Baaghi TV

Tag: تازہ ترین

  • چیئرمین سینیٹ کا سابق نگران وزیراعظم میربلخ کے انتقال پرگہرے دُکھ کا اظہار

    چیئرمین سینیٹ کا سابق نگران وزیراعظم میربلخ کے انتقال پرگہرے دُکھ کا اظہار

    چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی کا سابق نگران وزیراعظم میربلخ کے انتقال پرگہرے دُکھ کا اظہار

    چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی نے سابق نگران وزیراعظم میربلخ شیر مزاری کے انتقال پرگہرے دُکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ جبکہ چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ میر بلخ شیر مزاری کے انتقال کی خبر سن کر دلی دکھ ہوا۔ مرحوم اطن عزیز کے فعال اور مدبر سیاستدان تھے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ سینئر سیاستدان میر بلخ شیر مزاری کے اہلخانہ کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ چیئرمین سینیٹ نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت اور درجات بلند کرے اور غمز دہ خاندان کو یہ صدمہ حوصلے اور صبر سے برداشت کرنے کی توفیق عطا کرے۔ علاوہ ازیں ڈپٹی چیئرمین سینیٹ مرزا محمد آفریدی، قائد ایوان سینیٹ سینیٹر اسحاق ڈار، قائد حزب اختلاف سینیٹ سینیٹر ڈاکٹر شہزاد وسیم نے بھی سابق نگران وزیراعظم میر بلخ شیرمزاری کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اپنے الگ الگ تعزیتی پیغامات میں مرحوم کے اہلخانہ سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔

    انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالی مرحوم کو اپنے جوار رحمت میں جگہ دے اور غمزدہ خاندان کو صبر جمیل عطا کرے۔ ان کا بھی کہنا تھا ایک معتبر سیاستدان تھے اور ان کی ملک کیلئے بہت خدمات ہیں، واضح رہے کہ گزشتہ رات میر بلخ مزاری طویل علالت کے بعد انتقال کرگئے تھے جبکہ پاکستان کے سابق نگراں وزیراعظم میر بلخ شیر مزاری کا طویل علالت کے بعد انتقال ہوا تھا.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ ٹوئٹر ملازمین کونکالنے سے امریکا کے وسط مدتی انتخابات پر بھی منفی اثرات پڑنے کا واضح خدشہ چین اور سعودیہ نے حکومت کو 13ارب ڈالر کے مالی پیکیج کی یقین دہانی کرادی
    ایف آئی آرکے اندراج کیلئے تھانے میں موجود ہیں ، پولیس درخواست وصول ہی نہیں کر رہی،زبیر خان نیازی
    ترجمان بابر مزاری کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا تھا کہ سابق وزیراعظم تین ہفتوں سے لاہور کے نجی اسپتال میں زیر علاج تھے۔ ترجمان نے مزید بتایا کہ میر بلخ شیر مزاری کی عمر 95 سال کے قریب تھی۔ جب ان کا انتقال ہوا.

  • جنوبی افریقا کیخلاف محمد حارث کی جارحانہ اننگز پروریندر سہواگ بھی متعرف

    جنوبی افریقا کیخلاف محمد حارث کی جارحانہ اننگز پروریندر سہواگ بھی متعرف

    ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں جنوبی افریقا کے خلاف پاکستانی بیٹر محمد حارث کی جارحانہ اننگز پر بھارت کے سابق کرکٹر وریندر سہواگ بھی سراہے بغیر نہ رہ سکے۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سہواگ نے کہا کہ جس طرح سے محمد حارث نے بلے بازی کی اس کا مستقبل روشن ہے، آپ جنوبی افریقا کے خلاف آسٹریلیا کی وکٹ پر بھلے 28 رنز بنائیں لیکن وہ 60 رنز کے برابر ہیں۔

    ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ:بارش کے بعد دوبارہ میچ شروع کرنے پربنگلا دیشی کپتان نے ایمپائر…

    وریندر سہواگ کا کہنا تھا کہ محمد حارث اگر آرام سے کھیلتےتو آؤٹ نہیں ہوتےمزید رنز بنالیتےلیکن جس انداز سے کھیلے وہ کمال ہے،اگر محمد حارث ایسے ہی کھیلتے رہےتو یہ کہیں اپنی کارکردگی سے بابر اور رضوان کو نیچے آنے پر مجبور نہ کردیں کہ میں اوپر آتا ہوں آپ نیچے آئیں۔

    قبل ازیں معروف بھارتی صحافی اور کمنٹیٹر ہرشا بھوگلے پاکستان کے نوجوان وکٹ کیپر بیٹر محمد حارث کے ورلڈکپ میں شاندارآغاز پر تعریف میں ٹوئٹ کی اور لکھا تھا کہ حارث ورلڈکپ کو اپنے پی ایس ایل انداز میں کھیل رہے ہیں حارث آپ بہادری سے جیتے ہیں اور بہادری سے ہی مرتے ہیں، حارث پاکستان کی ایک اچھی سلیکشن ہے۔

