Baaghi TV

Tag: تازہ ترین

  • بھارت اور یورپی یونین کے درمیان تاریخی تجارتی معاہدہ طے پاگیا

    بھارت اور یورپی یونین کے درمیان تاریخی تجارتی معاہدہ طے پاگیا

    نئی دہلی: بھارت اور یورپی یونین نے طویل عرصے سے زیرِ التوا ایک بڑے اور تاریخی تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دے دی ہے۔

    بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے اسے ’’مدر آف آل ڈیلز‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ معاہدہ بھارت اور یورپ کے کروڑوں عوام کے لیے بڑے معاشی مواقع پیدا کرے گا تقریباً دو دہائیوں سے جاری وقفے وقفے کی بات چیت کے بعد یہ معاہدہ طے پایا ہے، جس کے تحت بھارت اپنی وسیع مگر محفوظ مارکیٹ کو 27 ممالک پر مشتمل یورپی یونین کے لیے فری ٹریڈ کےتحت کھولے گایورپی یونین اس وقت بھارت کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔

    بھارتی وزیر اعظم اور یورپی کمیشن کی صدر اُرسلا فان ڈیر لیئن نئی دہلی میں ہونے والے بھارت۔یورپی یونین سمٹ میں معاہدے کی تفصیلات کا مشترکہ اعلان کریں گے مالی سال 2025 کے اختتام تک بھارت اور یورپی یونین کے درمیان تجارت کا حجم 136.5 ارب ڈالر رہا۔

    بھارتی حکام کے مطابق معاہدے پر باضابطہ دستخط قانونی جانچ پڑتال کے بعد کیے جائیں گے، جس میں پانچ سے چھ ماہ لگ سکتے ہیں، جبکہ اس پر عمل درآمد ایک سال کے اندر متوقع ہے۔

    یہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یورپی یونین اور بھارت دونوں امریکا کے ساتھ غیر یقینی تجارتی حالات کے پیش نظر متبادل شراکت داریوں کو فروغ دے رہے ہیں،ماہرین کے مطابق اس ڈیل سے بھارت کو محنت طلب شعبوں میں برآمدات بڑھانے میں مدد ملے گی، جبکہ یورپی مصنوعات کو بھا ر تی مارکیٹ میں قیمت کا فوری فائدہ حاصل ہوگا۔

  • ضلع سوات کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کا اعلامیہ جاری

    ضلع سوات کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کا اعلامیہ جاری

    پشاور:خیبر پختونخوا حکومت نے کابینہ فیصلہ کے مطابق ضلع سوات کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کا اعلامیہ جاری کر دیا۔

    خیبرپختونخوا حکومت نے انتظامی بہتری اور عوامی سہولت کے لیے ضلع سوات کو دو حصوں، بالائی سوات (Upper Swat) اور زیریں سوات (Lower Swat) میں تقسیم کرنے کا باقاعدہ فیصلہ کیا ہے-

    صوبائی محکمہ سے جاری اعلامیہ کے مطابق ضلع اپر (بر) سوات کا ہیڈ کوارٹر مٹہ جبکہ سوات کا ہیڈ کوارٹر گل کدہ تحصیل بابوزئی ہوگا ضلع اپر سوات میں مٹہ، بحرین اور خوازہ خیلہ کی تحصیلیں اور ضلع سوات میں بابوزئی، کبل، چارباغ اور بریکوٹ کی تحصیلیں شامل ہوں گی۔

    سوات کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کا فیصلہ 19دسمبر2025 کو کابینہ کے 43ویں اجلاس میں کیا گیا تھا ضلع سوات کو دو حصوں میں تقسیم کرنے سے صوبہ میں اضلاع کی تعداد بڑھ کر 40 ہوگئی ہے۔

  • وزیراعظم بھی اگر غیر قانونی احکامات دیں تو سول سرونٹس ماننے کے پابند نہیں،سپریم کورٹ

    وزیراعظم بھی اگر غیر قانونی احکامات دیں تو سول سرونٹس ماننے کے پابند نہیں،سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ نے ریمارکس دئیے ہیں کہ وزیراعظم بھی اگر غیر قانونی احکامات دیں تو سول سرونٹس ماننے کے پابند نہیں۔

