Baaghi TV

Tag: تازہ ترین

  • یورپ کےبعد امریکہ نے بھی روس پرشکنجہ کس دیا:لڑائی میں بھی شدت آگئی

    یورپ کےبعد امریکہ نے بھی روس پرشکنجہ کس دیا:لڑائی میں بھی شدت آگئی

    واشنگٹن:یورپ کےبعد امریکہ نے بھی روس پرشکنجہ کس دیا،اطلاعات کے مطابق امریکی صدر جو بائیڈن نے بدھ کو اپنے اسٹیٹ آف دی یونین خطاب کے دوران امریکی فضائی حدود سے روسی طیاروں پر پابندی لگانے کا اعلان کیا۔

    سی این این کی خبر کے مطابق امریکی صدر نے کہا’’آج رات میں اعلان کر رہا ہوں کہ ہم اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر تمام روسی پروازوں کے لیے امریکی فضائی حدود بند کریں گے-روس کو مزید الگ تھلگ کریں گے اور ان کی معیشت پر اضافی دباؤ ڈالیں گے۔ اس سے قبل امریکہ، کینیڈا اور یوروپی یونین (ای یو) بھی روسی طیاروں کے لیے اپنی فضائی حدود بند کر چکے ہیں۔

    اس سے قبل یوروپی یونین کے صدر ارسلا وون ڈیر لیین نے اعلان کیا تھا کہ پوری یوروپی یونین اپنی فضائی حدود روسی طیاروں کے لیے بند کر دے گی۔ قابل ذکر ہے کہ جرمنی، اٹلی، اسپین اور فرانس نے گزشتہ ہفتے روسی طیاروں پر اپنی فضائی حدود میں پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا تھا۔

    ادھر یوکرین میں مرکزی ٹی وی کی عمارت پر روس کے میزائل حملے میں 5 افراد ہلاک ہو گئے۔

     

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق روسی فوج نے یوکرین کے دارالحکومت کیف میں مرکزی ٹی وی کے ٹاور پر میزائل حملہ کیا جس میں 5 افراد ہلاک ہو گئے۔

    روسی وزارت دفاع کے مطابق اب تک یوکرین کی 1325 فوجی تنصیبات تباہ کی جا چکی ہیں جبکہ یوکرین نے جنگ میں اب تک 5710 روسی فوجیوں کی ہلاکت کا اور 200 فوجیوں کو جنگی قیدی بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

    یوکرینی حکام کا کہنا ہے کہ روسی فوج کے 29 لڑاکا طیارے اور 29 جنگی ہیلی کاپٹرز مار گرائے جا چکے ہیں جبکہ 198 ٹینک، 846 بکتر بند، 77 توپیں اور 2 جنگی بحری جہاز بھی تباہ کیے جا چکے ہیں۔

    اقوام متحدہ کے مطابق اب تک 6 لاکھ 80 ہزار افراد یوکرین سے نکل چکے ہیں۔

  • طیارے کی کراچی ایئرپورٹ پر ایمرجنسی لینڈنگ:فنی خرابی یا کوئی اورمسئلہ

    طیارے کی کراچی ایئرپورٹ پر ایمرجنسی لینڈنگ:فنی خرابی یا کوئی اورمسئلہ

    کراچی: طیارے کی کراچی ایئرپورٹ پر ایمرجنسی لینڈنگ:فنی خرابی یا کوئی اورمسئلہ ،اطلاعات کے مطابق فنی خرابی پر شارجہ جانے والی ایک پرواز کو کراچی ایئرپورٹ پر ایمرجنسی لینڈنگ کرنی پڑ گئی۔

    تفصیلات کے مطابق سیالکوٹ سے شارجہ جانے والی پی آئی اے کی پرواز پی کے 209 میں اڑان بھرنے کے کچھ دیر بعد فنی خرابی پیدا ہو گئی۔کپتان نے کنٹرول ٹاور سے رابطہ کر کے کراچی ایئر پورٹ پر لینڈنگ کی اجازت طلب کی، اجازت ملنے کے بعد کپتان نے طیارے کو بہ حفاظت کراچی ایئر پورٹ پر اتار لیا۔

