Baaghi TV

Tag: تازہ ترین

  • قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کو جزوی بند رکھنےکےفیصلہ:    نوٹیفکیشن بھی جاری

    قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کو جزوی بند رکھنےکےفیصلہ: نوٹیفکیشن بھی جاری

     

    اسلام آباد:پاکستان میں اسلامی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے اہم اجلاس کے سبب قومی اسمبلی کی تمام سرگرمیاں جزوی طور پر معطل کر دی گئیں۔ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے شعبہ انتظامیہ کی جانب سے ایک نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے۔

     

    ذرائع کے مطابق نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں اسلامی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے اہم اجلاس کے موقع کی مناسبت سے سیکرٹریٹ کی تزئین و آرائش کا کام جاری ہے جس کی وجہ سے یہ فیصلہ کیا گیا ہے

     

    اس نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ سیکرٹریٹ 7 سے 11 مارچ کے دوران بند رہے گا

    نوٹیفکیشن کے مطابق کورونا کا ممکنہ پھیلاؤ روکنے کے لیے قومی اسمبلی سیکرٹریٹ  5 دن کے لیے بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ نوٹیفکیشن میں ب

     

    واضح رہے کہ پاکستان انشا اللہ 22 مارچ کو اسلامی تعاون تنظیم اجلاس کی میزبانی کرے گا۔

     

     

     

    پاکستان انشا اللہ 22 مارچ کو اسلامی تعاون تنظیم اجلاس کی میزبانی کرے گا اور اوآئی سی وزرائے خارجہ کونسل 23مارچ پریڈمیں بطورمہمان شرکت کرے گی ، پاکستان 75 واں یوم پاکستان کشمیریوں کیساتھ منائے گا

     

    یاد رہے گذشتہ سال دسمبر میں بھی اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کی وزرائے خارجہ کونسل کا غیر معمولی اجلاس اسلام آباد میں ہوا تھ

     

  • وزیراعظم صاحب:اقتدارآنی جانی چیزہے:دلیرانہ فیصلے کریں:قوم آپ کوہمیشہ یاد رکھے گی:ندیم افضل چن

    وزیراعظم صاحب:اقتدارآنی جانی چیزہے:دلیرانہ فیصلے کریں:قوم آپ کوہمیشہ یاد رکھے گی:ندیم افضل چن

    اسلام آباد :وزیراعظم صاحب:اقتدارآنی جانی چیزہے:قوم آپ کوہمیشہ یاد رکھے گی:ندیم افضل چن بھی کپتان کے فین نکلے ،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کے سابق ترجمان ندیم افضل چن کا کہنا ہے کہ خان صاحب اگر بہادری سے اچھے فیصلے کرجائیں تو لوگ یاد رکھیں گے۔

    تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کے سابق ترجمان ندیم افضل چن نے کابینہ سے استعفے کے بعد اے آر وائی نیوز کو تہلکہ خیز انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ سب کہتےہیں اسٹیبلشمنٹ نیوٹرل ہے توپھر نیوٹرل ہی ہوگی، اسٹیبلشمنٹ نیوٹرل ہوتوپھر بہت کچھ ہوجاتا ہے۔

    سابق ترجمان کا کہنا تھا کہ تاریخ مجبوروں کو نہیں بہادروں کو یاد رکھتی ہے، خان صاحب اگر بہادری سے اچھے فیصلے کرجائیں تو لوگ یاد رکھیں گے، بعد میں بندہ کہتا ہے یہ مجبوری وہ مجبوری تھی،ایسے لوگ یاد نہیں رہتے۔

    انہوں نے حکومت کے موجودہ ماحول میں خود کو اَن فٹ قرار دیتے ہوئے کہا پی ٹی آئی میں عہدہ نہیں لینا چاہتا کیونکہ اگر اختیارات نہ ہوں تو ڈلیور نہیں کرسکوں گا۔

    ندیم افضل چن نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ صنعت کی وزارت ٹاپ ٹین میں ہے مگر ملک میں کھاد کی قلت ہے، صرف سیاست دانوں پر الزامات نہیں لگنےچاہئیں،

    ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم سےمیسجنگ ہوتی ہےمگراب عہدہ نہیں چاہتا کیونکہ ڈلیورنہ کرسکتا، موجودہ ماڈل میں اچھی انگریزی ، سلجھے اور قابل لوگ فٹ ہوتے ہیں، ہم سلجھے ہوئےنہیں ، سیاسی انگریزی توآتی ہے مگر درباریوں والی نہیں۔

    سابق ترجمان نے کہا کہ کسی سے ناراضی نہیں لیکن پیچھے پیچھے دوڑنے کا قائل نہیں، دولت مند اورتگڑے لوگ وزیراعظم کےقریب ہیں، اگلا الیکشن کس کے ساتھ لڑنا ہے یہ ابھی فیصلہ نہیں کیا

