Baaghi TV

Tag: تازہ ترین

  • ذرا جاگ کررہنا‘وزیراعظم عمران خان کل قوم سے خطاب کرینگے’:فواد چوہدری کا پیغام

    ذرا جاگ کررہنا‘وزیراعظم عمران خان کل قوم سے خطاب کرینگے’:فواد چوہدری کا پیغام

    اسلام آباد: سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد وزیراعظم عمران خان نے قوم سے خطاب کا فیصلہ کیا ہے۔تفصیلات کے مطابق پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری نے ٹوئٹ کیا کہ کل رات وزیراعظم قوم سے خطاب کرینگے۔

    فواد چوہدری نے بتایا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے دئیے گئے فیصلے کے تناظر میں وزیراعظم نے وفاقی کابینہ کا اجلاس طلب کرلیا ہے، اجلاس میں ملکی سیاسی صورت حال اور سپریم کورٹ کے فیصلے کا جائزہ لیا جائے گا۔

    پی ٹی آئی رہنما نے اپنے ٹوئٹ میں بتایا کہ پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس بھی کل ہوگا، وزیراعظم عمران خان اجلاس کی صدارت کرینگے۔

    واضح رہے کہ آج سپریم کورٹ نے 3 اپریل کی ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی کی رولنگ کو کالعدم قرار دیتے ہوئے تحریک عدم اعتماد کو برقرار رکھا تھا، اسکے علاوہ عدالت نے قومی اسمبلی تحلیل کرنے کا فیصلہ مسترد کرتے ہوئے کابینہ کو بھی بحال کر دیا تھا۔

    سپریم کورٹ نے جلدازجلد تحریک عدم اعتماد کو نمٹانےکا حکم دیتے ہوئے ہدایت کی کہ اسمبلی اجلاس کوغیرمعینہ مدت تک ملتوی نہ کیا جائے اسپیکرعدم اعتمادتحریک نمٹانے تک اجلاس ملتوی نہیں کرسکیں گے۔

    سپریم کورٹ نے اسمبلی کی تحلیل کے آرڈر کو غیر آئینی قرار دے دیا اور ریمارکس دیئے کہ وزیراعظم صدر کو ایڈوائس نہیں کرسکتے تھے، اب تک کے قانونی اقدامات غیر آئینی تھے۔

  • ”بدقسمت فیصلے نےبحران میں بہت اضافہ کر دیا“ملک کومسائل کی دلدل میں دھنسا دیا :فواد چوہدری

    ”بدقسمت فیصلے نےبحران میں بہت اضافہ کر دیا“ملک کومسائل کی دلدل میں دھنسا دیا :فواد چوہدری

    اسلام آباد:”بدقسمت فیصلے نےبحران میں بہت اضافہ کر دیا“عوام کوآپس میں دست وگریبان کردیا:اطلاعات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے بدقسمت فیصلے نے سیاسی بحران میں بہت اضافہ کر دیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے بہتر حل کی بجائے قوم کو پھر سے مسائل کی دلدل میں دھنسادیا ہے

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر فواد چوہدری نے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فوری الیکشن ملک میں استحکام لا سکتا تھا، بدقسمتی سے عوام کی اہمیت کو نظر انداز کیا گیا ہے۔

     

    اس بد قسمت فیصلے نے پاکستان میں سیاسی بحران میں بہت اضافہ کرُدیا ہے فوری الیکشن ملک میں استحکام لا سکتا تھا بدقسمتی سے عوام کی اہمیت کو نظر انداز کیا گیا ہے ابھی دیکھتے ہیں معاملہ آگے کیسے بڑھتا ہے

    خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے 3 اپریل کی ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی کی رولنگ کو کالعدم قرار دیتے ہوئے تحریک عدم اعتماد کو برقرار رکھا ہے۔ عدالت نے قومی اسمبلی تحلیل کرنے کا فیصلہ مسترد کرتے ہوئے کابینہ کو بھی بحال کر دیا ہے۔

     

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے نگراں حکومت کے قیام کے لیے صدر اور وزیراعظم کے اقدامات کو بھی کالعدم قرار دیتے ہوئے ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ سےپہلےکی صورتحال بحال کر دی۔

    سپریم کورٹ نے جلدازجلد تحریک عدم اعتماد کو نمٹانےکا حکم دیتے ہوئے ہدایت کی کہ اسمبلی اجلاس کوغیرمعینہ مدت تک ملتوی نہ کیا جائے اسپیکرعدم اعتمادتحریک نمٹانے تک اجلاس ملتوی نہیں کرسکیں گے۔

