Baaghi TV

Tag: تازہ ترین

  • لاہور ہائیکورٹ نےعمران خان کو چیئرمین پی ٹی آئی کے عہدے سے ہٹانے کی درخواست نمٹا دی

    لاہور ہائیکورٹ نےعمران خان کو چیئرمین پی ٹی آئی کے عہدے سے ہٹانے کی درخواست نمٹا دی

    لاہور ہائیکورٹ نے عمران خان کو چیئرمین پی ٹی آئی کے عہدے سے ہٹانے کی درخواست غیر مؤثر قرار دیتے ہوئے خارج کر دی۔

    لاہور ہائیکورٹ نے عمران خان کو چیئرمین پی ٹی آئی کے عہدے سے ہٹانے کی درخواست غیر مؤثر قرار دیتے ہوئے خارج کر دیعمران خان کی نااہلی کے متعلق کیسز کی سماعت لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس امیر بھٹی کی سرراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔ درخواست گزار ایڈووکیٹ آفاق احمد عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ الیکشن کمیشن عمران خان کو چیئرمین کے عہدے سے نااہل نہیں کر رہا، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ الیکشن کمیشن کی کارروائی کے بعد آپ کی درخواست تو بظاہر غیر موثر ہو گئی ہے، الیکشن کمیشن کے نوٹس کے بعد تو آپ کا مسئلہ حل ہو گیا ہے۔

    ایڈووکیٹ آفاق احمد نے کہا کہ میری درخواست ابھی غیر موثر نہیں ہوئی، میرے دلائل اظہر صدیق والی درخواست کے بعد سن لیں، جس پر جسٹس امیر بھٹی نے کہا کہ اظہر صدیق صاحب اب تو عمران خان خود درخواست گزار بن چکے، حلقے کے ووٹر کی درخواست بھی بظاہر غیر مؤثر ہے۔ اظہر صدیق نے کہا کہ تسلیم کرتا ہوں کہ عمران خان کی درخواست سنگل بینچ میں چل رہی ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    کاسمیٹک مصنوعات کے نقصانات سے خبردار کرنے والی سعودی ایپلی کیشن متعارف
    آج ترکیہ کی نامور مصنفہ کالدہ ادیب خانم کا یوم وفات ہے
    قلعہ سیف اللہ کے قریب خوفناک ٹریفک حاثہ میں 7 افراد جاںبحق
    وزیر اعظم شہباز شریف وفد کے ساتھ جنیوا پہنچ گئے
    ایک کمرے میں دو دو کلاسز؛ کراچی میں سرکاری اسکول کی عمارت ٹھیکیدار نے کرائے پر دیدی
    لاہور ہائیکورٹ کے فل بینچ نے عمران خان کو چیئرمین پی ٹی آئی کے عہدے سے ہٹانےکی درخواست غیر مؤثر قرار دیتے ہوئے نمٹا دی۔ عمران خان کی ممنوعہ فنڈنگ میں نااہلی کے خلاف حلقے کے ووٹر کی جانب سے درخواست واپس لیے جانے کے بعد عدالت نے یہ درخواست بھی خارج کر دی۔

  • اسحاق ڈار کی سینیٹ نشست کو خالی قرار دینے کی درخواست خارج

    اسحاق ڈار کی سینیٹ نشست کو خالی قرار دینے کی درخواست خارج

    الیکشن کمیشن نے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی سینیٹ نشست کو خالی قرار دینے کی درخواست خارج کر دی ہے.

    الیکشن کمیشن نے حلف نہ اٹھانے پر اسحاق ڈار کی نشست خالی قرار دینے کے معاملے پر 26 ستمبر 2022 کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ اسحاق ڈار کی سینیٹ کی نشست خالی قرار دینے کے کیس کی سماعت الیکشن کمیشن میں ہوئی تھی۔ اسحاق ڈار نے پاکستان پہنچ کر بطور ممبر سینیٹ اور بطور وزیر خزانہ حلف لیا تھا۔ الیکشن کمیشن نے وزیر خزانہ کے خلاف بطور سینیٹر حلف نہ اٹھانے پر نااہلی کی کارروائی بھی ختم کر دی۔ الیکشن کمیشن کے مطابق منتخب ہونے کے بعد دو ماہ حلف نہ اٹھانے پر نااہلی کے آرڈیننس کا اطلاق اسحاق ڈار پر نہیں ہوتا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    کاسمیٹک مصنوعات کے نقصانات سے خبردار کرنے والی سعودی ایپلی کیشن متعارف
    آج ترکیہ کی نامور مصنفہ کالدہ ادیب خانم کا یوم وفات ہے
    قلعہ سیف اللہ کے قریب خوفناک ٹریفک حاثہ میں 7 افراد جاںبحق
    وزیر اعظم شہباز شریف وفد کے ساتھ جنیوا پہنچ گئے
    ایک کمرے میں دو دو کلاسز؛ کراچی میں سرکاری اسکول کی عمارت ٹھیکیدار نے کرائے پر دیدی
    پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور سینیٹ میں پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈر شہزاد وسیم نے اسحاق ڈار کی نشست خالی قرار دیے کے لیے درخواست دائر کی تھی۔ الیکشن کمیشن نے سینیٹر شہزاد وسیم کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے اسحاق ڈار کی نااہلی کی درخواست خارج کر دی۔ یاد رہے کہ الیکشن کمیشن نے سینیٹر شہزاد وسیم کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے 9 جنوری کو سنانے کا اعلان کیا تھا۔ الیکشن کمیشن نے وزیرخزانہ اسحاق ڈار کو نوٹس جاری کیا تھا. نوٹس میں اسحاق ڈار کو 9 جنوری کو الیکشن کمشن میں طلب کیا گیا تھا. الیکشن کمیشن نے نوٹس میں کہاتھاکہ اسحاق ڈارخود یا بذریعہ وکیل الیکشن کمیشن میں پیش ہوں۔