    پاکستان نےجنوبی افریقا کو33 رنزسےہرادیا،مگرسیمی فائنل سے ابھی بہت دور

    جنوبی افریقہ کے خلاف فتح کے بعد ر ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں اپنا پہلا میچ کھیلنے والے محمد حارث نے کہا تھا کہ میں نیٹس میں کافی اچھا کھیل رہا تھا اور وہی اعتماد لے کر میچ میں گیا، کوشش کی ٹیم کے لیے جتنا اچھا کرسکوں، رضوان کی وکٹ جلدی گر گئی تھی کوشش کی، کوشش کی کہ پاور پلے کو استعمال کروں، کپتان نے کہا بہادری سے کھیلو، آپ میں قابلیت ہے، بولروں کے بارے میں نہ سوچو سامنے کون ہے، اپنی نیچرل گیم کھیلو، بال ٹو بال کھیلو جس میں کامیاب ہوا-

    واضح رہے کہ محمد حارث نے جنوبی افریقا کے خلاف 11 گیندوں پر شاندار 3 چھکوں اور دو چوکوں کی مدد سے 28 رنز بنائے جس کے بعد افریقا کے بولر اینرچ نورکیا کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہوگئے تھے۔

  • عمران خان کو چیئرمین پی ٹی آئی کے عہدے سے ہٹانے کی درخواست پر نوٹسز جاری

    عمران خان کو چیئرمین پی ٹی آئی کے عہدے سے ہٹانے کی درخواست پر نوٹسز جاری

    لاہور ہائیکورٹ نے عمران خان کو چیرمین تحریک انصاف کے عہدے سے ہٹانے کی درخواست پر تحریری حکم جاری کردیا گیا. جسٹس ساجد محمود سیٹھی نے تین صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا جس میں کہا گیا کہ درخواست گزار کے مطابق نااہل شخص پارٹی کا عہدہ نہیں رکھا سکتا ، درخواست گزار نے اہم قانونی نکات اٹھائے ہیں، فریقین آئندہ سماعت پر جوابات جمع کروائیں۔

    عدالت نے اٹارنی جنرل پاکستان اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو معاونت کے لیے نوٹسز جاری کردیے۔ واضح رہے کہ مقامی وکیل محمد آفاق نے عمران خان کو پارٹی کی چیرمین شپ سے ہٹانے کی استدعا کررکھی ہے۔ درخواست گزار کا کہنا ہے کہ نواز شریف کے معاملے میں عمران خان نے درخواست دائر کی تھی اور نواز شریف کو پارٹی صدارت سے ہٹایا گیا تھا، الیکشن کمیشن نے عمران خان کو نااہل کردیا ہے، اور قانون کے مطابق نااہل شخص پارٹی چیرمین کا عہدہ نہیں رکھ سکتا، اس لیے عدالت عمران خان کو چیرمین تحریک انصاف کے عہدے سے ہٹایا جائے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ ٹوئٹر ملازمین کونکالنے سے امریکا کے وسط مدتی انتخابات پر بھی منفی اثرات پڑنے کا واضح خدشہ چین اور سعودیہ نے حکومت کو 13ارب ڈالر کے مالی پیکیج کی یقین دہانی کرادی
    ایف آئی آرکے اندراج کیلئے تھانے میں موجود ہیں ، پولیس درخواست وصول ہی نہیں کر رہی،زبیر خان نیازی
    خیال رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے جمعے کے روز گزشتہ ماہ توشہ خانہ ریفرنس میں چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کو نااہل کیا تھا جس جسکے بعد ایک بحث نے جنم لیا کہ آخر عمران خان کی یہ نااہلی کتنے عرصے کے لیے ہے اور کیا اب وہ آئندہ عام انتخابات میں حصہ لے سکیں گے یا نہیں؟ جبکہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ سامنے آنے کے بعد وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا تھا کہ عمران خان کی نااہلی پانچ برس کے لیے ہے یعنی اب عمران خان آئندہ انتخابات میں حصہ لینے کے اہل نہیں ہوں گے۔

  • قصور میں پی ٹی آئی کی ریلی پر فائرنگ کا مقدمہ درج، ملزم کی شناخت ہو گئی

    قصور میں پی ٹی آئی کی ریلی پر فائرنگ کا مقدمہ درج، ملزم کی شناخت ہو گئی

    قصور میں پاکستان تحریک انصاف کی ریلی پر فائرنگ کا مقدمہ درج کر لیا گیا۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق قصور میں پاکستان تحریک انصاف کی احتجاجی ریلی میں فائرنگ کرنے والے ملزم کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا۔

    ایف آئی آر کے مطابق فائرنگ کرنے والے ملزم کی شناخت شیخ حسن کے نام سے ہوئی ملزم کے خلاف مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔ملزم کی تلاش کے لئے چھاپے مارے جار ہے ہیں۔

