Baaghi TV

Tag: تازہ ترین

  • جو 9 مئی کو ایک جماعت نے کیا وہی دہشتگرد کرتے ہیں،مریم نواز

    جو 9 مئی کو ایک جماعت نے کیا وہی دہشتگرد کرتے ہیں،مریم نواز

    سرگودھا:وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نوازنے کہا ہےکہ جو 9 مئی کو ایک جماعت نے کیا اور کچھ لوگوں نے بہکاوے میں کیا وہی دہشتگرد کرتے ہیں، اس سیاسی شخصیت کا ٹارگٹ بھی ہماری مسلح افواج تھیں-

    سرگودھا میں طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ جس طرح لیپ ٹاپ کو بچا کر رکھتے ہیں کہ اس میں کوئی وائرس نہ آجا ئےاس طرح ذہن کو بھی بچا کر رکھنا ہے کہ اس میں کوئی پولیٹیکل وائرس نہ آجائےجو کچھ 9 مئی کو ہوا اور جو کچھ بھارت نے کیا اس میں زیادہ فرق نہیں شخصیت سے اختلاف ہو سکتا ہے مگر 9 مئی کو فوجی تنصیبات کو نذر آتش کیا گیا ان کا نشانہ بھی ہماری فوج تنصیبات تھیں ، اس جماعت نے وہ کیا جو دشمن دہائیوں میں نہ کرسکا۔

    صرف پاگل ہی 24 کروڑ انسانوں کا پانی روکنے کا سوچ سکتا ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر

    ان کا کہنا تھا کہ جو 9 مئی کو ایک جماعت نے کیا اور کچھ لوگوں نے بہکاوے میں کیا وہی دہشتگرد کرتے ہیں، اس سیاسی شخصیت کا ٹارگٹ بھی ہماری مسلح افواج تھیں، جن تنصیبات کو آگ لگائی گئی تھی اسی فضائیہ نے دشمن کے 5 جہازوں کو مار گرایا نوجوانوں کبھی فتنہ فساد کا ایندھن نہ بننا، کبھی اپنے وطن کے خلاف زبان نہیں چلانا، نقصان نہیں پہنچانا، دھرتی ماں کے خلاف قدم نہ اٹھانا، اپنے ملک کی آہنی دیوار بنو۔

    پاکستان کے خلاف افغانستان استعمال کرنے کی مودی سرکار کی ناکام کوشش

  • صرف پاگل ہی  24 کروڑ انسانوں کا پانی روکنے کا سوچ سکتا ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر

    صرف پاگل ہی 24 کروڑ انسانوں کا پانی روکنے کا سوچ سکتا ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر

    ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ پاکستانی فوج نے بھارت پر برتری حاصل کی ہے اور حالیہ حملے میں بھارت کو اپنے مقاصد حاصل کرنے سے روک دیا ہے۔

    قطر کے نشریاتی ادارے الجزیرہ کو انٹرویو دیتے ہوئے پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج نے بھارتی فوج کو ایسا سبق سکھایا ہے جو وہ کبھی نہیں بھولیں گے بھارتی حملے کا مقابلہ کرنے کے لیے جو عسکری حکمت عملی اپنائی گئی ہے وہ کئی دہائیوں تک زیر مطالعہ رہے گی۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستانی فوج کا حوصلہ اور بھارت پر حاصل کی گئی برتری نے عوام کے دلوں میں فوج کی محبت کو بڑھا دیا ہے اور اب فوج عزت اور فخر کی علامت بن چکی ہے،معاملہ صرف عسکری میدان تک محدود نہیں ہے، نہ ہی یہ محض فضائی اور زمینی لڑائیوں تک محدود ہے، اس تنازع میں پاکستان نے جھوٹ، فریب، دباؤ، جارحیت اور بھارت کے دیگر کئی پہلوؤں کا پردہ چاک کیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ پہلگام واقعے کے بعد بھارت نے ایک فرضی کہانی گھڑی اور پاکستان کا مطالبہ بہت سادہ تھا، اگر آپ کے پاس کسی پاکستانی شہری کے ملوث ہونے کا کوئی ثبوت ہے تو براہِ کرم وہ ثبوت پیش کریں، اسے بین الاقوامی برادری، کسی تیسرے فریق یا کسی معتبر ادارے کے حوالے کریں تاکہ شفاف تحقیقات ہو سکیں، بھارت کے پاس کوئی جواب نہیں تھا اور آج تک وہ اس کا جواب نہیں دے سکا۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ وہ ( بھارت) اپنی فضائیہ کی پوری طاقت اور دستیاب دفاعی نظام کے ساتھ اپنی مرضی کے وقت اور جگہ پر آئے، ہم نے ان کے 6 ہوائی جہاز گرا دیئے، لہٰذا ہمیں وہاں برتری حاصل رہی اور ہم نے انہیں سخت ترین سزا دی، دنیا نے دیکھا کہ بھارتی فورسز نے لائن آف کنٹرول اور دوسری سرحدوں پر کئی مقامات پر سفید جھنڈے لہرائے ہم نے بھارت پر حملہ نہیں کیا، ہمارا جواب رات کے اندھیرے میں نہیں تھا جیسا کہ بزدل کرتے ہیں، ہم نے اعلان کیا کہ ہم جواب دیں گے، اس لیے تیار رہیں، ہم نے 26 اہداف منتخب کیے اور الحمدللہ، 26 کو نشانہ بنایا۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارتی کہتے ہیں کہ انہوں نے کراچی کی بندرگاہ پر حملہ کیا، کئی ہوائی جہاز گرائے اور کہتے ہیں کہ ہمارے وزیر اعظم کو محفوظ جگہ منتقل کر دیا گیا ہے، یہاں تک کہ ان کے ہائی کمشنر نے جعلی لوگوں کی تصاویر دکھائیں اور کہا کہ وہ دہشت گرد ہیں، جن میں ایک نمازی بھی تھا جو اصل میں ایک عام شہری تھا۔