  • ایم کیو ایم کی درخواست پر بلدیاتی الیکشن روکنے کے لیے عدالت کاحکم امتناع جاری

    ایم کیو ایم کی درخواست پر بلدیاتی الیکشن روکنے کے لیے عدالت کاحکم امتناع جاری

    بلدیاتی الیکشن روکنے کیلئے ایم کیو ایم کی درخواست، عدالت کا حکم امتناع جاری کرنے سے انکار

    سندھ ہائیکورٹ نے ایم کیو ایم کی درخواست پر بلدیاتی الیکشن روکنے کے لیے حکم امتناع جاری کرنے سے انکار کر دیا۔ ایم کیو ایم کی جانب سے کراچی کے بلدیاتی الیکشن روکنے سے متعلق کیس کی سماعت سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس اقبال کلہوڑو کی سربراہی میں ہوئی۔ دوران سماعت وکیل ایم کیو ایم نے کہا کہ جب بلدیاتی الیکشن کا نوٹیفکیشن جاری ہوا تو الیکشن کمیشن کا کورم پورا نہیں تھا، الیکشن کمیشن کا بلدیاتی الیکشن سے متعلق نوٹیفکیشن ہی غیرقانونی ہے۔

    سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس اقبال کلہوڑو نے ایم کیو ایم کی درخواست پر بلدیاتی الیکشن روکنے کے لیے حکم امتناع جاری کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ کل ریگولر بینچ ہو گا وہی سماعت کرے گا۔ عدالت نے ایم کیو ایم کی درخواست 10 جنوری تک ملتوی کر دی۔ یاد رہے کہ ڈپٹی کنوینر ایم کیو ایم پاکستان کنور نوید جمیل نے کراچی کے بلدیاتی الیکشن روکنے کے لیے درخواست دائر کر رکھی ہے جبکہ اس معاملے پر چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ نے فل بینچ بنانے کی ایم کیو ایم کی درخواست مسترد کر دی تھی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    کاسمیٹک مصنوعات کے نقصانات سے خبردار کرنے والی سعودی ایپلی کیشن متعارف
    آج ترکیہ کی نامور مصنفہ کالدہ ادیب خانم کا یوم وفات ہے
    قلعہ سیف اللہ کے قریب خوفناک ٹریفک حاثہ میں 7 افراد جاںبحق
    وزیر اعظم شہباز شریف وفد کے ساتھ جنیوا پہنچ گئے
    ایک کمرے میں دو دو کلاسز؛ کراچی میں سرکاری اسکول کی عمارت ٹھیکیدار نے کرائے پر دیدی
    کنور نوید جمیل نے اپنی درخواست میں کہا تھا کہ الیکشن کمیشن نامکمل ہونے کے باعث اس کے فیصلے قانونی حیثیت نہیں رکھتے، حلقہ بندیوں سے متعلق بھی الیکشن کمیشن کا نوٹیفکیشن غیر قانونی ہے، جب نوٹیفکیشن جاری ہوا تو اس وقت کمیشن میں پنجاب اور خیبرپختونخوا کے نمائندے نہیں تھے۔

  • اسلام آباد کی مقامی عدالت نے 31 جنوری کو عمران خان کو دوبارہ طلب کر لیا

    اسلام آباد کی مقامی عدالت نے 31 جنوری کو عمران خان کو دوبارہ طلب کر لیا

    اسلام آباد کی مقامی عدالت نے 31 جنوری کو عمران خان کو دوبارہ طلب کر لیا ہے.

    اسلام آباد میں درج کیے مقدمے میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی ضمانت میں 31جنوری تک توسیع کردی گئی۔ اسلام آباد کے ایڈیشنل سیشن جج ظفراقبال نےعمران خان کےخلاف تھانہ سیکریٹریٹ میں درج مقدمے میں چیئرمین پی ٹی آئی کی ضمانت میں 31 جنوری تک توسیع کردی۔  سماعت کے دوران عمران خان کے وکیل بابر اعوان عدالت کے سامنے پیش ہوئے، جس دوران عدالت نےعمران خان کی جانب سے آج حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور کرلی۔  عدالت نے بابر اعوان کے وکیل سے استفسارکیاکہ 31 جنوری کو عمران خان عدالت آجائیں گے؟ جس پر وکیل بابراعوان نےکہا جی اب عمران خان بہتری محسوس کر رہے ہیں۔  بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت 31 جنوری تک ملتوی کردی.