    سپریم کورٹ میں او جی ڈیل سی ایل میں غیر قانونی بھرتیوں سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، سپریم کورٹ نے سابق وزیر کی نظر ثانی درخواست پر وکلاء کو تیاری کرنے کی ہدایت کی،سپریم کورٹ نے کہا کہ تقرری کیلئے اشتہار دیا جاتا ہے، بادشاہ تو نہیں کہ بس آرڈر کر دیا اس موقع پر نیب کے وکیل نے کہا کہ وزیر کے پرنسپل اسٹاف آفیسر نے لکھا کہ نوکریوں کیلئے پارلیمنٹ کا دباؤ ہے۔

    عدالت نے کہا کہ وزیر اعظم بھی اگر غیر قانونی احکامات دیں تو سول سرونٹس ماننے کے پابند نہیں، جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ ہر سرکاری ادارے میں گنجائش سے زیادہ بھرتیاں ہیں، پی آئی اے کا انٹرنیشنل ائیر لائنز کے ساتھ موازنہ کریں ناں، نیب کے وکیل نے کہا کہ پی آئی اے میں زیادہ بھرتیوں کی وجہ سے نجکاری کرنا پڑی۔

    جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ جس وقت بھرتیاں کی گئیں اس وقت احتساب کمیشن کا قانون نہیں تھا، متعلقہ وفاقی وزیر سزا تو بھگت چکے ہیں،سزا کا ایک داغ تو ہے، کیا اتنا کافی نہیں کہ وزیر نے سزا پوری کی۔

  • ورلڈ ایجوکیشن ڈے کے موقع پر  شہزاد رائے کا گانا سوشل میڈیا پر وائرل

    ورلڈ ایجوکیشن ڈے کے موقع پر شہزاد رائے کا گانا سوشل میڈیا پر وائرل

    معروف گلوکار، سماجی کارکن اور ایجوکیشن ایکٹیوسٹ شہزاد رائے نے ورلڈ ایجوکیشن ڈے کے موقع پر تعلیمی نظام پر طنز کرتے ہوئے نیا گانا “لیٹ ہو گئے” ریلیز کر دیا۔

    “لیٹ ہو گئے” گانے کی ویڈیو میں شہزاد نے طنزیہ انداز اپناتے ہوئے والدین سے سوال کیا “کیا آپ نے ابھی تک اپنے بچے کو اسکول میں داخل کروا دیا ہے؟” جس پر والدین حیران ہو جاتے ہیں کہ ابھی تک جو بچہ پیدا ہی نہیں ہوا، اس کا داخلہ کیسے ممکن ہے، جواب میں شہزاد رائے کہتے ہیں “لیٹ ہوگئے” یہ منظر بچوں پر ابتدائی عمر سے ڈالے جانے والے دباؤ کی نشاندہی کرتا ہے۔

    ویڈیو میں شہزاد رائے مختلف کرداروں میں نظر آتے ہیں، اور بار بار جملہ “لیٹ ہو گئے” دہراتے ہیں اس انداز نے گانے کے پیغام کو مزید مؤثر اور طنزیہ بنایا ہے،ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح اعلیٰ طبقے کے اسکولوں میں چھوٹے بچوں کے داخلے کے لیے سخت انٹرویوز اور معیارات قائم کیے جاتے ہیں ، اور بچوں پر اسکول جانے سے قبل ہی دباؤ ڈالنا شروع ہو جاتا ہے ایک منظر میں چھوٹی لڑکی والدین اور نظام سے التجا کرتی ہے کہ اسے صرف جینے کے لیے کچھ وقت دیا جائے، قبل اس کے کہ توقعات اور معیار کا بوجھ اس پر ڈال دیا جائے۔

    سرکاری خرچ پر پارلیمانی وفد کا عمرہ، خبروں پر قومی اسمبلی کی وضاحت جاری

    گانے میں تعلیمی نظام کے دیگر پہلوؤں پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے، جیسے زبان کا فرق اور انگریزی تعلیم کا دباؤ، جہاں بچے گھر میں اپنی مادری زبان بولتے ہیں مگر اسکول میں انگریزی میں پڑھائی ہوتی ہے، جس سے ذہنی دباؤ اور الجھن بڑھتی ہے علاوہ ازیں، ٹیوشن کلچر اور بھرپور پڑھائی کے باعث بچوں کے لیے آرام اور کھیل کود کا وقت نہ ہونا بھی واضح کیا گیا ہے، جو بچوں کی ذہنی تھکان اور روزمرہ کے دباؤ کو اجاگر کرتا ہےشہزاد رائے کا پیغام واضح ہے کہ تعلیم صرف مقابلہ بازی اور بوجھ کا ذریعہ نہیں بن سکتی، بلکہ بچوں کی فکری نشونما، خوشی اور مجموعی ترقی کا ذریعہ ہونی چاہیے۔