  • متنازع ڈیمز: بھارت کا پھر پاکستانی اعتراضات ماننے سے انکار

    متنازع ڈیمز: بھارت کا پھر پاکستانی اعتراضات ماننے سے انکار

    اسلام آباد:متنازع ڈیمز: بھارت کا پھر پاکستانی اعتراضات ماننے سے انکار ،اطلاعات کے مطابق پاکستان کے حوالے سے بھارتی ہٹ دھرمی میں‌ کوئی کمی نہیں آئی ہے اور صورت حال مزید خرات ہوتی نظر آرہی ہے ، ادھر اس حوالے سے معلوم ہوا ہےکہ متنازع ڈیمز کے حوالے سے بھارت نے پھر پاکستانی اعتراضات ماننے سے انکار کر دیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق پاک بھارت آبی تنازعات پر اسلام آباد میں یکم مارچ کو شروع ہونے والے سہ روزہ مذاکرات میں بھارت کی جانب سے ‘نہ مانوں’ کی رٹ برقرار ہے۔

    مذاکرات میں پاکستان نے دریائے سندھ، چناب، پونچھ پر 10 بھارتی ڈیمز کے ڈیزائن پر اعتراض کیا، ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارت نے متنازع ڈیمز پر پاکستان کے اعتراضات ماننے سے انکار کر دیا ہے۔

    پاکستان نے اعتراض اٹھایا کہ بھارت 2019 سے دریاؤں میں پانی کے بہاؤ کا ڈیٹا شیئر نہیں کر رہا ہے، تاہم بھارت نے پاکستان کے ساتھ پانی کے بہاؤ کا ڈیٹا شیئر کرنے سے بھی انکار کرتے ہوئے مؤقف پیش کیا کہ سندھ طاس معاہدے میں پانی کا ڈیٹا شیئر کرنے کی شق موجود نہیں ہے۔مذاکرات کے دوران پاکستان کا مؤقف تھا کہ بھارت کی وجہ سے پاکستان کو سیلابی صورت حال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

    واضح رہے کہ یکم مارچ کو 10 رکنی بھارتی آبی ماہرین کا وفد واہگہ کے راستے لاہور پہنچا تھا، جس کی قیادت پی کے سکسینا کر رہے ہیں، جب کہ پاکستان کی جانب سے نمائندگی کمشنر انڈس واٹر کمیشن مہر علی شاہ کر رہے ہیں۔

    پاکستان کی جانب سے بھارتی آبی منصوبوں پر اعتراضات کے بعد یہ پہلا اجلاس ہے، مذاکرات شروع ہونے سے قبل مہر علی شاہ کا کہنا تھا کہ دریاے چناب پر بھارت کے کیروہائیڈرو پاور پراجیکٹ ڈیزائن پر پاکستان کو اعتراض ہے، مقبوضہ کشمیر میں دریاے پونچھ پر مانڈی پروجیکٹ پر بھی ہمیں اعتراض ہے۔

    انھوں نے کہا دریاے سندھ پر 24 میگا واٹ کے نیموں چلنگ، دریاے سندھ پر ٹربوک شیوک منصوبے، 25 میگا واٹ کے ہنڈر رمان کے ڈیزائن، دریاے سندھ پر سانکو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کے ڈیزائن، 19 میگا واٹ کے مینگڑم سانگرا کے ڈیزائن پر بھی پاکستان کو اعتراض ہے۔

    خیال رہے کہ بھارتی وفد اجلاس کے بعد کل 4 مارچ کو بھارت روانہ ہو جائے گا، پاکستانی مؤقف کے مطابق بھارت کو سندھ طاس معاہدے کے تحت ہی منصوبے بنانے کی اجازت ہے۔

  • اسٹیج سج گیا:اب بس فائنل پرفارمنس ہونا باقی ہے:   تحریر:-نوید شیخ

    اسٹیج سج گیا:اب بس فائنل پرفارمنس ہونا باقی ہے: تحریر:-نوید شیخ

    گزشتہ روز ق لیگ سے ملاقات کے حوالے سے وزیروں اور مشیروں کی جانب سے خوب ڈھنڈورا پیٹا گیا کہ معاملات حل ہوگئے ، چیزیں طے ہوگئیں ۔ مگر اس حوالے سے متضاد خبریں فورا ہی رپورٹ ہوگئیں ۔ سب سے پہلے تو ق لیگ کے رہنما طارق بشیر چیمہ نے واضح الفاظ میں کہا دیا ہے کہ ابھی یہ فیصلہ نہیں ہوا عدم اعتماد میں حکومت کے ساتھ ٹھہرنا ہے یا خلاف جانا ہے۔ چوہدری صاحب مشاورت کررہے ہیں۔

    نوید شیخ کہتے ہیں‌کہ پھر اس خبر کی تصدیق نہیں ہوئی مگر اطلاعات ہیں کہ مسلم لیگ ق کا پانچ رکنی وفد چوہدری پرویز الہی کی سربراہی میں شہباز شریف سے ملنے جائے گا۔ اور یہ ملاقات ہفتہ یا اتوار کو ہوسکتی ہے ۔ یوں اگر یہ ملاقات ہوجاتی ہے تو جو وزیر اور مشیر ہم کو بتا رہے ہیں معاملات ویسے نہیں ہیں ۔

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ویسے یہ میں پہلے بتا چکا ہوں مگر پھر یاد کروادوں کہ اس ہفتے اپوزیشن کے تین بڑوں شہباز شریف ، مولانا فضل الرحمان اور آصف علی زرداری نے پھر ملنا ہے اور چیزیں فائنل کرنی ہیں ۔ شاید کوئی اعلان بھی ہو جائے ۔