    گزشتہ روزقصور میں پی ٹی آئی کارکنان کے احتجاج میں فائرنگ کی گئی جس سےبھگدڑ مچ گئی مبینہ طور پر کارکنان نے زبر دستی روڈ کراس کرنے پر فائرنگ کی۔

    پولیس کے مطابق فائرنگ کرنے والا گارڈ پی ٹی آئی ضلعی جنرل سیکریٹری مزمل مسعود بھٹی کا سیکیورٹی گارڈ ہے۔مقامی پولیس نے سیکورٹی گارڈ سمیت تین نامعلوم افراد کی تلاش شروع کردی ہے۔

    دوسری جانب چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان پر حملے کے خلاف احتجاج کرنے والے تحریک انصاف کے رہنماؤں کے خلاف اسلام آباد میں مقدمات درج کرلیے گئے۔ لانگ مارچ میں کنٹینر پر فائرنگ اور عمران خان کو نشانہ بنائے جانے کے واقعے کے خلاف فیض آباد کے مقام پر ہنگامہ آرائی کے بعد پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف اسلام آباد میں تین مقدمات درج کیے گئے ہیں۔

    چیک ملنے پر غریب بائیکیا رائیڈر کا چہرہ کھلکلا اٹھا

    پولیس کی مدعیت میں تھانہ آئی نائن میں درج مقدمے میں 24 ملزمان کو نامزد کیا گیا ہے، جن میں پی ٹی آئی رہنما علی احمد اعوان، عامر محمود کیانی، واصف قیوم سمیت چودھری شعیب شامل ہیں۔ مقدمے میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ملزمان نے پولیس کے ساتھ مزاحمت کی اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا ملزمان نے پولیس اور ایف سی اہل کاروں پر ڈنڈوں اور پتھروں سے حملہ کیا اور ملزمان کے پتھراؤ سے 9 ایف سی، 5 پولیس ملازمین زخمی ہوئے پولیس نےاحتجاج کرنے والے 30 افراد کو گرفتار کر رکھا ہے۔

    واضح رہے کہ عمران خان وزیر آباد میں لانگ مارچ کے دوران فائرنگ سے زخمی ہوئے تھے واقعے میں ایک شخص جاں بحق اور پی ٹی آئی چیئرمین و دیگر رہنماؤں سمیت 13 افراد زخمی ہوئے تھے جس کے بعد پی ٹی آئی کارکنوں نے مختلف شہروں میں احتجاج کیا تھا-

    عمران خان پر فائرنگ کرنے والے شخص کو بعد میں کنٹینر کے قریب سے پکڑ لیا گیا جس نے عمران خان پر فائرنگ کا اعتراف بھی کیا۔

    عمران خان کو آج شوکت خانم اسپتال سے ڈسچارج کئے جانے کا امکان

  • فیض آباد ہنگامہ آرائی; پولیس نے پی ٹی آئی رہنماؤں کیخلاف مقدمات درج کردیئے

    فیض آباد ہنگامہ آرائی; پولیس نے پی ٹی آئی رہنماؤں کیخلاف مقدمات درج کردیئے

    فیض آباد ہنگامہ آرائی; پولیس نے پی ٹی آئی رہنماؤں کیخلاف مقدمات درج کر دیئے ہیں.

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان پر حملے کے خلاف احتجاج کرنے والے تحریک انصاف کے رہنماؤں کے خلاف اسلام آباد میں مقدمات درج کرلیے گئے۔ لانگ مارچ میں کنٹینر پر فائرنگ اور عمران خان کو نشانہ بنائے جانے کے واقعے کے خلاف فیض آباد کے مقام پر ہنگامہ آرائی کے بعد پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف اسلام آباد میں تین مقدمات درج کیے گئے ہیں۔

    پولیس کی مدعیت میں تھانہ آئی نائن میں درج مقدمے میں 24 ملزمان کو نامزد کیا گیا ہے، جن میں پی ٹی آئی رہنما علی احمد اعوان، عامر محمود کیانی، واصف قیوم سمیت چودھری شعیب شامل ہیں۔ مقدمے میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ملزمان نے پولیس کے ساتھ مزاحمت کی اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا۔

    مقدمے میں درج کیا گیا ہے کہ ملزمان نے پولیس اور ایف سی اہل کاروں پر ڈنڈوں اور پتھروں سے حملہ کیا اور ملزمان کے پتھراؤ سے 9 ایف سی، 5 پولیس ملازمین زخمی ہوئے ۔ واضح رہے کہ پولیس نےاحتجاج کرنے والے 30 افراد کو گرفتار کر رکھا ہے۔ جبکہ دوسری جانب اسلام آباد پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ؛ اسلام آباد میں تمام سڑکیں آمدو رفت کے لئے کھلی ہیں اور ٹریفک معمول کے مطابق رواں دواں ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ ٹوئٹر ملازمین کونکالنے سے امریکا کے وسط مدتی انتخابات پر بھی منفی اثرات پڑنے کا واضح خدشہ چین اور سعودیہ نے حکومت کو 13ارب ڈالر کے مالی پیکیج کی یقین دہانی کرادی
    ایف آئی آرکے اندراج کیلئے تھانے میں موجود ہیں ، پولیس درخواست وصول ہی نہیں کر رہی،زبیر خان نیازی
    ترجمان کے مطابق؛ اسلام آباد کیپیٹل پولیس شہر میں امن کی فضاء برقرار رکھنے کے لیے ہمہ وقت الرٹ ہے۔ اور شہریوں سے گزارش ہے کہ کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع فوری پکار 15 پر دیں۔ جبکہ اسلام آباد میں راستوں کے بارے ایف ایم 92.4 پر تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کیا جاتا رہے گا۔