    پاکستان اور گھانا کے درمیان 2 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط

  • سرکاری خرچ پر پارلیمانی وفد کا عمرہ، خبروں پر قومی اسمبلی کی وضاحت جاری

    سرکاری خرچ پر پارلیمانی وفد کا عمرہ، خبروں پر قومی اسمبلی کی وضاحت جاری

    ترجمان قومی اسمبلی کا کہنا ہے کہ سرکاری خرچ پر پارلیمانی وفد کے عمرے کے دورے کی خبریں بے بنیاد ہیں-

    قومی اسمبلی کے ترجمان نے واضح کیا ہے کہ سرکاری خرچ پر قومی اسمبلی کے ممبران کو حج یا عمرے کی کوئی سہولت حاصل نہیں ہے اور نہ ہی ایسی سہو لت دی جا سکتی ہے،قومی اسمبلی میں نومبر 2016 میں منظور ہونے والی قرارداد کے تحت ہر سال قومی اسمبلی کے ممبران کا ایک وفد ذاتی خرچ پر 21 ربیع الاول کو روزہ رسول پر حاضری دیتا ہے، اس قرارداد کے مطابق وفد کے تمام ممبران اپنے اخراجات خود برداشت کرتے ہیں۔

    ترجمان کے مطابق ایس او پیز کے تحت وزارت مذہبی امور صرف انتظامی امور میں سہولت فراہم کرتی ہے اور اس کے تحت وزارت کسی قسم کے اخراجات برداشت نہیں کرتی،سرکاری خرچ پر کسی بھی حج یا عمرے کے دورے کی تجویز کسی رکن کی ذاتی رائے ہو سکتی ہے لیکن کسی ایسی تجویز کی منظوری نہیں دی گئی-

  • پاکستان اور گھانا کے درمیان 2 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط

    پاکستان اور گھانا کے درمیان 2 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط

    پاکستان اور گھانا کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے فروغ کے لیے پہلے باضابطہ دوطرفہ سیاسی مشاورتی اجلاس میں 2 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے ہیں۔

    دونوں ممالک کے مابین یہ سیاسی مشاورتی اجلاس 26 جنوری کو گھانا میں منعقد ہوا، جسے دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے،پاکستانی وفد کی قیادت ایڈیشنل سیکریٹری خارجہ سفیر حمید اصغر خان نے کی، جبکہ گھانا کی جانب سے وفد کی سربراہی ان کی وزارتِ خارجہ کی چیف ڈائریکٹر سفیر خدیجہ ادریسو نے کی۔

    وزارت خارجہ کے اعلامیے کے مطابق اس مشاورتی اجلاس کے دوران دونوں ممالک کے درمیان 2 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے، پہلی مفاہمتی یادداشت دوطرفہ سیاسی مشاورتی عمل سے متعلق تھی، جبکہ دوسری مفاہمتی یادداشت اسلام آباد میں قائم فارن سروس اکیڈمی اور گھانا فارن سروس انسٹی ٹیوٹ کے درمیان طے پائی، مذاکرات میں فریقین نے سیاسی، اقتصادی، دفاعی، سیاحت، ثقافت، صحت، تعلیم، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور دیگر باہمی مفاد کے شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا اور دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

    دونوں ممالک نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ دوطرفہ سیاسی مشاورتی مذاکرات کا اگلا دور آئندہ سال اسلام آباد میں منعقد کیا جائے گابیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اور گھانا کے درمیان کئی دہائیوں پر محیط دوستانہ اور تعاون پر مبنی تعلقات موجود ہیں،اس ادارہ جاتی مشاورتی عمل کے آغاز سے دونوں ممالک کے درمیان بامقصد اور منصوبہ جاتی تعاون کو مزید تقویت ملے گی۔

