Baaghi TV

Tag: تازہ ترین

  • کراچی؛ پولیس اہلکار کو قتل کرنے والا ملزم بیرون ملک فرار

    کراچی؛ پولیس اہلکار کو قتل کرنے والا ملزم بیرون ملک فرار

    کراچی؛ پولیس اہلکار کو قتل کرنے والا ملزم بیرون ملک فرارہو گیاہے.

    کراچی کے علاقے ڈیفنس میں فائرنگ کرکے شاہین فورس کے اہلکار کو قتل کرنے والا ملزم خرم نثار بیرون ملک فرار ہوگیا۔ ڈیفنس فیز فائیو میں 21 نومبر کی رات کو خرم نثار نامی شہری نے شاہین فورس کے اہلکار کو فائرنگ کرکے قتل کردیا تھا۔ پولیس ملزم کی گرفتاری کیلئے چھاپے مار رہی تھی اور ایگزیکٹ کنٹرول لسٹ میں نام ڈالنے کیلئے ایف آئی اے حکام کو خط بھی لکھ دیا تھا لیکن ملزم پولیس کو چکمہ دے کر منگل کی صبح چار بجے ایئرپورٹ پر بورڈنگ کرانے میں کامیاب ہوگیا اورساڑھے 6 بجے ٹرکش ایئرلائن کی فلائٹ سے بذریعہ استنبول سوئیڈن فرار ہوگیا۔

    پولیس نے ملزم کی گرفتاری کیلئے انٹرپول سے رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس کا پاسپورٹ بلاک کرنے کی بھی سفارش کردی ہے. خیال رہے کہ پیر کی رات 11 بج کر 40 منٹ پرموٹر سائیکل سوار دو اہلکاروں نے خرم نثار کی گاڑی کا تعاقب کیا تھا۔ پولیس کے دعوے کے مطابق گاڑی میں سے لڑکی کے چیخنے کی آوازیں آرہی تھیں جو کچھ فاصلے پر جاکر کار سے اترگئی۔ پولیس اہلکاروں نے گاڑی کو روکا اور عبدالرحمان نامی اہلکار خرم نثار کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ گیا تھا جس کے بعد دونوں میں تکرار ہوئی۔ دونوں نے گاڑی سے اترکر اسلحہ تانا اور خرم نے گولی چلادی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    آرمی چیف تقرری؛ وزیر دفاع نے وزیراعظم ہاؤس کو سمری موصول ہونے کی تصدیق کردی
    خبردار۔!ایوان اقتدارمیں تھرتھلی۔24گھنٹےاہم:اعظم سواتی،بیگم تہجدگزار،بیٹا شراب کا سوداگر۔ثبوت حاضر ہیں۔
    جی ایچ کیو نے آرمی چیف اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کی تعیناتی کی سمری بھجوا دی، آئی ایس پی آر
    گولی لگنے سے شاہین فورس کا اہلکار موقع پر ہی دم توڑ گیا جس کی نماز جنازہ پولیس ہیڈکوارٹر میں ادا کی گئی۔ اہلکار کے قتل کا مقدمہ انسداد دہشتگردی، قتل، پولیس مقابلے کی دفعات کے تحت درج کرلیا گیا۔ پولیس نے ملزم کی گاڑی قبضے میں لے لی ہے جبکہ چوکیدار اور دو رشتے داروں کو بھی حراست میں لیا ہے۔ ڈی آئی جی ساؤتھ عرفان بلوچ کا کہنا ہے کہ ملزم خرم نثار حال ہی میں سوئیڈن سے تعلیم حاصل کر کے وطن واپس لوٹا تھا۔

  • سپریم کورٹ،محکمہ پولیس میں سیاسی مداخلت سے تبادلے،آٹھ سالوں کا ریکارڈ طلب

    سپریم کورٹ،محکمہ پولیس میں سیاسی مداخلت سے تبادلے،آٹھ سالوں کا ریکارڈ طلب

    سپریم کورٹ،محکمہ پولیس میں سیاسی مداخلت سے تبادلے،آٹھ سالوں کا ریکارڈ طلب
    سپریم کورٹ ،محکمہ پولیس پنجاب میں سیاسی مداخلت پر تبادلوں سے متعلق کیس کی سماعت دو ہفتے تک ملتوی کر دی گئی

    سپریم کورٹ نے پنجاب حکومت سے سیاسی مداخلت سے متعلق پولیس افسران کے تبادلوں پر جواب طلب کر لیا سپریم کورٹ نے درخواست گزار وکیل کی استدعا پر مقدمے کا دائرہ وفاق اور دیگر صوبوں تک وسیع کردیا عدالت نے وفاق اور باقی صوبوں سے بھی پولیس میں ٹرانسفر پوسٹنگ پر جواب طلب کر لیا عدالت نے وفاق اور صوبوں سے 8سال میں محکمہ پولیس میں ٹرانسفر پوسٹنگ کا ریکارڈ طلب کر لیا سپریم کورٹ نے دو ہفتے میں وفاق اور صوبوں کو جواب جمع کرانے کا حکم دے دیا

    وکیل نے عدالت میں کہا کہ محکمہ پولیس میں سیاسی مداخلت پر افسران کے تبادلے عوامی اہمیت بنیادی حقوق کا معاملہ ہے ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پولیس افسران کے تسلسل کیساتھ تبادلوں سے پولیس کمانڈ اور کارکردگی سے فرق پڑتاہے،وکیل نے کہا کہ پولیس افسران کے تبادلے سیاسی مداخلت اور اثر رسوخ سے ہوتے ہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ڈی پی او لیہ کے تبادلہ سے متعلق ہیڈ لائن نہیں دیکھی،وکیل نے کہا کہ ڈی پی او لیہ کا تبادلہ مقامی سیاستدانوں کی مداخلت پر ایوان وزیر اعلی ٰسے ہوا، ڈیٹا کے مطابق پنجاب میں ڈی پی او کی اوسط ٹرم پانچ ماہ ہے،ڈیٹا کے مطابق 4 سال میں پنجاب میں 268 ڈی پی اوز کے تبادلے ہوئے،جسٹس عائشہ ملک نے وکیل سے استفسار کیا کہ یہ اعدادوشمار آپ نے کہاں سے حاصل کیے؟ وکیل نے عدالت میں کہا کہ یہ اعدادوشمار سی پی آفس سے حاصل کیے ہیں،دوران سماعت جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پولیس میں سیاسی تبادلوں سے کریمینل جسٹس سسٹم کی کارکردگی پر فرق پڑتا ہے،ان حالات میں افسران میں سیاسی اثرو رسوخ سے اعلی ٰعہدے حاصل کرنے کا رحجان بڑھتا ہے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وکیل درخواست گزار کے مطابق یہ معاملہ پنجاب تک محدود نہیں،اسلام آباد کے سابق آئی جی بڑے پڑھے لکھے اور سنجیدہ افسر تھے،سابق آئی جی اسلام آبادنےسندھ ہاوس پر حملہ کے معاملے کو اچھے انداز میں ڈیل کیا سابق آئی جی اسلام آباد بھی تبدیل ہوگئے،

    احتساب سب کا ہو گا،وقت دیتے ہیں، ذمہ داران کا تعین کر کے عدالت کو بتائیں، چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

    اہم پوسٹوں پر سیاسی مداخلت ناقابل برداشت ہے،چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کے ریمارکس

