Baaghi TV

Tag: تازہ ترین

  • روسی وفد کا جلد دورۂ پاکستان کا امکان:تیل کی خریداری پربات ہوگی

    روسی وفد کا جلد دورۂ پاکستان کا امکان:تیل کی خریداری پربات ہوگی

    اسلام آباد: روس سے تیل کی خریداری کے معاملے پر ماسکو سے وفد جنوری میں پاکستان پہنچے گا۔حکومتی ذرائع کے مطابق پاکستان اور روس کے درمیان خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات خریداری سے متعلق ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس ہوا، جس میں وزیر مملکت پٹرولیم مصدق ملک اور سیکر ٹری پٹرولیم شریک ہوئے۔

    ذرائع کے مطابق روسی وفد میں آن لائن روسی وزارت توانائی کے حکام نے شرکت کی۔دوران اجلاس روسی حکام نے انیس اور بیس جنوری کو تیل کی خریداری سے متعلق مزید بات چیت کے لیے پاکستان آمد کا عندیہ دیا۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں دونوں ملکوں کے درمیان آئندہ ہونے والے انٹر گورنمنٹل کمیشن کے اجلاس کے ایجنڈے پر بھی بات ہوئی۔

    2011 کے بعد پہلی مرتبہ شام، ترکی اور روس کے وزرائے دفاع کی پہلی ملاقات،مذاکرات

    یاد رہےکہ نومبر میں پاکستانی وفد نے روس کا دورہ کیا تھا اس دورے کے دوران روس نے پاکستان کو روسی خام تیل پر 30 سے 40 فیصد تک رعایت دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ فی الحال یہ رعایت نہیں دے سکتے۔

    پاکستانی وفد جو روس گیا تھا اس میں وزیر مملکت برائے پیٹرولیم مصدق ملک، جوائنٹ سیکریٹری اور ماسکو میں پاکستانی سفارت خانے کے حکام شامل تھے۔

    پاکستانی وفد کی جانب سے ماسکو میں مذاکرات کے دوران رعایت کی درخواست کی گئی تاہم ماسکو نے پاکستان کو خام تیل پر 30 سے 40 فیصد تک رعایت دینے سے انکار کردیا تھا۔

    ماسکو کی جانب سے وجوہات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ مارکیٹ میں دوسرے خریداروں سے رسیدوں کے بیک لاگ کی نگرانی کے لیے والیوم پہلے ہی بک ہو چکے تھے۔

    یہ بات قابل ذکر ہے کہ روسی تیل عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں سے سستا ہے اور اسے پاکستانی ریفائنریوں میں چھانٹا جا سکتا ہے اور ایک نجی ریفائنری اس سے قبل تیار شدہ مصنوعات کی تیاری کے لیے روسی خام تیل استعمال کر چکی ہے۔

    روسی فریق نے پاکستان سے یہ بھی درخواست کی کہ وہ پہلے پاکستان اسٹریم گیس پائپ لائن (PSGP) منصوبے کے لیے اپنے وعدے کا احترام کرے۔ جی ٹی جی انتظامات کے تحت پراجیکٹ ماڈل کو پہلے ہی حتمی شکل دی جا چکی ہے، شیئر ہولڈنگ معاہدے کی صرف چند شقیں زیر التوا ہیں۔

    جب کہ پاکستان روس سے ”کروڈ بیل آؤٹ” کے لیے بات کر رہا ہے، یہ بات کوئی راز نہیں ہے کہ جنوبی ایشیائی ملک کے پاس فی الحال ایندھن کی قلت پر قابو پانے کے لیے کوئی طویل مدتی منصوبہ نہیں ہے۔

    روسی رکن پارلیمنٹ اور صدر پیوٹن کے نقاد کی بھارت میں پراسرار ہلاکت
    خواتین پرپابندیاں،اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا طالبان حکومت سے پالیسیاں بدلنے کا مطالبہ

  • کرم ایجنسی: دہشتگردوں کیساتھ فائرنگ کے تبادلے میں پاک فوج کے 3 جوان شہید

    کرم ایجنسی: دہشتگردوں کیساتھ فائرنگ کے تبادلے میں پاک فوج کے 3 جوان شہید

    کرم ایجنسی:پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کا کہنا ہے کہ ضلع کرم کے علاقے اراولی میں دہشت گردوں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق سکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کا بہادری سے مقابلہ کیا، فائرنگ کے تبادلے میں 2 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق دہشت گردوں سے فائرنگ کے تبادلے میں پاک فوج کے 3 جوان شہید ہوگئے۔

    شدید فائرنگ کے تبادلے میں 2 دہشت گرد مارے گئے۔ ہلاک دہشت گردوں سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا ہے۔مارے گئے دہشت گرد سیکورٹی فورسز کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیوں میں سرگرم رہے۔

    دہشت گردوں کی فائرنگ کے تبادلے میں صوبیدار شجاع محمد (عمر 43 سال سکنہ خیرپور)، نائیک محمد رمضان (عمر 32 سال سکنہ خضدار) اور سپاہی عبدالرحمان (عمر 30 سال سکنہ سکھر) نے بہادری سے مقابلہ کیا اور جام شہادت نوش کیا

    آئی ایس پی آر کی طرف سے بتایا گیاہے کہ علاقے میں پائے جانے والے دہشت گردوں کو ختم کرنے کے لیے علاقے کی صفائی کی جا رہی ہے۔اس بات کے عزم کا اظہار بھی کیا گیا کہ پاک فوج دہشت گردی کی لعنت کو ختم کرنے کے لیے پرعزم ہے اور ہمارے بہادر جوانوں کی ایسی قربانیاں ہمارے عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔

  • کراچی ٹیسٹ کا چوتھا دن :شاہینوں نے 2 وکٹوں کے نقصان پر 77 رنز بنا لئے

    کراچی ٹیسٹ کا چوتھا دن :شاہینوں نے 2 وکٹوں کے نقصان پر 77 رنز بنا لئے

    کراچی:کراچی ٹیسٹ کے چوتھے روز نیوزی لینڈ نے پاکستان کے خلاف 612 رنز پر اننگز ڈکلیئر کردی تھی دوسری اننگز میں پاکستان نے دو وکٹوں کے نقصان پر 77 رنز بنا لئے۔