    واضح رہے کہ اس سے قبل اسلام آباد کی انسداد دہشت گری عدالت نے دہشت گردی کے مقدمے میں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی عبوری ضمانت میں 10 جنوری تک توسیع کی تھی. سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف دہشت گردی کی دفعات کے تحت درج مقدمے میں عبوری ضمانت کی درخواست پر سماعت انسداد دہشت گردی عدالت کے جج راجہ جواد عباس نے کی تھی.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    کاسمیٹک مصنوعات کے نقصانات سے خبردار کرنے والی سعودی ایپلی کیشن متعارف
    آج ترکیہ کی نامور مصنفہ کالدہ ادیب خانم کا یوم وفات ہے
    قلعہ سیف اللہ کے قریب خوفناک ٹریفک حاثہ میں 7 افراد جاںبحق
    وزیر اعظم شہباز شریف وفد کے ساتھ جنیوا پہنچ گئے
    ایک کمرے میں دو دو کلاسز؛ کراچی میں سرکاری اسکول کی عمارت ٹھیکیدار نے کرائے پر دیدی
    عمران خان کے وکیل بابر اعوان عدالت کے روبرو پیش ہوئے تھے اور طبعی بنیادوں پر چیئرمین پی ٹی آئی کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کی تھی. عدالت نے عمران خان کی عدالتی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور کرتے ہوئے عبوری ضمانت میں 10 جنوری تک توسیع کردی تھی جبکہ کیس کی سماعت 10 جنوری تک ملتوی کر دی گئی تھی.

  • مونس الہی کا قریبی دوست ہماری تحویل میں نہیں، عدالت میں جواب جمع

    مونس الہی کا قریبی دوست ہماری تحویل میں نہیں، عدالت میں جواب جمع

    لاہور ہائی کورٹ: مونس الہی کے قریبی دوست کی مبینہ غیر قانونی حراست کا معاملہ فیڈرل انوسٹی گیشن ایجنسی نے 2 صفحات پر مشتمل رپورٹ عدالت میں جمع کروا دی۔

    ایف آئی اے کی جانب سے جمع کروائی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ احمد فاران خان کو ایف آئی اے نے گرفتار نہیں کیا، احمد فاران ایف آئی اے کی تحویل میں بھی نہیں ہے، احمد فاران کو ایف ائی اے نے 6 جنوری کو طلب کیا تھا، احمد فاران خان 6 جنوری کو 6:30 منٹ پر ایف ائی اے سے پیش ہونے کے بعد روانہ ہوئے،

    عدالت نے مونس الہی کے قریبی ساتھی کو آج عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے رکھا ہے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ، سلمان ظہیر کی درخواست پر سماعت کریں گے درخواست میں سیکرٹری دفاع، سیکرٹری داخلہ، ایف آئی اے اور آئی جی پنجاب کو فریق بنایا گیا ہے،درخواست گزار نے دائر درخواست میں کہا کہ تین جنوری کو ایف بی آر، بیرون ملک دوروں، سرمایہ کاری کا تمام ریکارڈ طلب کیا، ایف آئی اے سے تمام ریکارڈ پیش کرنے کیلئے چند دن کی مہلت طلب کی،احمد فاران خان کی بازیابی کیلئے کوششیں کیں، مقدمہ بھی درج کروایا گیا،تاحال احمد فاران کے متعلق کوٸی علم نہیں ایف آٸی اے نے کہاں رکھا ہے ،عدالت احمد فاران خان کو بازیاب کرکے پیش کرنے کا حکم دے

    واضح رہے کہ دو روز قبل وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الہیٰ کے بیٹے مونس الہیٰ نے الزام عائد کیا ہے کہ اسکے دوستوں کو اٹھایا گیا ہے ،مونس الہیٰ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کی ہے اور ویڈیو بھی جاری کی ہے، مونس الہیٰ ٹویٹ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ کل میرے ایک دوست کو 2 کالے رنگ کی ویگو میں کچھ لوگوں نے لاہورمیں اٹھا لیا ایف آئی اے والے قسمیں کھاتے ہیں ہم نے نہیں اٹھایا اب کچھ دن بعد اچانک ایف آئی اے کو پہنچا دیا جائے گا ور ان کو مجبور کیا جائے گا پرچہ دو، آپ لوگوں کو سمجھ نہیں آتی کہ ہم نے پی ڈی ایم کے ساتھ نہیں ملنا

    الیکشن کیلیے تیار،تحریک انصاف کا مستقبل تاریک،حافظ سعد رضوی کا مبشر لقمان کوتہلکہ خیز انٹرویو

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    عمران خان، تمہارے لئے میں اکیلا ہی کافی ہوں، مبشر لقمان

    عمران خان کو آرمی چیف سے کیا چاہئے؟ مبشر لقمان نے بھانڈا پھوڑ دیا

  • برازیل میں سابق صدر بولسونارو کے حامیوں نے نیشنل کانگریس کی عمارت پر حملہ کردیا

