Baaghi TV

Tag: تازہ ترین

  • یوم پیدائش، رقیہ سخاوت حسین

    یوم پیدائش، رقیہ سخاوت حسین

    بیگم رقیہ سخاوت حسین
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    پیدائش:09 دسمبر 1880ء
    پیرابوندھ گاؤں
    مِیٹھاپُکُر اُپ ضلع، رنگ پور
    بنگال پریزیڈنسی، برطانوی ہند
    (موجودہ بنگلہ دیش)
    وفات:09 دسمبر 1932ء
    کولکاتا، بنگال پریزیڈنسی، برطانوی ہند
    (موجودہ بھارت)
    پیشہ:سماجی کارکن، مصنفہ ، مسلم نسوانیت پسند
    زبان:بنگلہ
    قومیت:بھارت
    نسل:بنگالی
    دور:برطانوی حکمرانی
    ادبی تحریک:حقوق نسواں
    نمایاں کام:سلطاناز ڈریم، پدما راگ
    والد ظہیر الدین ابو علی حیدر صابر
    والدہ :. راحت النساء چودھری
    2 بھائی : محمد ابراہیم صابر، ابو زیغم خلیل اللہ صابر
    بڑی بہن : قمر النساء

    شریک حیات:خان بہادر سخاوت حسین

    بیگم رقیہ سخاوت بنگالی مسلمان خواتین کی تعلیم کے لیے ان تھک کوشش کرنے والی پہلی خاتون تھی۔

    مختصر حالات زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    بیگم رقیہ کو پانچ سال کی عمر سے سخت پردے میں رکھا گیا۔ ان کی اسکولی تعلیم عملاً بعید از امکان تھی۔ رقیہ کے والد ان کے انگریزی یا بنگالی سیکھنے کے سخت خلاف تھے۔ اس وجہ سے بیگم رقیہ اور ان کی بہن کریم النساء اپنے ایک بھائی کو لے کر رات کے اندھیرے میں ان دو زبانوں کو پڑھتی تھیں ۔ بیگم رقیہ کی شادی 18 سال کی عمر میں کرائی گئی ۔ جلد شادی کی وجہ حصول تعلیم سے محروم رکھنا تھا۔ شادی کے بعد انہوں نے لڑکیوں کی تعلیم کے لیے متعدد اسکول قائم کیے ان کی اس کوشش میں ان کے شوہر کا بھرپور تعاون شامل تھا۔ کلکتہ میں آج بھی ان کا قائم کردہ ” سخاوت میموریل گرلز ہائی اسکول قائم ہے اور وہ ایک مثالی تعلیمی ادارہ ہے۔

  • اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی راجہ ریاض کو عہدے سے ہٹانے کی درخواست پرنوٹس جاری

    اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی راجہ ریاض کو عہدے سے ہٹانے کی درخواست پرنوٹس جاری

    لاہور ہائی کورٹ ،اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی راجہ ریاض کو عہدے سے ہٹانے کی درخواست پر سماعت ہوئی

    لاہور ہائی کورٹ نے وفاقی اورصوبائی حکومتوں کو نوٹس جاری کر کے جواب مانگ لیا عدالت نے اٹارنی جنرل ،ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو بھی معاونت کےلیے نوٹس جاری کردیئے،وکیل درخواست گزار نے کہا کہ اسپیکر قومی اسمبلی نے کسی قانونی جواز دیئے بغیر درخواست نمٹا دی، اپوزیشن لیڈر کے عہدے پر تعیناتی محض ارکان کی تعداد سے مشروط نہیں ہے، راجہ ریاض پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے اور اس جماعت سے الگ ہو چکے ہیں، راجہ ریاض کی اپوزیشن لیڈر کے عہدے پر تعیناتی کالعدم قرار دی جائے،

    واضح رہے کہ لاہور ہائیکورٹ میں اسے قبل بھی درخواست دائر کی تھی جس پر قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف راجہ ریاض کو عہدے سے ہٹانے کی درخواست پر تحریری فیصلہ کرتے ہوئے عدالت نے اسپیکر قومی اسمبلی کو اپوزیشن لیڈر کے معاملے پر فیصلہ کرنے کا حکم دیا تھا، درخواست گزار نے سپیکر کو درخواست دی تا ہم سپیکر نے درخواست نمٹا دی، جس کے بعد درخواست گزار دوبارہ عدالت پہنچ گیا