    نیوزی لینڈ نے پہلی اننگز میں 174 رنز کی برتری حاصل کی ،کین ولیمسن کی جانب سے پاکستان کے خلاف ڈبل سنچری سکور کی گئی اور ناٹ آؤٹ رہے، کین کے کریئر کی یہ پانچویں ڈبل سنچری ہے۔

    نیوزی لینڈ کی اننگز میں ٹام لیتھم 113، ڈیون کونوے 92، اش سودی 65، ٹام بلینڈل 47 اور ڈیرل مچل نے 42 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔قومی ٹیم کے ابرار احمد نے 5 وکٹیں حاصل کیں جبکہ نعمان علی نے 3 اور محمد وسیم نے ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔دوسری اننگز میں پاکستان کا مایوس کن آغاز، 47 اور 71 رنز پر وکٹیں گر گئیں ، عبداللہ شفیق 17 اور شان مسعود 10 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئے۔

    تیسرا روز
    تیسرے روز کیوی اوپنرز ڈیون کونوے اور ٹام لیتھم نے پاکستان میں اوپننگ شراکت کا 57 سالہ کیوی ریکارڈ توڑتے ہوئے 183 رنز کی پارٹنرشپ قائم کی۔ ٹام لیتھم 113، کونوے 92، ہینری نکولس 22، ڈیرل مچل 42، ٹام بلنڈل 47، مچل بریسویل 5 بناکر آؤٹ ہوئے تھے۔

    دوسرا روز
    مہمان ٹیم کے اوپنرز بلے بازوں نے شاندار آغاز کیا، ٹام لیتھم 78 اور ڈیون کونوے 82 رنز بنا کر وکٹ پر موجود ہیں، قومی ٹیم کی جانب سے فاسٹ اور اسپن بولرز نے وکٹ لینے کی کوشش کی تاہم کامیابی نہیں مل سکی۔

    قبل ازیں پاکستان نے 317 رنز پانچ وکٹوں کے نقصان پر بقیہ اننگز کا آغاز کیا لیکن کپتان بابراعظم دوسرے روز پہلے اوور کی چوتھی گیند پر ٹم ساوتھی کے ہاتھوں آؤٹ ہوگئے۔ انہوں نے 161 رنز کی اننگز کھیلی۔

    بابراعظم کے آؤٹ ہونے کے بعد نعمان علی نے آغا سلمان کے ساتھ مل کر 54 رنز کی شراکت قائم کی۔ تاہم، نعمان علی کی وکٹ گرنے کے بعد کوئی کھلاڑی وکٹ پر ساتھ نہ دے سکا۔آغا سلمان نے اپنے کیریئر کی پہلی سنچری اسکور کی اور 103 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔

    کیوی کپتان ٹم ساوتھی نے تین کھلاڑیوں کا شکار کیا جبکہ اش سودھی، اعجاز پٹیل اور مائیکل بریسویل نے دو دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ فاسٹ بولر نیل واگنر ایک ہی وکٹ لے سکے۔

    پہلا روز
    قومی ٹیم نے ٹیسٹ کے پہلے روز ٹاس جیت کر بیٹنگ کا آغاز کیا تو اس کی تین وکٹیں 48 کے اسکور پر گرگئیں جب کہ چوتھی وکٹ 110 رنز پر گری جس کے بعد کپتان بابراعظم اور سرفراز احمد نے ٹیم کو سہارا دیا۔

    دونوں کے درمیان پانچویں وکٹ کی شراکت میں 196 رنز بنائے گئے، کھیل کے آخری اوورز میں سرفراز احمد 86 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئے، اس سے قبل، اوپنر بلے باز عبداللہ شفیق 7 رنز، شان مسعود 3 رنز، امام الحق 24 رنز اور سعود شکیل 22 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے تھے۔

    قومی ٹیم میں وکٹ کیپر بلے باز سرفراز احمد اور فاسٹ بولر میر حمزہ کی ٹیم میں واپسی ہوئی ہے جبکہ بلے باز امام الحق کو بھی ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔

    سرفراز احمد نے تقریباً 4 سال قبل 2019 میں بحیثیت کپتان جنوبی افریقا کے خلاف جوہانسبرگ میں ٹیسٹ میچ کھیلا تھا۔ سرفراز احمد ہوم گراؤنڈ پر اپنا میچ کھیل رہے ہیں۔ فاسٹ بولر میر حمزہ نے آخری مرتبہ ٹیسٹ میچ 2018 میں کھیلا تھا۔

    قومی سکواڈ
    قومی سکواڈ میں امام الحق، عبداللہ شفیق، شان مسعود، کپتان بابراعظم، سعود شکیل، وکٹ کیپر سرفراز احمد، آغا سلمان، نعمان علی، محمد وسیم، ابرار احمد اور میر حمزہ شامل ہیں۔

    نیوزی لینڈ ٹیم
    ٹام لیتھم، ڈیون کونوے، کین ولیمسن، ہینری نکولس، ڈیرل مچل، ٹام بلنڈل، مائیکل بریسویل، کپتان ٹم ساوتھی، اش سودھی، نیل واگنر اور اعجاز پٹیل کیویز ٹیم کا حصہ ہیں۔

  • راجہ پرویز اشرف جمہوریت کے پاسبان:-تجزیہ:شہزاد قریشی

    راجہ پرویز اشرف جمہوریت کے پاسبان:-تجزیہ:شہزاد قریشی

    استعفوں سے متعلق آئین ۔ قانون کے دائرے میں رہ کر جو گفتگو آج راجہ پرویزاشرف اسپیکر قومی اسمبلی نے کی وہ ثابت کرتی ہے کہ استعفوں کو لے کر وہ کوئی غیر آئینی غیر قانونی اقدام کرنے کو ہرگز تیار نہیں آئین اور قانون میں جو لکھا ہے اُس پر من وعن عمل ہو گا۔ آئین اور ضابطوں کے حوالے سے جمہوریت کے پاسبان کے طور پر راجہ پرویز اشرف کا موقف ہمیشہ یاد رکھاجائے گا ۔