    برازیل میں سابق صدر بولسونارو کے حامیوں نے نیشنل کانگریس کی عمارت پر حملہ کردیا

    برازیل میں سابق صدر بولسونارو کے حامیوں نے نیشنل کانگریس کی عمارت پر حملہ کردیا

    برازیل میں سابق صدر بولسونارو کے حامیوں نے نیشنل کانگریس کی عمارت، صدارتی محل اور سپریم کورٹ حملہ کر دیا ہے۔ عالمی میڈیا کے مطابق دارالحکومت برازیلیا میں تین ہزار سے زائد مظاہرین نے صدارتی محل، نیشنل کانگریس اور سپریم کورٹ میں گھس کر توڑ پھوڑ کی ، مظاہرین کی جانب سے صدر ڈی سلوا سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ برازیل کے صدر نے دارلحکومت میں سیکورٹی فورسز کو مظاہرین کے خلاف آپریشن کا حکم دے دیا ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    کاسمیٹک مصنوعات کے نقصانات سے خبردار کرنے والی سعودی ایپلی کیشن متعارف
    آج ترکیہ کی نامور مصنفہ کالدہ ادیب خانم کا یوم وفات ہے
    قلعہ سیف اللہ کے قریب خوفناک ٹریفک حاثہ میں 7 افراد جاںبحق
    وزیر اعظم شہباز شریف وفد کے ساتھ جنیوا پہنچ گئے
    ایک کمرے میں دو دو کلاسز؛ کراچی میں سرکاری اسکول کی عمارت ٹھیکیدار نے کرائے پر دیدی
    امریکی وزیرخارجہ انٹونی بلنکن کی جانب سے برازیل میں کانگریس کی عمارت پر حملے کی مذمت کی گئی ہے۔ انٹونی بلنکن کا کہنا ہے کہ جمہوری اداروں پر حملے نا قابل قبول ہیں۔ برازیل میں سابق صدر بولسونارو کے حامی ابھی تک انتخابات میں شکست کو تسلیم کرنے سے انکار کر رہے ہیں ۔

    غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق سابق صدر بولسونارو کے سینکڑوں حامی بھی صدارتی محل اور سپریم کورٹ کے باہر جمع ہوئے تاہم فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوسکا کہ آیا وہ عمارتوں میں داخل ہونے میں کامیاب ہوئے یا نہیں۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں بولسونارو کے حامیوں کو کھڑکیوں کے شیشے توڑتے اور نیشنل کانگریس کی عمارت کی چھت پر چڑھتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

    سیکورٹی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا جب کہ کانگریس پر حملے کے بعد کانگریس کی عمارت اور آس پاس کے علاقے کو سیل کردیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ یہ حملہ برازیل کے صدر لوئیز اناسیو لولا کے یکم جنوری کو حلف اٹھانے کے ایک ہفتے بعد کیا گیا ہے۔دوسری جانب برازیل کے صدر لوئیز اناسیو لولا کا کہنا ہے کہ برازیلیا فسادات میں ملوث ہر فرد کو ڈھونڈ کر سزا دی جائے گی۔

    علاوہ ازیں امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلینکن نے برازیلین کانگریس پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ جمہوری اداروں پر حملے ناقابل قبول ہیں۔

  • پی آئی اے نے پانچ سالہ فنانشل پلان سپریم کورٹ میں جمع کروا دیا

    پی آئی اے نے پانچ سالہ فنانشل پلان سپریم کورٹ میں جمع کروا دیا

    پی آئی اے پائلٹس اور دیگر عملے کی کمی سے متعلق 5 سالہ فنانشل پلان پر مشتمل رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کروا دی گئی

    پی آئی اے نے آئی اے ٹی اے کی سفارشات پر مبنی پانچ سالہ فنانشل پلان بھی سپریم کورٹ میں جمع کروا دیا .رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2018 سے 22 تک پی آئی اے میں مختلف وجوہات کی بنا پر 5793 ملازمین نکال دیئے گئے،پی آئی اے کوآپریشن و سروسز، آئی ٹی اور فنانس شعبے میں ماہر افرادی قوت کی قلت کا سامنا ہے پی آئی اے نے حال ہی میں ترکش ایئرلائن کے ساتھ کوڈ شیئر کا معاہدہ کیا ہے، کوڈ شیئر معاہدے سے روا ں سال پی آئی اے کو 205 ارب کا ریونیو ملنے کا امکان ہے، 2018میں سپریم کورٹ کی نئی بھرتیوں پر پابندی سے ملازمین کی اوسط عمر 45.2 سال ہو گئی ملازمین کی اوسط عمر بڑھنے سے آپریشنل کارکردگی میں کمی ہوئی ہے، پی آئی اے کو ٹیکنالوجیکل اور کارپوریٹ علم رکھنے والے ملازمین کی ضرورت ہے،2026تک پی آئی اے کی سالانہ آمدن 1.6862 ارب ڈالر کی جائے گی،آئندہ پانچ سال میں پی آئی اے کے جہازوں کی تعداد بڑھا کر 49 کی جائے گی،حکومتی مدد کے بغیر پی آئی اے نے 2022 میں چار اے320 جہاز خریدے، برطانیہ اور یورپ کی ہفتہ وار پروازوں کا فیصلہ 7 مارچ کو ہونے والے آڈٹ کے بعد ہوگا2026تک ملکی سطح پر پی آئی اے کے مسافروں کی تعداد 46 لاکھ تک بڑھائی جائے گی، 2026تک سعودی عرب، یو اے ای، گلف، امریکا، برطانیہ، وسطی ایشیا ممالک تک توسیع دی جائے گی،2026تک انٹرنیشنل مسافروں کی تعداد ایک کروڑ 92 لاکھ تک بڑھائی جائے گی،

