    تصنیفات:
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)بلوچستان کاادب اور خواتین-2006
    ۔ (2)فیمینزم اور ہم-2005
    ۔ (3)خاموشی کی آواز-2004
    ۔ (4)یادیں بھی اب خواب ہوئیں-2004
    ۔ (5)کہانیاں گم ہوجاتی ہیں-2000
    ۔ (6)دستک سے در کافاصلہ-1993
    ۔ (7)بہتے ہوئے پھول-1977
    مستقل پتا:ڈی41 بلاک7، گلشن اقبال ،کراچی

    نام سیدہ انیس فاطمہ،ڈاکٹر اور تخلص فاطمہ ہے۔ 25 جنوری 1953ء کو کراچی میں پیدا ہوئیں۔ان کے آباء و اجداد کا وطن غازی پور(بھارت) تھا۔ سات برس کی عمر میں اپنے والدین کے ہمراہ ڈھاکا چلی گئیں اور وہیں تعلیم حاصل کی۔ 1971ء میں ڈھاکا یونیورسٹی میں آنرز کی طالبہ تھیں کہ سقوط ڈھاکا کا سانحہ پیش آیا۔ 1973ء میں بھارت اور نیپال سے ہوتی ہوئی کراچی پہنچیں۔ یہاں آکر جامعہ کراچی سے صحافت میں ایم اے کیا اور 1977ء میں محکمۂ اطلاعات سندھ گورنمنٹ کے شعبۂ اشاعت سے وابستہ ہوئیں۔ پھرسوشل سیکیورٹی انسٹی ٹیوشن میں ڈپٹی ڈائرکٹر کی حیثیت سے تقرر ہوا۔ ترقی کرکے اس ادارے میں ڈائرکٹر ،تعلقات عامہ ترتیب وتحقیق کے عہدے پر فائز رہیں۔ فاطمہ حسن شاعری کے علاوہ افسانے بھی لکھتی ہیں۔ ماہ نامہ’’اظہار ‘‘کی نائب مدیرہ رہ چکی ہیں۔ ا ن کی تصانیف کے نام یہ ہیں:’’بہتے ہوئے پھول‘‘، ’’دستک سے درکا فاصلہ‘‘(شعری مجموعے)،’’کہانیاں گم ہوجاتی ہیں‘‘(افسانے)، ’’یادیں بھی اب خواب ہوئیں‘‘(شعری مجموعہ)، ان تینوں شعری مجموعوں کو ملا کر ایک مجموعہ ’’یاد کی بارشیں‘‘کے نام سے منظر عام پر آیا ہے۔ ’زاہدہ خاتون شیروانیہ‘ پر تحقیقی مقالہ لکھ کر ڈاکٹریٹ کی ڈگری لی۔ بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد دوم)،محمد شمس الحق،صفحہ:415

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    سکون دل کے لیے عشق تو بہانہ تھا
    وگرنہ تھک کے کہیں تو ٹھہر ہی جانا تھا
    جو اضطراب کا موسم گزار آئیں ہیں
    وہ جانتے ہیں کہ وحشت کا کیا زمانہ تھا
    وہ جن کو شکوہ تھا اوروں سے ظلم سہنے کا
    خود ان کا اپنا بھی انداز جارحانہ تھا
    بہت دنوں سے مجھے انتظار شب بھی نہیں
    وہ رت گزر گئی ہر خواب جب سہانا تھا
    کب اس کی فتح کی خواہش کو جیت سکتی تھی
    میں وہ فریق ہوں جس کو کہ ہار جانا تھا

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    قربتوں میں فاصلے کچھ اور ہیں
    خواہشوں کے زاویے کچھ اور ہیں
    سن رہے ہیں کان جو کہتے ہیں سب
    لوگ لیکن سوچتے کچھ اور ہیں
    رہبری اب شرط منزل کب رہی
    آؤ ڈھونڈیں راستے کچھ اور ہیں
    یہ تو اک بستی تھکے لوگوں کی ہے
    راہ میں جو لٹ گئے کچھ اور ہیں
    مل رہے ہیں گرچہ پہلے کی طرح
    وہ مگر اب چاہتے کچھ اور ہیں