    آئین اور قانون کی بات کرکے انہوں نے جعل سازی اور دوغلے پن کوجہاں بے نقاب کیا ہے وہاں انہوں نے ثابت کیا ہے کہ وہ پی ڈیم ایم کے سپیکر نہیں وہ پارلیمنٹ ہائوس کے اسپیکر ہیں یا وہ جیالے نہیں ہیں ۔ انہوں نے اپنے آپ کو آئین کے تابع رکھ کر جو گفتگو کی کاش سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر بھی آئین کے مطابق گفتگو کرتے ۔ یوں تو پارلیمنٹ ہائوس میں بیٹھے ارکان اسمبلی مسخرے پن کی حدوں کو کراس کر گئے لیکن بہت عرصے بعد وطن عزیز میں اور سیاسی گلیاروں میں آئین ۔ قانون ۔ پارلیمنٹ کی بالادستی کی بات کرنے والے راجہ پرویز اشرف کی ایک عمدہ سیاسی گفتگو جو آئین اور ضابطوں کے حوالے سے انہوں نے کی لطف اندوز ہوئے ہیں ۔

    راجہ پرویز اشرف کی سیاسی تربیت محترمہ بے نظیر بھٹو شہید نے کی ثابت ہوا انہوں نے محترمہ بے نظیر بھٹو شہید سے بہت کچھ سیکھا ہے جس کا ثبوت انہوں نے استعفوں سے متعلق گفتگوکرکے دیا ۔ ان کا یہ طرزعمل جمہوریت کو مستحکم کرنے کے لئے اہم ثابت ہوگا۔ انہوں نے آئین اور ضابطوں کی بات کرکے محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کے تربیت یافتہ کارکن اوراپنے قائدین کے فلسفے کو جلا بخشی۔بحیثیت اسپیکر قومی اسمبلی قوم کو اُمید دلائی کہ پاکستان کا مستقبل جمہوریت میں ہے اورجمہوریت سے ہی ملک کا وقارجمہوری دنیا میں ہے۔

    ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاسی جماعتوں میں چند نام نہاد راہنمائوں کو اپنی اپنی سیاسی تربیت اور جمہوری روایات سے آشنائی اور آگاہی حاصل پر توجہ دینی چاہیئے اور جمہوری رویوں اور جمہوری اقدار کو فروغ دینا چاہیئے ۔ میرا استعفی ۔ میرے بندوں کا استعفیٰ،میں نہ مانوں ۔ میں نہیں تو کون والے رویے اور دھمکیاں کسی بھی سیاسی جمہوری معاشرے میں قابل قبول نہیں ۔ اس سے جمہوریت اور ملک کو نقصان پہنچتا ہے۔

  • فرانس بھی معاشی بدحالی کا شکار: اینٹی بائیوٹک کی قلت،پیراسٹامول ناپید

    فرانس بھی معاشی بدحالی کا شکار: اینٹی بائیوٹک کی قلت،پیراسٹامول ناپید

    پیرس:فرانس میں اینٹی بائیوٹک سمیت متعدد دواؤں کی قلت پیدا ہوگئی ہے جس کی وجہ سے شہریوں کو پریشانی کا سامنا ہے۔اطلاعات کے مطابق میڈیا رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ سال کے آخری ایام میں فرانس بھر کے بیشتر دواخانوں میں ایموکسی سیلین کی مختلف دواؤں اور پیراسٹامول کا اسٹاک ختم ہوگیا ہے۔

    اہم اور ضروری اینٹی بائیوٹک ادویات کی قلت نے بالخصوص سردیوں کے موسم میں جن کا استعمال عام طور پر سب سے زیادہ ہوتا ہے شہریوں کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔

    لاہور،سہاگ رات ثابت ہوئی دولہا دلہن کیلئے آخری رات، واش روم سے لاشیں برآمد

    ایٹی بائیوٹک کی طلب کے تخمینے میں دواساز کمپنیوں کی غلطی اور چین میں کورونا کے دوبارہ زور پکڑنے کے باعث پیدا ہونے والی خام مال کی قلت کو فرانس اور دیگر یورپی ملکوں میں انٹی بائیوٹک دواؤں کے فقدان کی اہم وجہ قرار دیا جارہا ہے۔

    لاہور: گنگارام اسپتال کے واش روم سے لاش برآمد

    نزلہ، زکام اور سردی میں پھیلنے والی دوسری وائرل بیماریوں میں اضافے کے پیش نظر اگر کم سے کم مدت میں دواؤں کی کمی پر قابو نہ پایا گیا تو فرانسیسی نیشنل ڈرگ اتھارتی کو انتہائی خطرناک صورتحال کا سامنا کرنا پڑے گا۔فرانسیسی نیشنل ڈرگ اتھارٹی کو گزشتہ سال کے دوران اینٹی بائیوٹک ادویات اور پیراسٹامول کی کمی کے بارے میں ایک ہزار سے زائد انتباہات موصول ہوچکے ہیں۔

    سعودی عرب جانیوالے مسافر سے 46،605 سعودی ریال برآمد

    دوسری طرف ماہرین کا کہنا ہےکہ فرانس میں اس وقت بہت زیادہ مہنگائی ہے ،توانائی بحران کی وجہ سے یورپ کے دیگرملکوں کی طرح فرانس میں بھی معاشی بدحالی بڑھتی جارہی ہے ، جس کی وجہ سے بہت سے کارخانے اور فیکٹریاں بند ہوچکی ہیں اور مزید بند ہونے کے بہت زیادہ امکانات بھی ہوگئے ہیں‌

  • سانگھڑ،خاتون کا سفاکیت کے ساتھ قتل،گردن تن سے جدا،نازک اعضا کے کئے گئے ٹکڑے

    سانگھڑ،خاتون کا سفاکیت کے ساتھ قتل،گردن تن سے جدا،نازک اعضا کے کئے گئے ٹکڑے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سندھ کے شہر سانگھڑ میں افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے

    سانگھڑ میں ایک خاتون کو قتل کیا گیا، اس کا سر تن سے جدا گیا،اسکے جسم کے ٹکڑے کر دیئے گئے، ملزمان موقع سے فرار ہو گئے، لاش کے ٹکڑے کھیتوں سے ملے .مقتولہ کا تعلق ہندو برداری سے بتایا جا رہا ہے، رپورٹ کے مطابق مقتولہ پانچ بچوں کی ماں تھی اور بیوہ تھی، خاتون کو انتہائی سفاکی کے ساتھ قتل کیا گیا، خاتون کا سر قتل کرنے کے بعد دھڑ سے الگ کیا گیا، جسم سے چمڑی اتاری گئی، لاش کے ٹکڑے کئے گئے ،نازک اعضا کاٹے گئے اور پھر کھیتوں کے درمیان لاش کے ٹکڑے پھینک دیئے،

    ضلع سانگھڑ کے ایک گاوَں میں اقلیتی برادری کی خاتون دیا بھیل کے بہیمانہ قتل کا معاملہ سانگھڑ پولیس کا وزیراعلیٰ کے معاونِ خصوصی برائے انسانی حقوق سریندر ولاسائی سے رابطہ ہوا ہے،باغی ٹی وی کو دستیاب معلومات کے مطابق سانگھڑ پولیس نے سریندر ولاسائی کو دیا بھیل قتل کیس میں پیش رفت سے آگاہ کیا،سریندر ولاسائی نے کہا کہ اس کیس کی تفتیش کی نگرانی ڈی آئی جی شہید بینظیرآباد یونس چانڈیو خود کر رہے ہیں واقعے کی ایف آئی آر انسدادِ دہشتگردی قانون کے تحت درج کی گئی ہے پولیس کچھ مشکوک ملزمان سے تفتیش کر رہی ہے امید ہے، بہت جلد انسانیت سوز واقعے میں ملوث ملزمان قانون کی گرفت میں ہوں گے حکومتِ سندھ متاثرہ خاندان کو انصاف دلائے گی

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے ایک صارف فواد احمد کا کہنا تھا کہ نور مقدم کیس پر بہت شور ہوا۔۔۔اچھی بات ہے معاشرہ زندہ ہے۔۔ لیکن سنجھورو سانگھڑ کی دایا بھیل کے بہیمانہ قتل پر خاموشی کیسی؟؟؟ کیا ہمدردی اور احتجاج بھی ذات قبیلہ دیکھے گا؟؟؟

    40 سالہ دیا کی لرزہ خیز قتل کی واردات کا مقدمہ سنجھورے تھانے میں مقتولہ کے بیٹے سومر بھیل کی مدعیت میں نامعلوم ملزمان کے خلاف درج کیا گیا ہے

    سانگھڑ،خاتون کا سفاکیت کے ساتھ قتل،گردن تن سے جدا،نازک اعضا کے کئے گئے ٹکڑے
    سانگھڑ،خاتون کا سفاکیت کے ساتھ قتل،گردن تن سے جدا،نازک اعضا کے کئے گئے ٹکڑے

    ٹویٹر پر پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کی سیکرٹری اطلاعات زوبیہ خورشید راجہ کہتی ہیں کہ سانگھڑ میں ہندو برادری کے بھیل قبیلے کی غریب پانچ بچوں کی بیواہ خاتون کو انتہائی بے دردی سے قتل کردیا گیا,تڑپا تڑپا کر سر دھڑ سے الگ کردیا گیا ہے ۔ خاتون کی لاش کو فصلوں پر پھینک دیا گیا ہے حکومت وقت ایکشن لے, میڈیا کیوں خاموش ہے, اس واقعہ پر پلیز آواز اٹھائیں,انسانیت کا قتل ہے!

    سانگھڑ میں خاتون کے ساتھ سفاکی کے ساتھ قتل کی وجہ سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر احتجاج کیا جا رہاہے اور قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا جا رہا ہے

    رات بھر زیادتی کے بعد برہنہ حالت میں نرس کو سڑک پر ملزمان پھینک گئے

    دو کمسن لڑکیوں کو برہنہ کر کے گھمانے والے کیس میں اہم پیشرفت

    ماموں کی بیٹی کے ساتھ گھناؤنا کام کرنیوالا گرفتار

    پانی پینے کے بہانے گھر میں گھس کر لڑکی سے گھناؤنا کام کرنیوالا ملزم گرفتار

    زبانی نکاح،پھر حق زوجیت ادا،پھر شادی سے انکار،خاتون پولیس اہلکار بھی ہوئی زیادتی کا شکار

    نو سالہ بچی سے زیادتی کی کوشش کرنیوالا سگا پھوپھا گرفتار

    خواتین کو دست درازی سے بچانے کیلئے سی سی پی او لاہور میدان میں آ گئے

    خواتین کی تصاویر اور ویڈیوز بنانے والے اوباش ملزمان گرفتار

    یہ ہے پنجاب،ایک روز میں ایک شہر میں جنسی زیادتی کے چھ کیسزسامنے آ گئے

    شوہر نے بھائی اور بھانجے کے ساتھ ملکر بیوی کے ساتھ ایسا کام کیا کہ سب گرفتار ہو گئے

    لڑکیوں سے بڑھتے ہوئے زیادتی کے واقعات کی پنجاب اسمبلی میں بھی گونج

    لاہور میں خواتین سے زیادتی کے بڑھتے واقعات،ملزمہ کیا کرتی؟ تہلکہ خیز انکشاف

     

  •  ہیلتھ لیوی ،تحریر : ریحانہ جدون

     ہیلتھ لیوی ،تحریر : ریحانہ جدون

    تمباکو جیسی مصنوعات صحت کی خرابی اور پیداواری نقصان کا سبب بنتی ہیں
    المیہ یہ کہ پاکستان میں خواتین کی بڑی تعداد بھی سگریٹ نوشی کی لت میں ایسے گرفتار ہے کہ کھلے عام سگریٹ پی جاتی ہے.
    اسکے ساتھ ساتھ میں یہ بھی بتاتی چلوں کہ 12 سے 15 سال کے بچوں میں بھی سگریٹ پینا معمولی بات سمجھی جارہی ہے. اور یہ والدین کے لئے باعثِ تشویش ہونا چاہیے اور انکو علم ہونا چاہیے کہ انکے بچے کا اٹھنا بیٹھنا کیسے لوگوں میں ہے. جب والدین اپنے بچوں پر نظر نہیں رکھیں گے تو بچے اسی طرح بُری عادتوں میں پڑیں گے.
    دیکھیں سگریٹ نوشی سے ہماری جسمانی صحت تو برباد ہوتی ہے مگر پیسے کا ضیاع بھی ہے, اور نفسیاتی بیماریاں ہونے کے زیادہ امکانات ہوتے ہیں. ماہرینِ صحت کے مطابق تمباکو نوشی کئی بیماریوں کی وجہ بنتا ہے.