    .رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملکی اور غیر ملکی سطح پر ٹریفک بڑھنے سے فلائٹ آپریشن کیلئے نئے پائلٹس اور کیبن کریو کی ضرورت ہو گی، عدالت عظمیٰ سے 250 نئے ملازمین بھرتی کرنے کی اجازت دینے کی استدعا کی گئی انٹرنیشنل ایوی ایشن رولز کے مطابق پی آئی اے کو 486 پائلٹس اور فرسٹ آفیسرز کی ضرورت ہے، پی آئی اے کے پاس 364 پائلٹس اور فرسٹ آفیسرز موجود ہیں، عالمی معیار کے مطابق پی آئی اے کو سو سے زائد پائلٹس اور فرسٹ آفیسرز کی قلت کا سامنا ہے،پائلٹس کی کمی کی وجہ سے ریگولیٹرز کو ڈیوٹی کے اوقات کار میں اضافے کی درخواست کی گئی،جہازوں اور پائلٹس میں عدم تناسب کی وجہ سے فلائٹ آپریشن شدید متاثر ہو رہے ہیں،پائلٹس کی کمی کی وجہ سے صرف دسمبر میں 29 فلائٹس منسوخ کرنا پڑیں،فلائٹس منسوخ کرنے سے شدید مالی نقصان ہو رہا ہے،عالمی سطح پر بھاری تنخواہوں کی وجہ سے پی آئی اے کو مسابقت کا سامنا ہے،پی آئی اے میں 12 پائلٹس کی جلد ریٹائرمنٹ اور این او سی کی درخواستیں زیر التوا ہیں،رواں سال 13 پائلٹس کی ریٹائرمنٹ سے قلت مزید بڑھ جائے گی،بھرتیوں پر پابندی ہٹنے کے باوجود پائلٹس کی ٹریننگ پر سال تک کا عرصہ لگے گا، رواں سال پی آئی اے کو کم از کم 80 نئے پائلٹس کی اشد ضرورت ہے،سپریم کورٹ کی جانب سے پابندی کے بعد 109 پائلٹس پی آئی اے چھوڑ چکے ہیں،پی آئی اے میں رواں سال کم از کم 110 کیبن کریو کی ضرورت ہے، پی آئی اے میں رواں سال فنانس اور آئی ٹی شعبے میں 45 ملازمین کی ارجنٹ ضرورت ہے پی آئی اے کو رواں سال منیجمنٹ لیول پر 15 پروفیشنل کی بھرتیوں کی ضرورت ہے،250ملا زمین بھرتی کرنے سے پی آئی اے پر 9 کروڑ 25 لاکھ 50 ہزار روپے کا مالی بوجھ پڑے گا،

    الیکشن کیلیے تیار،تحریک انصاف کا مستقبل تاریک،حافظ سعد رضوی کا مبشر لقمان کوتہلکہ خیز انٹرویو

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

     عمران خان نے الیکشن کے لئے حکومت کے سامنے مزاکرات کی جھولی پھیلائی ہے

  • کاسمیٹک مصنوعات کے نقصانات سے خبردار کرنے والی سعودی ایپلی کیشن متعارف

    کاسمیٹک مصنوعات کے نقصانات سے خبردار کرنے والی سعودی ایپلی کیشن متعارف

    کاسمیٹک مصنوعات کے نقصانات سے خبردار کرنے والی سعودی ایپلی کیشن متعارف

    اتھارٹی نے کچھ کاسمیٹکس کے مضر اثرات سے بچنے کے لیے متعدد طریقہ کار پر عمل کرنے کی ضرورت کا مشورہ دیا ہے. سعودی عرب کی فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی نے کہا ہے کہ کاسمیٹک مصنوعات کے مضر اثرات کی اطلاع دینا صارفین کو انفیکشن سے بچانے میں معاون ہے۔ اس سے مستقبل میں ان مضر اثرات کے دوبارہ ہونے کا امکان کم ہو جاتا ہے۔

    سعودی فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر شائع ہونے والی تعلیمی معلومات میں نشاندہی کی ہے کہ ضمنی اثرات کا مطلب کسی ناپسندیدہ اثر کا ہونا ہے جو پروڈکٹ استعمال کرتے وقت کسی عنصر یا بہت سے عوامل کی وجہ سے ہو سکتا ہے۔ ان مضر اثرات کی علامات میں جلد کا لال ہونا، بالوں کا گرنا، خارش ہونا، سانس بند ہونا اور جلن ہونا شامل ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    آج ترکیہ کی نامور مصنفہ کالدہ ادیب خانم کا یوم وفات ہے
    قلعہ سیف اللہ کے قریب خوفناک ٹریفک حاثہ میں 7 افراد جاںبحق
    وزیر اعظم شہباز شریف وفد کے ساتھ جنیوا پہنچ گئے
    ایک کمرے میں دو دو کلاسز؛ کراچی میں سرکاری اسکول کی عمارت ٹھیکیدار نے کرائے پر دیدی
    اتھارٹی نے ضمنی اثرات سے بچنے کے لیے متعدد طریقوں پر عمل کرنے کی ضرورت کا مشورہ دیا اور کہا کہ مصنوعات کو مینوفیکچرر کی ہدایات کے مطابق مناسب جگہ پر ذخیرہ کیا جائے، ان پروڈکٹس کو کو ایک دوسرے کے ساتھ نہ ملایا جائے، ان میں دیگر مصنوعات شامل نہ کی جائیں، ان کا استعمال دی گئی ہدایت کے مطابق کیا جائے اور دیگر احتیاطی تدابیر پر عمل کیا جائے۔