    وزیراعظم فلڈ ریلیف اکاؤنٹ 2022 میں عطیات جمع کرانے کی تفصیلات

    اتنی تباہی کہ اللہ کی پناہ،آنکھوں دیکھا حال،دل خون کے آنسو روتا ہے

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    عمران خان کو آرمی چیف سے کیا چاہئے؟ مبشر لقمان نے بھانڈا پھوڑ دیا

    عمران خان سے ڈیل کی حقیقت سامنے آ گئی

    دھویں دار مخبریاں، عمران خان نے اپنا کباڑہ کر لیا، نواز شریف کیلیے بری خبر

  • فارن ایکسچینج ایکٹ کے تحت مقدمہ،عمران خان کی ضمانت میں توسیع

    فارن ایکسچینج ایکٹ کے تحت مقدمہ،عمران خان کی ضمانت میں توسیع

    بینکنگ کورٹ اسلام آباد میں ممنوعہ فنڈنگ اورفارن ایکسچینج ایکٹ کے تحت مقدمے کی سماعت ہوئی

    ممنوعہ فنڈنگ کیس میں عمران خان سمیت دیگر ملزمان کی عبوری ضمانت میں 14 دسمبر تک توسیع کر دی گئی عدالت نے عمران خان اور فیصل مقبول کی طبی بنیادوں پر استثنیٰ کی درخواست منظور کرلی

    قبل ازیں فارن ایکسچینج ایکٹ کے تحت مقدمہ کے بعد سابق وزیراعظم عمران خان نے ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست دائرکی تھی، ،چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی جانب سے عدالت میں دائر درخواست میں استدعا کی گئی تھی کہ ایف آئی اے کو گرفتاری سے روکا جائے، عمران خان کی ضمانت دائر کرنے کے لیے قانونی ٹیم انتظار حسین پنجوتھہ اور علی اعجاز بٹر عدالت میں پیش ہوئے اور درخواست ضمانت دائر کی،

    واضح رہے کہ عمران خان سمیت 11 افراد کے خلاف فارن فنڈنگ کیس کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے فارن ایکسچینج ایکٹ کی خلاف ورزی کی، نجی بینک اکاؤنٹ کے بینفشری ہیں۔ درج ایف آئی آر کے مطابق نیا پاکستان کے نام پر بینک اکاؤنٹ بنایا گیا۔ سردار اظہر طارق، سیف اللہ نیازی، سید یونس، عامر کیانی، طارق شیخ اور طارق شفیع نامزد کئے گئے ہیں بینک منیجر نے غیر قانونی اکاؤنٹ آپریٹ کرنے کی اجازت دی،نجی بینک کے مینجر کے خلاف بھی مقدمہ درج کرلیا گیا بینک اکاونٹ میں ابراج گروپ آف کمپنی سے21 لاکھ ڈالرآئے تحریک انصاف نے عارف نقوی کا الیکشن کمیشن میں بیان حلفی جمع کرایا ابراج گروپ کمپنی نےتحریک انصاف کے اکاونٹ میں پیسے بھیجے بیان حلفی جھوٹا اور جعلی ہے، ووٹن کرکٹ کلب سے دو مزید اکاونٹ سے رقم وصول ہوئی نجی بینک کے سربراہ نے مشتبہ غیر قانونی تفصیلات میں مدد کی11 لوگوں نے جرم کیا ہے

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

    اکبر ایس بابر سچا اور عمران خان جھوٹا ثابت ہوگیا،چوھدری شجاعت

    عمران خان چوری کے مرتکب پارٹی سربراہی سے مستعفی ہونا چاہیے،عطا تارڑ

    پی ڈی ایم اجلاس،عمران خان کے خلاف کارروائی سے متعلق غور

    حامد زمان کے خلاف فارن فنڈنگ کیس میں ایف آئی اے تحقیقات سے متعلق رپورٹ

  • فیفا ورلڈ کپ؛ میچز کی تکمیل میں غیر معمولی تاخیر پرشائقین برہم

    فیفا ورلڈ کپ؛ میچز کی تکمیل میں غیر معمولی تاخیر پرشائقین برہم

    فیفا ورلڈ کپ میچز کی تکمیل میں غیر معمولی تاخیرپر سوالات اٹھ گئے.

    فٹبال ورلڈکپ میچز کی تکمیل میں غیر معمولی تاخیر پر سوالات اٹھ گئے جب کہ ابتدائی 4مقابلوں میں مجموعی طور پر 64منٹ اضافی دینے کی ضرورت پڑی۔ قطر میں جاری فٹبال ورلڈکپ کے ابتدائی میچز ہی ریکارڈ تاخیر سے مکمل ہورہے ہیں،اس سے قبل کسی ایونٹ میں وقت کا اتنا ضیاع نہیں ہوا، 1966سے ریکارڈز مرتب کرنے کا سلسلہ شروع ہوا تھا، اس وقت سے اب تک پیر کو کھیلے جانے والے میچز کے 4ہاف میں سب سے زیادہ اسٹاپیج ٹائم نوٹ کیا گیا۔

    انگلینڈ اور ایران کے میچ کے پہلے ہاف میں 14منٹ اور 8سیکنڈز، دوسرے میں 13منٹ اور 8سکینڈز اضافی دینا پڑے،پہلے ہاف میں ایرانی گول کیپر علی رضا کی ہیڈ انجری کی وجہ سے 2 بار طبی امداد فراہم کی گئی مگر وہ کھیل جاری نہ رکھ سکے۔ امریکا اور ویلز،نیدر لینڈز اور سینیگال کے مقابلوں کے دوسرے ہاف میں بھی 10منٹ سے زیادہ اضافی وقت کی ضرورت پڑی،عام طور پر بھی فٹبال میچز میں ایسا نہیں ہوتا، پہلے 4میچز میں مجموعی طور پر 64منٹ کے اضافی وقت کی ضرورت پڑی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    آرمی چیف تقرری؛ وزیر دفاع نے وزیراعظم ہاؤس کو سمری موصول ہونے کی تصدیق کردی
    خبردار۔!ایوان اقتدارمیں تھرتھلی۔24گھنٹےاہم:اعظم سواتی،بیگم تہجدگزار،بیٹا شراب کا سوداگر۔ثبوت حاضر ہیں۔
    جی ایچ کیو نے آرمی چیف اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کی تعیناتی کی سمری بھجوا دی، آئی ایس پی آر
    فیفا ریفریز چیف پیرلوگی کولینا کا کہنا ہے کہ ہم نے گذشتہ ہفتے ہی میچ آفیشلز کو ہدایت دی تھی کہ اسٹاپیج ٹائم کا بڑے محتاط انداز میں خیال رکھیں، کسی ہاف میں کھیل کا اصل وقت 45منٹ سے کم نہیں ہونا چاہیے،متبادل کھلاڑیوں کی طلبی،پنالٹیز،گول کے جشن اور طبی امداد و ریویو میں ضائع ہونے والے وقت کی تلافی ضروری ہے۔ وس میں ہونے والے ورلڈکپ 2018میں بھی ایک ہاف میں 7سے 8منٹ کا اضافی وقت استعمال ہوتا رہا،بہرحال ریفریز کو وقت کا ضیاع کم سے کم کرنے کی ہدایت کردی گئی ہے۔

  • ہیلی پیڈ سروس ہائی کورٹ تو نہیں دے سکتی، چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

    ہیلی پیڈ سروس ہائی کورٹ تو نہیں دے سکتی، چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

    ہیلی پیڈ سروس ہائی کورٹ تو نہیں دے سکتی، چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ
    پی ٹی آئی جلسے کے لیے اسلام آباد سے گزرنے اورپریڈ گراؤنڈ ہیلی کاپٹر اتارنے کی اجازت کیس کی اسلام آباد ہائیکورٹ میں سماعت ہوئی