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس حوالے سے مولانا فضل الرحمان اشارہ کرچکے ہیں ان کا کہنا ہے کہ اپوزیشن قیادت اپنا ہوم ورک مکمل کرچکی ہے۔ اگلے دو سے تین دن بہت ہی اہم ہیں، ہوسکتا ہے اگلے اڑتالیس گھنٹوں میں بڑی خوشخبری آجائے گی۔ انکا کہنا تھا کہ سابق صدر آصف علی زرداری اور سابق وزیراعظم نواز شریف کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہوں، حکومتی اتحادیوں سے بھی ہم سب رابطے میں ہیں۔ اپوزیشن تمام حل طلب امور پر اتفاق رائے کرکے بہت آگے پہنچ چکی، پھر ان کے مطابق اپوزیشن نے اپنے تمام اراکین اسمبلی کو اسلام آباد فوری پہنچنے کی ہدایت کردی ہے ۔

    شاید اسی لیے شاہد خاقان عباسی نے دعوی کیا ہے کہ ق لیگ کے پانچ ارکان ہیں۔ ان کے بغیر بھی عدم اعتماد ہو جائے گی۔

    اس حوالے سے خبر یہ ہے کہ پی ٹی آئی کے اندر ناراض ارکان قومی اسمبلی کی تعداد کم وبیش پندرہ سے بیس ہے اور اپوزیشن کو عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب کرنے کے لیے صرف تیرہ ارکان کی حمایت درکار ہے۔ پھر ایوان میں اپوزیشن کے ارکان کم وبیش 160 ہیں مگران میں بھی کچھ اوپرنیچے ہوسکتے ہیں اس لیے آصف علی زرداری اور شہباز شریف کم ازکم 25 حکومتی ارکان توڑنے کیلئے کوشاں ہیں۔

    دوسری جانب ایم کیو ایم بھی کوئی پکڑائی نہیں دے رہی ہے ۔ روز خالد مقبول صدیقی ایسے بیانات دے رہے ہیں جس سے تاثر مل رہا ہے کہ ان کی حکومت کے ساتھ ان بن ہے ۔ آج بھی انکا کا کہنا تھا کہ ماضی میں بھی حکومتوں سے نکلتے رہے ، اب بھی نکلیں گے۔ اس سلسلے میں انھوں نے 1987کے دور کا بھی حوالہ دیا ۔ یاد کروادوں 1989 میں ایم کیو ایم نے پیپلزپارٹی کی اتحادی ہوتے ہوئے وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک میں ووٹ دیا مگر وہ ناکام ہوگئی اور بعد میں خمیازہ انہیں بھگتنا پڑا۔ اسی لیے شاید اب عمران خان ایم کیو ایم سے بھی ملنا چاہتے ہیں اور جی ڈی اے سے بھی ۔۔۔

    مگر یہ وہ ہی عمران خان ہیں جب مظاہرین سخت سردی میں کوئٹہ میں لاشیں رکھ کر بیٹھے تھے تو انھوں نے کہا تھا میں بلیک میل نہیں ہوگا ۔ یہ وہ ہی وزیر اعظم ہیں جو اپنے سب سے پرانے ساتھی نعیم الحق کے جنازے میں شرکت کرنے نہیں گئے یہ وہ ہی وزیر اعظم ہیں جنہوں نے محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے جنازے میں شرکت نہیں کی ۔ مگر اب جب اپنی کرسی جاتی دیکھائی دی تو یہ تمام چیزیوں کو سائیڈ پر رکھ کر ہر کام اور ہر چیز کرنے کو تیار ہیں ۔

    نوید شیخ یہ بھے دعویٰ کرتے ہیں کہ برطانیہ میں موجود صحافی رپورٹ کررہے ہیں کہ کل لندن میں انتہائی اہم ملاقات میں آخری معاملات طے ہوگئے ہیں ۔ اس ملاقات کی ایک شخصیت تو نواز شریف بتائی جارہی ہیں دوسری کے بارے میں راوی خاموش ہے ۔ ہاں البتہ یہ ضرور معلوم ہوا ہے کہ حسین نواز اور اسحاق ڈار اس ملاقات سے آگاہ ہیں ۔

    تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے نمبر گیم یہ ہے کہ تحریک عدم اعتماد کے لیے172 کا نمبردرکارہے۔ اور حکومت کے پاس178اور اپوزیشن کے پاس162
    کا نمبرزہے، حکومت کوعدم اعتماد کا سرپرائز دینے کےلیے اپوزیشن کو دس ارکان کی حمایت درکار ہے۔ سات اراکین قومی اسمبلی جہانگیرترین کےساتھ بتائے جارہےہیں۔ جبکہ ایم کیوایم کےسات اورق لیگ کی پانچ سیٹیں اہمیت کی حامل ہیں،ان تین میں سےدوکھیل کی بازی بدل سکتے ہیں۔

    اس وقت اپوزیشن پوری طرح عدم اعتماد لانے پر تلی بیٹھی ہے کہ اور حالات بھی ان کے لیے سازگار نظر آتے ہیں۔ بلاول کا مارچ زور و شور سے جاری ہے اور انہوں نے دو اڑھائی درجن مطالبات بھی کئے ہیں۔ ان کو کائونٹر کرنے کے لیے شاہ محمود قریشی بھی سندھ کے حقوق کے لیے نکلے ہیں۔

    مگر سیاست کی اس گھمبیر صورتحال میں ابھی تک کچھ وزیروں کو ستے خیراں دکھائی دے ر ہی ہے۔ جو بیانات سنائی دے رہے ہیں وہ اپوزیشن کو کھلا چیلنج کر رہے ہیں کہ اگر اپوزیشن میں ہمت ہے تو وہ تحریک عدم اعتماد لے آئے۔

