Baaghi TV

Tag: تازہ ترین

  • تحریک عدم اعتماد : اللہ کے فضل وکرم سے کپتان ہی جیتے گا:شیخ رشید

    تحریک عدم اعتماد : اللہ کے فضل وکرم سے کپتان ہی جیتے گا:شیخ رشید

    اسلام آباد : تحریک عدم اعتماد : اللہ کے فضل وکرم سے کپتان ہی جیتے گا:شیخ رشید کا ایمان ،اطلاعات کےمطابق وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان اللہ کے فضل وکرم سے کامیاب ہوں گ ، شیخ رشید کا کہنا ہے کہ تحریک عدم اعتماد میں وزیراعظم کے پاس بھی بہت کارڈز ہیں ،27مارچ کوپتہ چل جائے گا عوام کس کے ساتھ ہیں۔

    ان کا یہ بھی کہا تھا کہ عمران خان پاکستان ہی نہین بلکہ عالم اسلام کی بھی ضرورت ہےتفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ 27مارچ کوپتہ چل جائے گا عوام کس کے ساتھ ہیں۔

    شیخ رشید کا کہنا تھا کہ انشااللہ 25 تاریخ کو قومی اسمبلی کا اجلاس ہوگا اور 30 یا 31 مارچ یا یکم اپریل ، اسپیکر جس دن چاہیں ووٹنگ کراسکتے ہیں، اللہ سے پوری امید ہے کہ عمران خان جیتے گا۔

    وزیر داخلہ نے کہا کہ 27تاریخ کی رات کو فائنل ہوجائے گا، عوام کس کےساتھ ہیں ، یہ جلسہ ہی ہمارے اعتماد اور ریفرنڈم کا دن ہے ، اپوزیشن اگر پراعتماد ہے تو ہم بھی پراعتماد ہیں۔

    تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے ان کا مزید کہنا تھا کہ تحریک عدم اعتماد کی ناکامی کےلئے پرامید ہیں، وزیراعظم کے پاس بھی بہت کارڈز ہیں، امید ہے اتحادی عمران خان کے ساتھ ہوں گے، اتحادیوں کو وزیراعظم کا ساتھ دینا چاہیے۔

  • ملکی بقا کو خطرات لاحق ہوئے توجوہری ہتھیاروں کا استعمال کریں گے، روس کی دھمکی

    ملکی بقا کو خطرات لاحق ہوئے توجوہری ہتھیاروں کا استعمال کریں گے، روس کی دھمکی

    ماسکو:ملکی بقا کو خطرات لاحق ہوئے تو ہی جوہری ہتھیاروں کا استعمال کریں گے، روس کی دھمکی ،اطلاعات کے مطابق روس نے کہا ہے کہ یوکرین تنازع میں ملکی بقا کو خطرہ لاحق ہونے کی صورت میں ہی وہ جوہری ہتھیاروں کا استعمال کرے گا۔

    خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا کہ ہم ملکی سلامتی کا تصور رکھتے ہیں اور یہ عوامی سطح پر سب کے سامنے ہے، آپ جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی تمام وجوہات جان سکتے ہیں لہٰذا اگر ہمارے ملک کے لیے وجود کو خطرہ لاحق ہوتا ہے تو اسے ہمارے تصور کے مطابق استعمال کیا جا سکتا ہے۔

    انہوں نے یہ بات اس وقت کہی جب انٹرویو لینے والے کرسٹیئن امان پور نے ان سے سوال کیا کہ کیا انہیں ’یقین یا اعتماد‘ ہے کہ صدر ولادمیر پیوٹن یوکرین کے تناظر میں جوہری آپشن کا استعمال نہیں کریں گے۔

    روسی فوجیوں کے یوکرین پر حملہ کرنے کے چند دن بعد پیوٹن نے 28 فروری کو اعلان کیا تھا کہ انہوں نے ملک کی اسٹریٹیجک نیوکلیئر فورسز کو ہائی الرٹ پر رکھ دیا ہے جس سے عالمی سطح پر خطرے کی گھنٹی بج گئی تھی۔

    پینٹاگون کے ترجمان جان کربی نے جوہری ہتھیاروں کے ممکنہ استعمال کے حوالے سے ماسکو کی بیان بازی کو خطرناک قرار دیا ہے۔انہوں نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ ایک ذمہ دار جوہری طاقت کو اس طرح کام نہیں کرنا چاہیے۔

    جان کربی نے زور دیتے ہوئے کہا کہ پینٹاگون کے حکام نے کوئی ایسی چیز نہیں دیکھی جس سے ہم اس نتیجے پر پہنچیں کہ ہمیں اپنے اسٹریٹجک مزاحمتی پوزیشن کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم ہر روز اس کی بہترین نگرانی کرتے ہیں۔

    روس جوہری ہتھیاروں کا دنیا کا سب سے بڑا ذخیرہ رکھتا ہے اور اپنے سابق سوویت پڑوسی ملک پر حملے کے حوالے سے اسے چین کے سوا دنیا بھر کی عالمی طاقتوں کی تنقید اور دباؤ کا سامنا ہے۔