    دوران سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ استدعا ہے میں ان کو ہدایات دوں جو میں نہیں دے سکتا، یہ انتظامیہ کام ہے جو درخواست انتظامیہ کو دی گئی وہ ابھی مسترد تو نہیں ہوئی ؟ پی ٹی آئی وکیل نے کہا کہ ہم نے اس سے قبل روات میں بھی ریلی کی درخواست دی تھی ،عمران خان ہیلی کاپٹر پر اسلام آباد آئیں گے اس کی بھی اجازت مانگی ہے ،جس پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ تو اسلام آباد ہائی کورٹ کیا کر سکتی ہے ؟ہیلی پیڈ سروس ہائی کورٹ تو نہیں دے سکتی ، وکیل نے کہا کہ آپ انتظامیہ کو ہدایت دیں کہ وہ قانون کے مطابق ہماری درخواست پر فیصلہ کریں ، جس پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وہ تو انتظامیہ نے قانون کے مطابق ہی کرنا ہے میں یہ تو نہیں کہوں گا

    واضح رہے کہ گزشتہ روز راولپنڈی جلسے تک رسائی کے لیے اسلام آباد سے گزرنے کی اجازت پر ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی تھی،درخواست پی ٹی آئی کی جانب سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر کی گئی، اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ 26نومبر کو راولپنڈی جلسے تک جانے کیلئے اسلام آباد سے گزرنے کی اجازت دی جائے، عمران خان کے ہیلی کاپٹر کو پریڈ گراونڈ استعمال کرنے کی اجازت بھی دی جائے ،پریڈ گراونڈ میں ہیلی کاپٹر کو لینڈنگ اور ٹیک آف کی اجازت دی جائے، کارکنوں کو ہراساں کرنے سے روکنے کے احکامات بھی جاری کیے جائیں ،

    واضح رہے کہ عمران خان وزیر آباد میں مبینہ حملے کے بعد لاہور زمان پارک آ گئے،وزیر آباد سے دوسرے مرحلے کے لانگ مارچ کا آغاز ہوا تھا تا ہم ہفتے کو عمران خان نے اعلان کیا کہ لانگ مارچ ختم اب پنڈی میں پڑاؤ ہو گا، کارکنان پنڈی پہنچیں ، عمران خان لاہور سے پنڈی ہیلی کاپٹر کے‌ذریعے جانا چاہتے ہیں، اس ضمن میں انہوں نے آج عدالت میں درخواست دائر کی ہے

    حکومت کے خلاف تحریک آخری مرحلے کے لیے پی ٹی آئی نے منصوبہ بندی کر لی، پی ٹی آئی کے قافلے 25 اور 26 نومبر کو راولپنڈی پہنچیں گے،پی ٹی آئی شرکاریلی کی بجائے قافلوں کی صورت میں راولپنڈی روانہ ہوں گے، لاہور سے پی ٹی آئی کے قافلے 26 نومبر کی صبح 9 بجے روانہ ہوں گے،ارکان قومی و صوبائی اسمبلی ، ٹکٹ ہولڈرز قافلوں کی صورت میں روانہ ہوں گے، قافلوں کی قیادت تحریک انصاف سینٹرل پنجاب کی اعلیٰ قیادت کرے گی،جنوبی پنجاب اور دور دراز سے قافلے 25 نومبر کی شام کو راولپنڈی پہنچیں گے، قافلوں کے قیام و طعام کے لیے اقبال پارک میں خیمہ بستی قائم کی جائے گی،پی ٹی آئی لانگ مارچ، خیبر پختونخوا سے قافلے 26 نومبر کو روانہ ہوں گے،خیبر اور مہمند کے قافلے پشاور ٹول پلازہ سے صبح 9 بجے روانہ ہونگے،چارسدہ کا قافلہ نستہ موٹروے ٹول پلازہ سے صبح ساڑھے 9بجے روانہ ہوگا مردان کا قافلہ صبح 10 ، مالاکنڈ سوا10 بجے کرنل شیر انٹر چینج سےروانہ ہوگا،صوابی کا قافلہ ٹول پلازہ سے پونے 11 ، نوشہرہ کاصوابی ریسٹ ایریا سے صبح 11 بجے روانہ ہوگاہزارہ ریجن کے قافلے ہزارہ موٹر وے سے ساڑھے 11 بجے روانہ ہونگے، خیبرپختونخواکےقافلےساڑھے 12بجے راولپنڈی، مری روڈ فیض آباد پہنچیں گے،جنوبی اضلاع کے قافلوں کی نگرانی صوبائی سیکریٹری جنرل علی امین گنڈا پور کرینگے،

    کارکن تپتی دھوپ میں سڑکوں پرخوار،موصوف ہیلی کاپٹر پرسوار،مریم کا عمران خان پر طنز

    خیبرپختونخوا حکومت کا ہیلی کاپٹر جلسوں میں استعمال کیا جا رہا ہے،وفاقی وزیر اطلاعات

    وہ کون ہے جس نے احسان فراموش عمران خان کیلیے ملک کی بقا کی خاطر سب کچھ کیا؟

    دوسری جانب وزیراعظم کے مشیر اور ن لیگ کے رہنما عطا تارڑ کا کہنا ہے کہ عمران خان اسلام آباد انتشار پھیلانےآرہا ہےاس بار انتشار پھیلانے نہیں دیا جائے گا اگر عمران خان نےاین او سی کی خلاف ورزی کی تو سختی سے نمٹا جائے گا عمران خان کو اسلام آباد میں ہیلی کاپٹر کی غیرقانونی لینڈنگ نہیں کرنے دی جائے گی جو پائلٹ یہ کرے گا سول ایوی ایشن اس کا لائسنس کینسل کرے گی

  • لاہور میں پولیس مقابلے کے دوران کھڑی ٹریکٹر ٹرالی سے ٹکرا کر دو ڈاکوہلاک

    لاہور میں پولیس مقابلے کے دوران کھڑی ٹریکٹر ٹرالی سے ٹکرا کر دو ڈاکوہلاک

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں مبینہ پولیس مقابلے کے دوران دو ڈاکو ٹریکٹر ٹرالی سے ٹکرا کر ہلاک ہو گئے جبکہ ایک ڈاکو کو پولیس نے گرفتار کر لیا

    واقعہ مغلپورہ کے علاقے میں پیش آیا،ڈولفن ترجمان کے مطابق ڈولفن ٹیم 308 معمول کی گشت پر تھی کہ 15 کی کال موصول ہوئی کہ 3 مسلح نا معلوم ملزمان نے علاقہ تھانہ مغل پورا سے واردات کی اور ہے فرار ہو گئے ہیں، جس کے بعد ڈولفن اہلکار الرٹ ہو گئے اور بھوگیوال روڈ جانب بند روڈ 3 افراد کو مشکوک جان کر روکا تو انہوں نے ڈولفن ٹیم کو دیکھتے ہی فرار ہونے کی کوشش کی ڈولفن نے تعاقب کیا تو انہوں نے سیدھے ڈالفن پر فائرنگ شروع کر دی اور فرار ہونے کی کوشش کی ،اسی دوران شادباگ گندھی بمبئ سروس روڈ پر ایک ٹریکٹر ٹرالی کھڑا تھا جس سے ملزمان ٹکڑا گئے۔جس کے نتیجہ میں دو ملزمان موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے اور ایک کو گرفتار کر لیا گیا ہے