    دیکھا جائے تو عمران خان کو کئی محاذوں پر لڑنا پڑ رہا ہے اوران کی ٹیم میں شامل ممبران کوئی صلاحیت نہیں رکھتے اور جو صلاحیت رکھتے تھے وہ نظر انداز کر دیئے گئے ۔

    کیونکہ اب تک تو ان کی کارکردگی یہ ہے کہ یہ نان ایشوز کو اپنے گلے میں ڈال لیتے ہیں۔ مثلاً ریحام خان والا معاملہ کب کا دب چکا تھا اور وہ کتاب لکھ کرکب کی سائیڈ پر بیٹھی تھیں حکومت نے محسن بیگ ہر ہاتھ ڈال کر جہاں اس کتاب کی خوب مشہوری کروائی ساتھ ہی پیکا آرڈیننس مسلط کرنے کی ضد میں میڈیا اور صحافیوں کو بھی اپنے خلاف کروالیا ۔

    دیکھا جائے تو ایک بڑی سیاسی غلطی پورے نظام کو لپیٹ سکتی ہے۔ غالباً وزیر اعظم عمران خان کوئی بڑا فیصلہ کرچکے ہیں بس اعلان ہونا باقی ہے اور گوکہ ان کی پیرکے روز کی جانیوالی تقریر میں تھوڑی سی گھبراہٹ ضرور نظر آئی جس کی وجہ سے اپوزیشن یہ کہنے میں حق بجانب تھی کہ لانگ مارچ کے دوسرے دن ہی عوام کو ریلیف مل گیا۔ جہانگیر ترین یاد آگئے اور چوہدریوں سے مدد مانگ لی۔

    یہ اپوزیشن کا ہی پریشر ہے جو آجکل عمران خان کے دل میں عوام کو بہت درد جاگ رہا ہے ۔ آج بھی انھوں نے کہا کہ جو ٹیکس کا جو پیسہ اکٹھا ہو گا وہ ساراعوام پر خرچ کروں گا ۔ دراصل انکو معلوم ہوگیا ہے کہ اب لوگوں نے تبدیلی کے آگے ہاتھ جوڑ لیے ہیں۔

    نوید شیخ کہتے ہیں کہ بنیادی طور پر یہ اپوزیشن ہی ہوتی ہے جو حکومت کے عوام مخالف اقدامات پر تنقید کرتی ہے اور ایسا سیاسی ماحول بناتی ہے کہ حکومت مجبوراً عوام کو ریلیف دیتی ہے تا کہ اس کو عوامی تائید و حمایت حاصل رہے۔

    عمران خان نے جس قسم کے ریلیف کا اعلان کیا ہے، وہ اپنی ڈوبتی کشتی کو سہارا دینے کی ایک کوشش ہے۔ انھیں سمجھ آرہی ہے کہ اپوزیشن جماعتیں ان کے خلاف اکٹھی ہو گئی ہیں۔ عدم اعتماد کا معاملہ سنجید ہ ہے اور اس میں ان کے اقتدار کو شدید خطرہ ہے۔ اس لیے جاتے جاتے انھیں عوام کو ایسا ریلیف دینا چاہیے کہ وہ کہہ سکیں، اب تو ریلیف دینے کا وقت آگیا تھا اور مجھے نکال دیا گیا۔

    اس طرح انھیں نکالنے کے بعد ان کے پاس ایک بیانیہ ہوگا، وہ کہیں گے پاکستان کی معیشت اپنے پاؤں پر کھڑی ہو گئی تھی، میں نے عوام کو ریلیف دینا شروع کر دیا تھا، پھر کرپٹ لوگ آگئے اور سارا عمل رک گیا۔

    عمران خان خود بھی فوری انتخابات بھی دیکھ رہے ہیں۔ اس لیے وہ ایسے اقدمات کر رہے ہیں جن سے انھیں انتخابات میں مدد مل سکے۔

    اس لیے دکھائی دینا شروع ہوگیا ہے کہ عمران خان نے فیصلہ کرلیا ہے کہ وہ اب پاپولر پولیٹکس کریں گے چاہے آئی ایم ایف ناراض ہی کیوں نہ ہوں۔ کیونکہ یہ کرسی کا معاملہ ہے ۔

    آپ دیکھیں عمران خان کے موجودہ دور حکومت میں اپوزیشن کو مسلسل دباؤ میں رکھا گیا۔ اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف کو زیادہ عرصہ گرفتار رکھا ۔اسی طرح اپوزیشن کے دیگر رہنماؤں کو بھی گرفتار رکھا گیا۔ جس کی وجہ سے حکومت پر عوام کی خدمت کا کوئی دباؤ ہی نہیں تھا، اسی لیے حکومت عوام پر مہنگائی کا بوجھ ڈالتی رہی ۔ پہلی دفعہ ہم نے دیکھا کہ قائد حزب اختلاف کو تقریر کرنے سے روکا گیا۔ پارلیمانی رویات میں یہ کام اپوزیشن کرتی ہے کہ حکومت کی تقاریر میں شور کرتی ہے۔ اس طرح جیسے جیسے پارلیمان میں اپوزیشن کی آوا ز کو دبایا گیا ویسے ویسے حکومت کی عوام پر زیادتیاں بڑھتی رہیں۔ کیونکہ جب حکومت کو اپنے اقتدار کے لیے کوئی خطرہ ہی نظر نہیں آئے گا تو وہ عوام کی خدمت کیوں کرے گا۔ جمہوریت کا حسن ہی یہ ہے کہ عوام کے پاس واپس جانے کا خوف آپ کو عوام کی خدمت کرنے پر مجبور کیے رکھتا ہے۔ اگر عوام کے پاس جانے کا خوف ختم ہو جائے تو عوام کی خدمت بھی ختم ہو جاتی ہے۔