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    پھر یوں ہوا کہ زندگی میری نہیں رہی
    اس کی نہیں رہی تو کسی کی نہیں رہی
    وہ ہم سفر تھا کشتی پہ مانجھی بھی تھا وہی
    دریا وہی ہے میں بھی ہوں کشتی نہیں رہی
    بدلا جو اس کا لہجہ تو سب کچھ بدل گیا
    چاہت میں ڈھل کے جیسی تھی ویسی نہیں رہی
    پیڑوں میں چھاؤں پھول میں خوشبو ہے اپنا رنگ
    ویرانی بڑھ گئی ہے کہ بستی نہیں رہی
    کچے مکان جیسے گھروندے سے کھیلتی
    پختہ ہوا جو صحن تو مٹی نہیں رہی
    اک اعتراف عشق تھا جو کر نہیں سکی
    خاموش اس لیے ہوں کہ سچی نہیں رہی

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    یادوں کے سب رنگ اڑا کر تنہا ہوں
    اپنی بستی سے دور آ کر تنہا ہوں
    کوئی نہیں ہے میرے جیسا چاروں اور
    اپنے گرد اک بھیڑ سجا کر تنہا ہوں
    جتنے لوگ ہیں اتنی ہی آوازیں ہیں
    لہجوں کا طوفان اٹھا کر تنہا ہوں
    روشنیوں کے عادی کیسے جانیں گے
    آنکھوں میں دو دیپ جلا کر تنہا ہوں
    جس منظر سے گزری تھی میں اس کے ساتھ
    آج اسی منظر میں آ کر تنہا ہوں
    پانی کی لہروں پر بہتی آنکھوں میں
    کتنے بھولے خواب جگا کر تنہا ہوں
    میرا پیارا ساتھی کب یہ جانے گا
    دریا کی آغوش تک آ کر تنہا ہوں
    اپنا آپ بھی کھو دینے کی خواہش میں
    اس کا بھی اک نام بھلا کر تنہا ہوں

  • فواد چوہدری کی گرفتاری سیاسی نہیں،مریم اورنگزیب

    فواد چوہدری کی گرفتاری سیاسی نہیں،مریم اورنگزیب

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ صبح سے ٹی وی سکرین پر پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری کی گرفتاری کے حوالے سے گفتگو چل رہی ہے،

    ن لیگی رہنما مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ کچھ لوگ اس گرفتاری کو سیاسی رنگ اور اسے آزادی اظہار رائے کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں،فواد چوہدری کے خلاف سیکریٹری الیکشن کمیشن نے تھانہ کوہسار میں ایف آئی آر درج ہے،فواد چوہدری صاحب نے الیکشن کمیشن کے خلاف بیانات دیئے فواد چوہدری نے الیکشن کمیشن ممبران کے بچوں کو کھلے عام دھمکیاں دیں،فواد چوہدری کی گرفتاری سیاسی نہیں ہم گزشتہ نو ماہ سے حکومت میں ہیں، فواد چوہدری سمیت پی ٹی آئی کے لوگوں نے ہمارے خلاف جو زبان استعمال کی، اس پر ہم نے اگر سیاسی گرفتاری کرنا ہوتی تو یہ لوگ کب کے جیلوں کے پیچھے ہوتے عمران خان نے 2018ء سے 2022ء تک اختیارات کا ناجائز استعمال کیا،نواز شریف کو جب اقامے پر گرفتار کیا گیا، انہیں نااہل کر کے پارٹی صدارت سے ہٹایا گیا، یہ سیاسی انتقام تھا،نواز شریف نے کبھی ادارے کو گالی نہیں دی، اداروں کے سربراہان کے بچوں، ان کے خاندانوں کو دھمکیاں اور گالیاں نہیں دیں، نواز شریف اپنی بیٹی کے ساتھ روزانہ کی بنیادوں پر نیب کی عدالت میں پیشیاں بھگت رہے تھے،

    وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان کے حکم پر نیب اور پنجاب پولیس نے نواز شریف کی بیٹی کے گھر پر دھاوا بولا، میری موجودگی میں شاہد خاقان عباسی گرفتار کیا گیا، عمران خان نے بغیر وارنٹ گرفتاریاں کر کے سیاسی انتقام لیا، عمران خان کے ترجمان اور ان کے وزراء انہی جگہوں پر بیٹھ کر گرفتاری سے پہلے اعلان کرتے تھے کہ دو دن بعد رانا ثناء اللہ اور کیپٹن صفدر نے گرفتار ہونا ہے،

    دھویں دار مخبریاں، عمران خان نے اپنا کباڑہ کر لیا، نواز شریف کیلیے بری خبر

    احتساب سب کا ہو گا،وقت دیتے ہیں، ذمہ داران کا تعین کر کے عدالت کو بتائیں، چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

    اہم پوسٹوں پر سیاسی مداخلت ناقابل برداشت ہے،چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کے ریمارکس

    وزیراعظم فلڈ ریلیف اکاؤنٹ 2022 میں عطیات جمع کرانے کی تفصیلات

    سپریم کورٹ،محکمہ پولیس میں سیاسی مداخلت سے تبادلے،آٹھ سالوں کا ریکارڈ طلب

  • پی ٹی آئی کے تمام سابق ایم این ایز سے تمام مراعات واپس لینے کا فیصلہ

    پی ٹی آئی کے تمام سابق ایم این ایز سے تمام مراعات واپس لینے کا فیصلہ

    پی ٹی آئی کے تمام سابق ایم این ایز سے تمام مراعات واپس لینے کا فیصلہ

    پی ٹی آئی کے تمام سابق ایم این ایز سے تمام مراعات واپس لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے لہذا سابق ایم این ایز سے لاجز ، گاڑیوں سمیت دیگر تمام مراعات واپس لی جائیں گی جبکہ سی ڈی اے سمیت تمام متعلقہ اداروں کو مراعات واپس لینے کے احکامات جاری کردیئے گئے ہیں.

    واضح رہے کہ مستعفی ارکان بدستور پارلیمنٹ لاجز میں مقیم ہیں جبکہ قائمہ کمیٹیوں کے سربراہان میں سے اکثریت نے سرکاری گاڑیاں بھی واپس نہیں کیں۔ سوشل میڈیا پر یہ تاثر دیا جا رہا تھا کہ تحریک انصاف کے ارکان مستعفی تو ہو گئے تاہم وہ اپنے استعفوں کی تصدیق اس لیے نہیں کر رہے تھے کیونکہ انہیں تنخواہیں اور مراعات مل رہی تھیں جبکہ جب انہوں نے واپس آنا چاہا تو اسپیکر نے استعفے قبول کرلیئے.

    قومی اسمبلی حکام کے مطابق تحریک انصاف کے مستعفی ارکان کو اپریل کے اختتام پر 11 روز کی تنخواہ اور اس دوران ہونے والے قومی اسمبلی اور قائمہ کمیٹیوں کے اجلاسوں میں شرکت کا معاوضہ بھی ادا کر دیا گیا تھا۔ جبکہ مئی کے مہینے کی تنخواہ ادا نہیں کی گئی ہذا اسمبلی اجلاسوں اور قائمہ کمیٹیوں کے اجلاسوں کا معاوضہ ویسے بھی شرکت سے مشروط ہے تو وہ اس کے حقدار تھے ہی نہیں.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    اپنے دور میں مخالفین کو گرفتار کروانے والے اب خود کی گرفتاریوں پر چیخ کیوں رہے؟
    سرکاری ملازمین کی تنخواہیں، وزارتوں کے اخراجات اور وزرا کی تعداد کم کرنےکی تجاویز
    گیس کے چولہے پر کھانا بنانا صحت کیلئے آلودہ شہر میں رہنے سے زیادہ نقصان دہ ہے
    اردو نیوز کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے 15 سے زائد ارکان قائمہ کمیٹیوں کے چیئرمین تھے جو قانون کے مطابق ابھی تک اپنے عہدوں پر موجود ہیں ’ان میں سے آٹھ نے سرکاری گاڑیاں واپس کر دی ہیں جبکہ باقیوں نے گاڑیاں اور ڈرائیور بھی واپس نہیں کیے اور وہ اس گاڑی کو ملنے والا فیول بھی استعمال کر رہے ہیں۔