    عدالت نے تحریک عدم اعتماد پر 9 اپریل ہفتے کی صبح بجے 10 بجے ووٹنگ کرانے کا حکم دیا ہے، قومی اسمبلی تحلیل ہونےکی کوئی آئینی حیثیت نہیں ہے ججز نےآپس میں تفصیلی مشاورت کی ہے رولنگ سےمتعلق تفصیل بعدمیں دی جائے گی۔

  • آئین کی بالادستی ہوئی متحدہ اپوزیشن کا یومِ تشکر منانے کا اعلان

    آئین کی بالادستی ہوئی متحدہ اپوزیشن کا یومِ تشکر منانے کا اعلان

    شہباز شریف کا کہنا تھا کہ عوام کی دعائیں قبول ہوئیں پاکستان کا آئین بچ گیا پاکستان بچ گیا ۔ہم عدالت عظمی کے شکر گزار ہیں پاکستان کی عوام کی خواہشات کی عکاسی ہوئی ہے پارلیمنٹ کو مضبوط اور آئین کے تقدس کو بحال کیا گیا ہے یہ جنگ ہم نے غربت بے روزگاری مہنگائی کے خلاف لڑنی ہے ملکر لڑیں گے ۔

    شہباز شریف کا کہنا تھا کہ آئین توڑنے پر سزا کے بارے میں تفصیلی فیصلہ پڑھ کر بتائیں گے

    خرم دستگیر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج تاریخ کا دھارا بدلا ہے اور پاکستان کی اعلی ترین عدالت نے آئین پاکستان کی توقیر اور بائیس کروڑ پاکستانیوں کی عزت کا فیصلہ کیا ہے وہ مقدس دستاویز جسے ہم آئین کہتے ہیں وہ کاغذ کا ٹکڑا نہیں آئین ذندہ دستاویز ہے اس پر عمران خان کی حکومت نے حملہ کیا ۔ آئین کے تحت تحریک عدم اعتماد کا عمل جاری تھا جھوٹی بنیاد پر بغیر ثبوت کے ڈپٹی سپیکر نے مسترد کیا اور ہم نے ڈرامہ دیکھا کہ وزیراعظم نے چند منٹوں میں اسمبلی تحلیل کرنے کا اعلان کر کے آئین شکنی کی اور خطوں پر خط لکھنے شروع کر دیئے آج اللہ کے ہاں سجدے کا دن ہے عدالت نے واضح اور صاف پوری طرح آئین سے حفاظت کا آرڈر دیا ۔رولنگ مسترد کر دی گئی ڈمی وزیراعظم کے احکامات مسترد کر دیئے گیے وہ غیر قانونی تھے اگلے چند گھنٹوں میں پاکستان کی منتخب قومی اسمبلی دوبارہ سیشن میں آئے گی اور جو عدم اعتماد ہم سے چھین لی گئی تھی وہ واپس آئے گی

    سپریم کورٹ بار کے صدر احسن بھون کا کہنا تھا کہ سب سے پہلے سپریم کورٹ کو مبارکباد دیتا ہوں انہوں نے نظریہ ضرورت کو ہمیشہ کے لیے دفن کیا آئین کی بالادستی ہوئی یہ کسی پارٹی کی نہیں آئین پاکستان کی جیت ہے اس کاوش میں جن لوگوں نے حصہ لیا انکا مشکور ہوں آج جو آرڈر آیا سب کو مبارکباد دیتا ہوں آئین کی بحالی کے حوالہ سے کل پورے ملک میں وکلا کمیونٹی یوم تشکر منائے گی۔ آئین کے استحکامِ کے لیے ملکر کام کریں گے ۔ریاست کو مزید مضبوط کرنا ہے ۔

     

     

    سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے فیصلہ سنانے کے بعد بلاول بھٹو نے ٹوئٹر پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ‘جمہوریت بہترین انتقام ہے، جیئے بھٹو، جیئے عوام ،پاکستان زندہ باد’۔

     

     

    مریم نواز کہتی ہیں کہ قوم کو آئین کی سر بلندی بہت بہت مبارک۔ آئین توڑنے والوں کا کام ہمیشہ کے لیے تمام ہوا۔ اللّہ پاکستان کو چمکتا دمکتا رکھے۔

     

    مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ اطمینان بخش فیصلہ تھا کل یوم احتجاج نہیں یوم تشکر ہو گا جمعہ کی نماز کے بعد دعا کریں ملک کی سلامتی کے لیے ریلیاں بھی ہوں گی ۔اب یوم تشکر ہو گا ۔

     

    سراج الحق کہتے ہیں کہ سپریم کورٹ نے نظریہ ضرورت کو دفن کر دیا۔ جس مقام سے نظریہ ضرورت نے جنم لیا تھا، وہیں اس کی قبر بنی۔ فیصلہ خوش آئند ہے۔ پوری قوم خیرمقدم کرتی ہے