    مغربی دفاعی حکام نے پیوٹن کے فروری کے اعلان کے بعد کہا تھا کہ انہوں نے روس کی جوہری قوتوں، اسٹریٹیجک بمباروں، میزائلوں اور آبدوزوں کے متحرک ہونے کی کوئی خاص علامت نہیں دیکھی۔

    البتہ روس نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا اور نیٹو کے اتحادیوں نے یوکرین کو لڑاکا طیارے فراہم کیے تو یہ جنگ وسیع تر ہو سکتی ہے اور اس سے ممکنہ طور پر روس کو مغرب میں جوہری ہتھیاروں سے لیس حریفوں کے ساتھ براہ راست تصادم کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    رواں ماہ کے اوائل میں جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کی عالمی مہم کی سربراہی کرنے والی بیٹریس فیہن نے خبردار کیا تھا کہ پیوٹن جوہری ہتھیاروں کو بلیک میلنگ کے لیے استعمال کررہے ہیں تاکہ بین الاقوامی برادری کو یوکرین پر حملے میں مداخلت سے روکا جا سکے۔

    یوکرین میں روس کے حملے کے بارے میں مزید سوال کرنے پر پیسکوف نے کہا کہ ان کا اپنے پڑوسی ملک پر قبضے کا کوئی ارادہ نہیں ہے اور ان کا ملک شہریوں پر حملے بھی نہیں کر رہا۔انہوں نے کہا کہ آپریشن کے بنیادی اہداف یوکرین کی فوجی صلاحیت سے چھٹکارے کا حصول ہے۔انہوں نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ ہماری فوج یوکرین کی سرزمین پر شہری نہیں بلکہ صرف فوجی اہداف اور تنصیبات کو نشانہ بنا رہی ہے۔

    البتہ روسی دعووں کے برعکس وسیع پیمانے پر دستیاب تصاویر اور ویڈیو ثبوت انسانی حقوق گروپوں کے ان الزامات کی تصدیق کرتے ہیں کہ روس نے شہری آبادیوں کو نشانہ بنایا ہے۔

  • اقوام متحدہ روس اور یوکرین کے درمیان جنگ بندی کرائے ورنہ ایٹمی ہوگی:دنیا بھرسے مطالبہ

    اقوام متحدہ روس اور یوکرین کے درمیان جنگ بندی کرائے ورنہ ایٹمی ہوگی:دنیا بھرسے مطالبہ

    جینوا :اقوام متحدہ روس اور یوکرین کے درمیان جنگ بندی کرائے ورنہ ایٹمی ہوگی:دنیا بھرسے مطالبہ ،اطلاعات کے مطابق یوکرین پر روسی حملے کو اب تقریباً ایک ماہ ہونے کو ہے اور جنگ کے خاتمے کے ابھی کوئی آثار نہیں ہیں۔ ادھر کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف کا کہنا ہے یوکرین کے خلاف آپریشن منصوبہ بندی کے مطابق جاری ہے اور یہ پہلے ہی سے اندازہ تھا کہ یہ اتنا مختصر نہیں ہو گا۔

    اس دوران یوکرین کے صدر وولودمیر زیلنسکی نے کہا کہ روسی محاصرے کے سبب اسٹریٹیجک اعتبار سے اہم بندرگاہی شہر ماریوپول کے باشندے خوراک، پانی اور ادویات سے محروم ہو چکے ہیں۔ زیلنسکی نے اطالوی پارلیمنٹ سے خطاب میں کہا کہ ماریوپول میں اب ”کچھ بھی باقی نہیں بچا ہے۔

    انہوں نے روس سے اپیل کی کہ شہر میں بچ جانے والے تقریباً ایک لاکھ لوگوں کو وہاں سے نکلنے کی اجازت دی جائے۔ جس وقت وہ یہ باتیں کہہ رہے تھے اسی دوران یوکرین کے حکام نے دعوی کیا کہ روس نے شہر پر دو مزید بڑے بم گرائے ہیں۔

    روس کی جنگی طاقت میں کمی کا امریکی دعویٰ امریکہ کے ایک سینیئر دفاعی اہلکار کا کہنا ہے کہ یوکرین پر روسی حملے سے پہلے کے مقابلے میں روس کی جنگی قوت میں اب تقریبا ً90 فیصد کی کمی آئی ہے۔ یہ اس بات کی جانب اشارہ ہے کہ اس میں بہت زیادہ جانی و مالی نقصان کا امکان ہے۔ امریکی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر صحافیوں کو بتایا، ”پہلی بار وہ نوے فیصد سے تھوڑا سا نیچے ہو سکتے ہیں۔” تاہم انہوں نے اپنے اس دعوے کے لیے کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا۔

    اس ماہ کے اوائل میں روس نے کہا تھا کہ اس کے حملے کے بعد سے اب تک 498 اہلکار ہلاک اور 1597 زخمی ہو چکے ہیں۔ یہ جنگ ‘لغو اور ناقابل فتح’ ہے، انٹونیو گوٹیرش اقوام متحدہ کے ایک بیان کے مطابق عالمی ادارے کے سکریٹری جنرل، انٹونیو گوٹیرش نے نیویارک میں صحافیوں سے بات چیت کے دوران روس کو ایک ”سخت پیغام” دینے کی کوشش کی اور کہا کہ یہ جنگ لغو ہے جسے ”جیتا نہیں جا سکتا۔” انہوں نے ماسکو سے کہا کہ یہ، ”جنگ ناقابل فتح ہے۔ جلد یا بدیر، اسے میدان جنگ سے امن کی میز کی جانب لے جانا پڑے گا۔یہ ناگزیر ہے۔