    آخر میں بس یہ ہی کہوں گا کہ کرکٹ کے میدان میں تو لاہور قلندر جیت چکی ہے دیکھانا یہ ہے کہ سیاست کے میدان میں یہ جیتے ہیں کہ نہیں ۔۔۔

  • وزیراعظم عمران خان کے امریکا کے سامنے ڈٹ جانے کے بعد سعودی ولی عہد محمد بن سلمان بھی ڈٹ گئے

    وزیراعظم عمران خان کے امریکا کے سامنے ڈٹ جانے کے بعد سعودی ولی عہد محمد بن سلمان بھی ڈٹ گئے

    ریاض:وزیراعظم عمران خان کےامریکا کے سامنے ڈٹ جانے کے بعد سعودی ولی عہد محمد بن سلمان بھی ڈٹ گئے،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کا امریکا کے سامنے ڈٹ جانا سعودی ولی عہد کے لیے حوصلے کا سبب بن گیا ، سعودی ولی عہد بھی ڈٹ گئے ہیں اور دنیا کی تیزی سے بدلتی ہوئی صورت حال کے پیش نظر سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے امریکی صدر کو ایک دلیرانہ پیغام بھیج کرعربوں کو خوش کردیا ہے ،

    اطلاعات کے مطابق سعودی عرب پرامریکی دباو سعودی عرب نے نہ صرف مسترد کردیا ہے بلکہ اس جابرانہ کوشش کا منہ توڑ جواب دیتے ہوئے امریکا میں 800 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے والے ملک سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان نے سرمایہ کاری کم کرنے کا عندیہ دیدیا۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق سعودی ولی عہد نے انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ امریکا میں سعودی سرمایہ کاری میں کمی کا امکان ہے، ہمیں اپنے فائدے کو مد نظر رکھتے ہوئے سرمایہ کاری کرنی چاہیے۔

    اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکی صدر مجھے سمجھ نہیں پارہے تو یہ ان کا مسئلہ ہے۔ امریکی مفاد کے لیے سوچنا بائیڈن کی ذمہ داری ہے، دونوں ملکوں کو ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔

    محمد بن سلمان کا کہنا تھا کہ اسرائیل فلسطین سے معاملات ٹھیک کر لے تو اتحاد ہوسکتا ہے، سعودی عرب میں بادشاہت ہی قائم رہے گی۔

    ایران سے مذاکرات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ تہران سے ڈائیلاگ کی کامیابی کیلئے پر امید ہیں، دونوں ملکوں کے روشن مستقبل کے لیے با مقصد مذاکرات لازمی ہیں، مذاکرات کے ذریعے ہی دونوں ملک کسی معاہدے پر پہنچ سکتے ہیں، ایران ہمارا مستقل ہمسایہ ہے ہم دونوں ایک دوسرے سے جان نہیں چھڑا سکتے۔

  • عالمی منڈی میں‌ تیل کی قیتوں کوآگ لگ گئی:113 ڈالرفی بیرل:150 ڈالرفی بیرل ہونےکا امکان

    عالمی منڈی میں‌ تیل کی قیتوں کوآگ لگ گئی:113 ڈالرفی بیرل:150 ڈالرفی بیرل ہونےکا امکان

    لاہور: عالمی منڈی میں‌ تیل کی قیتوں کوآگ لگ گئی:113 ڈالرفی بیرل:150 ڈالرفی بیرل ہونے کا امکان،اطلاعات کے مطابق عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں پہلے ہی بہت اضافہ ہوچکا تھالیکن جب سے روس اور یوکرین کے درمیان جنگ چھڑی ہے اس وقت سے لیکر اب تک عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کو مسلسل آگ لگی ہوئی ہے اور آج تیل کی قیمتیں‌تاریخ کی بلند تارین سطح پرآگئی ہیں‌

    اطلاعات ہیں کہ آج اچانک تیل کی قیمتیں 113 ڈالرز فی بیرل تک پہنچ گئی ہیں‌، ۔ روس پر پابندیوں کے نتیجے میں عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں کے ابھی اور بھی بڑھنے کے مواقع ہیں ، ۔ادھر ماہرین نے خدشہ ظاہر کیاہے کہ اگر روس اور یوکرین کے درمیان معاملات طئے نہیں ہوتے تو عالمی منڈی میں یہ قیمت 150 ڈالر فی بیرل تک جا سکتا ہے۔

    وزیراعظم کے ریلیف پیکج کے تحت 4 ماہ کے لئے قیمتیں مستقل رکھنے کا فیصلہ پاکستانی صارفین کو مہنگائی کی اس آگ سے محفوظ رکھے گا۔