     

     

  • سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ٫ رولنگ کالعدم۔ کابینہ بحال٫ عدم اعتماد پر ووٹنگ کروانے کا حکم

    سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ٫ رولنگ کالعدم۔ کابینہ بحال٫ عدم اعتماد پر ووٹنگ کروانے کا حکم

    اسلام آباد : اسمبلی کی تحلیل ختم کر دی گئی ہے قومی اسمبلی بحال کر دی گئی ہے تحریک عدم اعتماد برقرار رہے گی، فیصلے کے مطابق وفاقی کابینہ بحال کر دی گئی ہے صدر کا اسمبلی تحلیل کرنے کا فیصلہ بھی کالعدم قرار دے دیا گیا ہے ۔

    عدالت نے کہا کہ عدم اعتماد کامیاب ہو تو فوری وزیراعظم کو الیکشن کروایا جایے حکومت کسی صورت اراکین کو ووٹ دینے سے نہیں روک سکتی ۔ آرٹیکل 63 اے پر اس فیصلے کا اثر نہیں ہو گا پانچ رکنی بینچ نے فیصلہ سنایا عدالت نے نو اپریل کو اجلاس بلانے کا بھی حکم دیا اور کہا کہ عدم اعتماد پر ووٹنگ کروائی جائے ۔چیف جسٹس نے فیصلہ سنایا کہ ہمارا فیصلہ متفقہ رائے سے ہے، تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کریں گے،

    فیصلے میں کہا گیا کہ رولنگ 3 اپریل کو دی گئی، جن لوگوں نے ریکوزیشن دیا تھا انہیں نوٹس دیئے، جن لوگوں نے ریکوزیشن دی تھی انہیں نوٹس دیئے، ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ آئین کے منافی ہے، تحریک عدم اعتماد زیرالتوا رہے گی،قومی اسمبلی توڑنا بھی خلاف قانون تھا، قومی اسمبلی پرانی پوزیشن پر بحال ہوگی، وفاقی کابینہ عہدوں پربحال، قومی اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت تک ملتوی کرنا بھی غیرآئینی قرار دے دیا گیا۔

    سپریم کورٹ نے اپنے فیصلہ میں قرار دیا کہ 9اپریل کو دن ساڑھے 10 بجے قومی اسمبلی کا اجلاس بلایا جائے، قومی اسمبلی اجلاس میں ارکان عدم اعتماد پر ووٹ کا سٹ کرسکیں گے، آرٹیکل 63 کے نفاذپر عدالتی فیصلہ اثر انداز نہ ہوگا۔فیصلہ سنانے کے بعد ججز کمرہ عدالت سے چلے گئے۔

    [wp-embedder-pack width=”100%” height=”400px” download=”all” download-text=”” attachment_id=”481429″ /]