    دل کی بیماریوں کے ساتھ ساتھ پھیپھڑے, سانس اور خوراک کی نالی اور منہ سمیت کئی کینسر صرف سگریٹ نوشی کی وجہ سے ہوتے ہیں.
    سگریٹ نوشی سے نہ صرف اپنی صحت متاثر ہوتی ہے بلکہ ہمارے اردگرد رہنے والے لوگوں کو بھی کئی بیماریاں لگ سکتی ہیں اور خاص طور پر چھوٹے بچے سگریٹ کے دھوئیں سے جلدی متاثر ہوتے ہیں.
    تمباکو ایک زہر کی مانند ہماری نوجوان نسل کو تباہ کررہا ہے.
    سگریٹ پینے سے انسان وقت سے پہلے بوڑھا دکھنے لگتا ہے.

    یہ سب جانتے ہوئے بھی ہر دوسرا بندہ تمباکو کا استعمال کر رہا ہے ہمارے ملک میں سب سے زیادہ ٹیکس لگایا جاتا ہے حتیٰ کہ اشیائے ضروریہ پر ٹیکسزمیں اضافہ جبکہ تمباکو نوشی پر ٹیکس بڑھانے سے اجتناب کیا جاتا ہے
    پوری دنیا میں تمباکو نوشی کے رجحان کو کم کرنے کی ایک ثابت شدہ پالیسی ٹیکسوں میں اضافہ ہے لہذا حکومت کو چاہئیے کہ وہ تمباکو پر ٹیکس میں کم از کم 30 فیصد تک اضافہ کرے، ٹیکس، تمباکو پر قابو پانے کی جامع حکمت عملی کا ایک اہم عنصر ہے۔ تمباکو کی صنعت بنیادی طور پر نوجوانوں کو نشانہ بنا رہی ہے جو کم قیمتوں کی وجہ سے تمباکو کی صنعت کیلئے آسان ہدف ہے۔عالمی ادارہ صحت کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں روزانہ 6 سے 15 سال کی عمر کے 1200 بچے سگریٹ نوشی شروع کرتے ہیں، جبکہ پاکستان میں سالانہ تقریبا 166،000 افراد تمباکو سے متعلق بیماریوں کی وجہ سے ہلاک ہو جاتے ہیں جو روزانہ چار سو اسی افراد بنتے ہیں جن کو پورا کرنے کیلئے تمباکو انڈسٹری نوجوانوں کو ٹارگٹ کرتے ہے۔ پوری دنیا میں تمباکو نوشی کے رجحان کو کم کرنے کی ایک ثابت شدہ پالیسی ٹیکسوں میں اضافہ ہے لہذا حکومت کو چاہئیے کہ وہ آئندہ مالی سال میں تمباکو پر ٹیکس کم از کم 30 فیصد اضافہ کرے۔ ٹیکسز میں اضافے سے حکومت کو اضافی ریونیو حاصل ہو گا جو صحت کے بجٹ کو بڑھانے کے کام آ سکتا ہے۔

    حکومت اشیائے ضروریہ پر ٹیکسز میں بے تحاشا اضافہ کرتی ہے تاہم تمباکو جیسی غیر ضروری چیزوں پر ٹیکس بڑھانے سے اجتناب کیا جاتا ہے، پاکستان میں سالانہ تین ارب روپے سگریٹ کے دھویں میں اڑا دیئے جاتے ہیں جبکہ تمباکو نوشی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے علاج کیلئے ٦٦۵ ارب روپے خرچ ہوتے ہیں، ٹیکس، تمباکو پر قابو پانے کی جامع حکمت عملی کا ایک اہم عنصر ہے۔ تاہم دیرپا فوائد کو حاصل کرنے لیے زائدہ متاثر گروپوں جیسا کہ نوجوانوں اور کم آمدنی والے افراد پر ٹیکسوں کے بڑھے ہوئے اثرات کو سمجھنا ضروری ہے۔ تمباکو کی صنعت بنیادی طور پر نوجوانوں کو نشانہ بنا رہی ہے جو پاکستان کی 64٪ آبادی پر مشتمل ہے اور کم قیمتوں کی وجہ سے تمباکو کی صنعت کے لئے آسان ہدف ہے۔

    حکومت پاکستان کو ایف سی ٹی سی کی سفارشات کے مطابق سگریٹ پر ٹیکسوں میں فوری اضافہ کرنا چاہئے۔ اس سے حکومت کو آنے والے عرصے میں تمباکو کے استعمال پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ اس سے حکومت کو پچھلے کچھ سالوں میں کھوئی ہوئی ٹیکس آمدنی کو دوبارہ حاصل کرنے میں بھی مدد ملے گی۔ اس اضافی آمدنی سے حکومت کو صحت کے شعبے، تعلیمی ڈھانچے، بنیادی ڈھانچے اور دیگر قابل استعمال قیمتوں میں مزید سرمایہ کاری کرنے میں مدد ملے گی۔

    باغی ٹی وی کا ٹوئیٹر اکاؤنٹ بند کئے جانے کی درخواست دینے پر پاسبان کے چیئرمین الطاف شکور و دیگر عہدیداران کا رد عمل

     بجلی نہ ہونے کی خبر دینے پر شرپسند افراد نے باغی ٹی وی کے رپورٹر فائز چغتائی کو تشدد کا نشانہ بنا ڈالا

    :وزیرخارجہ ٹویٹرکی طرف سے بھارتی ایما پردھمکیوں کا نوٹس لیں:باغی ٹی وی کا شاہ محمود قریشی کوخط 