  • وفاق کا پی ٹی آئی قیادت کیخلاف قانونی کارروائی کا فیصلہ؛ عمران کو بھی گرفتار کیا جاسکتا ہے

    وفاق کا پی ٹی آئی قیادت کیخلاف قانونی کارروائی کا فیصلہ؛ عمران کو بھی گرفتار کیا جاسکتا ہے

    حکومت کا پی ٹی آئی کی اعلی قیادت کیخلاف قانونی کارروائی کرنے کا فیصلہ؛ عمران خان اور ان کے کچھ ساتھیوں کو گرفتار بھی کیا جا سکتا ہے.

    وفاقی حکومت نے تحریک انصاف کی اعلی قیادت کیخلاف قانونی ایکشن لینے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے خود پر ہونے والے فائرنگ کے حملے پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے الزام ٹھہرایا تھا کہ مجھے قتل کرنے کی ساز کی گئی تھی، اور اس میں وزیراعظم شہبازشریف، وزیرداخلہ رانا ثنااللہ اور پاک فوج کے میجر جنرل کا نام شامل ہیں۔

    جبکہ گزشتہ روز بھی تحریک انصاف کے جانب سے ملک بھر میں احتجاج کیا گیا اور ان کی پارٹی قیادت نے اپنا مطالبہ دہراتے ہوئے کہا کہ ان شخصیات کے اپنے اپنے عہدوں سے مستعفیٰ ہونے تک مظاہرے جاری رہیں گے۔ تحریک انصاف کی جانب سے پاک آرمی کے افسر کے خلاف بیانات پر گزشتہ روز ترجمان پاک فوج نے واضح طور پر بیان جاری کیا کہ پاک فوج اپنے افسران اور جوانوں کی حفاظت کرے گی، اور اس طرح کے الزامات ناقابل قبول ہیں۔

    ترجمان پاک فوج نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا تھا کہ حکومت سے کہا ہے کہ بغیر ثبوت الزامات لگانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔ جبکہ اب عمران خان اور ان کے ساتھیوں کے خلاف قانونی کارروائی کا فیصلہ کرلیا گیا ہے. زاہد گشکوری کے مطابق سرکاری ذرائع نے بتایا کہ اب وفاقی حکومت نے تحریک انصاف کی اعلیٰ قیادت کے خلاف قانونی کارروائی کا فیصلہ کرلیا ہے، اور اس حوالے سے وزارت قانون سے رائے بھی طلب کرلی گئی ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ ٹوئٹر ملازمین کونکالنے سے امریکا کے وسط مدتی انتخابات پر بھی منفی اثرات پڑنے کا واضح خدشہ چین اور سعودیہ نے حکومت کو 13ارب ڈالر کے مالی پیکیج کی یقین دہانی کرادی
    ایف آئی آرکے اندراج کیلئے تھانے میں موجود ہیں ، پولیس درخواست وصول ہی نہیں کر رہی،زبیر خان نیازی
    ذرائع نے بتایا کہ وزارت قانون آج وزیراعظم شہباز شریف کو قانونی کاروائی پر اپنی حتمی رائے دے گی، اور حاصل شواہد اور قانونی رائے کی روشنی میں عمران خان اور اس کے کچھ ساتھیوں کو گرفتار بھی کیا جا سکتا ہے۔ سرکاری زرائع نے مزید بتایا کہ وزارت داخلہ نے ایف آئی اے کو فوج کے اعلی افسران کیخلاف بے بنیاد الزامات لگانے پر کاروائی کا حکم دے دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق وزارت قانون اور وزارت دفاع اپنی حتمی رائے آج وزیراعظم کو پیش کردے گی۔

  • عمران خان کو آج شوکت خانم اسپتال سے ڈسچارج کئے جانے کا امکان

    عمران خان کو آج شوکت خانم اسپتال سے ڈسچارج کئے جانے کا امکان

    لاہور: پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان کو آج شوکت خانم اسپتال سے ڈسچارج کئے جانے کا امکان ہے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان شوکت خانم اسپتال ميں زيرعلاج ہیں اسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کی طبعيت پہلے سے بہتر ہے، ڈاکٹروں کا پینل آج عمران خان کا مکمل طبی معائنہ کرے گا۔