    قومی ایئر لائن کے ترجمان نے بتایا کہ پی کے 209 کو فنی خرابی پیدا ہونے پر کراچی ایئر پورٹ پر ٹیکنیکل لینڈنگ کرائی گئی، انجینئر طیارے کی مکمل جانچ پڑتال کر رہے ہیں، فنی خرابی دور ہوتے ہی پرواز کو شارجہ کے لیے روانہ کر دیا جائے گا۔

    یاد رہے کہ 16 فروری کو ابوظبی سے لاہور آنے والی پی آئی اے کی پرواز 264 میں فضائی میزبان کو دل کا دورہ پڑ گیا تھا، دوران پرواز فضائی میزبان مبشر علی کو دل میں تکلیف محسوس ہوئی، جس پر کپتان نے لاہور ایئر پورٹ پر لینڈنگ سے قبل میڈیکل ٹیم طلب کر لی، طیارہ لینڈ ہوتے ہی میڈیکل ٹیم نے جہاز کے اندر پہنچ کر مبشر علی کو فوری طور پر طبی امداد فراہم کی۔

  • نیٹواورجرمنی کاماسکوسےجنگ روکنےکامطالبہ:برطانوی وزیراعظم کی روس پرتنقید:حالات بگڑنےلگے

    نیٹواورجرمنی کاماسکوسےجنگ روکنےکامطالبہ:برطانوی وزیراعظم کی روس پرتنقید:حالات بگڑنےلگے

    وارسا: پولینڈ کے دورے پر موجود برطانوی وزیر اعظم نے ایک بار پھر روس پر تنقید کی اور یوکرین کو مزید دفاعی امداد کا یقین دلایا جبکہ نیٹو اور جرمنی نے ماسکو سے جنگ روکنے کا مطالبہ کردیا ہے۔

    یوکرین پر چڑھائی، یورپی ممالک نے روس مخالف اقدامات تیز کردیئے، برطانوی وزیر اعظم پولینڈ کے دورے پر یوکرین کے ہمسایہ ملک پہنچ گئے۔

    صحافیوں سے خطاب میں بورس جانسن کا کہنا تھا کہ برطانیہ یوکرین کو باقاعدگی سے دفاعی امداد پہنچا ئے گا،عالمی برادری کو سمجھنا چاہئے یوکرین جنگ کا نتیجہ وہی نکلے گا جو یوکرین چاہے گا۔

    ادھر پولینڈ سے ذرائع کے مطابق بورس جانسن نے گفتگو کرتے ہوئے روس کی سلامتی کونسل میں مستقل رکنیت کو ختم کرنے کی بھی حمایت کردی۔

    پولینڈ کے دورے پر آئے نیٹو سربرا ہ نے روس سے فوری جنگ روکنے کا مطالبہ کردیا اور کہا کہ ماسکو کے حملے ناقابل قبول ہیں۔

    کئی ممالک کے سفیروں نے اقوام متحدہ انسانی حقوق کونسل سے روسی وزیر خارجہ کے خطاب کا بائیکاٹ کردیا، سرگئی لاروف کے آن لائن خطاب کے دوران سفارتکاروں نے واک آؤٹ کیا جبکہ جرمن چانسلر نے بھی روس پر خون خرابہ ختم کرنے پر زور دیا۔

    یوکرین کے صدر کا خطاب میں کہنا تھا کہ یہی وقت ہے یورپ ثابت کرے کہ وہ یوکرین کے ساتھ ہے، یورپ کی مدد کے بغیر یوکرین تنہا ہوجائے گا۔انہوں نے روس کو ریاستی دہشت گردی کا مرتکب بھی قرار دیا۔

  • یوکرین کی یورپی یونین میں شمولیت کی درخواست منظور:روس سخت غصے میں آگیا

    یوکرین کی یورپی یونین میں شمولیت کی درخواست منظور:روس سخت غصے میں آگیا

    کیف :یوکرین کی یورپی یونین میں شمولیت کی درخواست منظور:روس سخت غصے میں آگیا ،اطلاعات کےمطابق یوکرینی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ یورپی یونین میں شمولیت کی یوکرینی درخواست منظور کرلی گئی ہے۔