    سپریم کورٹ فیصلے کے اہم نکات

    عدالت عظمٰی کے پانچ ججوں نے اپنے مختصر فیصلے کے 13 پیراز میں کیا لکھا ہے آئیے دیکھتے ہیں پیراوائز فیصلے میں کیا بھی ہے
    1-پیرا نمبر 1 میں ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ غیر آئینی قرار دے دی۔
    2-پیرا نمبر 2 میں تحریک عدم اعتماد کو زیر التواء قرار دیا۔
    3-پیرا نمبر 3 میں لکھا ہے کہ جب تحریک عدم اعتماد زیر التواء ہو تو وزیر اعظم صدر جو اسمبلی توڑنے کا مشورہ نہیں دے سکتا۔
    4-پیرا نمبر 4 میں لکھا ہے کہ صدر کا 3 اپریل کو اسمبلی توڑنے کا آرڈر منسوخ کیا جاتا ہے۔
    5-پیرا نمبر 5 میں لکھا ہے کہ چونکہ صدر نے اسمبلی غلط مشورے پہ توڑی اور وہ حکم منسوخ ہو گیا لہذا اسمبلی اپنی پہلی حالت میں موجود ہے ۔
    6-پیرا نمبر 6 میں لکھا ہے کہ صدر کی طرف سے نگران حکومت اور عام انتخابات کے لیے اٹھائے گئے تمام اقدامات کالعدم کیے جاتے ہیں۔
    7-پیرا نمبر 7 میں لکھا ہے کہ وزیراعظم انکی حکومت اور تمام وزراء کو انکے عہدے پہ 3اپریل کی حالت پہ بحال کیا جاتا ہے۔
    8-پیرا نمبر 8 میں لکھا ہے کہ سپیکر کی طرف سے تحریک عدم اعتماد پہ کاروائی کے لیے اسمبلی کے بلائے گئے اجلاس کی منسوخی یا ملتوی کرنے کے تمام احکامات کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے اور ایسے احکامات منسوخ کیے جاتے ہیں ۔
    9-پیرا نمبر 9 میں لکھا ہے کہ اسمبلی کا اجلاس ہفتہ کو صبح ساڑھے دس بجے سے بچے سے قبل بلا کر اس پہ تحریک عدم اعتماد پہ ووٹنگ کرائی جائے۔
    10-پیرا نمبر 10 میں لکھا ہے کہ سپیکر آئین کے تحت اس وقت تک اجلاس ملتوی نہیں کر سکتے جب تک تحریک عدم اعتماد یا تو ناکام ہو جائے دوسری صورت میں جب وہ کامیاب ہو جائے تو قاید ایوان کے انتخاب کے بعد اجلاس ملتوی کیاجائے گا۔
    11-پیرا نمبر 11 میں لکھا ہے کہ وفاقی حکومت تحریک عدم اعتماد پہ ووٹنگ کے لیے تمام ممبران کو سہولت فراہم کرے گی اور کوئی ایسا عمل نہیں کرے گی جس سے ووٹ ڈالنے میں رکاوٹ پیدا نہیں ہونے دے گی اور اٹارنی جنرل کی طرف سے کرائی گئی یقین دھانی پہ عمل کرے گی۔
    12-پیرا نمبر 12 میں لکھا ہے کہ آرٹیکل 63-A کے حوالے سے کوئی آرڈر نہیں ہے اور جو بھی اس ضمن میں آئے گا اسکی نااہلی کا معاملہ قانون کے مطابق دیکھا جائے گا۔چاہے وہ تحریک عدم اعتماد پہ ووٹنگ میں حصہ لے یا وزیر اعظم کے انتخاب میں ووٹنگ میں حصہ لے۔
    13-پیرا نمبر 13میں لکھا ہے کہ یہ حکم اس حکم کا تسلسل ہے جس کے تحت صدر اور وزیراعظم کے تمام احکامات کو اس ازخود نوٹس کے فیصلے کے تابع کیا گیا تھا۔

    چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ نوے دن میں الیکشن کمیشن کروانے کے پابند ہیں تاہم حلقہ بندیوں کی وجہ سے سات ماہ چاہیے عدالت نے کہا کہ ملک بھر میں حلقہ بندیاں کروانی ہیں تو چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ ملک بھر میں کروانی ہیں

    ‏سپریم کورٹ کے فیصلے سے قبل عدالت کی سیکیورٹی بڑھادی گئی تھی ۔ایف سی اور پولیس کی سیکیورٹی نے عدالت کے اندر اور باہر اطراف کی سڑکوں پر غیر متعلقہ افراد کے داخلے پر پابندی لگادی۔آئی جی اسلام آباد بھی خود عدالت پہنچ گئے۔مشکوک افراد کو فوری گرفتار کرنے کا حکم دے دیا ہے ادھر رضا ربانی، فواد چودھری، بابر اعواں،فیصل جاوید،شیری رحمان، نیئر بخاری، خرم دستگیر، اعظم نزیر تارڑ سمیت کئی اہم رہنما سپریم کورٹ پہنچ چکے ہیں

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ‏غیر متوقع طور پر چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ فیصلہ سپریم کورٹ میں فیصلہ سنانے سے پہلے کمرہ عدالت نمبر 1 پہنچ گئے ،
    یاد رہےکہ اس سے پہلے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایک بات نظر آ رہی ہے کہ رولنگ غلط ہے، دیکھنا ہے اب اس سے آگے کیا ہوگا، قومی مفاد کو بھی ہم نے دیکھنا ہے، قومی اسمبلی بحال ہوگی تو بھی ملک میں استحکام نہیں ہوگا، ملک کو استحکام کی ضرورت ہے، اپوزیشن بھی استحکام کا کہتی ہے۔

    چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت کی۔ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ رات کو نجی ہوٹل میں تمام ایم پی ایز نے حمزہ شہباز کو وزیراعلی بنا دیا، سابق گورنر آج حمزہ شہباز سے باغ جناح میں حلف لیں گے، حمزہ شہباز نے بیوروکریٹس کی میٹنگ بھی آج بلا لی ہے، آئین ان لوگوں کیلئے انتہائی معمولی سی بات ہے۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ پنجاب کے حوالے سے کوئی حکم نہیں دیں گے، پنجاب کا معاملہ ہائیکورٹ میں لیکر جائیں۔