    ٹویٹر کے غیر منصفانہ اقدام پر باغی کے ساتھ ہمدردیاں جاری رہیں گی ، عمار علی جان

    باغی ٹی وی تحریری مقابلہ،پوزیشن ہولڈرز میں انعام تقسیم

    آل پاکستان قائداعظم میموریل برج ٹورنامنٹ کا آغاز،باغی ٹی وی کی ٹیم بھی شامل

    بچوں کو اغوا کرنے والی گینگ کی خاتون باغی ٹی وی کے دفتر کے سامنے سے اہل محلہ نے پکڑ لی

    حکومت پاکستان ٹویٹرکی بھارتی نوازی کا معاملہ عالمی سطح پراٹھائے”باغی ٹی وی”کےاکاونٹ کوبلاک کرنےکا نوٹس لے

    ”باغی ٹی وی”کاٹویٹراکاونٹ بلاک کرنےکی ٹویٹرکی دھمکیاں ناقابل قبول:بھارت نوازی بند کی جائے:طاہراشرفی 

    بھارت کی ایما پر”باغی ٹی وی”کا ٹویٹراکاونٹ بند کرنےکی ٹویٹرکی دھمکیوں ‌کی مذمت کرتےہیں‌:وزرائےگلگت بلتستان اسمبلی

  • 73 سالہ  الیکٹریکل انجینئر نے طیارے کو اپنا گھر بنا لیا

    73 سالہ الیکٹریکل انجینئر نے طیارے کو اپنا گھر بنا لیا

    امریکا سے تعلق رکھنے والے الیکٹریکل انجینئر نے طیارے کو اپنا گھر بنا لیا-

    باغی ٹی وی :ڈیلی میل کے مطابق امریکا سے تعلق رکھنے والے 73 سالہ بروس کیمبل نے ریاست اوریگن میں ایک طیارے کو اپنا گھر بنالیا ہےبروس کیمبل نے 1999 میں ایک لاکھ ڈالرز میں 31 ہزار کلوگرام سے زیادہ وزنی بوئنگ 727-200 طیارے کو خریدا تھا جسے یونان سے امریکا لانے میں مزید ایک لاکھ 20 ہزار ڈالرز خرچ ہوئے۔

    چین : شدید دھند کے باعث سینکڑوں گاڑیاں آپس میں ٹکرا گئیں

    اس کی تزئین نو کا عمل 2 سال تک جاری رہا جس کے دوران 15 ہزار ڈالرز خرچ ہوئے جس کے بعد یہ طیارہ رہائش کے قابل ہوگیا اس طیارے کا اندرونی حصہ 1066 اسکوائر فٹ کا ہے جس میں ایک بڑا کمرا اور 2 ٹوائلٹ موجود ہیں۔

    طیارے کی چند پرانی نشستوں کو بروس کیمبل نے بیڈ کی شکل دے دی ہے طیارے میں وائی فائی سروس موجود نہیں کیونکہ سگنل طیارے کی باڈی سے گزر نہیں پاتے جبکہ موبائل فون استعمال کرنے کے لیے بروس کیمبل کو اپنا سر کھڑکی سے باہر نکالنا پڑتا ہے۔

    فیفا ورلڈ‌کپ: لیونل میسی کے کمرے کو میوزیم میں تبدیل کرنے کا فیصلہ

    طیارے میں رہنے کا اوسط ماہانہ خرچہ 370 ڈالرز ہے جس میں سے 220 ڈالرز ہر ماہ پراپرٹی ٹیکس کی مد میں ادا کیے جاتے ہیں جبکہ بجلی کا بل 100 سے 250 ڈالرز کا ہوتا ہے۔

    اب بروس کیمبل کی جانب سے طیارے کے پرانے کمپیوٹر سسٹم کو بحال کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ان کا کہنا ہے کہ ‘اپنے خواب کے حوالے سے مجھے کوئی پچھتاوا نہیں،چونکہ بروس کیمبل کا کافی وقت جاپان میں گزرتا ہے تو وہ جاپانی سرزمین پر بھی ایک طیارے کو گھر بنانے کے خواہشمند ہیں۔

    کورونا کا خطرہ،امریکا نے بھی چین پر پابندیاں لگا دیں

  • ہیلتھ لیوی، تحریر، ارم شہزادی

    "ہیلتھ لیوی”
    بچے ہمارا مستقبل ہوتے ہیں۔ سادہ دور میں بچوں کی تربیت والدین مل کر کیا کرتے تھے، ماں کی گود پہلی درسگاہ تھی،
    ماں کی زمہ داری اولاد کو اچھے برے کی تمیز سکھانا بینادی اسلامی تعلیمات سے روشناس کروانا تھا، بیٹوں کو باپ مساجد میں لے جاتے پانچ وقت کا نمازی بناتے قران پاک کی تعلیم دیتے تھے، سیکھے علوم کو اپنی زندگی میں شامل کرتے اور زندگی اس کے مطابق گزارنے کی کوشش کرتے جس میں کافی حد تک کامیاب رہتے۔ پھر وقت بدلا ضروریات بدلیں اور اور باپ کو کمانے کے لیے شہر سے دوردرزا کما کر لانا پڑتا جسکی وجہ سے وہ اتنا وقت نہیں دے پاتا بچوں کو، اور یوں ساری زمہ داری ماں پر آگئی، گوکہ ماں نے بھرپور توجہ دی لیکن وہ باپ کی زمہ داری اس لحاظ سے پوری نا کرپائی کہ بچے گھر سے باہر کس طرح کی صحبت اختیار کرتے ہیں یا صحبت میں رہتے ہیں۔ یوں کچھ بچے تو احساس زمہ داری کے ساتھ رہے لیکن کچھ بچوں کے رویوں میں تبدیلی آئی اور وہ گھر کے ماحول کو گھٹن زدہ سمجھنے لگ گئے کچھ باغی ہوئے تو کچھ بری صحبت میں پڑ گئے پھر دنیوی تعلیم کی جدت نے بجائے انکے رویوں کو نرم کرنے کے بلکہ سخت کردیے