    گرفتار ملزم کی شناخت علی ولد محمد بوٹا سکنہ بھما جھگیاں کے طور پر ہوئی جبکہ ہلاک ہونے والے کی شناخت فدا سکنہ بھما جھگیاں ،پیرا سکنہ بھما جھگیاں کے طور پر ہوئی، ملزمان کے قبضہ سے موقع پر 2 پسٹل 6 عدد موبائل مسروقہ 2 عدد گھڑیاں برآمد ہوئی ہیں

    شوہرکے موبائل میں بیوی نے دیکھی لڑکی کی تصویر،پھر اٹھایا کونسا قدم؟

    خاتون پولیس اہلکار کے کپڑے بدلنے کی خفیہ ویڈیو بنانے پر 3 کیمرہ مینوں کے خلاف کاروائی

    جنسی طور پر ہراساں کرنے پر طالبہ نے دس سال بعد ٹیچر کو گرفتار کروا دیا

    ایم بی اے کی طالبہ کو ہراساں کرنا ساتھی طالب علم کو مہنگا پڑ گیا

  • ترکیہ: استنبول میں 6.1 شدت کا زلزلہ متعدد افراد زخمی

    ترکیہ: استنبول میں 6.1 شدت کا زلزلہ متعدد افراد زخمی

    ترکیہ: استنبول میں 6.1 شدت کا زلزلہ، 22 افراد زخمی
    ترکیہ کے شمال مغرب میں 6.1 کی شدت کا زلزلے کے نتیجے میں 22 افراد زخمی ہوگئے تاہم بھاری نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ غیر ملکی خبر رساں ادارہ اے ایف پی کے مطابق قومی حکام کا کہنا ہے کہ امریکی جیولوجیکل سروے زلزلے کی شدت 5.9 تھی جو 6.1 سے کم تھی اور اس کا مرکز صوبے ڈوزے کے ضلع گولیا تھا، تاہم زلزلے کے جھٹکے دیگر شہروں میں بھی محسوس کیے گئے۔

    زلزلے کا مرکز استنبول سے 170 کلومیٹر دور اور زمین میں دس کلو میٹر نیچے گہرائی میں تھا۔ ضلع گولیا کی رائیشی فاطمہ کولک نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’صبح سویرے ایک تیز آواز سے ہماری آنکھ کھلی، خوف زدہ ہوکر ہم گھر سے باہر نکل آئے‘۔ ترکیہ کی وزیر صحت فرحتین کوکا نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ زلزلہ میں 22 افراد زخمی ہوئے ہیں، زخمیوں میں ایک شخص نے خوف زدہ ہوکر عمارت سے چھلانگ لگا دی تھی جس کی وجہ سے وہ شدید زخمی ہوگیا اور اس کی حالت تشویش ناک ہے۔


    ابتدائی تصاویر سے معلوم ہوتا ہے کہ زلزلے کے بعد کئی شہری اپنے گھروں سے باہر نکل کر سڑکوں پر موجود تھے، کئی شہری سردی سے بچنے کے لیے کمبل یا چادر میں لپٹے ہوئے تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ زلزلے کے باعث صوبے ڈوزے میں اسکول بند رہیں گے۔ وزیرداخلہ سلیمان سولیو نے بتایا کہ زلزلے کے باعث چند گودام تباہ ہوئے اس کے علاوہ بھاری نقصان یا عمارت گرنے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    آرمی چیف تقرری؛ وزیر دفاع نے وزیراعظم ہاؤس کو سمری موصول ہونے کی تصدیق کردی
    خبردار۔!ایوان اقتدارمیں تھرتھلی۔24گھنٹےاہم:اعظم سواتی،بیگم تہجدگزار،بیٹا شراب کا سوداگر۔ثبوت حاضر ہیں۔
    جی ایچ کیو نے آرمی چیف اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کی تعیناتی کی سمری بھجوا دی، آئی ایس پی آر
    خیال رہے کہ جنوری 2020 میں ترکیہ کے شہر ایلازیگ میں 6.8 شدت کا زلزلہ آیا تھا جس کے نتیجے میں 40 سے زائد افراد جاں بحق ہو گئے تھے، اُسی سال نومبر میں بحیرہ ایجیئن میں 7.0 شدت کا زلزلے آیا تھا جس کی شدت بہت زیادہ تھی، زلزلے کے نتیجے میں 114 افراد جاں بحق جبکہ 1000 زخمی ہو گئے تھے۔ اس سے قبل 1999 میں ترکی کے شمال مشرقی علاقوں میں زلزلے کے نتیجے میں کم از کم 17 ہزار افراد ہلاک ہو گئے تھے جس میں سے ایک ہزار سے زائد استنبول میں مارے گئے تھے۔

  • یہی خیال رہا پتھروں کی بارش میں

    یہی خیال رہا پتھروں کی بارش میں

    یہی خیال رہا پتھروں کی بارش میں
    کہیں انہیں میں کوئی سنگ کوئے یار نہ ہو

    پیدائش:20 جنوری 1925ء
    دہلی، برطانوی راج
    (موجودہ بھارت)
    وفات:23 نومبر 2015ء
    کراچی
    شہریت:پاکستان
    قومیت:مملکت متحدہ (1926-47)
    پاکستان (1947-2015)
    مذہب:اسلام
    جماعت:متحدہ قومی موومنٹ
    پاکستان پیپلز پارٹی
    زوجہ:طیّبہ بانو
    والدین:نواب سر امیرالدین احمد خاں
    سیّدہ جمیلہ بیگم
    مادر علمی:دہلی یونیورسٹی
    جامعہ کراچی
    پیشہ:سول سرونٹ، شاعر، سفرنامہ نگار، کالم نگار، ادیب
    زبان:اردو
    پیشہ ورانہ زبان:انگریزی، اردو
    دور فعالیت:1951-2015