    جسٹس مظہر عالم نے کہا کہ کل پنجاب اسمبلی کے دروازے سیل کر دیئے گئے تھے، کیا اسمبلی کو اس طرح سیل کیا جا سکتا ہے ؟ ن لیگ کے وکیل اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ارکان صوبائی اسمبلی عوام کے نمائندے ہیں، عوامی نمائندوں کو اسمبلی جانے سے روکیں گے تو وہ کیا کریں ؟ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ قومی اسمبلی کے کیس سے توجہ نہیں ہٹانا چاہتے۔ انہوں نے اعظم نذیر تارڑ اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو روسٹرم سے ہٹا دیا۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کیا وزیراعظم پوری قوم کے نمائندے نہیں ہیں ؟ جس پر وکیل صدر مملکت علی ظفر نے کہا کہ وزیراعظم بلاشبہ عوام کے نمائندے ہیں۔ جسٹس مظہر عالم نے پوچھا کہ کیا پارلیمنٹ میں آئین کی خلاف ورزی ہوتی رہے اسے تحفظ ہوگا ؟ کیا عدالت آئین کی محافظ نہیں ہے؟ جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا پارلیمنٹ کارروائی سے کوئی متاثر ہو تو دادرسی کیسے ہوگی ؟ کیا دادرسی نہ ہو تو عدالت خاموش بیٹھی رہے ؟ اس پر علی ظفر نے کہا کہ آئین کا تحفظ بھی آئین کے مطابق ہی ہو سکتا ہے، پارلیمان ناکام ہو جائے تو معاملہ عوام کے پاس ہی جاتا ہے، آئین کے تحفظ کیلئے اس کے ہر آرٹیکل کو مدنظر رکھنا ہوتا ہے۔

    چیف جسٹس نے استفسار کیا اگر زیادتی کسی ایک ممبر کے بجائے پورے ایوان سے ہو تو کیا ہوگا ؟ اس پر وکیل علی ظفر نے کہا کہ اگر ججز کے آپس میں اختلاف ہو تو کیا پارلیمنٹ مداخلت کر سکتی ہے ؟ جیسے پارلیمنٹ مداخلت نہیں کرسکتی ویسے عدلیہ بھی نہیں کرسکتی۔ چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیا وفاقی حکومت کی تشکیل کا عمل پارلیمان کا اندرونی معاملہ ہے ؟ اس پر علی ظفر نے کہا کہ حکومت کی تشکیل اور اسمبلی کی تحلیل کا عدالت جائزہ لے سکتی ہے، وزیراعظم کے الیکشن اور عدم اعتماد دونوں کا جائزہ عدالت نہیں لے سکتی۔

    صدر مملکت کے وکیل علی ظفر نے جونیجو کیس فیصلے کا حوالہ دے دیا۔ علی ظفر نے کہا کہ محمد خان جونیجو کی حکومت کو ختم کیا گیا، عدالت نے جونیجو کی حکومت کے خاتمہ کو غیر آینی قرار دیا، عدالت نے اسمبلی کے خاتمہ کے بعد اقدامات کو نہیں چھیڑا۔ جسٹس مظہر عالم نے کہا کہ ہمارے سامنے معاملہ عدم اعتماد کا ہے، عدم اعتماد کے بعد رولنگ آئی، اس ایشو کو ایڈریس کریں۔ علی ظفر نے کہا کہ یہاں بھی اسمبلی تحلیل کر کے الیکشن کا اعلان کر

  • خواہش ہےمقدس آئین کی بیحرمتی کرنےوالوں کو سخت سزا ملے: مریم نواز

    خواہش ہےمقدس آئین کی بیحرمتی کرنےوالوں کو سخت سزا ملے: مریم نواز

    لاہور: خواہش ہےمقدس آئین کی بیحرمتی کرنےوالوں کو سخت سزا ملے: اطلاعات کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے سپریم کورٹ کا رولنگ کو غلط قرار دینا اچھی بات لیکن امید ہے آئین توڑنے والوں کو قرار واقعی سزا ہوگی۔

     

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ رولنگ کو غلط قرار دے دیا گیا، اچھی بات ہے مگر یہ رولنگ صرف غلط نہیں ہے بلکہ آئینِ پاکستان کی بد ترین توہین ہے اور انتہائی خطرناک روش ہے جس کو لگام دینا عدلیہ کا فرض ہے۔

    انہوں نے مزید لکھا کہ امید ہے آئین توڑنے والے کو قرار واقعی سزا ہو گی تاکہ پھر کسی کو ملک کے ساتھ ایسا گھناؤنا کھیل کھیلنے کی جرات نا ہو۔

     

    یاد رہے کہ کل نوازشریف نے آئین کو مقدس قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ہمارے جمہوری حق کی تلفی کی گئی ہےاور ایک غیرآئینی کام کیا گیا ہے لٰہذا جس نے یہ جرم کیا ہے اس کو سخت سےسخت سزا دینی چاہیے