  • ڈراما  سیریل’گیسٹ ہاؤس‘ کے معروف اداکار انتقال کرگئے

    ڈراما سیریل’گیسٹ ہاؤس‘ کے معروف اداکار انتقال کرگئے

    پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) کے مقبول ڈراما سیریل گیسٹ ہاؤس کے معروف اداکار خالد حفیظ خان، جو ڈرامے میں ’شمیم صاحب‘ کے کردار سے جانے جاتے تھے وفات پا گئے۔

    ’گیسٹ ہاؤس‘ اپنے دور میں نہ صرف بے پناہ مقبول ہوا بلکہ اس نے ٹی وی ڈراما نگاری میں نئے معیار قائم کیے یہ ڈرامہ مسافروں کے روزمرہ مسائل کو ہلکے پھلکے انداز میں پیش کرنے کے لیے یاد کیا جاتا ہے اور اس کے تمام کردار آج بھی ناظرین کی یادداشت میں زندہ ہیں،مرحوم خالد حفیظ خان کی نماز جنازہ عصر کی نماز کے بعد ایچ الیون قبرستان میں ادا کی جائے گی۔

  • امریکی انتظامیہ کے پاس حماس کو ہتھیار ڈالنے کے لیے ایک مضبوط پروگرام موجود ہے،عالمی میڈیا

    امریکی انتظامیہ کے پاس حماس کو ہتھیار ڈالنے کے لیے ایک مضبوط پروگرام موجود ہے،عالمی میڈیا

    الجزیرہ کی رپورٹر روزیلینڈ جورڈن نے اپنی رپورٹ میں امریکی اہلکار کے حوالے سے بتایا کہ حماس کے کئی افراد ہتھیار ڈالنے کی باتیں کر رہے ہیں اور اگر وہ ہتھیار نہ ڈالیں تو یہ معاہدے کی خلاف ورزی ہوگی، امریکی انتظامیہ کے پاس حماس کو ہتھیار ڈالنے کے لیے ایک مضبوط پروگرام موجود ہے-

    الجزیرہ کے مطابق امریکی اہلکار نے کہا ہے کہ غزہ میں حماس کے ہتھیار ڈالنے کے عمل کے دوران فلسطینی گروپ کے لیے ‘کسی قسم کی معافی’ دی جا سکتی ہے۔ یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب غزہ میں آخری اسرائیلی قیدی کی لاش بازیاب ہوئی، جو اکتوبر میں طے پانے والے غزہ جنگ بندی معاہدے کے اگلے مرحلے کی راہ ہموار کرتی ہے۔

    اہلکار نے بتایا کہ حماس کے کئی افراد ہتھیار ڈالنے کی باتیں کر رہے ہیں اور اگر وہ ہتھیار نہ ڈالیں تو یہ معاہدے کی خلاف ورزی ہوگی،ہتھیار ڈالنے کے ساتھ ساتھ کچھ قسم کی معافی بھی زیر غور ہے، اور امریکی انتظامیہ کے پاس حماس کو ہتھیار ڈالنے کے لیے ایک مضبوط پروگرام موجود ہے، اہلکار نے اس بات کا بھی اشارہ دیا کہ معاہدے کے تحت حماس کے سیاسی حیثیت کے اعتراف اور معافی پر بات ہو رہی ہے۔

    حماس نے کہا کہ قیدیوں کی لاشیں واپس کرنے سے اس کی جنگ بندی میں پابندی ظاہر ہوتی ہے اور اس نے اپنی ذمہ داریاں پوری کر دی ہیں۔ اس نے اسرائیل پر زور دیا کہ وہ بھی معاہدے پر مکمل عمل کرے، جس میں رفح کراسنگ کھولنا، ضروری اشیا کی فراہمی، پابندیاں ختم کرنا اور نیشنل کمیٹی کے کام کو آسان بنانا شامل ہے۔

    ٹرمپ کے 20 نکاتی غزہ منصوبے کے مطابق، قیدیوں کی واپسی کے بعد وہ حماس کے ارکان جو ہتھیار جمع کروائیں گے انہیں معافی دی جائے گی اور جو غزہ چھوڑنا چاہیں گے انہیں محفوظ راستہ فراہم کیا جائے گا منصوبے میں امداد کے آزادانہ بہاؤ اور رفح سرحدی کراسنگ کے دوبارہ کھلنے کی وضاحت بھی شامل ہے۔