    ذرائع کے مطابق گزشتہ روز یوکرین نے یورپی یونین میں شمولیت کی باضابطہ درخواست پر دستخط کیے تھے۔

    یوکرینی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ یورپی پارلیمنٹ نے شمولیت کی یوکرینی درخواست منظور کرلی ہے اورشمولیت کیلئے خصوصی طریقہ کار کی اجازت دے دی ہے۔

    یوکرین کے صدر ولودومیر زیلینسکی نے یورپی پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس میں ورچوئل خطاب کیا۔اس دوران یورپی پارلیمنٹ کے تمام ارکان نے روس کے خلاف ڈٹ جانے پر کھڑے ہو کر زیلینسکی کیلئے تالیاں بجائیں۔

    ادھر یہ بھی یاد رہے کہ

    یہ جنگ نیٹو کے رکن ممالک کی مشرقی سرحدوں پر لڑی جا رہی ہے۔۔۔ نیٹو کے کئی اتحادی ممالک کو خدشہ ہے کہ اس کے بعد روس کا اگلا ہدف وہی بنیں گے۔

    نیٹو اتحاد جس میں امریکہ، برطانیہ، فرانس اور جرمنی شامل ہیں، مشرقی یورپ میں مزید فوجیں بھیج رہا ہے۔

    تاہم امریکہ اور برطانیہ کا کہنا ہے کہ ان کا یوکرین میں فوجیں بھیجنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

    نیٹو کیا ہے؟

    نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن (نیٹو) کی تشکیل سنہ 1949 میں سرد جنگ کے ابتدائی مراحل میں اپنے رکن ممالک کے مشترکہ دفاع کے لیے بطور سیاسی اور فوجی اتحاد کے طور پر کی گئی تھی۔

    امریکہ اور کینیڈا کے علاوہ 10 یورپی ممالک کی جانب سے دوسری جنگ عظیم کے نتیجے میں بنائے گئے اس اتحاد کا بنیادی مقصد اس وقت کے سوویت یونین سے نمٹنا تھا۔

    جنگ کے ایک فاتح کے طور پر ابھرنے کے بعد، سوویت فوج کی ایک بڑی تعداد مشرقی یورپ میں موجود رہی تھی اور ماسکو نے مشرقی جرمنی سمیت کئی ممالک پر کافی اثر و رسوخ قائم کر لیا تھا۔

    جرمنی کے دارالحکومت برلن پر دوسری جنگ عظیم کی فاتح افواج نے قبضہ کر لیا تھا اور سنہ 1948 کے وسط میں سوویت رہنما جوزف سٹالن نے مغربی برلن کی ناکہ بندی شروع کر دی تھی، جو اس وقت مشترکہ طور پر امریکی، برطانوی اور فرانسیسی کنٹرول میں تھا۔

    شہر میں محاذ آرائی سے کامیابی سے گریز کیا گیا لیکن اس بحران نے سوویت طاقت کا مقابلہ کرنے کے لیے اتحاد کی تشکیل میں تیزی پیدا کر دی تھی۔

    President Harry S. Truman signing the North Atlantic Treaty, marking the beginning of NATO, in 1949

     نیٹو اتحاد کی بنیاد سنہ 1949 میں سرد جنگ کے اوائل میں رکھی گئی تھی

    سنہ 1949 میں امریکہ اور 11 دیگر ممالک (برطانیہ، فرانس، اٹلی، کینیڈا، ناروے، بیلجیئم، ڈنمارک، نیدرلینڈز، پرتگال، آئس لینڈ اور لکسمبرگ) نے ایک سیاسی اور فوجی اتحاد تشکیل دیا۔

    سنہ 1952 میں اس تنظیم میں یونان اور ترکی کو شامل کیا گیا جبکہ سنہ 1955 میں مغربی جرمنی بھی اس اتحاد میں شامل ہوا۔