    ایف آئی آرکے اندراج کیلئے تھانے میں موجود ہیں ، پولیس درخواست وصول ہی نہیں کر…

    عمران خان کا ایک بار پھر ایکسرے اور ٹیسٹ کروائے جائیں گے، جس کے بعد ڈاکٹرز کے بورڈ عمران خان کو ڈسجارچ کرنے کے حوالے سے فیصلہ کرے گا۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کو آج اسپتال سے ڈسچارج کئے جانے کا قومی امکان ہے-

    گذشتہ روز ڈاکٹروں نے پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کی تمام میڈیکل رپورٹس کو تسلی بخش قرار دیا تھا ٹانگ میں لگی گولیاں نکالنے کے کامیاب آپریشن کے بعد ڈاکٹرز نے انہیں مزید ایک دن اسپتال میں رکنے کا مشورہ دیا تھا۔

    فیض آباد کے مقام پر بائیکیا چلانے والے لڑکے کی موٹرسائیکل جلا دی گئی

    واضح رہے کہ عمران خان وزیر آباد میں لانگ مارچ کے دوران فائرنگ سے زخمی ہوئے تھے واقعے میں ایک شخص جاں بحق اور پی ٹی آئی چیئرمین و دیگر رہنماؤں سمیت 13 افراد زخمی ہوئے تھے فائرنگ کرنے والے شخص کو بعد میں کنٹینر کے قریب سے پکڑ لیا گیا جس نے عمران خان پر فائرنگ کا اعتراف بھی کیا۔

    دوسری جانب تین روز گزرنے کے باوجود معاملے کی ایف آئی آر تاحال درج نہیں ہو سکی ہے گزشتہ روز یہ خبرسامنے آئی تھی کہ وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی قانون کے مطابق کارروائی کرنا چاہتے ہیں جبکہ عمران خان اپنی خواہش کے مطابق ایف آئی آر درج کروانا چاہتے ہیں۔

    سابق نگراں وزیراعظم بلخ شیر مزاری انتقال کرگئے

    گزشتہ روزسابق وزیراعظم عمران خان نے حملے کے بعد شوکت خانم اسپتال سے گفتگو میں کہا تھا کہ جب کنٹینرپر تھا تو ایک دم گولیوں کا ایک برسٹ آتا ہے، گر جاتا ہوں، ایک برست الٹے ہاتھ کی طرف سے آتا ہے دوسرا سامنے سے آتاہے، 2 آدمی تھے جب گر رہا ہوتا ہوں میرے اوپر سے گولیاں جاتی ہیں، کیونکہ میں گر گیا تھا، میرے خیال میں اوپر جو بیٹھا ہوا تھا اس نے سوچا ہوگا کہ ہم نے انہیں ماریں گے۔

    عمران خان نے معاشرے میں نفرتوں کی جو آگ لگائی، اب خود ہی اسی آگ میں جلنے والے…

  • عمران خان نے سپریم کورٹ میں توہین عدالت کیس کے التواء کی درخواست دائر کردی

    عمران خان نے سپریم کورٹ میں توہین عدالت کیس کے التواء کی درخواست دائر کردی

    عمران خان نے سپریم کورٹ میں توہین عدالت کیس کے التواء کی درخواست دائر کردی ہے.

    سپریم کورٹ میں عمران خان کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے توہین عدالت کیس میں التواء کی درخواست دائر کردی ہے۔ انہوں نے درخواست میں کہا کہ میرا موکل افسوسناک واقعے کی وجہ سے اسپتال میں داخل ہے، جس کی وجہ سے معاملے پر جواب جمع کرانا ممکن نہیں، استدعا ہے کہ مقدمہ کو فی الحال سماعت کیلئے مقرر نہ کیا جائے۔

    یاد رہے کہ گزشتہ سماعت میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے توہین عدالت کیس میں عمران خان سے آج ہفتے تک جواب طلب کرلیا تھا۔ سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ ہفتے کو ہی آئندہ سماعت کی تاریخ مقرر کرینگے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل 2 نومبر کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے توہین عدالت کیس میں عمران خان سے ہفتے تک جواب طلب کیا تھا.

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بینچ نے عمران خان کیخلاف توہین عدالت کی درخواست پر سماعت کی تھی. جبکہ پی ٹی آئی وکلا بابر اعوان اور فیصل چوہدری کی طرف سے صدر سپریم کورٹ بار احسن بھون پیش ہوئے اور کہا تھا کہ بابر اعوان اور فیصل چوہدری نے جواب جمع کرادیا ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ ٹوئٹر ملازمین کونکالنے سے امریکا کے وسط مدتی انتخابات پر بھی منفی اثرات پڑنے کا واضح خدشہ چین اور سعودیہ نے حکومت کو 13ارب ڈالر کے مالی پیکیج کی یقین دہانی کرادی
    ایف آئی آرکے اندراج کیلئے تھانے میں موجود ہیں ، پولیس درخواست وصول ہی نہیں کر رہی،زبیر خان نیازی
    خیال رہے کہ چیف جسٹس نے کہا تھا کہ دونوں احکامات کے درمیان کا وقت ہدایت لینے کیلئے ہی تھا لیکن عدالت کو نہیں بتایا گیا تھا کہ ہدایت کس سے لی گئی ہے، اگر کسی سے بات نہیں ہوئی تھی تو عدالت کو کیوں نہیں بتایا گیا، اس بات کی وضاحت تو دینی ہی پڑے گی، عدالت نے بابر اعوان اور فیصل چوہدری پر اعتماد کیا تھا، دونوں وکلاء نے کبھی نہیں کہا انہیں ہدایات نہیں ملی، عمران خان کو عدالتی حکم کا کیسے علم ہوا، یقین دہانی پی ٹی آئی کی اعلی قیادت کی جانب سے کرائی گئی تھی، پی ٹی آئی کی اعلی قیادت کا آغاز عمران خان سے ہوتا ہے۔