    جمیل الدین عالی (20 جنوری، 1925ء – 23 نومبر، 2015ء) اردو کے مشہور شاعر، سفرنامہ نگار، کالم نگار، ادیب اور کئی مشہور ملی نغموں کے خالق تھے۔
    حالات زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    نواب زادہ مرزا جمیل الدین عالی، ہزہائی نس نواب سر امیر الدین احمد خان فرخ مرزا آف لوہارو کے ساتویں صاحبزادے ہیں۔ 20 جنوری 1925ء کو دہلی میں پیدا ہوئے۔ ان کی والدہ کا نام سیّدہ جمیلہ بیگم تھا۔ جو نواب سر امیر الدین کی چوتھی بیوی اور اور سیّد خواجہ میر درد کی پڑپوتی تھیں۔ بارہ سال کی عمر میں عالی اپنے والد کے سایۂ شفقت سے محروم ہو گئے۔ 1940ء میں اینگلوعربک اسکول دریا گنج دہلی سے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ 1945ء میں اینگلو عربک کالج سے معاشیات، تاریخ اور فارسی میں بی اے کیا۔ 1951ء میں سی ایس ایس کا امتحان پاس کیا اور پاکستان ٹیکسیشن سروس کے لیے نامزد ہوئے۔ 1971ء میں جامعہ کراچی سے ایف ای ایل 1976ء میں ایل ایل بی سیکنڈ ڈویژن میں پاس کر کے ملازمت کا آغاز کیا۔ 1948ء میں حکومت پاکستان وزارت تجارت میں بطور اسسٹنٹ رہے۔ 1951ء میں سی ایس ایس کے امتحان میں کامیابی کے بعد پاکستان ٹیکسیشن سروس ملی اور انکم ٹیکس افسر مقرر ہوئے۔ 1963ء میں وزارت تعلیم میں کاپی رائٹ رجسٹرار مقرر ہوئے۔ اس دوران میں اقوام متحدہ کے ثقافتی ادارے یونیسکو میں فیلو منتخب ہوئے۔ اس کے بعد دوبارہ وزارت تعلیم میں بھیج دیا گیا۔ لیکن فوراً گورنمنٹ نے عالی صاحب کو ڈیپوٹیشن پر نیشنل پریس ٹرسٹ بھیج دیا جہاں پر انہوں نے سیکرٹری کی حیثیت سے کام کیا۔ 1967ء میں نیشنل بینک آف پاکستان سے وابستہ ہوئے اور سینٹر ایگزیکٹو وائس پریزیڈنٹ کے عہدے تک پہنچے وہاں سے ترقی پا کر پاکستان بینکنگ کونسل میں پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ایڈوائزر مقرر ہوئے۔ جمیل الدین عالی کی متعدد تصانیف شائع ہو چکی ہیں۔ ان کو بہت سے ایوارڈز سے بھی نوازا گیا۔ آپ کو 1989ء میں صدارتی تمغا برائے حسن کارکردگی بھی ملا۔
    وفات
    ۔۔۔۔۔
    ان کا انتقال 23 نومبر، 2015ء کو کراچی میں ہوا۔ ان کی تدفین کراچی میں آرمی کے بیزرٹا قبرستان میں ہوئی۔
    شاعری
    ۔۔۔۔۔
    عالی جس طرح کئی سطحوں پر زندگی گزارتے ہیں ویسے ہی ان کی تخلیقی اظہار کئی سطحوں پر ہوتا رہتا ہے۔ تام انہوں نے دوہا نگاری میں کچھ ایسا راگ چھیڑ دیا ہے یا اردو سائکی کے کسی ایسے تار کو چھو دیا ہے کہ دوہا ان سے اور وہ دوہے سکے منسوب ہو کر رہ گئے ہیں۔ انہوں نے دوہے کی جو بازیافت کی ہے اور اسے بطور صنف شعر کے اردو میں جو استحکام بخشا ہے وہ خاص ان کی دین ہو کر رہ گیا ہے۔ عالی اگر اور کچھ نہ بھی کرتے تو بھی یہ ان کی مغفرت کے لیے کافی تھا کیونکہ یہ ان کی مغفرت کے لیے کافی تھا۔ کیونکہ شعر گوئی میں کمال توفیق کی بات سہی، لیکن یہ کہیں زیادہ توفیق کی بات ہے کہ تاریخ کا کوئی موڑ، کوئی رخ، کوئی نئی جہت، کوئی نئی راہ، چھوتی یا بڑی کسی سے منسوب ہو جائے۔
    کتابیات
    ۔۔۔۔۔
    ۔ (1)لا حاصل:شاعری
    ۔ (2)بس اِک گوشۂ بساط:
    ۔ خاکے،مضامین اور تاثرات
    ۔ (3)آئس لینڈ:سفرنامہ
    ۔ (4)کارگاہِ وطن:کالموں کا مجموعہ
    ۔ (5)بارگاہِ وطن:کالموں کا مجموعہ
    ۔ (6)دوہے:شاعری (دوہے)
    ۔ (7)حرف چند:انجمن ترقی اُردو کی
    ۔ کتابوں پر لکھے گئے مقدمے
    ۔ (8)انسان:شاعری (طویل نظمیہ)
    ۔ (9)وفا کر چلے:کالموں کا مجموعہ
    ۔ (10)صدا کر چلے:کالموں کا مجموعہ
    ۔ (11)دعا کر چلے:کالموں کا مجموعہ
    ۔ (12)اے مرے دشت سخن :اعری
    ۔ (13)تماشا مرے آگے:سفرنامہ
    ۔ (14)دنیا مرے آگے:سفرنامہ
    ۔ (15)جیوے جیوے پاکستان:شاعری
    ۔ (قومی و ملی نغمے)
    ۔ (16)غزلیں، دوہے، گیت:شاعری
    اعزازات
    ۔۔۔۔۔
    ۔ (1)ہلال امتیاز (2004)
    ۔ (2)تمغا حسن کارکردگی (1991)
    ۔ (3)آدم جی ادبی انعام (1960)
    ۔ (4)داؤد ادبی ایوارڈ (1963)
    ۔ (5)یونائٹڈ بینک ادبی ایوارڈ (1965)
    ۔ (6)حبیب بینک ادبی ایوارڈ (1965)
    ۔ (7)کینیڈین اردو اکیڈمی ایوارڈ (1988)
    ۔ (8)سنت کبیر ایوارڈ – اردو کانفرنس دہلی (1989)

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    حقیقتوں کو فسانہ بنا کے بھول گیا
    میں تیرے عشق کی ہر چوٹ کھا کے بھول گیا
    ذرا یہ دورئ احساس‌ حسن و عشق تو دیکھ
    کہ میں تجھے ترے نزدیک آ کے بھول گیا
    اب اس سے بڑھ کے بھی وارفتگئ دل کیا ہو
    کہ تجھ کو زیست کا حاصل بنا کے بھول گیا
    گمان جس پہ رہا منزلوں کا اک مدت
    وہ رہ گزار بھی منزل میں آ کے بھول گیا
    اب ایسی حیرت و وارفتگی کو کیا کہیے
    دعا کو ہاتھ اٹھائے اٹھا کے بھول گیا
    دل و جگر ہیں کہ گرمی سے پگھلے جاتے ہیں
    کوئی چراغ تمنا جلا کے بھول گیا

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    بیان درد محبت جو بار بار نہ ہو
    کوئی نقاب ترے رخ کی پردہ دار نہ ہو
    سلام شوق کی جرأت سے دل لرزتا ہے
    کہیں مزاج گرامی پہ یہ بھی بار نہ ہو
    کرم پہ آئیں تو ہر ہر ادا میں عشق ہی عشق
    نہ ہو تو ان کا تغافل بھی آشکار نہ ہو
    یہی خیال رہا پتھروں کی بارش میں
    کہیں انہیں میں کوئی سنگ کوئے یار نہ ہو
    ابھی ہے آس کہ آخر کبھی تو آئے گا
    وہ ایک لمحہ کہ جب تیرا انتظار نہ ہو
    بہت فریب سمجھتا ہوں پھر بھی اے عالیؔ
    میں کیا کروں اگر ان پر بھی اعتبار نہ ہو

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    یہ جو بڑھتی ہوئی جدائی ہے
    شاید آغاز بے وفائی ہے
    تو نہ بدنام ہو اسی خاطر
    ساری دنیا سے آشنائی ہے
    کس قدر کش مکش کے بعد کھلا
    عشق ہی عشق سے رہائی ہے
    شام غم میں تو چاند ہوں اس کا
    میرے گھر کیا سمجھ کے آئی ہے
    زخم دل بے حجاب ہو کے ابھر
    کوئی تقریب رو نمائی ہے
    اٹھتا جاتا ہے حوصلوں کا بھرم
    اک سہارا شکستہ پائی ہے
    جان عالیؔ نہیں پڑی آساں
    موت رو رو کے مسکرائی ہے

  • کعبے سے  غرض اس کو نہ بت خانے سے مطلب

    کعبے سے غرض اس کو نہ بت خانے سے مطلب

    کعبے سے غرض اس کو نہ بت خانے سے مطلب
    عاشق جو ترا ہے نہ ادھر کا نہ ادھر کا

    پیدائش: 17 56ء
    دہلی
    وفات:23 نومبر 1838ء
    حیدرآباد، دکن، ریاست حیدر آباد