    ناموس رسالت پر منافقت بند کرو، قومی اسمبلی لبیک یا رسول اللہ کے نعروں سے گونج اٹھی

    علامہ خادم حسین رضوی نے ناموس رسالت کے عنوان پر مسلمان قوم میں بیداری پیدا کی،مولانا معاویہ اعظم طارق

  • عمران خان کی عبوری ضمانت میں 19 دسمبر تک توسیع

    عمران خان کی عبوری ضمانت میں 19 دسمبر تک توسیع

    کار سرکار میں مداخلت کیس میں عمران خان کی عبوری ضمانت میں توسیع کر دی گئی.

    اسلام آباد کی انسداد دہشت گری عدالت نے کار سرکار میں مداخلت کے کیس میں سابق وزیر اعظم عمران خان کی عبوری ضمانت میں 19 دسمبر تک توسیع کر دی۔ انسداد دہشت گری عدالت میں احتجاجی مظاہرے اور کار سرکار میں مداخلت کے کیس کی سماعت ہوئی۔ عمران خان کے وکیل بابر اعوان عدالت میں پیش ہوئے اور چیئرمین پی ٹی آئی کی آج کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کی۔ بابراعوان نے کہا کہ عمران خان لاہور میں ہیں، عدالت میں پیش نہیں ہوسکیں گے۔بعدازاں عدالت نے عمران خان کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور کرتے ہوئے ان کی عبوری ضمانت میں 19 دسمبر تک توسیع کردی۔

    جبکہ اس سے قبل بھی انسداد دہشتگردی عدالت نے سنگجانی میں درج احتجاجی مظاہرے اور کار سرکار میں مداخلت کے مقدمے میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی عبوری ضمانت میں 9 دسمبر تک توسیع دی تھی جبکہ آئندہ سماعت پر سابق وزیر اعظم کی حاضری یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی تھی. تفصیلات کے مطابق تھانہ سنگجانی میں درج احتجاجی مظاہرے اور کار سرکار میں مداخلت کے مقدمے میں انسداد دہشتگردی عدالت کے جج راجہ جواد عباس نے عمران خان کی عبوری درخواست ضمانت پر سماعت کی تھی، جبکہ چیئرمین پی ٹی آئی کی جانب سے وکیل بابراعوان عدالت میں پیش ہوئے تھے اورعمران خان کی جانب سے حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کی تھی.

    وکیل بابراعوان نے موقف اختیار کیا تھا کہ سابق وزیر اعظم زخمی ہیں اور سفر نہیں کر سکتے ،عدالت نے کہا کہ عمران خان ایک سیاسی اجتماع میں موجود تھے ،کیس کو زیادہ دیر التوا کا شکار نہیں بنا سکتے، عدالت کی جانب سے استفسار کیا گیا کہ عمران خان اسلام آباد میں موجود ہیں یا لاہور؟ وکیل بابراعوان نے کہا تھاکہ عمران خان اس وقت لاہور میں موجود ہیں اور عدالت پیش ہونا چاہتے ہیں لیکن اسلام آباد انتظامیہ انہیں اسلام آباد میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دے رہی ،عدالت نے استفسار کیا کہ کیا عمران خان کواسلام آباد داخلے روکنے کا حکمنامہ آپ کے پاس ہے ؟
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    مارگلہ کی پہاڑیوں پر نایاب نسل کا تیندوہ مردہ حالت میں پایا گیا
    خاشقجی کی منگیتر، نے امریکی عدالت کے فیصلے پر ردعمل میں کہا کہ "جمال آج پھر انتقال کر گئے ہیں۔”
    دنیا میں ترقی جنگوں سے نہیں بیلٹ پیپر سے آئی،سیکرٹری الیکشن کمیشن
    عمران خان کے خلاف ممنوعہ فنڈنگ کیس کی سماعت 19دسمبر تک ملتوی
    بابراعوان نے کہا کہ حکمنامہ تحریری طور پر نہیں زبانی کہاں گیاہے جس پر فاضل جج نے کہاکہ سابق وزیر اعظم کے داخلے کے معاملے پر عدالت انتظامیہ سے وضاحت بھی طلب کر سکتی ہے۔ بابراعوان کی جانب سے عمران خان کی میڈیکل رپورٹ بھی عدالت میں جمع کروائی گئ تھی عدالت نے کہا تھا کہ آئندہ سماعت پر عمران خان کی پیشی ہر صورت یقینی بنائیں۔ بعدازاں عدالت نے عمران خان کی عبوری ضمانت میں 9 دسمبر تک توسیع کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت ملتوی کردی تھی.