    دوسری جانب 1955 میں سوویت روس نے نیٹو کا مقابلہ کرنے کے لیے مشرقی یورپ کے کمیونسٹ ممالک کا الگ سے فوجی اتحاد بنا لیا، جسے وارسا پیکٹ (وارسا معاہدہ) کہا جاتا ہے۔

    سنہ 1991 میں سوویت یونین کے خاتمے کے بعد وارسا معاہدے میں شامل متعدد ​​ممالک نے وفاداریاں بدل لیں اور نیٹو کے رکن بن گئے۔

    اس وقت نیٹو اتحاد میں 30 ممالک شامل ہیں۔

    نیٹو اور یوکرین کے ساتھ روس کا مسئلہ کیا ہے؟

    یوکرین سابقہ سوویت یونین کا ایک حصہ ہے جس کی سرحد روس اور یورپی یونین دونوں سے ملتی ہے۔

    یہاں روسی باشندوں کی ایک بڑی آبادی ہے اور روس سے قریبی سماجی اور ثقافتی تعلقات ہیں۔ کریملن یوکرین کو اپنے قریبی علاقے کے طور پر دیکھتا ہے اور حال ہی میں روسی صدر پوتن نے یوکرین کو روس کا حصہ کہا تھا۔

    تاہم حالیہ برسوں میں یوکرین مغرب سے امیدیں لگائے بیٹھا ہے۔ یورپی یونین اور نیٹو میں شمولیت اس کے آئین کا حصہ ہے۔

    یوکرین نیٹو کا رکن نہیں لیکن اس کا ‘شراکت دار ملک’ ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ یوکرین کو مستقبل میں کسی بھی وقت اس اتحاد میں شامل ہونے کی اجازت ہے۔

    روس مغربی طاقتوں سے اس بات کی یقین دہانی چاہتا ہے کہ ایسا کبھی نہیں ہو گا تاہم امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا کہنا ہے کہ ایک خودمختار ملک کے طور پر یوکرین کو اپنے سیکیورٹی اتحاد کے بارے میں فیصلہ کرنے کی آزادی ہونی چاہیے اور یہ کہ وہ یوکرین کو نیٹو میں شامل ہونے سے روک نہیں سکتے۔

    روس کو  خدشات

    پوتن

    روس کے صدر ولادیمیر پوتن کا دعویٰ ہے کہ مغربی طاقتیں اس اتحاد کو روس کو گھیرنے کے لیے استعمال کر رہی ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ نیٹو مشرقی یورپ میں اپنی فوجی سرگرمیاں بند کر دے۔

    وہ ایک طویل عرصے سے اس بات پر زور ڈالتے آئے ہیں کہ امریکہ نے 1990 میں دی گئی اپنی اس ضمانت کو ختم کر دیا، جس کے مطابق نیٹو اتحاد مشرق میں نہیں پھیلے گا۔

    امریکہ کا کہنا ہے اس نے ایسی کوئی ضمانت نہیں دی تھی۔

    نیٹو روس کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اس کے رکن ممالک کی ایک بہت چھوٹی تعداد کی روس کے ساتھ مشترکہ سرحدیں ہیں اور یہ ایک دفاعی اتحاد ہے۔

  • روس کے پاس کم فاصلے تک مار کرنے والے میزائل ہی نہیں: روسی وزیر خارجہ کے اس بیان پرمغرب پریشان

    روس کے پاس کم فاصلے تک مار کرنے والے میزائل ہی نہیں: روسی وزیر خارجہ کے اس بیان پرمغرب پریشان

    ماسکو: روس کے پاس کم فاصلے تک مار کرنے والے میزائل ہی نہیں: روسی وزیر خارجہ کے اس بیان پرمغرب پریشان،اطلاعات کے مطابق روسی وزیر خارجہ نے ایک تازہ بیان میں واضح کیا ہے کہ روس کے پاس درمیانے یا کم فاصلے تک مار کرنے والے میزائل نہیں ہیں۔

    تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا پر یوکرین کے شہر خارکیف میں ایک تاریخی عمارت کو میزائل سے نشانہ بنانے کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد روسی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ روس کے پاس کم فاصلے تک مار کرنے والے میزائل ہی نہیں ہیں۔

    روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے بیان میں کہا کہ یوکرین اشتعال انگیزیاں کر رہا ہے، تاہم روس یوکرین میں جوہری کارروائی سے ہر ممکن گریز کرے گا انھوں نے ایک بار پھر مطالبہ کیا کہ واشنگٹن اور مغرب روس کے ساتھ کیے گئے وعدوں کی پاسداری کرے۔

     

     

    واضح رہے کہ یوکرین پر روسی حملے کا آج پانچواں روز ہے، اس دوران سیکڑوں شہری اور فوجی میزائل حملوں اور گولیوں کا نشانہ بن کر ہلاک ہو چکے ہیں، کیف، اڈیسہ اور خارکیف پر روسی افواج کی شیلنگ جاری ہے, پیر کو اوختیرکا میں ایک فوجی اڈے پر روسی توپ خانے کے حملے میں کم از کم 70 یوکرینی فوجی ہلاک ہونے کے اطلاعات ہیں۔

     

     

    غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق کیف کی جانب ایک بہت بڑے روسی فوجی قافلےکی پیش قدمی دیکھی گئی ہے، روسی فوجی قافلہ سڑک پر 40 میل تک پھیلا ہوا تھا، روسی فوجی کانوائے میں ٹینک اور دیگر جنگی گاڑیاں موجود تھیں، میڈیا رپورٹس کے مطابق اس کی تصاویر سیٹلائٹ سے حاصل کی گئی ہیں۔

  • پاکستان آسٹریلیا سیریز :شائقین کرکٹ کیلئے این سی او سی نے خوشخبری سنا دی

    پاکستان آسٹریلیا سیریز :شائقین کرکٹ کیلئے این سی او سی نے خوشخبری سنا دی

    این سی او سی نے پاکستان آسٹریلیا سیریز کے لیے 100 فیصد تماشائیوں کی اجازت دے دی۔ پی سی بی کے مطابق راولپنڈی میں 4 مارچ سے شروع ہونے والے ٹیسٹ میچ میں 100 فیصد تماشائی انٹرنیشنل کرکٹ سے لطف اندوز ہو سکے گے، جبکہ لاہور اور کراچی میں ہونے والے میچزمیں بھی اسٹیڈیم فل ہوں گے۔

    پی سی بی نے این سی او سی کے فیصلے سے پہلے 50 فیصد تماشائیوں کے لیے ٹکٹیں فروخت کے لیے رکھی تھیں، این سی او سی کے فیصلے کے بعد پی سی بی نے بقایا 50 فیصد تماشائیوں کے لیے ٹکٹ کی بکنگ کھول دی ہے۔

    این سی او سی کے مطابق 12 سے زائد عمر کے تمام لوگوں کو مکمل ویکسینیشن کے ساتھ میچ دیکھنے کی اجازت ہوگی۔ 12 سال سے کم عمر لوگ ویکسینیشن کے بغیر اسٹیڈیم میں میچ دیکھ سکیں گے۔

    آسٹریلیا اور پاکستان کرکٹ ٹیموں کے مابین 3 ٹیسٹ، 3 ایک روزہ اور ایک ٹی ٹوئنٹی بین الاقوامی میچز پر مشتمل سیریز کا آغاز راولپنڈی سے ہو گا۔ آسٹریلیا کرکٹ ٹیم 4 سے 8 مارچ تک راولپنڈی میں پہلا ٹیسٹ میچ کھیلے گی۔

    سیریز میں شامل چاروں وائٹ بال میچز بھی راولپنڈی میں کھیلے جائیں گے جبکہ آسٹریلیا کرکٹ ٹیم 5 مارچ کو راولپنڈی میں آخری ٹی ٹوئنٹی بین الاقوامی میچ کھیلے گی اور 5 مارچ کے بعد وطن واپس روانہ ہو جائے گی۔

    سیریز کا دوسرا ٹیسٹ میچ 12 سے 16 مارچ تک کراچی میں ہو گا اور تیسرا ٹیسٹ میچ 21 سے 25 مارچ تک لاہور میں کھیلا جائے گا۔

  • روس یوکرین مذاکرات میں مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوئے:صدر زیلنسکی

    روس یوکرین مذاکرات میں مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوئے:صدر زیلنسکی

    کیف:روس یوکرین مذاکرات میں مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوئے،اطلاعات کے مطابق یوکرینی صدر زیلنسکی کا کہنا ہے کہ روس کے ساتھ مذاکرات میں مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوئے، انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے دوران بھی روس نے حملے جاری رکھے تاہم روس نے اپنا موقف واضح کر دیا ہے اور یوکرین نے بھی جنگ کے خاتمے کے لیے اپنی خواہشات کا ظہار کیا ہے.