    سوال صرف یہ ہے کہ اب اور کتنی جانیں ضائع ہونی چاہئیں؟ انہوں نے مزید کہا، ”جنگ تیزی سے ختم ہوتی دکھائی نہیں دیتی۔ دو ہفتوں سے زیادہ عرصے سے، ماریوپول کو روسی فوج نے گھیرے میں لے رکھا ہے اور اس پر مسلسل بمباری، گولہ باری اور حملے کیے ہیں۔ آخر کس لیے؟ اگر ماریوپول کا زوال ہو بھی جائے، پھر بھی یوکرین کو شہر بہ شہر، گلی بہ گلی، یا پھر اس کے گھر گھر کو فتح نہیں کیا جا سکتا۔

    اقوام متحدہ کے سربراہ نے فوری بات چیت کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی پر فوری عمل ہو اور بات چیت کے لیے میز پر جمع ہونے کی ضرورت ہے۔ روس کی جی 20 رکنیت خطرے میں خبر رساں ادارے روئٹرز کا کہنا ہے کہ امریکہ اور اس کے مغربی اتحادی اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا روس کو یوکرین پر حملے کے بعد گروپ آف ٹوئنٹی (جی ٹوئنٹی) میں رہنا چاہیے یا نہیں۔ جی سیون کے ایک سینیئر ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ”اس بارے میں بات چیت ہوئی ہے کہ آیا روس کے لیے جی 20 کا حصہ بنے رہنا مناسب ہے یا نہیں۔ اور روس اگر اس کا رکن برقرار رہتا ہے، تو پھر یہ تنظیم شاید بہت زیادہ کار آمد نہیں رہے گی۔”

  • بھارت:قتل وغارت گری میں تیزی آگئی:دردناک واقعات،لوگ خوفزدہ

    بھارت:قتل وغارت گری میں تیزی آگئی:دردناک واقعات،لوگ خوفزدہ

    نئی دہلی :بھارت:قتل وغارت گری میں تیزی آگئی:دردناک واقعات،لوگ خوفزدہ ،اطلاعات کے مطابق مغربی بنگال کے ضلع بیر بھوم میں حکمران ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے ایک رہنما کے قتل کے نتیجہ میں تقریباً ایک درجن جھونپڑیوں کو آگ لگا دی گئی جسکے باعث دو بچوں سمیت آٹھ افراد جھلس کر ہلاک ہو گئے ۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ڈائریکٹر جنرل پولیس مغربی بنگال منوج مالویہ نے بتایا کہ یہ واقعہ پیر کی رات ساڑے آٹھ بجے کے قریب ٹی ایم سی کے برشال گاوں پنچایت کے نائب سربراہ بھدو شیخ کے قتل کے چند گھنٹے بعد پیش آیا۔انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں اب تک 11 گرفتاریاں کی گئی ہیں اور علاقے میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے۔

    بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے ضلع کولگام میں ایک 34 سالہ نوجوان پراسرار حالت میں مردہ پایا گیا۔
    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق عاشق حسین حجام نامی نوجوان ضلع کے علاقے یاریکہ میں اپنے ایک رشتہ دار مشتاق احمد حجام کے گھر پر مردہ پایا گیا۔ ابتدائی تشخیص کے بعد لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے تحویل میں لیا گیا۔

    ادھر کل ایک واقعہ میں بھارتی ریاست اتر پردیش میں دو افراد نے ایک 14 سالہ لڑکی کو اجتماعی عصمت دری کا نشانہ بنایا۔
    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق اتردیش کے شہر کانپور میں نابالغ لڑکی اپنے گھر کے باہر جانوروں کو چرا رہی تھی کہ دو افراد نے اسے پکڑ کر اغوا کیا اور بعد میں آبروریزی کر ڈالی۔لڑکی کے گھنٹوں لاپتہ ہونے پر اس کے اہل خانہ نے پولیس کو شکایت درج کرائی۔ پورے گاوں نے لڑکی کی تلاش کی لیکن وہ نہ ملی۔ اس دوران لڑکی کے ایک رشتہ دار کو اطلاع ملی کہ لڑکی رسی سے بندھی جھاڑیوں میں بے ہوش پڑی ہے ۔

  • شہبازشریف قول وفعل کے کتنےپکے؟:شہبازشریف کے ماضی نے مستقبل پراعتراضات لگادیئے

    شہبازشریف قول وفعل کے کتنےپکے؟:شہبازشریف کے ماضی نے مستقبل پراعتراضات لگادیئے

    اسلام آباد:شہبازشریف قول وفعل کے کتنے پکے ہیں:ماضی کی سیاست مستقبل کے بیانیے میں کتنی ہم آہنگی؟حقائق بول اُٹھے،اطلاعات کے مطابق اس وقت پاکستان کی سیاست میں تضادات کے حوالے سے بڑی دلچسپ چیزیں سامنے آرہی ہیں ، کہیں پی ٹی آئی کے سابقہ بیانیئے اور موجودہ پالیسی میں فرق ہے تو کہیں ن لیگ کی قیادت کے قول وفعل میں بہت بڑا تضاد پایا جارہا ہے ،