  •  قلعہ سیف اللہ کے قریب خوفناک ٹریفک حادثے میں 7 افراد جاںبحق

     قلعہ سیف اللہ کے قریب خوفناک ٹریفک حادثے میں 7 افراد جاںبحق

     قلعہ سیف اللہ کے قریب خوفناک ٹریفک حادثے میں 7 افراد جاںبحق

     قلعہ سیف اللہ کے قریب خوفناک ٹریفک حاثہ7 افراد کی جان لے گیا۔ بلوچستان کے علاقے قلعہ سیف اللہ کے قریب بس حادثے میں سات افراد جاں بحق اور دس زخمی ہوگئے۔ زخمیوں کو سول اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ حادثے کی شکار بس کوئٹہ سے پشاور جارہی تھی ۔ ڈپٹی کمشنر قلعہ سیف اللہ کے مطابق حادثہ قلعہ سیف اللہ اور مسلم باغ کے درمیان نیشنل ہائی وے پر توروسکی کے مقام پر پیش آیا۔

    تیز رفتار منی ٹرک مخالف سمت سے آنے والی مسافر بس سے ٹکرا گیا ۔زخمیوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں خیال رہے کہ اس سے قبل بھی بھی بلوچستان کے ضلع قلعہ سیف اللہ میں ٹریفک حادثے کے دوران زخمی ہونے والا 13 سالہ لڑکا بھی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کرگیا تھا. بلوچستان کے ضلع قلعہ سیف اللہ میں گزشتہ سال مسافر وین موڑ کاٹتے ہوئے اختر زئی کے علاقے میں حادثے کا شکار ہوئی تھی۔ اندوہناک حادثے میں مسافر وین میں سوار 22 افراد موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے تھے، جب کہ حادثے میں 13 سالہ لڑکا شدید زخمی ہوا تھا، جسے فوری طبی امداد کیلئے کوئٹہ منتقل کیا گیا تھا، تاہم لڑکا زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے اسپتال میں دوران علاج چل بسا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    آج ترکیہ کی نامور مصنفہ کالدہ ادیب خانم کا یوم وفات ہے
    قلعہ سیف اللہ کے قریب خوفناک ٹریفک حاثہ میں 7 افراد جاںبحق
    وزیر اعظم شہباز شریف وفد کے ساتھ جنیوا پہنچ گئے
    ایک کمرے میں دو دو کلاسز؛ کراچی میں سرکاری اسکول کی عمارت ٹھیکیدار نے کرائے پر دیدی

    حادثہ اتنا شدید تھا کہ مسافر وین مکمل طور پر تباہ ہوگئی تھی۔ وین موڑ کاٹتے ہوئے پہاڑؑی سے نیچے پتھروں میں گری تھی، جس سے جانی نقصان زیادہ ہوا۔ مسافر وین میں 23 افراد سوار تھے، جس میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔ لاشوں کو ضروری کارروائی کیلئے ڈسٹرکٹ اسپتال قلعہ سیف اللہ منتقل کیا گیا تھا، جو جائے حادثہ سے 40 سے 45 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ ڈپٹی کمشنر قلعہ سیف اللہ حافظ قاسم نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا تھا کہ راستہ دشوار ہونے کے باعث لاشیں اٹھانے میں مشکل پیش آرہی ہے، جس میں کئی گھنٹے لگ سکتے ہیں۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہی تمام اسپتالوں میں ایمر جنسی نافذ کردی گئی تھی، جب کہ امدادی کاموں میں مدد کیلئے لیویز اہلکار بھی پہنچ گئے تھے۔

  • آج ترکیہ کی نامور مصنفہ کالدہ ادیب خانم کا یوم وفات ہے

    آج ترکیہ کی نامور مصنفہ کالدہ ادیب خانم کا یوم وفات ہے

    آج ترکیہ کی نامور مصنفہ کالدہ ادیب خانم یوم وفات ہے

    آغانیاز مگسی
    ترکی کی تاریخ میں جس طرح مصطفٰی کمال پاشا، انور پاشا اور طلعت پاشا کے نام نمایاں ہیں۔ اسی طرح خواتین میں خالدہ ادیب خانم المعروف خالدہ ادیب آدیوار کا نام بھی ناقابل فراموش ہے۔ خالدہ ادیب خانم 1884ء میں پیدا ہوئیں۔ آپ سلطان عبدالحمید کے وزیر خزانہ عثمان ادیب پاشا کی دختر تھیں۔ 1889ء میں آپ نے تعلیم کا آغاز کیا اور ابتدائی تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد 1910ء میں بی اے کا امتحان نہایت اعلیٰ نمبروں کے ساتھ پاس کیا۔ دورانِ تعلیم آپ کی شادی آپ کے پروفیسر صحافی احمد صالح سے ہوگئی۔ ان کے شوہر نے چند سال بعد دوسری شادی کر لی۔ خالدہ خانم نے اس بات کو نا پسند کرتے ہوئے خلع لے کر شاہی فوج کے ڈاکٹر خالد بے سے شادی کر لی لیکن کچھ عرصہ بعد ڈاکٹر خالد بے کا انتقال ہو گیا۔

    خالدہ خانم نے لکھنے لکھانے کا سلسلہ کم عمری سے ہی شروع کر دیا تھا۔ محض سولہ سال کی عمر میں آپ نے ”ترکی پردے‘‘ پر ایک نہایت عمدہ کتاب لکھی اور بعد میں افسانہ نگاری شروع کر دی۔ ان کے اسلوبِ بیان میں ایسی ندرت اور تازگی تھی کہ انہوں نے بہت جلد ترکی کر کے افسانہ نگاروں کی صف اول میں جگہ حاصل کر لی۔ آپ کے افسانوی مجموعوں کی نہ صرف ترکی بلکہ یورپ میں بھی خوب پذیرائی ہوئی اور روسی، فرانسیسی، جرمن، انگریزی اور عربی زبان میں ان کے تراجم ہوئے۔ خالدہ خانم نے جب شاعری کی جانب توجہ کی تو قلیل مدت میں اس شعبہ میں بھی مہارت اور شہرت حاصل کر لی۔ 1935ء میں خالدہ ادیب خانم نے ڈاکٹر ایم اے انصاری کی دعوت پر ہندوستان کا دورہ کیا اور ”درونِ ہند‘‘ کے عنوان سے اپنی یادداشتیں لکھیں۔