    انہوں نے کہا کہ بھارتیوں نے کہا کہ جوہری تابکاری ہوئی ہے، کچھ ہوا ہے اور عالمی ٹیکنالوجی کے ماہرین کو فوراً مداخلت کرنی چاہیے، لیکن یہ سب جھوٹ تھا، کوئی بھی معتبر اور سنجیدہ ادارہ بھارتی دعوؤں کو سنجیدگی سے نہیں لیتا۔

    ترجمان پاک فوج نے کہا کہ بھارت کی ایک بڑی مشکل یہ ہے کہ وہ خود پر حد سے زیادہ اعتماد کرتے ہیں اور ہمیں معلوم نہیں کہ یہ اعتماد کہاں سے آیا، ان کے پاس غلط اندازے اور مفروضے تھے کہ وہ شہری مقامات، مساجد پر حملہ کریں گے اور کچھ نہیں ہوگا، پاکستان جواب نہیں دے گا، لہٰذا اب وہ فرضی کہانیاں بنا رہے ہیں اور وہ اس میں ماہر ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ بھارت کے پاس بہت طاقتور میڈیا ہے جب کہ تھیٹر اور فلموں میں بھی وہ پاکستان سے بہت آگے ہیں، پھر بھی، وہ مختلف کہانیاں پیش کرتے رہتے ہیں، مثال کے طور پر کل انہوں نے کہا کہ پاکستان نے امرتسر میں سکھوں کے مقدس گولڈن ٹیمپل پر حملہ کیا، جو کہ بہت ہی مضحکہ خیز بات ہے۔

    ترجمان پاک فوج نے کہا کہ ہم اپنی حفاظت کر رہے ہیں، پنجاب کی حفاظت کر رہے ہیں اور اس علاقے کی تمام مقدس جگہوں اور تمام مذہبی فرقوں کا بہت احترام کرتے ہیں۔ ہمارے اور سکھوں کے درمیان مشترکہ ثقافت، محبت اور ایک پنجابی زبان ہے، ہمارا طریقہ نہیں کہ ہم کسی بھی شہری یا مذہبی جگہ پر حملہ کریں، یہ ہمارے اصولوں اور دین کے خلاف ہے۔

    لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ میرے خیال میں بھارتیوں کو پہلے اپنی ساکھ بنانی ہوگی اور ساکھ ہزاروں ویب سائٹس بند کرنے، میڈیا پر پابندیاں لگانے یا حکومت پر تنقید کرنے والوں کو قید کرنے سے نہیں بلکہ سچ بولنے سے بنتی ہے اس کے برعکس کیا آپ نے حالیہ تنازع کے دوران دیکھا کہ پاکستان نے کوئی صحافی گرفتار کیا؟ نہیں، آپ ایسا نہیں پائیں گے، ہم نے ایسا نہیں کیا، یہی ہمارا پیغام ہے۔