    اس حوالے سے ویسے تو بہت سے حقائق ہیں لیکن فی الوقت ان دنوں پاکستان میں ضمیرفروشی کی منڈیاں‌ لگی ہوئی ہیں اور خریدوفروخت کرنے والے بروکرز اپنے ہی دعووں کی نفی کررہے ہیں ، مریم نواز، نوازشریف اور پوری ن لیگ اس بات پرچیخیں مار مار کرکہہ رہی تھی کہ سینیٹ انتخابات میں ضمیرخریدے گئے اور پھر اس کی آڑ میں ن لیگ کی قیادت نے ضمیرفروشوں پرغصہ نکالنے کے ساتھ ساتھ کچھ ایسے افراد اور اداروں پر نکالا جن کا اس سے دور تک کا بھی تعلق نہیں تھا

    ایسے ہی ن لیگ کے صدر شہبازشریف نے ریمارکس دیئے تھے جو تاریخ کا حصہ بن گئے لیکن شہبازشریف اپنے ہی الفاظ اور کردار کی نفی کرتے ہوئے ان دنوں ضمیرفروشی کوحلال سمجھ رہے ہیں اور اس کی آڑ میں بائیس کروڑ پاکستانیوں کےلیے پریشانی کا باعث بنے ہوئے ہیں‌ ،

    شہبازشریف اس وقت ضمیرفروشوں کو مجاہد قراردے رہے ہیں جبکہ ماضی میں شہبازشریف انہی ضمیرفروشوں کوسب سے بڑے مجرم قرار دے رہے تھے

    اس وقت جب چیئر مین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی ناکامی کے بعد قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر شہبازشریف نےاسے جمہوریت کا نقصان قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ کہ ضمیر فروشی ہوئی ہےاور میں ضمیر فروشی پر لعنت بھیجتا ہوں ۔

     

    جادو چل گیا ، جمہوریت کو نقصان پہنچا، ضمیر فروشی ہوئی، شہباز شریف

     

    پارلیمنٹ ہاؤس میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو میں شہبازشریف کا کہنا تھا کہ جادو تو چلا ہے، ضمیر فروشی ہوئی ہے۔صحافی کے سوال پر کہ کون سا جادو چلا ہے ؟ شہباز شریف نے جواب دیا کہ آپ کو پتہ ہے کہ امیر ترین جو ہیں وہ حرکت میں آئے ہیں اور ضمیر فروشی ہوئی۔

    اس وقت دوسروں کو الزام تراشی دینے والے شہبازشریف آج نہ تو اپنے بڑے بھائی کی مذمت کررہے ہیں اور نہ ہی آصف علی زرداری کی جن کا پیٹ پھاڑنے کے لیے شہبازشریف نے اپنی مہم پراربوں روپے اڑا دیئے تھے

    اس وقت اپنی ناکامی تسلیم کرتے ہوئے شہباز شریف نےکہا تھا کہ 14 ارکان کم ہوئے ہیں، ہمارے 64 ارکان تحریک کے حق میں کھڑے ہوئے تھے، آج جو ہوا اس سے جمہوریت کو نقصان پہنچا۔

    لیکن بڑے افسوس کے ساتھ وہی شہبازشریف آج ضمیرفروشی کو حلال سمجھ رہے ہیں اور آنے والی نسلوں کوایک غلط روش پر لگا رہے ہیں اور ساتھ ہی اس غلط روش کی ترویج واشاعت کے لیے میڈیا کا بھرپوراستعمال کررہےہیں

  • ارکانِ اسمبلی کی خرید و فروخت سے عالمی سطح پر پاکستان کا وقار مجروح ہو رہا ہے:تحریک لبیک

    ارکانِ اسمبلی کی خرید و فروخت سے عالمی سطح پر پاکستان کا وقار مجروح ہو رہا ہے:تحریک لبیک

    لاہور:تحریک لبیک یارسول اللہ صلی اللہ علیک وسلم کے سربراہ اور تحریک صراط مستقیم کے بانی ڈاکٹر محمد اشرف آصف جلالی کی والدہ محترمہ مرحومہ کے آٹھویں سالانہ ختم مبارک اور مناظر کبیر، مفکر اسلام، مفتی محمد عابد جلالی رحمۃ اللہ علیہ کے دوسرے سالانہ ختم شریف کے موقع پر چوک حافظ الحدیث بھکھی شریف کی جلسہ گاہ میں تاریخی ”عظمت قرآن کانفرنس“ کا انعقاد کیا گیا۔