  • وزیراعظم نے پنجاب کے حوالے سےاہم فیصلہ کردیا:بڑا اہم نام سامنے آگیا

    وزیراعظم نے پنجاب کے حوالے سےاہم فیصلہ کردیا:بڑا اہم نام سامنے آگیا

    تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے سبطین خان کو پنجاب اسمبلی میں تحریک انصاف کا پارلیمانی لیڈر مقرر کر دیا ہے۔اطلاعات کے مطابق سبطین خان پارلیمانی لیڈر کے طور پر اسمبلی میں فرائض سرانجام دیں گے۔

    دوسری جانب مسرت جمشید چیمہ نے کہا ہے کہ سبطین خان کو پارلیمانی لیڈر مقرر ہونے پر مبارکباد پیش کرتی ہوں۔

    سیکرٹری اطلاعات پی ٹی آئی پنجاب مسرت جمشید چیمہ نے کہا ہے کہ پارٹی چیئرمین عمران خان کی منظوری سے سبطین خان کوپنجاب اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر مقرر کر دیا گیا۔

    انہوں نے کہا کہ پنجاب کے صدر شفقت محمود نے فیصل آباد، گجرات ، ساہیوال اضلاع کے عہدیداروں کو بھی تقرر کر دیا، چوہدری رضا نصراللہ گھمن ضلع فیصل آباد کے صدر،چوہدری تیمور علی جنرل سیکرٹری ہونگے۔

    مسرت جمشید چیمہ نے کہا ہے کہ رانا آفتاب احمد ،عادل پرویز،ملک عمر فاروق سینئر نائب صدور،ثنا اللہ گورسی ایڈیشنل جنرل سیکرٹری مقرر ہو گئے ہیں، رانا آفتاب احمد صدر ضلع ساہیوال ،ملک فیصل جلال ڈھکو جنرل سیکرٹری،راؤ محمد اسلم خان سینئر نائب صد مقررکر دئیے گئے۔

    سیکرٹری اطلاعات پی ٹی آئی پنجاب نے کہا ہے کہ سید رضوان مظفر ایڈیشنل جنرل سیکرٹری،حاجی عبد الغفار، محمد وقاص ڈپٹی جنرل سیکرٹریز مقرر کر دئیے گئے ہیں۔

    مسرت جمشید چیمہ نے کہا ہے کہ رانا انیس الرحمان سیکرٹری فنانس ،حافظ قیصر محمود ضلع ساہیوال کے سیکرٹری اطلاعات کے فرائض سر انجام دینگے، چوہدری سلیم سرور جوڑا کو ضلع گجرات کا صدر ،مبین اختر حیات کو جنرل سیکرٹری مقرر کر دیا گیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ سبطین خان کو پارلیمانی لیڈر اور اضلاع کے عہدیداروں کو مبارکباد پیش کرتے ہیں، امید ہے تمام عہدیدار تحریک انصاف کی مضبوطی کے لئے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھیں گے۔

     

  • مقبوضہ کشمیر:اگست2019سےابتک560 سےزائدکشمیری بھارتی فوج نے شہید کردیئے

    مقبوضہ کشمیر:اگست2019سےابتک560 سےزائدکشمیری بھارتی فوج نے شہید کردیئے

    سرینگر:مقبوضہ کشمیر:اگست2019سے ابتک560 سے زائد کشمیری بھارتی فوج نے شہید کردیئے:،اطلاعات کے مطابق غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوجیوں نے اپنی ریاستی دہشت گردی کی جاری کارروائیوں کے دوران 5اگست 2019 سے اب تک 560 کشمیریوں کو شہید کیا ہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کے ریسرچ سیکشن کی طرف سے آج جاری کی جانیوالی ایک رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی کرتے ہوئے مودی کی فسطائی بھارتی حکومت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کئے جانے کے بعد سے بھارتی فوجیوں نے 13خواتین سمیت 566کشمیریوں کو شہید کیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق اس دوران کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما محمد اشرف صحرائی غیر قانونی حراست کے دوران وفات پا گئے جبکہ بزرگ حریت رہنما، سید علی گیلانی ایک دہائی سے زائد عرصے تک گھر میں نظربندی کے دوران انتقال کر گئے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بیشتر کشمیریوں کو بھارتی فوجیوں نے جعلی مقابلوں اور حراست کے دوران شہید کیا ہے کیونکہ بھارتی فوجی کشمیری نوجوانوں کو ان کے گھروں سے اغوا کرکے انہیں مجاہدین یا مجاہدکارکن قراردینے کے بعد انہیں قتل کردیتے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق اس عرصے کے دوران مقبوضہ علاقے میں پرامن مظاہرین اور سوگواروں پر بھارتی فوجیوں کی طرف سے طاقت کے وحشیانہ استعمال کی وجہ سے کم از کم دوہزار240افراد شدید زخمی ہوئے جبکہ فوجیوں کے ہاتھوں شہادتوں کی وجہ سے 36خواتین بیوہ اور 85بچے یتیم ہو ئے۔