    انہوں نے کہا کہ صرف ایک پاگل ہی یہ سوچ سکتا ہے کہ وہ 24 کروڑ انسانوں کا پانی روک سکتا ہے، کوئی ایسا نہیں کر سکتا، ہمیں حقائق کو سمجھنا ہوگا حقیقت یہ ہے کہ کشمیر سے 6 دریا بہتے ہیں، جو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ایک متنازع علاقہ ہے، 1960 میں طویل مذاکرات کے بعد ورلڈ بینک نے ثالثی کر کے ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت 3 دریا پاکستان کو اور 3 دریا ہندوستان کو دیئے گئے۔

    انہوں نے کہا کہ اگر بھارت اس معاہدے کی پابندی نہیں کرنا چاہتا، تو یاد رہے کشمیر ایک متنازع علاقہ ہے، اگر کل کشمیر اپنے عوام کی مرضی کے مطابق پاکستان کے ساتھ شامل ہو جاتا ہے، تو یہ تمام 6 دریا پاکستان کے ہوں گے اور بھارت کو ایک بھاری بوجھ اٹھانا پڑے گا، ہم دیکھیں گے کہ اس کا ہم کس طرح مقابلہ کرتے ہیں، یہی حقیقت ہے۔

    ترجمان پاک فوج نے کہا کہ جو کچھ غزہ میں ہو رہا ہے وہ نسل کشی ہے اور یہ بالکل ناقابل قبول ہے یہ انسانی ضمیر پر ایک سیاہ داغ ہے، وہاں جو کچھ ہو رہا ہے وہ ہمیں بحیثیت پاکستان اور بحیثیت عسکری حکام ایک سبق سکھاتا ہے کہ آپ کے پاس اپنی طاقت ہونی چاہیے، آپ کو مضبوط کھڑا ہونا چاہیے اور ان کے سامنے ثابت قدم رہنا چاہیے جو سمجھتے ہیں کہ وہ مداخلت کر سکتے ہیں یا اپنی مرضی کے مطابق کچھ بھی کر سکتے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ اسی لیے ممالک کو اپنی حفاظت کرنی چاہیے اور امت کو اپنی طاقت کو بڑھانا چاہیے، کیونکہ بدقسمتی سے اس دنیا میں کچھ مخصوص سیاسی ذہنیتیں موجود ہیں جو نہ صرف ایسے نسل کشی کے واقعات کا سوچ سکتی ہیں بلکہ انہیں عملی جامہ بھی پہنا سکتی ہیں، جیسا کہ ہم غزہ میں دیکھ رہے ہیں اور جیسا ظلم کشمیر کے مسلمانوں اور بھارت میں اقلیتوں پر ہو رہا ہے

  • راولپنڈی: گرلز سیکنڈری اسکول میں آئس کے استعمال کا انکشاف

    راولپنڈی کے ایک گرلز سیکنڈری اسکول میں آئس کے استعمال کاانکشاف ہوا ہے۔

    راولپنڈی میں صادق آباد کے علاقے میں گرلز سیکنڈری اسکول میں آئس کے استعمال کا انکشاف ہوا اور اس حوالے سے اسکول انتظامیہ نے منشیات کے استعمال سے متعلق پولیس کو آگاہ کردیا اسکول انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ساتویں کلاس کی طالبہ کے بیگ سے بوتل برآمد کی گئی، نشہ آورچیز کلاس میں بچیوں کو پلائی گئی جس سےوہ بے ہوش ہوگئیں جس کے بعد اسکول انتظامیہ نے متعلقہ بچی کے والدین کو بلاکر سارا واقعہ بتایا 20 مئی کو بچی کے والدین اور کچھ دیگر افراد نے اسکول انتظامیہ پرحملہ کیا اور توڑ پھوڑ کی جب کہ حملے میں ایک ٹیچر بھی زخمی ہوئی، پولیس نے اسکول انتظامیہ کی درخواست پر تحقیقات شروع کردی ہیں۔

    بانی پی ٹی آئی کا تیسری بار پولی گرافک ٹیسٹ کرانے سے انکار

    نئی بابا وانگا’ کی جاپان میں بڑی تباہی کی پیشگوئی

    26 نومبر احتجاج : گرفتار پی ٹی آئی کے 86 کارکنان کی ضمانتیں منظور

  • بانی پی ٹی آئی کا  تیسری بار پولی گرافک ٹیسٹ کرانے سے انکار

    بانی پی ٹی آئی کا تیسری بار پولی گرافک ٹیسٹ کرانے سے انکار

    بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے ایک بار پھر پولی گرافک ٹیسٹ کرانے سے انکار کر دیا۔