    دوسری طرف عوام الناس اور عالمی امور سے واقف لوگوں کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے بڑی حکمت عملی سے ملکی معیشت کو ٹریک پرچلایا ہے اور اب ملکی معیشت درست سمت چل پڑی ہے ، اس لیے وزیراعظم نے عالمی مارکیٹ میں‌ پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باوجود قوم کو ریلیف دے کر اپنی اہلیت ثابت کردی ہے

    یہ بھی یاد رہے کہ اس سے پہلے ن لیگ کے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی بھی مختلف میڈیا چینلز پر یہ حیرانی طور پر کہہ چکے ہیں‌کہ دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جارہی ہیں اور ان حالات میں عمران خان نے پٹرول کی قیمتیں‌ کم کرکے حیران کردیا ہے

    یاد رہے کہ اس سے پہلے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے زیادہ ٹیکس اکٹھا کیا ہے جس کی وجہ سے سے بجلی اور پٹرول کی قیمت میں کمی کی گئی ہے۔

    اسلام آباد میں بلا سود قرضوں کے اجرا کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ قوم سے کہتا ہوں کے وہ ٹیکس ادا کریں تاکہ اسے نچلی سطح کے عوام پر خرچ کیا جائے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کے قیام کا مقصد ایک مثالی اسلامی فلاحی ریاست قائم کرنا تھا۔ نبی کریم ﷺ نے مدینے کی جو مثالی ریاست قائم کی اس میں کوئی قانون سے بالا تر نہیں تھا اور ریاست نے معاشرے کے کمزور طبقے کی ذمہ داری لی تھی۔ بدقسمتی سےہم نے ا س نظریے سے روگردانی کی جو قیام پاکستان کی بنیاد تھا۔ دنیاکے کئی غیر اسلامی ممالک ریاست مدینہ کے زریں اصولوں کو اپنا کرترقی و خوشحالی کی شاہراہ پر گامزن ہو گئے جبکہ مسلمان ان کو ترک کرکے زوال کا شکار ہو گئے۔

    عمران خان نے کہاکہ ایف بی آر نے ریکارڈ ٹیکس جمع کیا ہے۔ حکومت نے عوام کو ریلیف دینے کے لئے پٹرول اور بجلی کی قیمتوں میں کمی کی ہے جبکہ دنیا میں اس کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ ہمارے پاس جتنازیادہ پیسہ جمع ہو گا عوام پر اتنا ہی زیادہ خرچ کریں گے اور ریلیف دیں گے۔ 45 لاکھ خاندانوں کو بلا سود قرضوں کی فراہمی شروع کی ہے، اس کا آغاز پسماندہ علاقوں سے کیا۔ دیہات میں ساڑھے 3 لاکھ روپے تک جبکہ شہروں میں 5 لاکھ روپے تک بلا سود قرضے دیئے جائیں گے تاکہ لوگ اپنا روزگار کمانے کے قابل ہو سکیں ۔ گھر کی تعمیر کے لئے 20 لاکھ روپے قرض دیاجائےگا۔ حکومت نوجوانوں کو مختلف ہنر سکھائے گی تاکہ و ہ اپناروزگار کمانے کے قابل ہو سکیں ۔

  • یوکرین روس تنازع:عالمی عدالت میں7مارچ کوسماعت:روس کے خلاف مغربی اتحاد سرگرم

    یوکرین روس تنازع:عالمی عدالت میں7مارچ کوسماعت:روس کے خلاف مغربی اتحاد سرگرم

    ہیگ:یوکرین روس تنازع:عالمی عدالت میں7مارچ کوسماعت ،اطلاعات کے مطابق عالمی عدالت انصاف نے اعلان کیا ہے کہ وہ سات اور آٹھ مارچ کو یوکرین میں جاری جنگ میں نسل کشی کے معاملے کی سماعت کرے گی۔

    دوسری جانب یوکرین میں جاری جنگ میں شدت آ گئی ہے۔ ذرائع کےمطابق نیدرلینڈز کے شہر ہیگ میں قائم عالمی عدالت انصاف جو اقوام متحدہ کی اعلیٰ عدالت ہے، مقدمے کی کھلی سماعت کرے گی۔

    اس سے پہلے یوکرین نے عدالت کے پاس شکایت جمع کرائی تھی جس میں عدالت سے درخواست کی گئی تھی وہ روس کو یوکرین پر حملہ روکنے کا حکم دے۔ عدالت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’سماعت عبوری اقدامات کے لیے یوکرین کی جانب سے دی گئی درخواست تک محدود ہو گی۔‘

    ادھر پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ ادارے نے کہا کہ یوکرین سے چھ لاکھ 60 ہزار سے زیادہ لوگ پہلے ہی بیرون ملک نقل مکانی کر چکے ہیں۔ ادارے کے اندازے کے مطابق چار کروڑ 40 لاکھ کی آبادی والی سابق سوویت ریاست یوکرین میں 10 لاکھ افراد نے نقل مکانی کی ہے۔

    اقوام متحدہ کا اندازہ ہے کہ آنے والے مہینوں میں 40 لاکھ پناہ گزینوں کو مدد کی ضرورت ہو سکتی ہے اور مزید ایک کروڑ 20 لاکھ لوگوں کو ملک کے اندر امداد کی ضرورت ہو گی۔ عالمی عدالت انصاف کے پاس حملے میں ملوث روسی رہنماؤں پر انفرادی سطح پر مجرمانہ الزامات عائد کرنے کا اختیار نہیں ہے۔