  • جامعہ زکریا کے طالب علم کلیم اللہ سہو کے قاتل اویس ارشد کو عدالت نے سنائی سزا

    جامعہ زکریا کے طالب علم کلیم اللہ سہو کے قاتل اویس ارشد کو عدالت نے سنائی سزا

    ملتان،جامعہ زکریا کے طالب علم کلیم اللہ سہو کے قاتل اویس ارشد کو سزائے موت سنا دی گئی

    عدالت نے مقتول کے ورثاء کو 5 لاکھ روپے معاوضہ ادا کرنے کا حکم بھی جاری کیا ہے ،عدالت نے اقدام قتل کے دفعات میں اویس ارشد کو ایک لاکھ 45 ہزار روپے جرمانہ بھی ادا کرنے کا حکم جاری کیا ہے اقدام قتل کے دفعات میں اویس ارشد کو ایک سال سزا کا بھی حکم سنایا ہے ،پولیس حکام کے مطابق کلیم اللہ سہو کو 14 اگست 2021 میں جامعہ زکریا میں خنجر کے وار کرکے قتل کیا گیا تھا,قاتل جامعہ زکریا کا سابق طالب علم اور جامعہ میں آئس کا سپلائر تھا,قاتل کو واردات کے کچھ دیر بعد جامعہ زکریا سے ہی گرفتار کرلیا گیا تھا,ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد اکمل خان نے قتل کیس کا فیصلہ سنایا,

    پولیس حکام کے مطابق جھگڑے میں تین طلباء ذوالفقار علی,عبدالقدیراورشرجیل کامران بھی زخمی ہوئے تھے جھگڑا دو تنظیموں کے طلباء کے درمیان تنازعہ پر ہوا تھا,تھانہ بی زیڈ نے اویس ارشد کیخلاف قتل,اقدام قتل سمیت دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا تھا,مدعی مقدمہ کیجانب سے ایڈووکیٹ ندیم کانجو نے کیس کی پیروی کی.

    بھارت ، سال کے ابتدائی چار ماہ میں کی 808 کسانوں نے خودکشی

    سال 2020 کا پہلا چائلڈ پورنوگرافی کیس رجسٹرڈ،ملزم لڑکی کی آواز میں لڑکیوں سے کرتا تھا بات

    پانچ بچوں کی ماں سے "خفیہ”ملنے آنیوالے تاجر کا قاتل گرفتار،کس نے کیا قتل؟ اہم انکشاف

  • امریکی کمپنی کا ایشیا کےامیر ترین شخص گوتم اڈانی پر فراڈ ،ہیرا پھیری کرنے سمیت متعدد سنگین الزامات عائد

    امریکی کمپنی کا ایشیا کےامیر ترین شخص گوتم اڈانی پر فراڈ ،ہیرا پھیری کرنے سمیت متعدد سنگین الزامات عائد

    ایک امریکی کمپنی نے ایشیا کے امیر ترین شخص گوتم اڈانی کی کمپنیوں کو اکاؤنٹنگ فراڈ اور اسٹاک کی ہیرا پھیری میں ملوث قرار دیا ہے۔

    باغی ٹی وی: اڈانی گروپ کی کمپنیوں میں حصص اس وقت گرے جب امریکی سرمایہ کار ہندنبرگ ریسرچ نے کہا کہ وہ اس گروپ کے اسٹاک کو کم کر رہی ہے اور ایشیا کے سب سے امیر آدمی کی ملکیت والی فرموں پر اکاؤنٹنگ فراڈ اور اسٹاک کی ہیرا پھیری کا لازما لگا رہی ہے-