  • قطر میں بھارتی بحریہ کے 8 ریٹائرڈ افسران کی پُراسرار گرفتاری

    قطر میں بھارتی بحریہ کے 8 ریٹائرڈ افسران کی پُراسرار گرفتاری

    خلیجی ملک قطر میں بھارتی بحریہ کے 8 ریٹائرڈ افسران کو گرفتار کیا گیا ہے، تاہم اس گرفتاری کی وجہ تاحال معلوم نہیں ہو سکی ہے۔

    باغی ٹی وی : قطر میں انڈین بحریہ کے سابق کمانڈر پورنندو تیواری سمیت جنہوں نے صدر رام ناتھ کووند کی جانب سے پراواسی بھارتیہ سمان وصول کیا تھا سمیت 8 افسران کو گرفتار کیا گیا ہے-

    چین سے مقابلے کے لیے امریکا کا بھارت کو دفاعی اتحادی بنانے کا فیصلہ

    یہ تمام افسران قطر کی ایک نجی کمپنی ’الظاہرہ العالمی کنسلٹینسی اینڈ سروسز‘ میں کام کر رہے تھے یہ کمپنی قطر کی بحریہ کو تربیت اور ساز و سامان فراہم کرتی ہے اس کمپنی کے سربراہ خمیص العجمی رائل عمان ایئر فورس کے سبکدوش سکواڈرن لیڈر ہیں۔

    ذرائع کے مطابق قطر میں بھارتی سفارت خانہ بھی ان سابق افسران کی گرفتاری سے آگاہ ہے –

    انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق دوحہ میں ان افسران کی گرفتاری کی اطلاع ایک خاتون ڈاکٹر میتو بھارگوا کی پوسٹ سے سامنے آئی۔ اپنے پیغام میں، ڈاکٹر بھارگوا، جو خود کو ایک معلم اور روحانی شخص بتاتی ہیں، نے منگل کو پوسٹ کیا لکھا ہے کہ وطن کی خدمت کرنے والے 8 تجربہ کار نیوی افسران 57 دنوں سے دوحہ میں غیر قانونی حراست میں ہیں۔

    انہوں نے لکھا کہ میں حکومت اور متعلقہ حکام سے درخواست کرتی ہوں کہ وہ جلد ضروری اقدامات کرے اور ان اہلکاروں کو کسی تاخیر کے بغیر قطر سے رہا کروا کر انڈیا لائے-

    دنیا کی پانچ بڑی جوہری طاقتوں کا ٹکراؤ تباہ کن ہو سکتا ہے،روس کا انتباہ

    ڈاکٹر بھارگوا نے پوسٹ میں وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر خارجہ ایس جے شنکر، وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ اور وزیر پٹرولیم ہردیپ پوری اور بہت سے دوسرے لوگوں کو ٹیگ کیا ان سب پر زور دیا کہ ملک کے سابق عہدیداروں کو بغیر کسی تاخیر کےبھارت واپس لایا جائے تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ ان کا دوحہ میں بحریہ کے سابق اہلکاروں کی گرفتاری سے کیا تعلق ہے۔

    بھارتی وزارت خارجہ نے اس معاملے پر ابتدائی خاموشی کے بعد اب بتایا ہے کہ انڈیا کا سفارتخانہ گرفتار افراد کو قونصل سروس فراہم کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاہم وزارت خارجہ نے یہ وضاحت نہیں دی کہ اِن اہلکاروں کو کس معاملے میں گرفتار کیا گیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ ان تمام افسران کو کیوں حراست میں لیا گیا ہے اور ان پر کیا الزامات ہیں۔ تاہم، اس ماہ کے شروع میں، دوحہ میں ہندوستانی سفارت خانے کے اہلکاروں کو ان سب سے ملنے کے لیے قونصلر دورہ دیا گیا تھا۔

    بی بی سی کے مطابق بھارتی وزارت خارجہ بحریہ کے سابق اہلکاروں کی گرفتاری پر ابھی تک خاموش تھی لیکن جمعرات کو معمول کی نیوز کانفرنس میں ایک سوال کے جواب میں وزارت خارجہ کے ترجمان ارندم باگچی نے ان اہلکاروں کی گرفتاری کی تصدیق کی۔