    خالدہ خانم اگرچہ ادبی مشاغل میں مصروف تھیں لیکن ان کے اندر ایک مصلح بھی چھپا ہوا تھا۔ وہ ترکی کی خواتین میں جدید خیالات کا فروغ چاہتی تھیں۔ اس مقصد کے یئے انہوں نے ملک میں چھوٹی چھوٹی نسوانی انجمنیں قائم کیں۔ وزارتِ تعلیم پر زور دیا کہ ترک عورتوں کو جدید تعلیم حاصل کرنے کی سہولیات بہم پہنچائے۔ ان سرگرمیوں کی بدولت خالدہ ادیب خانم ترکی میں باوقار خاتون رہنما تسلیم کی گئیں اور ترکوں کا ہر حلقہ ان کو قدر کی نگاہ سے دیکھنے لگا۔

    ترکی میں سلطان عبدالحمید خان کی حکومت تبدیل ہوئی تو نوجوانانِ ترکی اپنے ملک کو ترقی دینے کی کوششوں میں مصروف ہوگئے۔ خالدہ خانم کی کوششوں کی بدولت مدبرین ترکی مطالباتِ نسواں کے حامی ہوگئے۔ اس مقصد کے لیے خالدہ خانم نے ترکی کے اخبارات میں مضامین لکھے جن کا خاطر خواہ اثر سامنے آیا۔ ترکی کی دستور پسند جماعت کی حمایت میں انہوں نے یورپ اور امریکہ کے اخبارات میں مضامین کا سلسلہ شروع کیا۔ امریکہ کے اخبارات نے ان مضامین کو نہایت فخر کے ساتھ شائع کیا اور کہا کہ یہ ہمارے ہی کالج کی ایک معلمہ ہیں جو آج اپنے ملک میں رہنما کی حیثیت اختیار کر گئی ہیں۔

    انور پاشا اور طلعت پاشا نے خالدہ خانم کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے ان کو سیاسی آئین وضوابط کی تشکیل میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا۔ جلد ہی خالدہ خانم کو شام کے صوبے میں تعلیمات کی وزیر مقرر کیا گیا۔ آپ نے ایک جامع لائحہ عمل مرتب کیا اور ملک میں ابتدائی مدارس اور ہائی سکولوں کاجال بچھا دیا۔ علاوہ ازیں یتیم خانے قائم کئے، مذہبی تبلیغ کا بندوبست کیا، ارمن اور کرد بچوں کی تعلیم پر خاص توجہ دی۔ شام کے گورنر جنرل جمال پاشا ان سے سیاسی معاملات پر مشورے بھی کرتے تھے۔

    آپ شام میں ہی تھیں کہ پہلی جنگ عظیم بھڑک اٹھی۔ آپ شام سے ترکی کے دارالحکومت استنبول آگئیں اور وزارتِ دفاع کی امداد میں مصروف ہوگئیں۔ آپ نے امریکہ کے اخبارات میں مضامین لکھے اور وہ مجبوریاں بیان کیں جن کی بناء پر ترکی کو جنگ میں شامل ہونا پڑا۔ ”نیویارک ٹائمز‘‘ نے ان کے مضامین کو نہایت قدرووقعت کے ساتھ شائع کیا۔ اسی دوران ترکوں کی وحدت یا پان توران ازم پر ان کی کتاب بہت مقبول ہوئی۔ اس کتاب میں ترکوں کی شجاعت کے جذبات کو اس طرح ابھارا گیا تھا کہ حکومت نے فوج میں اس کتاب کے ہزاوروں نسخے تقسیم کرائے۔ جنگ کے دور میں خالدہ خانم ترکی کی سراوٴں اور مساجد میں جاتیں اور ان کی امداد واعانت کے علاوہ لوگوں کی حوصلہ افزائی بھی کرتیں۔

    1918ء میں خالدہ خانم نے غیور اور قوم پرست لیڈر عدنان بے شادی کر لی۔ وہ انجمن اتحاد ترقی کے ممتاز ممبر اور محترم رہنما خیال کیے جاتے تھے۔ عدنان بے بعد میں انقرہ میں لارڈ چیف جسٹس کے عہدے پر بھی کام کرتے رہے اور پھر دولت انقرہ کی طرف سے انقرہ کے گورنر جنرل بھی مقرر کیے گئے۔ پہلی جنگ عظیم کا خاتمہ ہوا تو ترکوں پر مظالم کے پہاڑ توڑ دیئے گئے۔ قسطنطنیہ پر اتحادی افواج کا قبضہ ہوگیا۔ قوم پرست خاص طور پر ان کا نشانہ بنے۔ اس دوران آزاد ترکی کے لیے مصطفٰی کمال پاشا نے جدوجہد جاری رکھی تو خالدہ خانم نے ان کے حق میں قسطنطنیہ میں لاکھوں کے مجمعوں میں آ تش بار تقاریر کیں، یہاں تک کہ کٹھ پتلی وزیراعظم کو آپ کی گرفتاری کا حکم دینا پڑا۔ آپ اپنے شوہر کے ساتھ نہایت تکالیف سے گزریں اور خفیہ طور پر مصطفٰی کمال پاشا سے جا ملیں۔ مصطفٰی کمال پاشا نے آپ کی قدر کی اور آپ کو ملک کی وزیرِ تعلیمات مقرر کیا۔ آپ نے ایک بار پھر اصلاحی اور تعلیمی کاموں کا سلسلہ شروع کیا۔