    اڈانی سے متعلقہ اداروں کے بانڈز اور حصص اس وقت گر گئےجب ہندن برگ، جو کہ مختصر فروخت میں مہارت رکھتی ہے، ایک امریکی سرمایہ کاری ریسرچ فرم نے ٹائیکون کی کمپنیوں کے بارے میں دو سال کی تحقیقات کے بعد مبینہ کارپوریٹ بدعنوانی کے وسیع پیمانے پر الزامات لگائے۔


    امریکا کی شارٹ سیلنگ کمپنی ہندن برگ کی جانب سے اس حوالے سے اپنی ویب سائٹ پر ایک جامع رپورٹ جاری کی ہے،رپورٹ میں کہا گیا کہ ہم اپنی 2 سالہ تحقیقات کے نتائج کو جاری کررہے ہیں اورایسے شواہد پیش کیے جارہے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ 17.8 ٹریلین (218 ارب امریکی ڈالرز) مالیت کا اڈانی گروپ دہائیوں سے اسٹاک کی ہیرا پھیری اور اکاؤنٹنگ فراڈ اسکیم میں ملوث ہے۔


    اڈانی پورٹ کے ساتھ اڈانی سے وابستہ اسٹاک گر گئے 5 فیصد سے زیادہ کا نقصان۔ اڈانی پاورکے حصص کی قیمت 4.5 فیصد سے زیادہ گر گئی اور اڈانی ٹرانسمیشن بھی تقریبا 5 فیصد کم ہو گیا-


    رپورٹ میں تو گوتم اڈانی کے گروپ آف کمپنیز کے لیے کارپوریٹ تاریخ کے سب سے بڑے دھوکے باز کے الفاظ بھی استعمال کیے گئے۔


    رپورٹ میں الزام عائد کیا گیا کہ سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج بورڈ آف انڈیا نے اڈانی گروپ کے آف شور فنڈز کے حوالے سے امریکی کمپنی کی تحقیقات میں رکاوٹ ڈالی اوران ضوابط کو نافذ کرنے میں سستی کا مظاہرہ کر رہا ہے جس کی وجہ سے اڈانی کمپنیوں کو ڈی لسٹ کرنا پڑے گا۔

    رپورٹ میں متحدہ عرب امارات سمیت کئی ممالک میں اڈانی خاندان کی آف شور کمپنیوں کی تفصیلات بھی دی گئیں اور دعویٰ کیا گیا کہ ان کمپنیوں کو کرپشن، منی لانڈرنگ اور ٹیکسوں کی چوری کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔


    دوسری جانب اڈانی گروپ نے ہندنبرگ کی رپورٹ کو "منتخب غلط معلومات کا بدنیتی پر مبنی مجموعہ” قرار دیا اور مزید کہا کہ یہ "ہمیشہ تمام قوانین کی تعمیل کرتی رہی ہے۔

    گروپ کے چیف فنانشل آفس جوگیشندر سنگھ نے غیر ملکی خبررساں ادارے سی این بی سی کو ایک بیان میں کہا کہ رپورٹ کی اشاعت کا مقصد واضح طور پر اڈانی گروپ کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کا ہے ہنڈن برگ نےہم سےرابطہ کرنے یاحقائق پرمبنی میٹرکس کی تصدیق کرنے کی کوئی کوشش کیے بغیر” اپنی رپورٹ شائع کی۔


    بلومبرگ بلینیئرز انڈیکس کے مطابق، 2008 میں ارب پتی بننے کے بعد سے، اڈانی اب 119 بلین ڈالر کی دولت کے ساتھ دنیا کے امیر ترین لوگوں میں سے ایک ہیں اگست میں، کمپنی نے ہندوستانی میڈیا گروپ NDTV کے مخالفانہ قبضے کی کوشش کی، جس نے ایک فائلنگ میں کہا کہ یہ اقدام اس کے بانیوں سے "بغیر کسی رضامندی کے” کیا گیا تھا۔