    ٹی 20 ورلڈ کپ: پہلے پاکستان اب بنگلہ دیش،کوہلی کے اشارے پردو متنازعہ نو…

    انھوں نے کہا کہ ہم آٹھ بھارتی شہریوں کی گرفتاری کے بارے میں واقف ہیں جو قطر میں کسی پرائیویٹ کمپنی کے ساتھ کام کرتے تھے۔ قطر میں انڈیا کا سفارتخانہ قطری حکام سے رابطے میں ہے۔ سفارتخانے کے اہلکاروں کو مقید بھارتی شہریوں سے ملنے کی اجازت دی گئی تھی۔

    باگچی نے مزید بتایا کہ بحریہ کے ان سابق اہلکاروں کو اپنے گھر والوں سے بات کرنے کی بھی اجازت دی گئی تھی ہم نے ان شہریوں سے ملنے کے لیے ایک اور قونصلر رسائی کی درخواست کی ہے۔ ہمارا سفارتخانہ اور وزارت ان اہلکاروں کی فیملیز سے رابطے میں ہے۔ ہم ان کی جلد رہائی اور بھارت واپسی کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔

    تاہم وزارت خارجہ کے ترجمان نےتاحال یہ نہیں بتایا کہ ان اہلکاروں کو قطر میں کس جرم میں گرفتار کیا گیا ہے۔

    بھارتی بحریہ کے جن آٹھ اہلکاروں کو گرفتار کیا گیا ان میں سابق کمانڈر پورنیندو تیواری بھی شامل ہیں جو کمپنی کے مینیجنگ ڈائریکٹر ہیں۔ انھیں 2019 میں ایک تقریب میں اس وقت کے صدر مملکت نے ’پرواسی بھاتیہ سمان‘ ایورڈ دیا تھا۔

    الظاہرہ کے لنکڈ ان پیج کے مطابق کمانڈر پور نیندو تیواری (ریٹائرڈ)، کمانڈر اجے تیواری (ریٹائرڈ)، کمانڈر انیش ٹھاکر (ریٹائرڈ) اور ساجن بابو نے انڈیا کے یوم آزادی کے موقع پر 15 اگست کو دوحہ میں واقع انڈیا کے تقافتی مرکز میں پرچم کشائی اور ثقافتی تقریب میں شرکت کی تھی۔

    بھارتی دارالحکومت میں خطرناک اسموگ کے باعث اسکول بند

    قطر میں انڈیا کے ان سابق اہلکاروں کی گرفتاری پُراسرار بنی ہوئی ہے۔ ان کے بارے میں قطر اور متحدہ عرب امارات کے اخبارات میں بھی کہیں کوئی خبر نظر نہیں آئی ایک کو چھوڑ کر باقی سات اہلکاروں کے نام بھی سامنے نہیں آئے ہیں۔

    گرفتار کیے گئے اہلکاروں کے رشتے دار بھی خاموش ہیں۔ انڈیا کی وزارت خارجہ جس طرح ان اہلکاروں کی رہائی اور انھیں انڈیا واپس لانے کی کوشش کر رہی ہے اس سے واضح ہے کہ یہ پُراسرار معاملہ اہم نوعیت کا ہے۔

    متعدد زرائع کے مطابق یہ افراد جاسوسی کا ایک ریکٹ چلاتے تھے جس کے تحت خفیہ معلومات بھارت، اسرائیل اور متعدد ممالک کو دیں جاتی تھیں- بھارتی کمانڈر کلںبھوشن یادیو کے پکڑے جانے کے بعد یہ دوسرا بڑا موقعہ ہے کہ بھارتی انٹیلیجنس کا ریکٹ اس بڑے پیمانے پر پکڑا جائے-

  • عمران جہاں سے چاہیں تحقیقات کرائیں مگر خود شامل ہوں. وفاقی وزیر اطلاعات

    عمران جہاں سے چاہیں تحقیقات کرائیں مگر خود شامل ہوں. وفاقی وزیر اطلاعات

    وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ عمران خان اسکاٹ لینڈ یارڈ سمیت جہاں مرضی سے تحقیقات کرانا چاہتے ہیں کرائیں، ہماری شرط صرف یہ ہے کہ عمران خان خود تحقیقات میں شامل ہوں گے اور الزامات کا ثبوت فراہم کریں گے۔

    پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بقول ڈاکٹر، عمران خان کو چار گولیاں لگیں، ان کی ٹانگ کی ہڈی ٹوٹی ہے، عمران خان کا غالباً ایک آپریشن بھی ہوا ہے اور آج عمران خان صاحب کو ٹی وی پر دیکھ کر اطمینان ہوا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے شوکت خانم کے وسائل کو اپنی سیاست کے لئے اسی طرح استعمال کیا جس طرح انہوں نے فارن فنڈنگ کے ذریعے منی لانڈر کر کے خیرات کا پیسہ اپنی سیاست کے لئے استعمال کیا۔ مریم اورنگزیب نے کہا کہ ایسا نہیں ہو سکتا کہ عمران خان جھوٹ بولیں گے اور عوام اسے سچ سمجھ لیں گے، وہ وقت اب ختم ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان اپنی کہانی 7 مارچ سے شروع کرتے ہیں جب انہوں نے تحریک عدم اعتماد کو ناکام بنانے اور اپنے اقتدار کو بچانے کے لئے چیف آف آرمی اسٹاف کو بند کمرے میں تاحیات غیر معینہ مدت کے لئے توسیع دینے کی پیشکش کی۔