    رپورٹ میں بھارتی وزیر مملکت برائے داخلہ امور نتیا نند رائے کے اگست 2019 سے مقبوضہ کشمیرمیں87شہریوں کے قتل کے دعوے کومسترد کردیا گیا۔ بھارتی وزیر نے بدھ کے روز بھارتی پارلیمنٹ کے ایوان بالا راجیہ سبھا یہ دعویٰ کیاتھا ۔

    رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ پورے مقبوضہ کشمیر ایک کھلی جیل میں تبدیل کردیا گیا ہے اور 5 اگست 2019 کے بعد یا اس سے پہلے ہزاروں حریت رہنمائوں، سیاسی اور انسانی حقوق کے کارکنوں، صحافیوں، تاجروں، نوجوانوں اور کارکنوں کو کالے قوانین کے تحت کالے قوانین کے تحت گرفتار کیاگیا تھا اور ان میں بیشتر اب بھی بھارت اور مقبوضہ کشمیر کی مختلف جیلوں میں قید ہیں۔

    کشمیری نظربندوں میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین چیئرمین مسرت عالم بٹ، محمد یاسین ملک، شبیر احمد شاہ، غلام احمد گلزار، آسیہ اندرابی، ناہیدہ نسرین، فہمیدہ صوفی، نعیم احمد خان، ایاز محمد اکبر، الطاف احمد شاہ، پیر سیف اللہ، معراج الدین کلوال، فاروق احمد ڈار، شاہد الاسلام، امیر حمزہ، مشتاق الاسلام، ڈاکٹر محمد شفیع شریعتی، محمد یوسف فلاحی، محمد یوسف میر، محمد رفیق گنائی، فیروز احمد خان، ڈاکٹر محمد قاسم فکتو، سید شاہد یوسف، سید شکیل یوسف، بشیر احمد قریشی، حیات احمد بٹ، عبدالصمد انقلابی، انسانی حقوق کے علمبردار خرم پرویز، محمد احسن اونتو، صحافی آصف سلطان، سجاد گل اور فہد شاہ شامل ہیں،جنہیں مودی حکومت بدترین سیاسی انتقام کانشانہ بنا رہی ہے ۔کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما میر واعظ عمر فاروق مسلسل گھر میں نظر بند ہیں۔

  • پی ٹی وی کی نشریات کا غلط استعمال:معاملہ ایم ڈی پی ٹی وی تک پہنچ گیا

    پی ٹی وی کی نشریات کا غلط استعمال:معاملہ ایم ڈی پی ٹی وی تک پہنچ گیا

    اسلام آباد:پی ٹی وی کی نشریات کا غلط استعمال:معاملہ ایم ڈی پی ٹی وی تک پہنچ گیا،اطلاعات کے مطابق پاکستان ٹیلی ویژن کے پلیٹ فارم کوغلط مقاصد کے لیے اسعتمال کرنے کے خلاف معاملات طول پکڑگئے ہیں اور یہ بھی کہا جارہا ہے کہ اس حوالے سے باقاعدہ ایک شکایت پی ٹی وی اتھارٹی تک پہنچا دی گئی ہے ،

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس سلسلے میں سید جمال شاہ نے اپنے وکیل ایمان مزاری حاضر کے توسط سے سیکرٹری وزارت اطلاعات و نشریات اور منیجنگ ڈائریکٹر پی ٹی وی کے سامنے پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے ٹیکس دہندگان کے اخراجات پر پی ٹغی وی کی نشریات کے غلط استعمال کو چیلنج کیا ہے۔ .

    اس درخواست میں کہا گیا ہے کہ نمائندگی کا استدلال ہے کہ چونکہ ملک کو آئینی بحران کا سامنا ہے، اس لیے پی ٹی وی، بطور قومی نشریاتی ادارے، پی ٹی آئی کے سیاسی ایجنڈے کی حمایت یا اس کی انتخابی مہم/سیاست کو فروغ نہیں دے سکتا۔

    اس دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ نمائندگی میں مخصوص نشریات کا حوالہ دیا گیا ہے، جس میں PTV کو غیر سیاسی عوامی خدمت کو برقرار رکھنے کے اس کے فرض کی یاد دہانی کرائی گئی ہے جو حکومت، پارلیمنٹ اور عوام کی خدمت میں موثر اور موثر ہو۔ نمائندگی کا دعویٰ ہے کہ پی ٹی وی کسی خاص سیاسی جماعت کے میڈیا ونگ یا پروموٹر کے طور پر کام نہیں کر سکتا۔