  • پاکستان کی معاشی مشکلات، تحریر:خادم حسین

    پاکستان کی معاشی مشکلات، تحریر:خادم حسین

    پاکستان کی معاشی مشکلات میں مسلسل اضافہ ہوتاچلا جارہا ہے درآمدات اور ترسیلات زر میں مسلسل کمی آتی جارہی ہی جبکہ درآمدات میں خاطر خواہ کمی نہیں آرہی ہے معیشت ایک ایسے بحران کا شکار ہے جس سے نکلنا دن بدن مشکل ہوتا چلا جارہا ہے مہنگائی کا آفریت دن بدن بڑھ رہا ہے اور عوام کی زندگی مشکل ہوتی جارہی ہے لیکن ملک کی سیاسی صورتحال اس تمام صورتحال کو مزد گھمبیر بنانے میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے آج ملک تقریباَ معاشی اشاریوں پر ناکافی سکور کر رہا ہے۔وطن عزیز اس وقت جن گمبھیر مسائل و مشکلات کا شکار ہے ان میں سیاسی عدم استحکام،معاشی ابتری اور دہشت گردی سرفہرست ہے۔پھر ان کی کوکھ سے جنم لینے والے مسائل ہیں جن میں مہنگائی،بے روزگاری،کاروباری بدحالی، کرپشن، روپے کی ناقدری،ترسیلات زر میں کمی، توانائی کی طلب کے مقابلے میں رسد کا فقدان، بڑھتے ہوئے غیر ملکی قرضے، تجارتی عدم توازن،محصولات کی کم ہوتی ہوئی وصولی،زرعی عدم توازن، محصولات کی گھٹتی ہوئی وصولی، زرعی و صنعتی پیداوار میں تنزلی،امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال، بڑھتے ہوئے سٹریٹ کرائمز، ریاستی اداروں کی بے توقیری اور عوام میں عدم تحفظ کا خوف بھی شامل ہے۔یہ ملک کے سب سے بڑے مسائل ہیں جن کے حل کے لیے تمام اداروں اور تمام سیاسی پارٹیوں کو ایک پلیٹ فارم میں یکجا ہونا ہوگا۔

    مضبوط معیشت کیلئے ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔درآمدات میں توازن، کرنسی کی بیرون ملک غیر قانونی منتقلی کو روکا جائے۔ کسی ملک کو اپنی سرزمین دہشت گردوں کی پناہ گاہ کے طور پراستعمال کرنے کی اجازت نہ دی جائے،قومی سلامتی کا تصور معاشی تحفظ کے گرد گھومتا ہے، معاشی خودانحصاری کے بغیر قومی خود مختاری پر دباؤ آتا ہے عام آدمی خصوصاً مڈل کلاس کو چیلنجز کا سامنا ہے۔یہ بات قابل اطمینان ہے اب اعلیٰ سطح پر پاکستان کے معاشی مسائل کے حل کے لیے سوچا جا رہا ہے۔اس ملک کے مسائل کے حل کیے لئے اجتماعی فیصلے کرنا ضروری ہیں اسمیں ملک کے لیے بہتری کی کوئی راہ نکل سکتی ہے۔ پاکستا ن اس وقت معاشی ناکامی کے دہانے پر کھڑا ہوا ہے اور اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ ایسی صوربحال ہم برداشت نہیں کرسکتے ہمیں پاکستان کو آگے بڑھانے کے لیے ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے امید کی جاسکتی ہے کہ پاکستان کی سفارت کاری بھی اس سلسلے میں اہم کردار ادار کرسکتی ہے اس سلسلے میں تیزی سے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔

    گزشتہ چند سالوں میں اقتصادی ترقی اور پائیدار امن و امان دونوں میں ملک نے حالیہ برسوں میں نمایاں پیشرفت کی ہے۔لہذا یہ حیران کن ہے کہ پاکستان کی اقتصادی سفارت کاری اس قدر غیر موثر کیوں ہے خاص طور پر یہ دیکھتے ہوئے کہ اس کے پڑوسیوں نے اس کی اتنی تندہی سے حمایت کی اور اسے قبول کیا۔آج ہندوستان دنیاکی تیزی سے ترقی کرنے والے معیشتوں میں سے ایک ہے اور اس نے اس اقتصادی طاقت کو اپنے تمام تجارتی شراکت داروں کے ساتھ سفارتی فائدہ کے طور پر استعمال کیا ہے ایران کے ساتھ اس کے تعلقات قابل ذکر ہیں ایران کے ساتھ ہندوستان کے تعلقات بڑھتے اور گہرے ہوتے جارہے ہیں اور عرب دنیا کے ساتھ اس کے تعلقات پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔یہ ایک متوازن عمل ہے جس کی ہم تقلید کرسکتے ہیں بلکہ یہ ہمارے لیے ضروری ہے۔یہاں امریکہ کے ساتھ پاکستان کے اقتصادی تعلقات بھی قابل ذکر ہیں۔گزشتہ 70سالوں سے تمام تر مالی امداد اور دوطرفہ دوستی کے باوجود پاکستان باہمی تجارت پر مبنی تعلقات کو فروغ دینے میں ناکام ہورہا ہے اگرچہ امریکہ پاکستان کے اہم برآمدی شرات داروں میں سے ایک ہے لیکن وہ چین یا بھارت کے برعکس اس طرح کے تعلقات کے ذریعے پیش کیے گئے اقتصادی مواقع سے فائدہ اٹھانے میں ناکام رہا ہے کسی بھی بڑی کمپنی کا نام لیں اور ان کے سی ای او کا ہندوستانی نثراد ہونا تقریباً یقینی ہے گوگل اور مائیکروسافٹ طویل فہرست میں صرف چند مثالیں ہیں۔دوسری طرف چین نے نئے سٹارٹ اپس میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی ہےCNBCاور بلومبرگ کی حالیہ رپورٹس کے مطابق چین اپنے مفادات کو وسیع کرنے اور ان نئے آغاز کے ذریعے پیش کردہ اہم فوجی ٹیکنالوجی (ملٹری روبوٹکس، مصنوعی ذہانت، راکٹ انجن وغیرہ) سے فائد ہ اٹھانے کے لیے تیزی سے ترقی کرنے والے اٹیک اسٹار اپس میں سرمایہ کاری کررہا ہے۔چین کی بڑھتی ہوئی اقتصادی سفارتکاری کی سب سے مشہور مثال ون بیلٹ ون روڈ اقدام ہے۔پہلے سے زیادہ آپ پاکستان کو معاشی سفارتکاری کی ضرورت ہے۔ پاکستان کی جغرافیائی اہمیت ہے اور اقتصادی فوائد کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کے پڑوسیوں کے ساتھ تجارت اور رابطوں کے اقدامات پر کام کیا جانا چاہیے۔

    خادم حسین
    ایگزیکٹو ممبر لاہور چیمبرز آف کامرس و انڈسٹریز
    ڈائریکٹرز پاکستان سٹون ڈویلپمنٹ کمپنی
    سینئر نائب صدر فیروز پور بورڈلاہور

    فواد چودھری کیخلاف درج ایف آئی آر کی کاپی باغی ٹی وی کو موصول

     فواد چودھری کو گرفتار کر لیا گیا 

    میرا پیغام پہنچا دو….فواد چودھری کے کس سے رابطے؟ آڈیو لیک ہو گئی

    ہ عمران خان کی نازیبا آڈیو لیک ہوئی ہے

    آڈیو لیکس، عمران خان گھبرا گئے،زمان پارک میں جاسوسی آلات نصب ہونے کا ڈر، خصوصی سرچ آپریشن

    عمران خان کی جاسوسی، آلات برآمد،کس کا کارنامہ؟