  • حکمران چاہتے ہیں کہ عمران خان کو کیسے باہر کریں اس پر بات ہو، بابر اعوان

    حکمران چاہتے ہیں کہ عمران خان کو کیسے باہر کریں اس پر بات ہو، بابر اعوان

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کے رہنما بابر اعوان نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکمران چاہتے ہیں کہ عمران خان کو کیسے باہر کریں اس پر بات ہو،

    ڈاکٹر بابر اعوان کا کہنا تھا کہ انتقام لینے کے لیے کیسز بنائے گئے،اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات میں دھاندلی کی تیاریاں جاری ہیں،اسلام آباد میں شفاف الیکشن کون کرے گا،لوگ گرفتار ہو رہے ہیں،عمران خان پر ایک دن میں پانچ پانچ مقدمے درج کیے گئے اعظم سواتی کیس میں جو جج تھے انہیں ہی تبدیل کر دیا گیا،کچھ لوگ آج ڈیفالٹ کا نام لیتے ہوئے ڈرتے ہیں،ڈیفالٹ ہونے سے بچانے کے لیے عمران خان نئی الیکشن کا مطالبہ کر رہے ہیں، اسحاق ڈار کو شاہی پروٹوکول میں لایا گیا،اب وزیراعظم کے بیٹے کو بھی شاہی پروٹوکول میں لایا جائے گا،حکومت کا مقصد عمران خان کو نااہل کرنا ہے ،سپریم کورٹ نے کہا کہ الیکشن کمیشن کوئی عدالت یا ٹربیونل نہیں ہے،

    جو نقشے عدالت میں پیش کئے گئے وہ سب جعلی،یہ سب ملے ہوئے ہیں، مارگلہ ہلز کیس میں چیف جسٹس کے ریمارکس

    اعظم سواتی مشکل میں پھنس گئے، حکومت کا ایک اور ایکشن

    پورے راستے مجھ پر تشدد کیا گیا، میری ویڈیوز بنائی گئیں،اعظم سواتی

    نازیبا ویڈیو کی تحقیقات،اعظم سواتی کمیٹی میں پیش نہ ہوئے،ایف آئی اے نے بتائی حقیقت

    اسلام آباد:اعظم خان سواتی نے سپاہی سےسینیٹرتک کا سفرکس طرح‌ طے کیا؟

     تحریک انصاف کے سینیٹر اعظم سواتی کو گرفتار کر لیا گیا

    دوسری جانب ترجمان وزیر اعلیٰ و پنجاب حکومت مسرت جمشید چیمہ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ آٹھ ماہ میں یہ تجربہ کار ٹیم 2 کروڑ لوگوں کو خط غربت سے نیچے لے گئی ہے۔22 لاکھ لوگوں بے روزگار ہوئے۔فضل الرحمان نے سیاسی رہنماؤں کو نہیں بلکہ عوام کی ماؤں، بہنوں کو گالی دی ہے۔جس کی ماں، بہن اور بیٹی ہے وہ اس شخص کے نام کے ساتھ مولانا لگانا چھوڑ دے۔فضل الرحمان کی جماعت اور انکے ساتھ الحاق جماعتوں کے ووٹر ان کو ووٹ ہر گز نہ دیں۔تمام خواتین سے اپیل ہے آپ نے الیکشن میں انکے امیدواروں کو ووٹ نہیں دینا۔ مریم نواز نے بھی فضل الرحمان کے بیان کی مذمت نہیں کی۔ اپنی والدہ کی شہادت پر ایک پرچی پر پارٹی چیئرمین بننے والے بلاول نے بھی مذمتی بیان نہیں دیا۔

  • چار سال بعد  وطن  واپس جارہا ہوں جبکہ ہمارا جینا مرنا پاکستان میں ہے. سلیمان شہباز

    چار سال بعد وطن واپس جارہا ہوں جبکہ ہمارا جینا مرنا پاکستان میں ہے. سلیمان شہباز

    سلیمان شہباز نے کہا ہے کہ چار سال بعد وطن واپس جارہا ہوں جبکہ ہمارا جینا مرنا پاکستان میں ہے.