    تاہم وہ دنیا کی اعلیٰ عدالت ہے جو عالمی قانون کی مبینہ خلاف ورزی کے معاملے میں ریاستوں کے درمیان شکایات کا ازالہ کر سکتی ہے۔ بین الاقوامی فوجداری عدالت کے پراسیکیوٹر کریم خان پہلے ہی اعلان کر چکے ہیں کہ وہ روس کے حملے کے بعد ’یوکرین کی صورت حال‘ پر تحقیقات شروع کر رہے ہیں۔

    پیر کو جاری بیان میں خان کے بقول: ’میں مطمئن ہوں کہ اس بات پر یقین کرنے کی معقول بنیاد موجود ہے کہ 2014 سے یوکرین میں مبینہ جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم دونوں کا ارتکاب کیا گیا۔‘

    یوکرین پر حملے سے روس نے بین الاقوامی پابندیوں، بائیکاٹ اور معاشی پابندیوں کو مسترد کرتے ہوئے جارحانہ کارروائی کو آگے بڑھایا۔ اس کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد یوکرین کے روسی بولنے والوں کا دفاع اور قیادت کو اقتدار سے الگ کرنا ہے۔

    امریکی محکمہ خارجہ نے منگل کو اہم بیان میں کہا تھا کہ امریکہ کو یقین ہے کہ ’عدالت سنگین حالات اور تیزی سے سامنے آنے والے واقعات کو مدنظر رکھے گی۔‘ محکمہ خارجہ کے ترجمان ترجمان نیڈ پرائس نے کہا کہ ’واشنگٹن کو امید ہے کہ عدالت سماعت کے دوران ’عبوری اقدامات کے لیے یوکرین کی درخواست پر انتہائی تیزی سے کام کرے گی۔‘

    امریکی ترجمان کے بقول: ’ہر وہ دن جب روس جارحیت میں بے لگام ہے ایسا دن ہے جو یوکرین میں مزید تشدد، مصائب، موت اور تباہی لاتا ہے۔‘

  • عوام کوریلیف کیوں دیا؟وزیراعظم عمران خان نے سچ سچ بتادیا

    عوام کوریلیف کیوں دیا؟وزیراعظم عمران خان نے سچ سچ بتادیا

    اسلام آباد: عوام کوریلیف کیوں دیا؟وزیراعظم عمران خان نے سچ سچ بتادیا ،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ ایف بی آرکی کارکردگی کی وجہ سے پٹرول،ڈیزل اوربجلی پرسبسڈی دینے کے قابل ہوئے۔سخت محنت کے بعد اب قومی ادارے صیح ٹریک پرچلنا شروع ہوئے تو ملکی معیشت سنبھلنے لگی جس سے ملک وقوم کو فائدہ پہنچنا شروع ہوگیا

    وزیراعظم عمران خان نے ٹویٹ میں کہا کہ ایف بی آرکی کارکردگی کی وجہ سے پٹرول،ڈیزل اوربجلی پرسبسڈی دینے اورعوام کوریلیف دینے کے قابل ہوئے۔

    وزیراعظم نے مزید کہا کہ ایف بی آر نے فروری کے ریونیو 441 ارب کے ہدف کو کامیابی سے حاصل کر لیا ہے۔ایف بی آر کے ریونیو میں 28.5 فیصد اضافہ ہوا جبکہ ماہانہ اضافہ 30 فیصد سے زیادہ ہے۔

    وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ نادرا نے شہریوں کی سہولت کے لیے88 نئے رجسٹریشن مراکز کھول کر اپنی رسائی کو بڑھایا ہے۔نئے مراکز ان تحصیلوں میں کھولے گئے جہاں پہلے کوئی نادرا سینٹر موجود نہیں تھا۔

    بلوچستان میں 13، سندھ میں 23 اور کے پی کے میں 16 نئے نادرا مراکز کھولے گئے۔گلگت بلتستان میں 11، پنجاب میں 11، آزاد کشمیر میں 12 اور اسلام آباد اور راولپنڈی میں ایک ایک نیا سینٹر کھولا گیا ہے۔

     

    اس سے پہلے وزیراعظم عمران خان نے کامیاب پاکستان پروگرام کے تحت بلا سود قرضوں کا اجرا کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ نظریہ پاکستان پر عمل نہ ہونے کی وجہ آگے نہیں بڑھ سکے، طاقتور کو معافی اور کمزور کو سزا دینے والا معاشرہ ختم ہو جاتا ہے، جس قوم میں انصاف نہ ہوتا ہو تباہ ہو جاتی ہے۔

    وزیراعظم عمران خان نے اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ایک فلاحی ریاست بننا تھا، ہم نے اسلامی اصولوں پر پاکستان کو کھڑا کرنا تھا، جس نظریے کے تحت پاکستان بنا تھا ہم اس پر نہیں چلے، جو قوم اپنے نظریے سے ہٹتی ہے وہ کبھی کامیاب نہیں ہوسکتی، جو انسان نظریے سے ہٹتا ہے وہ بھٹک جاتا ہے، جس قوم میں انصاف نہیں ہوتا وہ تباہ ہو جاتی ہے، جو قوم طاقتور کو چھوڑ کر کمزور کو سزا دے وہ تباہ ہو جاتی ہے۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ مسلمانوں نے کئی سال تک دنیا کی امامت کی، بلاسود قرضوں کا پروگرام بہترین منصوبہ ہے، 45 لاکھ خاندانوں کو اس پروگرام میں لے کر آئے ہیں، رحمت اللعالمینؐ اتھارٹی کا کل افتتاح کر رہا ہوں