    لاہور سے آنے والی 13 رکنی تفتیشی ٹیم جو 9 مئی کے واقعات سے متعلق مختلف مقدمات میں بانی پی ٹی آئی سے تفتیش کے لیے اڈیالہ جیل پہنچی تھی، بانی پی ٹی آئی کے انکار کے بعد واپس روانہ ہو گئی، یہ تیسری مرتبہ ہے جب بانی پی ٹی آئی نے تفتیشی عمل میں تعاون سے گریز کیا ہے۔

    پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کے پولی گرافک، فوٹو گرامیٹرک اور وائس میچنگ ٹیسٹ انتہائی ضروری ہیں، اور ان کے بغیر تفتیش آگے نہیں بڑھ سکتی۔

    واضح رہے کہ 9 مئی کے پرتشدد واقعات سے متعلق بانی پی ٹی آئی پر 11 مقدمات درج ہیں جن کی تحقیقات جاری ہیں، تاہم بار بار تفتیش سے انکار تفتیشی عمل میں رکاوٹ بن رہا ہے9 مئی کے واقعات کے بعد ملک بھر میں پی ٹی آئی قیادت کے خلاف مختلف مقدمات درج کیے گئے تھے، جن میں سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچانے اور حساس تنصیبات پر حملے شامل ہیں۔

  • نئی بابا وانگا’  کی جاپان میں بڑی تباہی کی پیشگوئی

    نئی بابا وانگا’ کی جاپان میں بڑی تباہی کی پیشگوئی

    ریو تاتسوکی کو جاپان کی ‘نئی بابا وانگا’ کہا جا رہا ہے، کیونکہ ان کی ماضی کی کئی پیشگوئیاں، جیسے 2011 کا توہوکو زلزلہ اور فریڈی مرکری کی موت، درست ثابت ہو چکی ہیں،اب انہوں نے جاپان میں آنے والی بڑی تباہی کی پیشگوئی کی ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق جاپان سے تعلق رکھنے والی آرٹسٹ ریو تاتسوکی کی ایک نئی پیشگوئی نے دنیا کی تشویش میں اضافہ کر دیا، جس کے باعث جولائی 2025 میں جاپان آنے والے ہزاروں سیاحوں نے اپنے سیاحتی دورے منسوخ کر دئیے ہیں-

    ان کی نئی کتاب ”دی فیوچر آئی سا“ کے مطابق جولائی 2025 میں جاپان اور فلپائن کے درمیان سمندر میں ایک بڑا زلزلہ اور سونامی آنےکاامکان ہےجو 2011 کے تباہ کن سونامی سے 3 گنا زیادہ طاقتور ہوگا اس پیشگوئی کے بعد ہانگ کانگ کی ایک مشہور ٹریول ایجنسی WWPKG نے کہا کہ جاپان جانے والے سیاحوں میں 50 فیصد کمی دیکھنے میں آئی ہےسیاحوں میں خوف، اضطراب اور سونامی جیسے خطرات کے خوف نے سفری رجحانات کو بری طرح متاثر کیا ہے۔

    اگرچہ جاپانی حکام نے تاتسوکی کی پیشگوئی کو تسلیم نہیں کیا، تاہم چینی سفارتخانے نے اپریل 2025 میں جاپان میں موجود اپنے شہریوں کو قدرتی آفات کے خلاف ہوشیار رہنے کی ہدایت جاری کی تھی، جس سے خدشات میں مزید اضافہ ہوا۔

    دوسری جانب ماہرین نے اس پیشگوئی کی سائنسی بنیادوں کی کمی پر زور دیا ہے سیکیا ناؤیا (Sekiya Naoya)، جو ٹوکیو یونیورسٹی میں قدرتی آفات کی روک تھام کے ماہر ہیں، نے جاپان ڈیلی کو بتایا کہ آج کے سائنسی معیار کے مطابق یہ ممکن نہیں کہ ہم بالکل بتا سکیں کہ زلزلہ کب اور کہاں آئے گا۔

    انہوں نے کہا کہ اگر جولائی میں کوئی زلزلہ آتا ہے تو وہ محض ایک اتفاق ہوگا اور اس افواہ کی تصدیق نہیں ہو گی میاگی گورنر یوشی ہیرو مورائی (Yoshihiro Murai) نے اپریل 23 کو عوامی تشویش کے جواب میں کہا کہ وہ غیر سائنسی دعووں کو نظرانداز کرنے کی تر غیب دیتے ہیں کیونکہ اس سے سیاحت کا نقصان ہوسکتا ہے۔