    وزیراعظم شہباز شریف کے صاحبزادے سلیمان شہباز نے کہا ہے کہ برطانیہ میں 4 سالہ جلا وطنی ختم کرکے پاکستان آنے کا فیصلہ کیا ہے۔ لہذا پاکستان ہمارا ملک ہے اور میں یہ یاد دلانا چاہتا ہوں کیونکہ لوگوں کی یاداشت کم ہوتی ہے. ان کا مزید کہناتھا جس طرح سے 2018 میں سازش کا آغاز ہوا اور ہمارے شریف خاندان اور خواتین کو جس قدر ہراساں کیا گیا.


    سلیمان شہباز کا کہنا تھا کہ چیئرمین نیب جاوید اقبال جو ایک سیاہ دھبہ ہیں انہیں کس طرح بلیک میل کرکے استعمال کیا گیا اسی طرح بشیر میمن کئی بار کہہ چکے انہیں کس طرح دھمکایا گیا کہ آپ اپوزیشن کے خلاف کیس بنائیں. جبکہ شہزاد اکبر اور اسکے ساتھیوں نے عمران خان کی سربراہی میں پاکستان کے ساتھ کھلواڑ کیا ہے. سلیمان کے مطابق اب اللہ کا شکر ہے کہ سلیکٹد نظام سے اب ہماری جان چھوٹ گئی ہے جسکے بعد میں اپنے ملک جارہا ہوں.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    مارگلہ کی پہاڑیوں پر نایاب نسل کا تیندوہ مردہ حالت میں پایا گیا
    خاشقجی کی منگیتر، نے امریکی عدالت کے فیصلے پر ردعمل میں کہا کہ "جمال آج پھر انتقال کر گئے ہیں۔”
    دنیا میں ترقی جنگوں سے نہیں بیلٹ پیپر سے آئی،سیکرٹری الیکشن کمیشن
    عمران خان کے خلاف ممنوعہ فنڈنگ کیس کی سماعت 19دسمبر تک ملتوی
    ارشد شریف قتل کیس ازخود نوٹس،فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع


    ان کا مزید کہنا تھا کہ ڈیلی میل کی معزرت ہماری کامیابی ہے کیونکہ عمران خان جب وزیراعظم تھے انہوں نے عالمی ایجنسی کو کہا تھا کہ شہباز شریف کے کیس کی تحقیقات کریں جس کے بعد وہاں بھی ہم سرخرو ہوئے ہیں. کیونکہ این سی اے نے ان تمام الزامات کا کوڑے کے ڈھیر میں پھینک دیا تھا.

  • صحافیوں کے تحفظ سے متعلق کیس،سماعت ملتوی

    صحافیوں کے تحفظ سے متعلق کیس،سماعت ملتوی

    صحافیوں کے تحفظ اور الیکٹرانک میڈیا کو آئی ٹی این آئی میں شامل کرنے سے متعلق کیس،سماعت ملتوی

    صحافیوں کے تحفظ اور الیکٹرانک میڈیا کو آئی ٹی این آئی میں شامل کرنے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے جرنلسٹ ایسوسی ایشن کی جلد سماعت کی درخواست منظور کرلی، عدالت نے رجسٹرار آفس کو درخواست چھٹیوں سے قبل سماعت کے لیے مقرر کرنے کی ہدایت کر دی،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ابھی تو صرف ویج بورڈ میں اخبارات ہی شامل ہیں ،تو آپ چاہتے ہیں کہ ہدایات جاری کی جائیں، ویسے تو عمل درآمد ہونا شروع ہوگیا ہے چیئرمین اس پر کام کر رہے ہیں وہ معاملے کو دیکھ رہے ہیں

    چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ عامر فاروق نے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ فیڈریشن کو نوٹس ہوا ہوا ہے، جواب کے لیے دیکھ لیں ، آپ جواب جمع کروائیں اور پہلے سے حکومتی سطح پر جو کام ہو بھی رہا ہے اسکو بھی دیکھ لیں ،