  • یورپ کےبعد امریکہ نے بھی روس پرشکنجہ کس دیا:لڑائی میں بھی شدت آگئی

    یورپ کےبعد امریکہ نے بھی روس پرشکنجہ کس دیا:لڑائی میں بھی شدت آگئی

    واشنگٹن:یورپ کےبعد امریکہ نے بھی روس پرشکنجہ کس دیا،اطلاعات کے مطابق امریکی صدر جو بائیڈن نے بدھ کو اپنے اسٹیٹ آف دی یونین خطاب کے دوران امریکی فضائی حدود سے روسی طیاروں پر پابندی لگانے کا اعلان کیا۔

    سی این این کی خبر کے مطابق امریکی صدر نے کہا’’آج رات میں اعلان کر رہا ہوں کہ ہم اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر تمام روسی پروازوں کے لیے امریکی فضائی حدود بند کریں گے-روس کو مزید الگ تھلگ کریں گے اور ان کی معیشت پر اضافی دباؤ ڈالیں گے۔ اس سے قبل امریکہ، کینیڈا اور یوروپی یونین (ای یو) بھی روسی طیاروں کے لیے اپنی فضائی حدود بند کر چکے ہیں۔

    اس سے قبل یوروپی یونین کے صدر ارسلا وون ڈیر لیین نے اعلان کیا تھا کہ پوری یوروپی یونین اپنی فضائی حدود روسی طیاروں کے لیے بند کر دے گی۔ قابل ذکر ہے کہ جرمنی، اٹلی، اسپین اور فرانس نے گزشتہ ہفتے روسی طیاروں پر اپنی فضائی حدود میں پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا تھا۔

    ادھر یوکرین میں مرکزی ٹی وی کی عمارت پر روس کے میزائل حملے میں 5 افراد ہلاک ہو گئے۔

     

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق روسی فوج نے یوکرین کے دارالحکومت کیف میں مرکزی ٹی وی کے ٹاور پر میزائل حملہ کیا جس میں 5 افراد ہلاک ہو گئے۔

    روسی وزارت دفاع کے مطابق اب تک یوکرین کی 1325 فوجی تنصیبات تباہ کی جا چکی ہیں جبکہ یوکرین نے جنگ میں اب تک 5710 روسی فوجیوں کی ہلاکت کا اور 200 فوجیوں کو جنگی قیدی بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

    یوکرینی حکام کا کہنا ہے کہ روسی فوج کے 29 لڑاکا طیارے اور 29 جنگی ہیلی کاپٹرز مار گرائے جا چکے ہیں جبکہ 198 ٹینک، 846 بکتر بند، 77 توپیں اور 2 جنگی بحری جہاز بھی تباہ کیے جا چکے ہیں۔

    اقوام متحدہ کے مطابق اب تک 6 لاکھ 80 ہزار افراد یوکرین سے نکل چکے ہیں۔

  • طیارے کی کراچی ایئرپورٹ پر ایمرجنسی لینڈنگ:فنی خرابی یا کوئی اورمسئلہ

    طیارے کی کراچی ایئرپورٹ پر ایمرجنسی لینڈنگ:فنی خرابی یا کوئی اورمسئلہ

    کراچی: طیارے کی کراچی ایئرپورٹ پر ایمرجنسی لینڈنگ:فنی خرابی یا کوئی اورمسئلہ ،اطلاعات کے مطابق فنی خرابی پر شارجہ جانے والی ایک پرواز کو کراچی ایئرپورٹ پر ایمرجنسی لینڈنگ کرنی پڑ گئی۔

    تفصیلات کے مطابق سیالکوٹ سے شارجہ جانے والی پی آئی اے کی پرواز پی کے 209 میں اڑان بھرنے کے کچھ دیر بعد فنی خرابی پیدا ہو گئی۔کپتان نے کنٹرول ٹاور سے رابطہ کر کے کراچی ایئر پورٹ پر لینڈنگ کی اجازت طلب کی، اجازت ملنے کے بعد کپتان نے طیارے کو بہ حفاظت کراچی ایئر پورٹ پر اتار لیا۔

    قومی ایئر لائن کے ترجمان نے بتایا کہ پی کے 209 کو فنی خرابی پیدا ہونے پر کراچی ایئر پورٹ پر ٹیکنیکل لینڈنگ کرائی گئی، انجینئر طیارے کی مکمل جانچ پڑتال کر رہے ہیں، فنی خرابی دور ہوتے ہی پرواز کو شارجہ کے لیے روانہ کر دیا جائے گا۔

    یاد رہے کہ 16 فروری کو ابوظبی سے لاہور آنے والی پی آئی اے کی پرواز 264 میں فضائی میزبان کو دل کا دورہ پڑ گیا تھا، دوران پرواز فضائی میزبان مبشر علی کو دل میں تکلیف محسوس ہوئی، جس پر کپتان نے لاہور ایئر پورٹ پر لینڈنگ سے قبل میڈیکل ٹیم طلب کر لی، طیارہ لینڈ ہوتے ہی میڈیکل ٹیم نے جہاز کے اندر پہنچ کر مبشر علی کو فوری طور پر طبی امداد فراہم کی۔