    شاہ نصیر دہلوی یا محمد نصیر الدین ناصر (پیدائش: 1756ء— وفات: 23 نومبر 1838ء) اٹھارہویں اور اُنیسویں صدی کے ابتدائی چار عشروں تک اردو زبان کے مشہور شاعر، میر تقی میر، مرزا غالب اور اُستاد ابراہیم ذوق کے ہم عصر تھے۔تخلص نصیر تھا۔
    وفات
    ۔۔۔۔۔۔
    شاہ نصیر نے 23 نومبر 1838ء کو 81 یا 82 سال کی عمر میں حیدر آباد، دکن میں وفات پائی۔ حیدرآباد، دکن میں درگاہ حضرت موسیٰ قادری میں دفن ہوئے۔ مؤرخین نے مادۂ تاریخ ’’چراغ گل‘‘ سے نکالا ہے۔
    کلام
    ۔۔۔۔۔۔
    اُن کے کلام کو خصوصی حیثیت طویل ردیفوں کے مربوط شکل اور ہم رِشتہ ہونے کی وجہ سے حاصل ہے۔وہ اِنتہائی مشکل زمین میں اِنتہائی خوبصورت شعر اور غزل کہنے میں ملکہ رکھتے تھے۔

    نصیرؔ :۔ سنگلاخ زمینوں اور مشکل ردیف و قوافی کی جو ابتدا ء سوداؔ کے زمانے سے شروع ہوچکی تھی وہ انشاؔ و مصحفیؔ سے گزر کرتا شاہ نصیرؔ کے کلام میں انتہا تک پہنچ گئی اور حقیقت یہ ہے کہ پرانے معیار پر اگر ان کا کلام جانچا جائے تو انھیں سرتاج الشعراء کہا جاسکتا ہے۔ طبیعت کی روانی، کثرتِ مشق اور زور و جوش نے ان کے کلام کو گرما گرم بنا دیا تھا ۔ پڑھنے کا انداز بھی نرالاتھا، آواز الگ پاٹ دار چنانچہ مشاعروں میں دھوم دھام پیدا کردیتے تھے۔ مصحفیؔ نے ان کے کلام کا زور شور سنا تھا لیکن لکھنوی شعراء ان کی استادی کے زعم میں شریک تھے۔ (الخ) آزادؔ کی رائے میں ان کے کلام کے متعلق زیادہ صحیح ہے لکھتے ہیں : ان کے کلام کو اچھی طرح دیکھا گیا۔ زبان شکوہ الفاظ اور چستی تراکیب میں سوداؔ کی زبان تھی اور گرمی و لذت خدا داد تھی۔ انھیں اپنی نئی تشبیہوں اور استعاروں کا دعویٰ تھا اور یہ دعویٰ بجا تھا۔ نئی نئی زمینیں نہایت برجستہ اور پسندیدہ نکالتے تھے مگر ایسی سنگلاخ ہوتی تھیں کہ بڑے بڑے شہ سوار تقدم نہ مارتے تھے۔ تشبیہہ و استعار ے کو لیا ہے اور نہایت آسانی سے برتا ہے جسے اکثر زبست انشاء پرداز نا پسند کرکے کم استعدادی کا نتیجہ نکالتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ تشبیہہ یا استعارہ شاعرانہ نہیں پھبتی ہے مگر یہ ان کی غلطی ہے۔ اگر وہ ایسا نہ کہتے تو کلام سریع الفہم کیوں کر ہوتا اور ہم ایسی سنگلاخ زمینوں میں گرم گرم شعر کیوں کر سنتے۔ دہلی میں جو بوڑھے استاد مثلاً فراق، قاسم، عظیم بیگ وغیرہ رہ گئے تھے ان کے دعوؤں کو سنتے لیکن چپ نہ کرسکتے تھے۔ جن سنگلاخ زمینوں میں یہ دو غزلے کہتے، دوسروں کو غزل پوری کرنا مشکل ہوتی۔ غرض کہ نصیرؔ ایک زبردست شاعر تھے۔ وہ قدیم الفاظ جو انشاؔ و مصحفیؔ تک باقی تھے مثلاً ٹک وا چھڑے تس پر وغیرہ انھوں نے ترک کردیئے لیکن آئے ہے، جائے ہے وغیرہ افعال کو برقرار رکھا ہے مشکل ردیف قافیے میں بغیر تشبیہہ و استعارے کے بات نہیں بنتی۔ نصیرؔ کا تخیئل و تصور اس میں منجھا ہوا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ نہایت آسانی سے سنگلاخ زمینوں میں کامیاب رہتے ہیں۔

    اشعار
    ۔۔۔۔۔۔
    مشکل ہے روک آہ دل داغ دار کی
    کہتے ہیں سو سنار کی اور اک لہار کی

    کعبے سے غرض اس کو نہ بت خانے سے مطلب
    عاشق جو ترا ہے نہ ادھر کا نہ ادھر کا

    بوسۂ خال لب جاناں کی کیفیت نہ پوچھ
    نشۂ مے سے زیادہ نشۂ افیوں ہوا

    غرور حسن نہ کر جذبۂ زلیخا دیکھ
    کیا ہے عشق نے یوسف غلام عاشق کا

    خیال زلف دوتا میں نصیرؔ پیٹا کر
    گیا ہے سانپ نکل تو لکیر پیٹا کر

    جوں موج ہاتھ ماریے کیا بحر عشق میں
    ساحل نصیرؔ دور ہے اور دم نہیں رہا

    رکھ قدم ہشیار ہو کر عشق کی منزل میں آہ
    جو ہوا اس راہ میں غافل ٹھکانے لگ گیا

    نصیرؔ اس زلف کی یہ کج ادائی کوئی جاتی ہے
    مثل مشہور ہے رسی جلی لیکن نہ بل نکلا

    شیخ صاحب کی نماز سحری کو ہے سلام
    حسن نیت سے مصلے پہ وضو ٹوٹ گیا

    میں اس کی چشم کا بیمار ناتواں ہوں طبیب
    جو میرے حق میں مناسب ہو وہ دوا ٹھہرا

    سو بار بوسۂ لب شیریں وہ دے تو لوں
    کھانے سے دل مرا ابھی شکر نہیں پھرا

    آنکھوں سے تجھ کو یاد میں کرتا ہوں روز و شب
    بے دید مجھ سے کس لیے بیگانہ ہو گیا

    کیوں مے کے پینے سے کروں انکار ناصحا
    زاہد نہیں ولی نہیں کچھ پارسا نہیں

    کی ہے استاد ازل نے یہ رباعی موزوں
    چار عنصر کے سوا اور ہے انسان میں کیا

    خیال ناف بتاں سے ہو کیوں کہ دل جاں بر
    نکلتے کوئی بھنور سے نہ ڈوبتا دیکھا

    عشق ہی دونوں طرف جلوۂ دلدار ہوا
    ورنہ اس ہیر کا رانجھے کو رجھانا کیا تھا

    دیکھ تو یار بادہ کش میں نے بھی کام کیا کیا
    دے کے کباب دل تجھے حق نمک ادا کیا

    جا بجا دشت میں خیمے ہیں بگولے کے کھڑے
    عرس مجنوں کی ہے دھوم آج بیابان میں کیا

    برقعہ کو الٹ مجھ سے جو کرتا ہے وہ باتیں
    اب میں ہمہ تن گوش بنوں یا ہمہ تن چشم

    چمن میں دیکھتے ہی پڑ گئی کچھ اوس غنچوں پر
    ترے بستاں پہ عالم ہے عجب شبنم کے محرم کا