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے، ویڈیو وائرل

    نوجوان جوڑے پر تشدد کرنیوالے ملزم عثمان مرزا کے بارے میں اہم انکشافات

    لڑکی کو برہنہ کرنیوالے ملزم عثمان مرزا کو پولیس نے عدالت پیش کر دیا

    مالی نے خاتون کے ساتھ زیادتی کے بعد دوستوں کو بلا لیا،اجتماعی درندگی کا ایک اور واقعہ

  • زمانے میں رہ کے رہے ہم اکیلے

    زمانے میں رہ کے رہے ہم اکیلے

    زمانے میں رہ کے رہے ہم اکیلے
    ہمیں راس آئے نہ دنیا کے میلے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    مشیر کاظمی ( شاعر پاکستان)
    یوم وفات : 8 دسمبر 1975
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    پاکستان کی فلم انڈسٹری کے مقبول ترین نغمہ نگار اور قومی گیت” اے راہ حق کے شہیدو ” کے حوالے سے لازوال شہرت حاصل کرکے ” شاعر پاکستان ” کا خطاب حاصل کرنے والے شاعر سید شبیر حسین المعروف مشیر کاظمی 22 اپریل یا 9 مئی 1924 کو ہندوستان کے شہر انبالہ میں پیدا ہوئے ۔ قیام پاکستان کے بعد وہ ہندوستان سے ہجرت کر کے قصبہ علی پور ضلع مظفر گڑھ پنجاب پاکستان میں آباد ہو گئے وہ پولیس میں بھرتی ہو گئے مگر وہاں معاشی اور سماجی حالات درست نہ ہونے کے باعث پولیس کی ملازمت چھوڑ کر لاہور منتقل ہو گئے۔ انہوں نے وہاں ابتدا میں صحافت کا شعبہ اپنا لیا وہ مختلف اخبارات اور رسائل کے مدیر بھی رہے ۔اسی دوران انہیں شاعری کا شوق ہوا ادیب فاضل کا امتحان پاس کرنے کے بعد 1952 میں شاعری شروع کر دی ۔ انہوں نے پہلے پہل لاہور میں بننے والی اردو فلم ” دوپٹہ” کے لیے 8 گیت لکھے جن میں ” چاندنی راتیں ” سمیت تمام کے تمام گیت ہٹ ہو گئے جس سے مشیر کاظمی شہرت کی بلندیوں پر پہنچ گئے اور وہ گیتوں اور نغموں کے حوالے سے پاکستان کی فلم انڈسٹری کی ضرورت بن گئے ۔ انہوں نے 76 اردو فلموں کے لیے 256 نغمے اور 8 پنجابی فلموں کے لیے 11 گیت لکھے ۔ 1965 کی پاک بھارت جنگ کے دوران انہوں نے

    اے راہ حق کے شہیدو تمہیں وطن کی ہوائیں سلام کرتی ہیں

    لکھ کر پاکستانی قوم کے دلوں میں اپنے لیے بہت بڑا مقام بنا لیا۔ مشیر کاظمی نے ریڈیو کی مشہور گلوکارہ روبینہ شاہین سے شادی کی تھی ۔ 8 دسمبر 1975 میں سید مشیر کاظمی کا لاہور میں انتقال ہوا۔ مشیر کاظمی کی شاعری سے چند مشہور ترین گیتوں اور نغمات میں سے چند ایک نغموں کے بول درج ذیل ہیں ۔

    اک حسن کی دیوی سے مجھے پیار ہوا تھا
    دل اس کی محبت میں گرفتار ہوا تھا

    چاندنی راتیں سب جگ سوئے ہم جاگیں
    تاروں سے کریں باتیں

    اک مسافر تھا کچھ دیر ٹھہرا رہا
    اپنی منزل کو آخر روانہ ہوا

    تم زندگی کو غم کا فسانہ بنا گئے
    آنکھوں میں انتظار کی دنیا بسا گئے

    شکوہ نہ کر گلہ نہ کر یہ دنیا ہے پیارے
    یہاں غم کے مارے تڑپتے رہے

    زمانے میں رہ کر رہے ہم اکیلے
    ہمیں راس آئے نہ دنیا کے میلے

    ہم چلے اس جہاں سے
    دل اٹھ گیا یہاں سے

    دھمال :. لال مری پت رکھیو بھلا جھولے لعلن
    سنھڑی دا سہون دا سخی شہباز قلندر

  • یوم پیدائش،محمد تقی بہار ،ایرانی شاعر

    یوم پیدائش،محمد تقی بہار ،ایرانی شاعر

    پیدائش:09 دسمبر 1886ء
    مشہد
    وفات:21 اپریل 1951ء
    تہران
    وجۂ وفات:سل
    طرز وفات:طبعی موت
    شہریت:ایران
    عارضہ:سل
    زبان:فارسی