    یوکرینی صدر کے مطابق یوکرینی وفد کے ساتھ مذاکرات کے اگلے دور کے متعلق فیصلہ کریں گے، صدر زیلنسکی نے کہا کہ روس صرف دباؤ بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے لیکن وہ اپنا وقت ضائع نہ کرے کیونکہ یوکرین اس طرح کے حربوں کو نہیں مانتا۔

    دوسری جانب یوکرین پر متنازع بیان پر بلغاریہ کے وزیر دفاع اسٹیفن یانیف کو عہدے سے ہٹا دیا گیا، بلغاریہ کے وزیر دفاع نے یوکرین پر روسی کارروائی کو جنگ کہنے سے گریز کیا تھا، اسٹیفن یانیف نے یوکرین میں روسی کارروائی کو فوجی مداخلت قرار دیا ہے۔

     

    امریکی حکام کے مطابق اب تک روسی افواج نے 380 میزائل فائر کیے ہیں، یوکرین کے دوسرے بڑے شہر خارکیف پر بھی قبضے کے لیے شدید لڑائی جاری ہے۔

    روس کے مرکزی بینک نے شرح سود میں بھی اضافہ کر دیا ہے، روسی مرکزی بینک کا کہنا ہے کہ شرح سود کو 9.5 فیصد سے بڑھا کر 20 فیصد کر رہے ہیں، فیصلہ روبل کی قدر میں کمی اور افراطِ زر جیسے بڑھتے ہوئے خطرات سے نمٹانے کے لیے اٹھایا گیا۔ماسکو نے کمپنیوں کو غیر ملکی کرنسی سے ہونے والی آمدن کا80 فیصد فروخت کرنے کا بھی حکم دیا ہے،

     

     

     

    ادھر اطلاعات کے مطابق جنگ میں شدت آگئی ہے اور یوکرینی فوجی دستوں نے روسی افواج کی پیش قدمی روک دی ہے ، یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ یوکرینی عوام اپنے فوجیوں کا حوصلہ بڑھانےکے لیے خطرات کی پرواہ کیئے بغیر کھلے عام پھررہےہیں

     

     

    دوسری طرف روس نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ اس کے فوجی دستے دوسرے بڑے شہر میں داخل ہوچکے ہیں اور شہر میں گشت کررہے ہیں

  • جاپان نے روس کے خلاف نئی جنگ چھیڑدی

    جاپان نے روس کے خلاف نئی جنگ چھیڑدی

    ٹوکیو: جاپان نے روس کے خلاف نئی جنگ چھیڑدی ، ایک طرف یوکرین اور روس کے درمیان میزائلوں ، گولہ باورود کی جنگ ہے تو دوسری طرف جاپان نے روس کے خلاف معاشی پابندیوں کی جنگ چھیڑ کی نیا محاذ کھول دیا ہے ، اسی سلسلے میں‌ جاپان نے روس کے مرکزی بینک کے اثاثے منجمد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق یوکرین پر حملے کے تناظر میں جاپان، ماسکو پر پابندیوں کو زیادہ مؤثر بنانے کی کوشش کر رہا ہے، اس سلسلے میں جاپانی حکومت نے روس کے مرکزی بینک کے ساتھ لین دین محدود کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    جاپانی حکام کے مطابق بینک آف جاپان میں روسی مرکزی بینک کے کھربوں ین غیر ملکی کرنسی ذخائر کی شکل میں پڑے ہوئے ہیں، انھیں منجمد کر دیا جائے گا۔