  • ٹرمپ کی پالیسی سے بیزا رہالی ووڈ اداکارہ  کا امریکا چھوڑنے پر غور

    ٹرمپ کی پالیسی سے بیزا رہالی ووڈ اداکارہ کا امریکا چھوڑنے پر غور

    ہالی ووڈ اداکارہ کرسٹن اسٹیورٹ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ امریکا میں آزادی سے کام نہیں کر سکتیں اس لیے وہ اپنی ہدایتکاری کے کیریئر کے لیے یورپ منتقل ہونے کا ارادہ رکھتی ہیں۔

    چند ماہ قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا سے باہر بننے والی فلموں پر 100 فیصد ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دی تھی جس کا مقصد فلم سازی کو امریکا تک محدود کرنا تھا اداکارہ نے برطانوی اخبار دی ٹائمز کو انٹرویو میں اس پالیسی پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وہ صدر کے احکامات کی اندھی تقلید پر یقین نہیں رکھتیں خواہ وہ درست ہوں یا غلط۔

    کرسٹن اسٹیورٹ کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کی پالیسیوں کے باعث وہ امریکا میں آزادانہ طور پر کام کرنے کے قابل نہیں رہیں جس کی وجہ سے انہوں نے یورپ میں فلمیں بنانے کا فیصلہ کیا ہے،انہوں نے امریکا سے باہر بننے والی فلموں پر 100 فیصد ٹیکس کے تصور کو فلم انڈسٹری کے لیے خوفناک قرار دیا۔

    اپنی ہدایتکاری میں بننے والی پہلی فلم ’دا کرنولوجی آف واٹر‘ کے حوالے سے کرسٹن اسٹیورٹ نے بتایا کہ یہ فلم لاتویا میں شوٹ کی گئی کیونکہ امریکا میں اس منصوبے پر کام کرنا ممکن نہیں تھاٹرمپ کے دور میں حقیقت بکھرتی جا رہی ہے مگر ہمیں اپنی مرضی کی دنیا تخلیق کرنی چاہیے، میں وہاں آزادی سے کام نہیں کر سکتی لیکن مکمل طور پر ہار بھی نہیں ماننا چاہتی۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کو سخت پیغام دیتے ہوئے اداکارہ نے کہ میں یورپ میں فلمیں بنانا چاہتی ہوں اور پھر انہیں امریکی عوام کے گلے اتارنا چاہتی ہوں،

  • معروف شاعر اعتبار ساجد انتقال کر گئے

    معروف شاعر اعتبار ساجد انتقال کر گئے

    معروف شاعر اعتبار ساجد لاہور میں انتقال کر گئے ہیں۔

    خاندانی ذرائع کے مطابق اعتبار ساجد گردوں کے عارضے میں مبتلا تھے، اور منگل کی صبح خالق حقیقی سے جا ملے ،ان کی عمر 77 سال تھی،اعتبار ساجد کے انتقال پر ادبی حلقوں میں گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا جا رہا ہے-

    اعتبار ساجد یکم جولائی 1948 کو ملتان میں پیدا ہوئے،اعتبار ساجد اردو کے مقبول غزل گوؤں میں شمار ہوتے تھے، انھوں نے رومانوی شاعری میں اپنے منفرد شعری اسلوب سے قارئین کے دل موہ لیے تھے، اور ہجر و وصال کی کیفیتوں کو اظہار دینے والی رومانی شاعری کے لیے مشہور تھے،وہ ایم اے تک تعلیم حاصل کر کے تدریس کے پیشے سے وابستہ ہو گئے تھے، پہلے گورنمنٹ کالج نوشکی، بلوچستان میں لکچرر رہے، پھر اسلام آباد میں تدریس سے وابستہ ہوئے، شاعری کے علاوہ نثر لکھی،اعتبار ساجد کو جدید اردو شاعری کے اہم اور مقبول شعرا میں شمار کیا جاتا تھا ان کا منفرد اسلوب، نرم لہجہ اور درد سے بھرپور اشعار قارئین کے دلوں میں خاص مقام رکھتے تھے۔

    اعتبار ساجد کی تصانیف میں دستک بند کواڑوں پر، آمد، وہی ایک زخم گلاب سا، مجھے کوئی شام ادھاردو و دیگر شامل ہیں انھوں نے بچوں کے لیے بھی لکھا جن میں راجو کی سرگزشت، آدم پور کا راجا، پھول سی اک شہزادی، مٹی کی اشرفیاں وغیرہ شامل ہیں۔