    محمد تقی بہار ایرانی شاعر تھے۔ بہار شاعر ہونے کے علاوہ محقق، ادیب، معلم، مدیر اخبار اور سیاسی شخص تھے۔ مشہد میں پیدا ہوئے۔ والد کی وفات کے بعد ادیب نیشاپوری سے اصلاح لی۔ آصف الدولہ غلام رضا خاں کے توسط سے مظفر الدین شاہ نے ملک الشعراء کا خطاب عطا کیا۔ اور سالانہ وظیفہ بھی متعین ہوا۔ 1906ء میں ایران میں مشروطیت کا آغاز ہوا۔ تو انقلابیوں کے گروہ میں شامل ہو گئے۔ اور آزادی پر مقالات اور نظمیں لکھیں۔ نوبہار اور دانشکدہ جاری کیے۔ پانچ بار مجلس شوری ملی کے نمائندے منتخب ہوئے۔ رضا شاہ پہلوی کے عہد میں سیاست سے کنارہ کش ہوکر تصنیف و تالیف میں مصروف ہو گئے۔ دارالمعلمین عالی اور تہران یونیورسٹی میں پروفیسر بھی رہے۔ کچھ عرصہ وزارت تعلیمات کا قلمدان بھی سنبھا لا۔ بہت سی علمی و ادبی اور تحقیقی کتابوں کے مصنف تھے۔
    سوانح
    ۔۔۔۔۔
    مرزا محمد تقی نام، بہار تخلص، ملک الشعرا محمد کاظم صبوری کے صاحبزادے تھے۔ مشہد میں 9 0دسمبر 1886ء کو پیدا ہوئے اور عربی و فارسی کی تعلیم مشہد ہی میں حاصل کی۔ سترہ سال کے تھے کہ یتیم ہو گئے۔ تحصیل علم کے بعد غلام رضا خاں آصف الدولہ گورنر خراساں کے پاس پہنچے جنہوں نے مظفر الدین شاہ قاجار سے ملک الشعرا کا خطاب دلایا اور سالانہ وظیفہ مقرر کرا دیا۔
    سنہ 1906ء میں انقلاب ایران کے موقع پر ایک پرخلوص اور پرجوش انقلابی رکن رہے اور اپنی انقلابی نظموں سے مقبولیت حاصل کی۔ 1911ء میں "نوبہار” نامی روزنامہ جاری کیا۔ انقلابی ادب کی وجہ سے دوبار جلاوطنی ملی۔ حکومت نے اخبار بند کر دیا۔ حکومت کے دباؤ کیوجہ سے اکثر انقلابی اراکین تہران سے نکل گئے۔ بہار ان میں شریک تھے۔ جب واپس ہوئے تو دوبارہ اخبار جاری کیا۔ مجلس شعرا ملی کے رکن رہے اور پھر تصنیف و تالیف کو مشغلہ بنا لیا۔ اخباروں کے لیے کئی تحقیقی مقالات لکھے۔ ایک ناول "نیرنگ سیاہ پاکیزان سفید” کے نام سے لکھا۔
    تاریخ سیستان، مجمل التوائخ و القصص اور سبک شناسی ان کی اہم تالیفات میں شمار ہوتی ہیں۔ عبارت میں سلاست، جوش اور روانی ہے۔ قصیدہ کی طرز کے استاد تسلیم کیے جاتے ہیں اور ادبی تاریخ پر حاوی ہیں۔ مرض سل میں مبتلا ہو کر تہران میں 22 اپریل 1951ء کو انتقال کیا۔ مقبرہ ظہیر الدولہ، شمران میں دفن کیے گئے۔
    تخلیقات
    ۔۔۔۔۔
    منظومۂ چہار خطابہ، 1926ء
    اندرزہای آذرباد ماراسپندان
    (ترجمۂ منظوم از پہلوی)، 1933ء
    یادگار زریران
    (ترجمۂ منظوم از پہلوی)، 1933ء
    زندگانی مانی، 1934ء
    گلشن صبا، فتح علی خان صبا (تصحیح)، 1934ء
    احوال فردوسی، 1934ء
    تاریخ سیستان (تصحیح)، 1935ء
    رسالۂ نفس ارسطو
    ترجمۂ باباافضل کاشانی (تصحیح)، 1937ء
    مجمل‌التواریخ والقصص
    (تصحیح)، 1939ء
    منتخب جوامع‌الحکایات
    سدیدالدین عوفی (تصحیح)، 1945ء
    سبک شناسی، (تین جلد)
    ۔۔۔ 1942ء-1947ء
    تاریخ مختصر احزاب سیاسی
    (دو جلد)، 1942-1983ء
    دستور زبان فارسی پنج استاد
    (بہ ہمراہی قریب، فروزانفر
    رشید یاسمی، ہمایی)، 1950ء
    شعر در ایران، 1954ء
    تاریخ تطّور در شعر فارسی، 1955ء
    دیوان اشعار، تہران، 1956ء
    تاریخ بلعمی، ابوعلی محمدبن محمد بلعمی
    (تصحیح) (بہ کوشش محمد پروین گنابادی)، 1962ء
    فردوسی نامہ بہار
    (بہ کوشش محمد گلبن)، 1966ء
    رسالہ در احوال محمدبن جریر طبری
    بہار و ادب فارسی