    کانفرنس کی صدارت برصغیر کی عظیم روحانی درگاہ کوٹلہ شریف کے سجادہ نشین پیر طریقت حضرت ڈاکٹر میاں صغیر احمد نقشبندی نے کی۔ کانفرنس میں قرآن مجید کا حفظ مکمل کرنے والے پچاس (50) حفاظ کرام کی دستارِ فضیلت کی گئی۔ کانفرنس کا اعلامیہ پیش کرتے ہوئے تحریک لبیک یارسول اللہ صلی اللہ علیک وسلم کے سربراہ ڈاکٹر محمد اشرف آصف جلالی نے کہا: رسول اکرم ﷺ کی ہر نسبت کا احترام فرض ہے۔ آل و اصحاب رسول ﷺ کی محبت میں وساطت مصطفی ﷺ کو پیش نظر رکھنا فرض ہے۔ اہل بیت اطہار علیہم الرضوان اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی محبت آپس میں لازم و ملزوم ہے۔یہ محبت انتشار کی نہیں، اتحاد کی دعوت دیتی ہے اور یہ تبھی ہو سکتا ہے، جب اہل بیت اطہار رضی اللہ تعالیٰ عنہم اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم ہر دو اطراف کے ساتھ ر سول اکرم ﷺ کی وساطت سے محبت کی جائے۔

    ارکانِ اسمبلی کی خرید و فروخت سے عالمی سطح پر پاکستان کا وقار مجروح ہو رہا ہے۔ حکومت اور اپوزیشن کا ایک دوسرے کے بارے میں گفتگو کا لہجہ باعث شرم ہے۔ ایسے لوگوں کے سیاست میں رہنے سے پاکستان کے مسائل کبھی بھی حل نہیں ہوں گے۔ یہ لوگ سیاست کے لیے بد نما داغ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اکثر ارکانِ اسمبلی کا کوئی ویژن نہیں، مفادات کے گرد گھومتی سیاست نے عوامی نمائندگان کو بھیڑ بکریوں کی صف میں لاکر کھڑا کر دیا ہے۔ اس وقت تک ہمارا ملک بحرانوں سے نہیں نکل سکتا جب تک لفظ سیاست کو غلط معنی و مفہوم سے نکال کر اپنے اصل مصداق کی طرف لوٹا نہ دیا جائے۔ نواز شریف، زرداری اور عمران خان سب کھوٹے سکے ہیں۔پاکستان کے مسائل کا حل صرف اسی سیاست میں ہے جو نظام مصطفی ﷺ کے تابع ہو۔ مولوی فضل الرحمن نے مذہبی سیاست کو داغدار کیا ہے۔

    مذہبی سیاست سے لوگوں کے دلوں میں بدگمانیاں پیدا کرنے میں جہاں لبرل طبقے کا حصہ ہے، وہاں مولوی فضل الرحمان جیسے نام نہاد علماء کا بھی کردار ہے۔ چوک اعظم لیہ میں جماعۃ المسلمین نامی تنظیم کے رکن زاہد ظفر ملعون کی طرف سے عالم اسلام کی عقیدتوں کے مرکز گنبد خضریٰ کے خلاف کی گئی مبینہ گستاخیوں کی ہم بھرپور مذمت کرتے ہوئے اس ملعون کی پھانسی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ تحریک صراط مستقیم ضلع لیہ کے امیر صاحبزادہ محمد عمر حفیظ نقشبندی کی کوششوں سے اگرچہ اس ملعون کو گرفتار تو کر لیا گیا ہے مگر ابھی تک اس کے خلاف 295C کے تحت F.I.R نہیں کاٹی گئی، آج کا یہ اجتماع حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ اس ملعون کے خلاف 295C کے تحت فی الفور F.I.R کاٹ کے اس کو قرار واقعی سزا دی جائے۔

    مجاہد آزادی حضرت پیر سید صبغۃ اللہ شاہ راشدی کے یوم شہادت (20 مارچ) پر آج ہم ان کے حریت پسندانہ کردار کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ انگریز کے خلاف ان کا جہاد تاریخ برصغیر کا روشن باب ہے۔ ذات خداوندی جل جلالہ کے مبینہ گستاخ امرجلیل سمیت سیفی علی نامی ملعونہ، ملعون آصف رضا علوی، امجد جوہری ملعون، حامد رضا سلطانی ملعون، نوید عاشق ملعون و دیگر گستاخانِ صحابہ و اہل بیت رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کی عدم گرفتاری پر ہم حکومت پاکستان کی مذمت کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ ان مجرموں کو فوری طور پر گرفتار کر کے انہیں قرار واقعی سزا دی جائے۔

    آج کا یہ اجتماع امام اہل سنت، حافظ الحدیث حضرت پیر سید محمد جلال الدین شاہ صاحب نقشبندی قادری قدس سرہٗ العزیز کی عظیم دینی، ملی اور روحانی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتا ہے اور یہ عہد کرتا ہے کہ ان کے مشن کے تحت تحفظ عقائد اہل سنت اور غلبہئ اسلام کے لیے آخری سانس تک کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔ مانگٹ شریف کے عظیم مذہبی پیشوا شیخ الحدیث مفتی محمد عبد اللطیف مجددی جلالی قدس سرہ العزیز، چند دن پہلے جن کا وصال ہوا، یہ اجتماع ان کی دینی ملی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتا ہے۔ آئندہ کے لائحہ عمل کے لحاظ سے ان شاء اللہ تعالیٰ تحریک لبیک یارسول اللہ صلی اللہ علیک سلم و تحریک صراط مستقیم کے زیر اہتمام گجرات میں ڈویژنل سطح پہ ”سنی کانفرنس کا انعقاد کیا جائے گا۔ ان شاء اللہ تعالیٰ سندھ سطح پر ”سنی کانفرنس“ کا  انعقاد 28 مئی کو کراچی کی سرزمین پہ کیا جائے گا۔