    مغربی ملکوں کی جانب سے سخت نئی اقتصادی پابندیاں عائد کیے جانے کے بعد پیر کے روز روسی روبل کی قدر گر کر اب تک کی ریکارڈ کم ترین سطح پر آ گئی ہے۔

    بینک آف رشیا کرنسی منڈیوں میں روبل کے دفاع کے لیے اپنے بین الاقوامی محفوظ ذخائر کو استعمال کے لیے منظم کرتا رہا ہے، لیکن اگر اُس کے ذخائر منجمد کر دیے گئے تو بینک کو ایسا کرنے میں مشکل پیش آئے گی۔

    ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ اگر روبل کی قدر تیزی سے گرتی رہی تو افراطِ زر میں اضافہ ہوگا جس سے روسی معیشت کو دھچکا لگے گا۔

    بتایا جاتا ہے کہ روس کا مرکزی بینک اپنے غیر ملکی کرنسی ذخائر کی بڑی مقدار ڈالر، یُورو اور یُوآن میں رکھتا ہے، تاہم جاپانی حکام کو یقین ہے کہ حکومتی اقدام سے روس کے خلاف پابندیوں کو زیادہ مؤثر بنانے میں مدد ملے گی

    دوسری طرف لڑائی میں شدت آگئی ہے اور یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے ایک اور ویڈیو پیغام میں کہا کہ روس کی فوج کو دارالحکومت کئیف کی دفاعی لائن کو توڑنے نہیں دیا۔

    انہوں نے کہا کہ روس یوکرین کے تھرمل پاور پلانٹ کو نشانہ بنا رہا ہے جو کیئف کی30 لاکھ کی آبادی کو بجلی فراہم کرتا ہے

  • غلطی ہر انسان سے ہوتی ہے،مگرمیں کیا کرتا ہوں محمد رضوان نے بتادیا

    غلطی ہر انسان سے ہوتی ہے،مگرمیں کیا کرتا ہوں محمد رضوان نے بتادیا

    لاہور: غلطی ہر انسان سے ہوتی ہے،مگرمیں کیا کرتا ہوں محمد رضوان نے بتادیا،اطلاعات کے مطابق پاکستان سپر لیگ سیزن 7 کی ٹیم ملتان سلطانز کے کپتان محمد رضوان نے اپنے غصے سے متعلق گفتگو کی ہے۔

    پاکستان کرکٹ کی شان ،خوش طبعیت کے مالک محمد رضوان نے مزید کیا کہا سنتے ہیں ان کی زبانی ،پی ایس ایل 7 کے دوران محمد رضوان اپنے ٹھنڈے مزاج اور ہر وقت مسکراتے رہنے کے سبب خاصے مقبول ہوئے جس کی ویڈیوز اور تصاویر بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوتی نظر آئیں۔

    پی ایس ایل کے فائنل میں لاہور قلندرز کے ہاتھوں شکست کے بعد گفتگو کرتے ہوئے رضوان کا کہنا تھا کہ خود کو ٹھنڈا رکھنے کی کوشش کرتا ہوں۔

    رضوان نے کہا میری کوشش ہوتی ہے کہ میں کسی پر غصہ نہ کروں کیوں کہ ہم سب انسان ہیں اسی لیے ہر انسان سے غلطی ہوتی رہتی ہے لیکن پھر بھی اگر کوئی ایسی چیز نظر آئے جس سے ٹیم یا قوم کا نقصان ہوتا دیکھوں تو غصہ بھی کرتا ہوں لیکن میں جانتا ہوں کہ سامنےوالا بھی میری طرح انسان ہے لہٰذا کوشش کرتا ہوں خود کو ٹھنڈا رکھوں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ پی ایس ایل میں جتنے بھی کپتان آئے ان کو دیکھ کر خوشی ہوئی، ایونٹ کے انعقاد سے ہر کھلاڑی کو سیکھنے کا موقع ملتا ہے۔

    یاد رہے کہ پاکستان سپر لیگ کے ساتویں ایڈیشن کے فائنل مقابلے میں لاہور قلندرز نے ملتان سلطانز کو 42 رنز سے شکست دے کر پہلی بار ٹائٹل اپنے نام کرلیا تھا۔