  • پیپلز پارٹی.مسلم لیگ ن کے پارٹی فنڈزکی تحقیقات کی جلد سماعت کی درخواست منظور

    پیپلز پارٹی.مسلم لیگ ن کے پارٹی فنڈزکی تحقیقات کی جلد سماعت کی درخواست منظور

    اسلام آباد ہائی کورٹ ،پی ٹی آئی کی پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے پارٹی فنڈز کی جلد تحقیقات کی درخواست پر سماعت ہوئی

    پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے پارٹی فنڈز کی تحقیقات کی جلد سماعت کی درخواست منظور کر لی گئی ،عدالت نے رجسٹرار آفس کو فرخ حبیب کی درخواست 22 دسمبر کو سماعت کے لیے مقرر کرنے کی ہدایت کر دی،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چھٹیوں کے بعد کی تاریخ رکھ لیتے ہیں ، وکیل فیصل چودھری نے کہا کہ ہماری استدعا ہے کہ پہلے رکھ دیں دیر ہوجائے گی، چھوٹا سا مسئلہ ہے ،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چھوٹا مسئلہ تو ہے لیکن اگلے ہفتے آپکے باقی بڑے مسئلے بھی سماعت کے لیے مقرر ہیں ،ایسا کرتے ہیں پھر چھٹیوں سے پہلے سماعت کے لیے رکھ لیتے ہیں ،درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ عدالت پیپلز پارٹی،مسلم لیگ ن کی پانچ سال کی پارٹی فنڈز کی اسکروٹنی کا حکم دے، عدالت نے جلد سماعت کی درخواست منظور کرتے ہوئے سماعت 22 دسمبر تک ملتوی کردی

    واضح رہے کہ تحریک انصاف نے ن لیگ اور پیپلز پارٹی سمیت دیگر جماعتوں کے فارن فنڈنگ کیس کے فیصلے جلد کرنے کے لئے عدالت میں درخواست دائرکی تھی،درخواست تحریک انصاف کے رہنما فرح حبیب نے دائر کی، اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں الیکشن کمیشن کو فریق بنایا گیا ہے، پی ٹی آئی کی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کی طرح دیگر جماعتوں کے کیس سننے میں الیکشن کمیشن ناکام رہا پی ٹی آئی کی درخواست میں مزید کہا گیا کہ بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہو رہی ہے ،درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ جمہوریت کے تحفظ کیلئے پٹیشن میں اٹھائے گئے سوالات کا فیصلہ کیا جائے الیکشن کمیشن کو ہدایت کی جائے کہ دیگر جماعتوں کے ممنوعہ فنڈنگ کیسز کی روزانہ سماعت کی جائے