  • عوام کو ریلیف دینے کیلئے متبادل پلان آئی ایم ایف کو پیش

    عوام کو ریلیف دینے کیلئے متبادل پلان آئی ایم ایف کو پیش

    اسلام آباد: حکومت نے عوام کو ریلیف کے لیے متبادل ذرائع سے آمدن کا پلان بھی آئی ایم ایف کو پیش کردیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق پاکستان اور عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کے درمیان آئندہ مالی سال 2025-26 کے بجٹ سے متعلق مذاکرا ت حتمی مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں اور حکومت نے بجٹ میں سپر ٹیکس میں کمی، ریئل اسٹیٹ اور تنخواہ دار طبقے سمیت مختلف شعبو ں کو ریلیف دینے کی تجویز کے تحت متبادل ذرائع سے ریونیو اکٹھا کرنے کا پلان آئی ایم ایف کے سامنے پیش کر دیا ہے۔

    آئی ایم ایف کی جانب سے ان ریلیف اقدامات سے متعلق سخت رویہ اختیار کیا جا رہا ہے اور ابھی تک حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان کسی ریلیف پر اتفاق نہیں ہو سکا ہے آئی ایم ایف نے صوبائی اخراجات کم کرنے، آمدن بڑھانے اور زرعی آمدن پر انکم ٹیکس کی وصولی کے لیے سخت اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ہے، ادارے نے زور دیا ہے کہ اس شعبے کو ٹیکس نیٹ میں لائے بغیر ریونیو کا توازن قائم رکھنا مشکل ہوگا۔

    ذرائع کے مطابق حکومت تنخواہ دار طبقے سمیت مختلف طبقوں کے لیے ٹیکس ریلیف چاہتی ہے تاہم آئی ایم ایف اس حوالے سے فراہم کردہ ڈیٹا اور حکمت عملی کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کرے گا فی الوقت آئی ایم ایف کی ٹیم حکومت سے ہر تجویز پر ڈیٹا طلب کر رہی ہے اور معاشی ٹیم کی جانب سے مسلسل جوابات دیے جا رہے ہیں۔

    ذرائع نے مزید بتایا کہ فی الحال کسی نئی شرط پر بھی اتفاق نہیں ہوا ہے آئی ایم ایف نے عدالتی مقدمات سے حاصل ممکنہ ریونیو کو بھی مدنظر رکھنے کی ہدایت کی ہے اس وقت مختلف عدالتوں میں ٹیکس سے متعلق 770 ارب روپے کے مقدمات زیر التوا ہیں، جن میں سے 30 جون تک 250 ارب روپے کے مقدمات کے فیصلے حکومت کے حق میں آنے کا امکان ہے۔

    ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کا سالانہ ٹیکس ہدف دو حصوں میں تقسیم ہوگا اور 14 ہزار ارب روپے سے زائد کا ہدف تجویز کیا جا رہا ہے، آئی ایم ایف نے حکومت پر زور دیا ہے کہ کم از کم 500 ارب روپے مالیت کے مقدمات کے فیصلے آئندہ مالی سال میں یقینی بنائے جائیں تاکہ بجٹ خسارہ کم کیا جا سکے حکومت آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کی پابند ہے اور تمام فیصلے باہمی رضامندی سے کیے جائیں گے۔

  • پاکستان ایکسچینج مارکیٹ میں آج تیزی کا رجحان

    پاکستان ایکسچینج مارکیٹ میں آج تیزی کا رجحان

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج مارکیٹ میں آج تیزی کا رجحان ہے۔

    جمعرات کے روز مارکیٹ میں ایک بار پھر تیزی کا رجحان غالب رہا اور کے ایس ای 100 انڈیکس میں 717 پوائنٹس کا اضافہ ہوا ہے، آج مارکیٹ میں 623 پوائنٹس کے اضافے سے کاروبار کا آغاز ہوا، جس سے انڈیکس بڑھ کر ایک لاکھ 20 ہزار 555 پوائنٹس کی سطح کو چھو گیا،بعد ازاں تیزی کا رجحان جاری رہا اور ایک موقع پر 717 پوائنٹس کی تیزی کے ساتھ کے ایس ای 100 انڈیکس ایک لاکھ 20 ہزار 649 پوائنٹس کی سطح پر پہنچ گیا۔

    آج مسلسل دوسرے روز مارکیٹ میں مثبت رجحان کے باعث تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سرمایہ کاروں کا رجحان بحالی کی جانب ہے اور ملکی معیشت پر اعتماد میں اضافہ ہو رہا ہے گزشتہ روز بھی مارکیٹ میں زبردست تیزی دیکھی گئی تھی اور انڈیکس 960 پوائنٹس کے اضافے سے 1 لاکھ 19 ہزار 931 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔

  • 26 نومبر احتجاج : گرفتار پی ٹی آئی کے 86 کارکنان کی ضمانتیں منظور

    26 نومبر احتجاج : گرفتار پی ٹی آئی کے 86 کارکنان کی ضمانتیں منظور

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے 26 نومبر احتجاج کے دوران گرفتار پی ٹی آئی کے 86 کارکنان کی ضمانتیں منظور کرلیں۔

    پی ٹی آئی کارکنوں کی جانب سے وکلا علی بخاری، سردار مصروف، زاہد بشیر ڈار و دیگر عدالت میں پیش ہوئے، علی بخاری کی کارکنان کے ضمانتی مچلکے کم کرنے کی استدعا منظور کرلیں اسلام آباد ہائی کورٹ نے گرفتار کارکنوں کو رہا کرنے کا حکم دیا، قائم مقام چیف جسٹس سرفراز ڈوگر اور جسٹس محمد آصف نے ضمانتیں منظور کر لیں، اسلام آباد ہائی کورٹ نے پی ٹی آئی کے 86 کارکنان کی ضمانتیں 10، 10 ہزار مچلکوں کی عوض منظور کر لیں۔

  • غزہ :اسرائیلی فوج  کی  یورپی سفارتی وفد پر فائرنگ

    غزہ :اسرائیلی فوج کی یورپی سفارتی وفد پر فائرنگ

    اسرائیلی فوج نے مقبوضہ مغربی کنارے میں یورپی سفارتی وفد پر فائرنگ کردی۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق یورپی وفد جنین کیمپ میں اسرائیلی آپریشن کی تباہ کاریوں کامعائنہ کرنے آیا تھا تاہم اسرائیلی فوج کی فائرنگ کے نتیجے میں ارکان نے بھاگ کر جان بچائی،یورپی وفد پر فائرنگ کے واقعے پر فرانس، جرمنی اور مصر کی جانب سے شدید مذمت کی گئی ہے جب کہ یورپی یونین کی جانب سے تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ غزہ پر بھی اسرائیلی بمباری کا سلسلہ جاری ہے جس کے نتیجے میں مزید 70 سے زائد فلسطینی شہید ہوگئے ہیں،اسرائیلی ناکہ بندی کے باعث 2 مارچ سے اب تک غذائی قلت سے بھی 326 فلسطینی شہیدہوچکے ہیں۔

    اسرائیلی افواج نے بدھ کے روز غزہ پر شدید بمباری کرتے ہوئے مزید 93 فلسطینیوں کو شہید کر دیا، جب کہ یہودی آبادکاروں نے مغربی کنارے کے ایک گاؤں میں حملہ کر کے مسجد کو آگ لگانے کی کوشش کی۔

    قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق اسرائیلی حملے میں جابلیہ میں النضر خاندان کے گھر کو نشانہ بنایا گیا، جہاں 4 افراد موقع پر ہی شہید اور متعدد زخمی ہو گئے۔

    طبی ذرائع کے مطابق بدھ کی صبح سے غزہ میں جاری بمباری سے شہادتوں کی تعداد 93 ہو چکی ہے۔ وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیلی جنگ میں اب تک 53,655 افراد شہید اور 1,22,000 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ تاہم حکومتی میڈیا دفتر کے مطابق یہ تعداد 61,700 سے تجاوز کر چکی ہے۔

    دوسری جانب نابلس کے قریب واقع عقربا گاؤں پر یہودی آبادکاروں نے حملہ کیا، فلسطینیوں کی املاک نذرِ آتش کیں، اور مسجد کو نمازیوں کی موجودگی میں آگ لگانے کی کوشش کی۔ فلسطینی کارکن ایہاب حسن کے مطابق یہ اقدام واضح طور پر ’’زندہ انسانوں کو جلانے کی کوشش‘‘ تھا۔

    اسرائیل نے عالمی دباؤ کے بعد دعویٰ کیا ہے کہ 100 امدادی ٹرک غزہ جانے کی اجازت دی گئی ہے، تاہم اقوامِ متحدہ کے مطابق یہ امداد نہایت ناکافی ہے اور زمینی حقائق میں کوئی بہتری نہیں آئی۔

  • نیشنل ایکشن پلان کے کچھ حصوں پر عملدرآمد نہیں ہوا، جس کا نقصان آج پوری قوم اٹھا رہی ہے، اسحاق ڈار

    نیشنل ایکشن پلان کے کچھ حصوں پر عملدرآمد نہیں ہوا، جس کا نقصان آج پوری قوم اٹھا رہی ہے، اسحاق ڈار