    جولائی 1921ء تک آپ کی سیاسی و تعلیمی خدمات کا سلسلہ جاری رہا۔ انہی دِنوں اطلاعات ملیں کہ یونانی لشکر انقرہ پر حملہ کرنے والا ہے تو پورے اناطولیہ میں مصطفٰی کمال پاشا کی قیادت میں دفاعِ وطن کا جذبہ پورے جوش و خروش کے ساتھ بیدار ہو گیا۔ اس موقع پر خالدہ خانم نے مادرِ وطن کے دفاع کے لیے ترک خواتین کے میدان میں لانے کا فیصلہ کیا اور اس مقصد کے لیے انہوں نے ایک جنگی سکیم بھی تیار کی جس کا مقصد ترکی خواتین کو باقاعدہ لشکر میں بھرتی کیا جانا تھا. خواتین کا لشکر مردوں کے لشکر کے پیچھے رسد، بار برداری اور زخمیوں کی طبی امداد کے فرائض انجام دینے کے لیے تیار ہواتھا۔ خالدہ خانم نے اس مقصد کے لیے پورے ملک کا طوفانی دورہ کیا۔ ہزاروں عورتوں کو فوج میں بھرتی کیا۔ وزارتِ جنگ نے ان کی فوجی تربیت کا انتظام کیا۔ جب ہزاروں خواتین کو فوجی تربیت دی جا چکی تو ان کے باقاعدہ فوجی دستے بنا دیئے گئے۔ یہ دستے اناطولیہ میں پُلوں، تارگھروں اور ریلوے سٹیشنوں کی حفاظت کی خدمات انجام دینے لگے۔

    خواتین کے فوجی دستوں نے یونانیوں پر نہایت کامیاب شب خون مارے۔ جب ستمبر 1921ء میں یونانیوں کا سب سے بڑا فوجی حملہ ہوا تو خالدہ خانم یہ نفس نفس میدانِ جنگ میں موجود تھیں اور نسوانی دستہ بھی ان کے ہمراہ تھا۔ اسی طرح ایک مشہور لڑائی میں جہاں فیلڈ مارشل عصمت پاشا فوج کی کمان کر رہے تھے، خالدہ خانم مجاہدین کے عقب میں اپنے نسوانی لشکر کے ساتھ موجود تھیں۔ کہا جاتا ہے کہ اگر غازی عصمت پاشا، نسوانی لشکر کو پیش قدمی سے روک نہ دیتے تو خالدہ خانم یقیناً اس جنگ میں شہید ہو جاتیں کیوں کہ ان کا جوشِ جہاد بہت زیادہ بڑھا ہوا تھا۔

    یورپ اور امریکہ کے اخبارات میں ترک خواتین کی عسکریت اور خالدہ خانم کی قیادت پر حیرانی کا اظہار کیا گیا۔ وہ پہلے ہی ترکی میں ایک خاتون کو وزیر تعلیم کے تعینات کیئے جانے پر حیران تھے۔ 19 اکتوبر کو رافت پاشا نے اعلان کیا کہ کہ قسطنطنیہ پر ترکانِ احرار کا قبضہ ہو چکا ہے اور اتحادی رخصت ہو چکے ہیں۔ آخر جنوری 1922ء میں ڈاکٹر عدنان بے کو حکم دیا گیا کہ وہ جا کر رافت پاشا سے گورنری کا چارج لے لیں۔ چنانچہ خالدہ خانم اپنے جلیل القدر شوہر کے ساتھ اناطولیہ سے قسطنطنیہ پہنچ گئیں۔

    خالدہ خانم نے تمام عمر ترکی کی خدمت میں گزاری۔ وہ ترکی میں جمہوری نظریات کے فروغ کے لیے کسی بھی قسم کی قربانی دینے کے لیے تیار تھیں۔ وہ امریکن گریجویٹ ہونے کی بناء پر مغربی طرزِ زندگی کی عادی تھیں لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ مغربی حکومتیں ترکی کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کر رہیں تو انہوں نے ترکی لباس اور رہن سہن کو اپنا لیا۔ خاص طور پر میدانِ جنگ میں وہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی سنت میں سیاہ عمامہ باندھتیں تو فوجیوں میں جوش وخروش کی لہر دوڑ جاتی۔ آپ نے ستر سال سے زیادہ عمر پائی اور 9 جنوری 1964ء کو آپ کا انتقال ہوا۔

    نام:کالدہ ادیب خانم
    سن ولادت:1884ء
    تاریخ وفات:09 جنوری 1964ء
    تصنیفات
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)قمیص من نار-1923
    ۔ (2)اندرون ہند-1937
    ۔ (3)ترکی میں مشرق و مغرب کی کشمکش
    ۔ 1938
    ۔ (4)اندرون حیدرآباد-1939
    ۔ (5)پیراہن آتشین
    ۔ (6)دختر سمرنا
    ۔ (7)ربیعہ