    مریم اورنگزیب نے کہا کہ جب اداروں نے فیصلہ کیا کہ پاکستان کی سیاست میں ادارے کی کوئی مداخلت نہیں ہوگی تو یہ شخص ان کے خلاف ہوگیا۔ عمران خان کہتے ہیں کہ مجھے معلوم تھا کہ مجھ پر قاتلانہ حملہ ہونا ہے، عمران خان کبھی کہتے ہیں کہ چار بندوں نے میرے خلاف سازش کی، پھر کہتے ہیں کہ چار نہیں تین بندے ہیں، عمران خان کو اگر پتہ تھا کہ ان کے خلاف قاتلانہ حملے کی سازش ہو رہی ہے تو انہوں نے معصوم لوگوں کی جانوں کا کیوں نقصان کیا؟ پنجاب حکومت کو کیوں نہیں بتایا؟ مقتول معظم کے بچے اپنے والد کا خون کس کے ہاتھ پر تلاش کریں؟

    انہوں نے کہا کہ پنجاب کا وزیراعلیٰ عمران خان کا، وزیر داخلہ عمران خان کا، پولیس عمران خان کی، لانگ مارچ واقعہ بھی پنجاب کے اندر رونما ہوا، ملزم کو پنجاب پولیس نے گرفتار کیا، پنجاب کی پولیس نے ملزم کا بیان ریکارڈ کروا کر میڈیا کو ریلیز کیا، اس کے باوجود عمران خان کہتے ہیں کہ واقعہ کی تحقیقات اس وقت تک نہیں ہو سکتی جب تک تین لوگ استعفیٰ نہ دے دیں۔ واقعہ پنجاب میں رونما ہوتا ہے جس کی ذمہ دار بھی پنجاب حکومت ہے اور عمران خان استعفیٰ ہم سے مانگ رہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ عمران خان واقعہ کی تحقیقات دنیا کی کسی بھی ایجنسی سے کروائیں، پنجاب کے اندر فرانزک لیب سے کروائیں لیکن تحقیقات میں پیش ضرور ہوں۔ واقعہ کے بعد عمران خان تین گھنٹے کا سفر کر کے علاج کے لئے شوکت خانم ہسپتال گئے، پنجاب حکومت کے کسی ہسپتال سے میڈیکو لیگل نہیں کروایا اور نہ ہی کسی جگہ پولیس کو رسائی اور بیان دیا۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ عمران خان اسکاٹ لینڈ یارڈ کو بلا کر تحقیقات کروائیں لیکن اس تحقیقات میں انہیں خود بھی شامل ہونا پڑے گا، وہ جو الزامات لگا رہے ہیں اس کا ثبوت بھی انہیں دینا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان چھوٹی چھوٹی ٹولیوں سے وفاق پر حملہ کروانا چاہتے ہیں، آج جو مناظر میڈیا پر گئے ہیں وہ عمران خان کی فیٹف سے پاکستان کے نکلنے کے خلاف جنگ ہے۔

    انہوں نے کہا کہ عمران خان نے شدت پسندی کے ذریعے ملک کو تقسیم کرنے کی کوشش کی ہے، بشریٰ بی بی نے عمران خان کی سیاست میں اسلامی ٹچ دینے کا کہا اور سیاسی مخالفین کو غدداری کے ساتھ لنک کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ پنجاب حکومت قانون کے مطابق کل کے واقعہ کی تحقیقات کرے۔ عمران خان اپنی مرضی کے مطابق ایف آئی آر درج کروانا چاہتے ہیں، وہ پولیس افسران پر دبائو ڈال رہے ہیں، ان کے کارکنوں نے تھانوں میں دھاوا بولا اور کہا کہ عمران خان کی خواہش پر ایف آئی آر درج کی جائے۔ عمران خان جہاں مرضی سے تحقیقات کروائیں لیکن اس تحقیقات میں پیش ضرور ہوں، جو الزامات وہ لگا رہے ہیں اس کا ثبوت ضرور دیں۔ عمران خان کو معلوم ہے کہ اگر واقعہ کی تحقیقات ہو گئیں تو ان کا جھوٹ بے نقاب ہو جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان مذہب کارڈ کھیلنے سے گریز کریں، وہ ملک کے ساتھ خطرناک کھیل کھل رہے ہیں، جو گڑھا وہ دوسروں کے لئے کھود رہے ہیں اس میں خود گرے ہیں۔