  • سعودی عرب میں بیلسٹک میزائل داغے جانے کی شدید مذمت کرتے ہیں :پاکستان

    سعودی عرب میں بیلسٹک میزائل داغے جانے کی شدید مذمت کرتے ہیں :پاکستان

    اسلام آباد :سعودی عرب میں بیلسٹک میزائل داغے جانے کی شدید مذمت کرتے ہیں،اطلاعات کے مطابق پاکستان نے حوثیوں کی جانب سے جازان پر بیلسٹک میزائل داغے جانے کی شدید مذمت کی ہے۔

    اپنے ایک بیان میں ترجمان دفتر خارجہ عاصم افتخار احمد نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب پر حوثی ملیشیا کے حملوں کی شدید مذمت کرتا ہے۔

    ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ حوثیوں کی جانب سے بیلسٹک میزائل داغے جانے کا مقصد شہری انفراسٹرکچر اور اقتصادی تنصیبات کو نشانہ بنانا تھا ، یہ بات قابل تعریف ہے کہ رائل سعودی ائیر ڈیفنس فورس نے بیلسٹک میزائل کو کامیابی سے نشانہ بنانے اورمعصوم جانوں کے ضیاع کو روکا ہے۔

    عاصم افتخار احمد کا کہنا تھا کہ حوثی ملیشیا کے حملے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی اور سعودی عرب اور خطے کے امن و سلامتی کے لیے بھی خطرہ ہیں، پاکستان حوثی ملیشیا کی جانب سے ان حملوں کو فوری بند کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔

    ترجمان دفتر خارجہ عاصم افتخار احمدکا مزید کہنا تھا کہ پاکستان اپنی سلامتی اور علاقائی سالمیت کو لاحق کسی بھی خطرے کے خلاف سعودی عرب کے ساتھ اپنی مکمل حمایت اور یکجہتی کا اعادہ کرتا ہے۔

    واضح رہے کہ حوثی باغیوں کی جانب سے یمن سے سعودی عرب پر بیلسٹک اور کروز میزائلوں سمیت بارودی ڈرونز سے حملہ کیا گیا ہے۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق یمن سے سعودی عرب پر بیلسٹک اور کروز میزائلوں سمیت بارودی ڈرونز سے حملہ کیا گیا ہے جس کے نتیجے میں متعدد عمارتوں اور گاڑیوں کو نقصان پہنچا ہے تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاعات موصول نہیں ہوئی ہیں۔

    سعودی وزارت داخلہ کے مطابق یمنی حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب کے دو شہروں جازان اور خمیس مشیط پر بیلسٹک اور کروز میزائلوں کے علاوہ بارودی ڈرونز سے حملہ کیا گیا۔

    سعودی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ حملے کا مقصد سعودی آرامکو کی آئل تنصیبات اور شہری آبادی کو نشانہ بنانا تھا تاہم سعودی ڈیفینس سسٹم نے میزائل اور ڈرونز طیاروں کو فضا میں ہیں مار گرایا۔

    وزارت داخلہ کے مطابق ان کے ٹکڑے گرنے سے رہائشی عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے اور متعدد گاڑیاں تباہ ہوگئی ہیں جبکہ ایک پٹرول پمپ پر میزائل کے ٹکڑے گرنے سے آگ بھڑک اٹھی تھی جس پر قابو پا لیا گیا ہے۔

    سعودی وزارت داخلہ کا مزید کہنا تھا کہ حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا یے تاہم سعودی عرب یمن میں قیام امن کے لئے جو کوششیں کر رہا ہے ان کو حوثی باغی ایسے حملے کرکے سبوتاژ کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

  • سعودی عرب میں آئل فیکٹری:گیس تنصیبات اور بجلی گھر پر میزائل حملے:بہت زیادہ نقصان

    سعودی عرب میں آئل فیکٹری:گیس تنصیبات اور بجلی گھر پر میزائل حملے:بہت زیادہ نقصان

    ریاض:سعودی عرب میں آئل فیکٹری:گیس تنصیبات اور بجلی گھر پر میزائل حملے:بہت زیادہ نقصان ہوا ہے اور یہ بھی بتایا گیا ہے کہ حوثی باغیوں نے سعودی عرب کے تین بڑے شہروں جازان، خمیس مشیط اور الجنب میں میزائل حملے کیے جسے اتحادی افواج نے ناکام بنا دیا۔

    سعودی میڈیا کے مطابق یمن کے حوثی باغیوں نے سعودی عرب کے شہر جازان کی آئل فیکٹری، خمیس مشیط میں گیس اسٹیشن اور الجنوب میں بجلی گھر پر میزائل حملے کیے۔ میزائل حملوں کے شکار مقامات پر آگ بھڑک اُٹھی۔

    سعودی اتحادی فوج کے ترجمان نے دعویٰ کیا ہے حوثی باغیوں کے تینوں مقامات پر داغے گئے میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کردیا گیا جس کے باعث بھاری نقصان نہیں ہوا۔