    اک آبلہ تھا سو بھی گیا خار غم سے پھٹ
    تیری گرہ میں کیا دل اندوہ گیں رہا

    یہ ابر ہے یا فیل سیہ مست ہے ساقی
    بجلی کے جو ہے پاؤں میں زنجیر ہوا پر

    لگائی کس بت مے نوش نے ہے تاک اس پر
    سبو بہ دوش ہے ساقی جو آبلہ دل کا

    اے خال رخ یار تجھے ٹھیک بناتا
    جا چھوڑ دیا حافظ قرآن سمجھ کر

    ہم ہیں اور مجنوں ازل سے خانہ پرورد جنوں
    اس نے کی صحرا نوردی ہم نے گلیاں دیکھیاں

    یہ داغ نہیں تن پر میں دیکھنے کو تیرے
    اے رنگ گل خوبی آنکھیں ہوں لگا لایا

    لگا جب عکس ابرو دیکھنے دل دار پانی میں
    بہم ہر موج سے چلنے لگی تلوار پانی میں

    آتا ہے تو آ وعدہ فراموش وگرنہ
    ہر روز کا یہ لیت و لعل جائے تو اچھا

    رواق چشم میں مت رہ کہ ہے مکان نزول
    ترے تو واسطے یہ قصر ہے بنا دل کا

    تیرے خیال ناف سے چکر میں کیا ہے دل
    گرداب سے نکل کے شناور نہیں پھرا

    کی ہے استاد ازل نے یہ رباعی موزوں
    چار عنصر سے کھلے معنیٔ پنہاں ہم کو

    ترے ہی نام کی سمرن ہے مجھ کو اور تسبیح
    تو ہی ہے ورد ہر اک صبح و شام عاشق کا

    پوچھنے والوں کو کیا کہیے کہ دھوکے میں نہیں
    کفر و اسلام حقیقت میں ہیں یکساں ہم کو

    دن رات یہاں پتلیوں کا ناچ رہے ہے
    حیرت ہے کہ تو محو تماشا نہیں ہوتا

    متاع دل بہت ارزاں ہے کیوں نہیں لیتے
    کہ ایک بوسے پہ سودا ہے اب تو آ ٹھہرا

    لگا نہ دل کو تو اپنے کسی سے دیکھ نصیرؔ
    برا نہ مان کہ اس میں نہیں بھلا دل کا

    ہم وہ فلک ہیں اہل توکل کہ مثل ماہ
    رکھتے نہیں ہیں نان شبینہ برائے صبح

    دیکھو گے کہ میں کیسا پھر شور مچاتا ہوں
    تم اب کے نمک میرے زخموں پہ چھڑک دیکھو

    شراب لاؤ کباب لاؤ ہمارے دل کو نہ اب گھٹاؤ
    شروع دود قدح ہو جلدی کہ سر پہ ابر بہار آیا

    ملا کی دوڑ جیسے ہے مسجد تلک نصیرؔ
    ہے مست کی بھی خانۂ خمار تک پہنچ

    بنا کر من کو منکا اور رگ تن کے تئیں رشتہ
    اٹھا کر سنگ سے پھر ہم نے چکناچور کی تسبیح

    نہ ہاتھ رکھ مرے سینے پہ دل نہیں اس میں
    رکھا ہے آتش سوزاں کو داب کے گھر میں

    سر زمین زلف میں کیا دل ٹھکانے لگ گیا
    اک مسافر تھا سر منزل ٹھکانے لگ گیا

    دود آہ جگری کام نہ آیا یارو
    ورنہ روئے شب ہجر اور بھی کالا کرتا

    نصیرؔ اب ہم کو کیا ہے قصۂ کونین سے مطلب
    کہ چشم پر فسون یار کا افسانہ رکھتے ہیں

    ہوا پر ہے یہ بنیاد مسافر خانۂ ہستی
    نہ ٹھہرا ہے کوئی یاں اے دل محزوں نہ ٹھہرے گا

    نہ کیوں کہ اشک مسلسل ہو رہنما دل کا
    طریق عشق میں جاری ہے سلسلہ دل کا

    سپر رکھتا ہوں میں بھی آفتابی ساغر مے کی
    مجھے اے ابر تیغ برق کو چمکا کے مت دھمکا

    غرض نہ فرقت میں کفر سے تھی نہ کام اسلام سے رہا تھا
    خیال زلف بتاں ہی ہر دم ہمیں تو لیل و نہار آیا

    سب پہ روشن ہے کہ راہ عشق میں مانند شمع
    پاؤں پر سے ہم نے قرباں رفتہ رفتہ سر کیا

    مت پوچھ واردات شب ہجر اے نصیرؔ
    میں کیا کہوں جو کار نمایان نالہ تھا

    لے گیا دے ایک بوسہ عقل و دین و دل وہ شوخ
    کیا حساب اب کیجے کچھ اپنا ہی فاضل رہ گیا

    کیا دکھاتا ہے فلک گرم تو نان خورشید
    کھانا کھاتے ہیں سدا اہل توکل ٹھنڈا

    تشنگی خاک بجھے اشک کی طغیانی سے
    عین برسات میں بگڑے ہے مزا پانی کا

    میرے نالے کے نہ کیوں ہو چرخ اخضر زیر پا
    خطبہ خوان عشق ہے رکھتا ہے منبر زیر پا

    بسان آئنہ ہم نے تو چشم وا کر لی
    جدھر نگاہ کی صاف اس کو برملا دیکھا

    ریختہ کے قصر کی بنیاد اٹھائی اے نصیرؔ
    کام ہے ملک سخن میں صاحب مقدور کا

    یہ نگل جائے گی اک دن تری چوڑائی چرخ
    گر کبھو تجھ سے زمیں ہم نے بھی نپوائی چرخ

    اک پل میں جھڑی ابر تنک مایہ کی شیخی
    دیکھا جو مرا دیدۂ پر آب نہ ٹھہرا

    بجائے آب مے نرگسی پلا مجھ کو
    غذا کچھ اور نہ بادام کے سوا ٹھہرا

    مے کشی کا ہے یہ شوق اس کو کہ آئینے میں
    کان کے جھمکے کو انگور کا خوشا سمجھا

    ابر نیساں کی بھی جھڑ جائے گی پل میں شیخی
    دیدۂ تر کو اگر اشک فشاں کیجئے گا

    سرزمیں زلف کی جاگیر میں تھی اس دل کی
    ورنہ اک دام کا پھر اس میں ٹھکانا کیا تھا

    سیر کی ہم نے جو کل محفل خاموشاں کی
    نہ تو بیگانہ ہی بولا نہ پکارا اپنا

    چمن میں غنچہ منہ کھولے ہے جب کچھ دل کی کہنے کو
    نسیم صبح بھر رکھتی ہے باتوں میں لگا لپٹا

    پستاں کو تیرے دیکھ کے مٹ جائے پھر حباب
    دریا میں تا بہ سینہ اگر تو نہائے صبح

    گلے میں تو نے وہاں موتیوں کا پہنا ہار
    یہاں پہ اشک مسلسل گلے کا ہار رہا

    لب دریا پہ دیکھ آ کر تماشا آج ہولی کا
    بھنور کالے کے دف باجے ہے موج اے یار پانی میں