    سینیٹ اجلاس کے دوران نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نےکہا کہ پاکستان ہر صورت میں اپنے بچوں کے قاتلوں کا حساب لے گانیشنل ایکشن پلان کے کچھ حصوں پر عملدرآمد نہیں ہوا، جس کا نقصان آج پوری قوم اٹھا رہی ہے۔

    جمعرات کو جاری سینیٹ اجلاس کے دوران نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے خضدار کے سانحے کو ’’ناقابل برداشت‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت اپنی پراکسیز سے باز آ جائے، پاکستان ہر صورت میں اپنے بچوں کے قاتلوں کا حساب لے گانیشنل ایکشن پلان کے کچھ حصوں پر عملدرآمد نہیں ہوا، جس کا نقصان آج پوری قوم اٹھا رہی ہے۔ ہم نے بارڈرز کھول کر 35 سے 40 ہزار افراد کو ملک میں داخل ہونے دیا، اور ان میں سے بعض ہی ہمارے لیے آج فتنہ بنے ہوئے ہیں اس فتنہ کو ختم کرنا ہوگا اور حکومت اس معاملے کو سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے۔

    سینیٹر شیری رحمان نے بھی واقعے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ بچوں کو اسکول جاتے ہوئے نشانہ بنایا گیا، یہ کھلی دہشتگردی ہے پاکستان نے ہمیشہ دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑی اور قربانیاں دیں، ہم نے محترمہ بینظیر بھٹو کو دہشتگردی میں کھویا، بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے کئی لوگ شہید ہوئے۔

    شیری رحمان نے بھارت کی مداخلت کے ثبوتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کلبھوشن یادیو کی گرفتاری اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت پاکستان میں دہشتگرد کارروائیوں میں ملوث ہے، لیکن بھارت آج تک کسی واقعے کا کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکا 87 گھنٹے کی حالیہ جنگ میں بھی بھارت نے عام شہریوں کو نشانہ بنایا، جب کہ پاکستان نے صرف فوجی اہداف پر جواب دیا۔

    خضدار واقعے پر بحث کے دوران سینیٹر ایمل ولی خان نے کہا کہ ایسے شاید جانوروں کو بھی نہ مارا جائے جیسے ہمارے معصوم بچوں کو مارا گیا۔ انہوں نے اے پی ایس سانحے کے بعد بننے والے نیشنل ایکشن پلان پر عدم عملدرآمد پر شدید تنقید کی اور کہا کہ اگر نیشنل ایکشن پلان پر عمل نہیں ہوگا تو ایسے واقعات ہوتے رہیں گے۔

    ایمل ولی خان نے سوال اٹھایا کہ کیا اُن افسران کے خلاف کوئی کارروائی ہوگی جنہوں نے اس پالیسی پر عمل نہیں کیا؟ ان کا کہنا تھا کہ پچاس سال میں یہ طے نہیں ہوسکا کہ طالبان گڈ ہیں یا بیڈ، یہ بھی طے نہیں ہو سکا کہ یہ دہشتگرد ہیں یا اسٹریٹیجک اثاثے؟بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے عوام اب پراکسی جنگوں سے تنگ آ چکے ہیں۔ ہمیں امن امریکہ یا سعودیہ سے نہیں، اپنے دفاعی ادارے سے چاہیے۔

    ایمل ولی خان نے مزید کہا کہ وفاق میں 50، 60 وزارتیں بیٹھی ہیں، کیا کر رہی ہیں؟ خطے میں امن کی پالیسی اپنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں ایران اور افغانستان سے بات کرنی چاہیے، اور مفروضوں سے نکل کر تجارت کی طرف جانا ہوگا۔

    ایمل ولی خان نے گزشتہ روز چئیرمین پی ٹی اے کے متنازع ریمارکس پر احتجاج کا معاملہ بھی اجلاس میں اٹھایا، جس پر چئیرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے معاملہ استحقاق کمیٹی کو بھجوا دیا اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے بھی رائے طلب کرلی۔

    سینیٹر فیصل واوڈا نے ملک کی سلامتی اور دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانے کیلئے دفاعی بجٹ میں دو سے تین گنا اضافے کی پرزور تجویز دی ہے انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنا پیٹ کاٹ کر دفاعی بجٹ کو بڑھانا پڑے گا، ہمیں ترقیاتی منصوبوں کی بجائے اب دفاع پر توجہ مرکوز کرنی ہو گی۔