  • مقبوضہ کشمیر:فروری میں 8کشمیری شہید:بھارتی فوج کے مظالم جاری

    مقبوضہ کشمیر:فروری میں 8کشمیری شہید:بھارتی فوج کے مظالم جاری

    سرینگر:مقبوضہ کشمیر:فروری میں 8کشمیری شہید:بھارتی فوج کے مظالم جاری:کشمیریوں کی طرف سے مذمت جاری ،اطلاعات کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں نے اپنی ریاستی دہشت گردی کی جاری کارروائیوں کے دوران گزشتہ ماہ فروری میں 8 کشمیریوں کو شہید کیا۔

    کشمیر میڈیا سروس کے ریسرچ سیکشن کی طرف سےآج جاری کردہ اعداد و شمار کےمطابق ان میں سے3نوجوانوں کو ایک جعلی مقابلے میں شہید کیاگیا۔گزشتہ ماہ بھارتی فورسز نے تلاشی اور محاصرے کی 179کارروائیوں کے دوران 107نوجوانوں کو گرفتار کیا جبکہ پر امن مظاہرین پر طاقت کا وحشیانہ استعمال کر کے کم سے کم 10کشمیریوں کو زخمی کر دیا ۔ گزشتہ ماہ بھارتی فوجیوں نے تین خواتین کی بے حرمتی کی اور دو مکانوں کو تباہ کردیا ۔

    بیان میں کہاکہ مقبوضہ کشمیر کی مسلم اکثریتی شناخت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کیلئے جعلی مقابلوں میں نہتے کشمیری نوجوانوں کاقتل عام ، شہریوں کی گرفتاریوں اور گھروں اور بستیوں کوتباہ کرنے کا گھنائوناسلسلہ مسلسل جاری ہے ۔انہوں نے کہاکہ کشمیری شہداء نے بھارتی تسلط سے آزادی کیلئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے ۔تاہم انہوںنے واضح کیاکہ وہ دن دور نہیں جب جموں وکشمیرمیں آزادی کا سورج طلوع ہو گا ۔ کشمیری عوام بالخصوص نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ بھارتی فوجی تسلط سے آزادی کیلئے اپنی تحریک مزاحمت کو اس کے منطقی انجام تک جاری رکھیں۔انہوں نے کہاکہ آزاد کشمیر کی حکومت ، سیاسی ، سماجی اور مذہبی تنظیمیں ، سول سوسائٹی اور عوام سے بھی اپیل کی کہ وہ نہتے کشمیری عوام پر ڈھائے جانیوالے مظالم کو اجاگر کرنے کیلئے بھارت کیخلاف منظم تحریک شروع کریں

    کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین مسرت عالم بٹ، محمد یاسین ملک، شبیر احمد شاہ، آسیہ اندرابی،ناہیدہ نسرین، فہمیدہ صوفی، نعیم احمد خان،غلام احمد گلزار، الطاف احمد شاہ، ایاز محمد اکبر، پیر سیف اللہ، معراج الدین کلوال، شاہد الاسلام ، فاروق احمد ڈار،سید شاہد شاہ ، سید شکیل احمد ، انجینئر رشید، امیر حمزاہ ، محمد یوسف فلاحی ، ڈاکٹر قاسم فکتو، ڈاکٹر محمد شفیع شریعتی، ڈاکٹر غلام محمد بٹ ، غلا قادر بٹ ، محمد یوسف میر ، رفیق احمد گنائی ، غلام احمد بٹ ، شکیل احمد یتو، 65سالہ محمد شعبان ڈار، انسانی حقوق کے علمبردار خرم پرویز ، محمد احسن اونتو، کشمیری صحافی آصف سلطان،سجاد احمد ڈار ، فہد شاہ اور درجن سے زائد کشمیری خواتین سمیت چار ہزار سے زائد حریت رہنماء ، کارکن ، نوجوان اور طلباء کو جھوٹے اور بے بنیاد الزامات کے تحت بدترین سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے اور ان کے شہری حقوق پامال کئے جارہے ہیں ۔