  • چیف جسٹس کی بیٹی ن لیگی رہنما پرویزملک مرحوم کی بہو سحربندیال نے استعفیٰ دے دیا

    چیف جسٹس کی بیٹی ن لیگی رہنما پرویزملک مرحوم کی بہو سحربندیال نے استعفیٰ دے دیا

    لاہور:چیف جسٹس کی بیٹی ن لیگی پرویزملک مرحوم کی بہو سحربندیال نے سرکاری عہدے سے استعفیٰ دے دیا،اطلاعات کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطاء بندیال کی صاحبزادی سحر زریں بندیال نے پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کی شکایات کونسل کی رکن کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔

    ان کے اس استعفے کی خبرکے‌حوالے سے سوشل میڈیا پرایک لیٹروائرل ہورہاہے جس کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ یہ استعفیٰ سحر زرین بندیال کی طرف سے لکھا گیا ہے

     

    سحر زریں بندیال کے استعفیٰ کی کاپی سوشل میڈیا پر وائرل ہوچکی ہے۔ انہوں نے اپنے استعفیٰ میں لکھا کہ وہ سنہ 2019 سے پیمرا شکایات کونسل کی رکن ہیں اور اب فیملی مصروفیات کی وجہ سے کام جاری نہیں رکھ سکتیں۔ انہوں نے اپنے عہدے سے استعفیٰ یکم اپریل کو دیا تھا۔

    خیال رہے کہ سحر زریں بندیال چیف جسٹس عمر عطاء بندیال کی صاحبزادی اور ایک متحرک وکیل ہیں۔ ان کی مسلم لیگ ن لاہور کے سابق صدر پرویز ملک کے صاحبزادے بیرسٹر احمد پرویز ملک سے سنہ 2013 میں شادی ہوئی تھی۔

     

  • آرٹیکل 63 اے کی روسےحمزہ شہبازکوووٹ دینےوالے پی ٹی آئی ممبران اسمبلی نااہل ہوچکے

    آرٹیکل 63 اے کی روسےحمزہ شہبازکوووٹ دینےوالے پی ٹی آئی ممبران اسمبلی نااہل ہوچکے

    لاہور:آرٹیکل 63 اے کی روسےحمزہ شہبازکوووٹ دینےوالے پی ٹی آئی ممبران اسمبلی نااہل ہوچکے،اطلاعات کے مطابق آج لاہور کے فلیٹیز ہوٹل میں شہبازشریف کے صاحبزاے حمزہ شہباز نے پی ٹی آئی کے نافرمان ارکان اسمبلی کی مدد سے علامتی طور پراپنے آپ کو وزیراعلیٰ بنوانے کے لیے جو ووٹ لیے ہیں ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ اس عمل کے بعد پی ٹی آئی کے نافرمان اور پارٹی سے بےوفائی کرنے والے ممبران اب کسی کام کے نہیں رہے اور اب وہ نااہل ہوچکے ہیں جس کے لیے بس اب ایک کاغذی کارروائی رہ گئی ہے

     

    معروف قانون دان ، کالم نگار اور پارلیمانی امور کے ماہر اظہرصدیق نے ایک قانونی نقطہ اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب اسمبلی میں علامتی وزیراعلی حمزہ شریف کو منتخب کرنے پر تحریک انصاف کے تمام موجود اراکین پر آئین کے آرٹیکل 63-A کا فی الفور نفاذ ہو گیا اور یہ تمام اراکین پنجاب اسمبلی میں ووٹ ڈالنے سے قبل پارٹی ڈیکلریشن کے بعد نااہل ہو جائیں گے-

    یاد رہے کہ اس سے پہلے مریم نواز نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا ’’ حمزہ شہباز شریف 199 ووٹ لے کر وزیراعلیٰ پنجاب منتخب ہوگئے ہیں‘‘۔

     

    انہوں نے ایک اور ٹوئٹ میں لکھا ’’ پنجاب اسمبلی کا ابھی ہونے والا اجلاس علامتی نہیں بلکہ آیئنی اور قانونی اجلاس ہے جب کہ مسلم لیگ (ن) اپنی اکثریت ثابت کرنے جا رہی ہے۔

     

    اس سے قبل پنجاب اسمبلی کے علامتی اجلاس میں شرکت کے لیے مریم نواز، حمزہ شہباز اور متحدہ اپوزیشن کے اراکین سے اظہار یکجہتی کے لئے ریلی کی شکل میں ہوٹل پہنچیں ، اس موقع پر پاکستان تحریک انصاف کے منحرف رہنماؤں علیم خان ، جہانگیر ترین اور چھینہ گروپ کے اراکین بھی ریلی میں موجود تھے۔