    فیصل واوڈا نے کہا کہ افواج پاکستان کی تنخواہوں کو دوگنا کرنا وقت کی ضرورت ہے اور بھارت کے مقابلے کے لیے حکمت عملی پر بھی سنجیدہ سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بھارت سے جنگ کو منطقی انجام تک پہنچا کر ہی ہمیں ترقی کے بار ے میں سوچنا چاہیے، ہم محفوظ ہاتھوں میں ہیں اور قوم متحد ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ بجٹ کو کیسے دو یا تین گنا کیا جائے۔

    سینیٹر فیصل واوڈا نے بھارتی جارحیت پر پاکستان کے منہ توڑ جواب کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ پاک افواج نے حالیہ معرکہ میں دشمن کے 285 اہلکاروں کو ہلاک کیا پاک فوج نے اپنی پیشہ ورانہ صلاحیت کا بھرپور مظاہرہ کیا اور چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر کی واضح ہدایت تھی کہ کسی سویلین کو نقصان نہ پہنچے۔

    فیصل واوڈا نے کہا کہ بھارت پاکستان کو کمزور سمجھ بیٹھا تھا، لیکن ہماری افواج نے جرات مندانہ جواب دے کر دشمن کو اس کی اوقات یاد دلا دی ہم ہندوستان کے سامنے اپنی طاقت واضح کرچکے ہیں حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپوزیشن کو اعتماد میں لے، یہ سب کچھ اپوزیشن کو ساتھ ملائے بغیر ممکن نہیں ہوگا،وہ دل بڑا کرے اور اپوزیشن سے اختلافات کو طے کرنے کیلئے سنجیدگی سے بات چیت کرے،بھارت کی فوج کی تعداد ہم سے زیادہ ہے، لیکن ہم نے ابھی تک اپنا بھرپور دفاع کیا ہے اور ہماری قوم اور فوج ہر سطح پر تیار ہے۔

    اجلاس کے دوران سینیٹ نے سینیٹر آغا شاہزیب درانی کی تحریک کو متفقہ طور پر منظور کر لیا جس کے تحت سانحہ خضدار پر بحث کے لیے وقفہ سوالات معطل کر دیا گیا۔

    اس موقع پر سینیٹر انوار الحق کاکڑ نے جذباتی تقریر کرتے ہوئے کہا کہ معصوم بچوں کی شہادت کا دلخراش واقعہ ہوا ہے اور ہمیں اس پر آواز اٹھانے دی جائے انہوں نے آر ایس ایس اور بی جے پی کی شدت پسند سوچ کو پاکستان پر حملوں کا ذمہ دار قرار دیا،ا نوار الحق کاکڑ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کی تقریر ختم کرنے کی ہدایت پر برہم دکھائی دئیے اور کہا، ’اگر یہاں بات نہیں کرنی تو پھر ٹک ٹاک یا یوٹیوب بنانا شروع کر دوں؟‘

    خضدار میں اسکول جاتی تین معصوم بچیوں کی شہادت کو سینیٹر عرفان صدیقی نے انسانیت کے خلاف بدترین جرم قرار دیتے ہوئے کہا کہ خضدار میں جو واقعہ ہوا اس کی مذمت کے لیے الفاظ نہیں کرہ ارض پر کوئی اتنا سنگدل کیسے ہوسکتا ہے؟ یہ کون سے حقوق مانگے جا رہے ہیں؟ معصوم بچیوں کو اسکول جاتے ہوئے شہید کر دینا درندگی ہے اس دہشتگردی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے، جو نہ صرف ان گروہوں کو فنڈنگ دے رہا ہے بلکہ اسلحہ اور تربیت بھی فراہم کرتا ہے۔

    سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ بھارت ہمارا دشمن ہے جس میں دشمنی کا بھی سلیقہ نہیں، اور اب وقت آ گیا ہے کہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کر دیا جائے انہوں نے زور دیا کہ یہ دہشتگرد کسی ناراضی یا حقوق کے لیے نہیں، بلکہ ایک پیشہ ورانہ سلسلہ بنا چکے ہیں، اور ان کے ساتھ کسی قسم کی ہمدردی نہیں برتی جانی چاہیے ہماری تین بچیوں کا خون رائیگاں نہیں جائے گا، اس خون سے جو انقلاب آئے گا وہ بھارت کو بہت تکلیف دے گایہ دہشتگرد ہیں، ان کو کچلا جائے، ان پر رحم نہ کیا جائے، اور نہ ہی ان کی حمایت میں کوئی آواز اٹھنی چاہیے۔