    گردش چرخ نہیں کم بھی ہنڈولے سے کہ مہر
    شام کو ماہ سے اونچا ہے سحر ہے نیچا

    نہیں ہے فرصت اک دم پہ آہ اس کو نظر
    حباب دیکھے ہے آنکھیں نکال کے کیسا

    ہم دکھائیں گے تماشہ تجھ کو پھر سرو چمن
    دل سے گر سرزد ہمارے نالۂ موزوں ہوا

    آمد و شد کوچے میں ہم اس کے کیوں نہ کریں مانند نفس
    زندگی اپنی جانتے ہیں اس واسطے آتے جاتے ہیں

    جب کہ لے زلف تری مصحف رخ کا بوسہ
    پھر یہاں فرق ہو ہندو و مسلمان میں کیا

    دیر و کعبہ میں تفاوت خلق کے نزدیک ہے
    شاہد معنی کا ہر صورت ہے گھر دونوں طرف

    غزل اس بحر میں کیا تم نے لکھی ہے یہ نصیرؔ
    جس سے ہے رنگ گل معنیٔ مشکل ٹپکا

    صیاد کے جگر میں کرے تھا سناں کا کام
    مرغ قفس کے سر پہ یہ احسان نالہ تھا

    دے مجھ کو بھی اس دور میں ساقی سپر جام
    ہر موج ہوا کھینچے ہے شمشیر ہوا پر

    کم نہیں ہے افسر شاہی سے کچھ تاج گدا
    گر نہیں باور تجھے منعم تو دونوں تول تاج

    ہو گفتگو ہماری اور اب اس کی کیونکہ آہ
    اس کے دہاں نہیں تو ہماری زباں نہیں

    شوق کشتن ہے اسے ذوق شہادت ہے مجھے
    یاں سے میں جاؤں گا واں سے وہ ستم گر آئے گا

    تار نفس الجھ گیا میرے گلو میں آ کے جب
    ناخن تیغ یار کو میں نے گرہ کشا کیا

    سربلندی کو یہاں دل نے نہ چاہا منعم
    ورنہ یہ خیمۂ افلاک پرانا کیا تھا

    کوئی یہ شیخ سے پوچھے کہ بند کر آنکھیں
    مراقبے میں بتا صبح و شام کیا دیکھا

    یہ چرخ نیلگوں اک خانۂ پر دود ہے یارو
    نہ پوچھو ماجرا کچھ چشم سے آنسو بہانے کا

    وقت نماز ہے ان کا قامت گاہ خدنگ و گاہ کماں
    بن جاتے ہیں اہل عبادت گاہ خدنگ و گاہ کماں

    دل پر آبلہ لایا ہوں دکھانے تم کو
    بند اے شیشہ گرو! اپنی دکاں کیجئے گا

    تار مژگاں پہ رواں یوں ہے مرا طفل سرشک
    نٹ رسن پر چلے ہے جیسے کوئی رکھ کر پاؤں

    تو تو اک پرچہ بھی واں سے نامہ بر لایا نہ آہ
    زندگی کیوں کر ہو گر ہم دل کو پر جاویں نہیں

    اسی مضمون سے معلوم اس کی سرد مہری ہے
    مجھے نامہ جو اس نے کاغذ کشمیر پر لکھا

    آ کے سلاسل اے جنوں کیوں نہ قدم لے بعد قیس
    اس کا بھی ہم نے سلسلہ از سر نو بپا کیا

    وصل کی رات ہم نشیں کیونکہ کٹی نہ پوچھ کچھ
    برسر صلح میں رہا اس پہ بھی وہ لڑا کیا

    دلا اس کی کاکل سے رکھ جمع خاطر
    پریشاں سے حاصل کب اک دام ہوگا

  • آرمی چیف تقرری؛  وزارت دفاع سے سمری موصول ہوگئی ہے،وزیراعظم آفس

    آرمی چیف تقرری؛ وزارت دفاع سے سمری موصول ہوگئی ہے،وزیراعظم آفس

    آرمی چیف تقرری؛ وزیر دفاع نے وزیراعظم ہاؤس کو سمری موصول ہونے کی تصدیق کردی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم آفس سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ وزارت دفاع سے سمری موصول ہوگئی ہے،آرمی چیف اور چیرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی کی تعیناتی کےلئے ناموں کا پینل موصول ہوا،وزیراعظم تعیناتیوں پر فیصلہ طریقہ کار کے تحت کرینگے،

    قبل ازیں وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاک فوج میں اہم تعیناتیوں کے حوالے سے سمری وزیراعظم ہاؤس کو موصول ہوگئی ہے۔ سماجی رابطے کی سائٹ ٹویٹر پر خواجہ آصف نے تردید کے ایک گھنٹے بعد اُس وقت سمری موصول ہونے کی تصدیق کی جب ڈی جی آئی ایس پی آر نے سمری بھیجنے کا ٹویٹ کیا۔

    خواجہ آصف نے سماجی رابطے کی سائٹ ٹویٹر پر اپنے بیان میں لکھا کہ ’سمری وزارت دفاع سے وزیراعظم آفس کو موصول ہوگئی ہے، انشاء اللہ باقی مراحل بھی جلد طے ہوجائیں گے‘۔

    وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے بھی کہا ہے کہ وزارت دفاع کی طرف سے بھجوائی گئی سمری وزیراعظم آفس کو موصول ہوگئی ہے سمری میں آرمی چیف اورچیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے لیے ناموں کا پینل بھجوایا گیا وزیراعظم شہباز شریف متعین طریقہ کار کے مطابق تعیناتیوں سے متعلق فیصلہ کریں گے

    قبل ازیں وزیر دفاع خواجہ آصف اور وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے گزشتہ شب پاک فوج میں اہم تعیناتیوں کی سمری وزیراعظم ہاؤس کو موصول ہونے کی تردید کی تھی۔ وزیردفاع خواجہ آصف نے وضاحت کی تھی کہ وزیراعظم کو ابھی سمری موصول نہیں ہوئی، وزیراعظم ہاؤس کو سمری موصول ہوتے ہی تصدیق کردی جائے گی۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل آئی ایس پی آر نے گزشتہ شب اعلامیہ جاری کیا تھا کہ آرمی چیف اور چیئرمین جوائنٹ چیف آف اسٹاف کی تعیناتی کی سمری بھجوا دی گئی ہے، آئی ایس پی آر کے مطابق یہ سمری وزارت دفاع کو بھیجی گئی. ترجمان پاک فوج کا کہنا ہے کہ جی ایچ کیو نے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی اور آرمی چیف کیلئے سمری وزارت دفاع کو بھیج دی ہے۔ ترجمان پاک فوج نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے یہ بات کہی تھی.
    آرمی چیف تقرری؛ وزیر دفاع نے وزیراعظم ہاؤس کو سمری موصول ہونے کی تصدیق کردی
    خبردار۔!ایوان اقتدارمیں تھرتھلی۔24گھنٹےاہم:اعظم سواتی،بیگم تہجدگزار،بیٹا شراب کا سوداگر۔ثبوت حاضر ہیں۔
    جی ایچ کیو نے آرمی چیف اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کی تعیناتی کی سمری بھجوا دی، آئی ایس پی آر
    فیروز نڈیاڈوالا اکشے کمار کے بغیر ویلکم 2 اور آوارہ پاگل دیوانہ 2 بنائیں گے؟
    جنوبی وزیرستان میں دہشت گردوں سے مقابلے میں پاک فوج کا جوان شہید
    اسلام آباد پرجتھوں کی چڑھائی،کاروبار کرنا ناممکن ہو گیا۔تاجرپھٹ پڑے
    ویوین رچرڈز نے کیسا ردعمل ظاہر کیا؟ جب نینا گپتا نے انہیں بتایا کہ وہ پریگنینٹ ہیں