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

    اکبر ایس بابر سچا اور عمران خان جھوٹا ثابت ہوگیا،چوھدری شجاعت

    عمران خان چوری کے مرتکب پارٹی سربراہی سے مستعفی ہونا چاہیے،عطا تارڑ

    پی ڈی ایم اجلاس،عمران خان کے خلاف کارروائی سے متعلق غور

  • کراچی میں صبح 6 سے رات  11 بجے تک ہیوی ٹریفک کا داخلہ بند

    کراچی میں صبح 6 سے رات 11 بجے تک ہیوی ٹریفک کا داخلہ بند

    کراچی میں صبح 6سے رات11بجے تک ہیوی ٹریفک کا داخلہ بند

    سندھ ہائیکورٹ نے صبح 6 سے رات 11بجے تک کراچی شہر میں ہیوی ٹریفک کا داخلہ روکنے اور خلاف ورزی کرنے والوں کی گاڑیاں بند کرنے کا حکم دے دیا۔ جسٹس ندیم اختر کی سربراہی میں 2رکنی بینچ کے روبرو شہر میں ہیوی ٹریفک پر پابندی سے متعلق درخواست پر سماعت ہوئی۔ ڈی آئی جی ٹریفک عدالت میں پیش ہوئے اور رپورٹ جمع کرائی۔ جسٹس ندیم اختر نے استفسار کیا کہ پہلے والے ڈی آئی جی ٹریفک کہاں ہیں، کیا ان کا تبادلہ ہوگیا، کیا عدالت سے ان کے تبادلے کی اجازت لی گئی تھی؟ جسٹس ندیم اختر نے ریمارکس دیئے کہ اس سے پتہ چلتا ہے کہ محکمہ پولیس عدالت کے احکامات کو کتنی سنجیدگی سے لیتا ہے۔ جسٹس ندیم اختر نے ڈی آئی جی ٹریفک سے استفسار کیا کہ سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ کے ہیوی ٹریفک سے متعلق احکامات کا آپ کو علم ہے۔

    جس پر ڈی آئی جی ٹریفک نے بتایا کہ رات 11بجے سے صبح 6 بجے تک ہیوی ٹریفک شہر میں جاسکتا ہے۔ جسٹس ندیم اختر نے ریمارکس میں کہا کہ ہمیں صرف سپریم کورٹ کے احکامات پر عملدرآمد کرانا ہے۔ ہیوی ٹریفک کی وجہ سے کالج، اسکول، اسپتال، نوکری یا عدالت نہیں پہنچا جاسکتا، یہ آئین کے آرٹیکل 9 کیخلاف ہے۔ ڈی آئی جی نے بتایا کہ سندھ میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر جرمانہ بہت کم ہے۔ موٹرسائیکل والے پر بھی اتنا ہی جرمانہ ہوتا ہے، جتنا بائیس وھیلر والے پر ہوتا ہے۔ ہم اس میں ایف آئی آر بھی درج کریں گے اور گاڑیوں کو بند کریں گے۔

    مقررہ اوقات کے علاوہ ہیوی ٹریفک کا داخلہ نہیں ہوتا۔ جسٹس ندیم اختر نے ریمارکس میں کہا کہ انٹری پوائنٹس پر فوکس کریں، آپ کا کورس اور طریقہ کار درست نہیں، شہریوں کو کہیں کہ وہ سوشل میڈیا پر تاریخ اور وقت کے ساتھ وڈیوز اپ لوڈ کریں۔ جسٹس ندیم اختر نے اپنے ریمارکس میں مزید کہا کہ شہر میں جنگل کا قانون ہے، تیز لائٹس اور فینسی نمبر پلیٹس کیخلاف کوئی کارروائی نہیں کی جا رہی۔ ڈی آئی جی نے بتایا کہ فینسی نمبر پلیٹ والی 15 ہزار گاڑیوں کیخلاف کارروائی کی گئی ہے۔ جسٹس ندیم اختر نے کہا کہ قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کی گاڑیاں بند کریں۔ کوئی بھی ادارہ اس کام میں رکاوٹ ڈالے تو عدالت کو آگاہ کریں۔ نیلی پیلی لائٹس اور ہوٹر والی گاڑیوں کیخلاف بھی کارروائی کی جائے، خواہ وہ ایم این اے یا ایم پی ایز کی ہی کیوں نہ ہوں، کسی کے دباؤ میں نہ آئیں۔