    آزادی ملی گھر سے باہر دور نکلنے کی اور "آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل” والی بات ہوگئی لیکن معاملات پھر بھی کسی حد تک قابو میں رہے، معاشرے کے بدلتی روایات اور تغیر نے انسانوں کو ایک مشین کی مانند بنا دیا، وہ انسان جو انسانیت کے جذبے سے بھرپور تھا اس میں تلخی مادیت اور دنیا پرستی آگئی، وقت کچھ اور بدلا تو باپ کے ساتھ ماں بھی گھر سے باہر کام کرنے لگی اسکا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اس سے پہلے عورت پر پابندیاں تھیں یا باہر نکلتی نہیں تھی بلکہ اس کا مطلب یہ تھا کہ تعلیم کے نام پر فیشن کے نام پر آزادی کے نام پر سٹیٹس اپگریڈ رکھنے کے نام پر جب کمانے نکلی تو بچے اس دور میں نا ماں کی ترجیحات میں شامل رہے اور نا باپ کی ترجیحات میں۔ باپ پیسے کمانے کے چکر میں یوں پڑا کہ بھول ہی گیا بچے کو پیسے کے علاوہ توجہ محبت اور ساتھ چاہیئے وقت چاہیئے جبکہ ماں بھی کچھ ایسا ہی مصروف ہوئی اور بچے متاثر ہونے لگے۔ بچے ملازمین کے ہاتھوں پلنے لگے، جو اچھی بری باتوں کو والدین نے بتانا تھا وہ معاشرے سے پتہ لگنے لگیں، اور جب تربیت کی زمہ داری والدین چھوڑ دیں معاشرہ لے لے تو بچے ہر اس بری عادت میں بھی پڑنا شروع کردیتے ہیں جہاں والدین نہیں چاہتے ہرگز نہیں چاہتے۔ترقی کے نام پر جس طرح معاشرے میں نئی نئی دریافتوں نے در کھولے وہیں انسان زہنی طور پر پرسکون نا رہا اور اس سکون کو تلاش کرنے کے لیے وہ در، بدر پھرا اور کچھ ایسی عادات میں پڑ گیا جس سے حال اور مستقبل دونوں تباہ ہوئے، ایک وقت تھا جب زہنی سکون کے لیےلوگ نماز پڑھتے تھے اور اب ادویات کھاتے ہیں سگرہٹ پیتے ہیں نشہ آور اشیاء کا استعمال کرتے ہیں جس سے صحت تباہ ہوتی ہے معاشرے میں ناانصافی پھیلتی ہیں ان اعادات کی وجہ سے گھر برباد ہوجاتے ہیں۔ پھر علاج کے نام پر جہاں لاکھوں خرچ ہوتے ہیں وہیں معاشرے میں عزت بھی جاتی رہتی ہے۔۔ ان اشیاء میں سگریٹ، پان، چرس، آئس، اور کچھ میٹھے مشروبات ہیں،ان چیزوں کا سب سے زیادہ نقصان یہ ہے کہ یہ تیرہ چودہ سال کے بچوں کی بھی پہنچ میں ہیں یہ چیزیں سکول، کالجز میں عام مل رہی ہیں پھر فیشن کے نام پر لڑکے تو ایک طرف لڑکیاں بھی اس، میں عادی ہوگئیں، ان تمام چیزوں کو دیکھتے ہوئے جب تک ٹھوس اقدامات نہیں کیے جائیں گے تب تک نا صرف ان سے چھٹکارہ مشکل ہے بلکہ مستقبل میں یہ زیادہ گھمبیر صورتحال اختیار کرجائیں گے۔ان چیزوں مکمل طور پر اگر بین نہیں بھی کیا جاسکتا تو کم از، ان پر ٹیکس اتنا ضرور ہو کہ یہ بچوں کی پہنچ سے دور رہیں۔ اس ضمن میں 2021 مئی میں ایک سمری وزارت خزانہ کو بھیجی گئی جس میں سگریٹ، اور میٹھے مشروبات پر ہیلتھ لیوی کے نام سے ٹیکس عائد کرنے کی سفارش کی گئی کیونکہ ہیلتھ لیوی سے دو فائدے ہونگے ایک تو یہ بچوں کی پہنچ سے دور ہونگے دوسرا یہ ریونیو اربوں میں دے سکتی ہے جو کہ یقیناً فائدہ مند ہوگا۔ویسے تو ہیلتھ لیوی کی منظوری 2019جون میں ہوچکی ہے کابینہ سے اور وزارت خزانہ نے اس پر اعتراض بھی نہیں کیا کسی قسم کا۔ لیکن نفاز تاخیر کا شکار ہوا کیونکہ یہاں بھی ایک مافیا بیٹھا ہے جسے بچوں اور انکے مستقبل سے زیادہ اپنا پیسہ اور کاروبار سے مطلب ہے۔ ہیلتھ لیوی کا معاملہ تاخیر کا شکار ہونے کی وجہ سے سالانہ تقریبا 38ارب کا نقصان ہورہا ہے۔وفاقی کابینہ کی منظوری کے باوجود تقریباً دو سال سے تاخیر ہورہی ہے، ملٹی نیشنل کمپنیوں کا سیگریٹ کی فروخت کا شئر 90فیصد ہے، جس کی وجہ سے ہیلتھ لیوی کے لیے کابینہ سے بل منظور کروایا گیا لیکن آج تک اس پر عملدرآمد نہیں ہوسکا ہے۔ایف بی ار نے اربوں روپے کے اس ریونیو کے بارے میں کہا ہے کہ 18ویں ترمیم کے بعد چونکہ صحت صوبائی معاملہ ہے اس لیے وفاقی کابینہ کا منظور شدہ کوئی ٹیکس عائد نہیں کیا جا سکتا۔جبکہ وزارت صحت یہ کہتی ہے کہ ہیلتھ لیوی ایک جنرل ٹیکس ہے اسکا صوبائی محکمہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ پہلے اسکا نام بھی کافی سخت یعنی "گناہ ٹیکس” تھا لیکن بعد میں بحث ومباحثہ کے بعد اسکا نام بدل کر ہیلتھ لیوی رکھ دیا۔ہیلتھ لیوی کے نفاز میں تمباکو، صنعت اور سیگریٹ تیار کرنیوالی کمپنیوں کی جانب سے دباؤ اور اثر رسوخ کی وجہ سے ہیلتھ لیوی بل پر کوئی خاطر خواہ پیشرفت نہیں ہو رہی ہے اور وزیراعظم اور کابینہ کی منظوری کے باوجود تاخیر کا شکار ہے۔ وزارت صحت کی تجویز کے مطابق ہیلتھ لیوی بل میں سیگریٹ کی 20سٹک کے حامل فی پیکٹ پر دس روپے اور میٹھے مشروبات کی 250ملی لیٹر بوتل پر ایک روپے ہیلتھ لیوی ہونا چاہیئے۔ اس سے سالانہ تقریباً 38ارب روپے سے زیادہ ریونیو حاصل ہوگاجسے دوسرے صحت کے معاملات پر خرچ کیے جاسکتے ہیں۔ دوسال کے التواء سے تقریباً اربوں کا نقصان ہوچکا ہے۔ پاکستان میں صحت پر اٹھنے والے اخراجات تقریباً 600ارب روپے سے زائد ہےہیلتھ لیوی کے نفاز سے صحت کے شعبے کو سہولیات فراہم کرن کتنا آسان ہوجائے گا۔صرف پاکستان میں یہ کوشش نہیں کی گئی بلکہ کئی اور ممالک میں ہیلتھ لیوی کے طرز کے ٹیکسز عائد ہیں۔ جن ممالک میں ہیں یہ ٹیکس ان میں تھائی لینڈ، برطانیہ، سعودی عرب، یو اے ای، میکسیکو، فرانس، فلپائن شامل ہیں۔ ان ممالک میں ان ٹیکسز یا لیوی کے وجہ سیگریٹ نوشی میں کمی ہوئی ہے، ماہرین صحت اور عام عوام کا بھی یہی خیال ور مطالبہ ہے کہ اس تاخءر کا نوٹس لیا جائے اور اور نفاذ کی راہ ہموار کی جائے تاکہ یہ ناسور ہمارے بچوں سے دور رہے۔
    تحریر و تحقیق
    ارم شہزادی
    @irumrae