    دوسری جانب حوثی باغیوں کا کہنا ہے کہ میزائل حملوں میں آئل فیکٹری کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا جس کے باعث تیل کی سپلائی متاثر بھی ہوئی جب کہ بڑے علاقے کو بجلی اور گیس کی فراہمی معطل ہوگئی۔

    سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ خمیس مشیط میں ایک عمارت اور کاروں میں آگ لگی ہوئی ہے جب کہ آئل فیکٹری، گیس اسٹیشن اور بجلی گھر میں ایمبولینسیں داخل ہو رہی ہیں۔

  • سابق صدرجنرل پرویزمشرف بھارتیوں‌ کےاعصاب پرسوار:سجےدت کوملاقات کرنےپردہشت گردقرا دیا

    سابق صدرجنرل پرویزمشرف بھارتیوں‌ کےاعصاب پرسوار:سجےدت کوملاقات کرنےپردہشت گردقرا دیا

    ممبئی :سابق صدرجنرل پرویزمشرف بھارتیوں‌ کے اعصاب پرسوار:سجےدت کوملاقات کرنے پردہشت گردقرا دیا ،اطلاعات کے مطابق پاکستان کے سابق صدر جنرل پرویز مشرف کی بھارت کےخلاف پالیسی، ابھی تک بھارتیوں‌ کےلیے ڈراونے خواب بن کرآرہی ہے، اس سلسلے میں تازہ واقعی اس وقت پیش آیا جب بالی ووڈ اداکار سنجے دت اور سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی مبینہ ملاقات کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد بھارتی سوشل میڈیا صارفین نے اداکار کو دہشت گرد قرار دے دیا۔

    گزشتہ دنوں سابق صدر جنرل پرویز مشرف اور اداکار سنجے دت کی ملاقات کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی جس کے حوالے سے بھارتی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ ان دونوں شخصیات کی ملاقات دبئی میں ہوئی۔

    دونوں شخصیات کی ملاقات کی تصویر جیسے ہی وائرل ہوئی تو بھارتی سوشل میڈیا صارفین غصے سے آگ بگولہ ہوگئے اور سنجے دت کو غدار اور دہشت گرد کہنے لگے۔

    سنجے دت اور پرویز مشرف کی تصویر پر بھارتی سوشل میڈیا صارفین کے نفرت انگیز تبصروں نے بھارتیوں پرجنرل پرویز مشرف کے خوف کو واضح کردیا ہے

     

    رنجن صارف نے کہا کہ سنجے دت کو گرفتار کرو جیل میں ڈالو، یہ غدار ہے۔اور ساتھ ہی اس پرتقید کے وار تیز کردیئے

     

    ایک بھارتی صارف نے کہا کہ دہشت گرد ہمیشہ دہشت گرد ہی رہتا ہے۔

     

     

    ایک اور بھارتی صارف نے سنجے دت کو دہشت گرد قرار دیتے ہوئے کہا کہ آپ اس شخص کی شخصیت کو بہتر دِکھانے کے لیے بائیوپک بناتے ہیں لیکن ہر بار اس کا اصل چہرہ سامنے آجاتا ہے۔

     

    گوتم نامی صارف نے کہا کہ کیا اس ملاقات کے بارے میں سیکیورٹی ایجنسیز کو معلوم ہے؟

     

    https://twitter.com/LiberalAadmi/status/1504737243306491908?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1504737243306491908%7Ctwgr%5E%7Ctwcon%5Es1_&ref_url=https%3A%2F%2Fjang.com.pk%2Fnews%2F1064193

    صارف نے سنجے دت کو ریاست کے برانڈ ایمبیسیڈر کے عہدے سے فوری ہٹانے کا مطالبہ بھی کیا۔

    دوسری جانب سنجے دت اور سابق صدر جنرل پرویز مشرف کی جانب سے تصویر کے حوالے سے کوئی وضاحت نہیں دی گئی ہے۔

  • پہلےاوآئی سی اجلاس ثبوتاژکرنےکی دھمکیاں اورپھر    اثراندازنہ ہونےکااعلان:ایساکیوں؟اہم وجہ سامنے آگئی

    پہلےاوآئی سی اجلاس ثبوتاژکرنےکی دھمکیاں اورپھر اثراندازنہ ہونےکااعلان:ایساکیوں؟اہم وجہ سامنے آگئی

    اسلام آباد:پہلےاوآئی سی اجلاس ثبوتاژکرنےکی دھمکیاں اورپھراثراندازنہ ہونےکااعلان:ایساکیوں؟اہم وجہ سامنے آگئی،اطلاعات کے مطابق متحدہ اپوزیشن نے پہلے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کانفرنس کوثبوتاژکرنےکی دھمکیاں دی تھیں اور پھرتھوڑی دیربعد ہی یہ اعلان کہ وہ کسی بھی طرح اثر انداز نہیں ہوں گے ، یہ یوٹرن دیکھ کرہرکوئی حیران رہ گیا

    اسلام آباد سے اہم حلقوں کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کی ملک میں‌پچھلے چند دنوں سے سیاست کوعالمی طورپرخصوصا مسلمان ملکوں میں ناپسند کیا جارہا ہے اور نوبت یہاں تک آگئی کہ ایک طرف اوآئی سی کا اجلاس ہونےجارہا ہےتو دوسری طرف اجلاس کو ثبوتاژ کرنے کی دھمکیاں‌دی جارہی ہیں‌