    ”باغی ٹی وی”کاٹویٹراکاونٹ بلاک کرنےکی ٹویٹرکی دھمکیاں ناقابل قبول:بھارت نوازی بند کی جائے:طاہراشرفی 

    بھارت کی ایما پر”باغی ٹی وی”کا ٹویٹراکاونٹ بند کرنےکی ٹویٹرکی دھمکیوں ‌کی مذمت کرتےہیں‌:وزرائےگلگت بلتستان اسمبلی

    باغی ٹی وی کا ٹوئیٹر اکاؤنٹ بند کئے جانے کی درخواست دینے پر پاسبان کے چیئرمین الطاف شکور و دیگر عہدیداران کا رد عمل

     بجلی نہ ہونے کی خبر دینے پر شرپسند افراد نے باغی ٹی وی کے رپورٹر فائز چغتائی کو تشدد کا نشانہ بنا ڈالا

    :وزیرخارجہ ٹویٹرکی طرف سے بھارتی ایما پردھمکیوں کا نوٹس لیں:باغی ٹی وی کا شاہ محمود قریشی کوخط 

    ٹویٹر کے غیر منصفانہ اقدام پر باغی کے ساتھ ہمدردیاں جاری رہیں گی ، عمار علی جان

    باغی ٹی وی تحریری مقابلہ،پوزیشن ہولڈرز میں انعام تقسیم

    آل پاکستان قائداعظم میموریل برج ٹورنامنٹ کا آغاز،باغی ٹی وی کی ٹیم بھی شامل

    بچوں کو اغوا کرنے والی گینگ کی خاتون باغی ٹی وی کے دفتر کے سامنے سے اہل محلہ نے پکڑ لی

    حکومت پاکستان ٹویٹرکی بھارتی نوازی کا معاملہ عالمی سطح پراٹھائے”باغی ٹی وی”کےاکاونٹ کوبلاک کرنےکا نوٹس لے

  • کمبوڈیا:ہوٹل کے کسینو میں خوفناک آتشزدگی،16 افراد ہلاک ، 50 کے قریب زخمی

    کمبوڈیا:ہوٹل کے کسینو میں خوفناک آتشزدگی،16 افراد ہلاک ، 50 کے قریب زخمی

    کمبوڈیا کے ایک ہوٹل کے کسینو میں خوفناک آتشزدگی سے 16 افراد ہلاک اور 50 کے قریب افراد زخمی ہو گئے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق کمبوڈیا میں ہوٹل کے کسینو میں لگنے والی آگ تقریباً 12 گھنٹے تک سلگتی رہی اور کسینو میں موجود ہر چیز کو راکھ بنا دیا۔

    فیفا ورلڈ‌کپ: لیونل میسی کے کمرے کو میوزیم میں تبدیل کرنے کا فیصلہ

    کسینو میں 12 گھنٹے سے زائد جاری رہنے والی زبردست آگ میں کم از کم 16 افراد ہلاک اور 50 کے قریب زخمی ہوگئے سوشل میڈیا پر پوسٹ کی جانے والی ویڈیوز میں دکھایا گیا ہے کہ لوگ سرحدی شہر پوپیٹ کے گرینڈ ڈائمنڈ سٹی کیسینو اور ہوٹل میں آگ لگنے کے بعد چھت سے گرتے ہیں۔ اندر موجود بہت سے لوگ، کسٹمرز اور عملہ دونوں، پڑوسی تھائی لینڈ سے تھے۔
    https://twitter.com/NewsJunkieBreak/status/1608258134132535296?s=20&t=SoKronJ34wE2TBRT3mb7jA

    ازبکستان میں بھی بھارتی کمپنی کا تیار کردہ سیرپ پینے سے 18 بچے جاں بحق

    وائرل ویڈیو میں آتشزدگی کے باعث ہوٹل کی چھت پر پھنسے افراد کو جان بچانے کے لیے عمارت سے چھلانگیں لگاتے بھی دیکھا جا سکتا ہے ہوٹل میں لگنے والی آگ کی شدت اس قدر زیادہ تھی کہ آگ بجھانے کے لیے پڑوسی ملک تھائی لینڈ کو فائر فائٹرز بھیجنے پڑے۔

    2011 کے بعد پہلی مرتبہ شام، ترکی اور روس کے وزرائے دفاع کی پہلی ملاقات،مذاکرات