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ آنے والے مہمان بہت زیادہ پریشان دکھائی دے رہے تھے اور وہ اپوزیش کے احتجاج کو ایک سیکورٹی رسک قرار دے رہے تھے ، بعض نے توپی ڈی ایم کے اس کھیل پرسخت نفرت کا اظہارکیا خصوصا عرب دنیا میں ، یہی وجہ ہے کہ مسلم دنیا میں‌ اوآئی سی کے اس اہم موقع پر احتجاج کوبہت زیادہ منفی قراردے رہے ہیں‌، ادھر ذرائع کا کہنا ہےکہ پی ڈی ایم نے اپنی عزت اسی میں سمجھی کہ وہ یہ اعلان کرے کہ وہ اس اہم اجلاس کے کوثبوتاژنہیں کیا جائے گا

    خیال رہے کہ متحدہ اپوزیشن کی جانب سے مذکورہ اعلامیہ ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب اپوزیشن جماعتوں نے او آئی سی کانفرنس روکنے کی دھمکی دے دی تھی اور کہا تھا کہ اگر سپیکر نے پیر تک قومی اسمبلی کا اجلاس نہ بلایا تو ہم ایوان میں دھرنا دیں گے اور دیکھتے ہیں کہ حکومت او آئی سی کانفرنس کیسے کرتی ہے۔

    متحدہ اپوزیشن کی جانب سے ملاقات کے بعد او آئی سی سے متعلق مشترکہ اعلامیہ جاری کر دیا گیا ہے۔

    اعلامیہ کے مطابق اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) وزراء خارجہ کونسل کے 48 ویں اجلاس کے موقع پر اسلامی دنیا کے وزراء خارجہ، مندوبین اور دیگر اعلیٰ شخصیات کی پاکستان آمد کا پرتپاک خیر مقدم کرتے ہیں، معزز مہمانوں کی آمد ہمارے لئے باعث مسرت و افتخار ہے۔ ہم ان کے جذبے اور عزم کی تحسین کرتے ہیں افغانستان، مقبوضہ کشمیر، فلسطین سمیت اسلامی دنیا کو درپیش کثیر الجہتی درپیش مسائل پر غور کے لئے 22 اور 23 مارچ 2022 کو اسلام آباد تشریف لارہے ہیں، ہم ان کی پذیرائی اور استقبال کے لئے چشم براہ ہیں۔

    اعلامیہ کے مطابق پاکستان کے عوام کی نمائندگی کرتے ہوئے متحدہ اپوزیشن انہیں یقین دلاتی ہے ان کی آمد کے موقع پر پورا پاکستان انہیں خوش آمدید کہتا ہے، ان کی اسلام آباد میں موجودگی کے دوران مہمان نوازی کی روایتی چاشنی، احترام، تقاضوں کے مطابق خوش گوار ماحول استوار کرنے میں اپنا کردار یقینی بنائیں گے۔

    اعلامیہ کے مطابق ایسی فضا کی تشکیل میں بھرپورحصہ ڈالیں گے جس میں معززمہمان اپنےطے شدہ امور پوری توجہ، انہماک اور دلجمعی سے انجام دے سکیں OIC کے معزز مہمانوں کےخیر مقدم اور تکریم کے لئے ہی متحدہ اپوزیشن نےلانگ مارچ کی تاریخوں میں تبدیلی کی اوراپنے کارکنان کو 25 مارچ سے پشتر اسلام آباد نہ آنے کی ہدایت کی۔

    متحدہ اپوزیشن کے مطابق پاکستان کے داخلی سیاسی حالات اور سیاسی کشمکش کو کسی طور او آئی سی پر اثر انداز نہیں ہونے دیا جائے گا، ہم امید کرتے ہیں کہ معزز مہمانان گرامی کا اسلام آباد میں قیام خوشگوار رہے گا اور وہ اچھی یادیں لے کر وطن واپس تشریف لے جائیں گے۔

    دیکھتے ہیں او آئی سی کی کانفرنس کیسے ہوتی ہے؟ بلاول کی للکار

    اس سے قبل پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر میاں محمد شہباز شریف، پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان، بی این پی مینگل کے سربراہ سردار اختر مینگل کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ دھمکی دے رہا ہے اگر اسے نہ کھیلنے دیا گیا تو کسی کو نہیں کھیلنے دے گا، پاکستان کا ہر شہری اور سیاسی جماعتیں عمران کو وارنننگ دے رہا ہے گھر چلے جائیں۔ تحریک انصاف کے اجلاسوں میں شرکت سپیکر کے منصب کی توہین ہے۔ سپیکر کو وارننگ دیتا ہوں آپ کا بیان نامناسب ہے۔ اگر سپیکر نے پیر تک عدم اعتماد کی تحریک پیش نہ کی تو ہم اس ہال سے نہیں اٹھیں گے۔ اگر قومی اسمبلی کا قانون اور آئیں کو فالو نہیں کرینگے تو ہم بھی اسی فلور پر بیٹھیں گے جب تک ہمارا حق نہ ملا۔ پھر دیکھیں گے او آئی سی کانفرنس کیسے ہوتی ہے۔